আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১১৬ টি
হাদীস নং: ১৮১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کے وقت میں ظہر اور عصر قضا کرنا اور عشا کے وقت میں مغرب اور عشا قضا کرنا
(١٨١٤) سیدنا معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر، عصر ، مغرب اور عشاء کو تبوک کے سال جمع کیا۔
(۱۸۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ سَنَۃَ خَمْسٍ وَعِشْرِینَ وَثَلاَثِمِائَۃٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی وَعَلِیُّ بْنُ سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ عَلِیٌّ یَعْنِی الثَّوْرِیَّ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- جَمَعَ بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ عَامَ تَبُوکَ۔ وَقَالَ عَلِیُّ بْنُ سَعِیدٍ: فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ۔
مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ وَہُوَ مِنْ حَدِیثِ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ غَرِیبٌ تَفَرَّدَ بِہِ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ۔ [صحیح]
مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ وَہُوَ مِنْ حَدِیثِ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ غَرِیبٌ تَفَرَّدَ بِہِ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کے وقت میں ظہر اور عصر قضا کرنا اور عشا کے وقت میں مغرب اور عشا قضا کرنا
(١٨١٥) سیدنا عبد الرحمن بن عوف (رض) سے روایت ہے کہ اگر سورج غروب ہونے سے پہلے حائضہ پاک ہوجائے تو وہ ظہر اور عصر کی اکٹھی نماز پڑھے گی اور اگر فجر سے پہلے پاک ہوگئی تو مغرب اور عشا کی نماز اکٹھی پڑھے گی۔
(۱۸۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا شُرَیْحُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ یَرْبُوعٍ عَنْ جَدِّہِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَوْلَی لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: إِذَا طَہُرَتِ الْحَائِضُ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ صَلَّتِ الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ جَمِیعًا ، وَإِذَا طَہُرَتْ قَبْلَ الْفَجْرِ صَلَّتِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ جَمِیعًا۔[ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۷۰۲۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کے وقت میں ظہر اور عصر قضا کرنا اور عشا کے وقت میں مغرب اور عشا قضا کرنا
(١٨١٦) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ اگر عورت عصر کی نماز کے وقت پاک ہوجائے تو ظہر سے ابتدا کرے پہلے اس کو پڑھ لے، پھر عصر پڑھ لے اور اگر عشاء کے وقت پاک ہوجائے تو پہلے مغرب پڑھ لے پھر عشاء کی نماز پڑھ لے۔
(۱۸۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِذَا طَہُرَتِ الْمَرْأَۃُ فِی وَقْتِ صَلاَۃِ الْعَصْرِ فَلْتَبْدَأْ بِالظُّہْرِ فَلْتُصَلِّہَا ، ثُمَّ لِتُصَلِّ الْعَصْرَ ، وَإِذَا طَہُرَتْ فِی وَقْتِ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ فَلْتَبْدَأْ فَلْتُصَلِّ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ۔
وَرَوَاہُ لَیْثُ بْنُ أَبِی سُلَیْمٍ عَنْ طَاوُسٍ وَعَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وَإِذَا طَہُرَتْ قَبْلَ الْفَجْرِ صَلَّتِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدارمی ۸۸۹]
وَرَوَاہُ لَیْثُ بْنُ أَبِی سُلَیْمٍ عَنْ طَاوُسٍ وَعَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وَإِذَا طَہُرَتْ قَبْلَ الْفَجْرِ صَلَّتِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدارمی ۸۸۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کے وقت میں ظہر اور عصر قضا کرنا اور عشا کے وقت میں مغرب اور عشا قضا کرنا
(١٨١٧) لیث نے اس کو بیان کیا ہے۔
(۱۸۱۷) وَہُوَ فِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتَہُ عَنْہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الشَّامَاتِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ لَیْثٍ ۔۔۔ فَذَکَرَہُ وَقِیلَ عَنْہُ عَنْہُمَا مِنْ قَوْلِہِمَا وَرُوِّینَاہُ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنَ التَّابِعِینَ سِوَاہُمَا وَعَنِ الْفُقَہَائِ السَّبْعَۃِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ۔ [حسن لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےہوش آدمی کو دو نمازوں کا وقت گزرنے کے بعد افاقہ ہوا تو اس پر قضا نہیں ہے۔
(١٨١٨) نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) پر بےہوشی طاری ہونے کے بعد ان کی عقل ماؤف ہوگئی تو انھوں نے نماز قضا نہیں کی۔
اور مالک نے کہا وقت چلا گیا تھا اور جس کو آفاقہ ہوجائے تو وہ وقت میں ہو وہ نماز پڑھے گا۔
اور مالک نے کہا وقت چلا گیا تھا اور جس کو آفاقہ ہوجائے تو وہ وقت میں ہو وہ نماز پڑھے گا۔
(۱۸۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ أُغْمِیَ عَلَیْہِ فَذَہَبَ عَقْلُہُ فَلَمْ یَقْضِ الصَّلاَۃَ۔
قَالَ وَقَالَ مَالِکٌ: وَذَلِکَ أَنَّ الْوَقْتَ ذَہَبَ ، وَأَمَّا مَنْ أَفَاقَ وَہُوَ فِی وَقْتٍ فَإِنَّہُ یُصَلِّی۔
ہَکَذَا فِی رِوَایَۃِ جَمَاعَۃٍ عَنْ نَافِعٍ ، وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ ، وَفِی رِوَایَۃِ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک ۲۴]
قَالَ وَقَالَ مَالِکٌ: وَذَلِکَ أَنَّ الْوَقْتَ ذَہَبَ ، وَأَمَّا مَنْ أَفَاقَ وَہُوَ فِی وَقْتٍ فَإِنَّہُ یُصَلِّی۔
ہَکَذَا فِی رِوَایَۃِ جَمَاعَۃٍ عَنْ نَافِعٍ ، وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ ، وَفِی رِوَایَۃِ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک ۲۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےہوش آدمی کو دو نمازوں کا وقت گزرنے کے بعد افاقہ ہوا تو اس پر قضا نہیں ہے۔
(١٨١٩) عبد الرحمن بن أبی زناد کے والد فرماتے ہیں : میں نے اپنے (علاقے کے) فقہاء کو پایا ہے جو اہل مدینہ کے تابعین کے قول کی ابتاع کرتے تھے، فرماتے تھے کہ انھوں نے کچھ احکام ذکر کیے، ان میں (یہ بھی تھا کہ) بےہوش شخص پر نماز واجب نہیں ہے، مگر جب افاقہ ہوجائے اور وہ نماز کے وقت میں ہو تو وہ پڑھے گا اور وہ روزہ قضاکرے گا اور بےہوش آدمی کو اگر سورج غروب ہونے سے پہلے افاقہ ہوجائے تو وہ ظہر اور عصر کی نماز پڑھے گا اور اگر اس کو سورج طلوع ہونے سے پہلے افاقہ ہوا تو مغرب اور عشا کی نماز پڑھے گا۔ انھوں نے فرمایا : حائضہ بھی اسی طرح کرے گی جب وہ سورج غروب ہونے سے پہلے یا فجر طلوع ہونے سے پہلے پاک ہوجائے۔
(۱۸۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْبَغْدَادِیُّ الرَّفَّائُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو: عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ أَنَّ أَبَاہُ قَالَ: کَانَ مَنْ أَدْرَکْتُ مِنْ فُقَہَائِنَا الَّذِینَ یُنْتَہَی إِلَی قَوْلِہِمْ یَعْنِی مِنْ تَابِعِی أَہْلِ الْمَدِینَۃِ یَقُولُونَ فَذَکَرَ أَحْکَامًا وَفِیہَا: الْمُغْمَی عَلَیْہِ لاَ یَقْضِی الصَّلاَۃَ إِلاَّ أَنْ یُفِیقَ وَہُوَ فِی وَقْتِ صَلاَۃٍ فَلْیُصَلِّہَا ، وَہُوَ یَقْضِی الصَّوْمَ، وَالَّذِی یُغْمَی عَلَیْہِ فَیُفِیقُ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ یُصَلِّی الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ، وَإِنْ أَفَاقَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ صَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ۔ قَالُوا: وَکَذَلِکَ تَفْعَلُ الْحَائِضُ إِذَا طَہُرَتْ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ أَوْ طُلُوعِ الْفَجْرِ۔
وَرُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ مُسْنَدٌ فِی إِسْنَادِہِ ضَعْفٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن]
وَرُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ مُسْنَدٌ فِی إِسْنَادِہِ ضَعْفٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےہوش آدمی کو دو نمازوں کا وقت گزرنے کے بعد افاقہ ہوا تو اس پر قضا نہیں ہے۔
(١٨٢٠) قاسم نے سیدہ عائشہ (رض) سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جس پر بےہوشی طاری ہوجاتی ہے اور وہ ایک یا دو دن یا اس سے زیادہ دن کی نمازیں چھوڑتا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس پر قضا نہیں ہے مگر وہ نماز جس میں اس کو افاقہ ہوجائے تو وہ نماز پڑھے گا۔ “
(۱۸۲۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِیُّ حَدَّثَنَا خَارِجَۃُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا مُغِیثُ بْنُ بُدَیْلٍ حَدَّثَنَا خَارِجَۃُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَطَائٍ ہُوَ ابْنُ یَسَارٍ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الأَیْلِیِّ عَنِ الْقَاسِمِ: أَنَّہُ سَأَلَ عَائِشَۃَ عَنِ الرَّجُلِ یُغْمَی عَلَیْہِ فَیَتْرُکُ الصَّلاَۃَ الْیَوْمَ وَالْیَوْمَیْنِ ، وَأَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَیْسَ لِشَیْئٍ مِنْ ذَلِکَ قَضَائٌ إِلاَّ أَنْ یُغْمَی عَلَیْہِ فِی صَلاَتِہِ ، فَیُفِیقُ وَہُوَ فِی وَقْتِہَا فَیُصَلِّیہَا))۔ [باطل۔ أخرج الدارقطنی ۲/۸۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےہوش آدمی کو دو نمازوں کا وقت گزرنے کے بعد افاقہ ہوا تو اس پر قضا نہیں ہے۔
(١٨٢١) سیدنا ابن عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی مثل نقل فرماتے ہیں۔
(۱۸۲۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ حَدَّثَنَا خَارِجَۃُ حَدَّثَنَا مُغِیثٌ حَدَّثَنَا خَارِجَۃُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَطَائٍ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِثْلَ ذَلِکَ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ خَارِجَۃَ الأَکْبَرِ وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ أَبِی حُسَیْنٍ وَہُوَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حُسَیْنِ بْنِ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ فِی التَّارِیخِ وَقَالَ: فِیہِ نَظَرٌ۔
وَالْحَکَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَیْلِیُّ تَرَکُوہُ کَانَ ابْنُ الْمُبَارَکِ یُوَہِّنُہُ وَنَہَی أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ حَدِیثِہِ۔ [باطل]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ خَارِجَۃَ الأَکْبَرِ وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ أَبِی حُسَیْنٍ وَہُوَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حُسَیْنِ بْنِ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ فِی التَّارِیخِ وَقَالَ: فِیہِ نَظَرٌ۔
وَالْحَکَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَیْلِیُّ تَرَکُوہُ کَانَ ابْنُ الْمُبَارَکِ یُوَہِّنُہُ وَنَہَی أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ حَدِیثِہِ۔ [باطل]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےہوش آدمی کو دو نمازوں کا وقت گزرنے کے بعد افاقہ ہوا تو اس پر قضا نہیں ہے۔
(١٨٢٢) عمار کے غلام یزید سے روایت ہے عمار بن یاسر پر ظہر، عصر ، مغرب اور عشا کی نماز میں بےہوشی طاری ہوگئی اور انھیں رات افاقہ ہوا تو انھوں نے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نماز قضا کی۔
(۱۸۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ یَزِیدَ مَوْلَی عَمَّارٍ: أَنَّ عَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ أُغْمِیَ عَلَیْہِ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ، فَأَفَاقَ نِصْفَ اللَّیْلِ فَصَلَّی الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۲/۸۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اگر نماز کی مقدار اول وقت کو پالے، پھر حائضہ ہوجائے یا بےہوش ہوجائے تو کیا حکم ہے
(١٨٢٣) محمد سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ کو چھوڑ رکھو جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں، تم میں سے پہلے لوگ اپنے نبیوں سے سوال اور اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے اور جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوتو اس سے بچو اور جب کسی کام کا حکم دوں تو وہ کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو۔
(۱۸۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ عَنْ مُحَمَّدٍ -ﷺ- فَذَکَرَ أَحَادِیثَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ذَرُونِی مَا تَرَکْتُکُمْ ، فَإِنَّمَا ہَلَکَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ بِسُؤَالِہِمْ وَاخْتِلاَفِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِہِم ، وَإِذَا نَہَیْتُکُمْ عَنْ شَیْئٍ فَاجْتَنِبُوہُ ، وَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِالأَمْرِ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۳۳۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اگر نماز کی مقدار اول وقت کو پالے، پھر حائضہ ہوجائے یا بےہوش ہوجائے تو کیا حکم ہے
(١٨٢٤) ابو جوزاء سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب (رض) نے عورتوں کو منع کیا کہ عشا کی نماز چھوڑ بیٹھیں اس ڈر سے کہ وہ حائضہ ہوجائیں گی۔ وہ عشا کی نماز مراد لے رہے تھے۔
(۱۸۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عُقْبَۃَ وَہُوَ ابْنُ أَبِی ثُبَیْتٍ الرَّاسِبِیُّ وَہُوَ ثِقَۃٌ عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ نَہَی النِّسَائَ أَنْ یَبِتْنَ عَنِ الْعِشَائِ مَخَافَۃَ أَنْ یَحِضْنَ ، یُرِیدُ صَلاَۃَ الْعِشَائِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اگر نماز کی مقدار اول وقت کو پالے، پھر حائضہ ہوجائے یا بےہوش ہوجائے تو کیا حکم ہے
(١٨٢٥) شعبی سے روایت ہے کہ جب کوئی عورت نماز میں کوتاہی کرے اس کو حیض آجائے تو اس پر نماز قضا کرنا واجب ہے۔
(۱۸۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَابِ حَدَّثَنَا ابْنُ شُبْرُمَۃَ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ: إِذَا فَرَّطَتِ الْمَرْأَۃُ فِی الصَّلاَۃِ حَتَّی تَحِیضَ قَضَتْ تِلْکَ الصَّلاَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ الدارمی ۸۸۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالتِ نشہ میں نماز کے قریب نہ جائے
(١٨٢٦) عمرو بن شرحبیل سے روایت ہے کہ سیدنا عمر (رض) نے فرمایا : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعلان کرنے والے سے سنا کہ جب نماز کھڑی ہوجائے تو نشے والا آدمی نماز کے قریب نہ جائے۔
(۱۸۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِیُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْکُوفِیُّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: سَمِعْتُ مُنَادِیَ النَّبِیِّ -ﷺ- یُنَادِی: ((إِذَا أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَلاَ یَقْرَبِ الصَّلاَۃَ سَکْرَانُ))۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالتِ نشہ میں نماز کے قریب نہ جائے
(١٨٢٧) سیدنا عمر بن خطاب (رض) شراب کی حرمت والے قصے کے متعلق بیان فرماتے ہیں۔۔۔ اس میں ہے جب سورة نساء کی آیت { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَۃَ وَأَنْتُمْ سُکَارَی حَتَّی تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ }[النساء ٤٣] نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اعلان کرنے والا اعلان کررہا تھا کہ نشے والا نماز کے قریب نہ آئے۔
(۱۸۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَی الْخُتَّلِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إِسْرَائِیلَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قِصَّۃِ تَحْرِیمِ الْخَمْرِ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ فَنَزَلَتِ الآیَۃُ الَّتِی فِی النِّسَائِ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَۃَ وَأَنْتُمْ سُکَارَی حَتَّی تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ} [النساء۴۳] فَکَانَ مُنَادِی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یُنَادِی: ((أَنْ لاَ یَقْرَبَنَّ الصَّلاَۃَ سَکْرَانُ))۔ [ضعیف۔ أخرجہ أبو داؤد ۳۶۷۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نشے کی کم مقدار کا بیان
(١٨٢٨) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے ایک انصاری میں سے آدمی اس نے سیدنا علی (رض) اور عبد الرحمن بن عوف کی دعوت کی تو ان دونوں نے شراب حرام ہونے سے پہلے شراب پی لی سیدنا علی (رض) نے مغرب میں ان کی امامت کروائی اور یہ سورت پڑھی { قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ }[الکافرون : ١] تو انھوں نے قرات خلط ملط کردی ۔ تب یہ آیت نازل ہوتی۔ { لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَۃَ وَأَنْتُمْ سُکَارَی حَتَّی تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ } [النساء : ٤٣]
(۱۸۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ دَعَاہُ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَسَقَاہُمَا قَبْلَ أَنْ یُحَرَّمَ الْخَمْرُ فَأَمَّہُمْ عَلِیٌّ فِی الْمَغْرِبِ وَقَرَأَ {قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ} فَخَلَطَ فِیہَا فَنَزَلَتْ {لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَۃَ وَأَنْتُمْ سُکَارَی حَتَّی تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ} [النساء: ۴۳]
[صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۶۷۱]
[صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۶۷۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نشے سے عقل چلی جائے تو فرض کے ساقط ہونے میں وہ معذور نہیں ہوگا
(١٨٢٩) سیدنا عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے نشے کی وجہ سے ایک مرتبہ نماز چھوڑ دی تو وہ ایسا ہے جیسے اس سے دنیا اور دنیا کے اندر جو کچھ ہے چھین لیا گیا اور جس نے چار مرتبہ نشے کی حالت میں نماز چھوڑ دی تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس کو طینۃ البنال پلائے۔ پوچھا گیا ” طینۃ النبال “ سے کیا مراد ہے، اے اللہ کے رسول ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جہنمیوں کی پیپ۔ “
(۱۸۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَیْبٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((مَنْ تَرَکَ الصَّلاَۃَ سُکْرًا مَرَّۃً وَاحِدَۃً فَکَأَنَّمَا کَانَتْ لَہُ الدُّنْیَا وَمَا عَلَیْہَا فَسُلِبَہَا ، وَمَنْ تَرَکَ الصَّلاَۃَ سُکْرًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ کَانَ حَقًّا عَلَی اللَّہِ أَنْ یَسْقِیَہُ مِنْ طِینَۃِ الْخَبَالِ))۔ قِیلَ وَمَا طِینَۃُ الْخَبَالِ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ: ((عُصَارَۃُ أَہْلِ جَہَنَّمَ))۔ [حسن۔ أخرجہ احمد ۲/۱۷۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نشے سے عقل چلی جائے تو فرض کے ساقط ہونے میں وہ معذور نہیں ہوگا
(١٨٣٠) سیدنا جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تین آدمیوں کی نماز قبول نہیں ہوتی اور نہ ان کی نیکی (آسمان پر) چڑھتی ہے، بھگوڑا غلام یہاں تک کہ اپنے مالک کے پاس واپس آجائے اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں رکھ دے اور وہ عورت جس پر اس کا خاوند ناراض ہو اور نشے والا یہاں تک کہ صحیح ہوجائے۔ “
(۱۸۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمَوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ بِالأَہْوَازِ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضَلِ: جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الْقَلاَنِسِیُّ بِالرَّمْلَۃِ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ثَلاَثَۃٌ لاَ تُقْبَلُ لَہُمْ صَلاَۃٌ وَلاَ تَصْعَدُ لَہُمْ حَسَنَۃٌ: الْعَبْدُ الآبِقُ حَتَّی یَرْجِعَ إِلَی مَوَالِیہِ فَیَضَعُ یَدَہُ فِی أَیْدِیہِمْ ، وَالْمَرْأَۃُ السَّاخِطُ عَلَیْہَا زَوْجُہَا ، وَالسَّکْرَانُ حَتَّی یَصْحُوَ))۔
تَفَرَّدَ بِہِ زُہَیْرٌ ہَکَذَا۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن حبان ۵۳۵۵]
تَفَرَّدَ بِہِ زُہَیْرٌ ہَکَذَا۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن حبان ۵۳۵۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی ابتدا
(١٨٣١) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جس وقت مسلمان مدینہ میں آئے تو وہ جمع ہوتے اور نمازوں کا انتظار کرتے اور کوئی بھی اعلان کرنے والا نہیں تھا۔ انھوں نے ایک دن اس کے متعلق بات کی۔ بعض نے کہا : ہم نصاریٰ کے ناقوس کی طرح ایک ناقوس بنا لیتے ہیں۔ بعض نے کہا : بلکہ یہودیوں کی طرح ایک سینگ۔ سیدنا عمر (رض) نے کہا : کیوں نہ تم کسی آدمی کو بھیجو جو نماز کا اعلان کرے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے بلال ! کھڑے ہو جاؤ اور نماز کا اعلان کرو۔ “
(۱۸۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ: کَانَ الْمُسْلِمُونَ حِینَ قَدِمُوا الْمَدِینَۃَ یَجْتَمِعُونَ فَیَتَحَیَّنُونَ الصَّلَوَاتِ وَلَیْسَ یُنَادِی بِہَا أَحَدٌ ، فَتَکَلَّمُوا یَوْمًا فِی ذَلِکَ ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ: نَتَّخِذُ نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَی۔ وَقَالَ بَعْضُہُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْیَہُودِ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَوَلاَ تَبْعَثُونَ رَجُلاً یُنَادِی بِالصَّلاَۃِ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَۃِ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ حَجَّاجٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۷۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی ابتدا
(١٨٣٢) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے مشورہ کیا کہ وہ کس چیز کے ساتھ نماز کے اوقات کو جانیں اور پہچانیں۔ بعض نے ذکر کیا کہ ایک ناقوس بجائیں یا آگ روشن کریں۔ سیدنا بلال (رض) کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان جفت کہ کہیں اور اگلی سطر میں لے جائیں اقامت ایک مرتبہ کہے۔
(۱۸۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُالْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: ذَکَرُوا أَنْ یَعْلَمُوا وَقْتَ الصَّلاَۃِ بِشَیْئٍ فَیَعْرِفُونَہُ ، فَذَکَرُوا أَنْ یَضْرِبُوا نَاقُوسًا أَوْ یُنَوِّرُوا نَارًا، فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ یَشْفَعَ الأَذَانَ وَیُوتِرَ الإِقَامَۃَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیِّ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۷۸]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیِّ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۷۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی ابتدا
(١٨٣٣) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں نماز کا وقت ہوتا تو ایک شخص راستے میں دوڑتا ہوا اعلان کرتا : نماز نماز ! لوگوں پر یہ بات مشکل ہوگئی تو انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اگر ہم ناقوس بنالیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہ فرمایا : یہ تو نصاریٰ کا ہے۔ انھوں نے کہا : ہم ایک سینگ بنالیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ یہود کا ہے۔ راوی کہتا ہے : پھر آپ نے بلال (رض) کو حکم دیا کہ وہ اذان جفت کہے اور اقامت ایک مرتبہ کہے۔
(۱۸۳۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْقُطَعِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَطَائِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کَانَتِ الصَّلاَۃُ إِذَا حَضَرَتْ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- سَعَی رَجُلٌ فِی الطَّرِیقِ فَنَادَی: الصَّلاَۃَ الصَّلاَۃَ ، فَاشْتَدَّ ذَلِکَ عَلَی النَّاسِ فَقَالُوا: لَوِ اتَّخَذْنَا نَاقُوسًا یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَقَالَ: ((ذَلِکَ لِلنَّصَارَی))۔ فَقَالُوا: لَوِ اتَّخَذْنَا بُوقًا۔ قَالَ: ((ذَلِکَ لِلْیَہُودِ))۔ قَالَ: فَأَمَرَ بِلاَلاً أَنْ یَشْفَعَ الأَذَانَ وَیُوتِرَ الإِقَامَۃَ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۳۶۹]
[ضعیف۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۳۶۹]
তাহকীক: