আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
وصیت کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫৩ টি
হাদীস নং: ১২৫৯৮
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیتوں میں عول کا بیان اور وارث کے لیے وصیت کی اجازت ورثا کی طرف سے یا ثلث سے زائد وصیت کا بیان
(١٢٥٩٣) حضرت محمد بن ابو ایوب کہتے ہیں : مجھے ابراہیم نے کہا : کیا تو فرائض جانتا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں، ابراہیم نے کہا : حصوں کے بارے میں علم رکھتا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں۔ ابراہیم نے کہا : وصیتوں کے بارے میں جانتا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں۔ ابراہیم نے کہا : تیرا اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو کسی کے لیے اپنے ثلث مال کی وصیت کرتا ہے اور دوسرے کے لیے ربع کی اور کسی اور کے لیے نصف مال کی ؟ میں نے کہا : یہ جائز نہیں ہے، بیشک اس کے لیے اپنے مال سے ثلث کی اجازت ہے۔ ابراہیم نے کہا : اگر ورثاء اجازت دیں ؟ میں نے کہا : میں نہیں جانتا۔ ابراہیم نے کہا : میں تجھے سکھا دیتا ہوں، میں نے کہا : ہاں۔ ابراہیم نے کہا : اس کے مال کے نصف، ثلث اور ربع کو دیکھو۔ میں نے کہا : یہ بارہ ہوگئے۔ ابراہیم نے کہا : ہاں۔ پس اس کا نصف چھثلث چار اور ربع تین حصے ہوں گے، پس یہ تیرہ حصے بن گئے، مال تیرہ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا اور نصف والے کو چھ حصے، ثلث والے کو چار حصے اور ربع والے کو تین حصے دیے جائیں گے، میں نے کہا : ہاں۔
(۱۲۵۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ َخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی أَیُّوبَ أَبُو عَاصِمٍ وَہُوَ ثِقَۃٌ قَالَ قَالَ لِی إِبْرَاہِیمُ : تَعْلَمُ الْفَرَائِضَ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : تَعْرِفُ رَفْعَ السِّہَامِ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : تَعْلَمُ الْوَصَایَا قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : مَا تَرَی فِی رَجُلٍ أَوْصَی بِثُلُثِ مَالِہِ لِرَجُلٍ وَرُبُعِ مَالِہِ لآخَرَ وَنِصْفِ مَالِہِ لآخَرَ؟ فَلَمْ أَدْرِ فَقُلْتُ : إِنَّ ذَاکَ لاَ یَجُوزُ إِنَّمَا یَجُوزُ لَہُ مِنْ مَالِہِ الثُّلُثُ۔ قَالَ : فَإِنِ الْوَرَثَۃُ أَجَازُوہُ قُلْتُ : لاَ أَدْرِی قَالَ : فَأُعُلِّمُکَ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : انْظُرْ مَالاً لَہُ نِصْفٌ وَثُلُثٌ وَرُبُعٌ۔ قُلْتُ : فَذَاکَ اثْنَا عَشَرَ قَالَ : فَنَعَمْ فَتَأْخُذُ نِصْفَہُ سِتَّۃً وَثُلُثَہُ أَرْبَعَۃً وَرُبُعَہُ ثَلاَثَۃً فَیَکُونُ ثَلاَثَۃَ عَشَرَ سَہْمًا فَیُقْسَمُ الْمَالُ عَلَی ثَلاَثَۃَ عَشَرَ سَہْمًا فَیُعْطَی صَاحِبُ النِّصْفِ مَا أَصَابَ سِتَّۃً وَصَاحِبُ الثُّلُثِ مَا أَصَابَ أَرْبَعَۃً وَصَاحِبُ الرُّبُعِ مَا أَصَابَ ثَلاَثَۃً فَذَاکَ کَذَاکَ قُلْتُ : نَعَمْ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯৯
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کسی متعینہ چیز کی وصیت کرنا
(١٢٥٩٤) ابو زناد اپنے والد سے اور وہ اہل مدینہ کیفقہائ سے نقل کرتے ہیں کہ جو شخص اپنے باغ میں سے تیسرے حصے کی وصیت کرے، پھر جہاں اس نے سارا باغ فی سبیل اللہ دے دیا، اس کے وارثوں نے کہا : ہم اس کے لیے صرف تیسرا حصہ جائز قرار دیتے ہیں، ان کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔ وصیت کرنے والا جہاں پسند کرے اپنے مال سے اس کے برابر قیمت دے گا، باغ سامان رکھنے والے تھیلے، تلوار اور کپڑے کی طرح ہے جس کی وہ وصیت کرتا ہے۔ وارثوں کے لیے ایسا کرنا درست نہیں کہ اس کے لیے تھیلے، تلوار اور کپڑے کا تیسرا حصہ ہے۔ یعنی صرف تیسرے حصے کی وصیت کرنا جائز ہے۔
(۱۲۵۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْبَغْدَادِیُّ َخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ الَّذِینَ یُنْتَہَی إِلَی قَوْلِہِم مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ : مَنْ أَوْصَی أَنْ یُجْعَلَ ثُلُثُہُ فِی حَائِطٍ ثُمَّ سَبَّلَ ذَلِکَ الْحَائِطَ حَیْثُ أَرَادَہُ فَقَالَ وَرَثَتُہُ : لاَ نُجِیزُ إِنَّمَا لَہُ ثُلُثُ حَائِطِہِ فَذَلِکَ جَائِزٌ عَلَیْہِمْ الْمُوصِی یَضَعُ ثُلُثَہُ حَیْثُ أَحَبَّ مِنْ مَالِہِ بِقِیمَۃِ الْعَدْلِ إِنَّمَا الْحَائِطُ کَالرَّحْلِ أَوِ السَّیْفِ أَوِ الثَّوْبِ یُوصِی بِہِ لَیْسَ لِلْوَرَثَۃِ أَنْ یَقُولُوا إِنَّمَا لَہُ ثُلُثُ رَحْلِہِ وَسَیْفِہِ وَثَوْبِہِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০০
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آزادی کی وصیت کرنا اور غلاموں کے مہنگا اور کم کرنے یاسستا اور زیادہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
(١٢٥٩٥) حضرت ابو ذر (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔ اس نے کہا : کونسی گردن آزاد کرنا افضل ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو سب سے زیادہ قیمتی ہو اور مالک کی نظر میں پسندیدہ ہو۔ اس نے کہا : اگر اس کی میں طاقت نہ رکھوں تو ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی مسلمان کاریگر یا ہنر مند کی مدد کر، اس نے کہا : اگر میں یہ بھی نہ کرسکوں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے یہ بھی صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کرو گے۔
(۱۲۵۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ الْعُمَرِیُّ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی الْعَبْسِیُّ قَالاَ َخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی مُرَاوِحٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ : إِیمَانٌ بِاللَّہِ وَجِہَادٌ فِی سَبِیلِہِ۔ قَالَ: فَأَیُّ الرَّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَغْلاَہَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُہَا عِنْدَ أَہْلِہَا۔ قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ: تُعِینُ ضَعِیفًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ ۔ قَالَ : فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ : تَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّکَ فَإِنَّہَا صَدَقَۃٌ تَصَدَّقُ بِہَا عَلَی نَفْسِکَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۵۲۷]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۵۲۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০১
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آزادی کی وصیت کرنا اور غلاموں کے مہنگا اور کم کرنے یاسستا اور زیادہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
(١٢٥٩٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے کوئی مومن غلامآزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کو اس غلام کے عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کردیں گے، بیشک وہ ہاتھ کو ہاتھ کے بدلے، پاؤں کو پاؤں کے بدلے، شرم گاہ کو شرم گاہ کے بدلے آزاد کرے گا۔ علی بن حسین نے راوی سے کہا : کیا آپ نے یہ ابوہریرہ (رض) سے سنا ہے ؟ اس نے کہا : ہاں۔ علی نے کہا : مطرف کو بلاؤ اور وہ اس کے محنتی غلاموں سے تھے۔ جب وہ سامنے آئے تو کہا : تو اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔
(۱۲۵۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ َخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ سَنَۃَ خَمْسٍ وَسِتِّینَ وَمِائَتَیْنِ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی حَکِیمٍ مَوْلَی آلِ الزُّبَیْرِ عَنْ سَعِیدِ ابْنِ مَرْجَانَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَۃً مُؤْمِنَۃً أَعْتَقَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِکُلِّ إِرْبٍ مِنْہَا إِرْبًا مِنْہُ مِنَ النَّارِ إِنَّہُ لَیُعْتِقُ الْیَدَ بِالْیَدِ وَالرِّجْلَ بِالرِّجْلِ وَالْفَرْجَ بِالْفَرْجِ ۔ فَقَالَ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ : أَنْتَ سَمِعْتَ ہَذَا مِنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : نَعَمْ قَالَ فَقَالَ : ادْعُوا لِی مُطَرِّفًا وَکَانَ مِنْ أَفْرَہِ غِلْمَانِہِ فَلَمَّا قَامَ بَیْنَ یَدَیْہِ قَالَ أَنْتَ حُرٌّ لِوَجْہِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۵۱۷]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۵۱۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০২
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آزادی کی وصیت کرنا اور غلاموں کے مہنگا اور کم کرنے یاسستا اور زیادہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
(١٢٥٩٧) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے مومن غلامآزاد کیا تو اللہ اس کے ہر عضو کو آگ سے اس غلام کے عضو کے بدلے آزاد کریں گے، یہاں تک کہ اس کی شرم گاہ کو (آزاد کردہ) کی شرم گاہ کے بدلے۔
(۱۲۵۹۷) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ َخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ أَبُو الْفَضْلِ
(ح) وَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِی غَسَّانَ : مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ عَنْ سَعِیدِ ابْنِ مَرْجَانَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَۃً مُؤْمِنَۃً أَعْتَقَ اللَّہُ بِکُلِّ عُضْوٍ مِنْہَا عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِہِ مِنَ النَّارِ حَتَّی فَرْجَہُ بِفَرْجِہِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحِیمِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَیْدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ دَاوُدَ۔[صحیح]
(ح) وَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِی غَسَّانَ : مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ عَنْ سَعِیدِ ابْنِ مَرْجَانَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَۃً مُؤْمِنَۃً أَعْتَقَ اللَّہُ بِکُلِّ عُضْوٍ مِنْہَا عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِہِ مِنَ النَّارِ حَتَّی فَرْجَہُ بِفَرْجِہِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحِیمِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَیْدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ دَاوُدَ۔[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৩
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حج کی وصیت کا بیان
(١٢٥٩٨) حسن سے اس آدمی کے بارے میں روایت ہے جو زکوۃ اور حج میں کوتاہی کرے یہاں تک کہ موت آجائے۔ حسن کہتے تھے : حج اور زکوۃ سے ابتدا کی جائے گی، پھر بعد میں کہا : اسے عزت کے طور پر نہ چھوڑیں کہ مال اس کے علاوہ کا ہوجائے اور وہ کہے کہ میری طرف سے حج کیا جائے اور میری طرف سے زکوۃ دی جائے۔
(۱۲۵۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ َخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ عَنِ الأَشْعَثِ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ قَالَ فِی الرَّجُلِ فَرَّطَ فِی زَکَاۃٍ وَفَرَّطَ فِی الْحَجِّ حَتَّی حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ قَالَ کَانَ الْحَسَنُ یَقُولُ : یُبْدَأُ بِالْحَجِّ وَالزَّکَاۃِ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ لاَ وَلاَ کَرَامَۃَ یَدَعُہُ حَتَّی إِذَا صَارَ الْمَالُ لِغَیْرِہِ قَالَ : حُجُّوا عَنِّی وَزَکُّوا عَنِّی ہُوَ مِنَ الثُّلُثِ۔ کَذَا فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৪
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حج کی وصیت کا بیان
(١٢٥٩٩) حسن سے اس آدمی کے بارے میں روایت ہے جو اپنی طرف سے حج کی وصیت کرے۔ حسن نے کہا : اگر اس نے حج کیا تھا تو ثلث سے وصیت پوری ہوگی اور اگر نہ کیا تھا تو سارے مال سے حج کیا جائے گا، اس نے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو۔ وہ اس پر قرض ہے۔
(۱۲۵۹۹) وَقَدْ َخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَحْمَدَ الرَّازِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا زَاہِرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنِ الْحَسَنِ فِی الرَّجُلِ یُوصِی أَنْ یُحَجَّ عَنْہُ قَالَ : إِنْ کَانَ قَدْ حَجَّ فَمِنَ الثُّلُثِ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ حَجَّ فَہُوَ مِنْ جَمِیعِ الْمَالِ أَوْصَی أَوْ لَمْ یُوصِ وَہُوَ عَلَیْہِ دَیْنٌ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৫
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حج کی وصیت کا بیان
(١٢٦٠٠) ابن طاؤس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آدمی کسی چیز کی وصیت کرے اور وہ اس پر واجب ہو حج یا قسم کا کفارہ یا ظہار کا کفارہ تو وہ سارے مال سے ہوگا۔
(۱۲۶۰۰) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : إِذَا أَوْصَی الرَّجُلُ بِشَیْئٍ یَکُونُ عَلَیْہِ وَاجِبًا حَجٍّ أَوْ کَفَّارَۃِ یَمِینٍ أَوْ ظِہَارٍ فَہُوَ مِنْ جَمِیعِ الْمَالِ۔
[صحیح]
[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৬
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حج کی وصیت کا بیان
(١٢٦٠١) حسن سے اس آدمی کے بارے میں روایت ہے جو حج یا زکوۃ کی وصیت کرتا ہے کہ وہ سارے مال سے ہے۔
(۱۲۶۰۱) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَطَائٍ وَعَنْ زِیَادٍ الأَعْلَمِ عَنِ الْحَسَنِ فِی الرَّجُلِ یُوصِی بِالْحَجِّ أَوْ بِالزَّکَاۃِ قَالاَ: ہُوَ مِنْ جَمِیعِ الْمَالِ۔
وَرُوِّینَا عَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ أَنَّہُ قَالَ : إِذَا أَوْصَی بِحَجٍّ أَوْ زَکَاۃٍ فَہِیَ مِنَ الثُّلُثِ حَجَّ أَوْ لَمْ یَحُجَّ وَعَنِ ابْنِ سِیرِینَ مِثْلَ ذَلِکَ وَبِقَوْلِ الْحَسَنِ وَطَاوُسٍ وَعَطَائٍ وَالزُّہْرِیِّ نَقُولُ حَیْثُ قَالُوا : ہُوَ بِمَنْزِلَۃِ الدَّیْنِ۔[صحیح]
وَرُوِّینَا عَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ أَنَّہُ قَالَ : إِذَا أَوْصَی بِحَجٍّ أَوْ زَکَاۃٍ فَہِیَ مِنَ الثُّلُثِ حَجَّ أَوْ لَمْ یَحُجَّ وَعَنِ ابْنِ سِیرِینَ مِثْلَ ذَلِکَ وَبِقَوْلِ الْحَسَنِ وَطَاوُسٍ وَعَطَائٍ وَالزُّہْرِیِّ نَقُولُ حَیْثُ قَالُوا : ہُوَ بِمَنْزِلَۃِ الدَّیْنِ۔[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৭
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حج کی وصیت کا بیان
(١٢٦٠٢) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی، اس نے کہا : میری ماں نے نذر مانی تھی کہ وہ حج کرے گی۔ وہ حج سے پہلے فوت ہوگئی ہے، کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں تو حج کرلے۔ تیرا کیا خیال ہے اگر تیری ماں پر قرض ہوتا تو تو نے ادا کرنا تھا ؟ اس نے کہا : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کا قرض پورا کرو اس کا پورا کرنا زیادہ ضروری ہے۔
(۱۲۶۰۲) اسْتِدْلاَلاً بِمَا حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا َبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ فِرَاسٍ الْمَالِکِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ امْرَأَۃً جَائَ تْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- َقَالَتْ : إِنَّ أُمِّی نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ أَفَأَحُجُّ عَنْہَا؟ قَالَ :
نَعَمْ فَحُجِّی عَنْہَا أَرَأَیْتِ لَوْ کَانَ عَلَی أُمُّکِ دَیْنٌ أَکُنْتِ قَاضِیَتَہُ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : اقْضِی اللَّہَ الَّذِی ہُوَ لَہُ فَإِنَّ اللَّہَ أَحَقُّ بِالْوَفَائِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی وَمُسَدَّدٍ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری۱۳۱۵]
نَعَمْ فَحُجِّی عَنْہَا أَرَأَیْتِ لَوْ کَانَ عَلَی أُمُّکِ دَیْنٌ أَکُنْتِ قَاضِیَتَہُ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : اقْضِی اللَّہَ الَّذِی ہُوَ لَہُ فَإِنَّ اللَّہَ أَحَقُّ بِالْوَفَائِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی وَمُسَدَّدٍ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری۱۳۱۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৮
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں وصیت کا بیان
(١٢٦٠٣) یوسف بن عبداللہ بن سلام اپنی دادی اُمّ ِمعقل سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کا حج کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تیاری کریں، ہم نے بھی تیاری کی، پس مجھے خسرہ یا چیچک کی بیماری لگ گئی۔ مجھے بھی بیماری لگ گئی اور ابو معقل کو بھی۔ ابو معقل تو اس بیماری میں فوت ہوگئے۔ کہتی ہیں : ہمارے پاس ایک اونٹ تھا، اس سے ہم اپنے باغ کو سیراب کرتے تھے اور اسی پر ہم حج کا ارادہ رکھتے تھے۔ ابو معقل نے اسے اللہ کے راستے میں وقف کردیا اور ہمیں بیماری نے روک دیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے گئے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حج سے واپس آئے تو میں اپنی بیماری سے ٹھیک ہوچکی تھی، میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ام معقل ! تجھے ہمارے ساتھ حج کرنے میں کس چیز نے روکا تھا ؟ کہتی ہیں : میں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم نے اس کی تیاری کی تھی، ہمیں یہ بیماری لگ گئی تھی۔ ابو معقل کو تو ہلاک کردیا اور میں بیمار تھی، پس جب میں صحیح ہوئی تو ہمارا اونٹ جس پر حج کا ارادہ تھا، اسے ابو معقل نے اللہ کے راستے میں واقف کردیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو کیوں نہ اس پر نکلی، حج بھی اللہ کا راستہ ہی ہے، لیکن اب تجھ سے حج فوت ہوگیا ہے تو تو رمضان میں عمرہ کرلینا وہ بھی حج کی طرح ہی ہوگا۔ راوی کہتے ہیں : وہ کہتی تھیں : حج حج ہی ہے اور عمرہ عمرہ ہی ہے اور تحقیق اس بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : میں نہیں جانتی کہ میرے لیے خاص ہے کہ مجھ سے حج رہ گیا تھا یا لوگوں کے لیے عام ہے۔ یوسف کہتے ہیں : میں نے یہ حدیث مروان کو بیان کی، وہ معاویہ کے زمانہ میں مدینہ کے امیر تھے، اس نے کہا : تیرے ساتھ یہ حدیث کسی اور نے سنی ہے ؟ میں نے کہا : معقل بن ابی معقل نے اور وہ دیہاتی آدمی ہے۔ مروان نے اس کی طرف پیغام بھیجا۔ پس اس نے بھی میری طرح ہی حدیث بیان کی۔ میں نے کہا : مروان وہ عورت (ام معقل) اپنے گھر میں زندہ ہے۔ اس کے بعد وہ ہماری حدیث پر مطمئن نہ ہوا یہاں تک کہ وہ سوار ہو کر اس کی طرف گیا پھر اس نے یہ حدیث بیان کی۔
(۱۲۶۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عِیسَی بْنِ مَعْقِلِ بْنِ أَبِی مَعْقِلٍ الأَسَدِیِّ أَسَدُ خُزَیْمَۃَ أَخْبَرَنِی یُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلاَّمٍ عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ مَعْقِلٍ قَالَتْ : لَمَّا حَجَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَجَّۃَ الْوَدَاعِ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ یَتَہَیَّئُوا مَعَہُ فَتَجَہَّزْنَا فَأَصَابَتْنِی ہَذِہِ الْقَرْحَۃُ الْحَصْبَۃُ أَوِ الْجُدَرِیُّ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَیْنَا مِنْ ذَلِکَ مَا شَائَ اللَّہُ فَأَصَابَنِی مَرَضٌ وَأَصَابَ أَبَا مَعْقِلٍ فَأَمَّا أَبُو مَعْقِلٍ فَہَلَکَ فِیہَا قَالَتْ : وَکَانَ لَنَا جَمَلٌ یُنْضَحُ عَلَیْہِ نَخَلاَتٍ لَنَا ہُوَ وَکَانَ ہُوَ الَّذِی نُرِیدُ أَنْ نَحُجَّ عَلَیْہِ قَالَتْ فَجَعَلَہُ أَبُو مَعْقِلٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ قَالَتْ وَشُغِلْنَا بِمَا أَصَابَنَا وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ حَجَّتِہِ جِئْتُ حِینَ تَمَاثَلْتُ مِنْ وَجَعِی فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ : یَا أُمَّ مَعْقِلٍ مَا مَنَعَکِ أَنْ تَخْرُجِیْنَ مَعَنَا فِی وَجْہِنَا ہَذَا ۔ قَالَتْ قُلْتُ : وَاللَّہِ لَقَدْ تَہَیَّأْنَا لِذَلِکَ فَأَصَابَتْنَا ہَذِہِ الْقَرْحَۃُ فَہَلَکَ أَبُو مَعْقِلٍ وَأَصَابَنِی مِنْہَا مَرَضٌ فَہَذَا حِینَ صَحَحْتُ مِنْہَا وَکَانَ لَنَا جَمَلٌ ہُوَ الَّذِی نُرِیدُ أَنْ نَخْرُجَ عَلَیْہِ فَأَوْصَی بِہِ أَبُو مَعْقِلٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ قَالَ : فَہَلاَّ خَرَجْتِ عَلَیْہِ فَإِنَّ الْحَجَّ مِنْ سَبِیلِ اللَّہِ أَمَا إِذْ فَاتَتْکِ ہَذِہِ الْحَجَّۃُ مَعَنَا فَاعْتَمِرِی عُمْرَۃً فِی رَمَضَانَ فَإِنَّہَا کَحَجَّۃٍ ۔ قَالَ فَکَانَتْ تَقُولُ : الْحَجَّ حَجٌّ وَالْعُمْرَۃُ عُمْرَۃٌ۔ وَقَدْ قَالَ فِی ہَذَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَا أَدْرِی أَخَاصَّۃً لِی لِمَا فَاتَنِی مِنَ الْحَجِّ أَمْ ہِیَ لِلنَّاسِ عَامَّۃً ۔ قَالَ یُوسُفُ فَحَدَّثْتُ بِہَذَا الْحَدِیثِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ وَہُوَ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ فِی زَمَنِ مُعَاوِیَۃَ فَقَالَ : مَنْ سَمِعَ ہَذَا الْحَدِیثَ مَعَکَ مِنْہَا فَقُلْتُ : مَعْقِلُ بْنُ أَبِی مَعْقِلٍ وَہُوَ رَجُلٌ بَدَوِیٌّ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ مَرْوَانُ فَحَدَّثَہُ بِمِثْلِ مَا حَدَّثْتُہُ فَقُلْتُ : ِمَرْوَانُ إِنَّہَا حَیَّۃٌ فِی دَارِہَا بَعْدُ فَوَاللَّہِ مَا اطْمَأَنَّ إِلَی حَدِیثِنَا حَتَّی رَکِبَ إِلَیْہَا فِی النَّاسِ فَدَخَلَ عَلَیْہَا فَحَدَّثَتْہُ بِہَذَا الْحَدِیثِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৯
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں وصیت کا بیان
(١٢٦٠٤) انس بن سیرین فرماتے ہیں : میں نے ابن عمر (رض) سے کہا : میری طرف کچھ درہم بھیجے گئے ہیں کہ ان کو اللہ کے راستے میں وقف کروں۔ اور بیشک حاجیوں کا خرچہ ختم ہونے والا ہے، کیا ان میں تقسیم کر دوں ؟ ابن عمر (رض) نے کہا : ہاں۔ ان میں تقسیم کر دو ، وہ بھی اللہ کا راستہ ہی ہے۔ میں نے کہا : مجھے ڈر ہے کہ میرا دوست یہ ارادہ نہ رکھتا ہو کہ مجاہدوں میں تقسیم ہو۔ ابن عمر (رض) نے کہا : حاجیوں میں تقسیم کر دو ، وہ بھی فی سبیل اللہ ہی ہے۔ میں نے کہا : مجھے ڈر ہے کہ میں اس کا مخالف نہ بن جاؤں جس کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔ وہ غصہ میں آگئے اور کہا : تیرے لیے ہلاکت ہے، کیا وہ اللہ کے راستے میں نہیں ہیں ؟ یہ ابن عمر (رض) کا مذہب تھا۔
(۱۲۶۰۴) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ یَعْنِی ابْنَ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیرِینَ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : إِنَّہُ أُرْسِلَ إِلَیَّ بِدَرَاہِمَ أَجْعَلُہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَإِنَّ مِنَ الْحَاجِّ مِنْ بَیْنِ مُنْقَطِعٍ بِہِ وَبَیْنَ مَنْ قَدْ ذَہَبَتْ نَفَقَتُہُ أَفَأَجْعَلُہَا فِیہِمْ؟ قَالَ : نَعَمِ اجْعَلْہَا فِیہِمْ فَإِنَّہُ سَبِیلُ اللَّہِ قَالَ قُلْتُ : إِنِّی أَخَافُ أَنْ یَکُونَ صَاحِبِی إِنَّمَا أَرَادَ الْمُجَاہِدِینَ قَالَ : اجْعَلْہَا فِیہِمْ فَإِنَّہُمْ َبِیلُ اللَّہِ قَالَ قُلْتُ : إِنِّی أَخَافُ اللَّہَ أَنْ أُخَالِفَ مَا أُمِرْتُ بِہِ قَالَ فَغَضِبَ وَقَالَ : وَیْحَکَ أَوَلَیْسَ بِسَبِیلِ اللَّہِ۔ ہَذَا مَذْہَبٌ لاِبْنِ عُمَرَ۔
وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ : أَنَّہَا تُخْرَجُ فِی الْغَزْوِ۔ [صحیح]
وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ : أَنَّہَا تُخْرَجُ فِی الْغَزْوِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১০
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں وصیت کا بیان
(١٢٦٠٥) حضرت انس بن سیرین فرماتی ہیں : مجھے ایک آدمی نے اپنے مال کی وصیت کی کہ اسے اللہ کے راستے میں خرچ کر دوں، میں نے ابن عمر (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے کہا : بیشک حج بھی اللہ کے راستے سے ہی ہے اس میں وقف کر دو ۔
(۱۲۶۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ الشَّرِیفُ الإِمَامُ َخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیرِینَ قَالَ : أَوْصَی إِلَیَّ رَجُلٌ بِمَالِہِ أَنْ أَجْعَلَہُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ : إِنَّ الْحَجَّ مِنْ سَبِیلِ اللَّہِ فَاجْعَلْہُ فِیہِ۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১১
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آدمی کہے کہ میرا ثلث مال فلاں کے لیے ہے وہ جہاں مرضی خرچ کرلے اور جس کے لیے وصیت کی گئی ہے وہ جہاں مرضی خرچ کر دے میت کے رشتہ داروں پر، ہمسائیوں وغیرہ پر حتی کہ انھیں غنی کر دے
(١٢٦٠٦) اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انس بن مالک (رض) سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ ابو طلحہ مدینہ کے انصاریوں میں زیادہ مالدار تھے، ان کا پسندیدہ مال بیرحاء تھا اور وہ مسجد کے سامنے تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں داخل ہوتے تھے اور اس کا پانی پیتے تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی : { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ } ابو طلحہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں : { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ } اور بیشک میرے پسندیدہ اموال میں سے بیرحاء ہے اور وہ اللہ کے لیے صدقہ کیا ہے اور میں اس کی نیکی اور اس کا ذخیرہ ہونے کی امید کرتا ہوں۔ اللہ سے۔ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اسے رکھ لیں جہاں آپ کو اللہ حکم دے وقف کردینا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : شاباش بڑا نفع بخش مال ہے اور جو تو نے کہا میں نے اسے سن لیا اور میرے خیال میں اسے اپنے رشتہ داروں میں خرچ کر دو ۔ ابو طلحہ کہتے ہیں : میں نے کہا : میں ایسا ہی کرتا ہوں، اے اللہ کے رسول ! پس ابو طلحہ نے اپنے رشتہ داروں اور چچا کے لڑکوں میں تقسیم کردیا۔
(۱۲۶۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ : کَانَ أَبُو طَلْحَۃَ أَکْثَرَ أَنْصَارِیٍّ بِالْمَدِینَۃِ مَالاً وَکَانَ أَحَبَّ مَالِہِ إِلَیْہِ بَیْرُحَائَ وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَۃَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَدْخُلُہَا وَیَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِیہَا طَیِّبٍ قَالَ أَنَسٌ : فَلَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ } قَامَ أَبُو طَلْحَۃَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَقُولُ فِی کِتَابِہِ { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ } وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِی إِلَیَّ بَیْرُحَائَ وَإِنَّہَا صَدَقَۃٌ لِلَّہِ أَرْجُو بِرَّہَا وَذُخْرَہَا عِنْدَ اللَّہِ فَضَعْہَا یَا رَسُولَ اللَّہِ حَیْثُ أَرَاکَ اللَّہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : بَخٍ ذَلِکَ مَالٌ رَائِحٌ أَوْ رَابِحٌ ۔ شَکَّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَإِنِّی أَرَی أَنْ تَجْعَلَہَا فِی الأَقْرَبِینَ۔ فَقَالَ أَبُو طَلْحَۃَ : أَفْعَلُ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَسَمَہَا أَبُو طَلْحَۃَ فِی أَقَارِبِہِ وَبَنِی عَمِّہِ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۷۶۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১২
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آدمی کہے کہ میرا ثلث مال فلاں کے لیے ہے وہ جہاں مرضی خرچ کرلے اور جس کے لیے وصیت کی گئی ہے وہ جہاں مرضی خرچ کر دے میت کے رشتہ داروں پر، ہمسائیوں وغیرہ پر حتی کہ انھیں غنی کر دے
(١٢٦٠٧) حضرت مالک سے پچھلی روایت کی طرح منقول ہے، لیکن اس میں ” بریحا “ کے الفاظ ہیں۔
(۱۲۶۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابِجَرْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ فَذَکَرَہُ وَقَالَ بَرِیحَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৩
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آدمی کہے کہ میرا ثلث مال فلاں کے لیے ہے وہ جہاں مرضی خرچ کرلے اور جس کے لیے وصیت کی گئی ہے وہ جہاں مرضی خرچ کر دے میت کے رشتہ داروں پر، ہمسائیوں وغیرہ پر حتی کہ انھیں غنی کر دے
(١٢٦٠٨) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رضاعت سے وہی چیز حرام ہوجاتی ہے، جو ولادت سے حرام ہوجاتی ہے۔
(۱۲۶۰۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ َخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَۃِ ۔ [بخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৪
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آدمی کہے کہ میرا ثلث مال فلاں کے لیے ہے وہ جہاں مرضی خرچ کرلے اور جس کے لیے وصیت کی گئی ہے وہ جہاں مرضی خرچ کر دے میت کے رشتہ داروں پر، ہمسائیوں وغیرہ پر حتی کہ انھیں غنی کر دے
(١٢٦٠٩) ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل نے مجھے ہمسائے کے بارے میں وصیت کی یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ اسے وارث بنا دے گا۔
(۱۲۶۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَتَکِیُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَا زَالَ جِبْرِیلُ یُوصِینِی بِالْجَارِ حَتَّی ظَنَنْتُ إِنَّہُ لَیُوَرِّثُہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ مَالِکٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۶۰۱۴]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ مَالِکٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۶۰۱۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৫
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آدمی کہے کہ میرا ثلث مال فلاں کے لیے ہے وہ جہاں مرضی خرچ کرلے اور جس کے لیے وصیت کی گئی ہے وہ جہاں مرضی خرچ کر دے میت کے رشتہ داروں پر، ہمسائیوں وغیرہ پر حتی کہ انھیں غنی کر دے
(١٢٦١٠) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے دو ہمسائے ہیں دونوں میں سے کسے ہدیہ دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کا دروازہ تیرے زیادہ نزدیک ہے۔
(۱۲۶۱۰) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ َخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی عِمْرَانَ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ لِی جَارَیْنِ فَإِلَی أَیِّہِمَا أُہْدِی؟ قَالَ : إِلَی أَقْرَبِہِمَا مِنْکِ بَابًا ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْہَالٍ وَغَیْرِہِ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۲۵۹]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْہَالٍ وَغَیْرِہِ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۲۵۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৬
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آدمی کہے کہ میرا ثلث مال فلاں کے لیے ہے وہ جہاں مرضی خرچ کرلے اور جس کے لیے وصیت کی گئی ہے وہ جہاں مرضی خرچ کر دے میت کے رشتہ داروں پر، ہمسائیوں وغیرہ پر حتی کہ انھیں غنی کر دے
(١٢٦١١) حضرت عائشہ (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمسائے کی کیا حد ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چالیس گھروں تک۔
(۱۲۶۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ الدِّینَوَرِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ دَاخِرَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ الْمُقَدَّمِیُّ قَالَ حَدَّثَتْنَا دَلاَلُ بِنْتُ أَبِی الْمُدِلِ قَالَتْ حَدَّثَتْنَا الصَّہْبَائُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا حَقُّ أَوْ قَالَ مَا حَدُّ الْجِوَارِ؟ قَالَ : أَرْبَعُونَ دَارًا ۔ [ضعیف جداً]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৭
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آدمی کہے کہ میرا ثلث مال فلاں کے لیے ہے وہ جہاں مرضی خرچ کرلے اور جس کے لیے وصیت کی گئی ہے وہ جہاں مرضی خرچ کر دے میت کے رشتہ داروں پر، ہمسائیوں وغیرہ پر حتی کہ انھیں غنی کر دے
(١٢٦١٢) حضرت عائشہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے جبرائیل نے ہمسائے کے بارے میں چالیس گھروں تک وصیت کی، ہر طرف سے دس دس گھر ہیں۔ اسماعیل نے کہا : دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے۔
(ب) ابن شہاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرسلاً نقل فرماتے ہیں : چالیس گھر۔ ابن شہاب سے کہا گیا : کیسے چالیس گھر ؟ انھوں نے کہا : دائیں، بائیں، پیچھے اور آگے کی جانب سے۔
(ب) ابن شہاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرسلاً نقل فرماتے ہیں : چالیس گھر۔ ابن شہاب سے کہا گیا : کیسے چالیس گھر ؟ انھوں نے کہا : دائیں، بائیں، پیچھے اور آگے کی جانب سے۔
(۱۲۶۱۲) وَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ السَّرَّاجُ َخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْقَاسِمُ بْنُ غَانِمِ بْنِ حَمُّوَیْہِ الطَّوِیلُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ سَیْفٍ حَدَّثَتْنِی سُکَیْنَۃُ قَالَتْ أَخْبَرَتْنِی أُمُّ ہَانِئٍ بِنْتُ أَبِی صُفْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : أَوْصَانِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ بِالْجَارِ إِلَی أَرْبَعِینَ دَارًا عَشْرَۃٌ مِنْ ہَا ہُنَا وَعَشْرَۃٌ مِنْ ہَا ہُنَا وَعَشْرَۃٌ مِنْ ہَا ہُنَا وَعَشْرَۃٌ مِنْ ہَا ہُنَا ۔ قَالَ إِسْمَاعِیلُ عَنْ یَمِینِہِ وَعَنْ یَسَارِہِ وَقُبَالَہُ وَخَلْفَہُ ۔
فِی ہَذَیْنِ الإِسْنَادَیْنِ ضَعْفٌ وَإِنَّمَا یُعْرَفُ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً أَرْبَعِینَ دَارًا جَارٌ قِیلَ لاِبْنِ شِہَابٍ : وَکَیْفَ أَرْبَعِینَ دَارًا قَالَ : أَرْبَعِینَ عَنْ یَمِینِہِ وَعَنْ یَسَارِہِ وَخَلْفَہُ وَبَیْنَ یَدَیْہِ أَوْرَدَہُ أَبُو دَاوُدَ بِإِسْنَادِہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ فِی الْمَرَاسِیلِ۔ [ضعیف جداً]
فِی ہَذَیْنِ الإِسْنَادَیْنِ ضَعْفٌ وَإِنَّمَا یُعْرَفُ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً أَرْبَعِینَ دَارًا جَارٌ قِیلَ لاِبْنِ شِہَابٍ : وَکَیْفَ أَرْبَعِینَ دَارًا قَالَ : أَرْبَعِینَ عَنْ یَمِینِہِ وَعَنْ یَسَارِہِ وَخَلْفَہُ وَبَیْنَ یَدَیْہِ أَوْرَدَہُ أَبُو دَاوُدَ بِإِسْنَادِہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ فِی الْمَرَاسِیلِ۔ [ضعیف جداً]
তাহকীক: