আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الجنائز - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪০৫ টি

হাদীস নং: ৬৮০৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے یہ سمجھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہداء احد کی نماز جنازہ پڑھی
(٦٨٠٤) حضرت حصین ابو مالک غفاری سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقتولین احد میں دس دس کی نماز جنازہ پڑھی اور ہر دس میں دسویں حمزہ (رض) تھے ۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ستر مرتبہ آپ کا جنازہ پڑھا ۔

عطاء شعبی سے بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حمزہ (رض) پر ستر جنازے پڑھے۔ آغاز بھی حمزہ کے جنازے سے کیا ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیگر شہداء کیلئے دعا کرتے اور جنازے پڑھتے اور حمزہ اسی جگہ پر رہے۔
(۶۸۰۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِیعٍ حَدَّثَنَا أَبُو یُوسُفَ حَدَّثَنَا حُصَیْنٌ عَنْ أَبِی مَالِکٍ الْغِفَارِیِّ أَنَّہُ قَالَ : صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی قَتْلَی أُحُدٍ عَشْرَۃً عَشْرَۃً فِی کُلِّ عَشْرَۃٍ مِنْہُمْ حَمْزَۃُ حَتَّی صَلَّی عَلَیْہِ سَبْعِینَ صَلاَۃً۔

ہَذَا أَصَحُّ مَا فِی ہَذَا الْبَابِ وَہُوَ مُرْسَلٌ۔ أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ بِمَعْنَاہُ قَالَ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ عَنْ عَطَائٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : صَلَّی النَّبِیُّ -ﷺ- یَوْمَ أُحَدٍ عَلَی حَمْزَۃَ سَبْعِینَ صَلاَۃً بَدَأَ بِحَمْزَۃَ فَصَلَّی عَلَیْہِ ، ثُمَّ جَعَلَ یَدْعُو بِالشُّہَدَائِ فَیُصَلِّی عَلَیْہِمْ وَحَمْزَۃُ مَکَانَہُ وَہَذَا أَیْضًا مُنْقَطِعٌ وَحَدِیثُ جَابِرٍ مَوْصُولٌ ، وَکَانَ أَبُوہُ مِنْ شُہَدَائِ أُحُدٍ۔ [منکر۔ ابن ماجہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮০৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے یہ سمجھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہداء احد کی نماز جنازہ پڑھی
(٦٨٠٥) عبداللہ بن عباس کہتے ہیں : غزوہ احد میں جب حضرت حمزہ (رض) شہید ہوئے تو حضرت صفیہ (رض) انھیں تلاش کرتی ہوئی آئی اور وہ نہیں جانتی تھیں کہ حمزہ (رض) کے ساتھ کیا ہوا تو وہ علی (رض) کو ملی اور زبیر (رض) کو تو علی (رض) نے زبیر (رض) سے کہا : اپنی ماں کو بتادے تو زبیر (رض) نے کہا : نہیں بلکہ تم اپنی پھوپھی کو بتاؤ۔ راوی کہتے ہیں : صفیہ (رض) نے کہا کہ حمزہ (رض) نے کہا : کیا تو ان دونوں نے ظاہر کیا ۔ گویا وہ جانتے نہیں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اس کی عقل کے بارے میں ڈرتا ہوں ( حواس نہ کھو بیٹھے) پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھا اور دعا کی۔ راوی کہتے ہیں : پھر صفیہ (رض) نے ” انا للہ ‘ پڑھی اور رودیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس آئے اور رک گئے اور حمزہ (رض) کا مثلہ کیا گیا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر عورتوں کی جزع فزع نہ ہوتی تو میں اسے اسی حال میں چھوڑا دیتا یہاں تک کہ اسے درندوں کے پیٹوں سے اکٹھا کیا جاتا اور پرندوں کے پوٹوں سے۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقتولین کے متعلق حکم دیا اور جنازہ پڑھا تو نو مقتولین کو رکھا جاتا اور دسویں حمزہ (رض) ہوتے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر سات تکبیرات کہتے تو ان کو اٹھا لیا جاتا اور حمزہ کو چھوڑ دیا جاتا۔ پھر نو کو لایا جاتا ان پر بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سات تکبیرات کہتے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے فارغ ہوگئے۔
(۶۸۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّائُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ حَمْزَۃُ یَوْمَ أُحُدٍ أَقْبَلَتْ صَفِیَّۃُ تَطْلُبُہُ لاَ تَدْرِی مَا صَنَعَ فَلَقِیَتْ عَلِیًّا وَالزُّبَیْرَ فَقَالَ عَلِیٌّ لِلزُّبَیْرِ : اذْکُرْ لأُمِّکَ فَقَالَ الزُّبَیْرُ : لاَ بَلْ أَنْتَ اذْکُرْ لِعَمَّتِکَ قَالَ فَقَالَتْ : مَا فَعَلَ حَمْزَۃُ فَأَرَیَاہَا أَنَّہُمَا لاَ یَدْرِیَانِ قَالَ فَجَائَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ : ((إِنِّی أَخَافُ عَلَی عَقْلِہَا))۔فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَی صَدْرِہَا وَدَعَا لَہَا قَالَ فَاسْتَرْجَعَتْ وَبَکَتْ قَالَ ثُمَّ جَائَ فَقَامَ عَلَیْہِ وَقَدْ مُثِّلَ بِہِ فَقَالَ : ((لَوْلاَ جَزَعُ النِّسَائِ لَتَرَکْتُہُ حَتَّی یُحْشَرَ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ ، وَحَوَاصِلِ الطَّیْرِ))۔ قَالَ : ثُمَّ أَمْرَ بِالْقَتْلَی فَجَعَلَ یُصَلِّی عَلَیْہِمْ۔ فَیُوضَعُ تِسْعَۃٌ وَحَمْزَۃُ فَیُکَبِّرُ عَلَیْہِمْ سَبْعَ تَکْبِیرَاتٍ وَیُرْفَعُونَ وَیُتْرَکُ حَمْزَۃُ ، ثُمَّ یُجَائَ بِتِسْعَۃٍ فَیُکَبِّرُ عَلَیْہِمْ سَبْعًا حَتَّی فَرَغَ مِنْہُمْ۔

لاَ أَحْفَظُہُ إِلاَّ مِنْ حَدِیثِ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَیَّاشٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ وَکَانَا غَیْرَ حَافِظِینِ۔ [منکر۔ ابن ماجہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮০৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے یہ سمجھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہداء احد کی نماز جنازہ پڑھی
(٦٨٠٦) حضرت عبداللہ بن حارث کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حمزہ (رض) کا جنازہ پڑھا اور نو تکبیرات پڑھیں۔
(۶۸۰۶) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنْ یَزِیدَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی حَمْزَۃَ فَکَبَّرَ عَلَیْہِ تِسْعًا۔

ہَذَا أَوْلَی أَنْ یَکُونَ مَحْفُوظًا وَہُوَ مُنْقَطِعٌ۔ [منکر۔ ابن ابی شیبہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮০৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے یہ سمجھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہداء احد کی نماز جنازہ پڑھی
(٦٨٠٧) حضرت ابن عباس کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حمزہ کی نماز جنازہ پڑھی ۔ اس پر سات تکبیرات پڑھیں ۔ نہیں لایا گیا کسی بھی مقتول کو مگر حمزہ (رض) اس کے ساتھ ہوتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنازہ پڑھتے۔ یہاں تک کہ ان کے بہتر (٧٢) جنازے پڑھے۔

حسن بن عمارہ حکم سے اور وہ مقسم سے اور وہ ابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے مقتولین کا جنازہ پڑھا۔ مگر حسن بن عمارہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو حجت نہیں بنایا جاسکتا۔
(۶۸۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِی عَنْ مِقْسَمٍ وَقَدْ أَدْرَکَہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی حَمْزَۃَ فَکَبَّرَ عَلَیْہِ سَبْعَ تَکْبِیرَاتٍ وَلَمْ یُؤْتَ بِقَتِیلٍ إِلاَّ صَلَّی عَلَیْہِ مَعَہُ حَتَّی صَلَّی عَلَیْہِ اثْنَتَیْنِ وَسَبْعِینَ صَلاَۃً۔

وَہَذَا ضَعِیفٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ إِذَا لَمْ یَذْکُرِ اسْمُ مَنْ حَدَّثَ عَنْہُ لَمْ یُفْرَحُ بِہِ۔

وَرَوَاہُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- صَلَّی عَلَی قَتْلَی أُحُدٍ۔ وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ ضَعِیفٌ لاَ یُحْتَّجُّ بِرِوَایَتِہِ۔ [منکر۔ ابن ابی شیبۃ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮০৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے یہ سمجھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہداء احد کی نماز جنازہ پڑھی
(٦٨٠٨) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں : بیشک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے مقتولین کی نماز جنازہ پڑھائی۔
(۶۸۰۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوسَعِیدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الأَحْمُسِیُّ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حُمَیْدِ بْنِ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَیْلاَنَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ قَالَ لِی شُعْبَۃُ : ائْتِ جَرِیرَ بْنَ حَازِمٍ فَقُلْ لَہُ : لاَ یَحِلُّ لَکَ أَنْ تَرْوِیَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَۃَ فَإِنَّہُ کَذَّابٌ قَالَ مَحْمُودُ فَقُلْتُ لأَبِی دَاوُدَ : وَکَیْفَ ذَاکَ؟ قَالَ فَقَالَ قُلْتُ لِشُعْبَۃَ : مَا عَلاَمَۃُ کَذِبِہِ؟ قَالَ : رَوَی عَنِ الْحَکَمِ أَشْیَائَ فَلَمْ أَجِدْ لَہَا أَصْلاً۔ قُلْتُ لِلْحَکَمِ : صَلَّی النَّبِیُّ -ﷺ- عَلَی قَتْلَی أُحُدٍ قَالَ : لاَ وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ حَدَّثَنِی الْحَکَمُ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- صَلَّی عَلَی قَتْلَی أُحُدٍ۔ قَالَ وَقُلْتُ لِلْحَکَمِ: مَا تَقُولُ فِی أَوْلاَدِ الزِّنَا؟ قَالَ: یُعْتَقُونَ قَالَ فَقُلْتُ: عَمَّنْ؟ قَالَ فَقَالَ یُرْوَی مِنْ حَدِیثِ الْبَصْرِیِّینَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ حَدَّثَنِی الْحَکَمُ عَنْ یَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُمْ یُعْتَقُونَ۔َ[صحیح۔ أخرجہ الخطیب]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮০৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اس روایت کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر آٹھ سال بعد ضمانتاً جنازہ پڑھا
(٦٨٠٩) عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور شہداء احد پر نماز پڑھی جیسے نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر کی طرف پلٹے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تمہارا پیش روہوں اور میں تم پر گواہ ہوں ۔ اللہ کی قسم ! اب میں حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں اور بیشک میں زمین کے خزانوں کی چابیاں دیا گیا ہوں یا آپ نے زمین کی چابیاں فرمایا اور فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے بلکہ میں ڈرتا ہوں کہ تم دنیا میں پھنس جاؤ گے۔
(۶۸۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ شُرَحْبِیلَ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أَبِی الْخَیْرِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمًا فَصَلَّی عَلَی أَہْلِ أُحُدٍ صَلاَتَہُ عَلَی الْمَیِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ : ((إِنِّی فَرَطُکُمْ ، وَأَنَا شَہِیدٌ عَلَیْکُمْ۔ إِنِّی وَاللَّہِ لأَنْظُرُ الآنَ إِلَی حَوْضِی ، وَإِنِّی قَدْ أُعْطِیتُ خَزَائِنَ مَفَاتِیحِ الأَرْضِ أَوْ مَفَاتِیحَ الأَرْضِ ، وَإِنِّی وَاللَّہِ مَا أَخَافُ عَلَیْکُمْ أَنْ تُشْرِکُوا بَعْدِی ، وَلَکِنِّی أَخَافُ عَلَیْکُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِیہَا))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ شُرَحْبِیلَ وَغَیْرِہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اس روایت کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر آٹھ سال بعد ضمانتاً جنازہ پڑھا
(٦٨١٠) عقبہ بن عامر کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آٹھ سال بعد مقتولین احد کی نماز جنازہ پڑھائی، جیسے کوئی زندوں اور مردوں کو الوداع کرنے والا ہو ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تشریف لائے اور فرمایا : بیشک میں تمہارا پیش روہوں اور میں تم پر گواہ ہوں اور تمہارا وعدہ حوض پر ہے اور میں اسے اس جگہ سے دیکھ رہا ہوں اور میں تم پر اس سے نہیں ڈرتا کہ تم شرک کرو گے لیکن میں تو تم پر ڈرتا ہوں کہ تم دنیا میں پھنس جاؤ گے اور یہ آخری نظر تھی جو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ڈالی۔ عقبہ (رض) بیان کرتے ہیں : آخری مرتبہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منبر پر دیکھا۔
(۶۸۱۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ عَدِیٍّ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ حَیْوَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أَبِی الْخَیْرِ عَنْ عُقْبَۃَ ہُوَ ابْنُ عَامِرٍ قَالَ : صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی قَتْلَی أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِینَ کَالْمُوَدِّعِ لِلأَحْیَائِ وَالأَمْوَاتِ ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ : ((إِنِّی بَیْنَ أَیْدِیکُمْ فَرَطٌ ، وَأَنَا عَلَیْکُمْ شَہِیدٌ وَمَوْعِدُکُمُ الْحَوْضُ ، وَإِنِّی لأَنْظُرُ إِلَیْہِ مِنْ مَقَامِی ہَذَا ، وَإِنِّی لَسْتُ أَخْشَی عَلَیْکُمْ أَنْ تُشْرِکُوا وَلَکِنِّی أَخْشَی عَلَیْکُمُ الدُّنْیَا أَنْ تَنَافَسُوہَا))۔ قَالَ فَکَانَتْ آخِرَ نَظْرَۃٍ نَظَرْتُہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِیمِ۔ وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ بِمَعْنَی رِوَایَۃِ اللَّیْثِ وَقَالَ فِی آخِرِہِ قَالَ عُقْبَۃُ : فَکَانَ آخِرَ مَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی الْمِنْبَرِ۔ [صحیح۔ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے پسند کیا کہ اسے انھیں کپڑوں میں کفن دیا جائے جن میں قتل ہوا اس کے بعد جب اس سے لوہا اور چمڑے کا لباس جو عام لوگوں کا لباس نہ ہو اتار لیا جائے
(٦٨١١) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی کے سینے یا حلق میں تیر لگا جس سے وہ فوت ہوگیا تو اسے انھیں کپڑوں میں دفن کیا گیا جن میں وہ تھا اور تب ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔
(۶۸۱۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الدَّارَبُرْدِیُّ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : رُمِیَ رَجُلٌ فِی صَدْرِہِ أَوْ فِی حَلْقِہِ فَمَاتَ فَأُدْرِجَ کَمَا ہُوَ فِی ثِیَابِہِ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- [صحیح۔ ابو داؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے پسند کیا کہ اسے انھیں کپڑوں میں کفن دیا جائے جن میں قتل ہوا اس کے بعد جب اس سے لوہا اور چمڑے کا لباس جو عام لوگوں کا لباس نہ ہو اتار لیا جائے
(٦٨١٢) سعید بن جبیرابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہداء احد کے بارے حکم دیا کہ ان سے لوہا اور چمڑا اتار لیا جائے اور انھیں ان کے کپڑوں اور خون سمیت دفن کیا جائے۔
(۶۸۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ بِقَتْلَی أُحُدٍ أَنْ یُنْزَعَ عَنْہُمُ الْحَدِیدُ ، وَالْجُلُودُ ، وَأَنْ یُدْفَنُوا بِدِمَائِہِمْ وَثِیَابِہِمْ ، وَقَدْ مَضَی فِی الرُّخْصَۃِ فِی تَکْفِینِہِ فِی غَیْرِ ثِیَابِہِ الَّتِی قُتِلَ فِیہَا حَدِیثُ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَمُصْعَبِ بْنِ عُمَیْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔[ضعیف۔ ابو داؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے پسند کیا کہ اسے انھیں کپڑوں میں کفن دیا جائے جن میں قتل ہوا اس کے بعد جب اس سے لوہا اور چمڑے کا لباس جو عام لوگوں کا لباس نہ ہو اتار لیا جائے
(٦٨١٣) یعقوب بن ابراہیم بن سعد اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ عبدالرحمن کے پاس کھانا لایا گیا تو انھوں نے کہا : مصعب بن عمیر (رض) قتل کیے گئے تو کوئی چیز نہ پائی گئی کہ جس میں انھیں کفن دیا جاتا، سوائے ایک چادر کے اور وہ مجھ سے بہتر تھے اور حمزہ (رض) شہید کیے گئے اور کوئی دوسرا فرد ۔ نہ پائی گئی کوئی چیز جس میں انھیں کفن دیا جاتا سوائے ایک چادر کے۔
(۶۸۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الدَّقِیقِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا أَبِی عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : أُتِیَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِطَعَامٍ فَقَالَ : قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرِ بْنِ ہَاشِمٍ فَلَمْ یُوجَدْ مَا یُکَفَّنُ فِیہِ إِلاَّ بُرْدَۃٌ ، وَکَانَ خَیْرًا مِنِّی ، وَقُتِلَ حَمْزَۃُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ فَلَمْ یُوجَدْ مَا یُکَفَّنُ فِیہِ إِلاَّ بُرْدَۃٌ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ۔ [صحیح۔ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اگر جنبی جنگ میں شہید کردیا جائے
(٦٨١٤) یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے غزوہ احد کے قصے میں بیان کرتے ہیں کہ شداد بن اسود شہید کردیے گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک تمہارے اس ساتھی کو فرشتوں نے غسل دیا ہے۔ اس کے بارے اس کی بیوی سے پوچھو تو اس نے کہا : وہ نکلے اس حال میں کہ جنبی تھے ۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی یہ کیفیت سنی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسی لیے فرشتوں نے اسے غسل دیا ہے۔
(۶۸۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ یَحْیَی الأُمَوِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : فِی قِصَّۃِ أُحُدٍ وَقَتْلِ شَدَّادِ بْنِ الأَسْوَدِ الَّذِی کَانَ یُقَالُ لَہُ ابْنُ شَعُوبٍ : حَنْظَلَۃَ بْنَ أَبِی عَامِرٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ صَاحِبَکُمْ تَغْسِلُہُ الْمَلاَئِکَۃُ فَاسْأَلُوا صَاحِبَتَہُ))۔ فَقَالَتْ : خَرَجَ وَہُوَ جُنُبٌ لَمَّا سَمِعَ الْہَائِعَۃَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لِذَلِکَ غَسَلَتْہُ الْمَلاَئِکَۃُ))۔ کَذَا قَالَ بِہَذَا الإِسْنَادِ۔ [حسن لغیرہٖ۔ ابن حبان، الحاکم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اگر جنبی جنگ میں شہید کردیا جائے
(٦٨١٥) عاصم بن عمربن قتادہ کہتے ہیں : بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک تمہارے ساتھی کو فرشتوں نے غسل دیا ہے، یعنی حنظلہ (رض) کو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اس کی بیوی سے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے ؟ تو اس نے کہا : جب وہ نکلے تھے تو جنبی تھے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی کیفیت کے بارے سنا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسی وجہ سے فرشتوں نے اسے غسل دیا ہے۔

عامر بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد میں حمزہ (رض) شہید کردیے گئے اور حنظلہ بن راہب بھی۔ یہ وہ شخص ہیں جنہیں فرشتوں نے غسل دیا۔
(۶۸۱۵) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ صَاحِبَکُمْ تَغْسِلُہُ الْمَلاَئِکَۃُ یَعْنِی حَنْظَلَۃَ فَاسْأَلُوا أَہْلَہُ مَا شَأْنُہُ؟))۔ فَسُئِلَتْ صَاحِبَتُہُ فَقَالَتْ : خَرَجَ وَہُوَ جُنُبٌ حِینَ سَمِعَ الْہَائِعَۃِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لِذَلِکَ غَسَلَتْہُ الْمَلاَئِکَۃُ))۔

قَالَ یُونُسُ فَحَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ عَامِرٍ قَالَ : قُتِلَ حَمْزَۃُ یَوْمَ أُحُدٍ ، وَقُتِلَ حَنْظَلَۃُابْنُ الرَّاہِبِ یَوْمَ أُحُدٍ وَہُوَ الَّذِی طَہَّرَتْہُ الْمَلاَئِکَۃُ کِلاَہُمَا مُرْسَلٌ وَہُوَ فِیمَا بَیْنَ أَہْلِ الْمَغَازِی مَعْرُوفٌ۔

[حسن۔ أخرجہ ابو نعیم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اگر جنبی جنگ میں شہید کردیا جائے
(٦٨١٦) عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا حنظلہ راہب (رض) اور حضرت حمزہ بن عبد المطلب کو فرشتوں نے غسل دیا۔
(۶۸۱۶) وَرَوَی أَبُو شَیْبَۃَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَظَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی حَنْظَلَۃَ الرَّاہِبِ وَحَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَغْسِلُہُمَا الْمَلاَئِکَۃُ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُوعَبْدِالرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُوالْحَسَنِ بْنُ أَبِی الْعَنْبَرِ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِی مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو شَیْبَۃَ فَذَکَرَہُ۔ (ج) وَأَبُو شَیْبَۃَ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف جداً۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مرثیہ کہنے اور اس شخص کے متعلق جو کفار کے معرکے کے بغیر ظلم سے (مظلومانہ) قتل کردیا گیا اور اس شخص کے بارے جسے اپنی تلوار لگ جائے
(٦٨١٧) شداد بن ھاد بیان کرتے ہیں کہ دیہاتیوں میں سے ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ وہ ایمان لایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کی اور اس نے کہا : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہجرت کروں گا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے متعلق اپنے بعض صحابہ کو وصیت کی ۔ سو جب غزوہ خیبر ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غنیمت کا مال ملا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے تقسیم کیا اور اس کے لیے بھی تقسیم کی اور اس کا حصہ صحابہ کو دیا اور وہ ان کے بعد ان کی حفاظت کیا کرتا تھا ۔ سو جب وہ آیا تو صحابہ نے وہ حصہ اسے دیا تو اس نے کہا : یہ کیا ہے ؟ تو صحابہ (رض) نے کہا : یہ تقسیم کا مال ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیرے لیے تقسیم کیا ۔ اس نے وہ لیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : کیوں نہ مجھے حلق میں تیر مارا گیا ۔ وہ مجھے مار دیتا اور میں جنت میں داخل ہوجاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر تو نے اللہ کی تصدیق کی ہے تو وہ تیری تصدیق کرے گا “۔ پھر وہ دشمن سے لڑنے کیلئے لیے آئے ، پھر اسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اٹھا کر لایا گیا اور اسے تیر وہیں لگا تھا جہاں اس نے حلق کی طرف اشارہ کیا تھا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ وہی ہے تو صحابہ (رض) نے کہا : جی ہاں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے اللہ کی تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے سچا ثابت کردیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اس کے لباس میں ہی کفن دیا۔ پھر اسے آگے کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور یہ ان میں سے ہے جن کیلئے نماز جنازہ میں واضح دعا کی ” کہ اے اللہ ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیری راہ میں مہاجربن کر نکلا ہے اور یہ شہادت کی موت مرا ہے اور میں اس پر گواہ ہوں۔

عطاء کہتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد والوں کا جنازہ نہیں پڑھا۔ شیخ کہتے ہیں کہ عطاء نے کہا کہ اس بات کا احتمال ہے کہ یہ شخص جنگ کے ختم ہونے تک زندہ رہا ہو۔ پھر وہ فوت ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا جنازہ پڑھا اور جو پہلے فوت ہوئے ان کا جنازہ نہیں پڑھا۔
(۶۸۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عِکْرِمَۃُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِی عَمَّارٍ أَخْبَرَہُ عَنْ شَدَّادُ بْنُ الْہَادِ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَعْرَابِ جَائَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَآمَنَ وَاتَّبَعَہُ فَقَالَ : أُہَاجِرُ مَعَکَ فَأَوْصَی بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- بَعْضَ أَصْحَابِہِ ۔ فَلَمَّا کَانَتْ غَزْوَۃُ خَیْبَرَ غَنِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- شَیْئًا فَقَسَمَ وَقَسَمَ لَہُ فَأَعْطَی أَصْحَابَہُ مَا قَسَمَ لَہُ ، وَکَانَ یَرْعَی ظَہْرَہُمْ فَلَمَّا جَائَ دَفَعُوہُ إِلَیْہِ فَقَالَ : مَا ہَذَا؟ قَالَ : قَسْمٌ قَسَمَہُ لَکَ فَأَخَذَہُ فَجَائَ بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : مَا ہَذَا یَا مُحَمَّدُ قَالَ : ((قَسْمٌ قَسَمْتُہُ لَکَ))۔ قَالَ : مَا عَلَی ہَذَا اتَّبَعْتُکَ ، وَلَکِنِی اتَّبَعْتُکَ عَلَی أَنْ أُرْمَی ہَا ہُنَا وَأَشَارَ إِلَی حَلْقِہِ بِسَہْمٍ فَأَمُوتَ فَأَدْخَلَ الْجَنَّۃَ ۔ فَقَالَ : ((إِنْ تَصْدُقِ اللَّہُ یَصْدُقْکَ))۔ ثُمَّ نَہَضُوا إِلَی قِتَالِ الْعَدُوِّ فَأُتِیَ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- یُحْمَلُ وَقَدْ أَصَابَہُ سَہْمٌ حَیْثُ أَشَارَ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((ہُوَ ہُوَ؟))۔ قَالُوا : نَعَمْ قَالَ : ((صَدَقَ اللَّہَ فَصَدَقَہُ))۔ فَکَفَّنَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- فِی جُبَّتِہِ ، ثُمَّ قَدَّمَہُ وَصَلَّی عَلَیْہِ فَکَانَ مِمَّا ظَہَرَ مِنْ صَلاَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- : ((اللَّہُمَّ ہَذَا عَبْدُکَ خَرَجَ مُہَاجِرًا فِی سَبِیلِکَ ، قُتِلَ شَہِیدًا أَنَا عَلَیْہِ شَہِیدٌ))۔

قَالَ عَطَاء ٌ : وَزَعَمُوا أَنَّہُ لَمْ یَصِلِّ عَلَی أَہْلِ أُحُدٍ۔

قَالَ الشَّیْخُ : ابْنُ جُرَیْجٍ یَذْکُرُہُ عَنْ عَطَائٍ۔

وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ ہَذَا الرَّجُلُ بَقِیَ حَیًّا حَتَّی انْقَطَعَتِ الْحَرْبُ ثُمَّ مَاتَ فَصَلَّی عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَالَّذِینَ لَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِمْ بِأُحُدٍ مَاتُوا قَبْلَ انْقِضَائِ الْحَرْبِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن۔ نسائی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مرثیہ کہنے اور اس شخص کے متعلق جو کفار کے معرکے کے بغیر ظلم سے (مظلومانہ) قتل کردیا گیا اور اس شخص کے بارے جسے اپنی تلوار لگ جائے
(٦٨١٨) ابو الہیثم بیان کرتے ہیں کہ بیشک ان کے باپ نے حدیث بیان کی کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبیر کی طرف جاتے ہوئے عامر بن رکوع کو فرمایا اور اکوع کا نام سنان ہے : ” اے ابن رکوع ! اتر اور ہمارے لیے اپنی آواز میں حدی کر ۔ سو وہ اترا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے اشعار کہنے لگا کہ اللہ کی قسم ! اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ ہوتے تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے ۔ سو تو ہم پر سکینہ نازل فرما ۔ اگر ہم دشمن سے ملیں تو ہمیں ثابت قدم فرما۔ بیشک کافروں کی اولاد نے ہمارے ساتھ بغاوت کی ہے اگر وہ ہم سے شرک وکفر کی امید رکھتے ہیں تو ہم اس کے انکاری ہیں ۔

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” تجھ پر تیرا رب رحم کرے “۔ عمر بن (رض) خطاب نے کہا : اس پر واجب ہوگئی۔ اللہ کی قسم ! اگر آپ ہمیں ان سے استفادہ کرنے دیتے ۔ سو وہ غزوہ خیبر میں شہید کردیے گئے جو بات ہم تک پہنچی ہے تو وہ ان کی شہادت اس سے ہوئی کہ ان کی تلوار ہی ان کی طرف پلٹی اور انھیں شدید زخمی کردیا اور وہ لڑائی کرتے رہے حتیٰ کہ وہ فوت ہوگئے اور مسلمان ان کے متعلق شک میں پڑگئے کہ انھیں ان کے اسلحہ نے ہی قتل کیا ہے۔ اس وجہ سے ان کے بھتیجے سلمہ بن عمرو نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں کی بات سے آگاہ کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ ” شہید ہے “۔ سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ نے نماز جنازہ ادا کی۔
(۶۸۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِی الْہَیْثَمِ : أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ فِی مَسِیرِہِ إِلَی خَیْبَرَ لِعَامِرِ بْنِ الأَکْوَعِ وَکَانَ اسْمُ الأَکْوَعِ سِنَانًا : ((انْزِلْ یَا ابْنَ الأَکْوَعِ فَاحْدُ لَنَا مِنْ ہَنَاتِکَ))۔ فَنَزَلَ یَرْتَجِزُ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَیَقُولُ :

وَاللَّہِ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اہْتَدَیْنَا



وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّیْنَا

فَأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا



وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَیْنَا

إِنَّ بَنِی الْکُفَّارِ قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا



وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَۃً أَبَیْنَا

فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : رَحِمَکَ رَبُّکُ ۔ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَجَبَتْ وَاللَّہِ لَوْ مَتَّعْتَنَا بِہِ فَقُتِلَ یَوْمَ خَیْبَرَ شَہِیدًا ، وَکَانَ قَتْلُہُ فِیمَا بَلَغَنِی أَنَّ سَیْفَہُ رَجَعَ عَلَیْہِ فَکَلَمَہُ کَلْمًا شَدِیدًا وَہُوَ یُقَاتِلُ فَمَاتَ مِنْہُ فَکَانَ الْمُسْلِمُونَ شَکُّوا فِیہِ وَقَالُوا : إِنَّمَا قَتَلَہُ سِلاَحُہُ حَتَّی سَأَلَ ابْنُ أَخِیہِ سَلَمَۃُ بْنُ عَمْرٍو رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَأَخْبَرَہُ بِقَوْلِ النَّاسِ فِیہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّہُ لَشَہِیدٌ))۔ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَیْہِ وَصَلَّی الْمُسْلِمُونَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن اسحاق]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مرثیہ کہنے اور اس شخص کے متعلق جو کفار کے معرکے کے بغیر ظلم سے (مظلومانہ) قتل کردیا گیا اور اس شخص کے بارے جسے اپنی تلوار لگ جائے
(٦٨١٩) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) شہید ہوگئے ۔ انھیں غسل دیا گیا ، کفن پہنایا گیا اور نماز جنازہ ادا کی گئی۔
(۶۸۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ غُسِّلَ وَکُفِّنَ وَصُلِّیَ عَلَیْہِ۔ وَزَادَ فِیہِ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَحُنِّطَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مال]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮২০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مرثیہ کہنے اور اس شخص کے متعلق جو کفار کے معرکے کے بغیر ظلم سے (مظلومانہ) قتل کردیا گیا اور اس شخص کے بارے جسے اپنی تلوار لگ جائے
(٦٨٢٠) ثابت ابو رافع سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : ابو لؤلؤ مغیرہ بن شعبہ کا غلام ہے اور آگے پوری حدیث بیان کی۔ وہ کہتے ہیں : اس نے ان کیلئے دوسروں والا خنجر تیار کیا۔ جب عمر (رض) نے تکبیر کہی تو اس نے ان کے کندھے پر وار کیا۔ ، پھر دوسری جگہ وار کیا اور خنجر ان کے پہلو میں اتار دیا تو عمر (رض) گرپڑے۔

ثابت کی حدیث میں قتل عمر کا تذکرہ گذر چکا ہے کہ مجوسی نے ان پر خنجر سے وار کیا اور پھر وہ جس کے پاس سے بھی گذرتا تو وہ دائیں بائیں والوں کو خنجر مارتا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انھیں تیز دھارآلے سے قتل کیا گیا۔ پھر غسل دیا گیا، کفن دیا گیا اور جنازہ پڑھا گیا۔
(۶۸۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ شَبِیبٍ الْمَعْمَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ حِسَابٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِی رَافِعٍ قَالَ : کَانَ أَبُو لُؤْلُؤَۃَ لِلْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ قَالَ : فَصَنَعَ لَہُ خِنْجَرًا لَہُ رَأْسَانِ فَلَمَّا کَبَّرَ وَجَأَہُ عَلَی کَتِفِہِ ، وَوَجَأَہُ عَلَی مَکَانٍ آخَرَ ، وَوَجَأَہُ فِی خَاصِرَتِہِ فَسَقَطَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔

وَقَدْ مَضَی فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ حَصِینٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ فِی قِصَّۃِ قَتْلِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ طَعَنَہُ قَالَ : فَطَارَ الْعِلْجُ بِالسِّکِّینِ ذَاتِ طَرَفَیْنِ لاَ یَمُرُّ عَلَی أَحَدٍ یَمِینًا وَلاَ شِمَالاً إِلاَّ طَعَنَہُ وَفِی ذَلِکَ دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ قُتِلَ بِمُحَدَّدٍ ، ثُمَّ غُسِّلَ وَکُفِّنَ وَصُلِّیَ عَلَیْہِ۔ [حسن۔ أخرجہ ابن حبان]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮২১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مرثیہ کہنے اور اس شخص کے متعلق جو کفار کے معرکے کے بغیر ظلم سے (مظلومانہ) قتل کردیا گیا اور اس شخص کے بارے جسے اپنی تلوار لگ جائے
(٦٨٢١) ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسن (رض) نے علی (رض) کی نماز جنازہ پڑھی۔
(۶۸۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ: أَنَّ الْحَسَنَ صَلَّی عَلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔

[حسن لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮২২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مرثیہ کہنے اور اس شخص کے متعلق جو کفار کے معرکے کے بغیر ظلم سے (مظلومانہ) قتل کردیا گیا اور اس شخص کے بارے جسے اپنی تلوار لگ جائے
(٦٨٢٢) ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ میں اسماء بنت ابوبکر کے پاس عبداللہ بن زبیر کے قتل ہونے کے بعد گیا۔ وہ کہتے ہیں : عبد الملک کا خط آیا ۔ اس نے کہا : اس کی میت ان کے اہل کے حوالے کر دو ۔ میں اسے لے کر اسماء کے پاس آیا ۔ انھوں نے اسے غسل دیا ۔ کفن پہنایا اور خوشبولگائی، پھر دفن کردیا گیا۔ ایوب کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ راوی نے کہا کہ اس کے بعد وہ صرف تین دن زندہ رہا۔
(۶۸۲۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا أَیُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ بَعْدَ قَتْلِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ وَجَائَ کِتَابُ عَبْدِ الْمَلِکِ : أَنْ یُدْفَعَ إِلَی أَہْلِہِ فَأَتَیْتُ بِہِ أَسْمَائَ فَغَسَّلَتْہُ وَکَفَّنَتْہُ وَحَنَّطَتْہُ ثُمَّ دَفَنَتْہُ۔ قَالَ أَیُّوبُ وَأَحْسِبُ قَالَ : فَمَا عَاشَتْ بَعْدَ ذَلِکَ إِلاَّ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ ثُمَّ مَاتَتْ زَادَ غَیْرُہُ فِیہِ : وَصَلَّتْ عَلَیْہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن ابی شیبہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮২৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اہل بغاوت کی تلوار سے قتل ہونے والے کا حکم
(٦٨٢٣) قیس بن ابی حازم کہتے ہیں : غمار نے کہا : مجھے میرے ہی کپڑوں میں دفن کرنا؛ کیونکہ میں لڑائی کرنے والوں میں سے ہوں۔
(۶۸۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْہَاشِمِیُّ بِحَلَبَ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ قَیْسَ بْنَ أَبِی حَازِمٍ یَقُولُ قَالَ عَمَّارٌ : ادْفِنُونِی فِی ثِیَابِی فَإِنِّی مُخَاصِمٌ۔

[صحیح۔ أخرجہ ابن ابی عاصم]
tahqiq

তাহকীক: