আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ১৬৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ نمازوں کی رکعات کی تعداد
(١٦٩٥) قتادہ کہتے ہیں کہ ہمیں حسن بصری نے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب انھیں اپنی قوم کی طرف لے کر آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے الگ ہوئے یہاں تک کہ سورج آسمان کے درمیان سے زائل ہوا ان (نمازوں) کو لوگوں کو بتلایا گیا کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے لوگ گھبراگئے اور جمع ہوئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو چار رکعتیں پڑھائی، ان میں اونچی قرات نہیں کی، لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا کرتے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبرائیل (علیہ السلام) کی اقتدا کرتے تھے، یہاں تک کہ سورج آسمان سے نیچے کی جانب چلا گیا، یعنی مغرب کی طرف جھک گیا، وہ سفید چمکدار تھا ، لوگوں کو آواز دی گئی نماز کھڑی ہونے ولی ہے اس وجہ سے قوم گھبرائی پس وہ جمع ہوئے ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز کی چار رکعتیں پڑھائی ان میں اونچی قراءت نہیں کرتے تھے لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا کرتے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبرائیل (علیہ السلام) کی اقتدا کرتے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا پھر لوگوں کو آواز دی گئی کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے وہ جمع ہوئے، ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین رکعتیں پڑھائیں، پہلی دو رکعتوں میں قراءت کی اور ایک میں نہیں کی یعنی اونچی آواز سے، لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا کر رہے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبرائیل (علیہ السلام) کی اقتدا کر رہے تھے، یہاں تک کہ سرخی غروب ہوگئی پھر لوگوں کو آواز دی گئی کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے، وہ جمع ہوئے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو چار رکعتیں پڑھائیں دو رکعتوں میں اونچی قراءت کی اور دو رکعتوں میں انھیں کی۔ لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا کررہے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبرائیل (علیہ السلام) کی اقتدا کر رہے تھے۔ قوم سو گئی اور وہ نہیں جانتے تھے کہ ابھی مزید کچھ ہوگا یا نہیں ؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی ان کو آواز دی گئی کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے۔ ، لوگ جمع ہوئے، ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں پڑھائیں اور ان میں لمبی قرات کی، لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا کر رہے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبرائیل (علیہ السلام) کی اقتدا کر رہے تھے۔
(۱۶۹۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِیُّ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ مَالِکَ بْنَ صَعْصَعَۃَ حَدَّثَہُمْ فَذَکَرَ حَدِیثَ الْمِعْرَاجِ بِطُولِہِ وَفِیہِ فَرْضُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ۔

قَالَ قَتَادَۃُ وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ یَعْنِی الْبَصْرِیَّ: أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ- لَمَّا جَائَ بِہِنَّ إِلَی قَوْمِہِ خَلاَ عَنْہُمْ حَتَّی إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَائِ نُودِیَ فِیہِمْ الصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ - قَالَ- فَفَزِعَ الْقَوْمُ لِذَلِکَ فَاجْتَمَعُوا، فَصَلَّی بِہِمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ لاَ یَقْرَأُ فِیہِنَّ عَلاَنِیَۃً یَقْتَدِی النَّاسُ بِنَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- وَیَقْتَدِی نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- بِجِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ حَتَّی إِذَا تَصَوَّبَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَائِ وَہِیَ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ نُودِیَ فِیہِمْ بِالصَّلاَۃِ جَامِعَۃً فَفَزِعَ الْقَوْمُ لِذَلِکَ فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّی بِہِمْ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- الْعَصْرَ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ لاَ یَقْرَأُ فِیہِنَّ عَلاَنِیَۃً، یَقْتَدِی النَّاسُ بِنَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- وَیَقْتَدِی نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- بِجِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ حَتَّی إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ نُودِیَ فِیہِمْ بِالصَّلاَۃِ جَامِعَۃً فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّی بِہِمْ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- ثَلاَثَ رَکَعَاتٍ یَقْرَأُ فِی الأُولَیَیْنِ وَلاَ یَقْرَأُ فِی الْوَاحِدَۃِ یَعْنِی عَلاَنِیَۃً یَقْتَدِی النَّاسُ بِنَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- وَیَقْتَدِی نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- بِجِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ حَتَّی إِذَا غَابَ الشَّفَقُ نُودِیَ فِیہِمْ بِالصَّلاَۃِ جَامِعَۃً ، فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّی بِہِمْ نَبِیُّ اللَّہِ-ﷺ- أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ یَقْرَأُ فِی رَکْعَتَیْنِ عَلاَنِیَۃً، وَلاَ یَقْرَأُ فِی الثِّنْتَیْنِ یَقْتَدِی النَّاسُ بِنَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- وَیَقْتَدِی نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- بِجِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ قَالَ فَبَاتَ الْقَوْمُ وَہُمْ لاَ یَدْرُونَ أَیُزَادُونَ عَلَی ذَلِکَ أَمْ لاَ؟ حَتَّی إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ نُودِیَ فِیہِمْ الصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّی بِہِمْ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- رَکْعَتَیْنِ یُطِیلُ فِیہِمَا الْقِرَائَ ۃَ یَقْتَدِی النَّاسُ بِنَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- وَیَقْتَدِی نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- بِجِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ۔

فَفِی ہَذَا الْحَدِیثِ وَمَا رُوِیَ فِی مَعْنَاہُ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ ذَلِکَ کَانَ بِمَکَّۃَ بَعْدَ الْمِعْرَاجِ وَأَنَّ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فُرِضْنَ حِینَئِذٍ بِأَعَدَادِہِنَّ وَقَدْ ثَبَتَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا خِلاَفُ ذَلِکَ۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ نمازوں کی رکعات کی تعداد
(١٦٩٦) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مکہ میں دو دو رکعتیں فرض کی گئیں، جب مدینہ کی طرف نکلے تو چار فرض کی گئیں اور سفر کی نماز دور رکعتیں باقی رکھی گئیں۔
(۱۶۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا فَیَّاضُ بْنُ زُہَیْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: فُرِضَتِ الصَّلاَۃُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَکَّۃَ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ فَلَمَّا خَرَجَ إِلَی الْمَدِینَۃِ فُرِضَتْ أَرْبَعًا ، وَأُقِرَّتْ صَلاَۃُ السَّفَرِ رَکْعَتَیْنِ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ عَنْ مَعْمَرٍ۔ قَالَ وَتَابَعَہُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا التَّقْیِیدُ تَفَرَّدَ بِہِ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَسَائِرُ الثِّقَاتِ أَطْلَقُوہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ نمازوں کی رکعات کی تعداد
(١٦٩٧) امام اوزاعی (رح) بیان کرتے ہیں کہ امام زہری سے سوال کیا گیا : مکہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز مدینہ میں ہجرت کرنے سے پہلے کس طرح تھی ؟ انھوں نے کہا : مجھ کو عروہ بن زبیر نے سیدہ عائشہ (رض) سے نقل کیا : اللہ نے نماز کو فرض کیا، پہلے دو رکعتیں فرض کی، پھر حضر میں اس کو مکمل کردیا اور سفر کی نماز پہلے فریضہ پر قائم رکھی گئیں۔
(۱۶۹۷) وَقَدْ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ بْنِ یَعْقُوبَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ قَالَ: سُئِلَ الزُّہْرِیُّ کَیْفَ کَانَتْ صَلاَۃُ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَکَّۃَ قَبْلَ أَنْ یُہَاجِرَ إِلَی الْمَدِینَۃِ؟ فَقَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: فَرَضَ اللَّہُ الصَّلاَۃَ أَوَّلَ مَا فَرَضَہَا رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ أَتَمَّہَا فِی الْحَضَرِ ، وَأُقِرَّتْ صَلاَۃُ السَّفَرِ عَلَی الْفَرِیضَۃِ الأُولَی۔

وَرُوِیَ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۰۴۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ نمازوں کی رکعات کی تعداد
(١٦٩٨) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ پہلے جو نماز فرض کی گئی وہ دو رکعتیں تھیں، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں آئے اور مطمئن ہوگئے تو مغرب کے علاوہ دو رکعتیں زیادہ کیں، اس لیے کہ وہ وتر ہے اور صبح کی نماز میں قراءت لمبی ہوگی۔ انھوں نے کہا : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر کرتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلی والی نماز پڑھتے یعنی قصر کرتے۔
(۱۶۹۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا بَکَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: إِنَّ أَوَّلَ مَا فُرِضَتِ الصَّلاَۃُ رَکْعَتَیْنِ ، فَلَمَّا قَدِمَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ وَاطْمَأَنَّ زَادَ رَکْعَتَیْنِ غَیْرَ الْمَغْرِبِ لأَنَّہَا وِتْرٌ ، وَصَلاَۃُ الْغَدَاۃِ تَطُولُ قِرَائَتُہَا قَالَتْ وَکَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّی صَلاَتَہُ الأُولَی۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن حبان ۱۲۷۳۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اوقاتِ صلوٰۃ کے ابواب کا بیان
(١٦٩٩) ابن شہاب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن عبد العزیز نے ایک نماز کو مؤخر کردیا، ان کے پاس عروہ بن زبیر تشریف لائے، انھوں نے خبر دی کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ (رض) نے ایک دن کوفہ میں نماز مؤخرکر دی، اس پر ابو مسعود انصاری تشریف لائے اور کہا : اے مغیرہ ! یہ کیا ہے ؟ کیا نہیں تو جانتا ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) آئے، انھوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی، پھر انھوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی، پھر انھوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی، پھر انھوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی، پھر انھوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔ “ سیدنا عمر (رض) نے عروۃ (رض) سے کہا : اے عروہ ! دیکھ تو کیا بیان کررہا ہے ، کیا جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کے وقت اقامت کروائی ؟ عروہ (رض) نے کہا : اسی طرح بشیر بن أبی مسعود اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں۔ عروہ (رض) نے کہا : مجھے سیدہ عائشہ (رض) نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج ظاہر ہونے سے پہلے ان کے کمرے میں ہوتا تھا۔
(۱۶۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ وَحَدَّثَنِی أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَخَّرَ الصَّلاَۃَ یَوْمًا فَدَخَلَ عَلَیْہِ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ فَأَخْبَرَہُ أَنَّ الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ أَخَّرَ الصَّلاَۃَ یَوْمًا وَہُوَ بِالْکُوفَۃِ ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیُّ فَقَالَ: مَا ہَذَا یَا مُغِیرَۃُ؟ أَلَیْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ نَزَلَ فَصَلَّی فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ صَلَّی فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ صَلَّی فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ صَلَّی فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ صَلَّی فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ قَالَ: بِہَذَا أُمِرْتُ۔ فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَۃَ: انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ یَا عُرْوَۃُ أَوَإِنَّ جِبْرِیلَ ہُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقْتَ الصَّلاَۃَ؟ فَقَالَ عُرْوَۃُ: کَذَلِکَ کَانَ بَشِیرُ بْنُ أَبِی مَسْعُودٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ۔ قَالَ عُرْوَۃُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ زَوْجُ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِی حُجْرَتِہَا قَبْلَ أَنْ تَظْہَرَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔

[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۹۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اوقاتِ صلوٰۃ کے ابواب کا بیان
(١٧٠٠) امام زہری سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر (رض) نے عمر بن عبد العزیز سے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جبرائیل (علیہ السلام) آئے، انھوں نے ہماری امامت کروائی، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی، پھر آئے اور ہماری امامت کروائی۔ میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی، پھر آئے اور ہماری امامت کروائی، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی، یہاں تک کہ پانچ نمازیں شمار کیں۔ عمر بن عبد العزیز (رح) نے کہا : اللہ سے ڈر، اے عروہ ! دیکھ تو کیا کہہ رہا ہے ؟ عروہ نے کہا : مجھ کو بشیر بن أبی مسعود نے اپنے والد سے نقل فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل آئے اور انھوں نے ہماری امامت کروائی، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی، پھر آئے اور انھوں نے ہماری امامت کروائی، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی یہاں تک کہ پانچ نمازیں شمار کیں۔
(۱۷۰۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ: أَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ قَالَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((نَزَلَ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَأَمَّنَا فَصَلَّیْتُ مَعَہُ ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنَا فَصَلَّیْتُ مَعَہُ ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنَا فَصَلَّیْتُ مَعَہُ حَتَّی عَدَّ خَمْسَ صَلَوَاتٍ))۔ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ: اتَّقِ اللَّہَ وَانْظُرْ مَا تَقُولُ یَا عُرْوَۃُ۔ فَقَالَ عُرْوَۃُ أَخْبَرَنِی بَشِیرُ بْنُ أَبِی مَسْعُودٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((نَزَلَ جِبْرِیلُ فَأَمَّنَا فَصَلَّیْتُ مَعَہُ ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنَا فَصَلَّیْتُ مَعَہُ))۔ حَتَّی عَدَّ خَمْسَ صَلَوَاتٍ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الْجُمْہُورُ مِنْ أَصْحَابِ الزُّہْرِیِّ نَحْوَ مَعْمَرٍ وَشُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ وَاللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ وَغَیْرِہِمْ لَمْ یَذْکُرُوا الْوَقْتَ الَّذِی صَلَّی فِیہِ وَلَمْ یُفَسِّرُوہُ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ اللَّیْثِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ إِلاَّ أَنَّہُ زَادَ مَا أَخْبَرَ بِہِ أَبُو مَسْعُودٍ عَمَّا رَآہُ یَصْنَعُ بَعْدَ ذَلِکَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۰۴۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اوقاتِ صلوٰۃ کے ابواب کا بیان
(١٧٠١) سیدنا عمر بن عبد العزیز منبر پر بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے عصر کو کچھ مؤخر کردیا، ان سے عروہ بن زبیر (رض) نے کہا : جبرائیل (علیہ السلام) نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کے وقت کی خبر دی ہے، ان سے سیدنا عمر (رض) نے کہا : غور کر تو کیا کہہ رہا ہے ؟ عروہ نے کہا : میں نے بشیر بن أبی مسعود انصاری سے سنا، وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور انھوں نے مجھے نماز کے وقت کی خبر دی، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ اپنی انگلیوں پر پانچ نمازیں شمار کرتے تھے اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز تب پڑھتے تھے جب سورج اڈھل جاتا اور بعض اوقات اس کو مؤخر کردیتے جس وقت گرمی سخت ہوجاتی اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج زردی کے داخل ہونے سے پہلے بلند سفید تھا ‘ آدمی نماز سے پلٹتا تو سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا جس وقت کنارہ سیاہ ہوجاتا ہے اور بعض اوقات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ لوگ جمع ہوجائے اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھتے، پھر ایک مرتبہ نماز روشنی میں پڑھی، پھر اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز اندھیرے میں ہوتی تھی، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوبارہ نہیں لوٹے کہ اس کو روشن کرتے۔
(۱۷۰۱) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی أُسَامَۃُ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ أَخْبَرَہُ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَانَ قَاعِداً عَلَی الْمِنْبَرِ فَأَخَّرَ الْعَصْرَ شَیْئًا فَقَالَ لَہُ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ: أَمَا إِنَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا -ﷺ- بِوَقْتِ الصَّلاَۃِ۔ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ۔ فَقَالَ عُرْوَۃُ سَمِعْتُ بَشِیرَ بْنَ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((نَزَلَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَأَخْبَرَنِی بِوَقْتِ الصَّلاَۃِ ، فَصَلَّیْتُ مَعَہُ ، ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ ، ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ ، ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ))۔ یَحْسُبُ بِأَصَابِعِہِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، وَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی الظُّہْرَ حِینَ تَزُولُ الشَّمْسُ ، وَرُبَّمَا أَخَّرَہَا حِینَ یَشْتَدَّ الْحَرُّ ، وَرَأَیْتُہُ یُصَلِّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ بَیْضَائُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَہَا الصُّفْرَۃُ ، فَیَنْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنَ الصَّلاَۃِ فَیَأْتِی ذا الْحُلَیْفَۃِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ ، وَیُصَلِّی الْمَغْرِبَ حِینَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ ، وَیُصَلِّی الْعِشَائَ حِینَ یَسْوَدُّ الأُفُقُ ، وَرُبَّمَا أَخَّرَہَا حَتَّی یَجْتَمِعَ النَّاسُ ، وَصَلَّی الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ، ثُمَّ صَلَّی مَرَّۃً أُخْرَی فَأَسْفَرَ بِہَا ، ثُمَّ کَانَتْ صَلاَتُہُ بَعْدَ ذَلِکَ بِغَلَسٍ حَتَّی مَاتَ ، لَمْ یَعُدْ إِلَی أَنْ یُسْفِرَ۔

وَتَفْسِیرُ کَیْفِیَّۃِ صَلاَۃِ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ بِالنَّبِیِّ -ﷺ- فِی حَدِیثِ أَبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ وَہُوَ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۳۹۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اوقاتِ صلوٰۃ کے ابواب کا بیان
(١٧٠٢) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جبرائیل (علیہ السلام) نے بیت اللہ کے پاس دو دفعہ میری امامت کرائی، مجھ کو ظہر کی نماز پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور تسمہ کے برابر ہوگیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی یہاں تک کہ ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا، پھر مجھ کو مغرب کی نماز پڑھائی، جس وقت روزے داروں نے روزہ افطار کرلیا۔ پھر مجھ کو عشاء کی نماز پڑھائی، جب سرخی غروب ہوگئی پھر مجھ کو صبح کی نماز پڑھائی جس وقت روزے دار پر کھانا ، پینا حرام ہوگیا ‘ پھر مجھ کو اگلے دن ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کے سائے کے برابر ہوگیا۔ پھر مجھ کو عصر کے نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی دو مثل ہوگیا۔ پھر مجھ کو مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت روزے داروں نے افطار کرلیا۔ پھر مجھ کو عشا کی نماز پہلی رات کے تہائی حصے میں پڑھائی پھر مجھ کو فجر کی نماز روشنی میں پڑھائی اور میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا : اے محمد ! یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے انبیاء کا وقت ہے اور ان دو وقتوں کے درمیان (آپ کا) وقت ہے۔
(۱۷۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَکِیمِ بْنِ حَکِیمِ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَمَّنِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ مَرَّتَیْنِ عِنْدَ الْبَیْتِ ، فَصَلَّی بِیَ الظُّہْرَ حِینَ مَالَتِ الشَّمْسُ فَکَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاکِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْمَغْرِبَ حِینَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعِشَائَ حِینَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْفَجْرَ حِینَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَی الصَّائِمِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الظُّہْرَ مِنَ الْغَدِ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ قَدْرَ ظِلِّہِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَیْہِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْمَغْرِبَ حِینَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعِشَائَ لِثُلُثِ اللَّیْلِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ ، وَالْتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ ہَذَا وَقْتُ الأَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِکَ ، وَالْوَقْتُ فِیمَا بَیْنَ ہَذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ))۔ [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۹۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اوقاتِ صلوٰۃ کے ابواب کا بیان
(١٧٠٣) (الف) حکیم نے اسی معنی میں روایت نقل کی ہے۔

(ب) جابر بن عبداللہ، ابو مسعود انصاری، عبداللہ بن عمر، ابوہریرہ اور ابو سعید خدری (رض) سے جبرائیل (علیہ السلام) کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امامت کروانے کا واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری (رض) بریدہ بن حصیب اور عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے نماز کے اوقات سے متعلق اس واقعہ کے علاوہ دیگرروایات بھی ثابت ہیں۔
(۱۷۰۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَہُوَ ابْنُ الْحَارِثِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ الْمَخْزُومِیُّ عَنْ حَکِیمٍ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ۔

وَرُوِّینَا عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَأَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ وَأَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فِی قِصَّۃِ إِمَامَۃِ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ النَّبِیَّ -ﷺ- بِمَکَّۃَ ، وَثَبَتَ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ وَبُرَیْدَۃَ بْنِ الْحُصَیْبِ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی مَوَاقِیتِ الصَّلاَۃِ فِی غَیْرِ ہَذِہِ الْقَصَّۃِ ، وَنَحْنُ نَأْتِی عَلَی رِوَایَتِہَا إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کا اول وقت

(الف) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” نماز کو سورج ڈھلنے کے وقت ادا کیجیے۔

(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سورج ڈھلنے سے مراد اس کے زوال کا وقت ہے۔
(١٧٠٤) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ” دلوکشمس “ سے مراد آدھے دن کے بعد اس کا جھک جاتا ہے۔
(۱۷۰۴) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: دُلُوکُ الشَّمْسِ مَیْلُہَا بَعْدَ نِصْفِ النَّہَارِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۶۲۷۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کا اول وقت

(الف) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” نماز کو سورج ڈھلنے کے وقت ادا کیجیے۔

(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سورج ڈھلنے سے مراد اس کے زوال کا وقت ہے۔
(١٧٠٥) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ” دلوک شمس “ سے مراد اس کا زائل ہونا ہے۔
(۱۷۰۵) وَأَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ: الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجَدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ وَخَالِدٌ عَنْ مُغِیرَۃَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دُلُوکُ الشَّمْسِ زَوَالُہَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کا اول وقت

(الف) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” نماز کو سورج ڈھلنے کے وقت ادا کیجیے۔

(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سورج ڈھلنے سے مراد اس کے زوال کا وقت ہے۔
(١٧٠٦) سیدنا عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نماز کے وقت کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” فجر کی نماز کا وقت جب پہلے سورج کا کنارہ طلوع نہ ہو اور ظہر کی نماز کا وقت جب آسمان کے درمیان سے سورج ڈھل جائے اور جب تک عصرکا وقت نہ ہو اور عصر کی نماز کا وقت جب تک سورج زرد نہ ہو اور اس کا پیلا کنارہ غروب نہ ہوجائے اور مغرب کی نماز کا وقت جب سورج غروب ہوجائے اور جب تک سرخی ختم نہ ہو اور عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے۔
(۱۷۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمِشٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَزِینٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو: سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ وَقْتِ الصَّلاَۃِ فَقَالَ : ((وَقْتُ صَلاَۃِ الْفَجْرِ مَا لَمْ یَطْلُعْ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلُ ، وَوَقْتُ صَلاَۃِ الظُّہْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَائِ مَا لَمْ یَحْضُرِ الْعَصْرُ ، وَوَقْتُ صَلاَۃِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَیَسْقُطْ قَرْنُہَا الأَوَّلُ ، وَوَقْتُ صَلاَۃِ الْمَغْرِبِ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مَا لَمْ یَسْقُطِ الشَّفَقُ ، وَوَقْتُ صَلاَۃِ الْعِشَائِ إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۶۱۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کا اول وقت

(الف) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” نماز کو سورج ڈھلنے کے وقت ادا کیجیے۔

(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سورج ڈھلنے سے مراد اس کے زوال کا وقت ہے۔
(١٧٠٧) سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ظہر کی نماز کا وقت جب سورج ڈھل جائے اور آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہوجائے اور جب تک عصر کا وقت نہ ہو۔ “
ڑ(۱۷۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ یَعْنِی مُحَمَّدَ بْنَ غَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِیُّ حَدَّثَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الْعَتَکِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَقْتُ صَلاَۃِ الظُّہْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، وَکَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ کَطُولِہِ مَا لَمْ تَحْضُرِ الْعَصْرُ))۔ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ بِمَعْنَاہُ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنِ الدَّوْرَقِیِّ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ عَنْ ہَمَّامٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کا اول وقت

(الف) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” نماز کو سورج ڈھلنے کے وقت ادا کیجیے۔

(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سورج ڈھلنے سے مراد اس کے زوال کا وقت ہے۔
(١٧٠٨) اسود سے روایت ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ گرمیوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کی مقدار تین قدموں سے لے کر پانچ قدموں تک تھی اور سردی میں پانچ سے لے کر سات قدموں تک۔
(۱۷۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ الْغِفَارِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَوُادَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبِیدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ: سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ عَنْ کَثِیرِ بْنِ مُدْرِکٍ عَنِ الأَسْوَدِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: کَانَ قَدْرُ صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الصَّیْفِ ثَلاَثَۃَ أَقْدَامٍ إِلَی خَمْسَۃِ أَقْدَامٍ ، وَفِی الشِّتَائِ خَمْسَۃَ أَقْدَامٍ إِلَی سَبْعَۃِ أَقْدَامٍ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی دَاوُدَ۔

وَہَذَا أَمْرٌ یَخْتَلِفُ فِی الْبُلْدَانِ وَالأَقَالِیمِ فَیُقَدَّرُ فِی کُلِّ إِقْلِیمٍ بِالْمَعْرُوفِ بِہِ مِنْ أَمْرِ الزَّوَالِ۔

[جید۔ أخرجہ ابو داؤد ۴۰۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کا آخری وقت اور عصر کا پہلا وقت
(١٧٠٩) سیدنا ابو مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نماز کے اوقات لے کر آئے اور انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھی جس وقت سورج ڈھل گیا، پھر عصر کی نماز پڑھی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مقدار کے برابر ہوگیا، پھر مغرب کی نماز پڑھی جس وقت سورج غروب ہوگیا، پھر صبح کی نماز پڑھی جس وقت فجر طلوع ہوگئی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کل تشریف لائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے سایہ کی مقدار ظہر کو مؤخر کیا اور عصر کو مؤخر کیا، دوسری مرتبہ اس کے سایے کی مقدار، پھر مغرب کی نماز پڑھی جس وقت سورج غروب ہوگیا پھر عشاء کو اندھیرے (میں ادا) کیا پھر صبح روشن کر کے پڑھی، پھر فرمایا ان دونوں کے درمیان نماز ہے۔
(۱۷۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ قَالَ قَالَ صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرِ بْنَ حَزْمٍ بَلَغَہُ أَنَّ أَبَا مَسْعُودٍ قَالَ: نَزَلَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- بِالصَّلاَۃِ ، فَأَمَرَہُ فَصَلَّی الظُّہْرَ حِینَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ بِقَدْرِہِ مَرَّۃً ، ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ حِینَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّی الْعَتَمَۃَ وَہِیَ الْعِشَائُ حِینَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ صَلَّی الصُّبْحَ حِینَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ جَائَہُ مِنَ الْغَدِ فَأَخَّرَ الظُّہْرَ إِلَی قَدْرِ ظِلِّہِ ، وَأَخَّرَ الْعَصْرَ إِلَی قَدْرِ ظِلِّہِ مَرَّتَیْنِ ، ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ حِینَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَعْتَمَ بِالْعِشَائِ ثُمَّ أَصْبَحَ بِالصُّبْحِ ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَیْنَ ہَذَیْنِ صَلاَۃٌ۔

قَالَ صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ: وَکَانَ عَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ یُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ فِی وَقْتِ الصَّلاَۃِ نَحْوَ مَا کَانَ أَبُو مَسْعُودٍ یُحَدِّثُ۔ قَالَ صَالِحٌ وَکَانَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ وَأَبُو الزُّبَیْرِ الْمَکِّیُّ یُحَدِثَانِ مِثْلَ ذَلِکَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ السُّلَمِیِّ۔ [حسن لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کا آخری وقت اور عصر کا پہلا وقت
(١٧١٠) (الف) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) نے بیت اللہ کے پاس میری دو مرتبہ امامت کرائی مجھ کو ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا اور تسمے کے برابر ہوگیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا۔

(ب) اور حدیث بیان کی اس میں فرمایا : پھر مجھ کو کل ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوگیا۔

(ج) ایک اور حدیث بیان کی، اس کے آخر میں ہے کہ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا : اے محمد ! یہ آپ سے پہلے انبیاء کا وقت ہے اور وقت ان دونوں کے درمیان ہے۔

(د) امام شافعی (رح) کا مذہب یہ ہے کہ عصر کا اول وقت ظہر کے وقت سے آخری وقت سے الگ ہوتا ہے اور ابن عباس (رض) کا قول کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہوگیا۔ یعنی جب ہر چیز کا سایہ مکمل ہوگیا۔ اور مجھے یہ بات پہنچی کہ ابن عباس (رض) کے شاگردوں سے اس کے ہم معنی روایت ہے جو میرا مؤقف ہے اور میرا گمان ہے کہ انھوں نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے۔
(۱۷۱۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ قَالَ حَدَّثَنِی حَکِیمُ بْنُ حَکِیمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَمَّنِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ عِنْدَ الْبَیْتِ مَرَّتَیْنِ ، فَصَلَّی بِیَ الظُّہْرَ حِینَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاکِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ))۔

وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ : ((ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْغَدَ الظُّہْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَیْہِ))۔

وَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِی آخِرِہِ : ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ إِنَّ ہَذَا وَقْتُ الأَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِکَ ، وَالْوَقْتُ فِیمَا بَیْنَ ہَذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ۔

وَکَانَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَذْہَبُ إِلَی أَنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ یَنْفَصِلُ مِنْ آخِرِ وَقْتِ الظُّہْرِ ، وَإِنَّ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- صَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، یَعْنِی حِینَ تَمَّ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ جَاوَزَ ذَلِکَ بِأَقَلَّ مِمَّا یُجَاوِزُہُ ، قَالَ وَبَلَغَنِی عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعْنَی مَا وَصَفْتُ وَأَحْسِبُہُ ذَکَرَہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔

قَالَ الشَّیْخُ وَکَأَنَّہُ أَرَادَ مَا۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کا آخری وقت اور عصر کا پہلا وقت
(١٧١١) (الف) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ظہر کا وقت عصر تک ہے اور عصر کا مغرب تک اور مغرب کا عشاء تک اور عشاء کا فجر تک۔

(ب) ابن عباس (رض) ظہر کے وقت کے متعلق فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کا وقت سورج ڈھل جانے سے عصر کی نماز تک ہے، جس وقت میں بھی تو نے نماز پڑھ لی تو نے اس کو پالیا۔

(ج) اور جو مطلب امام شافعی (رح) نے بیان کیا ہے وہ بھی سنت سے ثابت ہے۔
(۱۷۱۱) أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ لَیْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وَقْتُ الظُّہْرِ إِلَی الْعَصْرِ ، وَالْعَصْرِ إِلَی الْمَغْرِبِ وَالْمَغْرِبِ إِلَی الْعِشَائِ وَالْعِشَائِ إِلَی الْفَجْرِ۔

تَابَعَہُ حَبِیبُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ صَاحِبِ الأَنْمَاطِ عَنْ عَمْرِو بْنِ ہَرِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی وَقْتِ الظُّہْرِ فَقَالَ: وَوَقْتُ صَلاَۃِ الظُّہْرِ حِینَ تَزُولُ الشَّمْسُ إِلَی صَلاَۃِ الْعَصْرِ أَیُّ وَقْتٍ مَا صَلَّیْتَ فَقَدْ أَدْرَکْتَ۔

وَمَوْجُودٌ فِی السُّنَّۃِ الثَّابِتَۃِ مَعْنَی مَا وَصَفَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی وَہِیَ۔ ضعیف
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کا آخری وقت اور عصر کا پہلا وقت
(١٧١٢) سیدنا عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ظہر کا وقت سورج ڈھل جائے اور آدمی کا سایہ اس کی لمبائی کے برابر ہوجائے اور جب تک عصر کا وقت نہ ہو اور عصر کا وقت جب تک سورج زرد نہ ہو اور مغرب کا وقت جب تک سرخی غائب نہ ہو اور شعبہ کہتے ہیں : جب تک شفق کی روشنی واقع نہ ہو اور عشاء کا وقت تیرے اور نصف رات کے درمیان ہے اور صبح کا وقت جب فجر طلوع ہوا اور جب تک سورج طلوع نہ ہو۔
(۱۷۱۲) مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَوُادَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ وَہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الأَزْدِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((وَقْتُ الظُّہْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ کَطُولِہِ مَا لَمْ یَحْضُرِ الْعَصْرُ ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ یَغِبِ الشَّفَقُ))۔ وَقَالَ شُعْبَۃُ : مَا لَمْ یَقَعْ نُورُ الشَّفَقِ ، ((وَوَقْتُ الْعِشَائِ مَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ نِصْفِ اللَّیْلِ ، وَوَقْتُ الصُّبْحِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ))۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ شُعْبَۃُ أَحْیَانًا یَرْفَعُہُ وَأَحْیَانًا لاَ یَرْفَعُہُ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ وَہَمَّامٍ ، وَفِیہِ الْبَیَانُ أَنَّ وَقْتَ الظُّہْرِ یَمْتَدُّ إِلَی وَقْتِ الْعَصْرِ ، فَإِذَا جَائَ وَقْتُ الْعَصْرِ ذَہَبَ وَقْتُ الظُّہْرِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۶۱۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کا آخری وقت اور عصر کا پہلا وقت
(١٧١٣) (الف) ابی بکر بن أبی موسیٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، پھر بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے اقامت کہی جس وقت فجر پھوٹ گئی تو آپ نے نماز پڑھائی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا، انھوں نے ظہر کی اقامت کہی اور کوئی شخص کہہ رہا تھا کہ سورج ڈھل گیا یا نہیں ڈھلا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے زیادہ جاننے والے تھے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو انھوں نے عصر کی اقامت کہی اور سورج بلند تھا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو انھوں نے مغرب کی اقامت کہی، جس وقت سورج غروب ہوگیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو انھوں نے عشا کی اقامت کہی سرخی کے غروب ہونے کے وقت۔ پھر کل کو صبح کی نماز پڑھی اور کہنے والا کہہ رہا تھا کہ سورج طلوع ہوا یا نہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے زیادہ جاننے والے تھے اور اگلے دن ظہر کی نماز پڑھائی عصر کے وقت کے قریب اور عصر کے نماز پڑھائی اور کہنے والا کہہ رہا تھا کہ سورج سرخ ہوگیا اور سرخی غروب ہونے سے پہلے مغرب کی نماز پڑھائی اور عشا کی نماز پہلی تہائی رات کے وقت پڑھائی، پھر فرمایا : وقت کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ ان دونوں وقتوں کے درمیان وقت نماز کا وقت ہے۔

(ب) صحیح مسلم میں ہے کہ پھر آپ نے ظہر مؤخر کی یہاں تک کہ اگلے دن عصر کے اول وقت کے قریب ادا فرمائی۔

(ج) اس میں امام شافعی کی تاویل کے صحیح ہونے پر دلیل ہے۔
(۱۷۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیُّ عَنْ أَبِیہِ۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی مُوسَی سَمِعْتُہُ مِنْہُ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ سَائِلاً أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَسَأَلَہُ عَنْ مَوَاقِیتِ الصَّلاَۃِ ، فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ شَیْئًا ، ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ حِینَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَصَلَّی ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ الظُّہْرَ وَالْقَائِلُ یَقُولُ قَدْ زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزَلْ ، وَہُوَ کَانَ أَعْلَمُ مِنْہُمْ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِینَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ الْعِشَائَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ قَالَ ثُمَّ صَلَّی الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ وَالْقَائِلُ یَقُولُ قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَطْلُعْ ، وَہُوَ کَانَ أَعْلَمُ مِنْہُمْ ، وَصَلَّی الظُّہْرَ قَرِیبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ ، وَصَلَّی الْعَصْرَ وَالْقَائِلُ یَقُولُ قَدِ احْمَرَّتِ الشَّمْسُ وَصَلَّی الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ یَغِیبَ الشَّفَقُ ، وَصَلَّی الْعِشَائَ ثُلُثَ اللَّیْلِ الأَوَّلَ ، ثُمَّ قَالَ : ((أَیْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوَقْتِ ، مَا بَیْنَ ہَذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ وَقْتٌ))۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: ثُمَّ أَخَّرَ الظُّہْرَ حَتَّی کَانَ قَرِیبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ۔

وَفِی ذَلِکَ دَلِیلٌ عَلَی صِحَّۃِ تَأْوِیلِ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۶۱۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کا آخری مختار وقت
(١٧١٤) سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کعبہ کے دروازے کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) دو مرتبہ میرے پاس آئے۔ “ پھر لمبی حدیث بیان کی۔ اس میں ہے کہ دوسری مرتبہ پھر عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی دو مثل ہوگیا۔
(۱۷۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَکِیمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((أَتَانِی جِبْرِیلُ عِنْدَ بَابِ الْکَعْبَۃِ مَرَّتَیْنِ))۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ یَعْنِی فِی الْمَرَّۃِ الأُخْرَی : ((ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ حِینَ صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَیْہِ))۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক: