আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ১৭৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلال (رض) کے رات کو اذان دینے کی وجوہ کا بیان
(١٧٩٤) (الف) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابن ام مکتوم نابینا آدمی ہے، جب وہ اذان دے تو کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ بلال (رض) اذان دے دے۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : بلال (رض) فجر کو روشن کرتے تھے۔

(ب) سیدہ عائشہ (رض) فرمایا کرتی تھیں کہ ابن عمر (رض) کی بات درست نہیں۔
(۱۷۹۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْمَدَنِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَکْتُومٍ رَجُلٌ أَعْمَی ، فَإِذَا أَذَّنَ فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُؤَذِّنَ بِلاَلٌ))۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَکَانَ بِلاَلٌ یُبْصِرُ الْفَجْرَ۔

قَالَ ہِشَامٌ وَکَانَتْ عَائِشَۃُ تَقُولُ: غَلِطَ ابْنُ عُمَرَ۔

کَذَا رُوِیَ بِإِسْنَادِہِ وَحَدِیثُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ أَصَحُّ۔

وَرَوَاہُ الْوَاقِدِیُّ وَلَیْسَ بِحُجَّۃٍ بِإِسْنَادٍ لَہُ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۴۰۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلال (رض) کے رات کو اذان دینے کی وجوہ کا بیان
(١٧٩٥) سیدنا زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابن ام مکتوم رات کی اذان دیتا ہے پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ بلال (رض) اذان دے۔
(۱۷۹۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی وَأَبُو صَادِقٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی الْفَوَارِسُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِیُّ حَدَّثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ مَوْلَی الأَسْوَدِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَکْتُومٍ یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُؤَذِّنَ بِلاَلٌ))۔ [صحیح لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلال (رض) کے رات کو اذان دینے کی وجوہ کا بیان
(١٧٩٦) حبان بن حارث کہتے ہیں کہ میں سیدنا علی بن أبی طالب (رض) کے پاس آیا، وہ ابو موسیٰ کے کنویں کے پاس لشکر میں تھے، میں نے انھیں کھانا کھاتے ہوئے پایا تو انھوں نے کہا : قریب ہو جاؤ اور کھاؤ، میں نے کہا : میں نے روزے کا ارادہ کیا ہے، انھوں نے کہا : میں نے بھی روزے کا ارادہ کیا تھا، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو انھوں نے ابن نباح سے کہا : نماز کی اقامت کہو۔
(۱۷۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ: یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْحَاکِمُ حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَہَارِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا شَبِیبُ بْنُ غَرْقَدَۃَ

أَنَّہُ سَمِعَ حِبَّانَ بْنَ الْحَارِثِ یَقُولُ: أَتَیْتُ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ وَہُوَ مُعَسْکِرٌ بِدَیْرِ أَبِی مُوسَی فَوَجَدْتُہُ یَطْعَمُ فَقَالَ: ادْنُ فَکُلْ۔ فَقُلْتُ: إِنِّی أُرِیدُ الصَّوْمَ۔ فَقَالَ: وَأَنَا أُرِیدُ الصَّوْمَ۔ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَعَامِہِ قَالَ لاِبْنِ النَّبَّاحِ: أَقِمِ الصَّلاَۃَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ عبد الرزاق ۷۶۰۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وقت سے پہلے اذان دینے کی ممانعت کا بیان
(١٧٩٧) (الف) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ بلال (رض) نے فجر طلوع ہونے سے پہلے اذان دی، انھیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ واپس لوٹ کر اعلان کرے کہ خبردار بندہ سویا ہوا تھا خبردار بندہ سویا ہوا تھا، تین بار کہا۔ (ب) موسیٰ بن اسماعیل کی حدیث میں ہے کہ خبردار بند، سویا ہوا تھا۔ اس حدیث میں ایوب سے موصولاً بیان کرنے میں حماد بن سلمہ متفرد ہے۔
(۱۷۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِیرُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُوسَی حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ بِلاَلاً أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یَرْجِعَ فَیُنَادِیَ : أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ ۔ ثَلاَثًا۔

زَادَ مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ فِی حَدِیثِہِ فَرَجَعَ فَنَادَی : أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ ۔ ہَذَا حَدِیثٌ تَفَرَّدَ بِوَصْلِہِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَیُّوبَ۔

وَرُوِیَ أَیْضًا عَنْ سَعِیدِ بْنِ زَرْبِیٍّ عَنْ أَیُّوبَ إِلاَّ أَنَّ سَعِیدًا ضَعِیفٌ وَرِوَایَۃُ حَمَّادٍ مُنْفَرِدَۃٌ ، وَحَدِیثُ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَصَحُّ مِنْہَا وَمَعَہُ رِوَایَۃُ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ۔

[منکر۔ أخرجہ أبوداؤد ۵۳۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وقت سے پہلے اذان دینے کی ممانعت کا بیان
(١٧٩٨) علی بن مدینی کہتے ہیں کہ حماد نے اس حدیث میں غلطی کی ہے اور صحیح حدیث عبید اللہ کی ہے، یعنی عن نافع اور زہری کی حدیث عن سالم ہے۔
(۱۷۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ وَطَالُوتُ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ نَحْوَ حَدِیثِ أَبِی عُمَرَ الضَّرِیرِ۔

(ج) ثُمَّ قَالَ قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ أَخْطَأَ حَمَّادٌ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ وَالصَّحِیحُ حَدِیثُ عُبَیْدِ اللَّہِ یَعْنِی عَنْ نَافِعٍ وَحَدِیثُ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وقت سے پہلے اذان دینے کی ممانعت کا بیان
(١٧٩٩) (الف) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ بلال (رض) نے طلوع فجر سے پہلے اذان دی۔ یہ روایت شاذ ہے، اس میں قلب نہیں ہے، یہ اس روایت کے خلاف ہے جسے لوگ سیدنا ابن عمر (رض) سے نقل کرتے ہیں۔

(ب) شیخ کہتے ہیں کہ معمر بن راشد نے ایوب سے روایت کیا ہے کہ سیدنا بلال (رض) نے رات کو اذان کہی، پھر انھوں نے مرسل روایت بیان کی عبدالعزیز بن ابورواد عن نافع موصول روایت ہے اور ضعیف ہے۔
(۱۷۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرٍ الْمُطَرِّزَ یَقُولُ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی یَقُولُ حَدِیثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ بِلاَلاً أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ ۔

شَاذٌّ غَیْرُ وَاقِعٍ عَلَی الْقَلْبِ وَہُوَ خِلاَفُ مَا رَوَاہُ النَّاسُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔

قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رَوَاہُ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ أَیُّوبَ قَالَ أَذَّنَ بِلاَلٌ مَرَّۃً بِلَیْلٍ فَذَکَرَہُ مُرْسَلاً۔ وَرُوِیَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ مَوْصُولاً وَہُوَ ضَعِیفٌ لاَ یَصِحُّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وقت سے پہلے اذان دینے کی ممانعت کا بیان
(١٨٠٠) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے بلال (رض) نے رات کو اذان دی، انھیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ کو اس (اذان) پر کس نے ابھارا تھا ؟ انھوں نے کہا : میں اور وسنان بیدار ہوئے، میں نے گمان کیا کہ فجر طلوع ہوچکی ہے، میں نے اذان دے دی۔ انھیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ مدینہ میں تین مرتبہ اعلان کرے کہ بندہ سو گیا تھا، پھر اپنے پہلو کی جانب بیٹھ جا، یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجائے، پھر فرمایا : اب کھڑا ہو، فرماتے ہیں کہ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی دو رکعتیں پڑھی۔
(۱۸۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْخَرَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرِ بْنِ خَالِدٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی مَحْذُورَۃَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ بِلاَلاً أَذَّنَ بِلَیْلٍ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((مَا حَمَلَکَ عَلَی ذَلِکَ))۔ قَالَ اسْتَیْقَظْتُ وَأَنَا وَسْنَانُ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ الْفَجْرَ قَدْ طَلَعَ ، فَأَذَّنْتُ فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یُنَادِیَ فِی الْمَدِینَۃِ ثَلاَثًا : إِنَّ الْعَبْدَ رَقَدَ ۔ ثُمَّ أَقْعَدَہُ إِلَی جَنْبِہِ حَتَّی طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ قَالَ : ((قُمِ الآنَ))۔ قَالَ ثُمَّ رَکَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ۔

وَرَوَاہُ أَیْضًا عَامِرُ بْنُ مُدْرِکٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ مَوْصُولاً مُخْتَصَرًا وَہُوَ وَہْمٌ وَالصَّوَابُ رِوَایَۃُ شُعَیْبِ بْنِ حَرْبٍ۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وقت سے پہلے اذان دینے کی ممانعت کا بیان
(١٨٠١) (الف) نافع سیدنا عمر (رض) کے مؤذن سے نقل فرماتے ہیں، جس کو مسروح کہا جاتا تھا، اس نے صبح سے پہلے اذان دے دی، سیدنا عمر (رض) نے اس کو حکم دیا۔۔۔ آگے حماد بن سلمہ کی روایت کی طرح حدیث بیان کی۔

(ب) سیدنا عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ صبح کی اذان جلدی دو تاکہ داخل ہونے والا داخل ہوجائے اور گھر میں رہنے والا اٹھ پڑے۔ (ب) امام ابوداؤد فرماتے ہیں : حماد بن زید نے عبیداللہ بن عمر سے انھوں نے نافع وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ سیدنا عمر (رض) کا مقرر کردہ مؤذن تھا جس کا نام مسروح یا اس کے علاوہ اور کوئی تھا۔

(ج) دراوردی، نے عبیداللہ بن عمر سے انھوں نے نافع سے اور وہ سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر (رض) کا ایک مؤذن تھا، اس کا نام مسعود تھا۔ انھوں نے بھی پچھلی روایت کی طرح بیان کیا ہے۔

(د) امام ابوداؤد کہتے ہیں : سیدنا عمر (رض) والی یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔
(۱۸۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی رَوَّادٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ مُؤَذِّنٍ لِعُمَرَ یُقَالُ لَہُ مَسْرُوحٌ أَذَّنَ قَبْلَ الصُّبْحِ فَأَمَرَہُ عُمَرُ۔

ذَکَرَ نَحْوَہُ یَعْنِی نَحْوَ حَدِیثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ أَوْ غَیْرِہِ أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ یُقَالُ لَہُ مَسْرُوحٌ أَوْ غَیْرُہُ۔

وَرَوَاہُ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ لِعُمَرَ مُؤَذِّنٌ یُقَالُ لَہُ مَسْعُودٌ فَذَکَرَ نَحْوَہُ۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَہَذَا أَصَحُّ مِنْ ذَاکَ یَعْنِی حَدِیثَ عُمَرَ أَصَحُّ۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّہُ قَالَ: عَجِّلُوا الأَذَانَ بِالصُّبْحِ یُدْلِجُ الْمُدْلِجُ وَیَخْرُجُ الْعَامِرَۃُ۔ [حسن۔ أخرجہ أبو داؤد ۵۳۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وقت سے پہلے اذان دینے کی ممانعت کا بیان
(١٨٠٢) (الف) شداد جو عیاض کا غلام تھا کہتا ہے کہ سیدنا بلال (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ سحری کر رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اذان نہ دے یہاں تک کہ فجر دیکھ لے، پھر اگلے دن آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اذان نہ دے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجائے، پھر اگلے دن آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اذان نہ دے یہاں تک کہ تو فجر دیکھ لے اس طرح اور اپنے ہاتھوں کو جمع کیا پھر ان دونوں کو جدا کردیا۔ (ب) امام ابوداؤد کہتے ہیں : عیاض آزاد کردہ غلام شداد کی ملاقات سیدنا بلال (رض) سے ثابت نہیں ہے۔ یہ حدیث ابو علی روزباری نے ابوبکر بن دراسہ کے واسطے سے ابوداؤد سے نقل کی ہے۔

(ج) شیخ کہتے ہیں : اسے بعض دوسری اسناد سے بھی نقل کیا گیا ہے جو تمام ضعیف ہیں، ہم نے ان کا ضعف کتاب الخلاف میں بیان کیا ہے۔ حمید بن ہلال وغیرہ کی حدیث مرسل ہے۔
(۱۸۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الإِمَامُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ الْفِرَیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ شَدَّادٍ مَوْلَی عِیَاضٍ قَالَ: جَائَ بِلاَلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ یَتَسَحَّرُ فَقَالَ : ((لاَ تُؤَذِّنْ حَتَّی تَرَی الْفَجْرَ))۔ ثُمَّ جَائَہُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ : ((لاَ تُؤَذِّنْ حَتَّی یَطْلُعَ الْفَجْرُ))۔ ثُمَّ جَائَہُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ : ((لاَ تُؤَذِّنْ حَتَّی تَرَی الْفَجْرَ ہَکَذَا))۔ وَجَمَعَ بَیْنَ یَدَیْہِ ثُمَّ فَرَّقَ بَیْنَہُمَا۔ وَہَذَا مُرْسَلٌ۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجْسْتَانِیُّ: شَدَّادٌ مَوْلَی عِیَاضٍ لَمْ یُدْرِکْ بِلاَلاً أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ عَنْ أَبِی دَاوُدَ۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رُوِیَ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ کُلِّہَا ضَعِیفَۃٍ قَدْ بَیَّنَّا ضَعْفَہَا فِی کِتَابِ الْخِلاَفِ۔ وَإِنَّمَا یُعْرَفُ مُرْسَلاً مِنْ حَدِیثِ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ وَغَیْرِہِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ أبو داؤد ۵۳۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وقت سے پہلے اذان دینے کی ممانعت کا بیان
(١٨٠٣) حمید سے روایت ہے کہ سیدنا بلال (رض) نے رات کو اذان دی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی جگہ واپس جا اور تین مرتبہ اعلان کر کہ بندہ سو گیا تھا، وہ کہہ رہے تھے کہ کاش بلال کی ماں اس کو جنم نہ دیتی اور انھوں نے اپنی پیشانی کو خون کے چھینٹوں سے تر کیا اور تین مرتبہ اعلان کیا کہ بندہ سو گیا تھا۔
(۱۸۰۳) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ: أَذَّنَ بِلاَلٌ بِلَیْلٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ارْجِعْ إِلَی مَقَامِکَ فَنَادِ ثَلاَثًا أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ))۔ وَہُوَ یَقُولُ: لَیْتَ بِلاَلاً لَمْ تَلِدْہُ أُمُّہُ وَابْتَلَّ مِنْ نَضَحِ دَمِ جَبِینِہِ فَنَادَی ثَلاَثًا: إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ۔

ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ مُرْسَلاً وَالأَحَادِیثُ الصِّحَاحُ الَّتِی تَقَدَّمَ ذِکْرُہَا مَعَ فِعْلِ أَہْلِ الْحَرَمَیْنِ أَوْلِی بِالْقَبُولِ مِنْہُ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [منکر۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۲۴۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وقت سے پہلے اذان دینے کی ممانعت کا بیان
(١٨٠٤) شعیب بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا مالک بن انس (رض) سے کہا : کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم نہیں دیا کہ اذان لوٹائے ؟ انھوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلال (رض) رات کی اذان دیتا ہے، پس تم کھاؤ اور پیو میں نے کہا : کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو حکم نہیں دیا کہ اذان لوٹائے ؟ انھوں نے کہا : نہیں ہمیشہ ہمارے نزدیک اذان رات کو ہی رہی۔
(۱۸۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ قُلْتُ لِمَالِکِ بْنِ أَنَسٍ: أَلَیْسَ قَدْ أَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِلاَلاً أَنْ یُعِیدَ الأَذَانَ؟ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ بِلاَلاً یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ ، فَکُلُوا وَاشْرَبُوا ۔ قُلْتُ: أَلَیْسَ قَدْ أَمَرَہُ أَنْ یُعِیدَ الأَذَانَ؟ قَالَ: لاَ لَمْ یَزَلِ الأَذَانُ عِنْدَنَا بِلَیْلٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وقت داخل ہونے کے بعد تمام نمازوں کی اذان دینا سنت ہے
(١٨٠٥) سیدنا جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ سیدنا بلال (رض) اذان دیتے تھے، جب سورج ڈھل جاتا، پھر کھڑے نہیں ہوتے تھے یہاں تک کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہ دیکھ لیتے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ لیتے۔ تو اقامت کہتے۔
(۱۸۰۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سِمَاکُ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ سَمُرَۃَ قَالَ: کَانَ بِلاَلٌ یُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ لاَ یُقِیمُ حَتَّی یَرَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَإِذَا رَآہُ أَقَامَ حِینَ یَرَاہُ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ أَبِی خَیْثَمَۃَ۔ [حسن۔ أخرجہ مسلم ۶۰۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وقت داخل ہونے کے بعد تمام نمازوں کی اذان دینا سنت ہے
(١٨٠٦) سیدنا مالک بن حویرث (رض) سے روایت ہے کہ میں اپنی قوم کی ایک جماعت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیس دن قیام کیا اور آپ بہت رحیم اور شفیق تھے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے اہل کی طرف ہمارا شوق دیکھا تو فرمایا : تم لوٹ جاؤ اور ان میں رہو، ان کو سکھاؤ اور نماز پڑھو، جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے کوئی اذان دے اور تم میں سے بڑا تمہاری امامت کرائے۔
(۱۸۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْہَمْدَانِیُّ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ الْعَلاَئِ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا وُہَیْبُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فِی نَفَرٍ مِنْ قَوْمِی ، فَأَقَمْنَا عِنْدَہُ عِشْرِینَ لَیْلَۃً ، وَکَانَ رَحِیمًا رَقِیقًا ، فَلَمَّا رَأَی شَوْقَنَا إِلَی أَہْلِینَا قَالَ: ((ارْجِعُوا فَکُونُوا فِیہِمْ وَعَلِّمُوہُمْ وَصَلُّوا ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَۃُ فَلْیُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ، وَلْیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُعَلَّی بْنِ أَسَدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۶۰۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وقت داخل ہونے کے بعد تمام نمازوں کی اذان دینا سنت ہے
(١٨٠٧) مالک کہتے ہیں : صبح ہمیشہ فجر سے پہلے اذان دی جاتی رہی، اس کے علاوہ نمازیں کا ہم خیال نہیں کرتے تھے، ان کی اذان تب دی جاتی تھی جب ان کا مشروع وقت شروع جاتا۔
(۱۸۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ قَالَ قَالَ مَالِکٌ: لَمْ یَزَلِ الصُّبْحُ یُنَادَی بِہَا قَبْلَ الْفَجْرِ ، فَأَمَّا غَیْرُہَا مِنَ الصَّلَوَاتِ فَإِنَّا لَمْ نَرَہَا یُنَادَی بِہَا إِلاَّ بَعْدَ أَنْ یَحِلَّ وَقْتُہَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وقت داخل ہونے کے بعد تمام نمازوں کی اذان دینا سنت ہے
(١٨٠٨) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ صبح کی اذان اس کے وقت کے بعد دی جائے۔ اس لیے کہ میں کسی کو نہیں جانتا جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت نقل کی ہو کہ آپ نے نمازِ فجر کے علاوہ کسی دوسری نماز کے لیے اس کے وقت سے پہلے اذان دی ہو اور ہم نے اپنے مؤذنوں کو نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد اذان دیتے ہوئے دیکھا ہے سوائے نماز فجر کے۔
(۱۸۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ: لاَ یُؤَذَّنُ لِصَلاَۃٍ غَیْرِ الصُّبْحِ إِلاَّ بَعْدَ وَقْتِہَا لأَنِّی لَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا حَکَی عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ أَذَّنَ لِصَلاَۃٍ قَبْلَ وَقْتِہَا غَیْرَ الْفَجْرِ، وَلَمْ نَرَالْمُؤَذِّنِینَ عِنْدَنَا یُؤَذِّنُونَ إِلاَّ بَعْدَ دُخُولِ وَقْتِہَا إِلاَّ الْفَجْرَ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہلِ حجاز کے قول اور عمل کے راجح ہونے پر استدلال کا بیان
(١٨٠٩) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے پاس یمن والے آئے ہیں، وہ دلوں کے لحاظ سے بہت نرم ہیں۔ ایمان یمن والوں کا اور فقہ یمن والوں کی اور حکمت بھی یمن والوں کی ہے۔
(۱۸۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ الْفَقِیہُ بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ قَالاَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَتَاکُمْ أَہْلُ الْیَمَنِ أَتَاکُمْ أَہْلُ الْیَمَنِ ہُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَۃً ، الإِیمَانُ یَمَانٍ ، وَالْفِقْہُ یَمَانٍ ، وَالْحِکْمَۃُ یَمَانِیَۃٌ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ إِسْحَاقَ الأَزْرَقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ: وَمَکَّۃُ وَالْمَدِینَۃُ یَمَانِیَانِ مَعَ مَا دَلَّ بِہِ عَلَی فَضْلِہِمْ فِی عِلْمِہِمْ۔

[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۱۲۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہلِ حجاز کے قول اور عمل کے راجح ہونے پر استدلال کا بیان
(١٨١٠) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” قریب ہے کہ تم اونٹوں کے جگر کو مارو اور تم عالم نہیں پاؤ گے جو مدینہ کے عالم سے زیادہ جاننے والا ہو۔ “
(۱۸۱۰) وَذَکَرَ الْحَدِیثَ الَّذِی حَدَّثَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً وَقِرَائَۃً أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یُوشِکُ أَنْ تَضْرِبُوا أَکْبَادَ الإِبِلِ فَلاَ تَجِدُونَ عَالِمًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ الْمَدِینَۃِ))۔

رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الترمذی ۲۶۸۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہلِ حجاز کے قول اور عمل کے راجح ہونے پر استدلال کا بیان
(١٨١١) سیدنا جبیر بن مطعم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریشی کے لیے دیگر کی بہ نسبت دو آدمیوں کی طاقت ہے۔
(۱۸۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ الْمِصْرِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ حَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَزْہَرَ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((لِلْقُرَشِیِّ مِثْلُ قُوَّۃِ الرَّجُلَیْنِ مِنْ غَیْرِ قُرَیْشٍ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی فُدَیْکٍ زَادَ زَیْدٌ فِی رِوَایَتِہِ فَقِیلَ لِلزُّہْرِیِّ: مَا تُرِیدُ بِذَلِکَ؟ قَالَ: نُبْلَ الرَّأْیِ۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد ۴/۸۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچہ بالغ ہوجائے ، کافر مسلمان ہوجائے، مجنون کو آفاقہ ہوجائے اور حائضہ وقت گزرنے سے پہلے پاک ہوجائے اور یہ نماز کا کچھ وقت پالیں (تو کیا حکم ہے ؟ )
(١٨١٢) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس نے سورج طلوع ہونے سے پہلے صبح کی ایک رکعت پالی اس نے صبح کو پالیا اور جس نے سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی اس نے عصر کو پالیا۔ “
(۱۸۱۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیدٍ وَعَنِ الأَعْرَجِ یُحَدِّثُونَہُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((مَنْ أَدْرَکَ رَکْعَۃً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَکَ الصُّبْحَ ، وَمَنْ أَدْرَکَ رَکْعَۃً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَکَ الْعَصْرَ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی کِلاَہُمَا عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کے وقت میں ظہر اور عصر قضا کرنا اور عشا کے وقت میں مغرب اور عشا قضا کرنا
(١٨١٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے نماز کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز کو پالیا۔
(۱۸۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ: ((مَنْ أَدْرَکَ رَکْعَۃً مِنَ الصَّلاَۃِ فَقَدْ أَدْرَکَ الصَّلاَۃَ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنِ ابْنِ یُوسُفَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۵۵]
tahqiq

তাহকীক: