আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الجنائز - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪০৫ টি
হাদীস নং: ৬৫৮৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ عیادت کی فضیلت کا بیان
(٦٥٨٤) عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں : ابو موسیٰ اشعری حسن بن علی (رض) کی عیادت کی غرض سے آئے تو علی (رض) نے کہا : تو عیادت کیلئے آیا ہے یا خوشامد کیلئے ؟ انھوں نے کہا : بلکہ عیادت کیلئے تو علی (رض) نے کہا : اگر تو عیادت کی غرض سے آیا ہے تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا جب انسان اپنے بھائی کی عیادت کیلئے آتا ہے وہ جنت کی پھلواڑیوں میں چلتا ہے حتیٰ کہ وہ بیٹھ جائے۔ جب بیٹھ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے۔ اگر وہ صبح کے وقت گیا تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کی بخشش کی دعا کرتے ہیں۔ اگر رات کو جاتا ہے تو صبح ہونے تک ستر ہزار فرشتے دعا مغفرت کرتے رہتے ہیں۔
(۶۵۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی قَالَ : جَائَ أَبُو مُوسَی الأَشْعَرِیُّ یَعُودُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَعَائِدًا جِئْتَ أَمْ شَامِتًا فَقَالَ : بَلْ عَائِدًا فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَإِنْ کُنْتَ جِئْتَ عَائِدًا فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِذَا أَتَی الرَّجُلُ أَخَاہُ یَعُودُہُ مَشَی فِی خِرَافَۃِ الْجَنَّۃِ حَتَّی یَجْلِسَ ، فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْہُ الرَّحْمَۃُ ، فَإِنْ کَانَ غُدْوَۃً صَلَّی عَلَیْہِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ حَتَّی یُمَسِیَ ، وَإِنْ کَانَ عَشِیًّا صَلَّی عَلَیْہِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ حَتَّی یُصْبِحَ))۔ وَخَالَفَہُ شُعْبَۃُ فَرَوَاہُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَرَّۃً مَرْفُوعًا وَمَرَّۃً مَوْقُوفًا۔ [صحیح لغیرہٖ۔ احمد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৮৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ عیادت کی فضیلت کا بیان
(٦٥٨٥) حضرت علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے صبح کے وقت مریض کی عیادت کی تو ستر ہزار فرشتوں کی جماعت شام تک اس کیلئے استغفار کرتی ہے اور اس کیلئے جنت کا پھل اور باغیچہ ہوتا ہے۔ اگر اس نے شام کو عیادت کی تو ستر ہزار فرشتوں کی جماعت صبح تک اس کیلئے دعائے مغفرت کرتی ہے اور اس کے لیے جنت کا ایک باغیچہ ہوتا ہے۔
(۶۵۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ : جَائَ أَبُو مُوسَی الأَشْعَرِیُّ یَعُودُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَجِئْتَ عَائِدًا أَمْ زَائِرًا فَقَالَ أَبُو مُوسَی جِئْتُ عَائِدًا فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ عَادَ مَرِیضًا بُکْرَۃً شَیَّعَہُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ کُلُّہُمْ یَسْتَغْفِرُ لَہُ حَتَّی یُمَسِیَ ، وَکَانَ لَہُ خَرِیفٌ فِی الْجَنَّۃِ ، وَإِنْ عَادَہُ مَسَائً شَیَّعَہُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ کُلُّہُمْ یَسْتَغْفِرُ لَہُ حَتَّی یُصْبِحَ ، وَکَانَ لَہُ خَرِیفٌ فِی الْجَنَّۃِ))۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ شُعْبَۃَ مَرْفُوعًا وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ عَنْ شُعْبَۃَ مَوْقُوفًا۔
[صحیح لغیرہٖ۔ احمد]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ شُعْبَۃَ مَرْفُوعًا وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ عَنْ شُعْبَۃَ مَوْقُوفًا۔
[صحیح لغیرہٖ۔ احمد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৮৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ عیادت کی فضیلت کا بیان
(٦٥٨٦) ایضاً ۔
(۶۵۸۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ الْفَاکِہِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ وَزَادَ قَالَ قَالَ ابْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ ثُمَّ وَقَفَہُ الْمُقْرِئُ بَعْدَ ذَلِکَ عَلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَلَمْ یَذْکُرِ النَّبِیَّ -ﷺ- وَقَالَ بَلَغَنِی أَنَّ عَبْدَ الْمَلِکِ الْجُدِّیِّ یَقِفُہُ وَہُوَ أَحْفَظُ مِنِّی۔ [صحیح۔ ابن ابی شیبہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৮৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ بار بار عیادت کیلئے جانا سنت ہے
(٦٥٨٧) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں : جب سعد بن معاذ (رض) خندق کے دن زخمی ہوگئے کہ ایک آدمی نے ان کے بازو میں تیر مارا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد میں اس کے لیے خیمہ لگایا تاکہ قریب سے عیادت کرتے رہیں۔
(۶۵۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: لَمَّا أُصِیبَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ یَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاہُ رَجُلٌ فِی الأَکْحَلِ فَضَرَبَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خَیْمَۃً فِی الْمَسْجِدِ لِیَعُودَہُ مِنْ قَرِیبٍ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৮৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ آنکھوں کے خراب ہونے سے عیادت کرنا
(٦٥٨٨) زید بن ارقم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری عیادت کی اس تکلیف سے جو میری آنکھوں میں تھی۔
(۶۵۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَیْلِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : عَادَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ وَجَعٍ کَانَ بِعَیْنَیَّ۔ وَرُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [حسن لغیرہٖ۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৮৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مریض پر ہاتھ رکھ کر اس کی شفاء کی دعا اور صدقے سے اس کا مداوا کرنے کی تلقین کرنا
(٦٥٨٩) عائشہ بنت سعد بیان کرتی ہیں : میرے ابا جی فرمایا کہ میں مکہ میں بیمار ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس آئے میری عیادت کیلئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ میری پیشانی پر رکھا۔ پھر میرے سینے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا : ” اے اللہ ! سعد کو شفا دے اور اس کی ہجرت کو مکمل کر دے۔
(۶۵۸۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْرَفِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِیُّ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا الْجُعَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّ أَبَاہَا قَالَ : اشْتَکَیْتُ بِمَکَّۃَ فَجَائَ نِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَعُودُنِی وَوَضَعَ یَدَہُ عَلَی جَبْہَتِی ثُمَّ مَسَحَ صَدْرِی وَبَطْنِی ثُمَّ قَالَ : ((اللَّہُمَّ اشْفِ سَعْدًا وَأَتْمِمْ لَہُ ہِجْرَتَہُ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَکِّیِّ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَکِّیِّ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৯০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مریض پر ہاتھ رکھ کر اس کی شفاء کی دعا اور صدقے سے اس کا مداوا کرنے کی تلقین کرنا
(٦٥٩٠) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی مریض کی عیادت کرتے تو اس کے چہرے اور چھاتی پر ہاتھ پھیرتے اور کہتے : ” اے لوگو کے رب ! بیماری کو لے جا۔ اے شفا دینے والے ! تو شفا دے، تیری شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں ایسی شفا جو بیماری کو نہ چھوڑے۔
سیدہ عائشہ (رض) کہتی ہیں : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مرض میں تھے جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت واقع ہوئی۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ کو پکڑ ا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینے پر ان کلمات کے ساتھ پھیرنے چاہئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سے ہاتھ کو کھینچ لیا اور گویا ہوئے : ” اے اللہ ! مجھے رفیق اعلیٰ میں داخل فرما “۔
سیدہ عائشہ (رض) کہتی ہیں : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مرض میں تھے جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت واقع ہوئی۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ کو پکڑ ا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینے پر ان کلمات کے ساتھ پھیرنے چاہئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سے ہاتھ کو کھینچ لیا اور گویا ہوئے : ” اے اللہ ! مجھے رفیق اعلیٰ میں داخل فرما “۔
(۶۵۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَی یُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ إِذَا عَادَ مَرِیضًا مَسَحَ وَجْہَہُ وَصَدْرَہُ أَوْ قَالَ مَسَحَ عَلَی صَدْرِہِ وَقَالَ : ((أَذْہِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لاَ شِفَائَ إِلاَّ شِفَاؤُکَ شِفَائً لاَ یُغادِرُ سَقَمًا))۔قَالَتْ : فَلَمَّا کَانَ مَرَضُہُ الَّذِی مَاتَ فِیہِ جَعَلْتُ آخُذُ یَدَہُ لأَجْعَلَہَا عَلَی صَدْرِہِ وَأَقُولُ ہَذِہِ الْمَقَالَۃَ فَانْتَزَعَ یَدَہُ مِنِّی وَقَالَ : ((اللَّہُمَّ أَدْخِلْنِی الرَّفِیقَ الأَعْلَی))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہَیْنِ عَنْ شُعْبَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ عَنِ الأَعْمَشِ۔
وَقَالَ جَرِیرٌ عَنِ الأَعْمَشِ مَسَحَہُ بِیَمِینِہِ وَبِمَعْنَاہُ قَالَ الثَّوْرِیُّ عَنْہُ وَرَوَاہُ ہُشَیْمٌ عَنِ الأَعْمَشِ فَقَالَ : وَضَعَ یَدَہُ حَیْثُ یَشْتَکِی۔ [صحیح۔ البخاری]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہَیْنِ عَنْ شُعْبَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ عَنِ الأَعْمَشِ۔
وَقَالَ جَرِیرٌ عَنِ الأَعْمَشِ مَسَحَہُ بِیَمِینِہِ وَبِمَعْنَاہُ قَالَ الثَّوْرِیُّ عَنْہُ وَرَوَاہُ ہُشَیْمٌ عَنِ الأَعْمَشِ فَقَالَ : وَضَعَ یَدَہُ حَیْثُ یَشْتَکِی۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৯১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مریض پر ہاتھ رکھ کر اس کی شفاء کی دعا اور صدقے سے اس کا مداوا کرنے کی تلقین کرنا
(٦٥٩١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ میں سے ایک آدمی کی عیادت کیلئے نکلے اور اسے دورے پڑ رہے تھے۔ میں آپ کے ساتھ تھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ مجھے پکڑا یا اور اپنے ہاتھ کو اس کی پیشانی پر رکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مریض کی مکمل عیادت کا خیال کرتے تھے ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” بیشک اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں : یہ میری آگ ہے ، اسے میں اپنے مومن بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ آخرت کی آگ سے اس کا حصہ بن جائے۔
(۶۵۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : خَرَجَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَعُودُ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِہِ وَبِہِ وَجَدٌ وَأَنَا مَعَہُ فَقَبَضَ عَلَی یَدِہِ وَوَضَعَ یَدَہُ عَلَی جَبْہَتِہِ ، وَکَانَ یَرَی ذَلِکَ مِنْ تَمَامِ عِیَادَۃِ الْمَرِیضِ ثُمَّ قَالَ : ((إِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی یَقُولُ ہِیَ نَارِی أُسَلِّطُہَا عَلَی عَبْدِی الْمُؤْمِنِ لِتَکُونَ حَظَّہُ مِنَ النَّارِ فِی الآخِرَۃِ))۔
وَرَوَاہُ أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَالَ عَنْ أَبِی صَالِحٍ الأَشْعَرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃ۔ [جید۔ ابن ماجہ]
وَرَوَاہُ أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَالَ عَنْ أَبِی صَالِحٍ الأَشْعَرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃ۔ [جید۔ ابن ماجہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৯২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مریض پر ہاتھ رکھ کر اس کی شفاء کی دعا اور صدقے سے اس کا مداوا کرنے کی تلقین کرنا
(٦٥٩٢) کعب احبار بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بخار آگ کی بھٹی ہے ، اسے اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے پر بھیجتا ہے دنیا میں اور وہ اس کیلئے دوزخ کی آگ کا حصہ بن جاتا ہے۔
(۶۵۹۲) وَرَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبِی صَالِحٍ الأَشْعَرِیِّ عَنْ کَعْبِ الأَحْبَارِ قَالَ : الْحُمَّی کِیرٌ مِنَ النَّارِ یَبْعَثُہَا اللَّہُ عَلَی عَبْدِہِ الْمُؤْمِنِ فِی الدُّنْیَا فَتَکُونُ حَظَّہُ مِنْ نَارِ جَہَنَّمِ ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو مُسْہِرٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ قَالَ : مَرِضْتُ فَعَادَنِی أَبُو صَالِحٍ الأَشْعَرِیُّ فَحَدَّثَنِی عَنْ کَعْبِ الأَحْبَارِ فَذَکَرَہُ۔
[جید۔ دارقطنی]
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو مُسْہِرٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ قَالَ : مَرِضْتُ فَعَادَنِی أَبُو صَالِحٍ الأَشْعَرِیُّ فَحَدَّثَنِی عَنْ کَعْبِ الأَحْبَارِ فَذَکَرَہُ۔
[جید۔ دارقطنی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৯৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مریض پر ہاتھ رکھ کر اس کی شفاء کی دعا اور صدقے سے اس کا مداوا کرنے کی تلقین کرنا
(٦٥٩٣) حضرت عبداللہ کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اپنے مریضوں کا علاج کروصدقے کے ساتھ اور اپنے اموال کی حفاظت کرو زکوۃ ادا کر کے اور آزمائش کیلئے دعا کرتے رہو۔
(۶۵۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ عَوْدًا عَلَی بَدْئٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زِیَادِ بْنِ مِہْرَانَ السِّمْسَارُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ کَعْبٍ الأَنْطَاکِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُمَیْرٍ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((دَاوُوا مَرْضَاکُمْ بِالصَّدَقَۃِ، وَحَصِّنُوا أَمْوَالَکُمْ بِالزَّکَاۃِ، وَأَعِدُّوا لِلْبَلاَئِ الدُّعَائَ))۔ قَالَ أَبُو عَبْدِاللَّہِ تَفَرَّدَ بِہِ مُوسَی بْنُ عُمَیْرٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَإِنَّمَا یُعْرَفُ ہَذَا الْمَتْنُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً۔
[ضعیف جداً۔ الطبرانی فی الکبیر]
قَالَ الشَّیْخُ وَإِنَّمَا یُعْرَفُ ہَذَا الْمَتْنُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً۔
[ضعیف جداً۔ الطبرانی فی الکبیر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৯৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ عیادت کرنے والے کا مریض کو پوچھنا کہ تو اپنے کو کیسا پاتا ہے
(٦٥٩٤) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے تو ابوبکر (رض) اور بلال (رض) کو بخار نے آلیا۔ وہ کہتی ہیں : میں ان کے پاس آئی تو میں نے پوچھا : ابا جان ! آپ کیسا محسوس کرتے ہیں اپنے کو اور میں نے بلال سے کہا کہ تم اپنے کو کیسا محسوس کرتے ہو اور وہ کہتی ہیں : جب ابوبکر (رض) کو بخار ہوتا تو کہتے : ” ہر شخص اپنے اہل میں صبح کرنے والا ہے اور موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی قریب ہے اور بلال (رض) جب اکتا جاتے تو کہتے : کیا میں ایک رات ایسی وادی میں گزاروں گا، جہاں میرے ارد گراز خر اور جلیل ہوں گے ۔ کیا کبھی ہم مجنہ کے چشموں پر وارد ہوں گے، کیا میرے سامنے شامہ وطفیل ظاہر ہوں گے۔ سیدہ کہتی ہیں : میں پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور خبر دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! ہمارے لیے مدینے کو محبوب بنا دے جیسے ہمیں مکہ محبوب ہے یا اس سے بھی زیادہ اور اس کی آب وہوا کو درست کر دے اور اس کے صاع ومد میں برکت ڈال دے اور اس کے بخار کو حجفہ منتقل کر دے۔
(۶۵۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَارْیَابِیُّ قَالَ وَأَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ النَّسَوِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مَالِکٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ وُعِکَ أَبُو بَکْرٍ وَبِلاَلٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَتْ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِمَا فَقُلْتُ : یَا أَبَتِ کَیْفَ تَجِدُکَ؟ وَقُلْتُ لِبِلاَلٍ کَیْفَ تَجِدُکَ؟ قَالَتْ : وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا أَخَذَتْہُ الْحُمَّی یَقُولُ:
کُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِی أَہْلِہِ
وَالْمَوْتُ أَدْنَی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ
وَکَانَ بِلاَلٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا أَقْلَعَتْ عَنْہُ یَقُولُ :
أَلاَ لَیْتَ شِعْرِی ہَلْ أَبِیتَنَّ لَیْلَۃً
بِوَادٍ وَحَوْلِی إِذْخِرٌ وَجَلِیلُ
وَہَلْ أَرِدَنْ یَوْمًا مِیَاہَ مَجَنَّۃٍ
وَہَلْ یَبْدُوَنْ لِی شَامَۃٌ وَطَفِیلُ
قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ : ((اللَّہُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِینَۃَ کَحُبِّنَا مَکَّۃَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْہَا وَبَارِکْ لَنَا فِی صَاعِہَا وَمُدِّہَا وَانْقُلْ حُمَّاہَا فَاجْعَلْہَا بِالْجُحْفَۃِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ البخاری]
کُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِی أَہْلِہِ
وَالْمَوْتُ أَدْنَی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ
وَکَانَ بِلاَلٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا أَقْلَعَتْ عَنْہُ یَقُولُ :
أَلاَ لَیْتَ شِعْرِی ہَلْ أَبِیتَنَّ لَیْلَۃً
بِوَادٍ وَحَوْلِی إِذْخِرٌ وَجَلِیلُ
وَہَلْ أَرِدَنْ یَوْمًا مِیَاہَ مَجَنَّۃٍ
وَہَلْ یَبْدُوَنْ لِی شَامَۃٌ وَطَفِیلُ
قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ : ((اللَّہُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِینَۃَ کَحُبِّنَا مَکَّۃَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْہَا وَبَارِکْ لَنَا فِی صَاعِہَا وَمُدِّہَا وَانْقُلْ حُمَّاہَا فَاجْعَلْہَا بِالْجُحْفَۃِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৯৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مریض کو تسلی دینا مستحب ہے اور عبادت کرنے والے کا یہ کہنا :” لاباس طہور انشاء اللہ “
(٦٥٩٥) عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک اعرابی کی عیادت کیلئے گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کسی کی عیادت کیلئے جایا کرتے تو کہتے :(لاَ بَأْسَ طَہُورٌ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی) کوئی بات نہیں انشاء اللہ پاکیزگی حاصل ہوگی تو اس نے کہا : آپ کہتے ہیں : پاکیزگی بلکہ یہ تو بخار ہے جو بوڑھے شیخ پر جوش مار رہا ہے اور اسے قبروں کے زیادرت کروا رہا ہے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر ایسا ہی ہے۔
(۶۵۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- دَخَلَ عَلَی أَعْرَابِیٍّ یَعُودُہُ قَالَ وَکَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِذَا دَخَلَ عَلَی مَرِیضٍ یَعُودُہُ قَالَ لَہُ : ((لاَ بَأْسَ طَہُورٌ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی))۔ قَالَ قُلْتَ طَہُورٌ کَلاَّ بَلْ حُمَّی تَفُورُ ، أَوْ تَثُورُ عَلَی شَیْخٍ کَبِیرٍ تُزِیرُہُ الْقُبُورَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((فَنَعَمْ إِذًا))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُعَلَّی بْنِ أَسَدٍ۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৯৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مریض کو تسلی دینا مستحب ہے اور عبادت کرنے والے کا یہ کہنا :” لاباس طہور انشاء اللہ “
سابقہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے
(۶۵۹۶) وَرَوَاہُ أَبُو کَامِلٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ الْمُخْتَارِ فَزَادَ فِی الْحَدِیثِ فَقَالَ لَہُ : ((لاَ بَأْسَ طَہُورٌ إِنْ شَائَ اللَّہُ)) قَالَ فَقَالَ : طَہُورٌ کَلاَّ بَلْ ہِیَ حُمَّی تَفُورُ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فَذَکَرَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৯৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مسلم کا غیر مسلم کی عیادت کرنا اور اس امید سے اسلام پیش کرنا کہ وہ اسلام قبول کرلے
(٦٥٩٧) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک یہودی غلام بیمار ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی تیمار داری کی غرض سے آئے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے سر کے پاس بیٹھ گئے اور اسلام پیش کیا تو اس کے باپ نے کہا : ابو القاسم کی اطاعت کرلے تو وہ اسلام لے آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : شکر ہے اس اللہ کا جس نے میری وجہ سے اس کو آگ سے بچا لیا۔
(۶۵۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ غُلاَمًا مِنَ الْیَہُودِ کَانَ مَرِضَ فَأَتَاہُ النَّبِیُّ -ﷺ- یَعُودُہُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِہِ فَعَرَضَ عَلَیْہِ الإِسْلاَمَ فَقَالَ أَبُوہُ : أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ فَأَسْلَمَ فَقَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَہُوَ یَقُولُ : ((الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَنْقَذَہُ بِی مِنَ النَّارِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ ، وَثَابِتٌ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ عَادَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أُبِیٍّ وَقَبْلَ ذَلِکَ عَادَ أَبَا طَالِبٍ وَعَرَضَ عَلَیْہِ الإِسْلاَمَ۔ [صحیح۔ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ ، وَثَابِتٌ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ عَادَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أُبِیٍّ وَقَبْلَ ذَلِکَ عَادَ أَبَا طَالِبٍ وَعَرَضَ عَلَیْہِ الإِسْلاَمَ۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৯৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جب مرنے والے کی موت کا وقت قریب آئے تو کیا تلقین کرنا مستحب ہے
(٦٥٩٨) ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” اپنے مرنے والوں کو ” لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ “ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں کی تلقین کیا کرو۔
(۶۵۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ النَّصْرَآبَاذِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ غَزِیَّۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عُمَارَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ۔ [صحیح۔ المسلم]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ۔ [صحیح۔ المسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৯৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جب مرنے والے کی موت کا وقت قریب آئے تو کیا تلقین کرنا مستحب ہے
(٦٥٩٩) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے فوت ہونے والوں کو ” لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ “ کی تلقین کیا کرو۔
(۶۵۹۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ رَجَائِ بْنِ السِّنْدِیِّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ کَیْسَانَ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرٍ وَعُثْمَانَ ابْنَیْ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ ابو داؤد]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ رَجَائِ بْنِ السِّنْدِیِّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ کَیْسَانَ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرٍ وَعُثْمَانَ ابْنَیْ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬০০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کے پاس کیا پڑھنا مستحب ہے
(٦٦٠٠) معقل بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے اپنے فوت ہونے والوں کے پاس پڑھا کرو یعنی سورة یٰسین۔
(۶۶۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ غَیْرِ النَّہْدِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اقْرَئُ وہَا عِنْدَ مَوْتَاکُمْ)) یَعْنِی سُورَۃَ یس۔
ہَذَا حَدِیثُ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَلَیْسَ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ بِشْرَانَ عَنْ أَبِیہِ رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلاَئِ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ وَقَالَ عَنْ أَبِیہِ۔ [ضعیف۔ ابو داؤد]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ غَیْرِ النَّہْدِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اقْرَئُ وہَا عِنْدَ مَوْتَاکُمْ)) یَعْنِی سُورَۃَ یس۔
ہَذَا حَدِیثُ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَلَیْسَ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ بِشْرَانَ عَنْ أَبِیہِ رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلاَئِ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ وَقَالَ عَنْ أَبِیہِ۔ [ضعیف۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬০১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کے پاس کونسا کلام کرنا مستحب ہے
(٦٦٠١) حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میت کے پاس حاضر ہوا کرو تو اچھی بات کہا کرو کیونکہ جو کچھ تم کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں : جب ابو سلمہ (رض) فوت ہوئے تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں کیا کہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو کہہ اے اللہ اسے معاف کر دے اور اس کے بعد ہمیں اچھا ساتھ دے۔ وہ کہتی ہیں : پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بہتر ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دیا۔
(۶۶۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِیقٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَیِّتَ فَقُولُوا خَیْرًا فَإِنَّ الْمَلاَئِکَۃَ یُؤَمِّنُونَ عَلَی مَا تَقُولُونَ))۔ قَالَتْ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَۃَ قُلْتُ : کَیْفَ أَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ ((قُولِی : اللَّہُمَّ اغْفِرْ لَہُ وَاعْقِبْنَا مِنْہُ عُقْبَی صَالِحَۃً))۔ قَالَتْ فَأَعْقَبَنِی اللَّہُ خَیْرًا مِنْہُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-۔ [صحیح۔ المسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬০২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کے پاس کونسا کلام کرنا مستحب ہے
(٦٦٠٢) حضرت اعمش (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تم تب کہو جب مریض یا میت کے پاس حاضر ہو۔
(۶۶۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ خُشَیْشٍ الْمُقْرِئُ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُوإِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الأَزْدِیُّ ابْنُ أَبِی الْعَزَائِمِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُاللَّہِ أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ مِثْلَہُ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ أَبِی مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ وَقَالَ : ((إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِیضَ أَوِ الْمَیِّتَ))۔ [صحیح۔ المسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬০৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جن کپڑوں میں انسان فوت ہو ان کی پاکیزگی کا بیان
(٦٦٠٣) ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انھوں نے نیا لباس منگوا کر پہنا۔ پھر انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے کہ میت کو انھیں کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن میں وہ فوت ہوتا ہے۔
(۶۶۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْخُرَاسَانِیِّ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ : أَنَّہُ لَمَّا حَضَرَہُ الْمَوْتُ دَعَا بِثِیَابٍ جُدُدٍ فَلَبِسَہَا ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِنَّ الْمَیِّتَ یُبْعَثُ فِی ثِیَابِہِ الَّتِی یَمُوتُ فِیہَا))۔ [حسن۔ ابو داؤد]
তাহকীক: