আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الجنائز - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪০৫ টি

হাদীস নং: ৬৫২৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جو ساٹھ سال کی عمر کو پہنچا اللہ نے اس کی عمر کا بہانہ ختم کیا ہم نے تمہیں عمر نہ دی تاکہ جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا کرلیتا اور ڈرانے والے بھی آئے
(٦٥٢٤) مکی بن ابراہیم نے ہمیں حدیث بیان کی، اسی متن اور اسی سند کے ساتھ۔
(۶۵۲۴) عَنْ مَکِّیٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدٍ۔ قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَفِیمَا قَرَأْتُ فِی مَنَامِی عَلَی شَیْخِنَا أَبِی عَبْدِ اللَّہِ رَحِمَہُ اللَّہُ فَقُلْتُ لَہُ أَخْبَرَکُمْ بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْرَفِیُّ وَرَأَیْتُہُ بِخَطِّہِ فِی الْیَقَظَۃِ أَخْبَرَنَا بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْرَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعِیدٍ ہَذَا الْحَدِیثَ بِہَذَا الإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ۔ [صحیح۔ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫২৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ خوشخبری ہے اس لیے کہ جسے لمبی عمر ملی اور اعمال اچھے کیے
(٦٥٢٥) حسن ابی بکرہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کون سے لوگ بہتر ہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال اچھے ہوں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا : کون سے لوگ برے ہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال برے ہوں۔
(۶۵۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ یُونُسَ وَحُمَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ حُمَیْدٍ وَیُونُسَ وَثَابِتٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ أَنَّ رَجُلاً قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ؟ قَالَ : ((مَنْ طَالَ عُمْرُہُ وَحَسُنَ عَمَلُہُ))۔ قِیلَ فَأَیُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ : ((مَنْ طَالَ عُمْرُہُ وَسَائَ عَمَلُہُ))۔ [حسن لغیرہٖ۔ ترمذی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫২৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ خوشخبری ہے اس لیے کہ جسے لمبی عمر ملی اور اعمال اچھے کیے
(٦٥٢٦) عبداللہ بن بسر بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دو اعرابی آئے اور سوال کیا ۔ ان میں سے ایک نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کون سے لوگ بہتر ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کی عمر لمبی اور اعمال صالحہ ہوں۔ پھر دوسرے نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اسلام کے شرائع (شاخیں) بہت ہیں، مجھے ایک ایسا عمل بتائیں جسے میں چمٹ جاؤں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ” تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہے “ ۔
(۶۵۲۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ الْکِنْدِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : جَائَ أَعْرَابِیَّانِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَسْأَلاَنِہِ فَقَالَ أَحَدُہُمَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ؟ قَالَ : ((مَنْ طَالَ عُمْرُہُ وَحَسُنَ عَمَلُہُ))۔ وَقَالَ الآخَرُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ شَرَائِعَ الإِسْلاَمِ قَدْ کَثُرَتْ عَلَیَّ فَأَخْبِرْنِی بِأَمْرٍ أَتَشَبَّثُ بِہِ قَالَ : ((لاَ یَزَالُ لِسَانُکَ رَطْبًا بِذِکْرِ اللَّہِ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ ترمذی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫২৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ خوشخبری ہے اس لیے کہ جسے لمبی عمر ملی اور اعمال اچھے کیے
(٦٥٢٧) حضرت جابر (رض) بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تمہیں خبر نہ دوں تمہارے برے لوگوں میں سے اچھے لوگوں کی تو انھوں نے کہا : کیوں نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” تم میں سے بہتر وہ ہیں جن کی عمریں لمبی اور اعمال حسنہ ہیں۔
(۶۵۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُکَرْمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ قَالَ قَالَ زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَلاَ أُنَبِّئُکُمْ بِخِیَارِکُمْ مِنْ شِرَارِکُمْ ۔ قَالُوا : بَلَی قَالَ : خِیَارُکُمْ أَطْوَلُکُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُکُمْ عَمَلاً))۔ [صحیح۔ أخرجہ الحاکم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫২৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ خوشخبری ہے اس لیے کہ جسے لمبی عمر ملی اور اعمال اچھے کیے
(٦٥٢٨) حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تمہیں تمہارے اچھے لوگوں کی خبر نہ دوں تو صحابہ نے کہا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جن کی عمریں لمبی اور اعمال حسنہ ہیں۔
(۶۵۲۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّیْسَابُورِیُّ وَأَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی قَالا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِخِیَارِکُمْ؟))۔ قَالُوا: بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ: ((أَطْوَلُکُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُکُمْ أَعْمَالاً))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أحمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫২৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ خوشخبری ہے اس لیے کہ جسے لمبی عمر ملی اور اعمال اچھے کیے
(٦٥٢٩) عبیدبن خالد کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو آدمیوں میں مواخاۃ (بھائی چارہ ) قائم کی۔ ان میں سے ایک قتل کردیا گیا اور دوسرا باقی رہا۔ پھر وہ بھی مرگیا تو صحابہ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اس کے متعلق کیا کہا تو انھوں نے کہا : ہم نے اللہ سے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے اور اس پر رحم کرے اور اسے اپنے بھائی سے ملا دے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے بعد کی اس کی نمازیں کہاں گئیں ، اس کے بعد کے اس کے اعمال کہاں گئے ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا : اس کے بعد اس کے روزے کہاں گئے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ان دونوں کے درمیان آسمان و زمین کے برابر فاصلہ ہے۔
(۶۵۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَیْمُونٍ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رُبَیِّعَۃَ قَالَ سَمِعْتُ عُبَیْدَ بْنَ خَالِدٍ یَقُولُ : آخَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَ رَجُلَیْنِ فَقُتِلَ أَحَدُہُمَا وَبَقِیَ الآخَرُ ثُمَّ مَاتَ فَصَلَّوْا عَلَیْہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا قُلْتُمْ؟))۔ قَالُوا : دَعَوْنَا اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یَغْفِرَ لَہُ وَیَرْحَمَہُ ، وَیُلْحِقَہُ بِصَاحِبِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((فَأَیْنَ صَلاَتُہُ بَعْدَ صَلاَتِہِ وَأَیْنَ عَمَلُہُ بَعْدَ عَمَلِہِ؟- قَالَ وَأَظُنُّہُ قَالَ : وَأَیْنَ صَوْمُہُ بَعْدَ صَوْمِہِ؟- وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لِلَّذِی بَیْنَہُمَا أَبَعْدُ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ))۔ قَالَ عَمْرُو بْنُ مَیْمُونٍ فَأَعْجَبَنِی ہَذَا الْحَدِیثُ لأَنَّہُ أُسْنِدَ لِی۔ [صحیح۔ ابو داؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৩০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ خوشخبری ہے اس لیے کہ جسے لمبی عمر ملی اور اعمال اچھے کیے
(٦٥٣٠) طلحہ بن عبید اللہ تیمی بیان کرتے ہیں کہ ” بلی “ سے دو آدمی اکٹھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور اکٹھے اسلام قبول کیا۔ ان میں سے ایک نیکی میں محنت کرنے والا تھا، وہ ایک مرتبہ غزوے میں شریک ہوا اور شہید ہوگیا۔ اس کے بعد دوسرا ایک سال زندہ رہا۔ پھر وہ بھی فوت ہوگیا۔ طلحہ (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ خواب میں ہم جنت کے دروازے کے پاس تھے کہ میں نے دیکھا ہوں کہ میں ان دونوں کے ساتھ ہوں تو جنت میں سے ایک نکلنے والا نکلا۔ اس نے ان دونوں میں سے اسے اجازت دے دی جو بعد میں فوت ہوا تھا ۔ پھر وہ پلٹا اور اسے اجازت دی جو شہید ہوا تھا۔ پھر وہ میری طرف پلٹا اور اس نے کہا : تو پلٹ جا ابھی تیرا وقت نہیں آیا ۔ صبح ہوئی تو طلحہ (رض) نے یہ بات لوگوں کو بتائی تو لوگوں نے اس پر تعجب کیا اور یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کس بات پر تم تعجب کرتے ہو ؟ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ ان دونوں میں سے زیادہ محنت کرنے والا تھا اور پھر وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید بھی ہوا مگر جنت میں بعد میں داخل ہوا اور بعد میں جانے والا پہلے داخل ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایاـ: ــکیا وہ اس کے بعد ایک سال زندہ نہیں رہا اور اس نے رمضان کا مہینہ پایا اس کے روزے رکھے تو انھوں نے کہا : کیوں نہیں اور سال میں اس نے کتنے سجدے کیے تو انھوں نے کہا : کیوں نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تب تو ان کے درمیان آسمان و زمین کی دوری پیدا ہوگئی (اجر میں) ۔
(۶۵۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ لِثَلاَثٍ بَقِینَ أَوْ نَحْوِہِ مِنْ شَعْبَانَ سَنَۃَ خَمْسٍ وَسِتِّینَ وَمِائَتَیْنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ لَہِیعَۃَ وَیَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ وَحَیْوَۃَ بْنِ شُرَیْحٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أُسَامَۃَ بْنِ الْہَادِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیَّ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ التَّیْمِیِّ : أَنَّ رَجُلَیْنِ مِنْ بَلِیٍّ قَدِمَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَکَانَ إِسْلاَمُہُمَا مَعًا ، وَکَانَ أَحَدُہُمَا أَشَدَّ اجْتِہَادًا مِنَ الآخَرِ ، فَغَزَا الْمُجْتَہِدُ مِنْہُمَا فَاسْتُشْہِدَ ثُمَّ مَکَثَ الآخَرِ بَعْدَہُ سَنَۃً ، ثُمَّ تُوُفِّی قَالَ طَلْحَۃُ : بَیْنَا أَنَا عِنْدَ بَابِ الْجَنَّۃِ فِی النَّوْمِ إِذَا أَنَا بِہِمَا فَخَرَجَ خَارِجٌ مِنَ الْجَنَّۃِ فَأَذِنَ لِلَّذِی مَاتَ الآخِرُ مِنْہُمَا ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَذِنَ لِلَّذِی اسْتُشْہِدَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَیَّ فَقَالَ : ارْجِعْ فَإِنَّہُ لَمْ یَأْنِ لَکَ فَأَصْبَحَ طَلْحَۃُ فَحَدَّثَ النَّاسَ فَعَجِبُوا فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((مِنْ أَیِّ ذَلِکَ تَعْجَبُونَ))۔

قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا الَّذِی کَانَ أَشَدَّ الرَّجُلَیْنِ اجْتِہَادًا فَاسْتَشْہَدَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَدَخَلَ الآخِرُ الْجَنَّۃَ قَبْلَہُ۔ قَالَ : ((أَلَیْسَ قَدْ مَکَثَ ہَذَا بَعْدَہُ سَنَۃً وَأَدْرَکَ رَمَضَانَ فَصَامَہُ؟))۔ قَالُوا : بَلَی : ((وَصَلَّی کَذَا وَکَذَا مِنْ سَجْدَۃٍ فِی السَّنَۃِ))۔ قَالُوا: بَلَی قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَمَا بَیْنَہُمَا أَبَعْدُ مِمَّا بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ))۔ تَابَعَہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ۔ [ضعیف۔ ابن ماجہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৩১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٣١) عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس داخل ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بخار میں تھے میں نے آپ کے جسم کو ہاتھ لگایا تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کو بہت سخت بخار ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” ہاں مجھے تمہارے دو آدمیوں جتنا بخار ہوتا ہے۔ ابن مسعود نے کہا : اس وجہ سے کہ آپ کیلئے دو اجر ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ” مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جس قدر اس روئے زمین پر مسلمان ہیں جب انھیں کوئی بیماری یا تکلیف پہنچتی ہے یا اس کے علاوہ کچھ تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کی خطائیں مٹا دیتا ہے جس طرح درخت کے پتے گرتے ہیں۔
(۶۵۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَإِذَا ہُوَ یُوعَکُ فَمَسِسْتُہُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ لَتُوعَکُ وَعْکًا شَدِیدًا۔ قَالَ : ((أَجَلْ إِنِّی أُوعَکُ کَمَا یُوعَکُ رَجُلاَنِ مِنْکُمْ))۔ قَالَ قُلْتُ : لأَنَّ لَکَ أَجْرَیْنِ۔ قَالَ : ((نَعَمْ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا عَلَی الأَرْضِ مُسْلِمٌ یُصِیبُہُ أَذًی مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاہُ إِلاَّ حَطَّ اللَّہُ عَنْہُ خَطَایَاہُ کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَۃُ وَرَقَہَا))۔ [صحیح۔ بخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৩২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٣٢) یعلیٰ بن عبید کہتے ہیں : ہمیں حدیث بیان کی اعمش نے اور انھوں نے ایسی ہی بات بیان کی اور انھوں نے کہا : میں نے اپنے ہاتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رکھے۔
(۶۵۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ وَقَالَ : فَوَضَعْتُ یَدِی عَلَیْہِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ مسلم وبخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৩৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٣٣) عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں کہ ابو سعید خدری آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس داخل ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بخار کی حالت میں تھے اور آپ پر چادر تھی۔ انھوں نے اپنے ہاتھ کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رکھا تو چادر (کمبل) کے اوپر سے تپش کو محسوس کیا تو ابو سعید (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کے بخار کی تپش کس قدر زیادہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک ہماری تکالیف یونہی سخت ہوتی ہیں اور ہمارا اجر بھی دو گناہ ہوتا ہے۔ پھر ابو سعید (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! تمام لوگوں میں سے سخت تکلیف میں کون لوگ ہوتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” انبیائ “ انھوں نے کہا : پھر کون ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر ” علمائ “ انھوں نے کہا : پھر کون ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر ” صالحین “ ۔ ان میں سے ایک محتاجی سے آزمایا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ صرف ایک چادر ہی پاتا ہے جسے وہ پہنتا ہے اور یک فراوانی سے آزمایا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ اسے ہلاک کردیتی ہے اور نہیں ہے تم میں سے کوئی ایک زیادہ خوش ہونے والا آزمائش سے جس قدر تم میں سے کوئی نعمت کے حصول پر خوش ہوتا ہے۔
(۶۵۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُرَادِیُّ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلاَنِیُّ قَالَ الرَّبِیعُ حَدَّثَنَا وَقَالَ بَحْرٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِی ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ مَوْعُوْکٌ عَلَیْہِ قَطِیفَۃٌ فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَیْہِ فَوَجَدَ حَرَارَتَہَا فَوْقَ الْقَطِیفَۃَ فَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ : مَا أَشَدَّ حَرَّ حُمَّاکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّا کَذَلِکَ یُشَدَّدُ عَلَیْنَا الْبَلاَئُ ، وَیُضَاعَفُ لَنَا الأَجْرُ))۔ ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلاَئً ؟ قَالَ: ((الأَنْبِیَائُ))۔ قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((ثُمَّ الْعُلَمَائُ))۔ قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : ((ثُمَّ الصَّالِحُونَ کَانَ أَحَدُہُمْ یُبْتَلَی بِالْفَقْرِ حَتَّی مَا یَجِدُ إِلاَّ الْعَبَائَ ۃَ یَلْبَسُہَا وَیُبَتَلَی بِالْقَمْلِ حَتَّی یَقْتُلَہُ وَلأَحَدُہُمْ أَشَدُّ فَرَحًا بِالْبَلاَئِ مِنْ أَحَدِکُمْ بِالْعَطَائِ))۔ [ضعیف۔ أخرجہ الحاکم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৩৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٣٤) سعد بن ابی وقاص (رض) اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ آزمائش کن لوگوں کی ہوتی ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انبیاء کی۔ پھر درجہ بدرجہ ہر آدمی اپنے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔ اگر وہ دین میں زیادہ پختہ ہے تو اس کی آزمائش بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اس کے دین میں نرمی ہے تو وہ اپنے دین کے مطابق ہی آزمایا جاتا ہے۔ سو نہیں آتی کسی بندے پر آزمائش حتیٰ کہ اسے ایسی حالت میں چھوڑتی ہے کہ وہ زمین پر چلتا ہے مگر اس کی کوئی غلطی (گناہ) نہیں ہوتی۔
(۶۵۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ وَہِشَامٌ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ کُلُّہُمْ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَہْدَلَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی الأَشْیَبُ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلاَئً؟ قَالَ: ((النَّبِیُّونَ ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ یُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلَی حَسَبِ دِینِہِ، فَإِنْ کَانَ صُلْبَ الدِّینِ اشْتَدَّ بَلاَؤُہُ، وَإِنْ کَانَ فِی دِینِہِ رِقَّۃٌ ابْتُلِیَ عَلَی حَسَبِ دِینِہِ فَمَا تَبْرَحُ الْبَلاَیَا عَلَی الْعَبْدِ حَتَّی تَدَعَہُ یَمْشِی عَلَی الأَرْضِ لَیْسَ عَلَیْہِ خَطِیئَۃٌ))۔[صحیح لغیرہٖ۔ ترمذی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৩৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٣٥) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : ” مَنْ یَعْمَلْ سُوْئً یُجْزَبہ “ ١٢٣ نساء “ تو مسلمانوں پر بہت گراں گزری۔ انھوں نے اس کا تذکرہ پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” مل جل کے رہو اور سیدھے رہو اور خوشخبری پھیلاؤ “ یقیناً مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ کانٹا بھی جو اسے تکلیف پہنچاتا ہے اور وہ مصیبت جو اس پر آتی ہے (گناہوں کے کفارے کا باعث ہے) ۔
(۶۵۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَیْصِنٍ السَّہْمِیُّ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ قَیْسِ بْنِ مَخْرَمَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ (مَنْ یَعْمَلْ سَوْئً یُجْزَ بِہِ) شَقَّ ذَلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ فَذَکَرُوْہُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((قَارِبُوا وَسَدِّدُوا ، وَأَبْشِرُوا فَإِنْ کُلَّ مَا أَصَابَ الْمُسْلِمَ کَفَّارَۃٌ لَہُ حَتَّی الشَّوْکَۃُ یُشَاکُہَا أَوِ النَّکْبَۃُ یُنْکَبُہَا))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৩৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٣٦) ابوبکر صدیق (رض) سے روایت ہے کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس آیت کے بعد خلاصی کیسے ؟ { مَنْ یَعْمَلْ سَوْئً یَجُزَ بِہِ } [النساء : ١٢٣] کہ جس نے برے اعمال کیے اسے پورا بدلہ دیا جائے گا “ یعنی جو بھی ہم برا عمل کرتے ہیں اس کی سزا دی جائے گی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر ! اللہ تجھے معاف کرے ، یہ بات تین مرتبہ کہی ۔ کیا تو بیمار نہیں ہوتا کیا تو غم گین نہیں ہوتا کیا تجھے تکلیف نہیں آتی کیا تجھے مصیبت نہیں آتی ؟ میں نے کہا : جی ہاں آتی ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہی تو ہے وہ جس کا دنیا میں بدلہ دیے جاتے ہو “۔
(۶۵۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی زُہَیْرٍ عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ الصَّلاَحُ بَعْدَ ہَذِہِ الآیَۃِ {مَنْ یَعْمَلْ سَوْئً یَجُزَ بِہِ} [النسائ: ۱۲۳] أَکُلُّ سَوْئٍ عَمِلْنَا بِہِ جُزِینَا؟ فَقَالَ: ((غَفَرَ اللَّہُ لَکَ یَا أَبَا بَکْرٍ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ أَلَسْتَ تَمْرَضُ أَلَسْتَ تَحْزَنُ أَلَسْتَ تَنْصَبُ أَلَسْتَ تُصِیبُکَ اللأْوَائُ؟))۔ قَالَ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : ((فَہُوَ مَا تُجْزَوْنَ بِہِ فِی الدُّنْیَا))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ ترمذی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৩৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٣٧) ابو سعید خدری اور ابوہریرہ (رض) دونوں سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہتے ہوئے سنا :” کسی مومن کو کبھی کوئی تکلیف ‘ پریشانی، بیماری اور غم حتیٰ کہ کوئی پریشانی جو اس کو پریشان و غم گین کردیتی ہے مگر اس کے عوض اللہ سبحانہ اس کی خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔
(۶۵۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَبِی عَلِیِّ بْنِ السَّقَّا الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدُ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ حَدَّثَنِی الْوَلِیدُ بْنُ کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((مَا یُصِیبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ نَصَبٍ وَلاَ وَصَبٍ وَلاَ سَقَمٍ وَلاَ حَزَنٍ حَتَّی الْہَمِّ یُہَمُّہُ إِلاَّ کُفِّرَ عَنْہُ بِہِ مِنْ سَیِّئَاتِہِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو۔ [صحیح۔ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৩৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٣٨) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی بھی مصیبت جو مومن کو پہنچتی ہے تو اس کے عوض اللہ سبحانہ اس کے گناہ مٹاتا ہے حتیٰ کہ اس کانٹے سے بھی جو اسے تکلیف دیتا ہے۔
(۶۵۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا مِنْ مُصِیبَۃٍ تُصِیبُ الْمُسْلِمَ إِلاَّ کَفَّرَ اللَّہُ بِہَا عَنْہُ حَتَّی الشَّوْکَۃَ یُشَاکُہَا))۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ ۔ [صحیح۔ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৩৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٣٩) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کوئی ایسی مصیبت نہیں جو مومن کو پہنچے مگر اس سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے حتیٰ کہ اس کانٹے سے بھی جو اسے چبھتا ہے۔

اور معمر کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ہے کوئی بیماری یا تکلیف جو مومن کو پہنچتی ہے تو اسے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتے ہیں حتیٰ کہ کوئی کانٹا یا کوئی پریشانی ہو (اس کے ساتھ بھی) ۔
(۶۵۳۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَا مِنْ مُصِیبَۃٍ یُصَابُ بِہَا الْمُؤْمِنُ إِلاَّ کَفَّرَ بِہَا عَنْہُ حَتَّی الشَّوْکَۃُ یُشَاکُہَا))۔ لَفْظُ حَدِیثِ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ وَفِی رِوَایَۃِ مَعْمَرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا مِنْ مَرِضٍ أَوْ وَجِعٍ یُصِیبُ الْمُؤْمِنَ إِلاَّ کَانَ کَفَّارَۃً لِذُنُوبِہِ حَتَّی الشَّوْکَۃُ یُشَاکُہَا أَوِ النَّکْبَۃُ یُنْکَبُہَا))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَخَرْجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔

[صحیح۔ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৪০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٤٠) ام المؤمنین سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : نہیں ہے کوئی مومن جسے کانٹا چبھتا ہے یا اس سے کمتر کوئی تکلیف مگر اس سے اللہ سبحانہ اس کے گناہ کو مٹا دیتے اور اجر کو بڑھا دیتے ہیں۔
(۶۵۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : جَنَاحُ بْنُ نَذِیرٍ الْمُحَارِبِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّہْرِیُّ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((مَا مِنْ مُؤْمِنٍ تَشُوکُہُ شَوْکَۃٌ فَمَا فَوْقَہَا إِلاَّ حَطَّ اللَّہُ عَنْہُ خَطِیئَۃً وَرَفَعَ لَہُ بِہَا دَرَجَۃً))۔ [صحیح۔ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৪১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٤١) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں کسی مومن کو کانٹا لگتا یا اس سے کم تکلیف مگر اس سے اللہ تعالیٰ اس کے درجات بڑھاتا ہے اور اس سے اس کو خطاؤں کو معاف کردیتے ہیں۔
(۶۵۴۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ

(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا یُصِیبُ الْمُؤمِنَ مِنْ شَوْکَۃٍ فَمَا فَوْقَہَا إِلاَّ رَفَعَہُ اللَّہُ بِہَا دَرَجَۃً أَوْ حَطَّ عَنْہُ بِہَا خَطِیئَۃً))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرٍ وَإِسْحَاقَ۔ [صحیح۔ مسلم، ترمذی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৪২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٤٢) عیاض بن غطیف بیان کرتے ہیں کہ ہم ابو عبیدہ (رض) کی عیادت کیلئے آئے تو ان کے پاس ان کی بیوی تھی۔ ہم نے اس سے پوچھا : اس نے رات کیسے گزاری ہے ؟ تو اس نے کہا : اجر کے ساتھ۔ ابو عبیدہ (رض) نے کہا : کیسے اجر کے ساتھ رات گزاری ہے تو قوم خاموش ہوگئی ۔ انھوں نے کہا : کیا تم ان سے اس بارے میں نہیں پوچھو گے تو انھوں نے کہا : جو تو نے کہا ہے اس نے ہمیں تعجب میں نہیں ڈالا مگر ہم آپ سے پوچھتے ہیں تو انھوں نے کہا : میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرماتے تھے : جس نے اضافی درہم دینار اللہ کی راہ میں خرچ کیا تو وہ سات سو گناہ تک بڑھا دیا جاتا ہے اور جس نے ایک درہم اپنے اہل پر خرچ کیا یا پھر راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹایا تو یہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے اور روزہ ڈھال ہے جب تک وہ اسے پھاڑتا ہے نہیں اور جس کسی کو اللہ تعالیٰ نے اس کے جسم کی بیماری سے آزمایا اس کے عوض بھی اس کے گناہ مٹائے جائیں گے۔
(۶۵۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْوَاسِطِیُّ أَخْبَرَنَا وَاصِلٌ مَوْلَی أَبِی عُیَیْنَۃَ عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِی سَیْفٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِیَاضِ بْنِ غُطَیْفٍ قَالَ : أَتَیْنَا أَبَا عُبَیْدَۃَ نَعُودُہُ وَعِنْدَہُ امْرَأَتُہُ تُحَیْفَۃُ قَالَ فَقُلْنَا : کَیْفَ بَاتَ؟ قَالَتْ : بَاتَ بِأَجْرٍ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ : مَا بِتُّ بِأَجْرٍ قَالَ : فَسَکَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ : أَلاَ تَسْأَلُونِی عَنِ الْکَلِمَۃِ قَالُوا : مَا أَعْجَبَنَا مَا قُلْتَ فَنَسْأَلُکَ؟ قَالَ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَۃً فَاضِلَۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَبِسَبْعِمِائَۃٍ ، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَۃً عَلَی أَہْلِہِ أَوْ أَمَازَ أَذًی عَنْ طَرِیقٍ فَالْحَسَنَۃُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا ، وَالصَّوْمُ جُنَّۃٌ مَا لَمْ یَخْرِقْہَا ، وَمَنِ ابْتَلاَہُ اللَّہُ بِبَلاَئٍ فِی جَسَدِہِ فَلَہُ بِہِ حِطَّۃُ خَطِیئَۃِ))۔ قَالَ خَالِدٌ یَعْنِی تُحَطُّ ذُنُوبُہُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ احمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৪৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٤٣) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن اور مومنہ کی آزمائش جاری رہتی ہے اس کے نفس ، مال اور اولاد میں ، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔
(۶۵۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یَزَالُ الْبَلاَئُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمَؤْمِنَۃِ فِی نَفْسِہِ وَمَالِہِ وَفِی وَلَدِہِ حَتَّی یَلْقَی اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَمَا عَلَیْہِ مِنْ خَطِیئَۃٍ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ ترمذی]
tahqiq

তাহকীক: