আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১১৬ টি
হাদীস নং: ১৭৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کے دو وقتوں کا ذکر
امام شافعی (رح) نے اس ثبوت کی خبر کو معلق ذکر کیا ہے۔
امام شافعی (رح) نے اس ثبوت کی خبر کو معلق ذکر کیا ہے۔
(١٧٣٥) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : ایک شخص نے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارے ساتھ نماز پڑھیں۔۔۔ اس میں ہے پھر مغرب کی نماز پڑھی جب سورج غروب ہوچکا تھا اور دوسرے دن فرمایا : پھر مغرب کی نماز سرخی غائب ہونے سے پہلے پڑھی۔
(۱۷۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِیُّ حَدَّثَنِی ثَوْرُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ وَقْتِ الصَّلاَۃِ فَقَالَ : صَلِّ مَعَنَا ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ: ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ حِینَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ ، وَقَالَ فِی الْیَوْمِ الثَّانِی: ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ قَبْلَ غَیْبُوبَۃِ الشَّفَقِ۔
وَرَوَاہُ بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ عَطَائٍ فَذَکَرَ قِصَّۃَ إِمَامَۃِ جِبْرِیلَ النَّبِیَّ -ﷺ- وَذَکَرَ وَقْتَ الْمَغْرِبِ وَاحِدًا وَتِلْکَ قِصَّۃٌ ، وَسُؤَالُ السَّائِلِ عَنْ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ قِصَّۃٌ أُخْرَی ، کَمَا نَظُنُّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ قَوْلِہِ: وَقْتُ الْمَغْرِبِ إِلَی الْعِشَائِ۔ [صحیح]
وَرَوَاہُ بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ عَطَائٍ فَذَکَرَ قِصَّۃَ إِمَامَۃِ جِبْرِیلَ النَّبِیَّ -ﷺ- وَذَکَرَ وَقْتَ الْمَغْرِبِ وَاحِدًا وَتِلْکَ قِصَّۃٌ ، وَسُؤَالُ السَّائِلِ عَنْ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ قِصَّۃٌ أُخْرَی ، کَمَا نَظُنُّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ قَوْلِہِ: وَقْتُ الْمَغْرِبِ إِلَی الْعِشَائِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازِ مغرب کا نام مغرب ہی سنت ہے نہ کہ عشا
(١٧٣٦) عبداللہ مزنی نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دیہاتی مغرب کی نماز کے نام پر غالب نہ آجائیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دیہاتی اس کو (مغرب) عشاء کہتے ہیں۔
(۱۷۳۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((لاَ یَغْلِبَنَّکُمُ الأَعْرَابُ عَلَی اسْمِ صَلاَۃِ الْمَغْرِبِ))۔ فَقَالَ ((تَقُولُ الأَعْرَابُ ہِیَ الْعِشَائُ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ۔
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۳۸]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ۔
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۳۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کے دو وقتوں کا ذکر
امام شافعی (رح) نے اس ثبوت کی خبر کو معلق ذکر کیا ہے۔
امام شافعی (رح) نے اس ثبوت کی خبر کو معلق ذکر کیا ہے۔
(١٧٣٧) (الف) سیدنا عبداللہ بن مغفل (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دیہاتی غالب نہ آجائیں تمہاری نماز کے نام پر ، وہ اس کا نام عتمہ رکھتے ہیں۔
(ب) شیخ ابوبکر اسماعیلی کہتے ہیں کہ حدیث ابی مسعود عشا کی نماز کے آخری ہونے پر دلالت کرتی ہے، اس طرح ابن عمر (رض) سے منقول ہے کہ عشا کی نماز ہی آخری نماز ہے۔
(ب) شیخ ابوبکر اسماعیلی کہتے ہیں کہ حدیث ابی مسعود عشا کی نماز کے آخری ہونے پر دلالت کرتی ہے، اس طرح ابن عمر (رض) سے منقول ہے کہ عشا کی نماز ہی آخری نماز ہے۔
(۱۷۳۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْفِرْیَابِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مَسْعُودٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ أَخْبَرَنَا أَبِی عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُغَفَّلِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یَغْلِبَنَّکُمُ الأَعْرَابُ عَلَی اسْمِ صَلاَتِکُمْ ، فَإِنَّ الأَعْرَابَ تُسَمِّیہَا عَتْمَۃً))۔
قَالَ الشَّیْخُ أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ: حَدِیثُ أَبِی مَسْعُودٍ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ فِی صَلاَۃِ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ ، وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِی الْعِشَائِ الآخِرَۃِ۔
قَالَ الشَّیْخُ: إِلاَّ أَنَّ الَّذِینَ رَوَوْہُ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ عَلَی اللَّفْظِ الأَوَّلِ أَکْثَرُ۔ [صحیح]
قَالَ الشَّیْخُ أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ: حَدِیثُ أَبِی مَسْعُودٍ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ فِی صَلاَۃِ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ ، وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِی الْعِشَائِ الآخِرَۃِ۔
قَالَ الشَّیْخُ: إِلاَّ أَنَّ الَّذِینَ رَوَوْہُ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ عَلَی اللَّفْظِ الأَوَّلِ أَکْثَرُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازِ عشاکا نام بجائے عتمہ کے عشا رکھنا سنت ہے
(١٧٣٨) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہیں دیہاتی تمہاری نماز کے نام پر غالب نہ آجائیں، آگاہ رہو وہ عشاہی ہے مگر وہ عشا کے وقت اونٹوں کا دودھ نکالتے تھے۔
(۱۷۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی لَبِیدٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((لاَ یَغْلِبَنَّکُمُ الأَعْرَابُ عَلَی اسْمِ صَلاَتِکُمْ ہِیَ الْعِشَائُ إِلاَّ أَنَّہُمْ یُعْتِمُونَ بِالإِبِلِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۶۴۴]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۶۴۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کے دو وقتوں کا ذکر
امام شافعی (رح) نے اس ثبوت کی خبر کو معلق ذکر کیا ہے۔
امام شافعی (رح) نے اس ثبوت کی خبر کو معلق ذکر کیا ہے۔
(١٧٣٩) سیدنا عبد الرحمن بن عوف (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دیہاتی تمہاری نماز کے نام پر غالب نہ آجائیں وہ (نماز) اللہ کی کتاب میں عشا ہے۔ دیہاتیوں نے اس کا نام عتمہ اس لیے رکھا ہے کہ (اس وقت) وہ اپنے اونٹوں کا دودھ نکالتے تھے۔
(۱۷۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی رَوَّادٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الطَّائِفِ عَنْ غَیْلاَنَ بْنِ شُرَحْبِیلَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((لاَ یَغْلِبَنَّکُمُ الأَعْرَابُ مِنَ اسْمِ صَلاَتِکُمْ فَإِنَّہَا فِی کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ الْعِشَائُ ، وَإِنَّمَا سَمَّتْہَا الأَعْرَابُ الْعَتَمَۃَ مِنْ أَجْلِ إِبِلِہَا لِحِلاَبِہَا)) ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ البزار]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کے دو وقتوں کا ذکر
امام شافعی (رح) نے اس ثبوت کی خبر کو معلق ذکر کیا ہے۔
امام شافعی (رح) نے اس ثبوت کی خبر کو معلق ذکر کیا ہے۔
(١٧٤٠) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ جبرائیل (علیہ السلام) نے میری امامت کرائی ۔۔۔ اس میں ہے اور مجھے عشا کی نماز پڑھائی جس وقت سرخی غائب ہوچکی تھی۔
(۱۷۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ الزُّرَقِیِّ عَنْ حَکِیمِ بْنِ حَکِیمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَیْفٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَمَّنِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ عِنْدَ الْبَیْتِ مَرَّتَیْنِ))۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَقَالَ فِیہِ : وَصَلَّی بِیَ الْعِشَائَ حِینَ غَابَ الشَّفَقُ ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرخی غائب ہونے کے ساتھ عشاکا وقت شروع ہوجاتا ہے
(١٧٤١) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ شفق سے مراد سرخی ہے۔ ابو معصب کہتے ہیں کہ مالک کے نزدیک شفق سے مراد سرخی ہے۔
(۱۷۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: الشَّفَقُ الْحُمْرَۃُ۔ قَالَ أَبُو مُصْعَبٍ قَالَ مَالِکٌ: الشَّفَقُ الْحُمْرَۃُ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ عبد الرزاق ۲۱۲۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرخی غائب ہونے کے ساتھ عشاکا وقت شروع ہوجاتا ہے
(١٧٤٢) سیدنا ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : شفق سے مراد سرخی ہے۔
(۱۷۴۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: الشَّفَقُ الْحُمْرَۃُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرخی غائب ہونے کے ساتھ عشاکا وقت شروع ہوجاتا ہے
(١٧٤٣) سیدنا ابن عمر (رض) موقوفاً بیان کرتے ہیں۔
(۱۷۴۳) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا۔
وَرُوِیَ عَنْ عَتِیقِ بْنِ یَعْقُوبَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ مَرْفُوعًا وَالصَّحِیحُ مَوْقُوفٌ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ عبدالرزاق ۲۱۲۲]
وَرُوِیَ عَنْ عَتِیقِ بْنِ یَعْقُوبَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ مَرْفُوعًا وَالصَّحِیحُ مَوْقُوفٌ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ عبدالرزاق ۲۱۲۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرخی غائب ہونے کے ساتھ عشاکا وقت شروع ہوجاتا ہے
(١٧٤٤) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شفق سے مراد سرخی ہے جب سرخی غائب ہوجائے تو نماز واجب ہوگی۔
(۱۷۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُفْیَانَ عَنْ عَتِیقِ بْنِ یَعْقُوبَ بْنِ صِدِّیقٍ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ-ﷺ:((الشَّفَقُ الْحُمْرَۃُ، فَإِذَا غَابَ الشَّفَقُ وَجَبَتِ الصَّلاَۃُ))۔
[حسن۔ أخرجہ الدار قطنی ۲۶۱]
[حسن۔ أخرجہ الدار قطنی ۲۶۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرخی غائب ہونے کے ساتھ عشاکا وقت شروع ہوجاتا ہے
(١٧٤٥) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ شفق سے مراد سرخی ہے۔ سیدنا عمر (رض) ، علی (رض) اور ابی ہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ شفق سے مراد سرخی ہے۔
(۱۷۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَحْیَی قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: ہُوَ أَخُو مُعَاوِیَۃَ بْنِ یَحْیَی الصَّدَفِیِّ عَنْ حِبَّانَ بْنِ أَبِی جَبَلَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: الشَّفَقُ الْحُمْرَۃُ۔ (ت) وَرُوِّینَا عَنْ عُمَرَ وَعَلِیٍّ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُمْ قَالُوا: الشَّفَقُ الْحُمْرَۃُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرخی غائب ہونے کے ساتھ عشاکا وقت شروع ہوجاتا ہے
(١٧٤٦) (الف) سیدنا عبادہ بن صامت اور شداد بن اوس کہتے ہیں کہ شفق سے مراددو ہیں : سرخی اور سفیدی جب سرخی غائب ہوجائے تو نماز حلال ہوگی اور فجر سے مراد دو فجر ہیں : لمبائی میں پھیلنے والی اور چوڑائی میں پھیلنے والی اور جب چوڑائی میں پھیلنے والی پھٹ جائے تو نماز حلال ہوگی۔
(ب) مکحول کہتے ہیں کہ جب سرخی چلی جائے تو نماز پڑھی جائے اور سفیان کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ زیادہ مناسب (محبوب) ہے کہ ہم سرخی کے جانے پر نماز ادا کریں کیونکہ سفیدی تو رات کے ختم ہونے تک نہیں جاتی۔
(ج) جابر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اوقاتِ نماز نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے عشا کی نماز سرخی زائل ہونے سیپہلے ادا کی۔ یہ روایت باقی روایات کے مخالف ہے۔
(ب) مکحول کہتے ہیں کہ جب سرخی چلی جائے تو نماز پڑھی جائے اور سفیان کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ زیادہ مناسب (محبوب) ہے کہ ہم سرخی کے جانے پر نماز ادا کریں کیونکہ سفیدی تو رات کے ختم ہونے تک نہیں جاتی۔
(ج) جابر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اوقاتِ نماز نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے عشا کی نماز سرخی زائل ہونے سیپہلے ادا کی۔ یہ روایت باقی روایات کے مخالف ہے۔
(۱۷۴۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا مُعَلَّی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالاَ: الشَّفَقُ شَفَقَانِ الْحُمْرَۃُ وَالْبَیَاضُ فَإِذَا غَابَتِ الْحُمْرَۃُ حَلَّتِ الصَّلاَۃُ ، وَالْفَجْرُ فَجْرَانِ الْمُسْتَطِیلُ وَالْمُعْتَرِضُ فَإِذَا انْصَدَعَ الْمُعْتَرِضُ حَلَّتِ الصَّلاَۃُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ سُفْیَانَ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ مَکْحُولٍ أَنَّہُ قَالَ: إِذَا ذَہَبَتِ الْحُمْرَۃُ فَصَلِّ۔ قَالَ سُفْیَانُ: وَہُوَ أَحَبُّ إِلَیْنَا وَذَلِکَ الشَّفَقُ عِنْدَنَا لأَنَّ الْبَیَاضَ لاَ یَذْہَبُ حَتَّی یَمْضِیَ اللَّیْلُ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَالَّذِی رَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی أَوْقَاتِ الصَّلاَۃِ ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ قَبْلَ غَیْبُوبَۃِ الشَّفَقِ مُخَالِفٌ لِسَائِرِ الرِّوَایَاتِ۔
[ضعیف۔ أخرجہ الدارقطنی ۱/۲۶۹]
وَرُوِّینَا عَنْ سُفْیَانَ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ مَکْحُولٍ أَنَّہُ قَالَ: إِذَا ذَہَبَتِ الْحُمْرَۃُ فَصَلِّ۔ قَالَ سُفْیَانُ: وَہُوَ أَحَبُّ إِلَیْنَا وَذَلِکَ الشَّفَقُ عِنْدَنَا لأَنَّ الْبَیَاضَ لاَ یَذْہَبُ حَتَّی یَمْضِیَ اللَّیْلُ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَالَّذِی رَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی أَوْقَاتِ الصَّلاَۃِ ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ قَبْلَ غَیْبُوبَۃِ الشَّفَقِ مُخَالِفٌ لِسَائِرِ الرِّوَایَاتِ۔
[ضعیف۔ أخرجہ الدارقطنی ۱/۲۶۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرخی غائب ہونے کے ساتھ عشاکا وقت شروع ہوجاتا ہے
(١٧٤٧) سیدنا عبداللہ بن حارث مخزومی سے روایت ہے پہلی میں کہتے ہیں کہ عشاء کا وقت جس وقت سرخی غائب ہوجائے اور دوسری میں کہتے ہیں کہ عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ پھر عشاء کے متعلق فرمایا کہ میرا خیال ہے تہائی رات تک۔
(۱۷۴۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِیُّ حَدَّثَنِی ثَوْرُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ سُلَیْمَانَ فَذَکَرَہُ۔
وَرَوَاہُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِیِّ فَقَالَ فِی الأَوَّلِ: وَالْعِشَائَ حِینَ غَابَ الشَّفَقُ۔ وَقَالَ فِی الثَّانِی قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ ثُمَّ قَالَ فِی الْعِشَائِ: أُرَی إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ۔ [صحیح۔ أخرجہ النسائی ۵۰۴]
وَرَوَاہُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِیِّ فَقَالَ فِی الأَوَّلِ: وَالْعِشَائَ حِینَ غَابَ الشَّفَقُ۔ وَقَالَ فِی الثَّانِی قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ ثُمَّ قَالَ فِی الْعِشَائِ: أُرَی إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ۔ [صحیح۔ أخرجہ النسائی ۵۰۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرخی غائب ہونے کے ساتھ عشاکا وقت شروع ہوجاتا ہے
(١٧٤٨) حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ میں اس نماز (عشا) کے وقت کو لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں۔ رسول اللہ تیسری رات کا چاند غروب ہونے کے وقت اسے پڑھتے تھے۔
(۱۷۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ بَشِیرِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ حَبِیبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ: إِنِّی لأَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ ہَذِہِ الصَّلاَۃِ صَلاَۃِ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ ، کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّیہَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَۃٍ۔ (ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی بِشْرٍ۔ وَرَوَاہُ ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ وَرَقَبَۃُ بْنُ مَصْقَلَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ حَبِیبِ بْنِ سَالِمٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ الترمذی ۱۶۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاکا آخری وقت
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
(١٧٤٩) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ میری امامت کرائی۔۔۔ اس میں ہے کہ مجھ کو عشا کی نماز رات کے پہلے تہائی حصے میں پڑھائی، یعنی دوسری مرتبہ۔
(۱۷۴۹) بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَکِیمِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَمَّنِی جِبْرِیلُ عِنْدَ الْبَیْتِ مَرَّتَیْنِ ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ : وَصَلَّی بِیَ الْعِشَائَ ثُلُثَ اللَّیْلِ الأَوَّلَ ۔ یَعْنِی فِی الْمَرَّۃِ الآخِرَۃِ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاکا آخری وقت
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
(١٧٥٠) سیدنا ابی موسیٰ (رض) سے روایت ہے کہ ایک سائل نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، پھر بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے اقامت کہی۔۔۔ اس میں ہے کہ بلال (رض) کو حکم دیا : انھوں نے عشا کی اقامت کہی، جس وقت سرخی غائب ہوچکی تھی پھر جب دوسرا دن آیا۔ اس میں ہے کہ عشا کی نماز تہائی رات تک پڑھائی، پھر فرمایا : نماز کے اوقات کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ وقت ان دونوں کے درمیان ہے۔
(۱۷۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی مُوسَی عَنْ أَبِی مُوسَی: أَنَّ سَائِلاً سَأَلَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ شَیْئًا حَتَّی أَمَرَ بِلاَلاً ، فَأَقَامَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ: وَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الْعِشَائَ حِینَ غَابَ الشَّفَقُ ، فَلَمَّا کَانَ مِنَ الْغَدِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ: وَصَلَّی الْعِشَائَ إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ ، ثُمَّ قَالَ : ((أَیْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَۃِ؟ الْوَقْتُ فِیمَا بَیْنَ ہَذَیْنِ))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ۔ [صحیح]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاکا آخری وقت
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
(١٧٥١) (الف) سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس نے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارے ساتھ نماز میں حاضر ہو، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے اندھیرے میں اذان دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر آپ نے ظہر کا حکم دیا جس وقت سورج بلند تھا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کا حکم دیا جس وقت سورج غروب ہوگیا، پھر عشاء کا حکم دیا جس وقت سرخی غائب ہوگئی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرے روز حکم دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کو روشن کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کا حکم دیا اس کو ٹھنڈا کیا : پھر عصر کا حکم دیا اور سورج سفید صاف تھا اس کے ساتھ زردی نہیں ملی تھی، پھر سرخی غائب ہونے سے پہلے مغرب کا حکم دیا، پھر ایک تہائی رات گزرنے کے وقت عشاکا حکم دیایا بعض رات گزرنے کے وقت۔ ابو روح کو شک ہوا ہے۔ جب صبح ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سائل کہاں ہے ؟ جو تو نے دیکھا ہے اس کے درمیان نماز کا وقت ہے۔
(ب) علقمہ بن مرثد سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی اقامت کہی جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا۔
(ب) علقمہ بن مرثد سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی اقامت کہی جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا۔
(۱۷۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِیٍّ الْفَقِیہُ فِی مَسْجِدِ الرُّصَافَۃِ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا حَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَسَأَلَہُ عَنْ مَوَاقِیتِ الصَّلاَۃِ فَقَالَ : ((اشْہَدْ مَعَنَا الصَّلاَۃَ))۔ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِلاَلاً فَأَذَّنَ بِغَلَسٍ فَصَلَّی الصُّبْحَ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالظُّہْرِ حِینَ زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَائِ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْمَغْرِبِ حِینَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْعِشَائِ حِینَ وَجَبَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَمَرَہُ الْغَدَ فَنَوَّرَ بِالصُّبْحِ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالظُّہْرِ فَأَبْرَدَ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ لَمْ یُخَالِطْہَا صُفْرَۃٌ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنْ یَقَعَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْعِشَائِ عِنْدَ ذَہَابِ ثُلُثِ اللَّیْلِ أَوْ بَعْضِہِ - شَکَّ أَبُو رَوْحٍ - فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ : ((أَیْنَ السَّائِلُ؟ مَا بَیْنَ مَا رَأَیْتَ وَقْتٌ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَۃَ عَنْ حَرَمِیِّ بْنِ عُمَارَۃَ أَبِی رَوْحٍ۔
وَقَدْ رُوِّینَاہُ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ قَالَ فَأَقَامَ الْعِشَائَ حِینَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ۔ [صحیح]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَۃَ عَنْ حَرَمِیِّ بْنِ عُمَارَۃَ أَبِی رَوْحٍ۔
وَقَدْ رُوِّینَاہُ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ قَالَ فَأَقَامَ الْعِشَائَ حِینَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاکا آخری وقت
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
(١٧٥٢) زہری کہتے ہیں کہ مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ عائشہ (رض) نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز اندھیرے میں ادا کی، یہاں تک کہ عمر (رض) نے آواز دی کہ نماز ! بچے اور عورتیں سو گئیں ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور فرمایا : تمہارے علاوہ اہل زمین سے کوئی بھی اس کا انتظار نہیں کر رہا، ان دنوں مدینہ میں نماز پڑھی جاتی تھی اور وہ عشاء کی نماز رات کی سرخی غروب ہونے سے لے کر ایک تہائی رات تک پڑھتے تھے۔
(۱۷۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی أَخْبَرَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالْعَتَمَۃِ حَتَّی نَادَاہُ عُمَرُ فَقَالَ: الصَّلاَۃَ نَامَ النِّسَائُ وَالصِّبْیَانُ۔ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((مَا یَنْتَظِرُہَا أَحَدٌ مِنْ أَہْلِ الأَرْضِ غَیْرُکُمْ))۔ وَلاَ یُصَلَّی یَوْمَئِذٍ إِلاَّ بِالْمَدِینَۃِ ، وَکَانُوا یُصَلُّونَ الْعَتَمَۃَ فِیمَا بَیْنَ أَنْ یَغِیبَ شَفَقُ اللَّیْلِ إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ الأَوَّلِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَکَذَلِکَ أَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔
وَمَنْ قَالَ بِالْقَوْلِ الثَّانِی احْتَجَّ بِمَا۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۵۴۴]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَکَذَلِکَ أَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔
وَمَنْ قَالَ بِالْقَوْلِ الثَّانِی احْتَجَّ بِمَا۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۵۴۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاکا آخری وقت
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
(١٧٥٣) (الف) سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ۔۔۔ عشا کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے۔
(ب) قتادہ سے روایت ہے کہ درمیانی آدھی رات تک۔
(ج) اور ہشام کی حدیث میں قتادہ سے منقول ہے کہ جب تم عشا کی نماز پڑھو تو اس کا وقت نصف رات تک ہے۔
(ب) قتادہ سے روایت ہے کہ درمیانی آدھی رات تک۔
(ج) اور ہشام کی حدیث میں قتادہ سے منقول ہے کہ جب تم عشا کی نماز پڑھو تو اس کا وقت نصف رات تک ہے۔
(۱۷۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِیُّ حَدَّثَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الْعَتَکِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ : ((وَقْتُ صَلاَۃِ الْعِشَائِ إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہَمَّامٍ وَغَیْرِہِ عَنْ قَتَادَۃَ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ الأَوْسَطِ۔
وَفِی حَدِیثِ ہِشَامٍ عَنْ قَتَادَۃَ : فَإِذَا صَلَّیْتُمُ الْعِشَائَ فَإِنَّہُ وَقْتٌ إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ ۔
[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۶۱۲]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہَمَّامٍ وَغَیْرِہِ عَنْ قَتَادَۃَ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ الأَوْسَطِ۔
وَفِی حَدِیثِ ہِشَامٍ عَنْ قَتَادَۃَ : فَإِذَا صَلَّیْتُمُ الْعِشَائَ فَإِنَّہُ وَقْتٌ إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ ۔
[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۶۱۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاکا آخری وقت
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
(١٧٥٤) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انگوٹھی بنائی ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں ! ایک رات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز نصف رات تک مؤخرکر دی، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی تو آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے اور تم نماز میں ہی رہے ہو جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو۔ گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں۔
(۱۷۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّہُ سُئِلَ ہَلِ اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خَاتَمًا؟ فَقَالَ: نَعَمْ أَخَّرَ الصَّلاَۃَ صَلاَۃَ الْعِشَائِ ذَاتَ لَیْلَۃٍ إِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ ، فَلَمَّا صَلَّی أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ فَقَالَ : ((النَّاسُ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا ، وَإِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوا فِی صَّلاَۃٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَۃَ))۔ فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی وَبِیصِ خَاتَمِہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُنِیرٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۵۳۱]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُنِیرٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۵۳۱]
তাহকীক: