আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১১৬ টি
হাদীস নং: ২৭৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو سجدوں کے درمیان ایڑیوں پر بیٹھنے کا بیان
(٢٧٣٤) ابن اسحق نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سجدوں کے درمیان اپنی ایڑیوں اور پاؤں کی انگلیوں کو کھڑا کرنے کے بارے حدیث بیان کی۔ عبداللہ بن ابی نجیح مجاہد بن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے عبداللہ بن عباس (رض) کو اس بارے میں ذکر کرتے ہوئے سنا تو ان سے عرض کیا : اے ابوعباس ! واللہ ! یہ کام جو انھوں نے کیا ہے انتہائی مشکل ہے تو انھوں نے فرمایا : یہ سنت ہے۔
(۲۷۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَنِ انْتِصَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی عَقِبَیْہِ وَصُدُورِ قَدَمَیْہِ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ إِذَا صَلَّی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی نَجِیحٍ الْمَکِّیُّ عَنْ مُجَاہِدِ بْنِ جَبْرٍ أَبِی الْحَجَّاجِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ یَذْکُرُہُ۔ قَالَ فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَبَا الْعَبَّاسِ وَاللَّہِ إِنْ کُنَّا لِنَعُدُّ ہَذَا جَفَائً مِمَّنَ صَنَعَہُ۔ قَالَ فَقَالَ: إِنَّہَا لَسُنَّۃٌ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو سجدوں کے درمیان ایڑیوں پر بیٹھنے کا بیان
(٢٧٣٥) محمد بن عجلان سے روایت ہے کہ ابو زبیر نے انھیں خبر دی کہ انھوں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو دورانِ نماز سجدہ کرتے ہوئے دیکھا، جب وہ سجدے سے سر اٹھاتے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں پر بیٹھ جاتے اور فرماتے تھے کہ یہ سنت ہے۔
(۲۷۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ خَالِدِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِلاَلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ أَنَّ أَبَا الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہُ: أَنَّہُ رَأَی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ إِذَا سَجَدَ حِینَ یَرْفَعُ رَأْسَہُ مِنَ السَّجْدَۃِ الأُولَی یَقْعُدُ عَلَی أَطْرَافِ أَصَابِعِہِ وَیَقُولُ: إِنَّہُ مِنَ السُّنَّۃِ۔ [صحیح۔ خرجہ الطبرانی فی الاوسط۸۷۵۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو سجدوں کے درمیان ایڑیوں پر بیٹھنے کا بیان
(٢٧٣٦) مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر اور ابن عباس (رض) نماز میں ایڑیوں پر بیٹھا کرتے تھے ۔ ابوزبیر کہتے ہیں کہ طاؤس بھی ایڑیوں پر بیٹھتے تھے۔
(۲۷۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ مُجَاہِدٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ کَانَا یُقْعِیَانَ۔ قَالَ أَبُو الزُّبَیْرِ: وَکَانَ طَاوُسٌ یُقْعِی۔ [صحیح۔ ابن ابی شیبۃ ۲۹۴۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو سجدوں کے درمیان ایڑیوں پر بیٹھنے کا بیان
(٢٧٣٧) ابوزہیر معاویہ بن خدیج فرماتے ہیں کہ میں نے طاؤس کو ایڑیوں پر بیٹھے دیکھا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ ایڑیوں پر بیٹھتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا : تم نے مجھے جیسے دیکھا یہی نماز کا طریقہ ہے۔ میں نے عبادلہ ثلاثہ (عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن زبیر)y کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔
(۲۷۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا أَبُو زُہَیْرٍ: مُعَاوِیَۃُ بْنُ حُدَیْجٍ قَالَ: رَأَیْتُ طَاوُسًا یُقْعِی ، فَقُلْتُ: رَأَیْتُکَ تُقْعِی۔ فَقَالَ: مَا رَأَیْتَنِی أُقْعِی وَلَکِنَّہَا الصَّلاَۃُ ، رَأَیْتُ الْعَبَادِلَۃَ الثَّلاَثَۃَ یَفْعَلُونَ ذَلِکَ: عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ ، وَعَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ ، وَعَبْدَ اللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ یَفْعَلُونَہُ۔ قَالَ أَبُو زُہَیْرٍ: وَقَدْ رَأَیْتُہُ یُقْعِی۔
[صحیح۔ وقد تقدم شاہداً للذی قبلہ]
[صحیح۔ وقد تقدم شاہداً للذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو سجدوں کے درمیان ایڑیوں پر بیٹھنے کا بیان
(٢٧٣٨) (ا) طاوس سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر اور ابن عباس (رض) کو دیکھا وہ دونوں نماز میں سجدوں کے درمیان جلسہ میں اپنے پاؤں کی انگلیوں پر بیٹھتے تھے۔
(ب) ابراہیم کہتے ہیں : میں نے عطا سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا کہ ان میں سے جو طریقہ بھی اختیار کرلو تمہیں کفایت کر جائے گا۔ اگر چاہو تو پاؤں کی انگلیوں کے پوروں پر بیٹھ جاؤ اور اگر چاہو تو اپنی مقعد پر بیٹھ جاؤ۔
(ج) یہ جائز یا مسنون اقعاء (ایڑیوں پر بیٹھنا) ہیجس کے بارے میں ہم ابن عباس اور ابن عمر (رض) سے روایات ذکر کرچکے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنے پاؤں کی انگلیوں کے سرے زمین پر رکھے اور اپنی سرین کو اپنی ایڑیوں پر رکھے اور گھٹنے زمین پر ہوں۔
(ب) ابراہیم کہتے ہیں : میں نے عطا سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا کہ ان میں سے جو طریقہ بھی اختیار کرلو تمہیں کفایت کر جائے گا۔ اگر چاہو تو پاؤں کی انگلیوں کے پوروں پر بیٹھ جاؤ اور اگر چاہو تو اپنی مقعد پر بیٹھ جاؤ۔
(ج) یہ جائز یا مسنون اقعاء (ایڑیوں پر بیٹھنا) ہیجس کے بارے میں ہم ابن عباس اور ابن عمر (رض) سے روایات ذکر کرچکے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنے پاؤں کی انگلیوں کے سرے زمین پر رکھے اور اپنی سرین کو اپنی ایڑیوں پر رکھے اور گھٹنے زمین پر ہوں۔
(۲۷۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَیْبَانَ الْبَغْدَادِیُّ الْہَرَوِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ صَفْوَانَ الْکُوفِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ
عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ وَہُمَا یُقْعِیَانِ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ عَلَی أَطْرَافِ أَصَابِعِہِمَا۔
قَالَ إِبْرَاہِیمُ: فَسَأَلَتُ عَطَائً عَنْ ذَلِکَ ، فَقَالَ: أَیَّ ذَلِکَ فَعَلْتَ أَجْزَأَکَ ، إِنْ شِئْتَ عَلَی أَطْرَافِ أَصَابِعِکَ ، وَإِنَ شِئْتَ عَلَی عَجُزِکَ۔
فَہَذَا الإِقْعَائُ الْمُرَخَّصُ فِیہِ أَوِ الْمَسْنُونُ عَلَی مَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ ، وَہُوَ أَنْ یَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِ رِجْلَیْہِ عَلَی الأَرْضِ ، وَیَضَعَ أَلْیَتَیْہِ عَلَی عَقِبَیْہِ وَیَضَعَ رُکْبَتَیْہِ بِالأَرْضِ۔[صحیح]
عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ وَہُمَا یُقْعِیَانِ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ عَلَی أَطْرَافِ أَصَابِعِہِمَا۔
قَالَ إِبْرَاہِیمُ: فَسَأَلَتُ عَطَائً عَنْ ذَلِکَ ، فَقَالَ: أَیَّ ذَلِکَ فَعَلْتَ أَجْزَأَکَ ، إِنْ شِئْتَ عَلَی أَطْرَافِ أَصَابِعِکَ ، وَإِنَ شِئْتَ عَلَی عَجُزِکَ۔
فَہَذَا الإِقْعَائُ الْمُرَخَّصُ فِیہِ أَوِ الْمَسْنُونُ عَلَی مَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ ، وَہُوَ أَنْ یَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِ رِجْلَیْہِ عَلَی الأَرْضِ ، وَیَضَعَ أَلْیَتَیْہِ عَلَی عَقِبَیْہِ وَیَضَعَ رُکْبَتَیْہِ بِالأَرْضِ۔[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اقعاء مکروہ کا بیان
(٢٧٣٩) حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں اقعا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
(۲۷۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الإِقْعَائِ فِی الصَّلاَۃِ۔
خَالَفَہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ۔ [حسن لغیرہ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الإِقْعَائِ فِی الصَّلاَۃِ۔
خَالَفَہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ۔ [حسن لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اقعاء مکروہ کا بیان
(٢٧٤٠) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں اقعاء اور تورک کرنے سے منع فرمایا ہے۔
(۲۷۴۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَّانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا السَّالَحِینِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- نَہَی عَنِ الإِقْعَائِ وَالتَّوَرُّکِ فِی الصَّلاَۃِ۔
تَفَرَّدَ بِہِ یَحْیَی بْنُ إِسْحَاقَ السَّیْلَحِینِیُّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ۔
وَقَدْ قِیلَ عَنْہُ عَنْ حَمَّادٍ وَبَحْرِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ وَالرِّوَایَۃُ الأُولَی أَصَحُّ۔ [حسن]
تَفَرَّدَ بِہِ یَحْیَی بْنُ إِسْحَاقَ السَّیْلَحِینِیُّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ۔
وَقَدْ قِیلَ عَنْہُ عَنْ حَمَّادٍ وَبَحْرِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ وَالرِّوَایَۃُ الأُولَی أَصَحُّ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اقعاء مکروہ کا بیان
(٢٧٤١) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین باتوں کا حکم دیا ہے اور تین باتوں کاموں سے منع کیا ہے : آپ نے مجھے ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اور وتر پڑھ کر سونے اور چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا ہے اور مجھے نماز میں بھیڑیے کی طرح جھانکنے، بندر کی طرح بیٹھنے اور مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے سے منع کیا ہے۔
ٖ(۲۷۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ النَّیْسَابُورِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ لَیْثٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: أَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِثَلاَثٍ ، وَنَہَانِی عَنْ ثَلاَثٍ ، أَمَرَنِی بِصِیَامِ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ، وَأَنْ لاَ أَنَامَ إِلاَّ عَلَی وِتْرٍ ، وَرَکْعَتَیِ الضُّحَی ، وَنَہَانِی عَنْ الاِلْتِفَاتِ فِی صَلاَتِی الْتِفَاتِ الثَّعْلَبِ ، أَوْ أُقْعِیَ إِقْعَائَ الْقِرْدِ ، أَوْ أَنْقُرَ نَقْرَ الدِّیکِ۔ [حسن۔ تقدمت لہ شواہد فی رقم ۲۷۲۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اقعاء مکروہ کا بیان
(٢٧٤٢) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی !۔۔۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا : دو سجدوں کے درمیان اقعاء نہ کرنا۔
(۲۷۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا عَلِیُّ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ: وَلاَ تُقْعِ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ))۔
الْحَارِثُ الأَعْوَرُ لاَیُحْتَجُّ بِہِ وَکَذَلِکَ لَیْثُ بْنُ أَبِی سُلَیْمٍ۔ وَحَدِیثُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ صَحِیحٌ۔ [ضعیف]
الْحَارِثُ الأَعْوَرُ لاَیُحْتَجُّ بِہِ وَکَذَلِکَ لَیْثُ بْنُ أَبِی سُلَیْمٍ۔ وَحَدِیثُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ صَحِیحٌ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اقعاء مکروہ کا بیان
(٢٧٤٣) (ا) ابوعبیدہ سے منقول ہے کہ اقعاء کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی سرین کو زمین پر رکھ لے، اپنی پنڈلیوں کو کھڑا کرلے اور اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھ لے۔
(ب) ایک دوسرے مقام پر اس کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ انسان کا اپنی سرین پر اس طرح بیٹھنا کہ (درندے اور کتے کی طرح) اس کی رانیں کھڑی ہو۔
(ج) شیخ امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں کہ اقعاء کی یہ قسم وہ نہیں ہے جو ہم عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر (رض) کی روایات میں نقل کرچکے ہیں بلکہ یہاں پر جو اقعاء ہے اس سے منع کیا گیا ہے اور جو ابن عباس اور ابن عمر (رض) سے منقول روایات میں ہے۔ وہ مسنون ہے۔ رہی بات ابوجوزا کی حدیث کی جو وہ عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شیطان کی چوکڑی سے منع کرتے تھے اور آپ اپنی بائیں ٹانگ کو بچھاتے اور دائیں ٹانگ کو کھڑا رکھتے تو اس میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ آپ آخری تشہد میں ہوں تو یہ ان روایتوں کے منافی نہیں ہے جو ہم ابن عباس اور ابن عمر (رض) سے دو سجدوں کے درمیان جلسہ کے بارے میں ذکر کرچکے ہیں۔ واللہ اعلم
(ب) ایک دوسرے مقام پر اس کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ انسان کا اپنی سرین پر اس طرح بیٹھنا کہ (درندے اور کتے کی طرح) اس کی رانیں کھڑی ہو۔
(ج) شیخ امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں کہ اقعاء کی یہ قسم وہ نہیں ہے جو ہم عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر (رض) کی روایات میں نقل کرچکے ہیں بلکہ یہاں پر جو اقعاء ہے اس سے منع کیا گیا ہے اور جو ابن عباس اور ابن عمر (رض) سے منقول روایات میں ہے۔ وہ مسنون ہے۔ رہی بات ابوجوزا کی حدیث کی جو وہ عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شیطان کی چوکڑی سے منع کرتے تھے اور آپ اپنی بائیں ٹانگ کو بچھاتے اور دائیں ٹانگ کو کھڑا رکھتے تو اس میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ آپ آخری تشہد میں ہوں تو یہ ان روایتوں کے منافی نہیں ہے جو ہم ابن عباس اور ابن عمر (رض) سے دو سجدوں کے درمیان جلسہ کے بارے میں ذکر کرچکے ہیں۔ واللہ اعلم
(۲۷۴۳) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ أَنَّہُ حَکَی عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ أَنَّہُ قَالَ: الإِقْعَائُ ہُوَ أَنْ یَلْصَقَ أَلْیَتَیْہِ بِالأَرْضِ ، وَیَنْتَصِبَ عَلَی سَاقَیْہِ ، وَیَضَعَ یَدَیْہِ بِالأَرْضِ۔
وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ: الإِقْعَائُ جُلُوسُ الإِنْسَانِ عَلَی أَلْیَتَیْہِ نَاصِبًا فَخِذَیْہِ مِثْلَ إِقْعَائِ الْکَلْبِ وَالسَّبُعِ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا النَّوْعُ مِنَ الإِقْعَائِ غَیْرُ مَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ ، وَہَذَا مَنْہِیٌّ عَنْہُ ، وَمَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ مَسْنُونٌ ، وَأَمَّا حَدِیثُ أَبِی الْجَوْزَائِ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہُ کَانَ یَنْہَی عَنْ عَقِبِ الشَّیْطَانِ ، وَکَانَ یَفْرِشُ رِجْلَہُ الْیُسْرَی ، وَیَنْصِبُ رِجْلَہُ الْیُمْنَی ، فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ وَارِدًا فِی الْجُلُوسِ لِلتَّشَہُدِّ الأَخِیرِ فَلاَ یَکُونُ مُنَافِیًا لِمَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ فِی الْجُلُوسِ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[صحیح]
وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ: الإِقْعَائُ جُلُوسُ الإِنْسَانِ عَلَی أَلْیَتَیْہِ نَاصِبًا فَخِذَیْہِ مِثْلَ إِقْعَائِ الْکَلْبِ وَالسَّبُعِ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا النَّوْعُ مِنَ الإِقْعَائِ غَیْرُ مَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ ، وَہَذَا مَنْہِیٌّ عَنْہُ ، وَمَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ مَسْنُونٌ ، وَأَمَّا حَدِیثُ أَبِی الْجَوْزَائِ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہُ کَانَ یَنْہَی عَنْ عَقِبِ الشَّیْطَانِ ، وَکَانَ یَفْرِشُ رِجْلَہُ الْیُسْرَی ، وَیَنْصِبُ رِجْلَہُ الْیُمْنَی ، فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ وَارِدًا فِی الْجُلُوسِ لِلتَّشَہُدِّ الأَخِیرِ فَلاَ یَکُونُ مُنَافِیًا لِمَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ فِی الْجُلُوسِ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو سجدوں کے درمیان ٹھہرنے کا بیان
(٢٧٤٤) ثابت فرماتے ہیں کہ سیدنا انس (رض) نے فرمایا : جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں نماز پڑھاتے تھے میں اسی طرح آپ کو نماز پڑھاتا ہوں ۔ اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں کرتا۔ ثابت کہتے ہیں کہ حضرت انس (رض) نماز میں جو کرتے تھے میں تمہیں وہ کرتے نہیں دیکھ رہا۔ وہ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنا لمبا قیام فرماتے کہ گمان ہوتا شاید بھول گئے ہیں اور دو سجدوں کے درمیان جب جلسہ فرماتے تو اتنی دیر بیٹھے رہتے کہ گمان ہوتا شاید بھول گئے ہیں۔
(۲۷۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو سَعِیدٍ: أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوبَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ وَخَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِیعِ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ أَنْ سُلَیْمَانَ بْنَ حَرْبٍ حَدَّثَہُمْ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ: لاَ آلُو أَنْ أُصَلِّیَ بِکُمْ کَمَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی بِنَا۔ قَالَ ثَابِتٌ: فَکَانَ أَنَسٌ یَصْنَعُ شَیْئًا لاَ أَرَاکُمْ تَصْنَعُونَہُ ، کَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ قَامَ حَتَّی یَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِیَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ قَعَدَ حَتَّی یَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِیَ۔
لَفْظُ حَدِیثِ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ خَلَفِ بْنِ ہِشَامٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۲۱]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ أَنْ سُلَیْمَانَ بْنَ حَرْبٍ حَدَّثَہُمْ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ: لاَ آلُو أَنْ أُصَلِّیَ بِکُمْ کَمَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی بِنَا۔ قَالَ ثَابِتٌ: فَکَانَ أَنَسٌ یَصْنَعُ شَیْئًا لاَ أَرَاکُمْ تَصْنَعُونَہُ ، کَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ قَامَ حَتَّی یَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِیَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ قَعَدَ حَتَّی یَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِیَ۔
لَفْظُ حَدِیثِ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ خَلَفِ بْنِ ہِشَامٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۲۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو سجدوں کے درمیان ٹھہرنے کا بیان
(٢٧٤٥) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ۔۔۔ پھر رسول اللہ کے نماز کے طریقہ میں مکمل حدیث بیان کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ عائشہ (رض) نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے کھڑے نہ ہوجاتے اور جب سجدے سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔
(۲۷۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ بُدَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی صِفَۃِ صَلاَتِہِ وَقَالَتْ: کَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ لَمْ یَسْجُدْ حَتَّی یَسْتَوِیَ قَائِمًا ، وَکَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ السُّجُودِ لَمْ یَسْجُدْ حَتَّی یَسْتَوِیَ قَاعِدًا۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۲۳]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۲۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو سجدوں کے درمیان ٹھہرنے کا بیان
(٢٧٤٦) (ا) ابوقلابہ سے روایت ہے کہ سیدنا مالک بن حویرث (رض) نے اپنے شاگردوں سے فرمایا : کیا میں تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کا طریقہ نہ بتلاؤں ؟ اس وقت فرض نماز کا وقت بھی نہیں تھا۔ وہ کھڑے ہوئے پھر رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور تھوڑی دیر تک کھڑے رہے، پھر سجدہ کیا پھر سجدے سے سر اٹھایا اور تھوڑی دیر ٹھہرے، پھر دوسرا سجدہ کیا۔
(ب) ابوقلابہ کہتے ہیں : انھوں نے ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی طرح نماز پڑھی۔
(ج) ایوب کہتے ہیں کہ عمرو بن سلمہ ایک ایسا کام کیا کرتے تھے جو میں نے اور لوگوں کو کرتے نہیں دیکھا، وہ جب پہلی اور تیسری رکعت میں دونوں سجدوں سے اٹھتے تو سیدھے بیٹھ جاتے تھے ، پھر اس کے بعد کھڑے ہوتے تھے۔
(ب) ابوقلابہ کہتے ہیں : انھوں نے ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی طرح نماز پڑھی۔
(ج) ایوب کہتے ہیں کہ عمرو بن سلمہ ایک ایسا کام کیا کرتے تھے جو میں نے اور لوگوں کو کرتے نہیں دیکھا، وہ جب پہلی اور تیسری رکعت میں دونوں سجدوں سے اٹھتے تو سیدھے بیٹھ جاتے تھے ، پھر اس کے بعد کھڑے ہوتے تھے۔
(۲۷۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ أَنَّ مَالِکَ بْنَ الْحُوَیْرِثِ قَالَ لأَصْحَابِہِ: أَلاَ أُرِیکُمْ کَیْفَ صَلاَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَذَاکَ فِی غَیْرِ حِینِ صَلاَۃٍ ، فَقَامَ ثُمَّ رَکَعَ فَکَبَّرَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَامَ ہُنَیَّۃً ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ ثُمَّ انْتَظَرَ ہُنَیَّۃً ، ثُمَّ سَجَدَ۔
قَالَ أَبُو قِلاَبَۃَ: صَلَّی صَلاَۃَ شَیْخِنَا ہَذَا یَعْنِی عَمْرَو بْنَ سَلِمَۃَ۔
قَالَ أَیُّوبُ: وَکَانَ عَمْرُو یَصْنَعُ شَیْئًا لاَ أَرَی النَّاسَ یَصْنَعُونَہُ ، کَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنْ آخِرِ السَّجْدَتَیْنِ فِی الأُولَی وَالثَّالِثَۃِ اسْتَوَی قَاعِدًا ، ثُمَّ یَقُومُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَارِمٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۱۹]
قَالَ أَبُو قِلاَبَۃَ: صَلَّی صَلاَۃَ شَیْخِنَا ہَذَا یَعْنِی عَمْرَو بْنَ سَلِمَۃَ۔
قَالَ أَیُّوبُ: وَکَانَ عَمْرُو یَصْنَعُ شَیْئًا لاَ أَرَی النَّاسَ یَصْنَعُونَہُ ، کَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنْ آخِرِ السَّجْدَتَیْنِ فِی الأُولَی وَالثَّالِثَۃِ اسْتَوَی قَاعِدًا ، ثُمَّ یَقُومُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَارِمٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۱۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو سجدوں کے درمیان ٹھہرنے کا بیان
(٢٧٤٧) عباس بن سہل فرماتے ہیں کہ ابو حمید، ابو اسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ (رض) جمع تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کا ذکر کر رہے تھے۔ ابوحمید (رض) نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کو میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں، پھر انھوں نے مکمل طریقہ ذکر کیا، جب سجدے کا ذکر کیا تو فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (پہلے) سجدے سے اپنا سر اٹھایا حتیٰ کہ ہر جوڑ اپنی اپنی جگہ آگیا۔
(۲۷۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو أَخْبَرَنِی فُلَیْحٌ حَدَّثَنِی عَبَّاسُ بْنُ سَہْلٍ قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَیْدٍ وَأَبُو أُسَیْدٍ وَسَہْلُ بْنُ سَعْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ ، فَذَکَرُوا صَلاَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ أَبُو حُمَیْدٍ: أَنَا أَعْلَمُکُمْ بِصَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَہَا وَذَکَرَ السُّجُودَ قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ حَتَّی رَجَعَ کُلُّ عَظْمٍ فِی مَوْضِعِہِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو سجدوں کے درمیان ٹھہرنے کا بیان
(٢٧٤٨) ابو عبداللہ سالم سے روایت ہے کہ عقبہ بن عمرو (رض) نے فرمایا : کیا میں اس طرح نماز پڑھوں جس طرح میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے دیکھا ہے ؟ تو ہم نے کہا : کیوں نہیں ! ضرور دکھائیے۔ چنانچہ وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، جب انھوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا اور اپنی انگلیاں اپنے گھٹنوں کے اردگرد رکھیں اور اپنی بغلوں کو بھی کشادہ رکھا حتیٰ کہ ہر چیز اپنی اپنی جگہ ٹھہر گئی۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سیدھے کھڑے ہوگئے حتیٰ کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ ٹھہر گیا۔ پھر سجدہ کیا تو بھی اپنے بازوؤں کو کشادہ رکھا، یہاں تک کہ ہر چیز اپنی اپنی جگہ ٹھہر گئی، پھر بیٹھے تو اسی طرح اطمینان سے کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ پر رک گیا، پھر اسی طرح چاروں رکعتوں میں کیا اور اس کے بعد فرمایا : اسی طرح میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے دیکھا ہے اور اسی طرح آپ ہمیں نماز پڑھاتے تھے۔
(۲۷۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَیْرٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَالِمٍ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ عُقْبَۃُ بْنُ عَمْرٍو: أَلاَ أُصَلِّی کَمَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی؟ فَقُلْنَا: بَلَی ۔ قَالَ: فَقَامَ یُصَلِّی فَلَمَّا رَکَعَ وَضَعَ رَاحَتَیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ ، وَجَعَلَ أَصَابِعَہُ مِنْ وَرَائِ رُکْبَتَیْہِ ، وَجَافَی إِبْطَیْہِ حَتَّی اسْتَقَرَّ کُلُّ شَیْئٍ مِنْہُ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَامَ حَتَّی اسْتَقَرَّ کُلُّ شَیْئٍ مِنْہُ ، ثُمَّ سَجَدَ فَجَافَی إِبْطَیْہِ حَتَّی اسْتَقَرَّ کُلُّ شَیْئٍ مِنْہُ ثُمَّ قَعَدَ حَتَّی اسْتَقَرَّ کُلُّ شَیْئٍ مِنْہُ ثُمَّ صَنَعَ ذَلِکَ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ قَالَ: ہَکَذَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی وَہَکَذَا کَانَ یُصَلِّی بِنَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو سجدوں کے درمیان کی دعا کا بیان
(٢٧٤٩) سیدنا حذیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو سجدوں کے درمیان رَبِّ اغْفِرْ لِی ، رَبِّ اغْفِرْ لِی ” اے اللہ ! مجھے بخش دے، اے اللہ ! مجھے بخش دے “ کہتے اور جلسہ سجدے کے برابر ہی کیا کرتے تھے۔
(۲۷۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ سَمِعَ أَبَا حَمْزَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْسٍ - شُعْبَۃُ یَرَی أَنَّہُ صِلَۃُ بْنُ زُفَرَ - عَنْ حُذَیْفَۃَ: أَنَّہُ صَلَّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ: وَکَانَ یَقُولُ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ: ((رَبِّ اغْفِرْ لِی ، رَبِّ اغْفِرْ لِی))۔ وَجَلَسَ بِقَدْرِ سُجُودِہِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو سجدوں کے درمیان کی دعا کا بیان
(٢٧٥٠) (ا) سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ جان ام المومنین سیدہ میمونہ (رض) کے ہاں رات گزاری، رات کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیند سے اٹھے۔۔۔ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سجدے سے سر اٹھاتے تو پڑھتے ” رَبِّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی، وَاجْبُرْنِی وَارْفَعْنِی وَارْزُقْنِی وَاہْدِنِی ” اے اللہ ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے قدرت و طاقت عطا کر، مجھے رفعتیں عطا فرما اور مجھے رزق بھی دے اور ہدایت سے بھی مالا مال فرما۔ “ پھر دوسرا سجدہ کرتے۔
(ب) زید سے منقول ہے کہ انھوں نے وَاجْبُرْنِی وَارْفَعْنِیکی جگہ وَعَافِنِی ” اے اللہ مجھے عافیت دے “ کے الفاظ روایت کیے ہیں۔
(ب) زید سے منقول ہے کہ انھوں نے وَاجْبُرْنِی وَارْفَعْنِیکی جگہ وَعَافِنِی ” اے اللہ مجھے عافیت دے “ کے الفاظ روایت کیے ہیں۔
(۲۷۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ یَزِیدَ الطَّبِیبُ حَدَّثَنَا کَامِلُ بْنُ الْعَلاَئِ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِی مَیْمُونَۃَ ، فَقَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- مِنْ نَوْمِہِ ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی صَلاَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَفِیہِ: وَکَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ السَّجْدَۃِ قَالَ: ((رَبِّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی ، وَاجْبُرْنِی وَارْفَعْنِی وَارْزُقْنِی وَاہْدِنِی)) ثُمَّ سَجَدَ۔
تَابَعَہُ زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ کَامِلٍ وَقِیلَ عَنْ زَیْدٍ وَعَافِنِی دُونَ قَوْلِہِ وَاجْبُرْنِی وَارْفَعْنِی۔
[حسن۔ اخرجہ ابوداود ۸۵۰]
تَابَعَہُ زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ کَامِلٍ وَقِیلَ عَنْ زَیْدٍ وَعَافِنِی دُونَ قَوْلِہِ وَاجْبُرْنِی وَارْفَعْنِی۔
[حسن۔ اخرجہ ابوداود ۸۵۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو سجدوں کے درمیان کی دعا کا بیان
(٢٧٥١) سلیمان تیمی فرماتے ہیں کہ سیدنا علی (رض) دو سجدوں کے درمیان ” رَبِّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی، وَارْفَعْنِی وَاجْبُرْنِی “ ” اے میرے رب ! مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے رفعتیں عطا کر اور مجھے قوت و طاقت عطا فرما “ پڑھتے تھے۔
حارث اعور نے حضرت علی (رض) سے یہی روایت نقل کی ہے مگر یہ کہ اس نے وَارْفَعْنِی کی جگہ وَاہْدِنِی کے الفاظ نقل کیے ہیں۔
حارث اعور نے حضرت علی (رض) سے یہی روایت نقل کی ہے مگر یہ کہ اس نے وَارْفَعْنِی کی جگہ وَاہْدِنِی کے الفاظ نقل کیے ہیں۔
(۲۷۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ قَالَ: بَلَغَنِی أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَقُولُ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ: رَبِّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی ، وَارْفَعْنِی وَاجْبُرْنِی۔
وَرَوَاہُ الْحَارِثُ الأَعْوَرُ عَنْ عَلِیٍّ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: وَاہْدِنِی۔ بَدَلَ: (وَارْفَعْنِی)۔
[صحیح۔ فہو من بلاغات سلیمان بن طرخان]
وَرَوَاہُ الْحَارِثُ الأَعْوَرُ عَنْ عَلِیٍّ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: وَاہْدِنِی۔ بَدَلَ: (وَارْفَعْنِی)۔
[صحیح۔ فہو من بلاغات سلیمان بن طرخان]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع و سجود، قومے اور جلسے میں اطمینان کے فرض ہونے کا بیان
(٢٧٥٢) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف فرما تھے ۔ اتنے میں ایک شخص آیا ، اس نے نماز پڑھی، پھر آکر آپ کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا : جا پھر نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ تین بار اس طرح ہوا تو وہ کہنے لگا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا ، پس مجھے سکھلائیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ، پھر جو کچھ تجھے قرآن یاد ہو اور آسانی کے ساتھ پڑھ سکے وہ پڑھ، پھر اطمینان سے ٹھہر کر رکوع کر ، پھر سر اٹھا یہاں تک بالکل سیدھا کھڑا ہوجا۔ پھر اطمینان سے سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا کر اطمینان سے بیٹھ جا۔ پھر دوسرا سجدہ اطمینان سے ٹھہر کر ادا کر۔ اسی طرح ساری نماز پڑھ۔
(۲۷۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ قَالَ حَدَّثَنِی سَعِیدٌ الْمَقْبُرِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّی ، ثُمَّ جَائَ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَرَدَّ عَلَیْہِ النَّبِیُّ -ﷺ- وَقَالَ: ((ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ))۔ ثَلاَثًا قَالَ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَیْرَہُ ، فَعَلِّمْنِی۔ قَالَ: ((إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلاَۃِ فَکَبِّرْ ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَیَسَّرَ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ ارْکَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَعْتَدِلَ قَائِمًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِکَ فِی صَلاَتِکَ کُلِّہَا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ وقد تقدم]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ وقد تقدم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکانِ نماز (رکوع و سجود) میں ٹھہرنے کی مقدار برابر رکھنا مستحب ہے
(٢٧٥٣) حکم فرماتے ہیں کہ مطر بن ناجیہ نے جب کوفہ پر تسلط حاصل کرلیا تو ابوعبیدہ بن عبداللہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، انھوں نے نماز پڑھائی۔ جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو قومہ لمبا کرتے، میں نے اس بارے میں ابن ابی لیلی سے پوچھا تو انھوں نے سیدنا براء بن عازب (رض) کی روایت نقل فرمائی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز پڑھتے تو آپ کی نماز تقریباً برابر ہوتی تھی۔ جب آپ رکوع کرتے رکوع سے سر اٹھاتے یا سجدہ کرتے یا دو سجدوں کے درمیان ٹھہرتے تو آپ کے ٹھہرنے کی مقدار برابر ہوتی۔
(۲۷۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی الْحَکَمُ: أَنَّ مَطَرَ بْنَ نَاجِیَۃَ لَمَّا ظَہَرَ عَلَی الْکُوفَۃِ أَمَرَ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ ، فَصَلَّی بِالنَّاسِ فَکَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ أَطَالَ الْقِیَامَ ، فَحَدَّثْتُ بِہِ ابْنَ أَبِی لَیْلَی ، فَحَدَّثَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: کَانَتْ صَلاَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا صَلَّی فَرَکَعَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، وَإِذَا سَجَدَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ السُّجُودِ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ قَرِیبًا مِنَ السَّوَائِ ۔
أَخْرَجَاہُ جَمِیعًا فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ بْنِ الْحَجَّاجِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۹۲]
أَخْرَجَاہُ جَمِیعًا فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ بْنِ الْحَجَّاجِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۹۲]
তাহকীক: