আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
وصیت کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫৩ টি
হাদীস নং: ১২৫৫৮
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت ان رشتہ داروں کے لیے ہے جو وارث نہ ہوں اور وصیت اجنبیوں کے لیے جائز ہے
(١٢٥٥٣) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ دینار، نہ درہم اور نہ کوئی سواری چھوڑی اور نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی چیز کی وصیت کی۔
(۱۲۵۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِیقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : مَا تَرَکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- دِینَارًا وَلاَ دِرْہَمًا وَلاَ بَعِیرًا وَلاَ أَوْصَی بِشَیْئٍ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ وَأَبِی مُعَاوِیَۃَ زَادَ وَلاَ شَاۃً۔
[صحیح۔ مسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ وَأَبِی مُعَاوِیَۃَ زَادَ وَلاَ شَاۃً۔
[صحیح۔ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৫৯
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت ان رشتہ داروں کے لیے ہے جو وارث نہ ہوں اور وصیت اجنبیوں کے لیے جائز ہے
(١٢٥٥٤) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی وفات کے وقت تین چیزوں کی وصیت کی، رہاویوں کے لیے خیبر کے سو عمدہ وسق کی وصیت کی۔ داریوں کے لیے خیبر کے سو عمدہ وسق کی وصیت کی۔ اہل شنیہ کے لیے سو عمدہ وسق خیبر کی وصیت کی اور اشعریوں کے لیے سو عمدہ وسق خیبر کی وصیت کی اور یہ وصیت کی کہ اسامہ بن زید (رض) کو جہاد کے لیے روانہ کیا جائے اور یہ وصیت کی کہ جزیرۃ العرب میں دودیننہ چھوڑتے جائیں، یعنی صرف دین اسلام ہو باقی تمام ادیان کو جزیرۃ العرب سے ختم کردیا جائے۔
(٣) باب
مَا جَائَ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی { وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ أُولُو الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینُ فَارْزُقُوہُمْ مِنْہُ وَقُولُوا لَہُمْ قَوْلاً مَعْرُوفًا }
اللہ تعالیٰ کا فرمان { وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ أُولُو الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینُ فَارْزُقُوہُمْ مِنْہُ وَقُولُوا لَہُمْ قَوْلاً مَعْرُوفًا }
(٣) باب
مَا جَائَ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی { وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ أُولُو الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینُ فَارْزُقُوہُمْ مِنْہُ وَقُولُوا لَہُمْ قَوْلاً مَعْرُوفًا }
اللہ تعالیٰ کا فرمان { وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ أُولُو الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینُ فَارْزُقُوہُمْ مِنْہُ وَقُولُوا لَہُمْ قَوْلاً مَعْرُوفًا }
(۱۲۵۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ قَالَ : لَمْ یُوصِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عِنْدَ مَوْتِہِ إِلاَّ بِثَلاَثٍ أَوْصَی لِلرَّہَاوِیِّینَ بِجَادِّ مِائَۃِ وَسْقٍ مِنْ خَیْبَرَ وَأَوْصَی لِلدَّارِیِّینَ بِجَادِّ مِائَۃِ وَسْقٍ مِنْ خَیْبَرَ وَأَوْصَی لِلشَّنَئِیِّینَ بِجَادِّ مِائَۃِ وَسْقٍ مِنْ خَیْبَرَ وَأَوْصَی لِلأَشْعَرِیِّینَ بِجَادِّ مِائَۃِ وَسْقٍ مِنْ خَیْبَرَ وَأَوْصَی بِتَنْفِیذِ بَعْثِ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ وَأَوْصَی أَنْ لاَ یُتْرَکَ بِجَزِیرِۃِ الْعَرَبِ دِینَانِ۔ ہَذَا مُرْسَلٌ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৬০
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت ان رشتہ داروں کے لیے ہے جو وارث نہ ہوں اور وصیت اجنبیوں کے لیے جائز ہے
(١٢٥٥٥) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں ہے۔
(۱۲۵۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَرِیرٍ الطَّبَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا الأَشْجَعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ( وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ أُولُو الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینُ) قَالَ : ہِیَ مُحْکَمَۃٌ وَلَیْسَتْ بِمَنْسُوخَۃٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حُمَیْدٍ عَنِ الأَشْجَعِیِّ۔ [بخاری ۴۵۷۶]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حُمَیْدٍ عَنِ الأَشْجَعِیِّ۔ [بخاری ۴۵۷۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৬১
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت ان رشتہ داروں کے لیے ہے جو وارث نہ ہوں اور وصیت اجنبیوں کے لیے جائز ہے
(١٢٥٥٦) پچھلی روایت کی طرح۔
(۱۲۵۵۶) زَادَ فِیہِ إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی اللَّیْثِ عَنِ الأَشْجَعِیِّ قَالَ : فَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا وَلِیَ رَضَخَ وَإِذَا کَانَ فِی الْمَالِ قِلَّۃٌ اعْتَذَرَ إِلَیْہِمْ فَذَلِکَ الْقَوْلُ الْمَعْرُوفُ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو أَخْبَرَنَا الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ الْہَیْثَمِ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ فَذَکَرَہُ۔ [موضوع]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৬২
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت ان رشتہ داروں کے لیے ہے جو وارث نہ ہوں اور وصیت اجنبیوں کے لیے جائز ہے
(١٢٥٥٧) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ لوگ کہتے ہیں : یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے، لیکن اللہ کی قسم ! وہ منسوخ نہیں ہوئی۔ البتہ لوگ اس پر عمل کرنے میں سست ہوگئے۔ ترکہ لینے والے دو طرح کے ہوتے ہیں : ایک وہ جو خود وارث ہوں ان کو تو (دوسروں کو) دینے کا حکم ہے دوسرے وہ جو خود وارث نہ ہوں ان کو نرمی سے جواب دینے کا حکم ہے اور وہ کہہ دے : یہ یتیموں کا مال ہے میرا اس میں کچھ نہیں ہے۔
(۱۲۵۵۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ نَاسًا یَقُولُونَ إِنَّ ہَذِہِ الآیَۃَ نُسِخَتْ (وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ أُولُو الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینُ فَارْزُقُوہُمْ مِنْہُ) وَلاَ وَاللَّہِ مَا نُسِخَتْ وَلَکِنَّہَا مِمَّا یَتَہَاوَنُ النَّاسُ بِہَا وَہُمَا وَالِیَانِ وَالٍ یَرِثُ فَذَلِکَ الَّذِی یَرْزُقُ وَوَالٍ لَیْسَ بِوَارِثٍ فَذَاکَ الَّذِی یَقُولُ قَوْلاً مَعْرُوفًا : إِنَّہُ مَالُ یَتَامَی وَمَا لِی فِیہِ شَیْئٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ عَارِمٍ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ بِلاَ شَکٍّ وَالشَّکُّ مِنِّی فِی إِسْنَادِی۔ وَیُذْکَرُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ : أَنَّہَا لَمْ تُنْسَخْ۔ وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ لَمْ یُجَاوِزْ بِہِ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ شُعْبَۃُ وَہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ۔ وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ أَنَّہُ کَانَ یُعْطِی بِہَذِہِ الآیَۃِ۔ [بخاری ۲۷۵۹]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ عَارِمٍ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ بِلاَ شَکٍّ وَالشَّکُّ مِنِّی فِی إِسْنَادِی۔ وَیُذْکَرُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ : أَنَّہَا لَمْ تُنْسَخْ۔ وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ لَمْ یُجَاوِزْ بِہِ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ شُعْبَۃُ وَہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ۔ وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ أَنَّہُ کَانَ یُعْطِی بِہَذِہِ الآیَۃِ۔ [بخاری ۲۷۵۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৬৩
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت ان رشتہ داروں کے لیے ہے جو وارث نہ ہوں اور وصیت اجنبیوں کے لیے جائز ہے
(١٢٥٥٨) عبداللہ بن عبدالرحمن نے اپنے والدعبدالرحمن کی میراث تقسیم کی اور حضرت عائشہ (رض) زندہ تھیں، انھوں نے گھر میں کچھ نہ چھوڑا : مسکین، رشتہ دار سب کو باپ کی وراثت سے دے دیا اور آیت تلاوت کی : { وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ أُولُو الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینُ }
قاسم کہتے ہیں : میں نے ابن عباس (رض) سے ذکر کیا تو انھوں نے کہا : جس طرح اس نے کیا ایسے صحیح نہیں ہے۔ ایسا تو وصیت میں ہے اور یہ آیت بھی وصیت کے متعلق ہے کہ میت وصیت کرنے کا ارادہ رکھے۔
قاسم کہتے ہیں : میں نے ابن عباس (رض) سے ذکر کیا تو انھوں نے کہا : جس طرح اس نے کیا ایسے صحیح نہیں ہے۔ ایسا تو وصیت میں ہے اور یہ آیت بھی وصیت کے متعلق ہے کہ میت وصیت کرنے کا ارادہ رکھے۔
(۱۲۵۵۸) وَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْمَیْمُونِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ یَعْنِی وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَاہُ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ قَسَمَ مِیرَاثَ أَبِیہِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَائِشَۃُ حَیَّۃٌ قَالَ : فَلَمْ یَدَعْ فِی الدَّارِ مِسْکِینًا وَلاَ ذَا قَرَابَۃٍ إِلاَّ أَعْطَاہُمْ مِنْ مِیرَاثِ أَبِیہِ قَالَ وَتَلاَ { وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ أُولُو الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینُ } تَمَامَ الآیَۃِ۔ قَالَ الْقَاسِمُ : فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ : مَا أَصَابَ لَیْسَ ذَلِکَ لَہُ إِنَّمَا ذَلِکَ فِی الْوَصِیَّۃِ وَإِنَّمَا ہَذِہِ الآیَۃُ فِی الْوَصِیَّۃِ یُرِیدُ الْمَیِّتَ أَنْ یُوصِیَ وَفِی رِوَایَۃِ جَمَاعَۃٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ { وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ } فِی رِوَایَۃٍ قَالَ قِسْمَۃَ الثُّلُثِ وَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ ذَاکَ مِنَ الثُّلُثِ عِنْدَ الْوَصِیَّۃِ وَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ إِذَا مَاتَ الْمَیِّتُ فَقَدْ وَجَبَ الْمِیرَاثُ لأَہْلِہِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৬৪
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت ان رشتہ داروں کے لیے ہے جو وارث نہ ہوں اور وصیت اجنبیوں کے لیے جائز ہے
(١٢٥٥٩) سعید بن مسیب { وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ أُولُو الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینُ فَارْزُقُوہُمْ مِنْہُ } کے بارے میں کہتے ہیں : اس کو فرائض نے منسوخ کردیا۔
(۱۲۵۵۹) وَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ عَنْ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ { وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ أُولُو الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینُ فَارْزُقُوہُمْ مِنْہُ } قَالَ : نَسَخَتْہَا الْفَرَائِضُ وَکَذَلِکَ قَالَہُ عَطَائٌ وَعِکْرِمَۃُ وَالضَّحَّاکُ بْنُ مُزَاحِمٍ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৬৫
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت ان رشتہ داروں کے لیے ہے جو وارث نہ ہوں اور وصیت اجنبیوں کے لیے جائز ہے
(١٢٥٦٠) عطاء سے بھی منقول ہے کہ { وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ أُولُو الْقُرْبَی } منسوخ ہے، اسے آیۃ المیراث نے منسوخ کردیا۔
(۱۲۵۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الْعَسْقَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا أَبُو شَیْبَۃَ عَنْ عَطَائٍ فِی قَوْلِہِ { وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ }إِلَی آخِرِ الآیَۃِ قَالَ : ہِیَ مَنْسُوخَۃٌ نَسَخَتْہَا آیَۃُ الْمِیرَاثِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৬৬
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت سے پہلے قرض کی ادائیگی کا بیان
(١٢٥٦١) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرض کے بارے میں فیصلہ کیا کہ وہ وصیت سے پہلے ہے۔
(۱۲۵۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَقَدْ رُوِیَ فِی تَبْدِیَۃِ الدَّیْنِ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ حَدِیثٌ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- لاَ یُثْبِتُ أَہْلُ الْحَدِیثِ مِثْلَہُ قَالَ الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ أَنَّ النَّبِیِّ -ﷺ- قَضَی بِالدَّیْنِ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ۔ قَالَ الشَّیْخُ : امْتِنَاعُ أَہْلِ الْحَدِیثِ عَنْ إِثْبَاتِ ہَذَا لِتَفَرُّدِ الْحَارِثِ الأَعْوَرِ بِرِوَایَتِہِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَالْحَارِثُ لاَ یُحْتَجُّ بِخَبَرِہِ لِطَعْنِ الْحُفَّاظِ فِیہِ۔وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৬৭
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت سے پہلے قرض کی ادائیگی کا بیان
(١٢٥٦٢) حضرت علی (رض) فرماتی ہیں : تم پڑھتے ہو { مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُوصَی بِہَا أَوْ دَیْنٍ } اللہ تعالیٰ نے قرض کا فیصلہ کیا وصیت سے پہلے اور بیشک ماں کی اولاد علاتی اولاد پر وراثت میں مقدم ہوگی۔
(۱۲۵۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا زَکَرِیَّا عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِنَّکُمْ تَقْرَئُ ونَ { مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُوصَی بِہَا أَوْ دَیْنٍ } وَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَضَی بِالدَّیْنِ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ وَإِنَّ أَعْیَانَ بَنِی الأُمِّ یَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِی الْعَلاَّتِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৬৮
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت سے پہلے قرض کی ادائیگی کا بیان
(١٢٥٦٣) حضرت علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرض وصیت سے پہلے ہے اور وارث کے لیے وصیت نہیں ہے۔
(۱۲۵۶۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی شَبِیبُ بْنُ سَعِیدٍ أَنَّہُ سَمِعَ یَحْیَی بْنَ أَبِی أُنَیْسَۃَ الْجَزَرِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الْہَمْدَانِیِّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الدَّیْنُ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ وَلَیْسَ لِوَارِثٍ وَصِیَّۃٌ ۔
کَذَا أَتَی بِہِ یَحْیَی بْنُ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ۔ وَیَحْیَی ضَعِیفٌ۔ [ضعیف جدا]
کَذَا أَتَی بِہِ یَحْیَی بْنُ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ۔ وَیَحْیَی ضَعِیفٌ۔ [ضعیف جدا]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৬৯
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت سے پہلے قرض کی ادائیگی کا بیان
(١٢٥٦٤) حضرت ابن عمر (رض) کو کہا گیا : آپ حج سے پہلے عمرہ کا حکم کیسے دیتے ہیں ؟ اللہ تو فرماتے ہیں : { وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلَّہِ } تو انھوں نے کہا : آپ قرض کو وصیت سے پہلے کیسے پڑھتے ہو ؟ یا وصیت کو قرض سے پہلے، اس نے کہا : وصیت قرض سے پہلے ہے، ابن عمر نے کہا : دونوں میں سے ابتداء کس سے کرتے ہو ؟ انھوں نے کہا : قرض سے، ابن عمر (رض) نے کہا : ایسے ہی ہے۔
(۱۲۵۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ حُجَیْرٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قِیلَ لَہُ : کَیْفَ تَأْمُرُ بِالْعُمْرَۃِ قَبْلَ الْحَجِّ وَاللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ { وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلَّہِ} فَقَالَ : کَیْفَ تَقْرَئُ ونَ الدَّیْنَ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ أَوِ الْوَصِیَّۃَ قَبْلَ الدَّیْنِ؟ قَالَ : الْوَصِیَّۃُ قَبْلَ الدَّیْنِ۔ قَالَ : فَبَأَیِّہِمَا تَبْدَئُ ونَ؟ قَالُوا : بِالدَّیْنِ۔قَالَ : فَہُوَ ذَلِکَ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ یَعْنِی أَنَّ التَّقْدِیمَ جَائِزٌ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৭০
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی کی وصیت کا بیان
(١٢٥٦٥) عامر بن سعد بن ابی وقاص (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجۃ الوداع کے سال میری عیادت کرنے آئے اور میں بہت زیادہ تکلیف میں تھا، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے بیماری آئی ہے جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیکھ رہے ہیں اور میں مالدار ہوں اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے۔ کیا میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت نہ کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں میں نے کہا : نصف کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔ میں نے پوچھا : ثلث کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ثلث بھی زیادہ ہے۔ اگر تم اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑو تو اس سے بہتر ہے کہ انھیں محتاج چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور یقین کرو کہ تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے اس سے مقصود سے اللہ کی خوشنودی ہوئی تو تمہیں اس پر ثواب ملے گا یہاں تک کہ اگر تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ رکھو گے۔ میں نے کہا : اگر میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے چھوڑ دیا جاؤں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم پیچھے چھوڑ دییجاؤ اور پھر کوئی عمل کرو جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو تو تمہارا مرتبہ بلند ہوگا اور امید ہے کہ تم ابھی زندہ رہو گے اور کچھ لوگ تم سے فائدہ اٹھائیں گے اور کچھ نقصان اٹھائیں گے۔ اے اللہ ! میرے صحابہ کی ہجرت کو کامیاب فرما اور انھیں الٹے پاؤں واپس نہ کر، البتہ افسوس سعد بن خولہپر ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس لیے افسوس کیا تھا کہ ان کا انتقال مکہ میں ہوا تھا۔
(۱۲۵۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عبْدِ اللَّہِ بْنِ عبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی رِجَالٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْہُمْ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ حَدَّثَہُمْ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ وَابْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جَائَ نِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَعُودُنِی عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ قَالَ وَبِی وَجَعٌ قَدِ اشْتَدَّ بِی فَقُلْتُ لَہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ بَلَغَ مِنِّی الْوَجَعُ مَا تَرَی وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلاَ تَرِثُنِی إِلاَّ ابْنَۃٌ فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَیْ مَالِی؟ قَالَ : لاَ ۔ قُلْتُ : فَبِالشَّطْرِ؟ قَالَ : لاَ ۔ ُلْتُ : فَبِالثُّلُثِ؟ قَالَ : الثُّلُثُ کَبِیرٌ أَوْ کَثِیرٌ إِنَّکَ إِنْ تَدَعَ وَرَثَتَکَ أَغْنِیَائَ خَیْرٌ لَکَ مِنْ أَنْ تَدَعَہُمْ عَالَۃً یَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّکَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَۃً تَبْتَغِی بِہَا وَجْہَ اللَّہِ إِلاَّ أُجِرْتَ فِیہَا حَتَّی مَا تَجْعَلُ فِی فِی امْرَأَتِکَ ۔ قَالَ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَأُخَلِّفُ بَعْدَ أَصْحَابِی فَقَالَ : إِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلاً صَالِحًا إِلاَّ ازْدَدْتَ بِہِ دَرَجَۃً وَرِفْعَۃً وَلَعَلَّکَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّی یَنْتَفِعَ بِکَ أَقْوَامٌ وَیُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ اللَّہُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِی ہِجْرَتَہُمْ وَلاَ تَرُدَّہُمْ عَلَی أَعْقَابِہِمْ ۔ لَکِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَۃَ یَرْثِی لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ مَاتَ بِمَکَّۃَ لَفْظُ حَدِیثِ الْقَطَّانِ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ وَہْبٍ قُلْتُ : فَبِالشَّطْرِ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : لاَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیرٌ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ یُونُسَ۔ [بخاری ۱۲۹۶۔ ۲۷۴۲]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ وَابْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جَائَ نِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَعُودُنِی عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ قَالَ وَبِی وَجَعٌ قَدِ اشْتَدَّ بِی فَقُلْتُ لَہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ بَلَغَ مِنِّی الْوَجَعُ مَا تَرَی وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلاَ تَرِثُنِی إِلاَّ ابْنَۃٌ فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَیْ مَالِی؟ قَالَ : لاَ ۔ قُلْتُ : فَبِالشَّطْرِ؟ قَالَ : لاَ ۔ ُلْتُ : فَبِالثُّلُثِ؟ قَالَ : الثُّلُثُ کَبِیرٌ أَوْ کَثِیرٌ إِنَّکَ إِنْ تَدَعَ وَرَثَتَکَ أَغْنِیَائَ خَیْرٌ لَکَ مِنْ أَنْ تَدَعَہُمْ عَالَۃً یَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّکَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَۃً تَبْتَغِی بِہَا وَجْہَ اللَّہِ إِلاَّ أُجِرْتَ فِیہَا حَتَّی مَا تَجْعَلُ فِی فِی امْرَأَتِکَ ۔ قَالَ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَأُخَلِّفُ بَعْدَ أَصْحَابِی فَقَالَ : إِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلاً صَالِحًا إِلاَّ ازْدَدْتَ بِہِ دَرَجَۃً وَرِفْعَۃً وَلَعَلَّکَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّی یَنْتَفِعَ بِکَ أَقْوَامٌ وَیُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ اللَّہُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِی ہِجْرَتَہُمْ وَلاَ تَرُدَّہُمْ عَلَی أَعْقَابِہِمْ ۔ لَکِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَۃَ یَرْثِی لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ مَاتَ بِمَکَّۃَ لَفْظُ حَدِیثِ الْقَطَّانِ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ وَہْبٍ قُلْتُ : فَبِالشَّطْرِ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : لاَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیرٌ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ یُونُسَ۔ [بخاری ۱۲۹۶۔ ۲۷۴۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৭১
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی کی وصیت کا بیان
(١٢٥٦٦) ترجمہ اوپر والی حدیث والا ہی ہے۔
(۱۲۵۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ فِی الْمُحَرَّمِ سَنَۃَ سَبْعٍ وَثَلاَثِینَ وَثَلاَثِمَائَۃٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی وَمُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِیُّ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : عَادَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ أَشْفَیْتُ مِنْہُ عَلَی الْمَوْتِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ َلَغَ بِی مَا تَرَی مِنَ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلاَ یَرِثُنِی إِلاَّ ابْنَۃٌ لِی وَاحِدَۃٌ أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَیْ مَالِی؟ قَالَ : لاَ ۔ قُلْتُ : أَفَأَتَصَدَّقُ بِشَطْرِہِ؟ قَالَ : لاَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیرٌ إِنَّکَ إِنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ أَغْنِیَائَ خَیْرٌ ِنْ أَنْ تَذَرَہُمْ عَالَۃً یَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ وَلَسْتَ تُنْفِقُ نَفَقَۃً تَبْتَغِی بِہَا وَجْہَ اللَّہِ إِلاَّ أُجِرْتَ بِہَا حَتَّی اللُّقْمَۃَ تَجْعَلُہَا فِی فِی امْرَأَتِکَ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِی؟ قَالَ : إِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ َالِحًا تَبْتَغِی بِہِ وَجْہَ اللَّہِ إِلاَّ ازْدَدْتَ بِہِ دَرَجَۃً وَرِفْعَۃً وَلَعَلَّکَ تُخَلَّفُ حَتَّی یَنْتَفِعَ بِکَ أَقْوَامٌ وَیُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ اللَّہُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِی ہِجْرَتَہُمْ وَلاَ تَرُدَّہُمْ عَلَی أَعْقَابِہِمْ ۔ لَکِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَۃَ رَثَی لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ تُوُفِّیَ بِمَکَّۃَ ۔ لَفْظُ حَدِیثِہِمَا وَاحِدٌ
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ وَغَیْرِہِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ وَعَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ وَمَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَخَالَفَہُمْ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ فَقَالَ : عَامَ الْفَتْحِ۔ [صحیح]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی وَمُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِیُّ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : عَادَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ أَشْفَیْتُ مِنْہُ عَلَی الْمَوْتِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ َلَغَ بِی مَا تَرَی مِنَ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلاَ یَرِثُنِی إِلاَّ ابْنَۃٌ لِی وَاحِدَۃٌ أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَیْ مَالِی؟ قَالَ : لاَ ۔ قُلْتُ : أَفَأَتَصَدَّقُ بِشَطْرِہِ؟ قَالَ : لاَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیرٌ إِنَّکَ إِنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ أَغْنِیَائَ خَیْرٌ ِنْ أَنْ تَذَرَہُمْ عَالَۃً یَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ وَلَسْتَ تُنْفِقُ نَفَقَۃً تَبْتَغِی بِہَا وَجْہَ اللَّہِ إِلاَّ أُجِرْتَ بِہَا حَتَّی اللُّقْمَۃَ تَجْعَلُہَا فِی فِی امْرَأَتِکَ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِی؟ قَالَ : إِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ َالِحًا تَبْتَغِی بِہِ وَجْہَ اللَّہِ إِلاَّ ازْدَدْتَ بِہِ دَرَجَۃً وَرِفْعَۃً وَلَعَلَّکَ تُخَلَّفُ حَتَّی یَنْتَفِعَ بِکَ أَقْوَامٌ وَیُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ اللَّہُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِی ہِجْرَتَہُمْ وَلاَ تَرُدَّہُمْ عَلَی أَعْقَابِہِمْ ۔ لَکِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَۃَ رَثَی لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ تُوُفِّیَ بِمَکَّۃَ ۔ لَفْظُ حَدِیثِہِمَا وَاحِدٌ
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ وَغَیْرِہِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ وَعَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ وَمَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَخَالَفَہُمْ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ فَقَالَ : عَامَ الْفَتْحِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৭২
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی کی وصیت کا بیان
(١٢٥٦٧) عامر بن سعد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : میں فتح مکہ کے سال بیمار ہوا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری عیادت کی۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے پاس مال زیادہ ہے اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے، کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں، میں نے کہا : نصف کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں میں نے کہا : ثلث کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : ثلث ٹھیک ہے اور ثلث بھی زیادہ ہے۔ اگر تو اپنے ورثا کو غنی چھوڑ، وہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو محتاج چھوڑے اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ بیشک تجھے تمام خرچ پر اجر ملے گا حتیٰ کہ اگر تو اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ رکھے گا تو اس میں بھی اجر ہے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے ڈر ہے کہ میں فوت ہوجاؤں گا۔ اس زمین میں جہاں سے ہجرت کی تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے امید ہے کہ تو زندہ رہے گا، یہاں تک کہ کچھ لوگ تجھ سے نفع حاصل کریں گے اور کچھ نقصان پائیں گے۔ اے اللہ ! میرے اصحاب کی ہجرت کو کامیاب بنا اور انھیں الٹے پاؤں واپس نہ کر، لیکن سعد بن خولہ پر افسوس ہے اس لیے کہ وہ مکہ میں فوت ہوگئے تھے۔
(۱۲۵۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ الرَّزَّازُ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرِ بْنِ مَنْصُورٍ أَبُو عُثْمَانَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ قَالَ : مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَیْتُ مِنْہُ فَأَتَانِی النَّبِیُّ -ﷺ- یَعُودُنِی فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ لِی مَالاً کَثِیرًا وَلَیْسَتْ تَرِثُنِی إِلاَّ ابْنَۃٌ لِی فَأُوصِی بِمَالِی کُلِّہِ؟ قَالَ : لاَ ۔ قُلْتُ : فَبِالشَّطْرِ؟ قَالَ : لاَ ۔ قُلْتُ : فَبِالثُّلُثِ؟ قَالَ : الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیرٌ إِنَّکَ إِنْ تَتْرُکَ وَرَثَتَکَ أَغْنِیَائَ خَیْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَہُمْ عَالَۃً یَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ إِنَّکَ لَعَلَّکَ أَنْ تُؤْجَرَ عَلَی جَمِیعِ نَفَقَتِکَ حَتَّی اللُّقْمَۃِ تَرْفَعُہَا إِلَی فِی امْرَأَتِکَ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَرْہَبُ أَنْ أَمُوتَ بِأَرْضٍ ہَاجَرْتُ مِنْہَا قَالَ : إِنَّکَ لَعَلَّکَ أَنْ تَبْقَی حَتَّی یَنْتَفِعَ بِکَ قَوْمٌ وَیُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ اللَّہُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِی ہِجْرَتَہُمْ وَلاَ تَرُدَّہُمْ عَلَی أَعْقَابِہِمْ ۔ لَکِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَۃَ یَرْثِی لَہُ أَنْ مَاتَ بِمَکَّۃَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৭৩
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی کی وصیت کا بیان
(١٢٥٦٨) ایک سند سے منقول ہے کہ تو جو بھی خرچ کرے گا تجھے اس کا اجر دیا جائے گا یہاں تک کہ ایک لقمہ جو تو اپنی بیوی کے منہ میں رکھے گا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں اپنی ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو میرے بعد زندہ رہے گا تو عمل کرے گا جنت کے ارادے سے تو تیرے درجات بلند ہوں گے اور شاید تو زندہ رہے یہاں تک کہ کچھ لوگ تجھ سے نفع اٹھائیں اور کچھ نقصان پائیں گے۔
(۱۲۵۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی بْنِ أَسَدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ بِنَحْوٍ مِنْ مَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّکَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَۃً إِلاَّ أُجِرْتَ فِیہَا حَتَّی اللُّقْمَۃَ تَرْفَعُہَا إِلَی فِی امْرَأَتِکَ۔ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أُخَلَّفُ عَنْ ہِجْرَتِی قَالَ: إِنَّکَ سَتُخَلَّفَ بَعْدِی فَتَعْمَلَ عَمَلاً تُرِیدُ بِہِ الْجَنَّۃَ إِلاَّ ازْدَدْتَ رِفْعَۃً وَدَرَجَۃً وَلَعَلَّکَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّی یَنْتَفِعَ بِکَ أَقْوَامٌ وَیُضَرَّ آخَرُونَ ۔ ثُمَّ ذَکَرَ الْبَاقِیَ بِنَحْوِہِ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُمَیْدِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ کُلُّہُمْ عَنْ سُفْیَانَ وَسُفْیَانُ خَالَفَ الْجَمَاعَۃَ فِی قَوْلِہِ عَامَ الْفَتْحِ وَالْمَحْفُوظُ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ۔ [صحیح]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُمَیْدِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ کُلُّہُمْ عَنْ سُفْیَانَ وَسُفْیَانُ خَالَفَ الْجَمَاعَۃَ فِی قَوْلِہِ عَامَ الْفَتْحِ وَالْمَحْفُوظُ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৭৪
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی کی وصیت کا بیان
(١٢٥٦٩) عامر بن سعد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری عیادت کی۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! دعا کریں، اللہ مجھے واپس نہ لوٹائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تجھے بلند کرے گا اور لوگ تجھ سے نفع اٹھائیں گے۔ میں نے کہا : میں وصیت کا ارادہ رکھتا ہوں اور میری صرف ایک بیٹی ہے، کیا نصف کی وصیت کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نصف زیادہ ہے۔ میں نے کہا : ثلث کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ثلث ٹھیک اور ثلث بھی زیادہ ہے پس میں نے ثلث کی وصیت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اجازت دے دی۔
(۱۲۵۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی مُوسَی بْنُ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ ہَاشِمِ بْنِ ہَاشِمٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : مَرِضْتُ فَعَادَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ ادْعُ اللَّہَ أَنْ لاَ یَرُدَّنِی عَلَی عَقِبِی قَالَ : لَعَلَّ اللَّہَ أَنْ یَرْفَعُکَ فَیَنْفَعَ بِکَ نَاسًا ۔ فَقُلْتُ أُرِیدُ أَنْ أُوصِیَ وَإِنَّمَا لِی ابْنَۃٌ أَفَأُوصِی بِالنِّصْفِ؟ قَالَ : النِّصْفُ کَثِیرٌ ۔ قَالَ قُلْتُ : فَالثُّلُثِ؟ قَالَ : الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیرٌ أَوْ کَبِیرٌ ۔ قَالَ فَأَوْصَی بِالثُّلُثِ فَجَازَ ذَلِکَ لَہُمْ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِیمِ عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ عَدِیٍّ وَقَالَ : فَأَوْصَی النَّاسُ بِالثُّلُثِ فَأَجَازَ ذَلِکَ لَہُمْ۔ [صحیح]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِیمِ عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ عَدِیٍّ وَقَالَ : فَأَوْصَی النَّاسُ بِالثُّلُثِ فَأَجَازَ ذَلِکَ لَہُمْ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৭৫
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی کی وصیت کا بیان
(١٢٥٧٠) ایک سند کے الفاظ ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس آئے اور میں مریض تھا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔ میں نے کہا : دو ثلث کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں، میں نے کہا : ایک تہائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے، پس ثلث کی وصیت کی تھی۔
(۱۲۵۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ قَالَ : نَزَلَتْ فِیَّ أَرْبَعُ آیَاتٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَیَّ وَأَنَا مَرِیضٌ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَوْصَی بِمَالِی کُلِّہِ؟ قَالَ : لاَ ۔ قُلْتُ : فَبِثُلُثَیْہِ؟ قَالَ : لاَ ۔ قُلْتُ : فَبِثُلُثِہِ؟ قَالَ : فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَکَانَ الثُّلُثُ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ۔ [مسلم ۱۷۴]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ۔ [مسلم ۱۷۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৭৬
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی کی وصیت کا بیان
(١٢٥٧١) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہارے مال کا ثلث دیا ہے، موت کے وقت تمہارے اعمال میں زیادتی کی وجہ سے۔
(۱۲۵۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ سَمِعْتُ طَلْحَۃَ بْنَ عَمْرٍو الْمَکِّیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ عَطَائَ بْنَ أَبِی رَبَاحٍ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ اللَّہَ أَعْطَاکُمْ ثُلُثَ أَمْوَالِکُمْ عِنْدَ وَفَاتِکُمْ زِیَادَۃً فِی أَعْمَالِکُمْ ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৭৭
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی کی وصیت کا بیان
(١٢٥٧٢) ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) سے وصیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو حضرت عمر (رض) نی فرمایا : ثلث درست ہے نہ تھوڑی ہے اور نہ زیادہ۔
(٦) باب مَنِ اسْتَحَبَّ النُّقْصَانَ عَنِ الثُّلُثِ إِذَا لَمْ یَتْرُکْ وَرَثَتَہُ أَغْنِیَائَ اسْتِدْلاَلاً بِمَا رُوِّینَا فِی حَدِیثِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ
جس نے ثلث سے کم کو مستحب خیال کیا جب اس کے ورثاء غنی نہ ہوں حدیث سعد بن ابی وقاص سے استدلال کرتے ہوئے
(٦) باب مَنِ اسْتَحَبَّ النُّقْصَانَ عَنِ الثُّلُثِ إِذَا لَمْ یَتْرُکْ وَرَثَتَہُ أَغْنِیَائَ اسْتِدْلاَلاً بِمَا رُوِّینَا فِی حَدِیثِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ
جس نے ثلث سے کم کو مستحب خیال کیا جب اس کے ورثاء غنی نہ ہوں حدیث سعد بن ابی وقاص سے استدلال کرتے ہوئے
(۱۲۵۷۲) وَ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی رِجَالٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْہُمْ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَغَیْرُہُمْ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَہُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سُئِلَ عَنِ الْوَصِیَّۃِ فَقَالَ عُمَرُ : الثُّلُثُ وَسَطٌ مِنَ الْمَالِ لاَ بَخْسَ وَلاَ شَطَطَ۔ [صحیح]
তাহকীক: