আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
وصیت کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫৩ টি
হাদীস নং: ১২৫৭৮
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی کی وصیت کا بیان
(١٢٥٧٣) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : اگر لوگ وصیت میں ثلث سے کم کر کے ربع کردیں تو یہ افضل ہے اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : ثلث بھی زیادہ ہے۔
(۱۲۵۷۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ کُلُّہُمْ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَوْ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنَ الثُّلُثِ إِلَی الرُّبُعِ فِی الْوَصِیَّۃِ لَکَانَ أَفْضَلَ لأَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیرٌ أَوْ کَبِیرٌ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ وَکِیعٍ وَلَیْسَ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ وَعِیسَی فِی الْوَصِیَّۃِ لَکَانَ أَفْضَلَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ سُفْیَانَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُوسَی وَعَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [بخاری ۲۷۴۳۔ مسلم ۱۶۲۹]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ کُلُّہُمْ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَوْ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنَ الثُّلُثِ إِلَی الرُّبُعِ فِی الْوَصِیَّۃِ لَکَانَ أَفْضَلَ لأَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیرٌ أَوْ کَبِیرٌ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ وَکِیعٍ وَلَیْسَ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ وَعِیسَی فِی الْوَصِیَّۃِ لَکَانَ أَفْضَلَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ سُفْیَانَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُوسَی وَعَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [بخاری ۲۷۴۳۔ مسلم ۱۶۲۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৭৯
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی کی وصیت کا بیان
(١٢٥٧٤) قتادہ کہتے ہیں : ہمیں علم ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اپنے مال سے خمس کی وصیت کی اور کہا : میں اپنے مال سے راضی نہیں ہوں اس چیز کے مقابلے میں جس پر اللہ راضی ہیں مسلمانوں کی غنیمتوں میں سے اور قتادہ نے کہا : خمس اچھا ہے اور ربع مشقت ہے اور ثلث اس کو قاضی نے جائز قرار دیا ہے۔
(۱۲۵۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ : ذُکِرَ لَنَا أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَوْصَی بِخُمُسِ مَالِہِ وَقَالَ : لاَ أَرْضَی مِنْ مَالِی بِمَا رَضِیَ اللَّہُ بِہِ مِنْ غَنَائِمِ الْمُسْلِمِینَ۔ وَقَالَ قَتَادَۃُ وَکَانَ یُقَالُ الْخُمُسُ مَعْرُوفٌ وَالرُّبُعُ جُہْدٌ وَالثُّلُثُ یُجِیزُہُ الْقُضَاۃُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮০
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی کی وصیت کا بیان
(١٢٥٧٥) حضرت ابن عباس (رض) سے اس شخص کے بارے جس نے خمس کی وصیت کی منقول ہے وہ اس سے افضل ہے جس نے ربع کی وصیت کی اور وہ افضل ہے جس نے ربع کی وصیت کی اس سے جس نے ثلث کی وصیت کی۔
(۱۲۵۷۵) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا ابْنُ رَجَائٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ عَنْ إِدْرِیسَ الأَوْدِیِّ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : الَّذِی یُوصِی بِالْخُمُسِ أَفْضَلُ مِنَ الَّذِی یُوصِی بِالرُّبُعِ وَالَّذِی یُوصِی بِالرُّبُعِ أَفْضَلُ مِنَ الَّذِی یُوصِی بِالثُّلُثِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮১
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی کی وصیت کا بیان
(١٢٥٧٦) حضرت علی (رض) نے فرمایا : میرے نزدیک ربع کی وصیت کرنا ثلث سے زیادہ پسندیدہ ہے، پس جس نے ثلث کی وصیت کی وہ اسے نہ چھوڑے۔
(۱۲۵۷۶) أَخْبَرَنَا الشَّیْخُ أَبُو الْفَتْحِ أَخْبَرَنَا الشُّرَیْحِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا زُہَیْرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لأَنْ أُوْصِیَ بِالرُّبُعِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَوْصِیَ بِالثُّلُثِ فَمَنْ أَوْصَی بِالثُّلُثِ فَلَمْ یَتْرُکْ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮২
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس نے وصیت چھوڑنا مستحب خیال کیا جب ورثاء کے لیے زیادہ ترکہ نہ ہو
(١٢٥٧٧) حضرت علی (رض) بنی ہاشم کے ایک بیمار آدمی کی عیادت کے لیے گئے۔ اس نے وصیت کا ارادہ کیا۔ آپ نے اسے منع کردیا اور کہا : اللہ فرماتے ہیں : ان ترک خیرا پس اپنا مال اپنے ورثاء کے لیے چھوڑ دو ۔
(۱۲۵۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَخَلَ عَلَی رَجُلٍ مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ وَہُوَ مَرِیضٌ یَعُودُہُ فَأَرَادَ أَنْ یُوصِیَ فَنَہَاہُ وَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی یَقُولُ (إِنْ تَرَکَ خَیْرًا) مَالاً فَدَعْ مَالَکَ لِوَرَثَتِکَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ عبدالرزاق ۱۵۳۵۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮৩
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس نے وصیت چھوڑنا مستحب خیال کیا جب ورثاء کے لیے زیادہ ترکہ نہ ہو
(١٢٥٧٨) حضرت علی (رض) نے بنی ہاشم کے آدمی کو کہا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ان ترک خیرا پس تو جو چیز چھوڑے وہ اپنے اہل و عیال کے لیے چھوڑ، یہ افضل ہے۔
(۱۲۵۷۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ لَمْ یَقُلْ مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ وَقَالَ فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ (إِنْ تَرَک خَیْرًا) وَإِنَّکَ إِنَّمَا تَدَعُ شَیْئًا یَسِیرًا فَدَعْہُ لِعِیَالِکَ فَإِنَّہُ أَفْضَلُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮৪
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس نے وصیت چھوڑنا مستحب خیال کیا جب ورثاء کے لیے زیادہ ترکہ نہ ہو
(١٢٥٧٩) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان کو کہا : میں وصیت کا ارادہ رکھتا ہوں، عائشہ (رض) نے پوچھا : کتنے مال کی ؟ اس نے کہا : تین ہزار کی۔ عائشہ (رض) نے پوچھا : تیرا خاندان کتنا ہے ؟ اس نے کہا : چار افراد ہیں، حضرت عائشہ (رض) نے کہا : اللہ فرماتے ہیں : ان ترک خیرا یہ تو تھوڑا سا مال ہے۔ اسے اپنے اہل کے لیے چھوڑ دے یہی افضل ہے۔
(۱۲۵۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِیکٍ الْمَکِّیِّ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ لَہَا رَجُلٌ إِنِّی أُرِیدُ أَنْ أَوْصِیَ۔ قَالَتْ : کَمْ مَالُکَ؟ قَالَ : ثَلاَثَۃُ آلاَفٍ قَالَتْ : کَمْ عِیَالُکَ؟ قَالَ : أَرْبَعَۃٌ فَقَالَتْ : قَالَ اللَّہُ سُبْحَانَہُ (إِنْ تَرَکَ خَیْرًا) وَإِنْ ہَذَا لَشَیْئٌ یَسِیرٌ فَاتْرُکْہُ لِعِیَالِکَ فَہُوَ أَفْضَلُ۔ [صحیح۔ اخرجہ سعید بن منصور ۲/ ۵۶۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮৫
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس نے وصیت چھوڑنا مستحب خیال کیا جب ورثاء کے لیے زیادہ ترکہ نہ ہو
(١٢٥٨٠) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : جب میت کا ترکہ سات سو درہم ہو تو وصیت نہ کرے۔
(۱۲۵۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ لَیْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِذَا تَرَکَ الْمَیِّتُ سَبْعَمِائَۃِ دِرْہَمٍ فَلاَ یُوصِی۔ [ضعیف۔ اخرجہ سعید بن منصور ۲/ ۶۵۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮৬
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا فرمان { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوا عَلَیْہِمْ فَلْیَتَّقُوا اللَّہَ وَلْیَقُولُوا قَوْلاً سَدِیدًا } اور وصیت میں نقصان پہنچانے سے منع کیا گیا ہے
(١٢٥٨١) حضرت ابن عباس (رض) سے آیت { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوا عَلَیْہِمْ } کے بارے میں منقول ہے، یعنی آدمی کو موت آنے لگے تو اسے کہا جائے : اپنے مال سے صدقہ کرو اور آزاد کر دو اور اس سے اللہ کے راستے میں دو ۔ پس منع کیا گیا ہے کہ وہ اسے ایسی باتوں کا حکم دیں، یعنی تم میں سے کوئی جس مریض کو موت آئے اس کے پاس آکر اسے یہ حکم نہ دے کہ وہ اپنے مال سے خرچ کر دے۔ آزاد کرنے میں، صدقہ میں، اللہ کے راستہ میں اسے حکم دے کہ وہ واضح کرے اس پر کیا قرض ہے یا کسی دوسرے پر اس کا قرض ہے اور اپنے مال سے وصیت کرے ان رشتہ داروں کے لیے جو وارث نہ ہوں ان کے لیے خمس یا ربع کی وصیت کرے اور وہ کہے : تم میں سے کسی کو پسند ہے کہ جب وہ فوت ہو اور اس کی اولاد چھوٹی ہو اور وہ اس کو بغیر مال کے چھوڑ دے اور وہ لوگوں کی محتاج ہوجائے۔ یہ درست نہیں کہ تم اس بات کا حکم دو ۔ جو اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے نہیں پسند کرتے، لہٰذاحق بات کہو۔
(۱۲۵۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوا عَلَیْہِمْ } یَعْنِی الرَّجُلَ یَحْضُرُہُ الْمَوْتُ فَیُقَالُ لَہُ تَصَدَّقْ مِنْ مَالِکَ وَأَعْتِقْ وَأَعْطِ مِنْہُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَنُہُوا أَنْ یَأْمُرُوہُ بِذَلِکَ یَعْنِی مَنْ حَضَرَ مِنْکُمْ مَرِیضًا عِنْدَ الْمَوْتِ فَلاَ یَأْمُرُہُ أَنْ یُنْفِقَ مَالَہُ فِی الْعِتْقِ وَالصَّدَقَۃِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَلَکِنْ یَأْمُرُہُ أَنْ یُبَیِّنَ مَا لَہُ وَمَا عَلَیْہِ مِنْ دَیْنٍ وَیُوصِی مِنْ مَالِہِ لِذِی قَرَابَتِہِ الَّذِینَ لاَ یَرِثُونَ یُوصِی لَہُمْ بِالْخُمُسِ أَوِ الرُّبُعِ یَقُولُ : أَیَسُرُّ أَحَدُکُمْ إِذَا مَاتَ وَلَہُ وَلَدٌ ضِعَافٌ یَعْنِی صِغَارًا أَنْ یَتْرُکَہُمْ بِغَیْرِ مَالٍ فَیَکُونُوا عِیَالاً عَلَی النَّاسِ فَلاَ یَنْبَغِی أَنْ تَأْمُرُوہُ بِمَا لاَ تَرْضَوْنَ بِہِ لأَنْفُسِکُمْ وَلأَوْلاَدِکُمْ وَلَکِنْ قُولُوا الْحَقَّ مِنْ ذَلِکَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮৭
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا فرمان { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوا عَلَیْہِمْ فَلْیَتَّقُوا اللَّہَ وَلْیَقُولُوا قَوْلاً سَدِیدًا } اور وصیت میں نقصان پہنچانے سے منع کیا گیا ہے
(١٢٥٨٢) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ } یعنی آدمی دوسرے کے پاس اس کی موت کے وقت حاضر ہوتا اور اسے وصیت کے بارے میں کہتا، مقصود اس کے ورثاء کو نقصان پہنچاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو حکم دیا جو مشورہ دینے والا ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور صحیح چیز میں رکاوٹ ڈالنے سے بچے اور اس کے ورثاء کا خیال کرے جیسے پسند کرتا ہے کہ اس کے اپنے ورثاء سے کیا جائے۔ جب ان پر فقر کا ڈر ہو۔
(۱۲۵۸۲) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا } فَہَذَا الرَّجُلُ یَحْضُرُ الرَّجُلَ عِنْدَ مَوْتِہِ فَیُسْمِّعُہُ بِوَصِیَّۃٍ تَضُرَّ بِوَرَثَتِہِ فَأَمَرَ اللَّہُ سُبْحَانَہُ الَّذِی یَسْمَعُہُ أَنْ یَتَّقِی اللَّہَ وَیُوَفِّقَہُ وَیُسَدِّدَہُ لِلصَّوَابِ وَلْیَنْظُرْ لِوَرَثَتِہِ کَمَا یُحِبُّ أَنْ یُصْنَعَ بِوَرَثَتِہِ إِذَا خَشِیَ عَلَیْہِمُ الضَّیْعَۃَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮৮
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا فرمان { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوا عَلَیْہِمْ فَلْیَتَّقُوا اللَّہَ وَلْیَقُولُوا قَوْلاً سَدِیدًا } اور وصیت میں نقصان پہنچانے سے منع کیا گیا ہے
(١٢٥٨٣) مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا } کے بارے میں منقول ہے کہ یہ وصیت کے وقت ہے جو اس کے پاس آتا کہتا تو فلاں یا آل فلاں کے لیے وصیت کر دے، اللہ فرماتے ہیں : اسے ڈرنا چاہیے، یہی لوگ ہیں انھیں چاہیے کہ وہ ایسی بات کہیں جو اپنی اولاد کے لیے اپنے بعد پسند کرتے ہیں اور صحیح بات کریں۔
(۱۲۵۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ َخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ {وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا} قَالَ : ہَذَا عِنْدَ الْوَصِیَّۃِ یَقُولُ لَہُ مَنْ حَضَرَہُ أَقْلَلْتَ فَأَوْصِ لِفُلاَنٍ وَلآلِ فُلاَنٍ یَقُولُ اللَّہُ {وَلْیَخْشَ} أُولَئِکَ وَلْیَقُولُوا کَمَا یُحِبُّونَ أَنْ یُقَالَ لَہُمْ فِی وَلَدِہِ بَعْدَہُ وَلْیَقُولُوا قَوْلاً سَدِیدًا یَعْنِی عَدْلاً۔[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮৯
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا فرمان { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوا عَلَیْہِمْ فَلْیَتَّقُوا اللَّہَ وَلْیَقُولُوا قَوْلاً سَدِیدًا } اور وصیت میں نقصان پہنچانے سے منع کیا گیا ہے
(١٢٥٨٤) مسروق سے روایت ہے کہ وہ ایک آدمی کے پاس گئے، وہ وصیت کررہا تھا اور رشتہ داروں کو بعض پر ترجیح دے رہا تھا، مسروق نے اسے کہا : اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان اچھی تقسیم کی ہے اور جو اپنی رائے کے ساتھ اللہ کی رائے سے بےرغبتی اختیار کرے گا وہ گمراہ ہوگیا اپنے ان ورثاء کے لیے وصیت کر جو وارث نہیں ہیں، پھر مال چھوڑ دے جیسے اللہ نے تقسیم کیا ہے۔
(۱۲۵۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو شِہَابٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ : أَنَّہُ حَضَرَ رَجُلاً یُوصِی فَآثَرَ بَعْضَ الْوَرَثَۃِ عَلَی بَعْضٍ فَقَالَ لَہُ : إِنَّ اللَّہَ سُبْحَانَہُ قَدْ قَسَمَ بَیْنَکُمْ فَأَحْسَنَ الْقَسْمَ وَإِنَّہُ مَنْ یَرْغَبْ بِرَأْیِہِ عَنْ رَأْی اللَّہِ یَضِلَّ فَأَوْصِ لِذِی قَرَابَۃٍ مِمَّنْ لاَ یَرِثُ ثُمَّ دَعِ الْمَالَ کَمَا قَسَمَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ۔
[صحیح۔ اخرجہ سعید بن منصور ۲/ ۱۷۷]
[صحیح۔ اخرجہ سعید بن منصور ۲/ ۱۷۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯০
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا فرمان { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوا عَلَیْہِمْ فَلْیَتَّقُوا اللَّہَ وَلْیَقُولُوا قَوْلاً سَدِیدًا } اور وصیت میں نقصان پہنچانے سے منع کیا گیا ہے
(١٢٥٨٥) حضرت ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک آدمی یا عورت اللہ کی اطاعت والے اعمال ساٹھ سال تک کرتے ہیں پھر ان کے پاس موت آتی ہے اور وہ وصیت کے ذریعے نقصان پہنچاتے ہیں تو ان کے لیے آگ واجب ہے۔ پھر حضرت ابوہریرہ (رض) نے آیت پڑھی : { مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُوصَی بِہَا أَوْ دَیْنٍ غَیْرَ مُضَارٍّ } سے الْفَوْزُ الْعَظِیمُ } تک۔
(۱۲۵۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ َخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ الْحُدَّانِیُّ حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ حَدَّثَنِی شَہْرُ بْنُ حَوْشَبٍ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : إِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ أَوِ الْمَرْأَۃَ بِطَاعَۃِ اللَّہِ سِتِّینَ سَنَۃً ثُمَّ یَحْضُرُہُمَا الْمَوْتُ فَیُضَارَّانِ فِی الْوَصِیَّۃِ فَتَجِبُ لَہُمَا النَّارُ ۔ وَقَالَ ثُمَّ قَرَأَ عَلَیَّ أَبُو ہُرَیْرَۃَ مِنْ ہَا ہُنَا { مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُوصَی بِہَا أَوْ دَیْنٍ غَیْرَ مُضَارٍّ } حَتَّی بَلَغَ { الْفَوْزُ الْعَظِیمُ } [ضعیف۔ ابوداود ۲۸۶۷۔ ترمذی ۲۱۱۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯১
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا فرمان { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوا عَلَیْہِمْ فَلْیَتَّقُوا اللَّہَ وَلْیَقُولُوا قَوْلاً سَدِیدًا } اور وصیت میں نقصان پہنچانے سے منع کیا گیا ہے
(١٢٥٨٦) حضرت ابن عباس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وصیت میں نقصان دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
(۱۲۵۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ إِمْلاَئً فِی الْمُحَرَّمِ سَنَۃَ سَبْعٍ وَثَلاَثِینَ وَثَلاَثِمِائِۃٍ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ سَہْلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : الإِضْرَارُ فِی الْوَصِیَّۃِ مِنَ الْکَبَائِرِ ۔ [منکر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯২
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا فرمان { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوا عَلَیْہِمْ فَلْیَتَّقُوا اللَّہَ وَلْیَقُولُوا قَوْلاً سَدِیدًا } اور وصیت میں نقصان پہنچانے سے منع کیا گیا ہے
(١٢٥٨٧) حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : وصیت میں ظلم اور نقصان کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
(۱۲۵۸۷) وَ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : الْجَنَفُ فِی الْوَصِیَّۃِ وَالإِضْرَارُ فِیہَا مِنَ الْکَبَائِرِ۔ ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ مَوْقُوفٌ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ وَغَیْرُہُ عَنْ دَاوُدَ مَوْقُوفًا وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مَرْفُوعًا وَرَفْعُہُ ضَعِیفٌ۔
[صحیح۔ اخرجہ سعید بن منصور ۳۴۲۔ ۳۴۴]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ وَغَیْرُہُ عَنْ دَاوُدَ مَوْقُوفًا وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مَرْفُوعًا وَرَفْعُہُ ضَعِیفٌ۔
[صحیح۔ اخرجہ سعید بن منصور ۳۴۲۔ ۳۴۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯৩
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس کے پاس کوئی چیز ہو اور اس میں وصیت کا ارادہ رکھتا ہو تو دو یا تین راتیں نہیں گزرنی چاہئیں مگر وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہو
(١٢٥٨٨) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس وصیت کے قابل کوئی بھی مال ہو درست نہیں کہ دورات بھی وصیت کو لکھ کر اپنے پاس محفوظ رکھے بغیر گزارے۔
(۱۲۵۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ َخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی رِجَالٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْہُمْ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَمَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ اللَّیْثِیُّ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَہُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَہُ شَیْئٌ یُوصِی فِیہِ یَبِیتُ لَیْلَتَیْنِ إِلاَّ وَوَصِیَّتُہُ مَکْتُوبَۃٌ عِنْدَہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ یُونُسَ وَعَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ۔ [بخاری ۲۷۳۸۔ مسلم ۱۶۲۷]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ یُونُسَ وَعَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ۔ [بخاری ۲۷۳۸۔ مسلم ۱۶۲۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯৪
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس کے پاس کوئی چیز ہو اور اس میں وصیت کا ارادہ رکھتا ہو تو دو یا تین راتیں نہیں گزرنی چاہئیں مگر وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہو
(١٢٥٨٩) حضرت ابن عمر (رض) سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ اس کے پاس مال ہو اور اس میں سے وصیت کرنا چاہتا ہو کہ بغیر وصیت لکھے ایک رات یا دو راتیں گزارے۔
(۱۲۵۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ َخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَہُ مَالٌ یُرِیدُ أَنْ یُوصِیَ فِیہِ یَبِیتُ لَیْلَۃً أَوْ لَیْلَتَیْنِ لَیْسَتْ وَصِیَّتُہُ مَکْتُوبَۃً عِنْدَہُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کَامِلٍ عَنْ حَمَّادٍ۔ [صحیح]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کَامِلٍ عَنْ حَمَّادٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯৫
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس کے پاس کوئی چیز ہو اور اس میں وصیت کا ارادہ رکھتا ہو تو دو یا تین راتیں نہیں گزرنی چاہئیں مگر وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہو
(١٢٥٩٠) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ اس کے پاس وصیت کے قابل کوئی چیز ہو اور وہ بغیر وصیت لکھے تین راتیں گزارے۔ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : جب سے میں نے یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا اس وقت سے ایک رات بھی ایسی نہیں گزری کہ میرے پاس وصیت لکھی ہوئی نہ ہو۔
(۱۲۵۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ َخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ َخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَہُ شَیْئٌ یُوصِی فِیہِ یَبِیتُ ثَلاَثَ لَیَالٍ إِلاَّ وَوَصِیَّتُہُ مَکْتُوبَۃٌ عِنْدَہُ ۔ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ : مَا مَرَّتْ عَلَیَّ لَیْلَۃٌ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ ذَلِکَ إِلاَّ وَعِنْدِی وَصِیَّتِی۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ عَمْرٍو وَعَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ یُونُسَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯৬
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اپنی اولاد کے حصہ کی مثل وصیت کا بیان
(١٢٥٩١) حضرت ثابت (رض) سے منقول ہے کہ حضرت انس (رض) نے اپنی اولاد میں سے کسی ایک کے حصہ کی مثل وصیت کی۔
(۱۲۵۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عُمَارَۃَ الصَّیْدَلاَنِیِّ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّہُ أَوْصَی لَہُ بِمِثْلِ نَصِیبِ أَحَدِ وَلَدِہِ۔ [ضعیف۔ ابن ابی شیبہ ۳۰۷۹۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯৭
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ثلث سے زائد کی وصیت کا بیان
(١٢٥٩٢) حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کیے۔ ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال نہ تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا علم ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بڑی سخت بات کی، پھر ان کو بلایا اور ان میں قرعہ ڈالا۔ دو کو آزاد کردیا اور چار کو باقی رکھا۔
(۱۲۵۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَعَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ َخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَیْنِ : أَنَّ رَجُلاً أَعْتَقَ سِتَّۃَ أَعْبُدٍ لَہُ عِنْدَ مَوْتِہِ لَمْ یَکُنْ لَہُ مَالٌ غَیْرُہُمْ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ قَوْلاً شَدِیدًا ثُمَّ دَعَاہُمْ فَجَزَّأَہُمْ فَأَقْرَعَ بَیْنَہُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَیْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَۃً۔ وَفِی رِوَایَۃِ سُلَیْمَانَ فَجَزَّأَہُمْ ثَلاَثَۃَ أَجْزَائٍ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ۔ [مسلم ۱۶۶۸]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ َخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَیْنِ : أَنَّ رَجُلاً أَعْتَقَ سِتَّۃَ أَعْبُدٍ لَہُ عِنْدَ مَوْتِہِ لَمْ یَکُنْ لَہُ مَالٌ غَیْرُہُمْ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ قَوْلاً شَدِیدًا ثُمَّ دَعَاہُمْ فَجَزَّأَہُمْ فَأَقْرَعَ بَیْنَہُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَیْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَۃً۔ وَفِی رِوَایَۃِ سُلَیْمَانَ فَجَزَّأَہُمْ ثَلاَثَۃَ أَجْزَائٍ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ۔ [مسلم ۱۶۶۸]
তাহকীক: