আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الجنائز - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪০৫ টি

হাদীস নং: ৬৮৮৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کی دلیل جو جنازے کے لیے کھڑا ہونے کو منسوخ سمجھتا ہے
(٦٨٨٤) مسعود بن حکم علی بن ابی طالب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے سامنے جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا تذکرہ کیا گیا تو علی بن ابی طالب (رض) نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے پھر بیٹھ گئے۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنازے کے لیے کھڑے ہوا کرتے تھے ، پھر بعد میں بیٹھ گئے۔
(۶۸۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَفِی حَدِیثِ مَالِکٍ : وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَکَمِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ ذُکِرَ الْقِیَامُ عَلَی الْجَنَازَۃِ حَتَّی تُوضَعَ فَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ، ثُمَّ قَعَدَ۔

وَفِی رِوَایَۃِ مَالِکٍ قَالَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَقُومُ فِی الْجَنَائِزِ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ إِلاَّ أَنَّہُ جَعَلَ اللَّفْظَ لاِبْنِ رُمْحٍ وَقَالَ : وَاقِدُ بْنُ عَمْرٍو۔ وَ کَذَلِکَ قَالَہُ ابْنُ بُکَیْرٍ عَنِ اللَّیْثِ : وَاقِدُ بْنُ عَمْرٍو۔ [صحیح۔ المسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৮৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کی دلیل جو جنازے کے لیے کھڑا ہونے کو منسوخ سمجھتا ہے
(٦٨٨٥) شعیب بن لیث اپنے والد سے نقل کرتے ہیں، یہ حدیث قتیبہ کی روایت کی طرح ہے اور یہ زیادتی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب جنازہ دیکھتے تو اس کے لیے کھڑے ہوجاتے ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑا ہونا چھوڑ دیا اور جنازے کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے۔
(۶۸۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ اللَّیْثِ عَنْ أَبِیہِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ نَحْوَ رِوَایَۃِ قُتَیْبَۃَ وَزَادَ مَوْصُولاً بِالْحَدِیثِ وذاَکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ إِذَا رَأَی الْجَنَازَۃَ قَامَ لَہَا ، ثُمَّ تَرَکَ الْقِیَامَ فَلَمْ یَکُنْ یَقُومُ لِلْجَنَازَۃِ إِذَا رَآہَا۔

وَرَوَاہُ عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ وَابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ وَغَیْرُہُمَا عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ وَقَالُوا فِی الْحَدِیثِ نَحْوًا مِنْ رِوَایَۃِ قُتَیْبَۃَ عَنِ اللَّیْثِ وَفِی الإِسْنَادِ وَاقِدُ بْنُ عَمْرٍو۔ [صحیح۔ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৮৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کی دلیل جو جنازے کے لیے کھڑا ہونے کو منسوخ سمجھتا ہے
(٦٨٨٦) حضرت علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنازے کے لیے کھڑے ہوتے یہاں تک کہ اسے رکھا نہ جاتا اور لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے پھر اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے اور لوگوں کو بھی بیٹھنے کا حکم دیا۔
(۶۸۸۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ اللَّیْثِیُّ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَۃَ حَدَّثَہُ عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَکَمِ الزُّرَقِیِّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَعَ الْجَنَائِزِ حَتَّی تُوضَعَ وَقَامَ النَّاسُ مَعَہُ ، ثُمَّ قَعَدَ بَعْدَ ذَلِکَ وَأَمَرَہُمْ بِالْقُعُودِ۔

وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ غَیْرُہُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو فِی الأَمْرِ بِالْقُعُودِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৮৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کی دلیل جو جنازے کے لیے کھڑا ہونے کو منسوخ سمجھتا ہے
(٦٨٨٧) حضرت علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑے ہوئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے تو ہم بھی بیٹھ گئے۔ میں نے کہا : اس جنازے میں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزراتو انھوں نے کہا : اسی جنازے میں جو گزرا۔
(۶۸۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَکَمِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقُمْنَا ، وَقَعَدَ فَقَعَدْنَا قُلْتُ : فِی جَنَازَۃٍ مَرَّتْ قَالَ : فِی جَنَازَۃٍ مَرَّتْ ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہَیْنِ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৮৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کی دلیل جو جنازے کے لیے کھڑا ہونے کو منسوخ سمجھتا ہے
(٦٨٨٨) قیس بن مسعود (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ علی بن ابو طالب کے پاس کوفہ گئے۔ علی بن ابو طالب (رض) نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ کھڑے جنازے کا انتظار کر رہے تھے تاکہ اسے رکھا جائے تو علی (رض) نے انھیں اپنے کوڑے سے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی کھڑے ہوا کرتے تھے پھر بیٹھ گئے۔
(۶۸۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ قَیْسِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ شَہِدَ مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْکُوفَۃِ فَرَأَی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ النَّاسَ قِیَامًا یَنْتَظِرُونَ الْجَنَازَۃَ أَنْ تُوضَعَ فَأَشَارَ إِلَیْہِمْ بِدِرَّۃٍ مَعَہُ أَوْ سَوْطٍ أَنِ اجْلِسُوا۔ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ جَلَسَ بَعْدَ مَا کَانَ یَقُومُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ عبد الرزاق]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৮৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کی دلیل جو جنازے کے لیے کھڑا ہونے کو منسوخ سمجھتا ہے
(٦٨٨٩) ابو مجلز فرماتے ہیں کہ ابن عباس اور حسن بن علی (رض) کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔ ایک ان میں سے کھڑا ہوگیا اور دوسرا نہ کھڑا ہوا تو ایک نے کہا : کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے نہیں ہوئے تھے ؟ تو دوسرے نے کہا : کیوں نہیں مگر بعد میں بیٹھ گئے تھے۔
(۶۸۸۹) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا طَاہِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ : أَنَّ جَنَازَۃً مَرَّتْ بِابْنِ عَبَّاسٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَامَ أَحَدُہُمَا ، وَلَمْ یَقُمِ الآخَرُ فَقَالَ أَحَدُہُمَا : أَلَمْ یَقُمِ النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ الآخَرُ : بَلَی ، ثُمَّ قَعَدَ۔ [صحیح۔ ابن ابی شیبہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کی دلیل جو جنازے کے لیے کھڑا ہونے کو منسوخ سمجھتا ہے
(٦٨٩٠) عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے رہتے تھے، جب تک جنازہ لحد میں نہ رکھا جاتا۔ مگر ایک یہودیوں کا عالم پاس سے گزرا تو اس نے کہا : ہم بھی ایسے کرتے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے اور فرمایا : بیٹھ جاؤ اور ان کی مخالفت کرو۔
(۶۸۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ بَہْرَامَ الْمَدَائِنِیُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ أَخْبَرَنَا أَبُو الأَسْبَاطِ الْحَارِثِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ جُنَادَۃَ بْنِ أَبِی أُمَیَّۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقُومُ فِی الْجَنَازَۃِ حَتَّی تُوضَعَ فِی اللَّحْدِ فَمَرَّ حَبْرٌ مِنَ الْیَہُودِ فَقَالَ : ہَکَذَا نَفْعَلُ فَجَلَسَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَقَالَ : ((اجْلِسُوا خَالِفُوہُمْ))۔

[ضعیف۔ ابو داؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کی دلیل جو جنازے کے لیے کھڑا ہونے کو منسوخ سمجھتا ہے
(٦٨٩١) یوسف بن سلمان کہتے ہیں : ہمیں حاتم بن اسماعیل نے ایسی ہینے حدیث بیان کی سوائے اس کے کہ اس نے لحد کا تذکرہ نہیں کیا۔
(۶۸۹۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ شَہْرَیَارَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ غَیْرَ أَنَّہُ لَمْ یَقُلْ فِی اللَّحْدِ۔

قَالَ الْبُخَارِیُّ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ جُنَادَۃَ بْنِ أَبِی أُمَیَّۃَ عَنْ أَبِیہِ لاَ یُتَابَعُ فِی حَدِیثِہِ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا الْجُنَیْدِیُّ حَدَّثَنَا الْبُخَارِیُّ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف۔ ابو داؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کی دلیل جو جنازے کے لیے کھڑا ہونے کو منسوخ سمجھتا ہے
(٦٨٩٢) عبد الرحمن بن ابو القاسم فرماتے ہیں کہ ابو القاسم جنازے کے آگے چلا کرتے تھے اور اس کے رکھنے سے پہلے بیٹھ جاتے تھے اور اس کے لیے کھڑے نہیں ہوئے تھے اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی سیدہ عائشہ (رض) سے نقل فرماتی ہیں کہ وہ فرمایا کرتی تھیں کہ دور جاہلیت میں لوگ اس کے لیے کھڑے ہوا کرتے تھے جب اسے دیکھتے اور کہتے : تو اپنے اہل میں نہیں رہا تو اپنے اہل میں نہیں رہا۔
(۶۸۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ تَحَدَّثَ : أَنَّ الْقَاسِمَ کَانَ یَمْشِی بَیْنَ یَدَیِ الْجَنَازَۃِ وَیَجْلِسُ قَبْلَ أَنْ تُوضَعَ ، وَلاَ یَقُومُ لَہَا وَکَانَ یُخْبِرُ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہَا قَالَتْ : کَانَ أَہْلُ الْجَاہِلِیَّۃِ یَقُومُونَ لَہَا إِذَا رَأَوْہَا وَیَقُولُونَ : فِی أَہْلِکِ مَا أَنْتِ فِی أَہْلِکِ مَا أَنْتِ۔ [صحیح۔ بخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کا قریبی ولی اس کے ساتھ جنازے اور استغفار کے ذریعے نیکی کرے
(٦٨٩٣) ابو اسید ساعدی فرماتے ہیں : بنو ساعدہ میں سے ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میرے والدین فوت ہوچکے ہیں کیا ان کے ساتھ نیکی میں سے کچھ باقی ہے جو میں ان کے ساتھ ان کی موت کے بعد کروں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! ان کا جنازہ پڑھانا اور استغفار کرنا اور ان کی موت کے بعد ان کے عہد کو نافذ کرنا اور ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کرنا، جو صرف ان کی طرف سے رشتہ داری رکھتے ہیں تو اس نے کہا : اس سے زیادہ اور اس سے بہتر ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اعمال کرتا رہ وہ ان تک پہنچ جائیں گے۔
(۶۸۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ النَّرْسِیُّ حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ الْفَزَارِیُّ حَدَّثَنِی عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ حَنْظَلَۃَ بْنِ الرَّاہِبِ ابْنِ الْغَسِیلِ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَلِیٍّ عَنْ أَبِیہِ عَلِیِّ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ أَبِی أُسَیْدٍ السَّاعِدِیِّ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی سَاعِدَۃَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَبَوَیَّ قَدْ ہَلَکَا فَہَلْ بَقِیَ مِنْ بِرِّہِمَا شَیْء ٌ أَصِلُہُمَا بِہِ بَعْدِ مَوْتِہِمَا۔ قَالَ : ((نَعَمْ أَرْبَعَۃُ أَشْیَائَ : الصَّلاَۃُ عَلَیْہِمَا ، وَالاِسْتِغْفَارُ لَہُمَا ، وَإِنْفَاذُ عَہْدِہِمَا مِنْ بَعْدِ مَوْتِہِمَا ، وَإِکْرَامُ صَدِیقِہِمَا ، وَصِلَۃُ رَحِمِہِمَا الَّتِی لاَ رَحِمَ لَکَ إِلاَّ مِنْ قِبَلِہِمَا))۔ فَقَالَ : مَا أَکْثَرَ ہَذَا وَأَطْیَبَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : ((فَاعْمَلْ بِہِ فَإِنَّہُ یَصِلُ إِلَیْہِمَا))۔ [ضعیف۔ ابو داؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ حاکم قریبی رشتہ دار کی بہ نسبت جنازے کا زیادہ حق دار ہے علقمہ ، اسود، سوید بن غفلہ، عطائ، طاؤس، مجاہد، سالم، قاسم اور حضرت حسن بصری رحمہم اللہ سے نقل کیا گیا کہ امام ہی آگے ہوگا، یعنی جنازہ پڑھائے گا اور حضرت علی اور جریر سے روایت نقل کی گئی ہے وہ ان
(٦٨٩٤) ابو حازم فرماتے ہیں : جس دن حسن بن علی (رض) فوت ہوئے تو میں موجود تھا۔ میں نے حسین بن علی (رض) کو دیکھا وہ سعید بن عاص سے فرما رہے تھے کہ آگے بڑھ ۔ اگر یہ سنت نہ ہوتی تو آگے نہ کیا جاتا اور اس کی گردن کو کچو کے مار رہے تھے اور ان میں کچھ اختلاف تھا تو ابوہریرہ (رض) نے کہا : کیا تم اپنے نبی کے بیٹے کی قبر پر پھونک رہے ہو اور اس میں تم انھیں دفن کرو گے جب کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ جس نے ان دونوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
(۶۸۹۴) مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ

(ح) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ یَقُولُ : إِنِّی لَشَاہِدٌ یَوْمَ مَاتَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَرَأَیْتُ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ لِسَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ وَیَطْعَنُ فِی عُنُقِہِ وَیَقُولُ : تَقَدَّمْ فَلَوْلاَ أَنَّہَا سُنَّۃٌ مَا قُدِّمْتَ ، وَکَانَ بَیْنَہُمْ شَیْء ٌ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : أَتُنْفِسُونَ عَلَی ابْنِ نَبِیِّکُمْ بِتُرْبَۃٍ تَدْفِنُونَہُ فِیہَا وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((مَنْ أَحَبَّہُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِی وَمَنْ أَبْغَضْہُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِی))۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ الحاکم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ حاکم قریبی رشتہ دار کی بہ نسبت جنازے کا زیادہ حق دار ہے علقمہ ، اسود، سوید بن غفلہ، عطائ، طاؤس، مجاہد، سالم، قاسم اور حضرت حسن بصری رحمہم اللہ سے نقل کیا گیا کہ امام ہی آگے ہوگا، یعنی جنازہ پڑھائے گا اور حضرت علی اور جریر سے روایت نقل کی گئی ہے وہ ان
(٦٨٩٥) اسماعیل بن رجا زبیدی فرماتے ہیں : مجھے اس نے بتایا جو حسین بن علی سے ملا ، جب حسن (رض) فوت ہوئے کہ وہ سعید بن عاص سے کہہ رہے تھے : آگے بڑھ اگر یہ سنت نہ ہوتی تو تجھے آگے نہ کیا جاتا۔
(۶۸۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الْجِحَافَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ رَجَائٍ الزُّبَیْدِیِّ قَالَ : أَخْبَرَنِی مَنْ شَہِدَ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ حِینَ مَاتَ الْحَسَنُ وَہُوَ یَقُولُ لِسَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ : أَقْدُمْ فَلَوْلاَ أَنَّہَا سَنَۃٌ مَا قُدِّمْتَ۔ وَأَمَّا الرِّوَایَۃُ فِیہِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [حسن لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ حاکم قریبی رشتہ دار کی بہ نسبت جنازے کا زیادہ حق دار ہے علقمہ ، اسود، سوید بن غفلہ، عطائ، طاؤس، مجاہد، سالم، قاسم اور حضرت حسن بصری رحمہم اللہ سے نقل کیا گیا کہ امام ہی آگے ہوگا، یعنی جنازہ پڑھائے گا اور حضرت علی اور جریر سے روایت نقل کی گئی ہے وہ ان
(٦٨٩٦) مجالد شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ جب فاطمہ (رض) فوت ہوئیں تو علی (رض) نے انھیں رات میں ہی دفن کردیا اور ابوبکر صدیق کو بازو سے پکڑا اور انھیں نماز جنازہ کے لیے آگے کردیا۔ سیدہ عائشہ (رض) قصہ میراث میں بیان فرماتی ہیں کہ فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں۔ جب وہ فوت ہوئیں تو علی (رض) نے انھیں رات کے وقت ہی دفن کیا اور ابوبکر (رض) کو اطلاع نہ دی اور نماز جنازہ بھی علی (رض) نے پڑھا۔
(۶۸۹۶) فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ کَامِلِ بْنِ خَلَفِ بْنِ شَجَرَۃِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ : أَنَّ فَاطِمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا لَمَّا مَاتَتْ دَفَنَہَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَیْلاً وَأَخَذَ بِضَبْعَیْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَدَّمَہُ یَعْنِی فِی الصَّلاَۃِ عَلَیْہَا۔

کَذَا رُوِیَ بِہَذَا الإِسْنَادِ۔ وَالصَّحِیحُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی قِصَّۃِ الْمِیرَاثِ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- سِتَّۃَ أَشْہُرٍ فَلَمَّا تُوُفِّیَتْ دَفَنَہَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا لَیْلاً وَلَمْ یُؤْذِنْ بِہَا أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَصَلَّی عَلَیْہَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ حاکم قریبی رشتہ دار کی بہ نسبت جنازے کا زیادہ حق دار ہے علقمہ ، اسود، سوید بن غفلہ، عطائ، طاؤس، مجاہد، سالم، قاسم اور حضرت حسن بصری رحمہم اللہ سے نقل کیا گیا کہ امام ہی آگے ہوگا، یعنی جنازہ پڑھائے گا اور حضرت علی اور جریر سے روایت نقل کی گئی ہے وہ ان
(٦٨٩٧) عقیل ابن شہاب سے نقل فرماتے ہیں اور اسی حدیث کا تذکرہ کیا۔
(۶۸۹۷) أَخْبَرْنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ فَذَکَرَہُ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ بُکَیْرٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اگر میت نے کسی کے متعلق وصیت کی ہے تو وہی جنازہ پڑھانے کا زیادہ حق دار ہے
(٦٨٩٨) محارب بن دثار فرماتے ہیں کہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ (رض) فوت ہوجائیں تو انھوں نے وصیت کی کہ نمازِ جنازہ سعید بن زید پڑھائیں۔
(۶۸۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ یَعْنِی عَبْدَانَ عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ السُّکَّرِیُّ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ : مَاتَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِینَ أَظُنُّہَا مَیْمُونَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَأَوْصَتْ أَنْ یُصَلِّیَ عَلَیْہَا سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ۔

وَرَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ : أَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَوْصَتْ أَنْ یُصَلِّیَ عَلَیْہَا سِوَی الإِمَامِ وَہَذَا أَصَحُّ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اگر میت نے کسی کے متعلق وصیت کی ہے تو وہی جنازہ پڑھانے کا زیادہ حق دار ہے
(٦٨٩٩) ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے وصیت کی کہ جب میں فوت ہو جاؤں تو میرا جنازہ زبیر بن عوام پڑھائیں۔
(۶۸۹۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ أَوْصَی إِذَا أَنَا مِتُّ یُصَلِّی عَلَیَّ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ۔ [ضعیف جداً]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯০০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اگر میت نے کسی کے متعلق وصیت کی ہے تو وہی جنازہ پڑھانے کا زیادہ حق دار ہے
(٦٩٠٠) خزاعی بن عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مغفل نے فرمایا : مجھے میرے ساتھی ملیں اور میرا جنازہ ابن زیاد نہ پڑھائے کہتے ہیں کہ ان کے سرپرست بنا ابو برزہ اور عائذ بن عمرو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سیکچھ لوگ تھے۔
(۶۹۰۰) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ خُزَاعِیٍّ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ أَوْصَی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُغَفَّلٍ قَالَ : لِیَلِینِی أَصْحَابِی ، وَلاَ یُصَلِّی عَلَیَّ ابْنُ زِیَادٍ قَالَ فَوَلِیَہُ أَبُو بَرْزَۃُ وَعَائِذُ بْنُ عَمْرٍو وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯০১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ امام کے نمازِ جنازہ پڑھانے اور نمازیوں کی کثرت سے میت کی بخشش ہونے کی امید کا بیان
(٦٩٠١) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج کے دن صالح اصحمہ بندہ فوت ہوا جو بہت عمدہ تھا، لہٰذا تم کھڑے ہو جاؤ اور جنازہ پڑھو، پھر آپ کھڑے ہوئے اور ہماری امامت کی اور ہمیں نے اس پر نمازِجنازہ پڑھائی۔
(۶۹۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عَطَاء ٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَاتَ الْیَوْمَ عَبْدٌ صَالِحٌ أَصْحَمَۃُ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَیْہِ ۔ فَقَامَ فَأَمَّنَا فَصَلَّیْنَا عَلَیْہِ))

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ یَحْیَی الْقَطَّانِ ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯০২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ امام کے نمازِ جنازہ پڑھانے اور نمازیوں کی کثرت سے میت کی بخشش ہونے کی امید کا بیان
(٦٩٠٢) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجاشی کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور میں دوسری یا تیسری صف میں تھا۔
(۶۹۰۲) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ وَزِیَادُ بْنُ الْخَلِیلِ قَالاَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- صَلَّی عَلَی النَّجَاشِیِّ وَکُنْتُ فِی الصَّفِّ الثَّانِی أَوِ الثَّالِثِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ۔ [صحیح۔ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯০৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ امام کے نمازِ جنازہ پڑھانے اور نمازیوں کی کثرت سے میت کی بخشش ہونے کی امید کا بیان
(٦٩٠٣) عبداللہ بن یزید فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی میت ایسی نہیں جس پر مسلمانوں کی ایک جماعت جنازہ پڑھتی ہے اور ان کی تعداد سو تک پہنچ جاتی اور وہ سفارش کرتے ہیں تو ان کی سفارش اور قبول کی جاتی ہے۔
(۶۹۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْبَنْدَفَزْکِیُّ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا سَلاَّمُ بْنُ أَبِی مُطِیعٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ رَضِیعِ عَائِشَۃَعَنِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((مَا مِنْ مَیِّتٍ یُصَلِّی عَلَیْہِ أُمَّۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ یَبْلُغُونَ مِائَۃً کُلُّہُمْ یَشْفَعُونَ لَہُ إِلاَّ شُفِّعُوا فِیہِ))۔

قَالَ سَلاَّمٌ فَحَدَّثْتُ بِہِ شُعَیْبَ بْنَ الْحَبْحَابِ فَقَالَ حَدَّثَنِی بِہِ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عِیسَی۔ [صحیح۔ مسلم]
tahqiq

তাহকীক: