আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
وصیت کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫৩ টি
হাদীস নং: ১২৬১৮
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس آدمی کے لیے وصیت ہو وہ اسے قبول کرے یا ردّ کردے
(١٢٦١٣) ابوقتادہ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مدینہ میں آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے براء بن معرور کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا : وہ فوت ہوگئے ہیں اور آپ کے لیے ثلث کی وصیت کر گئے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اپنے ثلث کو اس کی اولاد پر لوٹاتا ہوں۔
(۱۲۶۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ َخْبَرَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- حِینَ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ سَأَلَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ مَعْرُورٍ فَقَالُوا : تُوُفِّیَ وَأَوْصَی بِثُلُثِہِ لَکَ قَالَ: قَدْ رَدَدْتُ ثُلُثَہُ عَلَی وَلَدِہِ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৯
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مریض کے نکاح کا بیان
(١٢٦١٤) ابن عمر (رض) کے غلام نافع فرماتے ہیں کہحفص بن مغیرہ کی بیٹی عبداللہ بن ابی ربیعہ کے پاس تھی۔ اس نے اسے طلاق دے دی، پھر عمر بن خطاب (رض) نے اس سے شادی کرلی، آپ کو بتایا گیا کہ وہ بانجھ ہے، اولاد کے قابل نہیں، آپ نے مجامعت سے پہلے ہی اسے طلاق دے دی۔ وہ حضرت عمر کی زندگی میں ٹھہری رہی اور کچھ زمانہ حضرت عثمان (رض) کی خلافت کا بھی، پھر اس نے عبداللہ بن ربیعہ سے شادی کرلی، تاکہ وراثت میں اس کی بیویوں کے ساتھ حق دار بن جائے اور ان دونوں میں رشتہ داری بھی تھی۔
(۱۲۶۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا لرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ َخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ : کَانَتِ ابْنَۃُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ عِنْدَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ فَطَلَّقَہَا تَطْلِیقَۃً ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَزَوَّجَہَا فَحُدِّثَ أَنَّہَا عَاقِرٌ لاَ تَلِدُ فَطَلَّقَہَا قَبْلَ أَنْ یُجَامِعَہَا فَمَکَثَتْ حَیَاۃَ عُمَرَ وَبَعْضَ خِلاَفَۃِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا ثُمَّ تَزَوَّجَہَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی رَبِیعَۃَ وَہُوَ مَرِیضٌ لِتُشْرِکَ نِسَائَ ہُ فِی الْمِیرَاثِ وَکَانَتْ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا قَرَابَۃٌ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২০
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مریض کے نکاح کا بیان
(١٢٦١٥) عمرو بن دینار نے عکرمہ بن خالد سے سنا، وہ کہتے تھے کہ عبدالرحمن بن ام حکم نے اپنی بیماری میں اپنی بیوی کو وراثت سے نکالنے کا ارادہ کیا، اس نے انکار کردیا۔ پس عبدالرحمن نے اس کے ساتھ تین اور عورتوں سے نکاح کرلیا اور ان کا حق مہر ہر ایک کے لیے ایک ایک ہزار دینار مقرر کردیا اور عبدالملک بن مروان نے اس کی اجازت دے دی اور اس (پہلی بیوی) کو ان کے ساتھ ثمن میں شریک کیا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اس کا مطلب ہے ان جیسا حق مہر اور امام شافعی (رح) فرماتی ہیں : مجھے معاذ بن جبل سے یہ بات پہنچی ہے کہ انھوں نے اپنی وفات والی مرض میں کہا تھا، میری شادی کر دو ، میں اللہ سے اس حال میں نہیں ملنا چاہتا کہ میں کنوارا ہوں۔
(۱۲۶۱۵) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ أَنَّہُ سَمِعَ عِکْرِمَۃَ بْنَ خَالِدٍ یَقُولُ : أَرَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أُمِّ الْحَکَمِ فِی شَکْوَاہُ أَنْ یُخْرِجَ امْرَأَتَہُ مِنْ مِیرَاثِہَا فَأَبَتْ فَنَکَحَ عَلَیْہَا ثَلاَثَ نِسْوَۃٍ وَأَصْدَقَہُنَّ أَلْفَ دِینَارٍ کُلَّ امْرَأَۃٍ مِنْہُنَّ فَأَجَازَ ذَلِکَ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ وَشَرَکَ بَیْنَہُنَّ فِی الثُّمُنِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ : أُرَی ذَلِکَ صَدَاقُ مِثْلِہِنَّ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَبَلَغَنِی أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ : زَوِّجُونِی لاَ أَلْقَی اللَّہَ وَأَنَا أَعْزَبُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الشافعی فی الام ۴/ ۱۰۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২১
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آزادی کی وصیت جب ثلث اسے اٹھانے سے کم ہو
(١٢٦١٦) سعید بن مسیب کہتے ہیں : سنت گزر چکی ہے کہ غلام آزاد کرنے سے وصیت کی ابتدا کی جائے۔
(۱۲۶۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلُوسَا الأَسَدَابَاذِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ : بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : مَضَتِ السُّنَّۃُ أَنْ یُبْدَأَ بِالْعَتَاقَۃِ فِی الْوَصِیَّۃِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২২
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آزادی کی وصیت جب ثلث اسے اٹھانے سے کم ہو
(١٢٦١٧) ابراہیم سے روایت ہے کہ جب آدمی وصیت کرے اور غلام آزاد کرے تو غلام آزاد کرنے سے ابتداء کی جائے گی۔
(۱۲۶۱۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَرْدَسْتَانِیُّ َخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ : إِذَا أَوْصَی الرَّجُلُ بِوَصَایَا وَبِعَتَاقَۃٍ یُبْدَأُ بِالْعَتَاقَۃِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২৩
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آزادی کی وصیت جب ثلث اسے اٹھانے سے کم ہو
(١٢٦١٨) ابن عمر (رض) سے بھی اسی طرح منقول ہے کہ غلام آزاد کرنے سے ابتدا کی جائے گی۔
(۱۲۶۱۸) وَعَنْ سُفْیَانَ عَنِ الأَشْعَثِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَ ذَلِکَ یُبْدَأُ بِالْعَتَاقَۃِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২৪
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آزادی کی وصیت جب ثلث اسے اٹھانے سے کم ہو
(١٢٦١٩) شریح کہتے ہیں : وصیت سے پہلے غلام آزاد کرنے سے ابتداء کی جائے گی۔
(۱۲۶۱۹) وَعَنْ سُفْیَانَ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْحَکَمِ عَنْ شُرَیْحٍ قَالَ : یُبْدَأُ بِالْعَتَاقَۃِ قَبْلَ الْوَصَایَا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২৫
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آزادی کی وصیت جب ثلث اسے اٹھانے سے کم ہو
(١٢٦٢٠) عطاء سے منقول ہے کہ غلام آزاد کرنے سے ابتدا کی جائے گی۔
(۱۲۶۲۰) وَعَنْ سُفْیَانَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : یُبْدَأُ بِالْعَتَاقَۃِ۔[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২৬
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آزادی کی وصیت جب ثلث اسے اٹھانے سے کم ہو
(١٢٦٢١) حسن سی منقول ہے کہ غلام آزاد کرنے سے ابتدا کی جائے گی۔
(۱۲۶۲۱) وَعَنْ سُفْیَانَ عَنْ ہِشَامٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : یُبْدَأُ بِالْعَتَاقَۃِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২৭
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آزادی کی وصیت جب ثلث اسے اٹھانے سے کم ہو
(١٢٦٢٢) ابن سیرین سے روایت ہے کہ جب کوئی وصیتیں کرے اور غلام آزاد کرے تو حصوں کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا۔
(۱۲۶۲۲) وَعَنْ سُفْیَانَ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ : إِذَا أَوْصَی بِوَصَایَا وَبِعَتَاقَۃٍ فَبِالْحِصَصِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২৮
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آزادی کی وصیت جب ثلث اسے اٹھانے سے کم ہو
(١٢٦٢٣) حضرت شعبی (رح) سے ابن سیرین کے قول کی طرح منقول ہے۔
(۱۲۶۲۳) وَعَنْ سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ وَمُطَرِّفٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ مِثْلَ قَوْلِ ابْنِ سِیرِینَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২৯
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آزادی کی وصیت جب ثلث اسے اٹھانے سے کم ہو
(١٢٦٢٤) حضرت عمر (رض) نی فرمایا : جب وصیت ہو اور غلام ہو تو حصے کر دو ۔
(۱۲۶۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنْ لَیْثٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا کَانَتْ وَصِیَّۃٌ وَعَتَاقَۃٌ تَحَاصُّوا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৩০
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آزادی کی وصیت جب ثلث اسے اٹھانے سے کم ہو
(١٢٦٢٥) ایوب، محمد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے وصیت کے بارے میں فرمایا : جسمیں آزادی ہو وہ ثلث سے زائد ہو کہ ثلث ان میں حصوں کے ساتھ ہوگا۔
(۱۲۶۲۵) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّہُ قَالَ فِی الْوَصِیَّۃِ یَکُونُ فِیہَا الْعِتْقُ فَتَزِیدُ عَلَی الثُّلُثِ قَالَ : الثُّلُثُ بَیْنَہُمْ بِالْحِصَصِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৩১
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آزادی کی وصیت جب ثلث اسے اٹھانے سے کم ہو
(١٢٦٢٦) عطاء کہتے ہیں حصوں کے ساتھ۔
(۱۲۶۲۶) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : بِالْحِصَصِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৩২
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ میت کی طرف سے حج اور قرض ادا کرنے کا بیان
(١٢٦٢٧) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس آیا، اس نے کہا : میری بہن نے نذر مانی تھی کہ وہ حج کرے گی اور وہ فوت ہوگئی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اس پر قرض ہوتا تو ادا کرتا ؟ اس نے کہا : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کا حق ادا کرو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔
(۱۲۶۲۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ جَعْفَرُ بْنُ إِیَاسٍ أَخْبَرَنِی عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ إِنَّ أُخْتِی نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّہَا مَاتَتْ قَالَ : لَوْ کَانَ عَلَیْہَا دَیْنٌ أَکُنْتَ قَاضِیَہُ ۔ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ فَقَالَ : فَاقْضُوا اللَّہَ فَہُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَائِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۸۵۲]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۸۵۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৩৩
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ میت کی طرف سے حج اور قرض ادا کرنے کا بیان
(١٢٦٢٨) ابوالغوث بن حصین فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے باپ کو اللہ کے فریضہ حج نے پا لیا ہے اور وہ بوڑھے ہیں۔ سواری کی طاقت نہیں رکھتے، آپ ان کی طرف سیحج کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں اس کی طرف سے حج کیا جائے گا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمارے گھر والوں میں سے جو بھی فوت ہوگیا اور اس نے حج کی وصیت نہ کی ہو کیا اس کی طرف سے بھی حج کیا جائے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : ہاں اور تمہیں بھی اجر دیا جائے گا، اس نے کہا : اس کی طرف سے صدقہ کیا جائے اور روزے رکھے جائیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں اور صدقہ افضل ہے، اسی طرح نذر میں اور مسجد کی طرف چلنے میں۔
(۱۲۶۲۸) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ َخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ رُزَیْقٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائً الْخُرَاسَانِیَّ عَنْ أَبِی الْغَوْثِ بْنِ الْحُصَیْنِ الْخَثْعَمِیِّ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَبِی أَدْرَکَتْہُ فَرِیضَۃُ اللَّہِ فِی الْحَجِّ وَہُوَ شَیْخٌ کَبِیرٌ لاَ یَتَمَالَکُ عَلَی الرَّاحِلَۃِ فَمَا تَرَی الْحَجَّ عَنْہُ۔ قَالَ : نَعَمْ فَحُجَّ عَنْہُ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَکَذَلِکَ مَنْ مَاتَ مِنْ أَہْلِینَا وَلَمْ یُوصِ بِالْحَجِّ فَنَحَجُّ عَنْہُ۔ قَالَ : نَعَمْ وَتُؤْجَرُونَ ۔ قَالَ : وَیُتَصَدَّقُ عَنْہُ وَیُصَامُ عَنْہُ قَالَ : نَعَمْ وَالصَّدَقَۃُ أَفْضَلُ ۔ وَکَذَلِکَ فِی النَّذْرِ وَالْمَشْیِ إِلَی الْمَسَاجِدِ۔
ہَذَا مُرْسَلٌ بَیْنَ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ وَمَنْ فَوْقَہُ وَمَعْنَاہُ مَوْجُودٌ فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ قَبْلَہُ۔
[ضعیف۔ تقدم برقم ۸۶۷۳]
ہَذَا مُرْسَلٌ بَیْنَ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ وَمَنْ فَوْقَہُ وَمَعْنَاہُ مَوْجُودٌ فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ قَبْلَہُ۔
[ضعیف۔ تقدم برقم ۸۶۷۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৩৪
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ میت کی طرف سے صدقہ کا بیان
(١٢٦٢٩) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ میری ماں کی اچانک موت واقع ہوگئی ہے اور میرا خیال ہے کہ اس کو بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ صدقہ کرتی۔ اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کر دوں تو اس کے لیے اجر ہوگا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔ مالک کے الفاظ یہ ہیں : میرا گمان ہے کہ اگر وہ بات کرنے کا موقع پاتی تو صدقہ کرتی، کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کر دوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔
(۱۲۶۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ َخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنِی ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِیُّ وَیَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَالِمٍ وَمَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّ أُمِّی افْتُلِتَتْ نَفْسُہَا وَأَظُنُّہَا لَوْ تَکَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَہَلْ لَہَا أَجْرٌ فِی أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْہَا۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : نَعَمْ ۔ إِلاَّ أَنَّ مَالِکًا قَالَ فِی الْحَدِیثِ وَأُرَاہَا لَوْ تَکَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْہَا؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ مَالِکٍ وأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۳۸۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৩৫
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ میت کی طرف سے صدقہ کا بیان
(١٢٦٣٠) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : میری ماں کی اچانک موت واقع ہوگئی۔ میرا گمان ہے کہ اگر اسے بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ صدقہ کرتی۔ اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کر دوں تو اس کے لیے اجر ہوگا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔
(۱۲۶۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاق قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ َخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ َخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُؤَمَّلِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی کَثِیرٍ أَخْبَرَنِی ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- إِنَّ أُمِّی افْتُلِتَتْ نَفْسُہَا وَأَظُنُّہَا لَوْ تَکَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَہَلْ لَہَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقَتْ عَنْہَا؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَحْدَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ۔
[صحیح]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ َخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُؤَمَّلِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی کَثِیرٍ أَخْبَرَنِی ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- إِنَّ أُمِّی افْتُلِتَتْ نَفْسُہَا وَأَظُنُّہَا لَوْ تَکَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَہَلْ لَہَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقَتْ عَنْہَا؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَحْدَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ۔
[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৩৬
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ میت کی طرف سے صدقہ کا بیان
(١٢٦٣١) ابن عباس (رض) کے غلام عکرمہ کہتے ہیں : ہمیں ابن عباس (رض) نے خبر دی کہ سعد بن عبادہ کی ماں فوت ہوگئی اور وہ گھر نہ تھے، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میری ماں فوت ہوگئی ہے اور میں اس وقت پاس نہ تھا۔ اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کر دوں، تو اسے نفع ملے گا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔ سعد نے کہا : میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخراف والا باغ اس کی طرف سے صدقہ ہے۔
(۱۲۶۳۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو صَادِقٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی الْفَوَارِسِ الصَّیْدَلاَنِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی یَعْلَی أَنَّہُ سَمِعَ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَقُولُ أَنْبَأنَا ابْنُ عَبَّاسٍ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ تُوُفِّیَتْ أُمُّہُ وَہُوَ غَائِبٌ عَنْہَا فَأَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أُمِّی تُوُفِّیَتْ وَأَنَا غَائِبٌ عَنْہَا أَیَنْفَعُہَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْہَا؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : فَإِنِّی أُشْہِدُکَ أَنَّ حَائِطِی الْمِخْرَافَ صَدَقَۃٌ عَنْہَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِیمِ عَنْ رَوْحٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۲۸۵۶]
[صحیح۔ بخاری ۲۸۵۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৩৭
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ میت کی طرف سے صدقہ کا بیان
(١٢٦٣٢) سعید بن سعد بن عبادہ کہتے ہیں : سعد بن عبادہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کسی غزوہ میں تھے کہ ان کی والدہ کی موت کا وقت آگیا۔ اسے کہا گیا : وصیت کر دو ، اس نے کہا : کس چیز کی وصیت کروں ؟ مال تو سعد کا ہے، وہ سعد کے آنے سے پہلے ہی فوت ہوگئیں، جب سعد آئے ان کو والدہ کے معاملہ کی خبر دی گئی۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ کو والدہ کے بارے بتایا اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو اسے نفع دے گا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں، سعد نے کہا : فلاں صدقہ ہے، اس کا نام لیا۔
(۱۲۶۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْر بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ َخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ َخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ سَعِیدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی بَعْضِ مَغَازِیہِ فَحَضَرَتْ أُمَّ سَعْدٍ الْوَفَاۃُ فَقِیلَ لَہَا : أَوْصِی۔ فَقَالَتْ : فِیمَ أَوْصِی إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ یَقْدَمَ سَعْدٌ فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدٌ فَخُبِّرَ بِالَّذِی کَانَ مِنْ شَأْنِ أُمِّہِ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَخْبَرَہُ بِالَّذِی کَانَ مِنْ شَأْنِ أُمِّہِ وَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیَنْفَعُہَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : نَعَمْ ۔ فَقَالَ سَعْدٌ : حَائِطُ کَذَا وَکَذَا سَمَّاہُ صَدَقَۃٌ عَنْہَا۔ [صحیح۔ موطا ۲۲۱۱]
তাহকীক: