আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

وصیت کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৫৩ টি

হাদীস নং: ১২৬৫৮
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ قاتل کے لیے وصیت کا بیان
(١٢٦٥٣) عبداللہ بن احمد بن حنبل نے اپنے والدکو کہتے ہوئے سنا، شیخ مبشر بن عبید ہیں اور حمص کے رہنے والے تھے۔ میرا گمان ہے کہ وہ کوفی تھے۔ ان سے بقیہ اور ابو المغیرہ نے روایت کیا ہے، ان کی احادیث موضوع اور جھوٹی ہیں۔ امام بخاری (رح) نے مبشر بن عبید کو منکر الحدیث کہا ہے۔
(۱۲۶۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ : شَیْخٌ یُقَالُ لَہُ مُبَشِّرُ بْنُ عُبَیْدٍ کَانَ یَکُونُ بِحِمْصَ أَظُنُّہُ کُوفِیٌّ رَوَی عَنْہُ بَقِیَّۃُ وَأَبُو الْمُغِیرَۃِ أَحَادِیثُہُ أَحَادِیثُ مَوْضُوعَۃٌ کَذِبٌ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ حَمَّادٍ قَالَ قَالَ الْبُخَارِیُّ مُبَشِّرُ بْنُ عُبَیْدٍ مُنْکَرُ الْحَدِیثِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৫৯
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت میں رجوع کرنا اور اسے بدلنے کا بیان
(١٢٦٥٤) حضرت عائشہ (رض) فرماتی تھیں کہ آدمی کو اپنی وصیت میں لکھنا چاہیے کہ اگر کوئی واقعہ میری موت سے پہلے ہوا تو میں اپنی وصیت کو بدل سکتا ہوں۔

(ب) عمر بن خطاب (رض) سے نقل کیا گیا ہے، آپ نے کہا : آدمی جب چاہے وصیت بدل سکتا ہے۔
(۱۲۶۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : لِیَکْتُبِ الرَّجُلُ فِی وَصِیَّتِہِ إِنْ حَدَثَ بِی حَدَثُ مَوْتِی قَبْلَ أَنْ أُغَیِّرَ وَصِیَّتِی ہَذِہِ۔

وَرُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : یُغَیِّرُ الرَّجُلُ مَا شَائَ مِنَ الْوَصِیَّۃِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬০
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت میں رجوع کرنا اور اسے بدلنے کا بیان
(١٢٦٥٥) حسن سے روایت ہے کہ آدمی وصیت کرے تو وہ جب چاہے اپنی وصیت بدل سکتا ہے، حسن سے کہا : گیا آزاد کردہ غلام کے بارے میں ؟ حسن نے کہا : غلام ہو یا کوئی بھی چیز۔
(۱۲۶۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ َخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی عَنْ ہِشَامٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : إِذَا أَوْصَی الرَّجُلُ فَإِنَّہُ یُغَیِّرُ وَصِیَّتَہُ مَا شَائَ فَقِیلَ لَہُ : الْعَتَاقَۃُ قَالَ : الْعَتَاقَۃُ وَغَیْرُ الْعَتَاقَۃِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬১
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اس بیماری کا بیان جس میں عطیہ جائز نہیں ہے سعد بن ابی وقاص (رض) کی حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیماری کی وجہ سے میری عیادت کی میں نے موت سے عافیت مانگی۔
(١٢٦٥٦) عمرو بن میمون فرماتے ہیں : میں نے عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا زخم سے پہلے مدینہ میں ان کے نیزہ لگنے والی حدیث بیان کی، کہا : ان کو گھر لایا گیا تو ہم بھی ساتھ تھے۔ ایک کہنے والے نے کہا : کوئی حرج نہیں اور ایک نے کہا : ہم کو ڈر ہے آپ (رض) (عمر) کا نبیذ لائی گئی، آپ کو پلائی گئی، پس وہ زخم سے باہر نکل آئی۔ پھر دودھ پلایا، وہ بھی زخم سے باہر نکل آیا، انھوں نے پہچان لیا کہ وہ فوت ہوگئے ہیں، پھر عمرو بن میمون نے شوریٰ کے معاملہ والی وصیت کا ذکر کیا۔
(۱۲۶۵۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ َخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ قَالَ : رَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَبْلَ أَنْ یُصَابَ بِأَیَّامٍ بِالْمَدِینَۃِ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی طَعْنِہِ قَالَ : فَاحْتُمِلَ إِلَی بَیْتِہِ فَانْطَلَقْنَا مَعَہُ قَالَ فَقَائِلٌ یَقُولُ لاَ بَأْسَ وَقَائِلٌ یَقُولُ نَخَافُ عَلَیْہِ فَأُتِیَ بِنَبِیذٍ فَشَرِبَہُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِہِ ثُمَّ أُتِیَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَہُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِہِ فَعَرَفُوا أَنَّہُ مَیِّتٌ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی وَصِیَّتِہِ وَفِی أَمْرِ الشُّورَی۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۷۰۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬২
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ چھوٹے بچے کی وصیت کا بیان
(١٢٦٥٧) عمرو بن سلیم رزقی فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) سے کہا گیا : یہاں ایک نابالغ بچہ ہے غسان کا اور اس کے ورثاء شام میں ہیں اور وہ مالدار ہے اور یہاں سوائے اس کے چچا کی بیٹی کے اور کوئی نہیں ہے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : اسے چاہیے کہ چچا کی بیٹی کے لیے وصیت کر دے۔ پس اس نے اس کے لیے مال کی وصیت کردی، جسے بئر جشم کہا جاتا تھا، عمرو بن سلیم کہتے ہیں : میں نے وہ مال تیس ہزار کا بیچا اور اس کے چچا کی بیٹی جس کے لیے وصیت کی تھی اس کا نام ام عمرو بن سلیم تھا۔ شریح اور عبداللہ بن عتبہ سے بیان کیا گیا ہے کہ دونوں نے بچے کی وصیت کی اجازت دی ہے اور دونوں نے کہا : جو حق کو پہنچ گیا، ہم نے اسے اجازت دی ہے اور امام شافعی (رح) نے حضرت عمر (رض) والی حدیث کے ثابت ہونے تک بچے والی وصیت کو معلق رکھا اور حضرت عمر (رض) والی خبر منقطع ہے۔
(۱۲۶۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ َخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ سُلَیْمٍ الزُّرَقِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ قِیلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّ ہَا ہُنَا غُلاَمًا یَفَاعًا لَمْ یَحْتَلِمْ مِنْ غَسَّانَ وَوَارِثُہُ بِالشَّامِ وَہُوَ ذُو مَالٍ وَلَیْسَ لَہُ ہَا ہُنَا إِلاَّ ابْنَۃُ عَمٍّ لَہُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَلْیُوصِ لَہَا فَأَوْصَی لَہَا بِمَالٍ یُقَالُ لَہُ بِئْرُ جُشَمَ قَالَ عَمْرُو بْنُ سُلَیْمٍ فَبِعْتُ ذَلِکَ الْمَالَ بِثَلاَثِینَ أَلْفًا وَابْنَۃُ عَمِّہِ الَّتِی أَوْصَی لَہَا ہِیَ أُمُّ عَمْرِو بْنِ سُلَیْمٍ۔

وَیُذْکَرُ عَنْ شُرَیْحٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ أَنَّہُمَا أَجَازَا وَصِیَّۃَ الصَّغِیرِ وَقَالاَ : مَنْ أَصَابَ الْحَقَّ أَجَزْنَاہُ والشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ عَلَقَّ جَوَازَ وَصِیَّتِہِ وَتَدْبِیرِہِ بِثُبُوتِ الْخَبَرِ فِیہَا عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَالْخَبَرُ مُنْقَطِعٌ فَعَمْرُو بْنُ سُلَیْمٍ الزُّرَقِیُّ لَمْ یُدْرِکْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلاَّ أَنَّہُ ذَکَرَ فِی الْخَبَرِ انْتِسَابَہُ إِلَی صَاحِبَۃِ الْقِصَّۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۴۵۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬৩
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ غلام کی وصیت کا بیان
(١٢٦٥٨) جندب سے منقول ہے کہ طہمان نے ابن عباس (رض) سے سوال کیا : کیا غلام وصیت کرسکتا ہے، ابن عباس (رض) نے کہا : نہیں۔
(۱۲۶۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ شَبِیبِ بْنِ غَرْقَدَۃَ عَنْ جُنْدُبٍ قَالَ : سَأَلَ طَہْمَانُ ابْنَ عَبَّاسٍ أَیُوصِی الْعَبْدُ قَالَ : لاَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ عبدالرزاق ۱۶۴۶۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬৪
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت کرنے والوں کا بیان
(١٢٦٥٩) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے زبیر، عثمان بن عفان، عبدالرحمن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، مقداد بن اسود اور مطیع بن اسود کے لیے وصیت کی۔ مطیع سے کہا : میں تیری وصیت قبول نہیں کرتا۔ مطیع نے انھیں کہا : میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ میں تیری پیروی نہ کروں گا بلکہ عمر بن خطاب (رض) کی پیروی کروں گا، میں نے عمر (رض) سے سنا ہے، وہ کہتے تھے : اگر میں نے ترکہ چھوڑا یا عہد کیا تو زبیر بن عوام کی طرف عہد کروں گا، کیونکہ وہ دین کے ارکان میں سے ایک رکن ہے۔
(۱۲۶۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ َخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَوْصَی إِلَی الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ وَالْمِقْدَادُ بْنُ الأَسْوَدِ وَمُطِیعُ بْنُ الأَسْوَدِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَقَالَ لِمُطِیعٍ : لاَ أَقْبَلُ وَصِیَّتَکَ فَقَالَ لَہُ مُطِیعٌ : أَنْشُدُکُ اللَّہَ وَالرَّحِمَ وَاللَّہِ مَا أَتَّبِعُ فِی ذَلِکَ إِلاَّ رَأْیَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنِّی سَمِعْتُ عُمَرَ یَقُولُ : لَوْ تَرَکْتُ تَرِکَۃً أَوْ عَہِدْتُ عَہْدًا إِلَی أَحَدٍ لَعَہِدْتُ إِلَی الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ إِنَّہُ رُکْنٌ مِنْ أَرْکَانِ الدِّینِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬৫
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت کرنے والوں کا بیان
(١٢٦٦٠) عامر بن عبداللہ کہتے ہیں : عبداللہ بن مسعود (رض) نے وصیت کی اور لکھا : میری اللہ کے لیے، زبیر بن عوام اور اس کے بیٹے عبداللہ بن زبیر کی طرف ہے۔ وہ دونوں ہر صورت میں میرے ترکہ کے والی اور قاضی ہوں گے اور میری بیٹیوں کی شادی ان کی اجازت کے بغیر نہیں کریں گے اور زینب کو اس سے نہ روکا جائے گا۔
(۱۲۶۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ َخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ أَبِی عُمَیْسٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : أَوْصَی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ فَکَتَبَ إِنَّ وَصِیَّتِی إِلَی اللَّہِ وَإِلَی الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَإِلَی ابْنِہِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ وَإِنَّہُمَا فِی حِلٍّ وَبِلٍّ فِیمَا وَلِیَا وَقَضَیَا فِی تَرِکَتِی وَإِنَّہُ لاَ تُزَوَّجُ امْرَأَۃٌ مِنْ بَنَاتِی إِلاَّ بِإِذْنِہِمَا لاَ تُحْضَنُ عَنْ ذَلِکَ زَیْنَبُ۔ قَوْلُہُ لاَ تُحْضَنُ یَعْنِی لاَ تُحْجَبُ عَنْہُ وَلاَ یُقْطَعُ دُونَہَا قَالَہُ أَبُو عُبَیْدٍ الْقَاسِمُ۔ [حسن۔ الارواء ۱۶۶۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬৬
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس نے پسند کیا وصیتوں میں دخل اندازی ترک کرنا کمزوری کی وجہ سے
(١٢٦٦١) حضرت ابو ذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوذر میں تجھے کمزور سمجھتا ہوں اور میں تیرے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔

(٣٥) باب مَنْ اخْتَارَ الدُّخُولَ فِیہَا وَالْقِیَامَ بِکَفَالَۃِ الْیَتَامَی لِمَنْ یَرَی مِنْ نَفْسِہِ قُوَّۃً وَأَمَانَۃً

جس نے وصیتوں میں دخل اندازی کرنا پسند کیا اور یتیم کی کفالت کرنا قوت اور امانت کی وجہ سے
(۱۲۶۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْخَوْلاَنِیُّ بِمِصْرَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی أَیُّوبَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی جَعْفَرٍ الْقُرَشِیِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی سَالِمٍ الْجَیْشَانِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : یَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّی أَرَاکَ ضَعِیفًا وَإِنِّی أُحِبُّ لَکَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِی لاَ تَأَمَّرَنَّ عَلَی اثْنَیْنِ وَلاَ تَوَلَّیَنَّ مَالَ یَتِیمٍ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الدُّورِیِّ

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۸۲۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬৭
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس نے پسند کیا وصیتوں میں دخل اندازی ترک کرنا کمزوری کی وجہ سے
(١٢٦٦٢) حضرت سہل بن سعد ساعدی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی سبابہ اور اس کے ساتھ والی انگلی کو ملایا۔
(۱۲۶۶۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْقَاسِمِ : عَلِیُّ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا َبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْحَجَبِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَا وَکَافِلُ الْیَتِیمِ فِی الْجَنَّۃِ کَہَاتَیْنِ ۔ وَقَالَ بِإِصْبَعِہِ السَّبَّابَۃِ وَالَّتِی تَلِیہَا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۳۰۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬৮
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس نے پسند کیا وصیتوں میں دخل اندازی ترک کرنا کمزوری کی وجہ سے
(١٢٦٦٣) حضرت صفوان بن سلیم کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا اور اس کے علاوہ کی بھی اللہ سے ڈرتے ہوئے، دونوں جنت میں اس طرح ہوں گے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے درمیانی انگلی اور ساتھ والی کو ملا کر اشارہ کیا۔
(۱۲۶۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ َخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : أَنَا وَکَافِلُ الْیَتِیمِ لَہُ وَلِغَیْرِہِ إِذَا اتَّقَی اللَّہَ فِی الْجَنَّۃِ کَہَاتَیْنِ ۔ وَأَشَارَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِإِصْبَعِہِ الْوُسْطَی وَالَّتِی تَلِی الإِبْہَامَ۔ [منکر۔ مالک]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬৯
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس نے پسند کیا وصیتوں میں دخل اندازی ترک کرنا کمزوری کی وجہ سے
(١٢٦٦٤) حضرت صفوان بن سلیم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیواؤں اور یتیموں کی مدد کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے اور دن کو روزہ رکھنے والے اور رات کو قیام کرنے والے کے برابر ہے۔
(۱۲۶۶۴) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ یَرْفَعُہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : السَّاعِی عَلَی الأَرْمَلَۃِ وَالْمِسْکِینِ کَالْمُجَاہِدِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَوْ کَالَّذِی یَصُومُ النَّہَارَ وَیَقُومُ اللَّیْلَ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ ہَکَذَا مُرْسَلاً عَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۳۵۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭০
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس نے پسند کیا وصیتوں میں دخل اندازی ترک کرنا کمزوری کی وجہ سے
(١٢٦٦٥) ام سعید بنت مرہ اپنے والد سے نقل فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا یا اس کے علاوہ کسی اور کی ، جنت میں اس طرح ہوں گے سفیان نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا۔
(۱۲۶۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ َخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی صَفْوَانُ بْنُ سُلَیْمٍ عَنِ امْرَأَۃٍ یُقَالُ لَہَا أُنَیْسَۃُ عَنْ أُمِّ سَعِیدٍ بِنْتِ مُرَّۃَ الْفِہْرِیِّ عَنْ أَبِیہَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : أَنَا وَکَافِلُ الْیَتِیمِ لَہُ أَوْ لِغَیْرِہِ فِی الْجَنَّۃِ کَہَاتَیْنِ ۔ وَأَشَارَ سُفْیَانُ بِإِصْبَعَیْہِ۔ قَالَ الْحُمَیْدِیُّ قِیلَ لِسُفْیَانَ فَإِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَہْدِیٍّ یَقُولُ إِنَّ سُفْیَانَ أَصْوَبَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ مِنْ مَالِکٍ قَالَ سُفْیَانُ : وَمَا یُدْرِیہِ أَدْرَکَ صَفْوَانَ قَالُوا : لاَ وَلَکِنَّہُ قَالَ : إِنَّ مَالِکًا قَالَہُ عَنْ صَفْوَانَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ وَقَالَہُ سُفْیَانُ عَنْ أُنَیْسَۃَ عَنْ أُمِّ سَعِیدٍ بِنْتِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِیہَا فَمِنْ أَیْنَ جَائَ بِہَذَا الإِسْنَادِ؟ فَقَالَ سُفْیَانُ : مَا أَحْسَنَ مَا قَالَ لَوْ قَالَ لَنَا صَفْوَانُ َطَائِ بْنِ یَسَارٍ کَانَ أَہْوَنَ عَلَیْنَا مِنْ أَنْ یَجِیئَ بِہَذَا الإِسْنَادِ الشَّدِیدِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭১
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس نے پسند کیا وصیتوں میں دخل اندازی ترک کرنا کمزوری کی وجہ سے
(١٢٦٦٦) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ بیواؤں اور مسکین کی مدد کرنے والا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ قعنبی کہتے ہیں : میرے خیال میں فرمایا : قیام کرنے والے کی طرح ہے جو سست نہیں ہوتا اور روزہ دار کی طرح ہے جو افطار نہیں کرتا۔
(۱۲۶۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ َخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ الدِّیلِیِّ عَنْ أَبِی الْغَیْثِ مَوْلَی ابْنِ مُطِیعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : السَّاعِی عَلَی الأَرْمَلَۃِ وَالْمِسْکِینِ کَالْمُجَاہِدِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ قَالَ الْقَعْنَبِیُّ وَأَحْسِبُہُ قَالَ : کَالْقَائِمِ لاَ یَفْتُرُ وَکَالصَّائِمِ لاَ یُفْطِرُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭২
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ یتیم کا مال کھانے کے گناہ کا بیان
(١٢٦٦٧) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سات ہلاکت والی چیزوں سے بچو، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کون سی ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی جان کو قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، لڑائی کے دن میدان چھوڑ کر بھاگنا اور پاکدامن مومن عورتوں پر الزام تراشی کرنا۔
(۱۲۶۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ َخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأُوَیْسِیُّ قَالَ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَبِی الْغَیْثِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَا ہُنَّ؟ قَالَ : الشِّرْکُ بِاللَّہِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِی حَرَّمَ اللَّہُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَأَکْلُ الرِّبَا وَأَکْلُ مَالِ الْیَتِیمِ وَالتَّوَلِّی یَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْغَافِلاَتِ الْمُؤْمِنَاتِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ الأُوَیْسِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سُلَیْمَانَ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۷۶۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭৩
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ یتیم کے والی کا یتیم کے مال سے معروف طریقے سے کھانا جب وہ (والی) فقیر ہو
(١٢٦٦٨) حضرت عائشہ (رض) اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں فرماتی ہیں : { مَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ وَمَنْ کَانَ فَقِیرًا فَلْیَأْکُلْ بِالْمَعْرُوفِ } یہ آیت یتیم کے والی کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ فقیر ہو تو اس کے مال سے معروف طریقے سے کھالے۔
(۱۲۶۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی الْحِیرِیُّ َخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ { مَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ وَمَنْ کَانَ فَقِیرًا فَلْیَأْکُلْ بِالْمَعْرُوفِ } أَنَّہَا نَزَلَتْ فِی وَالِی الْیَتِیمِ إِذَا کَانَ فَقِیرًا أَنْ یَأْکُلَ مِنْہُ مَکَانَ قِیَامِہِ عَلَیْہِ بِالْمَعْرُوفِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ کِلاَہُمَا عَنِ ابْنِ نُمَیْرٍ۔

[صحیح۔ بخاری ۲۲۱۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭৪
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ یتیم کے والی کا یتیم کے مال سے معروف طریقے سے کھانا جب وہ (والی) فقیر ہو
(١٢٦٦٩) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس نے کہا : میں فقیر ہوں اور میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے اور میرے پاس ایک یتیم ہے (میں اس کا والی ہوں) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یتیم کے مال سے بغیر اسراف کیکھا لے اور نہ جلدی جلدی کرنا اور نہ جمع کرنا۔
(۱۲۶۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ مَسْعَدَۃَ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَہُمْ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَجُلاً أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنِّی فَقِیرٌ لَیْسَ لِی شَیْئٌ وَلِی یَتِیمٌ قَالَ فَقَالَ : کُلْ مِنْ مَالِ یَتِیمِکَ غَیْرَ مُسْرِفٍ وَلاَ مُبَادِرٍ وَلاَ مُتَأَثِّلٍ۔ [صحیح۔ احمد ۲/۱۸۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭৫
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ یتیم کے والی کا یتیم کے مال سے معروف طریقے سے کھانا جب وہ (والی) فقیر ہو
(١٢٦٧٠) قاسم بن محمد کہتے ہیں : ایک آدمی ابن عباس (رض) کے پاس آیا، اس نے کہا : اے ابن عباس ! میرا ایک اونٹ ہے وہ کسی کو دے دیا ہے اور میں فقیر ہوں اور میری کفالت میں ایک یتیم ہے، اس کا بھی اونٹ ہے۔ پس میرے لیے یتیم کے اونٹ سے کیا حلال ہے ؟ ابن عباس (رض) نے کہا : اگر تو اس کا گمشدہ اونٹ تلاش کرتا ہے، خارش زدہ اونٹ کو تیل ملتا ہے، ان کے پینے کے حوض کو درست کرتا ہے اور پانی کی باری پر انھیں پانی پلاتا ہے تو ان کی نسل کو نقصان دیے بغیر اور سارا دودھ نکالے بغیر پی لیا کر۔
(۱۲۶۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی َخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ َخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ الْقَاسِمٍ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ : یَا أَبَا عَبَّاسٍ إِنَّ لِی إِبِلاً وَأَنَا أَمْنَحُ مِنْہَا وَأُفْقِرُ وَفِی حَجْرِی یَتِیمٌ وَلَہُ إِبِلٌ فَما یَحِلُّ لِی مِنْ إِبِلِ یَتِیمِی؟ قَالَ : إِنْ کُنْتَ تَبْغِی ضَالَّۃَ إِبِلِہِ وَتَہْنَأُ جَرْبَاہَا وَتَلُوطُ حِیَاضَہَا وَتَسْعَی عَلَیْہَا فَاشْرَبْ غَیْرَ مُضَرٍّ بِنَسْلٍ وَلاَ نَاہِکٍ فِی حَلْبٍ۔

وَقَدْ رُوِّینَا فِی کِتَابِ الْبُیُوعِ عَنْ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَضَائِ مَا أَکَلَ مِنْہُ إِذَا أَیْسَرَ وَہُوَ قَوْلُ عَبِیدَۃَ وَمُجَاہِدٍ وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَأَبِی الْعَالِیَۃِ وَرُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ وَعَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ لاَ یَقْضِیہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭৬
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ یتیم کے کھانے میں مل جانا
(١٢٦٧١) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : جب آیت { وَلاَ تَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ إِلاَّ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ } اور {إِنَّ الَّذِینَ یَأْکُلُونَ أَمْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْمًا إِنَّمَا یَأْکُلُونَ فِی بُطُونِہِمْ نَارًا وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیرًا } نازل ہوئی تو ہر ایک جس کے پاس یتیم تھا، اس نے اس کا کھانا پینا اپنے کھانے پینے سے علیحدہ کردیا، وہ اس کی زائد کھانے پینے کی چیز رکھ لیتا یہاں تک کہ وہ یتیم خود اسے کھا لیتا یا وہ خراب ہوجاتی۔ صحابہ (رض) پر یہ بڑا مشکل تھا، انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا : { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الْیَتَامَی قُلْ إِصْلاَحٌ لَہُمْ خَیْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ } پس انھوں نے ان کا کھانا پینا اپنے کھانے پینے سے ملا لیا۔
(۱۲۶۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ َخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلاَ تَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ إِلاَّ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ} وَ {إِنَّ الَّذِینَ یَأْکُلُونَ أَمْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْمًا إِنَّمَا یَأْکُلُونَ فِی بُطُونِہِمْ نَارًا وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیرًا} انْطَلَقَ مَنْ کَانَ عِنْدَہُ یَتِیمٌ فَعَزَلَ طَعَامَہُ مِنْ طَعَامِہِ وَشَرَابَہُ مِنْ شَرَابِہِ فَجَعَلَ یَفْضُلُ الشَّیْئُ مِنْ طَعَامِہِ وَشَرَابِہِ فَیُحْبَسُ حَتَّی یَأْکُلَہُ أَوْ یَفْسُدَ فَاشْتَدَّ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہُ -ﷺ- فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {یَسْأَلُونَکَ عَنِ الْیَتَامَی قُلْ إِصْلاَحٌ لَہُمْ خَیْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ} فَخَلَطُوا طَعَامَہُمْ بِطَعَامِہِمْ وَشَرَابَہُمْ بِشَرَابِہِمْ۔ [ضعیف۔ حاکم ۳۱۸۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭৭
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ یتیم کو ادب سکھانے کا بیان
(١٢٦٧٢) حضرت حسن عرنی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس نے کہا : میری پرورش میں ایک یتیم ہے، کیا میں اسے مار سکتا ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اس وقت) جب اپنی اولاد کو اس پر مارے، اس نے کہا : کیا میں کھا سکتا ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : معروف طریقے سے، نہ جمع کرے اور نہ اس کے مال کو اپنے مال سے ملائے۔
(۱۲۶۷۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی اللَّیْثِ حَدَّثَنَا الأَشْجَعِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ مُوسَی عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِیِّ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّ فِی حَجْرِی یَتِیمًا فَأَضْرِبُہُ قَالَ : مَا کُنْتَ ضَارِبًا فِیہِ وَلَدَکَ ۔ قَالَ : أَفَآکُلُ؟ قَالَ : بِالْمَعْرُوفِ غَیْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً وَلاَ وَاقٍ مَالَکَ بِمَالِہِ ۔

ہَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مَوْصُولاً وَہُوَ ضَعِیفٌ قَدْ مَضَی ذِکْرُہُ فِی کِتَابِ الْبُیُوعِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক: