আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১১৬ টি
হাদীস নং: ১৭৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاکا آخری وقت
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
(١٧٥٥) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک رات ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ تقریباً نصف رات ہوگئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور نماز پڑھائی۔ گویا میں چاندی کے حلقے کو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگوٹھی کی چمک کو دیکھ رہا ہوں۔ ابی داؤد کی ایک روایت میں ہے کہ نصف رات گذر گئی اور باقی اسی کے ہم معنی ہے۔
(۱۷۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو: أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: نَظَرْنَا النَّبِیَّ -ﷺ- لَیْلَۃً حَتَّی کَانَ قَرِیبًا مِنْ نِصْفِ اللَّیْلِ ، فَجَائَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَصَلَّی قَالَ فَکَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَی وَبِیصِ خَاتَمِہِ حَلْقَۃَ فِضَّۃٍ۔ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی دَاوُدَ: حَتَّی مَضَی شَطْرُ اللَّیْلِ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الصَّبَّاحِ۔ [صحیح]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو: أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: نَظَرْنَا النَّبِیَّ -ﷺ- لَیْلَۃً حَتَّی کَانَ قَرِیبًا مِنْ نِصْفِ اللَّیْلِ ، فَجَائَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَصَلَّی قَالَ فَکَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَی وَبِیصِ خَاتَمِہِ حَلْقَۃَ فِضَّۃٍ۔ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی دَاوُدَ: حَتَّی مَضَی شَطْرُ اللَّیْلِ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الصَّبَّاحِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاکا آخری وقت
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
(١٧٥٦) سیدنا انس (رض) سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگوٹھی تھی ؟ انھوں نے کہا : ہاں ایک رات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کو مؤخر کردیا، آدھی رات یا اس کے قریب قریب وقت گذر گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور فرمایا : لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم نماز میں رہے ہو جب سے تم نماز کا انتظار کرتے رہے ہو۔
حضرت انس (رض) فرماتے ہیں گویا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہاہوں اور بائیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور اس کی تعریف کی۔
حضرت انس (رض) فرماتے ہیں گویا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہاہوں اور بائیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور اس کی تعریف کی۔
(۱۷۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ ہَلْ کَانَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- خَاتَمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْعِشَائَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ ، وَقَدْ کَادَ یَذْہَبُ شَطْرُ اللَّیْلِ أَوْ عِنْدَ شَطْرِ اللَّیْلِ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ : ((إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا ، وَإِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوا فِی صَّلاَۃٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَۃَ)) ۔
قَالَ أَنَسٌ: کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی وَبِیصِ خَاتَمِہِ مِنْ فِضَّۃٍ۔ وَأَشَارَ بِیَدِہِ الْیُسْرَی وَوَصَفَ۔ [صحیح]
قَالَ أَنَسٌ: کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی وَبِیصِ خَاتَمِہِ مِنْ فِضَّۃٍ۔ وَأَشَارَ بِیَدِہِ الْیُسْرَی وَوَصَفَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاکا آخری وقت
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
(١٧٥٧) سیدنا ثابت (رض) نے انس بن مالک (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگوٹھی کے متعلق سوال کیا۔۔۔ باقی حدیث اسی طرح ہے صرف یہ ہے کہ انھوں نے اپنی بائیں چھوٹی انگلی اٹھائی۔
(۱۷۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا بَہْزٌ الْعَمِّیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ: أَنَّہُمْ سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: وَرَفَعَ إِصْبَعَہُ الْیُسْرَی الْخِنْصِرَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ نَافِعٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۶۴۰]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ نَافِعٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۶۴۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاکا آخری وقت
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
(١٧٥٨) ابی سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز کو نصف رات کے قریب تک موخر کیا پھر نکلے اور آپ نے نماز پڑھائی اور فرمایا : تم نماز میں رہے ہو جب تک انتظار کرتے رہے اور اگر مجھے بوڑھے کے بڑھاپے اور ضعیف کے ضعف کا خیال نہ ہوتا۔ راوی کہتا ہے : میرے خیال میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا اور کام والے کے کام کا تو میں ضرور اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کردیتا۔
(۱۷۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْخُرَاسَانِیُّ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی یَعْنِی ابْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الْعِشَائِ الآخِرَۃَ إِلَی قَرِیبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّیْلِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی وَقَالَ : ((إِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوا فِی الصَّلاَۃِ مَا انْتَظَرْتُمُوہَا ، وَلَوْلاَ کِبَرُ الْکَبِیرِ وَضَعْفُ الضَّعِیفِ))۔ أَحْسِبُہُ قَالَ : ((وَذُو الْحَاجَۃِ لأَخَّرْتُ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ إِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ))۔
[صحیح۔ أخرجہ ابن حبان ۱۵۲۹]
[صحیح۔ أخرجہ ابن حبان ۱۵۲۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاکا آخری وقت
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
(١٧٥٩) (الف) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام کے پاس آئے ، وہ عشاکا انتظار کر رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم اس کا انتظار کر رہے ہو، یقیناتم نماز میں رہے ہو جب سے تم اس کا انتظار کر رہے ہو ۔ اگر مجھے ضعیف کے ضعف اور بوڑھے کے بڑھاپے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کردیتا۔
(ب) شعبہ کہتے ہیں کہ میں ان سے دوسری بار ملا تو انھوں نے کہا : یا رات کے تہائی حصے تک۔ خالد بن حارث شعبہ سے نقل کرتے ہیں نصف رات تک۔ ابو منہال سے روایت ہے کہ تہائی رات تک۔
(ب) شعبہ کہتے ہیں کہ میں ان سے دوسری بار ملا تو انھوں نے کہا : یا رات کے تہائی حصے تک۔ خالد بن حارث شعبہ سے نقل کرتے ہیں نصف رات تک۔ ابو منہال سے روایت ہے کہ تہائی رات تک۔
(۱۷۵۹) وَہَکَذَا رَوَاہُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَغَیْرُہُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ۔ وَخَالَفَہُمْ أَبُو مُعَاوِیَۃَ الضَّرِیرُ عَنْ دَاوُدَ فَقَالَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی أَصْحَابِہِ وَہُمْ یَنْتَظِرُونَ الْعِشَائَ فَقَالَ : ((صَلَّوْا وَرَقَدُوا وَأَنْتُمْ تَنْتَظِرُونَہَا ، أَمَا إِنَّکُمْ فِی صَّلاَۃٍ مَا انْتَظَرْتُمُوہَا، وَلَوْلاَ ضَعْفُ الضَّعِیفِ وَکِبَرُ الْکَبِیرِ لأَخَّرْتُ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ إِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ))۔
وَفِی رِوَایَۃِ أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ عَائِشَۃَ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ: حَتَّی ذَہَبَ عَامَّۃُ اللَّیْلِ وَحَتَّی نَامَ أَہْلُ الْمَسْجِدِ۔ وَفِی حَدِیثِ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ: حَتَّی ابْہَارَّ اللَّیْلُ۔
وَفِی حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ: حَتَّی رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَیْقَظُوا ، وَرَقَدُوا وَاسْتَیْقَظُوا۔
وَفِی رِوَایَۃِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: فَخَرَجَ عَلَیْنَا حِینَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ أَوْ بَعْدَہُ۔
وَفِی حَدِیثِ أَبِی الْمِنْہَالِ عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیِّ: وَکَانَ لاَ یُبَالِی بِتَأْخِیرِ الْعِشَائِ إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ ثُمَّ قَالَ إِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ۔
وَقَالَ مُعَاذٌ قَالَ شُعْبَۃُ: ثُمَّ لَقِیتُہُ مَرَّۃً فَقَالَ أَوْ ثُلُثِ اللَّیْلِ ، وَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ شُعْبَۃَ: إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ۔ وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ: إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ۔ [صحیح۔ أخرجہ أبو یعلیٰ ۱۹۳۹]
وَفِی رِوَایَۃِ أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ عَائِشَۃَ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ: حَتَّی ذَہَبَ عَامَّۃُ اللَّیْلِ وَحَتَّی نَامَ أَہْلُ الْمَسْجِدِ۔ وَفِی حَدِیثِ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ: حَتَّی ابْہَارَّ اللَّیْلُ۔
وَفِی حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ: حَتَّی رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَیْقَظُوا ، وَرَقَدُوا وَاسْتَیْقَظُوا۔
وَفِی رِوَایَۃِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: فَخَرَجَ عَلَیْنَا حِینَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ أَوْ بَعْدَہُ۔
وَفِی حَدِیثِ أَبِی الْمِنْہَالِ عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیِّ: وَکَانَ لاَ یُبَالِی بِتَأْخِیرِ الْعِشَائِ إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ ثُمَّ قَالَ إِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ۔
وَقَالَ مُعَاذٌ قَالَ شُعْبَۃُ: ثُمَّ لَقِیتُہُ مَرَّۃً فَقَالَ أَوْ ثُلُثِ اللَّیْلِ ، وَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ شُعْبَۃَ: إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ۔ وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ: إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ۔ [صحیح۔ أخرجہ أبو یعلیٰ ۱۹۳۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاکا آخری وقت
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
(١٧٦٠) (الف) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز کا اول اور آخری وقت ہے۔ ظہر کا اول وقت جس وقت سورج ڈھل جائے اور اس کا آخری وقت جس وقت (نماز) عصر (کا وقت) ہوجائے اور عصر کا اول وقت جس وقت اس کا وقت داخل ہوجائے اور اس کا آخری وقت جس وقت سورج زرد ہوجائے اور مغرب کا اول وقت جس وقت سورج غروب ہوجائے اور اس کا آخری وقت جس وقت سرخی غائب ہوجائے اور عشاکا اول وقت سرخی غائب ہوجائے اور اس کا آخری وقت جس وقت نصف رات ہوجائے اور فجر کا اول وقت جس وقت فجر طلوع ہوجائے اور اس کا آخری وقت جب سورج طلوع ہوجائے۔
(ب) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نماز کا اول اور آخری وقت ہے۔ “
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ امام بخاری (رح) نے اس کے ہم معنی نقل کیا ہے۔
(ب) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نماز کا اول اور آخری وقت ہے۔ “
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ امام بخاری (رح) نے اس کے ہم معنی نقل کیا ہے۔
(۱۷۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلِ بْنِ غَزْوَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ لِلصَّلاَۃِ أَوَّلاً وَآخِرًا ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ صَلاَۃِ الظُّہْرِ حِینَ تَزُولُ الشَّمْسُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِینَ یَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ حِینَ یَدْخُلُ وَقْتُہَا ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِینَ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِینَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِینَ یَغِیبُ الأُفُقُ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَائِ حِینَ یَغِیبُ الأُفُقُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِینَ یَنْتَصِفُ اللَّیْلُ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِینَ یَطْلُعُ الْفَجْرُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِینَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ))
(ج) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ یَقُولُ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یُضَعِّفُ حَدِیثَ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَیْلٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَحْسِبُ یَحْیَی یُرِیدُ أَنَّ لِلصَّلاَۃِ أَوَّلاً وَآخِرًا وَقَالَ: إِنَّمَا یُرْوَی عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاہِدٍ۔ وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ مِنَ التَّارِیخِ: حَدِیثُ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ((إِنَّ لِلصَّلاَۃِ أَوَّلاً وَآخِرًا))۔ رَوَاہُ النَّاسُ کُلُّہُمْ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاہِدٍ مُرْسَلاً۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَبِمَعْنَاہُ ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی۔ [صحیح۔ أخرجہ الترمذی ۱۵۱]
(ج) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ یَقُولُ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یُضَعِّفُ حَدِیثَ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَیْلٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَحْسِبُ یَحْیَی یُرِیدُ أَنَّ لِلصَّلاَۃِ أَوَّلاً وَآخِرًا وَقَالَ: إِنَّمَا یُرْوَی عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاہِدٍ۔ وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ مِنَ التَّارِیخِ: حَدِیثُ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ((إِنَّ لِلصَّلاَۃِ أَوَّلاً وَآخِرًا))۔ رَوَاہُ النَّاسُ کُلُّہُمْ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاہِدٍ مُرْسَلاً۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَبِمَعْنَاہُ ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی۔ [صحیح۔ أخرجہ الترمذی ۱۵۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاکا آخری وقت
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
(١٧٦١) مجاہد سے روایت ہے کہ نماز کا اول اور آخری وقت ہے، پھر انھوں اس روایت کو بیان کیا۔
(۱۷۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: کَانَ یُقَالُ إِنَّ لِلصَّلاَۃِ أَوَّلاً وَآخِراً فَذَکَرَہُ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِیُّ وَأَبُو زُبَیْدٍ: عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاہِدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ الترمذی ۱۵۱]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِیُّ وَأَبُو زُبَیْدٍ: عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاہِدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ الترمذی ۱۵۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاکا آخری وقت
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
(١٧٦٢) مجاہد فرماتے ہیں : دیکھومیری حدیث کتاب اللہ کے موافق ہے۔ سیدنا عمر (رض) نے ابو موسیٰ اشعری (رض) کی طرف لکھا کہ جس وقت سورج بلند ہو تو ظہر کی نماز پڑھو یعنی جب وہ ڈھل جائے اور عصر کی نماز پڑھو سورج سفید صاف ہو اور مغرب کی نماز پڑھو جس وقت سورج غائب ہوجائے اور فرمایا : عشا کی نماز آدھی رات تک پڑھو اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھو یا سیاہی میں اور قراءت کو لمبا کرو۔
(۱۷۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ: ہِلاَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ مُجَاہِدٍ کَانَ یَقُولُ: انْظُرُوا یُوَافِقُ حَدِیثِی مَا سَمِعْتُمْ مِنَ الْکِتَابِ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ إِلَی أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ: أَنْ صَلُّوا الظُّہْرَ حِینَ تَرْتَفِعُ الشَّمْسُ یَعْنِی تَزُولَ ، وَصَلُّوا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ ، وَصَلُّوا الْمَغْرِبَ حِینَ تَغِیبُ الشَّمْسُ ، وَصَلُّوا الْعِشَائَ إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ الأَوَّلِ ، وَصَلُّوا الصُّبْحَ بِغَلَسٍ أَوْ بِسَوَادٍ ، وَأَطِیلُوا الْقِرَائَۃَ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ عبد الرزاق ۲۰۳۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا کی نماز کا آخری جائز وقت
سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : عشا کا وقت فجر تک ہے۔
سیدنا عبدالرحمن بن عوف اس عورت کے بارے میں کہتے ہیں جو طلوع فجر سے پہلے پاک ہوجائے کہ وہ مغرب اور عشا کی نماز پڑھے گی۔
سیدنا ابوہریرہ (رض) سے کسی نے کہا : عشا کی نماز کا انتہائی وقت کہاں تک ہے ؟ انھوں نے فرمایا : طلوع فجر تک۔
سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز ایک رات مؤخرکر دی، یہاں تک کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا اور مسجد میں آئے ہوئے لوگ سو گئے، پھر آپ ان کی طرف تشریف گئے اور انھیں نماز پڑھائی اور فرمایا : یہ اس کا اصل وقت ہے اگر میری امت پر مشقت نہ ہوتی۔
سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : عشا کا وقت فجر تک ہے۔
سیدنا عبدالرحمن بن عوف اس عورت کے بارے میں کہتے ہیں جو طلوع فجر سے پہلے پاک ہوجائے کہ وہ مغرب اور عشا کی نماز پڑھے گی۔
سیدنا ابوہریرہ (رض) سے کسی نے کہا : عشا کی نماز کا انتہائی وقت کہاں تک ہے ؟ انھوں نے فرمایا : طلوع فجر تک۔
سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز ایک رات مؤخرکر دی، یہاں تک کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا اور مسجد میں آئے ہوئے لوگ سو گئے، پھر آپ ان کی طرف تشریف گئے اور انھیں نماز پڑھائی اور فرمایا : یہ اس کا اصل وقت ہے اگر میری امت پر مشقت نہ ہوتی۔
(١٧٦٣) سیدنا ابو قتادہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں :۔۔۔ لمبی حدیث ہے۔ اس میں ہے نیند میں کمی کرنا ضروری نہیں ہے، یہ اس شخص کے لیے ہے جس نے نماز نہیں پڑھی اور دوسرا وقت آگیا۔
(۱۷۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنِی ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی حَدِیثٍ طَوِیلٍ قَالَ : ((لَیْسَ فِی النَّوْمِ تَفْرِیطٌ ، إِنَّمَا التَّفْرِیطُ عَلَی مَنْ لَمْ یُصَلِّ الصَّلاَۃَ حَتَّی یَجِیئَ وَقْتُ الأُخْرَی))۔
رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۶۸۱]
رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۶۸۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح کی نماز کا نام فجر رکھنا سنت ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُودًا } [الاسراء : ٧٨]
سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز کا ارادہ کیا تھا اور فرمایا : جس نے صبح کی ایک رکعت سورج طلوع ہونے سے پہلے پالی، اس نے صبح (کی نماز) کو پالیا اس کی سند گزر چکی ہے۔
سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز کا ارادہ کیا تھا اور فرمایا : جس نے صبح کی ایک رکعت سورج طلوع ہونے سے پہلے پالی، اس نے صبح (کی نماز) کو پالیا اس کی سند گزر چکی ہے۔
اس باب کے تحت حدیث نہیں ہے
اس باب کے تحت حدیث نہیں ہے
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح کی نماز کا اول وقت
(١٧٦٤) (الف) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) نے بیت اللہ کے پاس میری دو مرتبہ امامت کرائی۔۔۔ پہلی مرتبہ مجھ کو فجر کی نماز پڑھائی جس وقت روزے داروں پر کھاناپینا حرام ہوگیا اور دوسری مرتبہ مجھ کو فجر کی نماز پڑھائی اور اس کو روشن کیا۔ (ب) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) سے اس واقعہ کے متعلق روایت ہے کہ سیدنا جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تشریف لائے یہاں تک کہ فجر کی روشنی بلند ہوگئی، انھوں نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھیے ! آپ اٹھے اور صبح کی نماز پڑھائی، دوسری مرتبہ خوب روشنی میں نماز پڑھائی۔
(۱۷۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَکِیمِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَمَّنِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ عِنْدَ الْبَیْتِ مَرَّتَیْنِ)) ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ فِی الْمَرَّۃِ الأُولَی: ((وَصَلَّی بِیَ الْفَجْرَ حِینَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَی الصَّائِمِ))۔ وَقَالَ فِی الْمَرَّۃِ الآخِرَۃِ: ((وَصَلَّی بِیَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ))۔
وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ وَہْبِ بْنِ کَیْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ قَالَ ثُمَّ جَائَہُ یَعْنِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ سَطَعَ الْفَجْرُ لِلصُّبْحِ وَقَالَ: قُمْ یَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّی الصُّبْحَ وَقَالَ فِی الْمَرَّۃِ الثَّانِیَۃِ حِینَ أَسْفَرَ جِدًّا۔ [حسن]
وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ وَہْبِ بْنِ کَیْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ قَالَ ثُمَّ جَائَہُ یَعْنِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ سَطَعَ الْفَجْرُ لِلصُّبْحِ وَقَالَ: قُمْ یَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّی الصُّبْحَ وَقَالَ فِی الْمَرَّۃِ الثَّانِیَۃِ حِینَ أَسْفَرَ جِدًّا۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر دو قسم کی ہے، نمازِ فجر کا وقت دوسرے فجر کے طلوع ہونے پر ہے
(١٧٦٥) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فجر دو ہیں وہ فجر جو بھیڑیے کی دم کی طرح ہوتی ہے، اس میں نماز درست نہیں اور کھانا بھی حرام نہیں ہوتا اور وہ فجر جو کنارے میں بالکل سیدھی جاتی ہے وہ نماز کو حلال اور کھانے کو حرام کردیتی ہے۔
(۱۷۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الدَّارَبَرْدِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الْفَجْرُ فَجْرَانِ: فَأَمَّا الْفَجْرُ الَّذِی یَکُونُ کَذَنَبِ السِّرْحَانِ فَلاَ یُحِلُّ الصَّلاَۃَ وَلاَ یُحَرِّمُ الطَّعَامَ، وَأَمَّا الَّذِی یَذْہَبُ مُسْتَطِیلاً فِی الأُفُقِ فَإِنَّہُ یُحِلُّ الصَّلاَۃَ وَیُحَرِّمُ الطَّعَامَ))۔ ہَکَذَا رُوِیَ بِہَذَا الإِسْنَادِ مَوْصُولاً۔ وَرُوِیَ مُرْسَلاً وَہُو أَصَحُّ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الحاکم ۱/۳۰۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر دو قسم کی ہے، نمازِ فجر کا وقت دوسرے فجر کے طلوع ہونے پر ہے
(١٧٦٦) محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فجر دو ہیں : باقی حدیث اسی طرح ہے۔ (ایک دوسری سند سے مرفوع اور موقوف روایت بھی بیان کی گئی ہے)
(۱۷۶۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الْفَجْرُ فَجْرَانِ)) ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ مِثْلَہُ سَوَائً۔ وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مُسْنَدًا وَمَوْقُوفًا۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ مرسلا امہ دارقطنی ۱/۲۶۸]
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ مرسلا امہ دارقطنی ۱/۲۶۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر دو قسم کی ہے، نمازِ فجر کا وقت دوسرے فجر کے طلوع ہونے پر ہے
(١٧٦٧) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” فجر دو ہیں : وہ فجر جس میں کھانا حلال ہوتا ہے اور نماز حرام ہوتی ہے اور وہ فجر جس میں نماز حلال ہوتی ہے اور کھانا حرام ہوتا ہے۔ “
(۱۷۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ یَحْیَی الأَدَمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَرْزُوقٍ الطَّبَرِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ یَعْنِی النَّاقِدَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((الْفَجْرُ فَجْرَانِ: فَجْرٌ یَحِلُّ فِیہِ الطَّعَامُ وَیَحْرُمُ فِیہِ الصَّلاَۃُ ، وَفَجْرٌ یَحِلُّ فِیہِ الصَّلاَۃُ وَیَحْرُمُ فِیہِ الطَّعَامُ))۔
ہَکَذَا رَوَاہُ أَبُوأَحْمَدَ مُسْنَدًا۔وَرَوَاہُ غَیْرُہُ مَوْقُوفًا وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۳۵۶]
ہَکَذَا رَوَاہُ أَبُوأَحْمَدَ مُسْنَدًا۔وَرَوَاہُ غَیْرُہُ مَوْقُوفًا وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۳۵۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر دو قسم کی ہے، نمازِ فجر کا وقت دوسرے فجر کے طلوع ہونے پر ہے
(١٧٦٨) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ فجر دو ہیں : وہ فجر جو رات کو طلوع ہوتی ہے جس میں کھانا اور پینا حلال ہوتا ہے اور میں نماز حلال نہیں ہوتی اور وہ دوسری فجر جس میں نماز حلال ہے اور کھانا اور پینا حرام ہے اور یہ وہی ہے جو پہاڑوں کے سروں پر پھیلتی ہے۔
(۱۷۶۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: الْفَجْرُ فَجْرَانِ: فَجْرٌ یَطْلُعُ بِلَیْلٍ یَحِلُّ فِیہِ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ وَلاَ یَحِلُّ فِیہِ الصَّلاَۃُ ، وَفَجْرٌ یَحِلُّ فِیہِ الصَّلاَۃُ وَیَحْرُمُ فِیہِ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ وَہُوَ الَّذِی یَنْتَشِرُ عَلَی رُئُوسِ الْجِبَالِ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح کی نماز کا آخری مختار وقت
(١٧٦٩) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے صبح کی نماز کے وقت کے متعلق سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے اذان کہی جس وقت فجر طلوع ہوگئی، پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی۔ جب اگلی صبح ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو مؤخر کیا یہاں تک کہ روشن ہوگی پھر آپ نے حکم دیا کہ اقامت کہے، انھوں نے اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو بلایا اور فرمایا : تو آج اور کل نماز کے ساتھ حاضر ہوا تھا ؟ “ اس نے کہا ہاں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس کے اور اس کے درمیان (نماز کا) وقت ہے۔ “
(۱۷۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ وَقْتِ صَلاَۃِ الْفَجْرِ ، فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ حِینَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی ، فَلَمَّا کَانَ مِنَ الْغَدِ أَخَّرَ حَتَّی أَسْفَرَ، ثُمَّ أَمَرَہُ أَنْ یُقِیمَ فَأَقَامَ فَصَلَّی ، ثُمَّ دَعَا الرَّجُلَ فَقَالَ : ((أَشَہِدْتَ الصَّلاَۃَ أَمْسِ وَالْیَوْمَ؟))۔ قَالَ: نَعَمْ۔ قَالَ : ((مَا بَیْنَ ہَذَا وَہَذَا وَقْتٌ))۔
وَرُوِّینَا مَعْنَاہُ فِی حَدِیثِ بُرَیْدَۃَ بْنِ الْحُصَیْبِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ حَدِیثٌ صَحِیحٌ۔
[صحیح۔ أخرجہ النسائی ۶۴۲]
وَرُوِّینَا مَعْنَاہُ فِی حَدِیثِ بُرَیْدَۃَ بْنِ الْحُصَیْبِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ حَدِیثٌ صَحِیحٌ۔
[صحیح۔ أخرجہ النسائی ۶۴۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح کی نماز کا آخری جائز وقت
(١٧٧٠) (الف) سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر لمبی حدیث بیان کی۔ اس میں ہے کہ صبح کی نماز کا وقت طلوع فجر سے لے کر جب تک سورج طلوع نہیں ہوجاتا۔ جب سورج طلوع ہوگیا تو وہ نماز سے رک جائے اس لیے وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ (ب) صحیح مسلم میں ہے کہ جب سورج طلوع ہوجائے تو وہ نماز سے رک جائے اس لیے کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔
(۱۷۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ: مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِیُّ حَدَّثَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ : ((وَوَقْتُ صَلاَۃِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِکْ عَنِ الصَّلاَۃِ ، فَإِنَّہَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الدَّوْرَقِیِّ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ عَنْ ہَمَّامٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : ((فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِکْ عَنِ الصَّلاَۃِ ، فَإِنَّہَا تَطْلُعِ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ))۔ [صحیح]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الدَّوْرَقِیِّ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ عَنْ ہَمَّامٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : ((فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِکْ عَنِ الصَّلاَۃِ ، فَإِنَّہَا تَطْلُعِ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ))۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح کی نماز کا آخری جائز وقت
(١٧٧١) ھمام نے اس کو اسی سند سے بیان کیا ہے۔
(۱۷۷۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک رکعت پالینے سے صبح کی نماز ادا ہوجاتی ہے
(١٧٧٢) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے عصر کی ایک رکعت سورج غروب ہونے سے پہلے پالی یا سورج طلوع ہونے سے پہلے اس نے صبح کی نماز پالی تو اس کی نماز درست ہے۔
حدیث میں سجدہ سے مراد رکعت ہے۔
حدیث میں سجدہ سے مراد رکعت ہے۔
(۱۷۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ یَعْنِی الشَّیْبَانِیَّ الْحَافِظَ حَدَّثَنَا تَمِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ حَدَّثَہُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ أَدْرَکَ مِنَ الْعَصْرِ سَجْدَۃً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، أَوْ مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَکَہَا))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ وَزَادَ فِی الْحَدِیثِ: وَالسَّجْدَۃُ إِنَّمَا ہِیَ الرَّکْعَۃُ۔
[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۶۰۹]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ وَزَادَ فِی الْحَدِیثِ: وَالسَّجْدَۃُ إِنَّمَا ہِیَ الرَّکْعَۃُ۔
[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۶۰۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک رکعت پالینے سے صبح کی نماز ادا ہوجاتی ہے
(١٧٧٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے نماز کی ایک رکعت پالی، اس نے مکمل نماز پالی۔
(۱۷۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ أَدْرَکَ مِنَ الصَّلاَۃِ رَکْعَۃً فَقَدْ أَدْرَکَہَا کُلَّہَا))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۶۰۷]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ أَدْرَکَ مِنَ الصَّلاَۃِ رَکْعَۃً فَقَدْ أَدْرَکَہَا کُلَّہَا))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۶۰۷]
তাহকীক: