আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১১৬ টি
হাদীস নং: ১৭৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلوع سورج کے ساتھ نماز باطل نہیں ہوتی
(١٧٧٤) سیدنا ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالے تو وہ اپنی نماز مکمل کرے اور جب سورج طلوع ہونے سے پہلے صبح کی نماز کی ایک رکعت پالے تو وہ اپنی نماز مکمل کرے۔
(۱۷۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: جُنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جُنَاحٍ الْقَاضِی الْمُحَارِبِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْحُنَیْنِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ یَعْنِی ابْنَ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا أَدْرَکَ أَحَدُکُمْ أَوَّلَ سَجْدَۃً مِنْ صَلاَۃِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلْیُتِمَّ صَلاَتَہُ ، وَإِذَا أَدْرَکَ أَوَّلَ سَجْدَۃٍ مِنْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلْیُتِمَّ صَلاَتَہُ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُکَیْنٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۳۱]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُکَیْنٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۳۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلوع سورج کے ساتھ نماز باطل نہیں ہوتی
(١٧٧٥) سیدنا ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے سورج طلوع ہونے سے پہلے صبح کی ایک رکعت پالی اور ایک رکعت طلوع ہونے کے بعد تو اس نے صبح (کی نماز) کو پا لیا اور جس نے سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی اور تین رکعتیں غروب ہونے کے بعد تو اس نے عصر کو پالیا۔
(۱۷۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ ابْنِ ابْنَۃِ یَحْیَی بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا جَدِّی أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ ح۔
(ح) قَالَ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنِی زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ وَبُسْرِ بْنِ سَعِیدٍ وَعَنِ الأَعْرَجِ یُحَدِّثُونَہُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ أَدْرَکَ مِنَ الصُّبْحِ رَکْعَۃً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَرَکَعَۃً بَعْدَ مَا تَطْلُعُ فَقَدْ أَدْرَکَ الصُّبْحَ ، وَمَنْ أَدْرَکَ رَکْعَۃً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَثَلاَثًا بَعْدَ مَا تَغْرُبُ فَقَدْ أَدْرَکَ الْعَصْرَ))۔
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِیُّ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ الأَعْرَجِ وَعَطَائٍ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۵۴]
(ح) قَالَ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنِی زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ وَبُسْرِ بْنِ سَعِیدٍ وَعَنِ الأَعْرَجِ یُحَدِّثُونَہُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ أَدْرَکَ مِنَ الصُّبْحِ رَکْعَۃً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَرَکَعَۃً بَعْدَ مَا تَطْلُعُ فَقَدْ أَدْرَکَ الصُّبْحَ ، وَمَنْ أَدْرَکَ رَکْعَۃً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَثَلاَثًا بَعْدَ مَا تَغْرُبُ فَقَدْ أَدْرَکَ الْعَصْرَ))۔
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِیُّ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ الأَعْرَجِ وَعَطَائٍ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۵۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلوع سورج کے ساتھ نماز باطل نہیں ہوتی
(١٧٧٦) ھمام کہتے ہیں کہ قتادہ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے ایک رکعت پڑھی، پھر سورج کا کنارہ طلوع ہوگیا، انھوں نے کہا : مجھ کو خلاس نے أبی رافع سے روایت کیا ہے کہ ابوہریرہ (رض) نے حدیث بیان کی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” وہ اپنی نماز مکمل کرے۔ “
(۱۷۷۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ قَالَ: سُئِلَ قَتَادَۃُ عَنْ رَجُلٍ صَلَّی رَکْعَۃً ثُمَّ طَلَعَ قَرْنُ الشَّمْسِ ، قَالَ فَقَالَ حَدَّثَنِی خِلاَسٌ عَنْ أَبِی رَافِعٍ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ حَدَّثَہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((یُتِمُّ صَلاَتَہُ))۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد ۲/۴۹۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلوع سورج کے ساتھ نماز باطل نہیں ہوتی
(١٧٧٧) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس نے سورج طلوع ہونے سے پہلے صبح کی نماز کی ایک رکعت پالی اور سورج طلوع ہوگیا تو وہ دوسری (رکعت) بھی پڑھے۔ “
(۱۷۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الْبَزَّازُ بِالطَّابَرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ یَعْنِی ابْنَ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ خِلاَسٍ عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ صَلَّی مِنْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ رَکْعَۃً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَطَلَعَتْ فَلْیُصَلِّ إِلَیْہَا أُخْرَی))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ احمد ۳۴۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلوع سورج کے ساتھ نماز باطل نہیں ہوتی
(١٧٧٨) سیدنا ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب کوئی صبح کی (نماز کی) ایک رکعت پڑھے پھر سورج طلوع ہوجائے تو وہ دوسری (رکعت) بھی پڑھ لے۔
(۱۷۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْمِہْرَجَانِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ بْنِ تَمِیمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ رَکْعَۃً مِنْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَلْیُصَلِّ إِلَیْہَا أُخْرَی))۔ [صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلوع سورج کے ساتھ نماز باطل نہیں ہوتی
(١٧٧٩) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ ہمیں سیدنا ابوبکر (رض) نے صبح کی نماز پڑھائی، انھوں نے آل عمران پڑھی قریب تھا کہ سورج طلوع ہوجائے، انھوں نے کہا : اگر طلوع ہوجاتا تو ہم کو غافل نہ پاتا۔
(۱۷۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: صَلَّی بِنَا أَبُو بَکْرٍ صَلاَۃَ الصُّبْحِ فَقَرَأَ آلَ عِمْرَانَ فَقَالُوا: کَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ۔ قَالَ: لَوْ طَلَعَتْ لَمْ تَجِدْنَا غَافِلِینَ۔
[صحیح۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۳۵۴۵]
[صحیح۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۳۵۴۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلوع سورج کے ساتھ نماز باطل نہیں ہوتی
(١٧٨٠) سیدنا عثمان نھدی سے روایت ہے کہ میں نے عمر (رض) کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی، جب انھوں نے سلام پھیرا تو عقل مند لوگوں نے گمان کیا کہ سورج طلوع ہوگیا، جب انھوں نے سلام پھیرا تو انھوں نے کہا : اے امیر المؤمنین قریب تھا کہ سورج طلوع ہوجاتا۔ فرماتے ہیں کہ انھوں نے کوئی بات کہی، میں اس کو سمجھ نہیں سکا۔ میں نے کہا : کہا بات فرمائی ہے ؟ انھوں نے کہا کہ آپ نے فرمایا : اگر طلوع ہوجاتا تو ہم کو غافل نہ پاتا۔
(۱۷۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْفَجْرَ فَمَا سَلَّمَ حَتَّی ظَنَّ الرِّجَالُ ذَوُو الْعُقُولِ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالُوا: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ کَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ۔ قَالَ: فَتَکَلَّمَ بِشَیْئٍ لَمْ أَفْہَمْہُ فَقُلْتْ: أُیَّ شَیْئٍ قَالَ؟ فَقَالُوا قَالَ: لَوْ طَلَعَتْ لَمْ تَجِدْنَا غَافِلِینَ۔
[صحیح۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح المعانی ۱/۱۸۰]
[صحیح۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح المعانی ۱/۱۸۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اوقات کی دلیلوں کا خیال رکھنا
(١٧٨١) سیدنا ابن أبی اوفی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ کے نزدیک وہ بندے پسندیدہ ہیں جو سورج ، چاند، ستارے اور سایوں کا اللہ کے ذکر کے لیے خیال رکھتے ہیں۔ “
(۱۷۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَئِ الْعَطَّارُ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ السَّکْسَکِیِّ عَنِ ابْنِ أَبِی أَوْفَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ خِیَارَ عِبَادِ اللَّہِ الَّذِینَ یُرَاعُونَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ وَالأَظِلَّۃَ لِذِکْرِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ))۔
تَفَرَّدَ بِہِ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَئِ بِإِسْنَادِہِ ہَکَذَا۔ (ج) وَہُو ثِقَۃٌ۔ [منکر۔ أخرجہ الحاکم ۱/۱۱۵]
تَفَرَّدَ بِہِ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَئِ بِإِسْنَادِہِ ہَکَذَا۔ (ج) وَہُو ثِقَۃٌ۔ [منکر۔ أخرجہ الحاکم ۱/۱۱۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اوقات کی دلیلوں کا خیال رکھنا
(١٧٨٢) سیدنا ابودرداء (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا : اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے اللہ کے ہاں پسندیدہ بندے وہ ہیں جو اللہ سے محبت کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لوگوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ لوگ جو سورج، چاند، ستاروں اور سایوں کا اللہ کے ذکر کے لیے خیال رکھتے ہیں۔
(۱۷۸۲) وَقَدْ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ إِبْرَاہِیمَ السَّکْسَکِیِّ حَدَّثَنِی أَصْحَابُنَا عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِ اللَّہِ إِلَی اللَّہِ الَّذِینَ یُحِبُّونَ اللَّہَ ، وَیُحَبِّبُونَ اللَّہَ إِلَی النَّاسِ ، وَالَّذِینَ یُرَاعُونَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ وَالأَظِلَّۃَ لِذِکْرِ اللَّہِ۔
وَرُوِیَ مَوْقُوفًا عَلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ فِی مَعْنَاہُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۳۴۶۰۳]
وَرُوِیَ مَوْقُوفًا عَلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ فِی مَعْنَاہُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۳۴۶۰۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اوقات کی دلیلوں کا خیال رکھنا
(١٧٨٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آگاہ رہو امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہترین لوگ وہ ہیں جو نماز کے اوقات کے لیے سورج، چاند اور ستاروں کا خیال رکھتے ہیں۔
(۱۷۸۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی عَاصِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ أَبُو یُوسُفَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ وَاصِلِ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الأَسْوَارِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: أَلاَّ إِنَّ خِیَارَ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ -ﷺ- الَّذِینَ یُرَاعُونَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ لِمَوَاقِیتِ الصَّلاَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر طلوع ہونے سے پہلے صبح کی اذان کہنا سنت ہے
(١٧٨٤) سالم بن عبداللہ (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بلال (رض) رات کو اذان دیتا ہے پس کھاؤ اور پیو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے۔ “
ابن شھاب کہتے ہیں کہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی تھے، وہ اذان نہیں دیتے تھے جب تک ان سے یہ نہ کہا جاتا کہ تو نے صبح کردی تو نے صبح کردی۔
ابن شھاب کہتے ہیں کہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی تھے، وہ اذان نہیں دیتے تھے جب تک ان سے یہ نہ کہا جاتا کہ تو نے صبح کردی تو نے صبح کردی۔
(۱۷۸۴) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ یَعْقُوبَ بِالطَّابَرِانِ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ بِلاَلاً یُنَادِی بِلَیْلٍ ، فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُنَادِیَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ))۔
قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: وَکَانَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ رَجُلاً أَعْمَی لاَ یُنَادِی حَتَّی یُقَالَ لَہُ أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَأَرْسَلَہُ الشُّافِعِیُّ وَجَمَاعَۃٌ مِنِ الرُّوَاۃِ عَنْ مَالِکٍ ، وَالْحَدِیثُ فِی الأَصْلُ مَوْصُولٌ ، وَقَدْ وَصَلَہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ مَالِکٍ مِنْہُمُ ابْنُ وَہْبٍ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَکَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ وَوَصَلَہُ أَیْضًا جَمَاعَۃٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [ضعیف]
قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: وَکَانَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ رَجُلاً أَعْمَی لاَ یُنَادِی حَتَّی یُقَالَ لَہُ أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَأَرْسَلَہُ الشُّافِعِیُّ وَجَمَاعَۃٌ مِنِ الرُّوَاۃِ عَنْ مَالِکٍ ، وَالْحَدِیثُ فِی الأَصْلُ مَوْصُولٌ ، وَقَدْ وَصَلَہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ مَالِکٍ مِنْہُمُ ابْنُ وَہْبٍ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَکَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ وَوَصَلَہُ أَیْضًا جَمَاعَۃٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر طلوع ہونے سے پہلے صبح کی اذان کہنا سنت ہے
(١٧٨٥) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ بلال (رض) رات کو اذان دیتا ہے پس کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تم ابن ام مکتوم کی اذان سن لو۔
یونس کی روایت میں ہے : ابن ام مکتوم نابینا تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی { عَبْسَ وَتَوَلَّی أَنْ جَائَہُ الأَعْمَی } [عبس : ١۔ ٢] وہ سیدنا بلال (رض) کے ساتھ مؤذن تھے۔ سالم کہتے ہیں کہ ان کی نگاہ خراب تھی، وہ اذان اس وقت کہتے جب لوگ فجر کے طلوع ہونے کو دیکھ لیتے تو ان سے کہتے، اذان دو ۔
یونس کی روایت میں ہے : ابن ام مکتوم نابینا تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی { عَبْسَ وَتَوَلَّی أَنْ جَائَہُ الأَعْمَی } [عبس : ١۔ ٢] وہ سیدنا بلال (رض) کے ساتھ مؤذن تھے۔ سالم کہتے ہیں کہ ان کی نگاہ خراب تھی، وہ اذان اس وقت کہتے جب لوگ فجر کے طلوع ہونے کو دیکھ لیتے تو ان سے کہتے، اذان دو ۔
(۱۷۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِی یُونُسُ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِنَّ بِلاَلاً یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ ، فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ))۔
قَالَ یُونُسُ فِی الْحَدِیثِ: وَکَانَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ ہُوَ الأَعْمَی الَّذِی أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِ {عَبْسَ وَتَوَلَّی أَنْ جَائَہُ الأَعْمَی} [عبس: ۱۔۲] کَانَ یُؤَذِّنُ مَعَ بِلاَلٍ۔ قَالَ سَالِمٌ: وَکَانَ رَجُلاً ضَرِیرَ الْبَصَرِ وَلَمْ یَکُنْ یُؤَذِّنُ حَتَّی یَقُولَ لَہُ النَّاسُ حِینَ یَنْظُرُونَ إِلَی بُزُوغِ الْفَجْرِ: أَذِّنْ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنِ اللَّیْثِ وَعَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ دُونَ الْقِصَّۃِ۔[صحیح]
قَالَ یُونُسُ فِی الْحَدِیثِ: وَکَانَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ ہُوَ الأَعْمَی الَّذِی أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِ {عَبْسَ وَتَوَلَّی أَنْ جَائَہُ الأَعْمَی} [عبس: ۱۔۲] کَانَ یُؤَذِّنُ مَعَ بِلاَلٍ۔ قَالَ سَالِمٌ: وَکَانَ رَجُلاً ضَرِیرَ الْبَصَرِ وَلَمْ یَکُنْ یُؤَذِّنُ حَتَّی یَقُولَ لَہُ النَّاسُ حِینَ یَنْظُرُونَ إِلَی بُزُوغِ الْفَجْرِ: أَذِّنْ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنِ اللَّیْثِ وَعَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ دُونَ الْقِصَّۃِ۔[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر طلوع ہونے سے پہلے صبح کی اذان کہنا سنت ہے
(١٧٨٦) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ بلال (رض) رات کی اذان دیتا ہے پس کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے۔
(۱۷۸۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ بِلاَلاً یُنَادِی بِلَیْلٍ ، فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُنَادِیَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر طلوع ہونے سے پہلے صبح کی اذان کہنا سنت ہے
(١٧٨٧) سیدنا سمرہ بن جندب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلال (رض) کی اذان تمہیں تمہاری سحریوں سے دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ کنارے میں سیدھی پھیلنے والی سفیدی یہاں تک کہ اس طرح پھیل جائے اور حماد نے اپنے ہاتھ سے اس کی کیفیت بیان کی ہے یعنی لمبائی کی صورت میں۔
(۱۷۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَوَادَۃَ الْقُشَیْرِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یَغُرَّنَّکُمْ مِنْ سُحُورِکُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ وَلاَ بَیَاضُ الأُفُقِ الْمُسْتَطِیلُ حَتَّی یَسْتَطِیرَ ہَکَذَا ۔ وَحَکَاہُ حَمَّادٌ بِیَدِہِ یَعْنِی مُعْتَرِضًا))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۰۹۴]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۰۹۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر طلوع ہونے سے پہلے صبح کی اذان کہنا سنت ہے
(١٧٨٨) سیدنا زیاد بن حارث صدائی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا : اور اسلام پر بیعت کی ۔۔۔ ، فرماتے ہیں کہ جب صبح کی اذان کا وقت ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ کو حکم دیا، میں نے اذان کہی۔ پھر میں کہنے لگا اے اللہ کے رسول ! میں اقامت کہوں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرقی کنارے کی طرف فجرکو دیکھ رہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں جب تک فجر طلوع نہ ہوجائے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اترے، آپ نے قضائے حاجت کی، پھر میری طرف پھرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام ملے ہوئے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے صداء کے بھائی ! کیا تیرے پاس پانی ہے ؟ میں نے کہا : ہاں تھوڑا سا ہے، جو آپ کو کافی نہیں ہوگا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو برتن میں انڈیل کر میرے پاس لا، میں نے ایسے ہی کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ہتھیلی پانی میں رکھی۔ صدائی کہتے ہیں : میں نے دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگلیوں کے درمیان سے چشمہ پھوٹا ہوا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں اپنے رب سے حیا نہ کرتا تو ہم پیتے اور پلاتے، میرے صحابہ کو آواز دے جس کو پانی ضرورت ہے (لے لے) میں نے انھیں آواز دی تو پانی لیا جس نے چاہا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے کھڑے ہوئے، سیدنا بلال (رض) نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو ان سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صداء کے بھائی نے اذان دی ہے اور جو اذان دے وہی اقامت کہے۔ صدائی کہتے ہیں : میں نے نماز کی اقامت کہی۔
(۱۷۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَعْنِی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: الْحُسَیْنُ بْنُ عَلُوشَا بِأَسَدَابَاذَ ہَمَذَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: بِشْرُ بْنُ مُوسَی الأَسَدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنِی زِیَادُ بْنُ نُعَیْمٍ الْحَضْرَمِیُّ قَالَ سَمِعْتُ زِیَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِیَّ یُحَدِّثُ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَبَایَعْتُہُ عَلَی الإِسْلاَمِ۔ وَذَکَرَ حَدِیثًا طَوِیلاً قَالَ: فَلَمَّا کَانَ أَذَانُ صَلاَۃِ الصُّبْحِ أَمَرَنِی فَأَذَّنْتُ فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أُقِیمُ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَنْظُرُ إِلَی نَاحِیَۃِ الْمَشْرِقِ إِلَی الْفَجْرِ فَیَقُولُ : لاَ ۔ حَتَّی إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ نَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَتَبَرَّزَّ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَیَّ وَقَدْ تَلاَحَقَ أَصْحَابُہُ فَقَالَ : ((ہَلْ مِنْ مَائٍ یَا أَخَا صُدَائَ؟))۔ فَقُلْتُ: لاَ إِلاَّ شَیْئٌ قَلِیلٌ لاَ یَکْفِیکَ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((اجْعَلْہُ فِی إِنَائٍ ثُمَّ ائْتِنِی بِہِ))۔ فَفَعَلْتُ فَوَضَعَ کَفَّہُ فِی الْمَائِ ، قَالَ الصُّدَائِیُّ: فَرَأَیْتُ بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِہِ عَیْنًا تَفُورُ فَقَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَوْلاَ أَنِّی أَسْتَحْیِی مِنْ رَبِّی لَسَقَیْنَا وَأَسْقَیْنَا ، نَادِ بِأَصْحَابِی مَنْ کَانَ لَہُ حَاجَۃٌ فِی الْمَائِ))۔ فَنَادَیْتُ فِیہِمْ فَأَخَذَ مَنْ أَرَادَ مِنْہُمْ ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی الصَّلاَۃِ ، فَأَرَادَ بِلاَلٌ أَنْ یُقِیمَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((إِنَّ أَخَا صُدَائَ ہُوَ أَذَّنَ ، وَمَنْ أَذَّنَ فَہُوَ یُقِیمَ))۔ قَالَ الصُّدَائِیُّ فَأَقَمْتُ الصَّلاَۃَ۔
أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِیَادٍ مُخْتَصَرًا وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: لَمَّا کَانَ أَوَّلُ أَذَانِ الصُّبْحِ أَمَرَنِی النَّبِیُّ -ﷺ- فَأَذَّنْتُ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۵۱۴]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: الْحُسَیْنُ بْنُ عَلُوشَا بِأَسَدَابَاذَ ہَمَذَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: بِشْرُ بْنُ مُوسَی الأَسَدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنِی زِیَادُ بْنُ نُعَیْمٍ الْحَضْرَمِیُّ قَالَ سَمِعْتُ زِیَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِیَّ یُحَدِّثُ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَبَایَعْتُہُ عَلَی الإِسْلاَمِ۔ وَذَکَرَ حَدِیثًا طَوِیلاً قَالَ: فَلَمَّا کَانَ أَذَانُ صَلاَۃِ الصُّبْحِ أَمَرَنِی فَأَذَّنْتُ فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أُقِیمُ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَنْظُرُ إِلَی نَاحِیَۃِ الْمَشْرِقِ إِلَی الْفَجْرِ فَیَقُولُ : لاَ ۔ حَتَّی إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ نَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَتَبَرَّزَّ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَیَّ وَقَدْ تَلاَحَقَ أَصْحَابُہُ فَقَالَ : ((ہَلْ مِنْ مَائٍ یَا أَخَا صُدَائَ؟))۔ فَقُلْتُ: لاَ إِلاَّ شَیْئٌ قَلِیلٌ لاَ یَکْفِیکَ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((اجْعَلْہُ فِی إِنَائٍ ثُمَّ ائْتِنِی بِہِ))۔ فَفَعَلْتُ فَوَضَعَ کَفَّہُ فِی الْمَائِ ، قَالَ الصُّدَائِیُّ: فَرَأَیْتُ بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِہِ عَیْنًا تَفُورُ فَقَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَوْلاَ أَنِّی أَسْتَحْیِی مِنْ رَبِّی لَسَقَیْنَا وَأَسْقَیْنَا ، نَادِ بِأَصْحَابِی مَنْ کَانَ لَہُ حَاجَۃٌ فِی الْمَائِ))۔ فَنَادَیْتُ فِیہِمْ فَأَخَذَ مَنْ أَرَادَ مِنْہُمْ ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی الصَّلاَۃِ ، فَأَرَادَ بِلاَلٌ أَنْ یُقِیمَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((إِنَّ أَخَا صُدَائَ ہُوَ أَذَّنَ ، وَمَنْ أَذَّنَ فَہُوَ یُقِیمَ))۔ قَالَ الصُّدَائِیُّ فَأَقَمْتُ الصَّلاَۃَ۔
أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِیَادٍ مُخْتَصَرًا وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: لَمَّا کَانَ أَوَّلُ أَذَانِ الصُّبْحِ أَمَرَنِی النَّبِیُّ -ﷺ- فَأَذَّنْتُ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۵۱۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلال (رض) کے رات کو اذان دینے کی وجوہ کا بیان
(١٧٨٩) سیدنا ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم کو بلال (رض) کی اذان منع نہ کرے یا فرمایا : بلال (رض) کی آواز جو سحری کے وقت ہوتی ہے ، وہ اذان دیتا ہے یا فرمایا : آواز دیتا ہے تاکہ قیام کرنے والا لوٹ آئے اور سونے والا متنبہ ہوجائے، پھر فرمایا : وہ اس طرح کہے یا فرمایا اس طرح کہے (یعنی کیفیت بیان کی) ۔
(۱۷۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَزْہَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْکُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ أَوْ قَالَ نِدَائُ بِلاَلٍ مِنْ سُحُورِہِ فَإِنَّہُ یُؤَذِّنُ أَوْ قَالَ یُنَادِی لِیَرْجِعَ قَائِمُکُمْ أَوْ لِیَنْتَبِہَ نَائِمُکُمْ))۔ ثُمَّ قَالَ : ((لَیْسَ أَنْ یَقُولَ ہَکَذَا أَوْ قَالَ ہَکَذَا حَتَّی یَقُولَ ہَکَذَا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ سُلَیْمَانَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۹۹۲]
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْکُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ أَوْ قَالَ نِدَائُ بِلاَلٍ مِنْ سُحُورِہِ فَإِنَّہُ یُؤَذِّنُ أَوْ قَالَ یُنَادِی لِیَرْجِعَ قَائِمُکُمْ أَوْ لِیَنْتَبِہَ نَائِمُکُمْ))۔ ثُمَّ قَالَ : ((لَیْسَ أَنْ یَقُولَ ہَکَذَا أَوْ قَالَ ہَکَذَا حَتَّی یَقُولَ ہَکَذَا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ سُلَیْمَانَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۹۹۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلال (رض) کے رات کو اذان دینے کی وجوہ کا بیان
(١٧٩٠) نافع اور ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دو مؤذن بلال اور ابن ام مکتوم (رض) تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلال (رض) رات کی اذان دیتے ہیں، پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے۔
(۱۷۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَارِیَابِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ۔
وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالاَ: کَانَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- مُؤَذِّنَانِ بِلاَلٌ وَابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ بِلاَلاً یُؤَذِّنَ بِلَیْلٍ ، فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ))۔
قَالَ الْقَاسِمُ: لَمْ یَکُنْ بَیْنَ أَذَانِہِمَا إِلاَّ أَنْ یَنْزِلَ ہَذَا وَیَرْقَی ہَذَا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدَۃَ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ۔
[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۸۰]
وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالاَ: کَانَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- مُؤَذِّنَانِ بِلاَلٌ وَابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ بِلاَلاً یُؤَذِّنَ بِلَیْلٍ ، فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ))۔
قَالَ الْقَاسِمُ: لَمْ یَکُنْ بَیْنَ أَذَانِہِمَا إِلاَّ أَنْ یَنْزِلَ ہَذَا وَیَرْقَی ہَذَا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدَۃَ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ۔
[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۸۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلال (رض) کے رات کو اذان دینے کی وجوہ کا بیان
(١٧٩١) خبیب بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میری چچی انیسہ فرماتی ہیں کہ سیدنا بلال اور ابن ام مکتوم (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اذان دیا کرتے تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بلال (رض) رات کی اذان دیتے ہیں، پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے ، ہم ابن ام مکتوم کو اذان کے لیے روکتے تھے ہم کہتے تھے : تو نے اپنی طرح سحری کردی اور ان کی اذان اس طرح تھی کہ یہ نیچے اترتے اور وہ اوپر چڑھتے۔
(۱۷۹۱) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حَبِیبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَتْنِی عَمَّتِی أُنَیْسَۃَ قَالَتْ: کَانَ بِلاَلٌ وَابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ یُؤَذِّنَانِ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ((إِنَّ بِلاَلاً یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ))۔ فَکُنَّا نَحْبِسُ ابْنَ أُمِّ مَکْتُومٍ عَنِ الأَذَانِ فَنَقُولُ: کَمَا أَنْتَ حَتَّی نَتَسَحَّرَ، کَمَا أَنْتَ حَتَّی نَتَسَحَّرَ، وَلَمْ یَکُنْ بَیْنَ أَذَانِہِمَا إِلاَّ أَنْ یَنْزِلَ ہَذَا وَیَصْعَدَ ہَذَا۔
وَہَکَذَا رَوَاہُ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ الطیالسی ۱۶۶۱]
وَہَکَذَا رَوَاہُ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ الطیالسی ۱۶۶۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلال (رض) کے رات کو اذان دینے کی وجوہ کا بیان
(١٧٩٢) خبیب بن عبدالرحمن اپنی چچی انیسہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابن ام مکتوم رات کو اذان دے تو تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ بلال اذان دے۔
(۱۷۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ وَأَبُو عُمَرَ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ خُبَیْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ عَمَّتِی أُنَیْسَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَکْتُومٍ یُنَادِی بِلَیْلٍ ، فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُنَادِیَ بِلاَلٌ))۔ ہَکَذَا رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ الرَّازِیُّ عَنْہُمَا۔
وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ الْکُدَیْمِیُّ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ کَمَا رَوَاہُ الطَّیَالِسِیُّ وَعَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ۔ وَرَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَجَمَاعَۃٌ بِالشَّکِّ۔
وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ الْکُدَیْمِیُّ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ کَمَا رَوَاہُ الطَّیَالِسِیُّ وَعَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ۔ وَرَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَجَمَاعَۃٌ بِالشَّکِّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلال (رض) کے رات کو اذان دینے کی وجوہ کا بیان
(١٧٩٣) (الف) خبیب بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے اپنی چچی انیسہ (رض) سے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلال (رض) رات کی اذان دیتا ہے، پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے، یا فرمایا : ابن ام مکتوم (رض) رات کی اذان دیتے ہیں، پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ بلال (رض) اذان دے ، انھوں نے کہا : یہ چڑھتا تھا اور وہ اترتا تھا، ہم اس کے ساتھ چمٹ جاتے اور کہتے تو نے اپنی طرح سحری کردی۔
(ب) ابوبکر بن اسحاق فقیہ کہتے ہیں کہ اگر ابو عمر وغیرہ کی روایات صحیح ہوں تو جائز ہے کہ سیدنا ابن ام مکتوم اور بلال (رض) کے درمیان باری طے ہوں، جب سیدنا بلال (رض) کی باری ہوتی تو وہ رات کو اذان کہتے اور اگر سیدنا ابن ام مکتوم (رض) کی باری ہوتی تو وہ رات کو اذان کہتے۔
(ج) یہ روایت صحیح اور جائز ہے۔ اگرچہ درست نہیں۔ سیدنا ابن عمر، ابن مسعود، سمرہ (رض) اور سیدہ عائشہ (رض) کی روایت درست بلال (رض) رات کو اذان دیتے تھے۔
(د) شیخ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ابن ام مکتوم (رض) کی اذان سے تھی۔
(ب) ابوبکر بن اسحاق فقیہ کہتے ہیں کہ اگر ابو عمر وغیرہ کی روایات صحیح ہوں تو جائز ہے کہ سیدنا ابن ام مکتوم اور بلال (رض) کے درمیان باری طے ہوں، جب سیدنا بلال (رض) کی باری ہوتی تو وہ رات کو اذان کہتے اور اگر سیدنا ابن ام مکتوم (رض) کی باری ہوتی تو وہ رات کو اذان کہتے۔
(ج) یہ روایت صحیح اور جائز ہے۔ اگرچہ درست نہیں۔ سیدنا ابن عمر، ابن مسعود، سمرہ (رض) اور سیدہ عائشہ (رض) کی روایت درست بلال (رض) رات کو اذان دیتے تھے۔
(د) شیخ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ابن ام مکتوم (رض) کی اذان سے تھی۔
(۱۷۹۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ
حَدَّثَنِی خُبَیْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ عَمَّتِی وَکَانَتْ قَدْ حَجَّتْ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ بِلاَلاً یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ أَوْ قَالَ إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَکْتُومٍ یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُؤَذِّنَ بِلاَلٌ))۔ قَالَتْ: وَکَانَ یَصْعَدُ ہَذَا وَیَنْزِلُ ہَذَا ، فَکُنَّا نَتَعَلَّقُ بِہِ فَنَقُولُ: کَمَا أَنْتَ حَتَّی نَتَسَحَّرَ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ قَالَ: فَإِنْ صَحَّ رِوَایَۃُ أَبِی عُمَرَ وَغَیْرِہِ فَقَدْ یَجُوزُ أَنْ یَکُونَ بَیْنَ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ وَبَیْنَ بِلاَلٍ نَوْبٌ ، فَکَانَ بِلاَلٌ إِذَا کَانَتْ نَوْبَتُہُ أَذَّنَ بِلَیْلٍ ، وَکَانَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ إِذَا کَانَتْ نَوْبَتُہُ أَذَّنَ بِلَیْلٍ۔
وَہَذَا جَائِزٌ صَحِیحٌ وَإِنْ لَمْ یَصِحَّ ، فَقَدْ صَحَّ خَبَرُ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَسَمُرَۃَ وَعَائِشَۃَ: إِنَّ بِلاَلاً کَانَ یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ فِی حَدِیثِ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ تَقْدِیمُ أَذَانِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ۔ [صحیح]
حَدَّثَنِی خُبَیْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ عَمَّتِی وَکَانَتْ قَدْ حَجَّتْ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ بِلاَلاً یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ أَوْ قَالَ إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَکْتُومٍ یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُؤَذِّنَ بِلاَلٌ))۔ قَالَتْ: وَکَانَ یَصْعَدُ ہَذَا وَیَنْزِلُ ہَذَا ، فَکُنَّا نَتَعَلَّقُ بِہِ فَنَقُولُ: کَمَا أَنْتَ حَتَّی نَتَسَحَّرَ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ قَالَ: فَإِنْ صَحَّ رِوَایَۃُ أَبِی عُمَرَ وَغَیْرِہِ فَقَدْ یَجُوزُ أَنْ یَکُونَ بَیْنَ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ وَبَیْنَ بِلاَلٍ نَوْبٌ ، فَکَانَ بِلاَلٌ إِذَا کَانَتْ نَوْبَتُہُ أَذَّنَ بِلَیْلٍ ، وَکَانَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ إِذَا کَانَتْ نَوْبَتُہُ أَذَّنَ بِلَیْلٍ۔
وَہَذَا جَائِزٌ صَحِیحٌ وَإِنْ لَمْ یَصِحَّ ، فَقَدْ صَحَّ خَبَرُ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَسَمُرَۃَ وَعَائِشَۃَ: إِنَّ بِلاَلاً کَانَ یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ فِی حَدِیثِ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ تَقْدِیمُ أَذَانِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ۔ [صحیح]
তাহকীক: