আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
وصیت کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫৩ টি
হাদীস নং: ১২৬৭৮
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ یتیم کو ادب سکھانے کا بیان
(١٢٦٧٣) ابورجاء کہتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو یتیم کو ادب سکھانے کے لیے مارتا ہے۔
(۱۲۶۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَیْمُونٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِی رَجَائٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : رَحِمَ اللَّہُ رَجُلاً اتَّجَرَ عَلَی یَتِیمٍ بِلَطْمَۃٍ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৭৯
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ یتیم کو ادب سکھانے کا بیان
(١٢٦٧٤) شمسیۃ کہتی ہیں، میں نے حضرت عائشہ (رض) سے یتیم کو ادب سکھانے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : میں ان میں سے کسی ایک کو پیار سے تھپکی دیتی ہوں یہاں تک کہ وہ خوش ہوجائے۔
(۱۲۶۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ وَجَدْتُ فِی کِتَابِی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ شُمَیْسَۃَ قَالَتْ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنْ أَدَبِ الْیَتِیمِ قَالَتْ إِنِّی لأَضْرِبُ أَحَدَہُمْ حَتَّی یَنْبَسِطَ۔ [صحیح۔ بخاری فی الادب ۱۴۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮০
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ والی کے لیے جائز ہے کہ یتیم کے مال سے کوئی کاروبار وغیرہ کرے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے منقول گزر چکا ہے کہ یتیم کے مال سے کام کرو، کہیں صدقہ اسے ختم ہی نہ کر دے۔
(١٢٦٧٥) حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے پاس یتیم کا مال تھا، وہ اس کی زکوۃ دیتے تھے۔
(۱۲۶۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ َخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ : أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ مَعَہُ مَالُ یَتِیمٍ فَکَانَ یُزَکِّیہِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮১
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ والی کے لیے جائز ہے کہ یتیم کے مال سے کوئی کاروبار وغیرہ کرے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے منقول گزر چکا ہے کہ یتیم کے مال سے کام کرو، کہیں صدقہ اسے ختم ہی نہ کر دے۔
(١٢٦٧٦) قاسم بن محمد کہتے ہیں : حضرت عائشہ (رض) نے ہمارے اموال کی زکوۃ دیتی تھیں اور ان سے بحرین تجارت کی جاتی تھی۔
(۱۲۶۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ َخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ مُوسَی وَیَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ وَعَبْدِ الْکَرِیمِ بْنِ أَبِی الْمُخَارِقِ کُلُّہُمْ یُخْبِرُہُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ : کَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تُزَکِّی أَمْوَالَنَا وَإِنَّہَا لَیُتَّجَرُ بِہَا فِی الْبَحْرَیْنِ۔[صحیح۔ تقدم ۱۰۹۸۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮২
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ والی کے لیے جائز ہے کہ یتیم کے مال سے کوئی کاروبار وغیرہ کرے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے منقول گزر چکا ہے کہ یتیم کے مال سے کام کرو، کہیں صدقہ اسے ختم ہی نہ کر دے۔
(١٢٦٧٧) سالم ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس یتیموں کے اموال تھے، وہ ان کو کرایہ پر دیتے تھے تاکہ ہلاک ہونے سے بچ جائیں اور ان کی زکوۃ بھی نکالتے تھے۔
(۱۲۶۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ َخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ َخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : کَانَتْ تَکُونُ عِنْدَہُ أَمْوَالُ یَتَامَی فَیَسْتَسْلِفُہَا لِیَحُوزَہَا مِنَ الْہَلاَکِ وَہُوَ یُخْرِجُ زَکَاتَہَا مِنْ أَمْوَالِہِمْ۔[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৩
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ والی کے لیے جائز ہے کہ یتیم کے مال سے کوئی کاروبار وغیرہ کرے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے منقول گزر چکا ہے کہ یتیم کے مال سے کام کرو، کہیں صدقہ اسے ختم ہی نہ کر دے۔
(١٢٦٧٨) ابن مسعود (رض) کے پاس ہمدان کا ایک آدمی سفید سیاہ داغوں والے گھوڑے پر آیا اس نے کہا : ایک آدمی نے مجھے وصیت کی ہے اور ایک یتیم چھوڑا ہے، کیا میں اس کے مال سے یہ گھوڑا یا کوئی اور گھوڑا خرید لوں ؟ عبداللہ (رض) نے کہا : اس کے مال سے کچھ نہ خرید اور کتاب میں ہے کہ اس کے مال سے کچھ نہ خرید اور نہ اس کے مال سے قرض دینا۔
(۱۲۶۷۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ َخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ صِلَۃَ یَقُولُ شَہِدْتُ عَبْدَ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ وَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنْ ہَمْدَانَ عَلَی فَرَسٍ أَبْلَقَ فَقَالَ : إِنَّ رَجُلاً أَوْصَی إِلَیَّ وَتَرَکَ یَتِیمًا أَفَأَشْتَرِی ہَذَا الْفَرَسَ أَوْ فَرَسًا آخَرَ مِنْ مَالِہِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : لاَ تَشْتَرِ شَیْئًا مِنْ مَالِہِ۔ وَفِی الْکِتَابِ لاَ تَشْتَرِ شَیْئًا مِنْ مَالِہِ وَلاَ تَسْتَقْرِضْ شَیْئًا مِنْ مَالِہِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৪
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ احتیاطاً قرض کی ادائیگی کی وصیت کرنا
(١٢٦٧٩) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں : جب احد کا وقت آیا تو رات کو مجھے میرے والدنے بلایا اور کہا : میرا خیال ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے پہلا ہوں، جو احد میں شہید ہوں گا اور اللہ کی قسم ! میں اپنے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ تیرے سوا کسی کو اپنے نزدیک زیادہ عزت والا نہیں چھوڑوں گا اور مجھ پر قرض ہے میری طرف سے قرض دے دینا اور اپنی بہنوں کو بہتر نصیحت کرنا۔ صبح ہوئی تو وہ پہلے شہید تھے۔ میں نے ان کو ایک دوسرے آدمی کے ساتھ قبر میں دفن کیا، مجھے اچھا نہ لگا کہ قبر میں کسی دوسرے کے ساتھ رکھوں ، پھر میں نے چھ ماہ بعد ان کو نکالا، وہ اسی طرح تھے جس طرح اس دن تھے۔ جس دن قبر میں رکھا تھا، سوائے ایک کان کے ۔
(۱۲۶۷۹) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً َخْبَرَنَا الشَّیْخُ أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ َخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْلَمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : لَمَّا حَضَرَ قِتَالُ أُحُدٍ دَعَانِی أَبِی مِنَ اللَّیْلِ فَقَالَ : إِنِّی لاَ أُرَانِی إِلاَّ مَقْتُولاً فِی أَوَّلِ مَنْ یُقْتَلَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَإِنِّی وَاللَّہِ مَا أَدَعُ أَحَدًا بَعْدِی أَعَزَّ عَلَیَّ مِنْکَ بَعْدَ نَفْسِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَإِنَّ عَلَیَّ دَیْنًا فَاقْضِ عَنِّی دَیْنِی وَاسْتَوْصِ بِأَخَوَاتِکَ خَیْرًا قَالَ فَأَصْبَحْنَا فَکَانَ أَوَّلَ قَتِیلٍ فَدَفَنْتُہُ مَعَ آخَرَ فِی قَبْرٍ فَلَمْ تَطُبْ نَفْسِی أَنْ أَتْرُکَہُ مَعَ آخَرَ فِی قَبْرٍ فَاسْتَخْرَجْتُہُ بَعْدَ سِتَّۃِ أَشْہُرٍ فَإِذَا ہُوَ کَیَوْمِ وَضَعْتُہُ غَیْرَ أُذُنِہِ۔
[صحیح۔ حاکم ۴۹۱۳]
[صحیح۔ حاکم ۴۹۱۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৫
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ احتیاطاً قرض کی ادائیگی کی وصیت کرنا
(١٢٦٨٠) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں : صرف سر کے پاس گلہ ہوا حصہ تھا۔
(۱۲۶۸۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : الْخَلِیلُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبُسْتِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : أَحْمَدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ الْبَکْرِیُّ َخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ وَقَالَ فِی آخِرِہِ : کَیَوْمِ دَفَنْتُہُ إِلاَّ ہُنَیَّۃً عِنْدَ رَأْسِہِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৬
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ احتیاطاً قرض کی ادائیگی کی وصیت کرنا
(١٢٦٨١) حصرت عمرو بن میمون نے حضرت عمر (رض) کے قتل کا قصہ بیان کیا اور فرمایا : حضرت عمر (رض) نے کہا : اے عبداللہ ! میرے قرض کو دیکھو انھوں نے حساب لگایا تو وہ اسی ہزار تھا یا اس کے قریب قریب۔ پھر حضرت عمر (رض) نے کہا : اگر آل عمر کے مال سے پورا ہوجائے تو ادا کردینا ورنہ بنی عدی بن کعب سے سوال کرلینا۔ اگر ان کے مال سے بھی پورا نہ ہو تو قریش سے سوال کرلینا اور ان کے علاوہ کسی اور کی طرف نہ جانا اور میری طرف سے قرض ادا کردینا۔
(۱۲۶۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ فَذَکَرَ قِصَّۃَ مَقْتَلِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَفِیہَا عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ قَالَ : یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ انْظُرْ مَا عَلَیَّ مِنَ الدَّیْنِ فَحَسَبُوہُ فَوَجَدُوہُ ثَمَانِینَ أَلْفًا أَوْ نَحْوَ ذَلِکَ فَقَالَ : إِنْ وَفَی لَہُ مَالُ آلِ عُمَرَ فَأَدِّہِ مِنْ أَمْوَالِہِمْ وَإِلاَّ فَسَلْ فِی بَنِی عَدِیِّ بْنِ کَعْبٍ فَإِنْ لَمْ تَفِ أَمْوَالُہُمْ فَسَلْ فِی قُرَیْشٍ وَلاَ تَعْدُہُمْ إِلَی غَیْرِہِمْ فَأَدِّ عَنِّی ہَذَا الْمَالَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی۔ [صحیح۔ بخاری ۳۷۰۰]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی۔ [صحیح۔ بخاری ۳۷۰۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৭
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ احتیاطاً قرض کی ادائیگی کی وصیت کرنا
(١٢٦٨٢) حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں : جمل کی جنگ کے موقع پر جب زبیر کھڑے ہوئے تو مجھے بلایا، میں ان کے پہلو میں جا کر کھڑا ہوگیا، انھوں نے کہا : بیٹے آج کی لڑائی میں ظالم مارا جائے گا یا مظلوم اور میں سمجھتا ہوں آج میں مظلوم قتل کیا جاؤں گا اور مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرضوں کی ہے، کیا تمہیں کچھ اندازہ ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد ہمارا کچھ مال بچ سکے گا ؟ پھر انھوں نے کہا : بیٹے ہمارا مال فروخت کر کے اس سے قرض ادا کردینا۔ انھوں نے ایک تہائی کی میرے لیے اور اس تہائی کے تیسرے حصہ کی وصیت میرے بچوں کے لیے کی، یعنی عبداللہ بن زبیر کے بچوں کے لیے۔ انھوں نے کہا تھا : اس تہائی کے تین حصے کرلینا۔ اگر قرض کی ادائیگی کے بعد ہمارے اموال میں سے کچھ بچ جائے تو اس کا ایک تہائی تمہارے بچوں کے لیے ہوگا، ہشام نے بیان کیا کہ عبداللہ کے بعض لڑکے زبیر کے لڑکوں کے ہم عمر تھے، جیسے خبیب اور عباد اور زبیر کی اس وقت سات بیٹیاں تھیں، ابن زبیر (رض) نے کہا : پھر مجھے زبیر اپنے قرض کے متعلق وصیت کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ بیٹا ! اگر قرض ادا کرنے سے عاجز ہوجائے تو میرے مالک ومولیٰ سے اس میں مدد چاہنا۔ عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم ! قرض ادا کرنے میں جو بھی دشواری سامنے آئی تو میں نے اسی طرح دعا کی کہ اے زبیر کے مولیٰ ! ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کرا دے اور ادائیگی کی صورت پیدا ہوجاتی تھی، چنانچہ جب زبیر شہید ہوگئے تو انھوں نے ترکہ میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ ان کا ترکہ کچھ تو اراضی کی صورت میں تھا۔ اسی میں غابہ کی زمین شامل تھی، گیارہ مکانات مدینہ میں تھے دو مکان بصرہ میں، ایک مکان کوفہ میں تھا اور ایک مصر میں تھا، عبداللہ نے بیان کیا کہ ان پر جو اتنا زیادہ قرض ہوگیا تھا، اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ جب ان کے پاس کوئی شخص اپنا مال لے کر امانت رکھنے آتا تو آپ اسے کہتے نہیں بلکہ اس صورت میں رکھ سکتا ہوں کہ یہ میرے ذمہ بطور قرض رہے کیونکہ مجھے اس کے ضائع ہونے کا بھی خوف ہے، زبیر کبھی کسی علاقے کے امیر نہ بنے تھے اور نہ وہ خراج وصول کرنے پر کبھی مقرر ہوئے تھے اور نہ کوئی دوسرا عہدہ کبھی قبول کیا تھا۔ البتہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اور ابوبکر و عمر اور عثمان (رض) کے ساتھ جہاد میں شرکت تھی۔ ابن زبیر (رض) نے کہا کہ جب میں نے اس رقم کا حساب کیا جو ان پر قرض تھی تو ان کی تعداد بائیس لاکھ تھی۔ بیان کیا کہ پھر حکیم بن حزام عبداللہ بن زبیر (رض) سے ملے تو پوچھا : بیٹے میرے بھائی پر کتنا قرض رہ گیا ہے، عبداللہ نے چھپانا چاہا اور کہہ دیا کہ لاکھ، اس پر حکیم نے کہا : اللہ کی قسم میں تو نہیں سمجھتا کہ تمہارے پاس موجود سرمایہ سے یہ قرض ادا ہو سکے گا، اب عبداللہ نے کہا : اگر قرض بائیس لاکھ ہو تو آپ کی کیا رائے ہوگی ؟ انھوں نے کہا : پھر تو یہ قرض تمہاری برداشت سے باہر ہے، خیر اگر کوئی دشواری پیش آئے تو مجھ سے کہنا۔ عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ زبیر نے غابہ کی جائیداد ایک لاکھ ستر ہزار میں خریدی تھی، لیکن عبداللہ نے وہ سولہ لاکھ میں بیچی۔ پھر اعلان کیا کہ حضرت زبیر پر جس کا قرض ہو وہ غابہ میں آکر ہم سے مل لے۔ چنانچہ عبداللہ بن جعفر آئے ان کا زبیر پر چار لاکھ روپیہ تھا۔ انھوں نے پیش کش کی کہ اگر تم چاہو تو میں یہ قرض چھوڑ سکتا ہوں، لیکن عبداللہ نے کہا کہ نہیں، پھر انھوں نے کہا : اگر تم چاہو میں سارے قرض کی ادائیگی کے بعد لے لوں گا۔ عبداللہ (رض) نے اس پر کہا کہ تاخیر کی ضرورت نہیں ہے۔ آخر انھوں نے کہا کہ پھر اس زمین میں میرے حصہ کا قطعہ مقرر کر دو ۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ زبیر کی جائیداد اور مکانات وغیرہ بیچ کر ان کا قرض ادا کردیا گیا اور سارے قرض کی ادائیگی ہوگئی اور غابہ کی جائیداد سے ساڑھے چار حصے ابھی بک نہیں سکے تھے۔ اس لیے عبداللہ معاویہ کے پاس (شام) تشریف لے گئے۔ وہاں عمرو بن عثمان، منذر بن زبیر اور ابن زمعہ بھی موجود تھے، معاویہ نے ان سے دریافت کیا کہ غابہ کی جائیداد کی کتنی قیمت طے ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ سات لاکھ یا کہا ہر حصے کی ایک لاکھ طے پائی تھی۔ معاویہ نے پوچھا : اب کتنے باقی رہ گئے ہیں ‘ انھوں نے بتایا : ساڑھے چار حصے۔ اس پر منذر نے کہا : ایک حصہ ایک لاکھ میں میں لیتا ہوں، عمرو بن عثمان نے کہا : ایک حصہ ایک لاکھ میں میں لیتا ہوں۔ اس پر زمعہ نے کہا : ایک حصہ ایک لاکھ میں میں لیتا ہوں، اس کے بعد معاویہ نے پوچھا، اب کتنے حصے باقی بچے ہیں ؟ انھوں نے کہا : ڈیڑھ حصہ۔ معاویہ نے کہا : میں اسے ڈیڑھ لاکھ میں لے لیتا ہوں، پھر بعد میں عبداللہ بن جعفر نے اپنا حصہ معاویہ کو چھ لاکھ میں بیچ دیا، پھر جب ابن زبیر قرض کی ادائیگی کرچکے تو زبیر کی اولاد نے کہا کہ اب ہماری میراث تقسیم کردیجیے، لیکن عبداللہ نے کہا : ابھی تمہاری میراث اس وقت تک تقسیم نہیں کرسکتا جب تک چار سال تک ایام حج میں اعلان نہ کرلوں کہ جس شخص کا بھی زبیر پر قرض ہو وہ ہمارے پاس آئے اور اپنا قرض لے جائے۔ راوی نے بیان کیا کہ عبداللہ نے اب ہر سال ایام حج میں اس کا اعلان کرانا شروع کیا اور جب چار سال گزر گئے تو عبداللہ نے ان کو میراث تقسیم کردی اور زبیر کی چار بیویاں تھیں اور عبداللہ نے تہائی حصہ بیچی ہوئی رقم سے نکال لیا تھا، پھر بھی ہر بیوی کے حصہ میں بارہ بارہ لاکھ کی رقم آئی اور کل جائیداد حضرت زبیر کی پانچ کروڑ دو لاکھ ہوئی۔
(۱۲۶۸۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ َخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ عِیسَی الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ َخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ الطَّرَسُوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ : حَمَّادُ بْنُ أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : لَمَّا وَقَفَ الزُّبَیْرُ یَوْمَ الْجَمَلِ دَعَانِی فَقُمْتُ إِلَی جَنْبِہِ فَقَالَ : یَا بُنَیَّ إِنَّہُ لاَ یُقْتَلُ الْیَوْمَ إِلاَّ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا وَإِنِّی أُرَانِی سَأُقْتَلُ الْیَوْمَ مَظْلُومًا وَإِنَّ مِنْ أَکْبَرِ ہَمِّی لَدَیْنِی أَفَتُرَی دَیْنَنَا یُبْقِی مِنْ مَالِنَا شَیْئًا یَا بُنَیَّ بِعْ مَالَنَا وَاقْضِ دَیْنِی وَأَوْصَی بِالثُّلُثِ وَثُلُثِ الثُّلُثِ لِبَنِی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ فَإِنْ فَضَلَ مِنْ مَالِنَا بَعْدَ قَضَائِ الدَّیْنِ شَیْئٌ فَثَلِّثْہُ لِوَلَدِکَ۔ قَالَ ہِشَامٌ : وَکَانَ بَعْضُ وَلَدِ عَبْدِ اللَّہِ قَدْ وَازَی بَعْضَ بَنِی الزُّبَیْرِ خُبَیْبٌ وَعَبَّادٌ قَالَ وَلَہُ یَوْمَئِذٍ سَبْعُ بَنَاتٍ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ فَجَعَلَ یُوصِینِی بِدَیْنِہِ وَیَقُولُ : یَا بُنَیَّ إِنْ عَجَزْتَ عَنْ شَیْئٍ مِنْہُ فَاسْتَعِنْ بِمَوْلاَیَ قَالَ : فَوَاللَّہِ مَا دَرَیْتُ مَا أَرَادَ حَتَّی قُلْتُ : یَا أَبَہْ مَنْ مَوْلاَکَ قَالَ : اللَّہُ قَالَ : فَوَاللَّہِ مَا وَقَعْتُ فِی کُرْبَۃٍ مِنْ دَیْنِہِ إِلاَّ قُلْتُ یَا مَوْلَی الزُّبَیْرِ اقْضِ عَنْہُ فَیَقْضِیہِ قَالَ وَقُتِلَ الزُّبَیْرُ وَلَمْ یَدَعْ دِینَارًا وَلاَ دِرْہَمًا إِلاَّ أَرَضِینَ مِنْہَا الْغَابَۃُ وَأَحَدَ عَشَرَ دَارًا بِالْمَدِینَۃِ وَدَارَیْنِ بِالْبَصْرَۃِ وَدَارًا بِالْکُوفَۃِ وَدَارًا بِمِصْرَ قَالَ وَإِنَّمَا کَانَ دَیْنُہُ الَّذِی عَلَیْہِ مِنَ الدَّیْنِ أَنَّ الرَّجُلَ کَانَ یَأْتِیہِ بِالْمَالِ فَیَسْتَوْدِعُہُ إِیَّاہُ فَیَقُولُ الزُّبَیْرُ لاَ وَلَکِنْ ہُوَ سَلَفٌ إِنِّی أَخْشَی عَلَیْہِ الضَّیْعَۃَ وَمَا وَلِیَ إِمَارَۃً قَطُّ وَلاَ جِبَایَۃً وَلاَ خَرَاجًا وَلاَ شَیْئًا قَطُّ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ فِی غَزْوَۃٍ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَوْمَعَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُمْ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ فَحَسَبْتُ مَا عَلَیْہِ مِنَ الدَّیْنِ فَوَجَدْتُہُ أَلْفَیْ أَلْفٍ وَمِائَتَیْ أَلْفٍ قَالَ فَلَقِیَ حَکِیمُ بْنُ حِزَامٍ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ فَقَالَ : یَا ابْنَ أَخِی کَمْ عَلَی أَخِی مِنَ الدَّیْنِ قَالَ فَکَتَمَہُ وَقَالَ : مِائَۃُ أَلْفٍ قَالَ حَکِیمٌ : مَا أُرَی أَمْوَالَکُمْ تَسَعُ لِہَذِہِ قَالَ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ : أَفَرَأَیْتَکَ إِنْ کَانَ أَلْفَیْ أَلْفٍ وَمِائَتَیْ أَلْفٍ قَالَ : مَا أُرَاکُمْ تُطِیقُونَ ہَذَا فَإِنْ عَجَزْتُمْ عَنْ شَیْئٍ مِنْہُ فَاسْتَعِینُوابِی قَالَ : وَکَانَ الزُّبَیْرُ اشْتَرَی الْغَابَۃَ بِسَبْعِینَ وَمِائَۃِ أَلْفٍ وَبَاعَہَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ بِأَلْفِ أَلْفٍ وَسِتِّمِائَۃِ أَلْفٍ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ : مَنْ کَانَ لَہُ عَلَی الزُّبَیْرِ دَیْنٌ فَلْیُوَافِینَا بِالْغَابَۃِ قَالَ فَأَتَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ وَکَانَ لَہُ عَلَی الزُّبَیْرِ أَرْبَعُمِائَۃِ أَلْفٍ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ : إِنْ شِئْتُمْ تَرَکْنَاہَا لَکُمْ۔ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ : لاَ قَالَ فَإِنْ شِئْتُمْ جَعَلْتُمُوہَا فِیمَا تُؤَخِّرُونَ إِنْ أَخَّرْتُمْ شَیْئًا فَقَالَ عَبْدِ اللَّہِ : لاَ قَالَ : فَاقْطَعُوا لِی قِطْعَۃً قَالَ عَبْدُ اللَّہِ لَکَ مِنْ ہَا ہُنَا إِلَی ہَا ہُنَا قَالَ فَبَاعَہَا مِنْہُ فَقَضَی دَیْنَہُ فَأَوْفَاہُ وَبَقِیَ مِنْہَا أَرْبَعَۃُ أَسْہُمٍ وَنِصْفٌ قَالَ فَقَدِمَ عَلَی مُعَاوِیَۃَ وَعِنْدَہُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ وَالْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَیْرِ وَابْنُ زَمْعَۃَ فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ : کَمْ قُوِّمَتِ الْغَابَۃُ؟ قَالَ : سِتِّمِائَۃِ أَلْفٍ أَوْ قَالَ : کُلُّ سَہْمٍ مِائَۃُ أَلْفٍ۔ قَالَ : کَمْ بَقِیَ؟ قَالَ : أَرْبَعَۃُ أَسْہُمٍ وَنِصْفٌ قَالَ الْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَیْرِ : قَدْ أَخَذْتُ سَہْمًا بِمِائَۃِ أَلْفٍ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ : قَدْ أَخَذْتُ سَہْمًا بِمِائَۃِ أَلْفٍ۔ وَقَالَ ابْنُ زَمْعَۃَ : قَدْ أَخَذْتُ سَہْمًا بِمِائَۃِ أَلْفٍ۔ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ : کَمْ بَقِیَ؟ قَالَ : سَہْمٌ وَنِصْفٌ۔ قَالَ : قَدْ أَخَذْتُہُ بِمِائَۃِ أَلْفٍ وَخَمْسِینَ أَلْفًا قَالَ وَبَاعَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ نَصِیبَہُ مِنْ مُعَاوِیَۃَ بِسِتِّمِائَۃِ أَلْفٍ فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ الزُّبَیْرِ مِنْ قَضَائِ دَیْنِہِ قَالَ بَنُو الزُّبَیْرِ : اقْسِمْ بَیْنَنَا مِیرَاثَنَا قَالَ : لاَ وَاللَّہِ لاَ أَقْسِمُ بَیْنَکُمْ حَتَّی أُنَادِیَ بِالْمَوْسِمِ أَرْبَعَ سِنِینَ أَلاَ مَنْ کَانَ لَہُ عَلَی الزُّبَیْرِ دَیْنٌ فَلْیَأْتِنِی فَلْنَقْضِہِ قَالَ : فَجَعَلَ کُلَّ سَنَۃٍ یُنَادِی بِالْمَوْسِمِ فَلَمَّا مَضَی أَرْبَعُ سِنِینَ قَسَمَ بَیْنَہُمْ مِیرَاثَہُمْ قَالَ وَکَانَ لِلزُّبَیْرِ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ وَرَفَعَ الثُّلُثَ فَأَصَابَ کُلَّ امْرَأَۃٍ مِنْہُنَّ أَلْفُ أَلْفٍ وَمِائَتَیْ أَلْفٍ فَجَمِیعُ مَالِہِ خَمْسِینَ أَلْفَ أَلْفٍ وَمِائَتَا أَلْفٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۱۲۹]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۱۲۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৮
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت تحریر کرنے کا بیان
(١٢٦٨٣) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں، وہ اپنی وصیتوں کے شروع میں لکھتے تھے، یہ فلاں بن فلاں کی وصیت ہے وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور قیامت قائم ہونے والی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے اور اللہ قبروں سے اٹھائے گا اور اس نے وصیت کی اپنے بعد والوں کو کہ وہ اللہ سے اس طرح ڈریں جس طرح ڈرنے کا حق ہے اور اپنے درمیان صلح صفائی سے رہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کریں۔ اگر وہ مومن ہیں اور وہ ان کو وصیت کرتا جو ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے یعقوب کو وصیت کی کہ اے میرے بیٹے ! اللہ نے تمہارے لیے دین کو چن لیا ہے، پس تم اسلام کی حالت میں فوت ہونا۔
(۱۲۶۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ َخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ ہِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : کَانُوا یَکْتُبُونَ فِی صُدُورِ وَصَایَاہُمْ ہَذَا مَا أَوْصَی بِہِ فُلاَنُ ابْنُ فُلاَنٍ أَوْصَی أَنَّہُ یَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ وَأَنَّ السَّاعَۃَ آتِیَۃٌ لاَ رَیْبَ فِیہَا وَأَنَّ اللَّہَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ وَأَوْصَی مَنْ تَرَکَ بَعْدَہُ مِنْ أَہْلِہِ أَنْ یَتَّقُوا اللَّہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَأَنْ یُصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِہِمْ وَیُطِیعُوا اللَّہَ وَرَسُولَہُ إِنْ کَانُوا مُؤْمِنِینَ وَأَوْصَاہُمْ بِمَا وَصَّی بِہِ إِبْرَاہِیمُ بَنِیہِ وَیَعْقُوبَ { یَا بَنِیَّ إِنَّ اللَّہَ اصْطَفَی لَکُمُ الدِّینَ فَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [صحیح۔ عبدالرزاق ۱۶۳۱۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৯
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت تحریر کرنے کا بیان
(١٢٦٨٤) محمد بن ابی عمرہ نے اپنی اولاد اور اپنے اہل کی اولاد کو وصیت کی کہ وہ اللہ سے ڈریں اور اپنی اصلاح کریں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کریں۔ اگر وہ مومن ہیں اور ان کو وہ وصیت کی جو ابراہیم نے یعقوب کو کی تھی اے میرے بیٹے ! اللہ نے تمہارے لیے دین کو چن لیا ہے، پس تم اسلام کی حالت میں فوت ہونا اور ان کو وصیت کی کہ وہ نہ چھوڑ دیں کہ انصار کے بھائی ہوں اور ان کے غلام ہوں، بیشک پاکدامنی اور سچائی زیادہ عزت والی ہے زنا اور جھوٹ سے اور ان کو وصیت کی جو چھوڑا اس بارے میں اور اگر کوئی چیز میری موت سے پہلے رونما ہوئی تو میں وصیت بدل لوں گا۔
(۱۲۶۸۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ َخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ : کَانَتْ وَصِیَّۃُ ابْنِ سِیرِینَ ذِکْرُ مَا أَوْصَی بِہِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَمْرَۃَ بَنِیہِ وَبَنِی أَہْلِہِ أَنْ یَتَّقُوا اللَّہَ وَیُصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِہِمْ وَأَنْ یُطِیعُوا اللَّہَ وَرَسُولَہُ إِنْ کَانُوا مُؤْمِنِینَ وَأَوْصَاہُمْ بِمَاأَوْصَی بِہِ إِبْرَاہِیمُ بَنِیہِ وَیَعْقُوبَ { یَا بَنِیَّ إِنَّ اللَّہَ اصْطَفَی لَکُمُ الدِّینَ فَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} وَأَوْصَاہُمْ أَنْ لاَ یَدَعُوا أَنْ یَکُونُوا إِخْوَانَ الأَنْصَارِ وَمَوَالِیہِمْ فَإِنَّ الْعَفَافَ وَالصِّدْقَ أَتْقَی وَأَکْرَمَ مِنَ الزِّنَا وَالْکَذِبَ وَأَوْصَاہُمْ فِیمَا تَرَکَ إِنْ حَدَثَ بِی حَدَثٌ قَبْلَ أَنْ أُغَیِّرَ وَصِیَّتِی۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯০
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت تحریر کرنے کا بیان
(١٢٦٨٥) یحییٰ بن سعید اپنیوالد سے نقل فرماتے ہیں کہ ربیع بن خیثم نے اپنی وصیت لکھی : بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ ربیع بن خثیم کی وصیت ہے اور میں اس پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور وہ گواہی کے لیے کافی ہے اور وہ نیک بندوں کو ثواب کی جزا دینے والا ہے، میں اللہ کے رب ہونے پر راضی ہوں اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نبی ہونے پر اور میں اپنے آپ کو حکم دینے والا ہوں اور جس نے میری اطاعت کی کہ ہم اللہ کی عبادت کریں، بندوں میں اور اس کی حمد کریں حمد کرنے والوں میں اور تمام مسلمانوں کی خیرخواہی کریں۔
(۱۲۶۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ َخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ َخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو حَیَّانَ : یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَتَبَ الرَّبِیعُ بْنُ خُثَیْمٍ وَصِیَّتَہُ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ہَذَا مَا أَوْصَی الرَّبِیعُ بْنُ خُثَیْمٍ وَأُشْہِدُ اللَّہَ عَلَیْہِ وَکَفَی بِاللَّہِ شَہِیدًا وَجَازِیًا لِعِبَادِہِ الصَّالِحِینَ مُثِیبًا إِنِّی رَضِیتُ بِاللَّہِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِینًا وَبِمُحَمَّدٍ -ﷺ- نَبِیًّا وَإِنِّی آمُرُ نَفْسِی وَمَنْ أَطَاعَنِی أَنْ نَعْبُدَ اللَّہَ فِی الْعَابِدِینَ وَیَحْمَدَہُ فِی الْحَامِدِینَ وَأَنْ یَنْصَحَ لِجَمَاعَۃِ الْمُسْلِمِینَ۔[ضعیف۔ الدارمی ۳۱۸۷]
তাহকীক: