আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الجنائز - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪০৫ টি

হাদীস নং: ৬৮৪৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے کے ساتھ جلدی جلدی چلنے کا بیان
(٦٨٤٤) حضرت ابو ہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنازے کے ساتھ جلدی چلو ۔ اگر وہ نیک ہے تو وہ بھلائی ہے جس کی طرف تم اسے لے جا رہے ہو۔ اگر اس کے سوا ہے تو وہ شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتارو گے۔
(۶۸۴۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادَ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَۃِ فَإِنْ تَکُ صَالِحَۃً فَخَیْرٌ تُقَدِّمُونَہَا إِلَیْہِ، وَإِنْ تَکُنْ سِوَی ذَلِکَ فَشَرٌّ تَضَعُونَہُ عَنْ رِقَابِکُمْ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیٍّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرٍ وَزُہَیْرٍ کُلُّہُمْ عَنْ سُفْیَانَ۔

[صحیح۔ أخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৪৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے کے ساتھ جلدی جلدی چلنے کا بیان
(٦٨٤٥) عبد الرحمن بن مہران بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) نے اپنی موت کے وقت وصیت کی کہ میری قبر پر خیمہ نصب نہ کرنا اور نہ ہی آگ لے کر پیچھے چلنا اور مجھے جلدی لے جانا۔ بیشک میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب مومن اپنی چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے : مجھے آگے لے چلو آگے لے چلو اور جب کافر کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے : ہائے افسوس ! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو۔
(۶۸۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ أَخْبَرَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِہْرَانَ : أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ أَوْصَی عِنْدَ مَوْتِہِ أَنْ لاَ تَضْرِبُوا عَلَی قَبْرِی فُسْطَاطًا ، وَلاَ تَتْبَعُونِی بِمِجْمَرٍ ، وَأَسْرِعُوا بِی أَسْرِعُوا بِی فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِذَا وُضِعَ الْمُؤْمِنُ عَلَی سَرِیرِہِ یَقُولُ قَدِّمُونِی قَدِّمُونِی ، وَإِذَا وُضِعَ الْکَافِرُ عَلَی سَرِیرِہِ قَالَ یَا وَیْلَتَاہُ أَیْنَ تَذْہَبُونَ بِی))۔ [حسن۔ أخرجہ احمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৪৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے کے ساتھ جلدی جلدی چلنے کا بیان
(٦٨٤٦) حضرت ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب جنازہ رکھا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنی گردنوں پر اٹھالیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتا ہے : مجھے آگے لے چلو مجھے آگے لے چلو ۔ اگر وہ نیک نہ ہو تو میت کہتی ہے : ہائے افسوس ! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو ؟ اس کی آواز کو سوائے انسان کے ہر کوئی سنتا ہے۔ اگر انسان اسے سن لے تو ہلاک ہوجائے۔
(۶۸۴۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا وُضِعَتِ الْجِنَازَۃُ فَحَمَلَہَا الرِّجَالُ عَلَی أَعْنَاقِہِمْ فَإِنْ کَانَتْ صَالِحَۃً قَالَتْ قَدِّمُونِی قَدِّمُونِی، وَإِنْ کَانَتْ غَیْرَ صَالِحَۃٍ قَالَتْ: یَا وَیْلَتَاہُ أَیْنَ تَذْہَبُونَ بِہَا؟ یَسْمَعُ صَوْتَہَا کُلُّ شَیْئٍ إِلاَّ الإِنْسَانَ ، وَلَوْ سَمِعَہَا الإِنْسَانُ صَعِقَ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَغَیْرِہِ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৪৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے کے ساتھ جلدی جلدی چلنے کا بیان
(٦٨٤٧) ابن عبد الرحمن اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں عبد الرحمن بن عوف کے جنازے میں تھا کہ اس کے غلاموں میں سے کچھ لوگ ان کے پیچھے چلنے لگے ، چارپائی کے آگے آگے اور وہ کہہ رہے تھے : اللہ تم میں برکت پیدا کرے ٹھہر ٹھہر کے۔ وہ کہتے ہیں : ان سے ابو بکرہ مربہ کی گلیوں میں ملے اور کوڑے کے ساتھ اپنے خچر کو ان کی طرف دوڑایا اور کہا : اس کا راستہ چھوڑ دو ۔ مجھے اس ذات کی قسم جس نے ابو القاسم کے چہرے کو عزت بخشی البتہ تحقیق ہم دیکھتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ہم دوڑتے ہوئے جاتے تھے۔
(۶۸۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا عُیَیْنَۃَ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کُنْتُ فِی جَنَازَۃِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَۃَ فَجَعَلَ زِیَادٌ وَرِجَالٌ مِنْ مَوَالِیہِ یَمْشُونَ عَلَی أَعْقَابِہِمْ أَمَامَ السَّرِیرِ یَقُولُونَ : رُوَیْدًا رُوَیْدًا بَارَکَ اللَّہُ فِیکُمْ قَالَ فَلَحِقَہُمْ أَبُو بَکْرَۃَ فِی بَعْضِ سِکَّۃِ الْمِرْبَدِ فَحَمَلَ عَلَیْہِمُ الْبَغْلَۃَ وَشْدَّ عَلَیْہِمْ بِالسَّوْطِ وَقَالَ : خَلُّوا وَالَّذِی أَکْرَمَ وَجْہَ أَبِی الْقَاسِمِ -ﷺ- لَقَدْ رَأَیْتُنَا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لَنَکَادُ أَنْ نَرْمُلَ بِہَا رَمَلاً۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَیَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ وَوَکِیعٌ وَخَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ وَعِیسَی بْنُ یُونُسَ عَنْ عُیَیْنَۃَ۔ وَخَالَفَہُمْ شُعْبَۃُ عَنْ عُیَیْنَۃَ فَقَالَ فِی جَنَازَۃِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ۔ [صحیح۔ أخرجہ الطیالسی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৪৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے کے ساتھ جلدی جلدی چلنے کا بیان
(٦٨٤٨) عیینہ بن عبد الرحمن اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ عثمان بن ابی العاص کے جنازے میں تھے اور ہم آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ ہم ابو بکرہ سے ملے ۔ انھوں نے اپنا کوڑا اٹھایا اور کہا کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دوڑتے ہوئے چلتے تھے۔
(۶۸۴۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عُیَیْنَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ کَانَ فِی جَنَازَۃِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ وَکُنَّا نَمْشِی مَشْیًا خَفِیفًا فَلَحِقَنَا أَبُو بَکْرَۃَ فَرَفَعَ سَوْطَہُ قَالَ : لَقَدْ رَأَیْتُنَا وَنَحْنُ مَعَ نَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- نَرْمُلُ رَمَلاً۔ [صحیح۔ ابو داؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৪৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے کے ساتھ جلدی جلدی چلنے کا بیان
(٦٨٤٩) عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں : ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ چلناعام چلنے کے سوا ہے۔ اگر وہ نیک ہے تو اس کی طرف جلدی لے جایا جائے گا اور اس کے علاوہ ہے تو پھر جہنمیوں کیلئے دوری ہو۔ جنازے کے پیچھے چلا جاتا ہے وہ پیچھے نہیں چلتا اور کوئی اس کے آگے چلنے والا نہیں ہوتا۔ ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر (رض) اور ابن عباس (رض) آئے اور کہنے لگے کہ جب تم جنازہ اٹھاتے ہو تو وہ کہتا ہے : مجھے جلدی لے چلو جلدی لے چلو۔
(۶۸۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ البَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی الْجَابِرُ عَنْ أَبِی مَاجِدَۃَ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَأَلْنَا نَبِیَّنَا -ﷺ- عَنِ السَّیْرِ بِالْجَنَازَۃِ قَالَ: ((السَّیْرُ مَا دُونَ الْخَبَبِ، فَإِنْ کَانَ خَیْرًا یُعَجَّلْ إِلَیْہِ، وَإِنْ کَانَ سِوَی ذَلِکَ فَبُعْدًا لأَہْلِ النَّارِ الْجَنَازَۃِ مَتْبُوعَۃٌ وَلاَ تَتْبَعُ لَیْسَ مَعَہَا مَنْ تُقَدَّمُہَا))۔

ہَذَا حَدِیثٌ ضَعِیفٌ۔ یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْجَابِرُ ضَعِیفٌ وَأَبُو مَاجِدَۃَ وَقِیلَ أَبُو مَاجِدٍ مَجْہُولٌ وَفِیمَا مَضَی کِفَایَۃٌ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ : أَنَّہُ لَمَّا احْتُضِرَ حَضَرَہُ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَہُمَا : إِذَا حَمَلْتُمْ فَأَسْرَعُوا بِی أَسْرِعُوا بِی۔ [ضعیف۔ أبو داؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے تیز چلنے کو ناپسند جانا اس کے کھلنے کے ڈر سے
(٦٨٥٠) ابن جریج عطاء سے بیان کرتے ہیں کہ ہم ابن عباس (رض) کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی سیدہ میمونہ کے جنازے میں سرف میں شامل ہوئے تو ابن عباس (رض) نے کہا : یہ سیدہ میمونہ ہیں۔ جب تم ان کی میت کو اٹھاؤ تو اسے زیادہ حرکت نہ دینا بلکہ نرمی کا مظاہرہ کرنا۔ بیشک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نو بیویاں تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آٹھ کیلئے تقسیم میں حصہ رکھتے اور ایک کیلئے باری تقسیم نہیں کی۔
(۶۸۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃِ الْکُوفِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ یَعْنِی ابْنَ عَوْنٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَۃَ مَیْمُونَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ہَذِہِ مَیْمُونَۃُ إِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَہَا فَلاَ تُزَعْزِعُوہُ ، وَلاَ تُزَلْزِلُوہُ وَارْفُقُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ عِنْدَہُ تِسْعُ نِسْوَۃٍ فَکَانَ یَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَلاَ یَقْسِمُ لِوَاحِدَۃٍ۔

أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے تیز چلنے کو ناپسند جانا اس کے کھلنے کے ڈر سے
(٦٨٥١) ابو موسیٰ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے ایک جنازے گزرا اور وہ اسے حرکت دے رہے تھے جیسے مشکیزہ کو ہلایا جاتا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میانہ روی کو لازم پکڑو اپنے جنازوں کے ساتھ چلنے میں۔

ابو موسیٰ نے وصیت کی کہ جب تم میرے جنازے کے ساتھ چلو تو چلنے میں تیزی اختیار کرنا ۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ اس سے مراد شدت سے نہ چلنا ہے۔
(۶۸۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ لَیْثٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- مُرَّ عَلَیْہِ بِجَنَازَۃٍ وَہِی یُسْرِعُ بِہَا وَہِیَ تُمْخَضُ مَخْضَ الزِّقِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((عَلَیْکُمْ بِالْقَصْدِ فِی الْمَشْیِ بِجَنَائِزِکُمْ))۔

وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ أَبِی مُوسَی أَنَّہُ أَوْصَی فَقَالَ : إِذَا انْطَلَقْتُمْ بِجَنَازَتِی فَأَسْرِعُوا بِیَ الْمَشْیَ۔

وَفِی ذَلِکَ دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الْمُرَادَ بِمَا رُوِّینَا ہَا ہُنَا إِنْ ثَبَتَ کَرَاہِیَۃُ شِدَّۃِ الإِسْرَاعِ۔ [منکر۔ أخرجہ الطیالسی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے سے پلٹتے ہوئے سواری پر سوار ہونے کا بیان
(٦٨٥٢) حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک گھوڑا بغیر زین لایا گیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنازے سے پلٹے (ابودحداح کے) اور ہم آپ کے اردگرد چل رہے تھے۔
(۶۸۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ الْمُلاَئِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ : أُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِفَرَسٍ مُعْرَورًی فَرَکِبَہُ حِینَ انْصَرَفَ مِنْ جَنَازَۃِ ابْنِ الدَّحْدَاحِ وَنَحْنُ نَمْشِی حَوْلَہُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے سے پلٹتے ہوئے سواری پر سوار ہونے کا بیان
(٦٨٥٣) حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو دحداح کی نماز جنازہ پڑھائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بغیر زین گھوڑا لایا گیا ۔ وہ کہتے ہیں : اسے ایک بندے نے باندھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر سوار ہوگئے اور وہ تیز چلنے لگا اور ہم اس کے پیچھے پیچھے دوڑ رہے تھے ۔ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا : بیشک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابن دحداح کیلئے جنت میں انگوروں کے لٹکتے ہوئے گچھے ہیں۔
(۶۸۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ : صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی ابْنِ الدَّحْدَاحِ فَأُتِیَ بِفَرَسٍ عُرْیٍ قَالَ فَعَقَلَہُ رَجُلٌ فَرَکِبَہُ فَجَعَلَ یَتَوَقَّصُ بِہِ وَنَحْنُ نَتَّبِعُہُ نَسْعَی خَلْفَہُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((کَمْ مِنْ عِذْقٍ مُدَلًّی لاِبْنِ الدَّحْدَاحِ فِی الْجَنَّۃِ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ۔ [صحیح۔ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے سے پلٹتے ہوئے سواری پر سوار ہونے کا بیان
(٦٨٥٤) حضرت ثوبان (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک جنازے میں شامل ہوئے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے سواری لائی گئی۔ آپ اس پر سوار ہونے سے انکاری ہوئے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنازے سے فارغ ہو کر جانے لگے تو آپ کے پاس سواری لائی گئی تو آپ سوار ہوگئے۔ آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا : بیشک فرشتے پیدل چل رہے تھے ۔ میں نے سوار ہونا مناسب نہ جانا۔ جب وہ چلے گئے یا کہا : جب وہ اوپر چڑھ گئے تو میں سوار ہوگیا۔ ان کے پیدل چلتے ہوئے۔
(۶۸۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ثَوْبَانَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- شَیَّعَ جَنَازَۃً فَأُتِیَ بِدَابَّۃٍ فَأَبَی أَنْ یَرْکَبَہَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِیَ بِدَابَّۃٍ فَرَکِبَہَا فَقِیلَ لَہُ فَقَالَ : ((إِنَّ الْمَلاَئِکَۃَ کَانَتْ تَمْشِی فَلَمْ أَکُنْ لأَرْکَبَ وَہُمْ یَمْشُونَ ، فَلَمَّا ذَہَبُوا أَوْ قَالَ عَرَجُوا رَکِبْتُ))۔

[منکر۔ أخرجہ ابو داؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے سے پلٹتے ہوئے سواری پر سوار ہونے کا بیان
(٦٨٥٥) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلامثوبان (رض) فرماتے ہیں کہ میں ایک جنازے میں نکلا، انھوں نے دیکھا کہ لوگ اپنی سواریوں پر نکلے ہیں تو ثوبان (رض) نے اس سے کہا : کیا تم لوگ حیا نہیں کرتے کہ فرشتے تو اپنے قدموں پر چل رہے ہیں اور تم سواریوں پر نکلے ہو۔

ثوبان (رض) فرماتے ہیں : ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک جنازے میں نکلے تو لوگوں کو سواریوں پر دیکھا تو فرمایا : کیا تم حیا نہیں کرتے کہ اللہ کے فرشتے تو پیدل چل رہے ہیں اور تم سواریوں پر ہو۔
(۶۸۵۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَۃَ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنِی رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَّہُ خَرَجَ فِی جَنَازَۃٍ فَرَأَی نَاسًا خُرُوجًا عَلَی دَوَابِّہِمْ رُکْبَانًا فَقَالَ لَہُمْ ثَوْبَانُ : أَلاَ تَسْتَحْیُونَ ، مَلاَئِکَۃَ اللَّہِ عَلَی أَقْدَامِہِمْ وَأَنْتُمْ رُکْبَانٌ۔ ہَذَا ہُوَ الْمَحْفُوظُ بِہَذَا الإِسْنَادِ مَوْقُوفٌ۔

وَقَدْ رَوَاہُ عِیسَی بْنُ یُونُسَ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی جَنَازَۃٍ فَرَأَی نَاسًا رُکْبَانًا فَقَالَ : ((أَلاَ تَسْتَحْیُونَ إِنَّ مَلاَئِکَۃَ اللَّہِ عَلَی أَقْدَامِہِمْ وَأَنْتُمْ عَلَی ظُہُورِ الدَّوَابِّ))۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے سے پلٹتے ہوئے سواری پر سوار ہونے کا بیان
(٦٨٥٦) حکم بن موسیٰ فرماتے ہیں کہ ہمیں عیسیٰ بن یونس نے حدیث بیان کی اور اسی بات کا تذکرہ کیا۔
(۶۸۵۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ فَذَکَرَہُ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ عِیسَی۔

وَرَوَاہُ ثَوْرُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ مَوْقُوفًا عَلَی ثَوْبَانَ وَفِی ذَلِکَ دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الْمَوْقُوفَ أَصَحُّ وَکَذَا قَالَہُ الْبُخَارِیُّ۔ [منکر۔ أخرجہ ابن ماجہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے کے آگے چلنے کا بیان
(٦٨٥٧) عبداللہ بن عمر (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابوبکر (رض) اور عمر (رض) کو دیکھا وہ سب جنازے کے آگے چلے تھے۔
(۶۸۵۷) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ ابْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَکَمِ

(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِی أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ۔ [صحیح۔ ترمذی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے کے آگے چلنے کا بیان
(٦٨٥٨) حضرت سالم (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابوبکر (رض) اور عمر (رض) کو دیکھا کہ وہ جنازے کے آگے چلتے تھے تو میں ان کی طرف کھڑا ہو اور کہا : اے ابو محمد ! بیشک معمر (رض) اور ابن جریج (رض) اس میں تیری مخالفت کرتے ہیں کہ وہ حدیث کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرسل بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں : زہری نے اسے برقرار رکھا اور میں نے ان کے منہ سے سنا کہ وہ اس کا اعادہ کرتے اور سالم سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے والد سے ۔ میں نے ان سے کہا : کہ ابو محمد معمر اور ابن جریج دونوں بیان کرتے ہیں اور عثمان نے ان کی تصدیق کی ہے تو انھوں نے کہا : شاید انھوں نے کہا ہو اور میں نے درج نہ کیا ہو اور تب میں شیعہ کی طرف میلان رکھتا تھا۔
(۶۸۵۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدِینِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ یَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ فَقُمْتُ إِلَیْہِ

فَقُلْتُ : یَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّ مَعْمَرًا وَابْنَ جُرَیْجٍ یُخَالِفَانِکَ فِی ہَذَا یَعْنِی أَنَّہُمَا یُرْسِلاَنَ الْحَدِیثَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : اسْتَقَرَّ الزُّہْرِیُّ حَدَّثَنِیہِ سَمِعْتُہُ مِنْ فِیہِ یُعِیدُہُ وَیُبْدِیہِ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ فَقُلْتُ لَہُ : یَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّ مَعْمَرًا وَابْنَ جُرَیْجٍ یَقُولاَنِ فِیہِ وَعُثْمَانَ قَالَ فَصَدَّقَہُمَا وَقَالُ لَعَلَّہُ قَدْ قَالَہُ ہُوَ وَلَمْ أَکْتُبْہُ لِذَلِکَ إِنِّی کُنْتُ أَمِیلُ إِذْ ذَاکَ إِلَی الشِّیعَۃِ۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَی ابْنِ جُرَیْجٍ وَمَعْمَرٍ فِی وَصْلِ الْحَدِیثِ فَرُوِیَ عَنْ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا الْحَدِیثُ مَوْصُولاً وَرُوِیَ مُرْسَلاً وَقَدْ قِیلَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ ترمذی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے کے آگے چلنے کا بیان
(٦٨٥٩) زہری فرماتے ہیں : سالم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) عمر اور عثمان (رض) کو دیکھا کہ وہ جنازے کے آگے چل رہے تھے۔

بیشک ابوبکر نے عثمان کا تذکرہ نہیں کیا اس کو صرف ہمام نے بیان کیا اور اس میں عقیل اور یونس بن یزید کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔
(۶۸۵۹) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو ذَرٍّ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَفَدَۃُ أَبِی الْقَاسِمِ الْمُذَکِّرِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابْجَرْدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ سُفْیَانَ یَعْنِی ابْنَ عُیَیْنَۃَ وَمَنْصُورٍ وَزِیَادٍ وَبَکْرٍ کُلُّہُمْ ذَکَرَ أَنَّہُ سَمِعَ مِنَ الزُّہْرِیِّ أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَہُ أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ یَمْشُونَ بَیْنَ یَدَیِ الْجَنَازَۃِ۔

غَیْرَ أَنَّ بِکْرًا لَمْ یَذْکُرْ عُثْمَانَ تَفَرَّدَ بِہِ ہَمَّامٌ وَہُوَ ثِقَۃٌ۔

وَاخْتُلِفَ فِیہِ عَلَی عُقَیْلٍ وَیُونُسَ بْنِ یَزِیدَ فَقِیلَ عَنْ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا عَنِ الزُّہْرِیِّ مَوْصُولاً وَقِیلَ مُرْسَلاً

وَمَنْ وَصَلَہُ وَاسْتَقَرَّ عَلَی وَصْلِہِ وَلَمْ یَخْتَلِفْ عَلَیْہِ فِیہِ وَہُوَ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ حُجَّۃٌ ثِقَۃٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[صحیح۔ نسائی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৬০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے کے آگے چلنے کا بیان
(٦٨٦٠) ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر فرماتے ہیں کہ انھوں نے عمربن خطاب (رض) کو دیکھا ، کہ وہ لوگوں کو زینب بنت جحش (رض) کے جنازے کے آگے کر رہے تھے۔
(۶۸۶۰) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْہُدَیْرِ : أَنَّہُ رَأَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُقَدِّمُ النَّاسَ أَمَامَ جَنَازَۃِ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৬১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے کے آگے چلنے کا بیان
(٦٨٦١) ابو حازم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) اور حسن بن علی (رض) کو دیکھا وہ جنازے کے آگے چل رہے تھے۔
(۶۸۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنِ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَدِیٍّ عَنْ أَبِی حَازِمٍ قَالَ: رَأَیْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ یَمْشِیَانِ أَمَامِ الْجَنَازَۃِ۔

[صحیح۔ ابن ابی شیبہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৬২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے کے آگے چلنے کا بیان
(٦٨٦٢) سعد بن طارق اشجعی فرماتے ہیں : میں نے ابو حازم سے کہا : کیا تجھے کوئی واقعہ یاد ہے کہ جنازے کے ساتھ فقہاء اور ائمہ نے شمولیت کی ہو ؟ تو انھوں نے کہا : ہاں میں نے عبداللہ بن عمر (رض) ، حسن بن علی (رض) اور ابن زبی (رض) کو دیکھا کہ وہ اس کے آگے چل رہے تھے حتیٰ کہ اسے رکھ دیا گیا۔
(۶۸۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُوحَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الأَحْمُسِیُّ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِیُّ عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ الأَشْجَعِیِّ قَالَ قُلْتُ لأَبِی حَازِمٍ: ہَلْ حَفِظْتَ جَنَازَۃً مَشَی مَعَہَا قَوْمٌ مِنَ الْفُقَہَائِ أَمَامَہَا؟ قَالَ: نَعَمْ رَأَیْتُ عَبْدَاللَّہِ بْنَ عُمَرَ وَحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ وَابْنَ الزُّبَیْرِ یَمْشُونَ أَمَامَہَا حَتَّی وُضِعَتْ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৬৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے کے آگے چلنے کا بیان
(٦٨٦٣) سائب (رض) کے غلام عبید فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) اور عبید بن عمیر کو دیکھا کہ وہ دونوں جنازے کے آگے چل رہے تھے پھر وہ آگے بڑھ کر بیٹھ گئے اور گفتگو کرنے لگے ۔ جب وہ ان کے قریب آیا تو کھڑے ہوگئے۔
(۶۸۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ عُبَیْدٍ مَوْلَی السَّائِبِ قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ وَعُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ یَمْشِیَانِ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ فَتَقَدَّمَا فَجَلَسَا یَتَحَدَّثَانِ فَلَمَّا حَاذَتْ بِہِمَا قَامَا۔[حسن لغیرہٖ۔ أخرہ الشافعی]
tahqiq

তাহকীক: