আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الجنائز - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪০৫ টি
হাদীস নং: ৬৬২৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کی شرمگاہ کو دیکھنا اور بغیر کپڑے کے ہاتھ لگانا منع ہے
(٦٦٢٤) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تو اپنی ران کو ننگا نہ کر اور نہ دیکھ تو زندہ یا مردہ کی ران کو۔
(۶۶۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا الْقَوَارِیرِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ أَبُو خَالِدٍ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی حَبِیبُ بْنُ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ تُبْرِزْ فَخِذَکَ وَلاَ تَنْظُرُ إِلَی فَخِذِ حَیٍّ وَلاَ مَیِّتٍ))۔ [حسن۔ أبو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬২৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کی شرمگاہ کو دیکھنا اور بغیر کپڑے کے ہاتھ لگانا منع ہے
(٦٦٢٥) عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ علی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غسل دیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قمیض تھی اور علی (رض) کے ہاتھ میں کپڑے کا ٹکڑا تھا جس کے ساتھ کپڑے کے نیچے سے صفائی کر رہے تھے۔
(۶۶۲۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ غَسَّلَ النَّبِیَّ -ﷺ- وَعَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- قَمِیصٌ وَبِیدِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خِرْقَۃٌ یَتَّبِعُ بِہَا تَحْتَ الْقَمِیصِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن ابی شیبہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬২৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کے پیٹ کو دبایا جائے، اگر کوئی گندگی وغیرہ ہو تو اس کو صاف کردیا جائے
(٦٦٢٦) حضرت علی (رض) بن ابی طالب کہتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غسل دیا۔ میں نے چاہا کہ جو عام میت کے ساتھ گندگی وغیرہ ہوتی ہے وہ دیکھوں تو میں نے کچھ بھی نہ پایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زندہ بھی پاکیزہ تھے فوت ہونے کے بعد بھی پاکیزہ تھے اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دفن اور قبر کا والی بنا اور میرے علاوہ چار آدمی تھے : علی ‘ عباس ‘ فضل اور صالح جو رسول اللہ کا غلام تھا اور رسول اللہ کے لیے لحد تیار کی گئی اور اینٹیں نصب کی گئیں۔
(۶۶۲۶) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ قَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: غَسَلْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَہَبْتُ أَنْظُرُ مَا یَکُونُ مِنَ الْمَیِّتِ فَلَمْ أَرَ شَیْئًا وَکَانَ طَیِّبًا -ﷺ- حَیًّا وَمَیِّتًا وَوَلِیَ دَفْنَہُ وَإِجْنَانَہُ دُونَ النَّاسِ أَرْبَعَۃٌ عَلِیٌّ وَالْعَبَّاسُ وَالْفَضْلُ وَصَالِحٌ مَوْلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَلُحِدَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لَحْدًا وَنُصِبَ عَلَیْہِ اللَّبِنُ نَصَبًا ۔ [صحیح۔ أخرجہ البزاز]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬২৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کے پیٹ کو دبایا جائے، اگر کوئی گندگی وغیرہ ہو تو اس کو صاف کردیا جائے
(٦٦٢٧) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غسل دیا اور وہ کچھ دیکھنے لگا جو عام میت کے ساتھ ہوتی ہے تو میں نے کچھ بھی نہ پایا، کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زندہ اور فوت ہونے کے بعد بھی پاکیزہ تھے۔
(۶۶۲۷) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ نَصْرٍ الدَّارِمِیُّ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ دَیْزِیلَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : غَسَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ مَا یَکُونُ مِنَ الْمَیِّتِ فَلَمْ أَرَ شَیْئًا وَکَانَ طَیِّبًا حَیًّا وَمَیِّتًا -ﷺ-۔ [صحیح۔ أخرجہ البزاز]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬২৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کے پیٹ کو دبایا جائے، اگر کوئی گندگی وغیرہ ہو تو اس کو صاف کردیا جائے
(٦٦٢٨) ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے میت کو غسل دیا اسے چاہیے کہ وہ ابتدا پیٹ نچوڑے سے کرے۔
(۶۶۲۸) وَأَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ إِجَازَۃً أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ : یُوسُفُ بْنُ عَطِیَّۃَ حَدَّثَنَا جُنَیْدٌ أَبُو حَازِمٍ التَّیْمِیُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ بَشِیرٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا فَلْیَبْدَأْ بِعَصْرِہِ))۔
ہَذَا مُرْسَلٌ وَرَاوِیہِ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف جداً۔ ابن حبان]
ہَذَا مُرْسَلٌ وَرَاوِیہِ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف جداً۔ ابن حبان]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬২৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو وضو کروانے کا بیان
(٦٦٢٩) ام عطیہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا : اپنی بیٹی کے غسل کے وقت اس کی دائیں جانب سے آغاز کرنا اور وضو کے اعضا سے۔
(۶۶۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرُو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَذَّائُ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ الْحُسَیْنِ بْنِ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ حَفْصَۃَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لَہُنَّ فِی غُسْلِ ابْنَتِہِ : ((ابْدَأْنَ بِمَیَامِنِہَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوئِ مِنْہَا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔[صحیح۔ البخاری]
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ حَفْصَۃَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لَہُنَّ فِی غُسْلِ ابْنَتِہِ : ((ابْدَأْنَ بِمَیَامِنِہَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوئِ مِنْہَا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔[صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৩০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ غسل میں دائیں جانب سے آغاز کرنا
(٦٦٣٠) ام عطیہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہاں بیٹی کو غسل دلانے کا حکم دیا وہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا : اس کا آغاز کرنا دائیں جانب سے اور اعضا وضو سے کرنا۔
(۶۶۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیرِینَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حَیْثُ أَمَرَہَا أَنْ تُغَسِّلَ ابْنَتَہُ قَالَ لَہَا : ((ابْدَئِی بِمَیَامِنِہَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوئِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ البخاری]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৩১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو کس کے ساتھ غسل دیا جائے اور غسل میں تکرار کرنا سنت ہے
(٦٦٣١) ام عطیہ انصاریہ (رض) سے روایت ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی فوت ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس آئے اور فرمایا : تین تین یا پانچ پانچ مرتبہ غسل دینا یا اس سے زیادہ اگر تم اس کی ضرورت محسوس کرو اور غسل دو پانی اور بیری کے پتوں سے اور آخر میں کافور لگانا یا کافور جیسی کوئی اور چیز اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے آگاہ کرنا۔ وہ کہتی ہیں : جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ” حقوۃ “ دی اور فرمایا : اس کی مینڈھیاں بھی کرنا۔ حقوۃ سے مراد چادر ہے۔
(۶۶۳۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ الأَنْصَارِیَّۃِ أَنَّہَا قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ تُوُفِّیَتِ ابْنَتُہُ فَقَالَ : ((اغْسِلْنَہَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ إِنْ رَأَیْتُنَّ ذَلِکَ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِی الآخِرَۃِ کَافُورًا أَوْ شَیْئًا مِنْ کَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِی))۔ قَالَتْ : فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاہُ فَأَعْطَانَا حِقْوَہُ فَقَالَ : ((أَشْعِرْنَہَا إِیَّاہُ))۔ تَعْنِی الإِزَارَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ کِلاَہُمَا عَنْ مَالِکٍ۔[صحیح۔ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ کِلاَہُمَا عَنْ مَالِکٍ۔[صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৩২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو کس کے ساتھ غسل دیا جائے اور غسل میں تکرار کرنا سنت ہے
(٦٦٣٢) ام عطیہ انصاریہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک بیٹی فوت ہوگئی۔ سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس آئے اور فرمایا : اسے غسل دینا پانی اور بیری کے ساتھ اور غسل دینا طاق عدد تین یا پانچ مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ۔ اگر تم اس کی ضرورت محسوس کرو اور اس کے آخر میں کا فور یا کافور جیسے کوئی اور چیز لگانا اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتانا ۔ وہ کہتی ہیں : جب ہم فارغ ہوگئیں تو ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک چادر دی اور فرمایا : اس کی میڈھیاں بھی کرنا۔ ام عطیہ (رض) کہتی ہیں : ہم نے ان کے سر کی تین مینڈھیاں کیں۔ پھر ان کو دو کو سامنے اور ایک کو پیچھے ڈال دیا۔
(۶۶۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیرِینَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ الأَنْصَارِیَّۃِ أَنَّہَا قَالَتْ : تُوُفِّیَتْ إِحْدَی بَنَاتِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَتَانَا فَقَالَ : ((اغْسِلْنَہَا بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَاغْسِلْنَہَا وِتْرًا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ إِنْ رَأَیْتُنَّ ذَلِکَ ، وَاجْعَلْنَ فِی الآخِرَۃِ کَافُورًا أَوْ شَیْئًا مِنْ کَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِی))۔ قَالَتْ : فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاہُ فَأَلْقَی إِلَیْنَا حِقْوَہُ فَقَالَ : أَشْعِرْنَہَا إِیَّاہُ ۔ فَقَالَتْ أُمُّ عَطِیَّۃَ : فَضَفَرْنَا رَأْسَہَا ثَلاَثَۃَ قُرُونٍ ، ثُمَّ أَلْقَیْنَا خَلْفَہَا مَقْدِمَتِہَا وَقَرْنَیْہَا ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ وَیَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالاَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ یَحْیَی وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ یَزِیدَ۔[صحیح۔ البخاری]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ وَیَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالاَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ یَحْیَی وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ یَزِیدَ۔[صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৩৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو کس کے ساتھ غسل دیا جائے اور غسل میں تکرار کرنا سنت ہے
(٦٦٣٣) ام عطیہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک بیٹی فوت ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دینا یا اس سے زیادہ مرتبہ بھی اگر ضرورت محسوس ہو۔ پانی اور بیری سے غسل دینا اور آخر میں کافور لگانا یا کافور جیسی کوئی چیز اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا۔ سو جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آگاہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک چادر دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزید فرمایا کہ اس کے مینڈھیاں بھی کرنا اور یہ بھی فرمایا : تین ، پانچ یا سات مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ اگر ضرورت محسوس ہو۔ وہ کہتی ہیں اور ہم نے اس کے سر کی چار مینڈھیاں کیں۔
(۶۶۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَحَفْصَۃَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ : تُوُفِّیَتْ إِحْدَی بَنَاتِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((اغْسِلْنَہَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ إِنْ رَأَیْتُنَّہُ بِمَائٍ وَسِدْرٍ ، وَاجْعَلْنَ فِی الآخِرَۃِ کَافُورًا أَوْ شَیْئًا مِنْ کَافِورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِی))۔ فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاہُ فَأَلْقَی إِلَیْنَا حِقْوَہُ وَقَالَ : ((أَشْعِرْنَہَا إِیَّاہُ))۔ وَقَالَ أَیُّوبُ عَنْ حَفْصَۃَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ : ((ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ إِنْ رَأَیْتُنَّہُ))۔ قَالَتْ : وَجَعَلْنَا رَأْسَہَا ثَلاَثَۃَ قُرُونٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ حَمَّادٍ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ۔
[صحیح۔ المسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ حَمَّادٍ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ۔
[صحیح۔ المسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৩৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو کس کے ساتھ غسل دیا جائے اور غسل میں تکرار کرنا سنت ہے
(٦٦٣٤) محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : انھوں نے غسل کا طریقہ ام عطیہ (رض) سے لیا۔ وہ غسل دیتیں بیری کے ساتھ دو مرتبہ اور تیسری مرتبہ پانی اور کا فور کے ساتھ اور عبداللہ بن عمرو سے بیان کیا گیا کہ اس کے باپ نے وصیت کی کہ اے میرے بیٹے ! جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے ایک مرتبہ پانی سے غسل دینا۔ عطاء کہتے ہیں : مجھ کو ایک مرتبہ غسل دینا کافی ہے۔ عمر بن عبد العزیز کہتے ہیں اس میں کوئی چیز مقرر نہیں اور ابراہیم کہتے ہیں : جب بیری وغیرہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں اور اصحاب عبداللہ کہتے تھے کہ میت کو ایک ایک مرتبہ غسل دیا جائے اور ایک ہی کفن اور ایک ہی مرتبہ استنجاء کروانا ہے۔
(۶۶۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : أَنَّہُ کَانَ یَأْخُذُ الْغُسْلَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ یَغْسِلُ بِالسِّدْرِ مَرَّتَیْنِ وَالثَّالِثَۃَ بِالْمَائِ وَالْکَافُورِ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ أَبَاہُ أَوْصَاہُ فَقَالَ : یَا بُنَیَّ إِذَا مِتُّ فَاغْسِلْنِی بِالْمَائِ غَسْلَۃً۔
وَعَنْ عَطَائٍ قَالَ : یَجْزِی فِی غُسْلِ الْمَیِّتِ مَرَّۃٌ۔
وَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : لَیْسَ فِیہِ شَیْء ٌ مَؤَقَّتٌ ۔ وَعَنْ إِبْرَاہِیمَ : إِذَا لَمْ یَجِدْ سِدْرًا قَالَ لاَ یَضُرَّہُ۔
وَکَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُونَ : الْمَیِّتُ یُغَسَّلُ وِتْرًا وَیُکَفَّنُ وِتْرًا وَیُجَمَّرُ وِتْرًا۔ [صحیح۔ ابو داؤد]
وَعَنْ عَطَائٍ قَالَ : یَجْزِی فِی غُسْلِ الْمَیِّتِ مَرَّۃٌ۔
وَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : لَیْسَ فِیہِ شَیْء ٌ مَؤَقَّتٌ ۔ وَعَنْ إِبْرَاہِیمَ : إِذَا لَمْ یَجِدْ سِدْرًا قَالَ لاَ یَضُرَّہُ۔
وَکَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُونَ : الْمَیِّتُ یُغَسَّلُ وِتْرًا وَیُکَفَّنُ وِتْرًا وَیُجَمَّرُ وِتْرًا۔ [صحیح۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৩৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو کس کے ساتھ غسل دیا جائے اور غسل میں تکرار کرنا سنت ہے
(٦٦٣٥) ابراہیم اصحاب عبداللہ سے بیان کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میت کو طاق عدد میں غسل دیا جائے اور طاق ہی کفن دیا جائے اور طاق ہی میڈھیاں کی جائیں۔
(۶۶۳۵) أَخْبَرَنَاہُ الشَّرِیفُ الإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَیْحِیُّ أَخْبَرَنَا الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَنْبَأَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّہِ قَالُوا : الْمَیِّتُ یُغَسَّلُ وِتْرًا ، وَیُکَفَّنُ وِتْرًا ، وَیُجَمَّرُ وِتْرًا۔ [حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৩৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مریض کے ناخن اور زیر ناف بالوں کا صاف کرنا
(٦٦٣٦) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ بنو حارث بن نوفل نے خبیب (رض) کو خریدا اور خبیب (رض) نے حارث بن نوفل کو غزوہ بدر میں قتل کیا تھا تو خبیب (رض) ان کے پاس قیدی کی حیثیت سے ٹھہرے ہوئے تھے اور انھوں نے ان کے قتل کا پروگرام بنایا تو خبیب (رض) نے حارث کی بیٹی سے عاریۃ (ادھار) استرا طلب کیا تاکہ وہ زیر ناف بالوں کی صفائی کرلیں تو اس نے استرا دے دیا اور اس کی بچی چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور وہ اس سے بےخبر تھی ۔ جب اس نے دیکھا تو بچی خبیب (رض) کے ران پر بیٹھی ہوئی تھی اور استرا خبیب (رض) کے ہاتھ میں تھا تو وہ گھبرا گئی اور انھوں نے اس کی گھبراہٹ کو دیکھا اور کہا : تیرا خیال ہے کہ میں اسے قتل کر دوں گا مگر میں ایسا کرنے والا نہیں ہوں۔
امام بخاری نے موسیٰ بن اسماعیل سے بیان کیا ہے۔ اگر اس نے فوت ہونے تک نہیں کاٹے ۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ ہمارے بعض احباب نے موت کے بعد بال کاٹنے اور ناخن تراشنے کو درست نہیں جانا اور ان میں سے بعض نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا ۔ شیخ نے بیان کیا کہ حسن اور ابن سیرین کہتے ہیں ناخن یا بال نہیں کاٹے جائیں گے۔ بیان کیا گیا ہے کہ سعد بن ابی وقاص نے میت کو غسل دیا اور استرا منگوایا اور زیر ناف بال مونڈے ۔ سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ کیا تم میت کی صفائی نہیں کرو گے یعنی اس کے بال نہیں کاٹو گے ۔ گویا وہ اسے ناپسند کرتی تھیں جبکہ اس کنگھی کی جاسکے۔
امام بخاری نے موسیٰ بن اسماعیل سے بیان کیا ہے۔ اگر اس نے فوت ہونے تک نہیں کاٹے ۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ ہمارے بعض احباب نے موت کے بعد بال کاٹنے اور ناخن تراشنے کو درست نہیں جانا اور ان میں سے بعض نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا ۔ شیخ نے بیان کیا کہ حسن اور ابن سیرین کہتے ہیں ناخن یا بال نہیں کاٹے جائیں گے۔ بیان کیا گیا ہے کہ سعد بن ابی وقاص نے میت کو غسل دیا اور استرا منگوایا اور زیر ناف بال مونڈے ۔ سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ کیا تم میت کی صفائی نہیں کرو گے یعنی اس کے بال نہیں کاٹو گے ۔ گویا وہ اسے ناپسند کرتی تھیں جبکہ اس کنگھی کی جاسکے۔
(۶۶۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ جَارِیَۃَ الثَّقَفِیُّ حَلِیفُ بَنِی زُہْرَۃَ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : ابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنُ عَامِرِ بْنِ نَوْفِلٍ خُبَیْبًا ، وَکَانَ خُبَیْبٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ہُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ یَوْمَ بَدْرٍ فَلَبِثَ خُبَیْبٌ عِنْدَہُمْ أَسِیرًا حَتَّی أَجْمَعُوا لِقَتْلِہِ ، فَاسْتَعَارَ مِنَ ابْنَۃِ الْحَارِثِ مُوسَی یَسْتَحِدُّ بِہَا فَأَعَارَتْہُ ، فَدَرَجَ بُنَیٌّ لَہَا وَہِیَ غَافِلَۃٌ حَتَّی أَتَتْہُ فَوَجَدَتْہُ مُخْلِیًا وَہُوَ عَلَی فَخِذِہِ وَالْمُوسَی بِیَدِہِ ، فَفَزِعَتْ فَزْعَۃً عَرَفَہَا فَقَالَ : أَتَحْسَبِینَ أَنِّی أَقْتُلُہُ مَا کُنْتُ لأَفْعَلَ ذَلِکَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ فَإِنْ لَمْ یَأْخُذْہُ حَتَّی تُوُفِّیَ فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی : مِنْ أَصْحَابِنَا مَنْ قَالَ لاَ أَرَی أَنْ یُحْلَقَ عَنْہُ بَعْدَ الْمَوْتِ شَعَرٌ وَلاَ یُجَزَّ ظُفُرٌ ، وَمِنْہُمْ مَنْ لَمْ یَرَ بِذَلِکَ بَأْسًا۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَرَوَی عَنِ الْحَسَنِ وَابْنِ سِیرِینَ أَنَّہُمَا قَالاَ : لاَ یُجَزُّ لَہُ شَعَرٌ ، وَلاَ یُقَلَّمُ لَہُ ظُفُرٌ۔ وَرُوِیَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ أَنَّہُ غَسَّلَ مَیِّتًا فَدَعَا بِمُوسَی ، وَفِی رِوَایَۃٍ أَنَّہُ جَزَّ عَانَۃَ مَیِّتٍ ، وَرُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : عَلاَمَ تَنْصُونَ مَیِّتَکُمْ أَیْ تُسَرِّحُونَ شَعْرَہُ وَکَأَنَّہَا کَرِہَتْ ذَلِکَ إِذَا سَرَّحَہُ بِمِشْطٍ ضَیِّقَۃِ الأَسْنَانِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ فَإِنْ لَمْ یَأْخُذْہُ حَتَّی تُوُفِّیَ فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی : مِنْ أَصْحَابِنَا مَنْ قَالَ لاَ أَرَی أَنْ یُحْلَقَ عَنْہُ بَعْدَ الْمَوْتِ شَعَرٌ وَلاَ یُجَزَّ ظُفُرٌ ، وَمِنْہُمْ مَنْ لَمْ یَرَ بِذَلِکَ بَأْسًا۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَرَوَی عَنِ الْحَسَنِ وَابْنِ سِیرِینَ أَنَّہُمَا قَالاَ : لاَ یُجَزُّ لَہُ شَعَرٌ ، وَلاَ یُقَلَّمُ لَہُ ظُفُرٌ۔ وَرُوِیَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ أَنَّہُ غَسَّلَ مَیِّتًا فَدَعَا بِمُوسَی ، وَفِی رِوَایَۃٍ أَنَّہُ جَزَّ عَانَۃَ مَیِّتٍ ، وَرُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : عَلاَمَ تَنْصُونَ مَیِّتَکُمْ أَیْ تُسَرِّحُونَ شَعْرَہُ وَکَأَنَّہَا کَرِہَتْ ذَلِکَ إِذَا سَرَّحَہُ بِمِشْطٍ ضَیِّقَۃِ الأَسْنَانِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৩৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ محرم اگر فوت ہوجائے
(٦٦٣٧) عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے اور ایک آدمی اپنے اونٹ سے گرپڑا، اس حال میں کہ وہ محرم تھا۔ اس کی گردن مروڑی گئی جس سے وہ فوت ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے پانی اور بیری سے غسل دو اور دو کپڑوں میں کفن دے دو اور اس کا سر نہ ڈھانپو ۔ بیشک اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اٹھائے گا اور وہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھے گا۔
(۶۶۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَخَرَّ رَجُلٌ عَنْ بَعِیرِہِ وَہُوَ مُحْرِمٌ فَوُقِصَ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اغْسِلُوہُ بِمَائٍ وَسِدْرٍ، وَکَفِّنُوہُ فِی ثَوْبَیْہِ، وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَہُ فَإِنَّ اللَّہَ یَبْعَثُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُہِلُّ وَیُلَبِّی))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ سُفْیَانَ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ وَالثَّوْرِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ ثَوْبَیْہِ۔ [صحیح۔ البخاری]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ سُفْیَانَ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ وَالثَّوْرِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ ثَوْبَیْہِ۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৩৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ محرم اگر فوت ہوجائے
(٦٦٣٨) سعید بن جبیر ابن عباس سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی احرام کی حالت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا۔ وہ اونٹ سے گرگیا اور گردن مڑ جانے سے فوت ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے پانی اور بیری سے غسل دو اور دو کپڑے پہناؤ اور اس کے سر کو نہ ڈھانپنا ۔ بیشک وہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا ہوا آئے گا۔
(۶۶۳۸) أَمَّا حَدِیثُ ابْنِ جُرَیْجٍ فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُہَیْرٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ خَشْرَمٍ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَخَرَّ مِنْ بَعِیرِہِ فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اغْسِلُوہُ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَأَلْبِسُوہُ ثَوْبَیْہِ ، وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَہُ فَإِنَّہُ یَأْتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُلَبِّی))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ خَشْرَمٍ۔ [صحیح۔ البخاری]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ خَشْرَمٍ۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৩৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ محرم اگر فوت ہوجائے
(٦٦٣٩) عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جسے اس کی سواری نے گرا دیا تھا۔ وہ فوت ہوگیا اس حال میں کہ محرم تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے دو کپڑوں میں کفن دو اور اسے غسل دو پانی اور بیری سے اور اس کے سر کو نہ ڈھانپنا۔ بیشک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اٹھائیں گے اور وہ تلبیہ کہتا ہوا آئے گا۔
(۶۶۳۹) وَأَمَّا حَدِیثُ الثَّوْرِیِّ فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِرَجُلٍ وَقَصَتْہُ رَاحِلَتُہُ فَمَاتَ وَہُوَ مُحْرِمٌ قَالَ : ((کَفِّنُوہُ فِی ثَوْبَیْہِ وَاغْسِلُوہُ بِمَائٍ وَسِدْرٍ ، وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَہُ فَإِنَّ اللَّہَ یَبْعَثُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُلَبِّی))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ۔ [صحیح۔ المسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ۔ [صحیح۔ المسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৪০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ محرم اگر فوت ہوجائے
(٦٦٤٠) وکیع سفیان سے ایسی ہی حدیث بیان کرتے ہیں مگر انھوں نے یہ کہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے چہرے اور سر کو نہ ڈھانپنا۔ بیشک وہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھایا جائے گا۔
(۶۶۴۰) عَنْ وَکِیعٍ عَنْ سُفْیَانَ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: ((وَلاَ تُخَمِّرُوا وَجْہَہُ، وَلاَ رَأْسَہُ فَإِنَّہُ یُبْعَثُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُلَبِّیًا))۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی أَخْبَرَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ فَذَکَرَ مَعْنَاہُ بِزِیَادَتِہِ۔
وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ وَکِیعٍ نَحْوَ رِوَایَۃِ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ سُفْیَانَ لَیْسَ فِیہِ ذِکْرُ الْوَجْہِ
وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ فَشَکَّ فِی ثَوْبَیْنِ أَوْ ثَوْبَیْہِ وَلَمْ یَذْکُرْ وَجْہَہُ وَزَادَ وَلاَ تُحَنِّطُوہُ۔
[صحیح۔ المسلم]
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی أَخْبَرَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ فَذَکَرَ مَعْنَاہُ بِزِیَادَتِہِ۔
وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ وَکِیعٍ نَحْوَ رِوَایَۃِ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ سُفْیَانَ لَیْسَ فِیہِ ذِکْرُ الْوَجْہِ
وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ فَشَکَّ فِی ثَوْبَیْنِ أَوْ ثَوْبَیْہِ وَلَمْ یَذْکُرْ وَجْہَہُ وَزَادَ وَلاَ تُحَنِّطُوہُ۔
[صحیح۔ المسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৪১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ محرم اگر فوت ہوجائے
(٦٦٤١) عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ عرفات میں ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اپنی اونٹنی پر تھا تو اس نے اسے گرا دیا وہ مرگیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے پانی اور بیری سے غسل دو اور دو کپڑوں میں کفن دو یا فرمایا : اس کے دونوں کپڑوں میں خوشبو نہ لگانا اور اس کے سر کو نہ ڈھانپنا۔ بیشک اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اٹھائے گا اور وہ تلبیہ کہہ رہا ہوگا۔
(۶۶۴۱) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلاً کَانَ وَاقِفًا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- عَلَی نَاقَۃٍ لَہُ بِعَرَفَۃَ فَوَقَصَتْہُ أَوْ قَالَ أَقْصَعَتْہُ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اغْسِلُوہُ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَکَفِّنُوہُ فِی ثَوْبَیْنِ أَوْ قَالَ فِی ثَوْبَیْہِ وَلاَ تُحَنِّطُوہُ، وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَہُ فَإِنَّ اللَّہَ یَبْعَثُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُلَبِّی))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَرَوَاہُ حَمَّادٌ عَنْ أَیُّوبَ وَعَمْرٍو وَقَالَ ثَوْبَیْنِ۔
[صحیح۔ بخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَرَوَاہُ حَمَّادٌ عَنْ أَیُّوبَ وَعَمْرٍو وَقَالَ ثَوْبَیْنِ۔
[صحیح۔ بخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৪২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ محرم اگر فوت ہوجائے
(٦٦٤٢) ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی عرفات میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑا تھا۔ اچانک وہ اپنی سواری سے گرپڑا تو اس بات کا تذکرہ پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے پانی اور بیری سے غسل دو اور دو کپڑوں میں کفن دو اور اسے خوشبو نہ لگانا اور نہ ہی اس کے سر کو ڈھانپنا ۔ ایوب کہتے ہیں : بیشک اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اٹھائے گا تلبیہ کی حالت میں۔
(۶۶۴۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ وَأَیُّوبَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَیْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مع رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِعَرَفَۃَ إِذْ وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِہِ قَالَ أَیُّوبُ : فَأَوْقَصَتْہُ أَوْ قَالَ فَأَقْعَصَتْہُ وَقَالَ عَمْرٌو : فَوَقَصَتْہُ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : ((اغْسِلُوہُ بِمَائٍ وَسِدْرٍ ، وَکَفِّنُوہُ فِی ثَوْبَیْنِ ، وَلاَ تُحَنِّطُوہُ ، وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَہُ))۔ قَالَ أَیُّوبُ : ((فَإِنَّ اللَّہَ یَبْعَثُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُلَبِّیًا))۔ وَقَالَ عَمْرٌو : ((فَإِنَّ اللَّہَ یَبْعَثُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُلَبِّی))
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ وَحْدَہُ۔ [صحیح۔ مسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ وَحْدَہُ۔ [صحیح۔ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৪৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ محرم اگر فوت ہوجائے
(٦٦٤٣) سلیمان کہتے ہیں : ہمیں حدیث بیان کی حماد نے اور وہ الفاظ ایوب کی روایت کے تھے سوائے اس کے کہ اس نے اس کی بات کا تذکرہ نہیں کیا بلکہ یہ بات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کی ہے۔
(۶۶۴۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ فَذَکَرَہُ عَلَی لَفْظِ حَدِیثِ أَیُّوبَ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ-۔
وَکَانَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ قَالَ فِی ثَوْبَیْہِ۔ وَأَیُّوبُ قَالَ : فِی ثَوْبَیْنِ۔ أَخْبَرَنَا بِصِحَّۃِ ذَلِکَ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمْرٍو وَأَیُّوبَ قَالَ أَیُّوبُ: فِی ثَوْبَیْنِ وَقَالَ عَمْرٌو : فِی ثَوْبَیْہِ۔ وَرَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ أَیُّوبَ قَالَ نُبِّئْتُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ۔
[صحیح۔ مسلم]
وَکَانَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ قَالَ فِی ثَوْبَیْہِ۔ وَأَیُّوبُ قَالَ : فِی ثَوْبَیْنِ۔ أَخْبَرَنَا بِصِحَّۃِ ذَلِکَ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمْرٍو وَأَیُّوبَ قَالَ أَیُّوبُ: فِی ثَوْبَیْنِ وَقَالَ عَمْرٌو : فِی ثَوْبَیْہِ۔ وَرَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ أَیُّوبَ قَالَ نُبِّئْتُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ۔
[صحیح۔ مسلم]
তাহকীক: