আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الجنائز - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪০৫ টি
হাদীস নং: ৬৬০৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اس کا منہ قبلے کی طرف کرنا مستحب ہے
(٦٦٠٤) عبداللہ بن ابو قتادۃ (رض) اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مدینے آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے براء بن معرور کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ فوت ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے تہائی مال کی وصیت کی ہے اور یہ بھی وصیت کی کہ جب مجھے موت آئے تو میرے چہرے کو قبلے کی طرف کردیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے فطرت کو پایا ہے اور میں نے اس کا تہائی حصہ اس کی اولاد کو لوٹا دیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گئے ، اس کے لیے دعا کی اور فرمایا : ” اے اللہ ! اسے بخش دے اور اس پر رحمت کر اور اسے اپنی جنت میں داخل فرما جو تو نے کردیا ہے۔
(۶۶۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- حِینَ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ سَأَلَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ مَعْرُورٍ فَقَالُوا : تُوُفِّی وَأَوْصَی بِثُلُثِہِ لَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ، وَأَوْصَی أَنْ یُوَجَّہَ إِلَی الْقِبْلَۃِ لَمَّا احْتُضِرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَصَابَ الْفِطْرَۃَ وَقَدْ رَدَدْتُ ثُلُثَہُ عَلَی وَلَدِہِ ۔ ثُمَّ ذَہَبَ فَصَلَّی عَلَیْہِ وَقَالَ : اللَّہُمَّ اغْفِرْ لَہُ وَارْحَمْہُ وَأَدْخِلْہُ جَنَّتَکَ وَقَدْ فَعَلْتَ))۔
[ضعیف۔ أخرجہ الحاکم]
[ضعیف۔ أخرجہ الحاکم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬০৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اس کا منہ قبلے کی طرف کرنا مستحب ہے
(٦٦٠٥) عبد الرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک اس قصے میں بیان کرتے ہیں کہ براء بن معرور پہلے شخص ہیں، جنہوں نے زندہ بھی اور مردہ حالت میں بھی قبلے کی طرف رخ کیا۔
حسن کہتے ہیں : عمر (رض) نے کعبے کا ذکر کیا تو کہا : اللہ کی قسم ! یہ صرف پتھر ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے قبلے کیلئے نصب کیا ہے ہمارے زندوں کیلئے اور ہم مردوں کو بھی اسی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
حسن کہتے ہیں : عمر (رض) نے کعبے کا ذکر کیا تو کہا : اللہ کی قسم ! یہ صرف پتھر ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے قبلے کیلئے نصب کیا ہے ہمارے زندوں کیلئے اور ہم مردوں کو بھی اسی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
(۶۶۰۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ فِی قِصَّۃٍ ذَکَرَہَا قَالَ : وَکَانَ الْبَرَائُ بْنُ مَعْرُورٍ أَوَّلَ مَنِ اسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ حَیًّا وَمَیِّتًا۔ وَہُوَ مُرْسَلٌ جَیِّدٌ۔ (ت) وَیُذْکَرُ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : ذَکَرَ عُمَرُ الْکَعْبَۃَ فَقَالَ : وَاللَّہِ مَا ہِیَ إِلاَّ أَحْجَارٌ نَصَبَہَا اللَّہُ قِبْلَۃً لأَحْیَائِنَا وَنُوَجِّہُ إِلَیْہَا مَوْتَانَا۔
[صحیح۔ أخرجہ ابن السعد]
[صحیح۔ أخرجہ ابن السعد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬০৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جب انسان فوت ہوجائے تو اس کی آنکھوں کو بند کرنا مستحب ہے
(٦٦٠٦) حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابی سلمہ پر داخل ہوئے اور ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آنکھیں بند کردیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک جب روح قبض کرلی جاتی ہے تو نگاہیں اس کا پیچھا کرتی ہیں تو ان کے اہل کے لوگ چیخ پڑے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ دعا کرے اپنے نفسوں کیلئے مگر بھلائی کی۔ بیشک جو تم کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! ابو سلمہ کو معاف کر دے اور مہدیین میں اس کے درجات بلند فرما اور اس کا نائب پیچھے چھوڑے جانے والوں میں ۔ ہمیں بھی معاف کر دے اور اسے بھی ، اے رب العالمین ! اے اللہ ! اس کی قبر کو کشادہ کر دے اور اس کی قبر کو منور فرما دے۔
(۶۶۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الْفَزَارِیِّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ ذُؤَیْبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی أَبِی سَلَمَۃَ وَقَدْ شُقَّ بَصَرُہُ فَأَغْمَضَہُ ثُمَّ قَالَ : ((إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَہُ الْبَصَرُ))۔ فَصَیَّحَ نَاسٌ مِنْ أَہْلِہِ فَقَالَ : ((لاَ تَدْعُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ إِلاَّ بِخَیْرٍ فَإِنَّ الْمَلاَئِکَۃَ یُؤْمِنُونَ عَلَی مَا تَقُولُونَ))۔ ثُمَّ قَالَ : ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لأَبِی سَلَمَۃَ وَارْفَعْ دَرَجَتَہُ فِی الْمَہْدِیِینَ ، وَاخْلُفْہُ فِی عَقِبِہِ فِی الْغَابِرِینَ ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَہُ یَا رَبَّ الْعَالَمِینَ ، اللَّہُمَّ أَفْسِحْ لَہُ فِی قَبْرِہِ وَنَوِّرْ لَہُ فِیہِ))۔[صحیح۔ المسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬০৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جب انسان فوت ہوجائے تو اس کی آنکھوں کو بند کرنا مستحب ہے
(٦٦٠٧) محمد بن عبد الوھاب فرائ (رض) بیان کرتے ہیں : ہمیں معاویہ بن عمرو نے یہ حدیث بیان کی۔
(۶۶۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْفَرَّائُ أَخْبَرَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو فَذَکَرَہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَمْرٍو۔ [صحیح۔ المسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَمْرٍو۔ [صحیح۔ المسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬০৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جب انسان فوت ہوجائے تو اس کی آنکھوں کو بند کرنا مستحب ہے
(٦٦٠٨) ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم انسان کو نہیں دیکھتے کہ جب وہ فوت ہوتا ہے تو اس کی آنکھیں گڑ (کھلی رہ) جاتی ہیں۔ انھوں نے کہا : کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول ! ایسا ہی ہوتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تب ہوتا ہے جب نگاہیں روح کا پیچھا کرتی ہیں۔
(۶۶۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنِی أَبِی أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((أَلَمْ تَرَوُا إِلَی الإِنْسَانِ إِذَا مَاتَ شَخَصَ بَصَرُہُ؟))۔ قَالُوا : بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : ((فَذَلِکَ حِینَ یَتْبَعُ بَصَرُہُ نَفْسَہُ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔
وَرُوِیَ فِی الأَمْرِ بِالإِغْمَاضِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَفِیمَا ذَکَرْنَا کِفَایَۃٌ۔ [صحیح۔ المسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔
وَرُوِیَ فِی الأَمْرِ بِالإِغْمَاضِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَفِیمَا ذَکَرْنَا کِفَایَۃٌ۔ [صحیح۔ المسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬০৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جب انسان فوت ہوجائے تو اس کی آنکھوں کو بند کرنا مستحب ہے
(٦٦٠٩) بکر بن عبداللہ کہتے ہیں : جب تو میت کی آنکھیں بند کرے تو کہہ : بِسْمِ اللَّہِ وَعَلَی مِلَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ اور جب تو اسے اٹھائے تو کہہ : ” بِسْم اللَّہِ “ پھر تو جب تک اٹھائے رکھے تو ” سُبْحَانَ اللّٰہ “ کہتا رہ۔
(۶۶۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : إِذَا غَمَضْتَ الْمَیِّتَ فَقُلْ بِسْمِ اللَّہِ وَعَلَی مِلَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَإِذَا حَمَلْتَہُ فَقُلْ : بِسْم اللَّہِ ثُمَّ سَبِّحْ مَا دُمْتَ تَحْمِلُہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : إِذَا غَمَضْتَ الْمَیِّتَ فَقُلْ بِسْمِ اللَّہِ وَعَلَی مِلَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَإِذَا حَمَلْتَہُ فَقُلْ : بِسْم اللَّہِ ثُمَّ سَبِّحْ مَا دُمْتَ تَحْمِلُہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬১০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کے پیٹ پر کوئی چیز رکھنا پھر چار پائی پر ڈالنا تاکہ پیٹ میں ہوا نہ بھر جائے
(٦٦١٠) عبداللہ بن آدم کہتے ہیں : انس بن مالک (رض) کا غلام فوت ہوا شام کے وقت تو انس (رض) نے کہا : اس کے پیٹ پر لوہے کی کوئی چیز رکھو۔
شعبی بیان کرتے ہیں کہ ان سے ایک مرتبہ میت کے پیٹ پر تلوار رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے کہا : وہ اس ڈر سے رکھی جاتی ہے کہ وہ پھول نہ جائے۔
شعبی بیان کرتے ہیں کہ ان سے ایک مرتبہ میت کے پیٹ پر تلوار رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے کہا : وہ اس ڈر سے رکھی جاتی ہے کہ وہ پھول نہ جائے۔
(۶۶۱۰) أَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِجَازَۃً أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنِیبِ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْمَدَنِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ آدَمَ قَالَ : مَاتَ مَوْلًی لأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عِنْدَ مَغِیبِ الشَّمْسِ فَقَالَ أَنَسٌ : ضَعُوا عَلَی بَطْنِہِ حَدِیدَۃً۔
وَیُذْکَرُ عَنِ الشَّعْبِیِّ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ السَّیْفِ یُوضَعُ عَلَی بَطْنِ الْمَیِّتِ قَالَ : إِنَّمَا یُوضَعُ ذَلِکَ مَخَافَۃَ أَنْ یَنْتَفِخَ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَیَزْعُمُ بَعْضُ أَہْلِ التَّجْرِبَۃِ أَنَّہُ یُسْرِعُ انْتِفَاخُہُ عَلَی الْوِطَائِ ۔ [ضعیف]
وَیُذْکَرُ عَنِ الشَّعْبِیِّ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ السَّیْفِ یُوضَعُ عَلَی بَطْنِ الْمَیِّتِ قَالَ : إِنَّمَا یُوضَعُ ذَلِکَ مَخَافَۃَ أَنْ یَنْتَفِخَ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَیَزْعُمُ بَعْضُ أَہْلِ التَّجْرِبَۃِ أَنَّہُ یُسْرِعُ انْتِفَاخُہُ عَلَی الْوِطَائِ ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬১১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کے پیٹ پر کوئی چیز رکھنا پھر چار پائی پر ڈالنا تاکہ پیٹ میں ہوا نہ بھر جائے
(٦٦١١) عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب منگل کے دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تجہیز سے فراغت ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کے گھر میں چار پائی پر رکھا گیا۔
(۶۶۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی حُسَیْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا فُرِغَ مِنْ جِہَازِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ الثُّلاَثَائِ وُضِعَ عَلَی سَرِیرِہِ فِی بَیْتِہِ -ﷺ-۔ [ضعیف۔ ابن ماجہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬১২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کا ایسے کپڑے میں لپیٹنا مستحب ہے جس سے سارا جسم ڈھانپ دیا جائے
(٦٦١٢) ابو سلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ سیدہ عائشہ (رض) خبر دیتی ہیں کہ جب پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یمنی چادر میں لپیٹا گیا۔
(۶۶۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُومُحَمَّدٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ تُوُفِّیَ سُجِّیَ بِبُرْدٍ حِبَرَۃٍ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬১৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کا ایسے کپڑے میں لپیٹنا مستحب ہے جس سے سارا جسم ڈھانپ دیا جائے
(٦٦١٣) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یمنی چادر میں لپٹا گیا۔
(۶۶۱۳) وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- سُجِّیَ فِی ثَوْبٍ حِبَرَۃٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ المسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ المسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬১৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مردے کے معاملات میں اہل اسلام کے طریقے کی حفاظت کرنا
(٦٦١٤) امام شافعی (رح) ہمیں خبر دیتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ سعد بن ابی وقاص (رض) سے کہا گیا : کیا ہم آپ کیلئے لکڑی کا صندوق نہ بنوالیں تو انھوں نے کہا : میرے ساتھ بھی ایسا ہی کرو جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے کیا گیا، وہ یہ کہ مجھ پر مٹی کی اینٹیں نصب کرو ، پھر اوپر مٹی ڈال دو ۔
(۶۶۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ: بَلَغَنِی أَنَّہُ قِیلَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَلاَ نَتَّخِذُ لَکَ شَیْئًا کَأَنَّہُ الصُّنْدُوقُ مِنَ الْخَشَبِ فَقَالَ بَلِ اصْنَعُوا بِی مَا صَنَعْتُمْ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- انْصِبُوا عَلَیَّ اللَّبِنَ وَأَہِیلُوا عَلَیَّ التُّرَابَ۔
[ضعیف۔ أخرجہ الشافعی]
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ: بَلَغَنِی أَنَّہُ قِیلَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَلاَ نَتَّخِذُ لَکَ شَیْئًا کَأَنَّہُ الصُّنْدُوقُ مِنَ الْخَشَبِ فَقَالَ بَلِ اصْنَعُوا بِی مَا صَنَعْتُمْ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- انْصِبُوا عَلَیَّ اللَّبِنَ وَأَہِیلُوا عَلَیَّ التُّرَابَ۔
[ضعیف۔ أخرجہ الشافعی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬১৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مردے کے معاملات میں اہل اسلام کے طریقے کی حفاظت کرنا
(٦٦١٥) عامر بن سعد سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص نے اپنی اس بیماری میں کہا جس میں وہ فوت ہوگئے : میرے لیے لحد کھودنا ، پھر اس پر کچی اینٹیں کھڑی کردینا جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا گیا۔
(۶۶۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمِسْوَرِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِی وَقَّاصٍ قَالَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی ہَلَکَ فِیہِ : الْحَدُوا لِی لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَیَّ اللَّبِنَ نَصْبًا کَمَا صُنِعَ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ المسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ المسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬১৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ وہ معاملات جو جنازے میں واجب ہیں : غسل ‘ تکفین ‘ نماز جنازہ اور دفن وغیرہ اور وہ شخص اس کیلئے کھڑا ہو جوان کاموں کیلئے کافی ہو حضرت براء کہتے ہیں رسول اللہ نے ہمیں جنازوں کی اتباع کا حکم دیا۔
(٦٦١٦) حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے : مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں : سلام کا جواب دینا، مریض کی عیادت کرنا، جنازوں کی اتباع کرنا، دعوت کو قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا۔
(۶۶۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنِی الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ خَمْسٌ رَدُّ السَّلاَمِ ، وَعِیَادَۃُ الْمَرِیضِ ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ ، وَإِجَابَۃُ الدَّعْوَۃِ ، وَتَشْمِیتُ الْعَاطِسِ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَوْزَاعِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔
[صحیح۔ البخاری]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَوْزَاعِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔
[صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬১৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ وہ معاملات جو جنازے میں واجب ہیں : غسل ‘ تکفین ‘ نماز جنازہ اور دفن وغیرہ اور وہ شخص اس کیلئے کھڑا ہو جوان کاموں کیلئے کافی ہو حضرت براء کہتے ہیں رسول اللہ نے ہمیں جنازوں کی اتباع کا حکم دیا۔
(٦٦١٧) یعلیٰ بن مرۃ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کئی مرتبہ سفر کیا ۔ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی انسان کی میت کے پاس سے گزرے ہوں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دفن کا حکم نہ دیا ہو ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بھی نہیں پوچھتے تھے کہ یہ مسلم ہے یا کافر۔
(۶۶۱۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّبِّیُّ عَنْ عُمَرَ بْنِ یَعْلَی بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : سَافَرْتُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- غَیْرَ مَرَّۃٍ فَمَا رَأَیْتُہُ مَرَّ بِجِیفَۃِ إِنْسَانٍ إِلاَّ أَمَرَ بِدَفْنِہِ لاَ یَسْأَلُ أَمُسْلِمٌ ہُوَ أَمْ کَافِرٌ۔ [ضعیف جداً۔ أخرجہ الحاکم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬১৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ وہ معاملات جو جنازے میں واجب ہیں : غسل ‘ تکفین ‘ نماز جنازہ اور دفن وغیرہ اور وہ شخص اس کیلئے کھڑا ہو جوان کاموں کیلئے کافی ہو حضرت براء کہتے ہیں رسول اللہ نے ہمیں جنازوں کی اتباع کا حکم دیا۔
(٦٦١٨) عمر بن عبداللہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے یعلیٰ بن مرۃ سے سنا، وہ ایسی ہی حدیث بیان کرتے ہیں۔
(۶۶۱۸) وَقَالَ غَیْرُہُ عَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ بِإِسْنَادِہِ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ یَعْلَی بْنِ مُرَّۃَ الثَّقَفِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ یَعْلَی بْنَ مُرَّۃَ یَقُولُ فَذَکَرَہُ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِیُّ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْمَحَامِلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ شَبِیبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ فَذَکَرَہُ ۔ [ضعیف جداً۔ دار قطنی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬১৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ وہ معاملات جو جنازے میں واجب ہیں : غسل ‘ تکفین ‘ نماز جنازہ اور دفن وغیرہ اور وہ شخص اس کیلئے کھڑا ہو جوان کاموں کیلئے کافی ہو حضرت براء کہتے ہیں رسول اللہ نے ہمیں جنازوں کی اتباع کا حکم دیا۔
(٦٦١٩) عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ لوگ حج سے آ رہے تھے تو انھوں نے بیداء مقام پر مردہ عورت کو پایا۔ وہ گزرتے گئے اور کسی نے اس کی طرف سر اٹھا کر نہ دیکھا حتیٰ کہ ہوالیت میں سے کا ایک آدمی گزرا جسے کلیب مسکین کہا جاتا تھا ۔ اس نے اس پر کپڑا ڈال دیا۔ پھر انھوں نے مدد کیلئے پکارا جو اسے دفن کریں۔ عمر (رض) نے عبداللہ کو بلایا، یعنی اپنے بیٹے کو تو انھوں نے کہا : کیا تو اس مردہ عورت کے پاس سے گزرا ہے ؟ عبداللہ (رض) نے کہا : نہیں عمر (رض) نے اگر مجھے علم ہوگیا کہ تو وہاں سے گزرا ہے تو میں تجھے ضرور سزا دوں گا۔ پھر عمر (رض) لوگوں میں کھڑے ہوئے اور ان پر بہت ناراض ہوئے اور کہنے لگے : شاید کہ اللہ تعالیٰ اسی عمل کی وجہ سے کلیب کو جنت میں داخل کر دے۔ ایک مرتبہ کلیب مسجد کے پاس وضو کر رہے تھے کہ ان کے پاس ابو لؤلؤ آیا جو عمر (رض) کا قاتل تھا تو اس نے اس کا پیٹ پھاڑ دیا۔ نافع کہتے ہیں : ابو لؤ لؤ نے عمر (رض) کے ساتھ سترہ افراد کو قتل کیا۔
(۶۶۱۹) أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ زَکَرِیَّا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُہَلَّبِ حَدَّثَنَا ابْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا لَیْثٌ وَہُوَ ابْنُ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ : وَجَدَ النَّاسُ وَہُمْ صَادِرُونَ یَعْنِی مِنَ الْحَجِّ امْرَأَۃً مَیِّتَۃً بِالْبَیْدَائِ یَمُرُّونَ عَلَیْہَا وَلاَ یَرْفَعُونَ بِہَا رَأْسًا حَتَّی مَرَّ بِہَا رَجُلٌ مِنْ بَنِی لَیْثٍ یُقَالُ لَہُ کُلَیْبٌ مِسْکِینٌ فَأَلْقَی عَلَیْہَا ثَوْبَہُ ، ثُمَّ اسْتَعَانَ عَلَیْہَا مَنْ یَدْفِنُہَا فَدَعَا عُمَرُ عَبْدَ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَہُ فَقَالَ : ہَلْ مَرَرْتَ بِہَذِہِ الْمَرْأَۃِ الْمَیِّتَۃِ فَقَالَ : لاَ فَقَالَ عُمَرُ : لَوْ حَدَّثَتْنِی أَنَّکَ مَرَرْتَ بِہَا لَنَکَّلْتُ بِکَ ، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ بَیْنَ ظَہْرَانَیِ النَّاسِ فَتَغَیَّظَ عَلَیْہِمْ فِیہَا وَقَالَ : لَعَلَّ اللَّہَ أَنْ یُدْخِلَ کُلَیْبًا الْجَنَّۃَ بِفِعْلِہِ بِہَا فَبَیْنَمَا کُلَیْبٌ یَتَوَضَّأُ عِنْدَ الْمَسْجِدِ جَائَ ہُ أَبُو لُؤْلُؤَۃَ قَاتِلُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَبَقَرَ بَطْنَہُ۔
قَالَ نَافِعٌ : وَقَتَلَ أَبُو لُؤْلُؤَۃَ مَعَ عُمَرَ سَبْعَۃَ نَفَرٍ۔
وَرَوَاہُ أَیْضًا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ بِمَعْنَاہُ۔ [صحیح۔ ابن حبان]
قَالَ نَافِعٌ : وَقَتَلَ أَبُو لُؤْلُؤَۃَ مَعَ عُمَرَ سَبْعَۃَ نَفَرٍ۔
وَرَوَاہُ أَیْضًا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ بِمَعْنَاہُ۔ [صحیح۔ ابن حبان]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬২০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ تجہیز میں جلدی کرنا مستحب ہے جب اس کی موت واضح ہوجائے
(٦٦٢٠) حصین بن وحوح بیان کرتے ہیں کہ طلحہ بن براء بیمار ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی تیمار داری کیلئے آئے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نہیں دیکھتا طلحہ کو مگر یہ کہ اس پر موت ظاہر ہوچکی ہے۔ سو تم مجھے اس کی اطلاع کرنا تاکہ میں آ کر اس کی نماز جنازہ ادا کروں اور اس کیلئے جلدی کرنا کیونکہ کسی بھی مسلمان میت کیلئے جائز نہیں کہ اس کو اس کے اہل میں زیادہ دیر تک رکھا جائے۔
(۶۶۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحِیمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِیُّ أَبُو سُفْیَانَ وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَلَوِیُّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ حَصِینِ بْنِ وَحْوَحَ : أَنَّ طَلْحَۃَ بْنَ الْبَرَائِ مَرِضَ فَأَتَاہُ النَّبِیُّ -ﷺ- یَعُودُہ فَقَالَ: ((إِنِّی لاَ أَرَی طَلْحَۃَ إِلاَّ قَدْ حَدَثَ بِہِ الْمَوْتُ فَآذِنُونِی بِہِ حَتَّی أَشْہَدَہُ وَأُصَلِّی عَلَیْہِ ، وَعَجِّلُوہُ فَإِنَّہُ لاَ یَنْبَغِی لِجِیفَۃِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَیْنَ ظَہْرَانَیِ أَہْلِہِ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِاللَّہِ۔ وَکَذَا قَالَہُ عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ وَقِیلَ عُمَرُ بْنُ زُرَارَۃَ۔ وَرُوِیَ فِی الاِسْتِینَائِ بِالْغَرِیقِ حَدِیثٌ مَرْفُوعٌ لاَ یَثْبُتُ مِثْلُہُ۔ وَرُوِیَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ فِی الاِسْتِینَائِ بِالْمَصْعُوقِ۔ وَکَانَ الشَّافِعِیُّ یَسْتَحِبُّ ذَلِکَ حَتَّی یَتَبَیَّنَ مَوْتُہُ۔ [ضعیف۔ ابو داؤد]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحِیمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِیُّ أَبُو سُفْیَانَ وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَلَوِیُّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ حَصِینِ بْنِ وَحْوَحَ : أَنَّ طَلْحَۃَ بْنَ الْبَرَائِ مَرِضَ فَأَتَاہُ النَّبِیُّ -ﷺ- یَعُودُہ فَقَالَ: ((إِنِّی لاَ أَرَی طَلْحَۃَ إِلاَّ قَدْ حَدَثَ بِہِ الْمَوْتُ فَآذِنُونِی بِہِ حَتَّی أَشْہَدَہُ وَأُصَلِّی عَلَیْہِ ، وَعَجِّلُوہُ فَإِنَّہُ لاَ یَنْبَغِی لِجِیفَۃِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَیْنَ ظَہْرَانَیِ أَہْلِہِ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِاللَّہِ۔ وَکَذَا قَالَہُ عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ وَقِیلَ عُمَرُ بْنُ زُرَارَۃَ۔ وَرُوِیَ فِی الاِسْتِینَائِ بِالْغَرِیقِ حَدِیثٌ مَرْفُوعٌ لاَ یَثْبُتُ مِثْلُہُ۔ وَرُوِیَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ فِی الاِسْتِینَائِ بِالْمَصْعُوقِ۔ وَکَانَ الشَّافِعِیُّ یَسْتَحِبُّ ذَلِکَ حَتَّی یَتَبَیَّنَ مَوْتُہُ۔ [ضعیف۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬২১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو اس کی قمیض میں غسل دینا مستحب ہے
(٦٦٢١) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غسل کا ارادہ کیا گیا تو قوم نے اختلاف کیا ۔ کچھ نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لباس کو اتارا جائے جیسے ہم اپنے فوت ہونے والوں کا لباس اتارتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اونگھ نازل کردی یہاں تک کہ ان میں سے کوئی بھی نہیں تھا مگر نیند کی وجہ سے اس کی ٹھوڑی اس کی چھاتی کے ساتھ لگی ہوئی تھی اور گھر کے کونے میں سے ایک کہنے والے نے کہا : ” اور وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا ہے “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غسل دو اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کپڑے آپ کے جسدا طہر پر ہوں۔ پھر انھوں نے آپ کو غسل دیا اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قمیض آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جسم پر تھی اور اس پر وہ پانی ڈال رہے تھے ۔ اوپر سے ہی مل رہے تھے ۔ عائشہ (رض) کہتی ہیں : اللہ کی قسم ! اگر میں کسی آدمی کو اپنی طرف آتے ہوئے پاتی تو میں پیچھے نہ ہٹتی اور نہیں غسل دیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج نے ہی۔
(۶۶۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ عَبَّادٍ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : لَمَّا أَرَادُوا غُسْلَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- اخْتَلَفَ الْقَوْمُ فِیہِ فَقَالَ بَعْضُہُمْ : أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ ثِیَابِہِ کَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا أَوْ نَغْسِلُہُ وَعَلَیْہِ ثِیَابُہُ فَأَلْقَی اللَّہُ عَلَیْہِمُ السِّنَۃَ حَتَّی مَا مِنْہُمْ رَجُلٌ إِلاَّ نَائِمٌ ذَقْنُہُ عَلَی صَدْرِہِ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْ نَاحِیَۃِ الْبَیْتِ مَا یَدْرُونَ مَا ہُوَ اغْسِلُوا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَعَلَیْہِ ثِیَابُہُ فَغَسَلُوہُ وَعَلَیْہِ قَمِیصُہُ یَصُبُّونَ الْمَائَ عَلَیْہِ وَیَدْلُکُونَہُ مِنْ فَوْقِہِ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : وَایْمُ اللَّہِ لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِلاَّ نِسَاؤُہُ۔ [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬২২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو اس کی قمیض میں غسل دینا مستحب ہے
(٦٦٢٢) عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے سنا، وہ کہتی تھیں اور وہ پوری حدیث کو بیان کیا سوائے اس کے کہ انھوں نے کہا کہ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غسل دیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قمیض تھی۔ وہ قمیض کے اوپر سے پانی بہا رہے تھے اور قمیض کے ساتھ ہی جسم کو مل رہے تھے بغیر ہاتھوں کے۔
(۶۶۲۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا النُّفَیْلِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ عَبَّادٍ عَنْ أَبِیہِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَقُولُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : فَغَسَلُوہُ وَعَلَیْہِ قَمِیصٌ یَصُبُّونَ الْمَائَ فَوْقَ الْقَمِیصِ وَیَدْلُکُونَہُ بِالْقَمِیصِ دُونَ أَیْدِیہِمْ۔ [حسن۔ أبو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬২৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو اس کی قمیض میں غسل دینا مستحب ہے
(٦٦٢٣) ابن بریدہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غسل کا معاملہ پیش آیا تو ان کو اندر ہی سے ایک آواز دینے والے نے آواز دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قمیض نہ اتارو۔
(۶۶۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالُوَیْہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو بُرْدَۃَ یَعْنِی بُرَیْدَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : لَمَّا أَخَذُوا فِی غُسْلِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- نَادَاہُمْ مُنَادٍ مِنَ الدَّاخِلِ : لاَ تَنْزِعُوا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَمِیصًا۔ ابْنُ بُرَیْدَۃَ ہَذَا ہُوَ سُلَیْمَانُ بْنُ بُرَیْدَۃَ قَدْ سَمَّاہُ غَیْرُہُ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [حسن لغیرہٖ۔ ابن ماجہ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالُوَیْہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو بُرْدَۃَ یَعْنِی بُرَیْدَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : لَمَّا أَخَذُوا فِی غُسْلِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- نَادَاہُمْ مُنَادٍ مِنَ الدَّاخِلِ : لاَ تَنْزِعُوا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَمِیصًا۔ ابْنُ بُرَیْدَۃَ ہَذَا ہُوَ سُلَیْمَانُ بْنُ بُرَیْدَۃَ قَدْ سَمَّاہُ غَیْرُہُ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [حسن لغیرہٖ۔ ابن ماجہ]
তাহকীক: