আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ১৮৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی ابتدا
(١٨٣٤) أبی عمیر بن انس اپنے انصار ماموؤں سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کے لیے اہتمام کیا کہ لوگوں کو کیسے جمع کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا : نماز کے وقت جھنڈا گاڑ دیں، جب اس کو دیکھیں گے تو لوگ آپس میں ایک دوسرے کو بتلا دی گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا بھی جواب نہیں دیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شبور کا ذکر کیا گیا ، زیاد کہتے ہیں : یہودیوں کا شبور۔ ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا بھی جواب نہیں دیابل کہ فرمایا : یہ یہود کا کام ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ناقوس کا ذکر کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ نصاریٰ کا کام ہے۔ عبداللہ بن زید (رض) پھرے، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقصد کا اہتمام کرنے والے تھے ‘ انھیں نیند میں اذان دکھائی گئی ، وہ صبح کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں سونے اور جاگنے کے درمیان تھا، اچانک کوئی میرے پاس آیا، اس نے مجھے اذان سکھلائی، یہی خواب سیدنا عمر بن خطاب (رض) نے ان سے پہلے دیکھ لیا تھا، لیکن انھوں نے بیس دن اس کو چھپائے رکھا۔ پھر انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کس چیز نے تجھ کو منع کیا تھا کہ تو ہم کو خبر دیتا ؟ انھوں نے عرض کیا : عبداللہ بن زید (رض) مجھ پر سبقت لے گئے ہیں، میں شرماتا رہا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے بلال ! کھڑے ہو جاؤ اور دیکھو عبداللہ بن زید (رض) تجھے کیا سکھلاتے ہیں۔ پھر بلال (رض) نے اذان دی۔ ابو بشر کہتے ہیں : ابو عمیر نے مجھ کو خبر دی کہ انصارگمان کرتے تھے کہ عبداللہ بن زید اگر ان دنوں بیمار نہ ہوتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو مؤذن بنا دیتے۔
(۱۸۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَی الْخُتَّلِیُّ وَزِیَادُ بْنُ أَیُّوبَ وَحَدِیثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ قَالاَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ - قَالَ زِیَادٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ - عَنْ أَبِی عُمَیْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَۃٍ لَہُ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ: اہْتَمَّ النَّبِیُّ -ﷺ- لِلصَّلاَۃِ کَیْفَ یَجْمَعُ النَّاسَ لَہَا ، فَقِیلَ لَہُ: انْصِبْ رَایَۃً عِنْدَ حُضُورِ الصَّلاَۃِ ، فَإِذَا رَأَوْہَا آذَنَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا فَلَمْ یُعْجِبْہُ ذَلِکَ قَالَ فَذُکِرَ لَہُ الْقُنْعُ یَعْنِی الشَّبُّورَ ، وَقَالَ زِیَادٌ شَبُّورَ الْیَہُودِ فَلَمْ یُعْجِبْہُ ذَلِکَ ، وَقَالَ: ((ہُوَ مِنْ أَمْرِ الْیَہُودِ))۔ قَالَ: فَذُکِرَ لَہُ النَّاقُوسُ فَقَالَ: ((ہُوَ مِنْ أَمْرِ النَّصَارَی))۔ فَانْصَرَفَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیْدٍ وَہُوَ مُہْتَمٌّ لِہَمِّ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأُرِیَ الأَذَانَ فِی مَنَامِہِ قَالَ فَغَدَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی لَبَیْنَ نَائِمٍ وَیَقَظَانَ إِذْ أَتَانِی آتٍ ، فَأَرَانِی الأَذَانَ۔ قَالَ: وَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَدْ رَأَہُ قَبْلَ ذَلِکَ فَکَتَمَہُ عِشْرِینَ یَوْمًا قَالَ ثُمَّ أَخْبَرَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ: ((مَا مَنَعَکَ أَنْ تُخْبِرَنَا؟))۔ فَقَالَ: سَبَقَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیْدٍ فَاسْتَحْیَیْتُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا بِلاَلُ قُمْ فَانْظُرْ مَا یَأْمُرُکَ بِہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیْدٍ فَافْعَلْہُ))۔ قَالَ: فَأَذَّنَ بِلاَلٌ۔ قَالَ أَبُو بِشْرٍ فَأَخْبَرَنِی أَبُو عُمَیْرٍ أَنَّ الأَنْصَارَ تَزْعُمُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ زَیْدٍ لَوْلاَ أَنَّہُ کَانَ یَوْمَئِذٍ مَرِیضًا لَجَعَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُؤَذِّنًا۔ [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد ۴۹۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی ابتدا
(١٨٣٥) محمد بن عبداللہ بن زید بن عبدربہ (رض) سے روایت ہے کہ مجھ کو میرے باپ عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناقوس بنانے کا حکم دیا تاکہ لوگوں کو نماز کے جمع کرنے کے لیے بجایا جائے تو ایک شخص نے میرے پاس چکر لگایا اور میں سویا ہوا تھا، اس نے اپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھایا ہوا تھا، میں نے اس سے کہا : اے اللہ کے بندے کیا تو ناقوس بیچے گا ؟ اس نے کہا : تو اس کا کیا کرے گا ؟ میں نے کہا : ہم نماز کی طرف بلائیں گے۔ اس نے کہا : کیا میں آپ کو وہ چیز نہ بتاؤں جو اس سے زیادہ بہتر ہو ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں۔ اس نے کہا : تو کہہ : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔ پھر تھوڑی دیر پیچھے ہٹا اور کہا : جب تو اقامت کہے تو کہہ۔ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنْ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔ صبح کے وقت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی جو میں نے دیکھا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ سچا خواب ہے ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ تم بلال (رض) کے ساتھ کھڑے ہو کہ اس کو سکھا ؤ جو تم نے دیکھا تھا، وہ ان الفاظ کے ساتھ اذان دے وہ تجھ سے زیادہ بلند آواز والا ہے، میں بلال (رض) کے ساتھ کھڑا ہوا، میں انھیں سکھاتا تھا اور وہ اذان دیتے تھے، سیدنا عمر بن خطاب (رض) نے جب یہ سنا تو وہ اپنے گھر میں تھے، وہ نکلے اور اپنی چادر کو کھینچ رہے تھے اور کہہ رہے تھے : اے اللہ کے رسول ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے بھی ان کی طرح خواب دیکھا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔
(۱۸۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو یَحْیَی: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ السَّمَرْقَنْدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ سَعْدٍ الزُّہْرِیُّ حَدَّثَنَا عَمِّی یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّہِ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالنَّاقُوسِ یُعْمَلُ لِیُضْرَبَ بِہِ لِلنَّاسِ فِی الْجَمْعِ لِلصَّلاَۃِ أَطَافَ بِی وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ یَحْمِلُ نَاقُوسًا فِی یَدِہِ فَقُلْتُ لَہُ: یَا عَبْدَ اللَّہِ أَتَبِیعُ النَّاقُوسَ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِہِ۔ فَقُلْتُ: نَدْعُو بِہِ إِلَی الصَّلاَۃِ۔ قَالَ: أَفَلاَ أَدُلُّکَ عَلَی مَا ہُوَ خَیْرٌ مِنْ ذَلِکَ؟ قُلْتُ: بَلَی۔ قَالَ: تَقُولُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَیْرَ بَعِیدٍ قَالَ: ثُمَّ تَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلاَۃَ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنْ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرْتُہُ مَا رَأَیْتُ فَقَالَ: ((إِنَّہَا لَرُؤْیَا حَقٍّ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی ، فَقُمْ مَعَ بِلاَلٍ فَأَلْقِ عَلَیْہِ مَا رَأَیْتُ فَلْیُؤَذِّنْ بِہِ ، فَإِنَّہُ أَنْدَی صَوْتًا مِنْکَ))۔ فَقُمْتُ مَعَ بِلاَلٍ فَجَعَلْتُ أُلْقِیہِ عَلَیْہِ وَیُؤَذِّنُ بِہِ ، فَسَمِعَ بِذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَہُوَ فِی بَیْتِہِ فَخَرَجَ یَجُرُّ رِدَائَہُ وَیَقُولُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ رَأَیْتُ مِثْلَ مَا رَأَی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((فَلِلَّہِ الْحَمْدُ))۔ [حسن۔ أخرجہ أبو داؤد ۴۹۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی ابتدا
(١٨٣٦) ہم کو یعقوب نے اسی سند کے ساتھ بیان کیا ہے مگر انھوں نے اذان کے شروع میں تکبیر دو مرتبہ ذکر کی ہے۔
(۱۸۳۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ مِثْلَہُ إِلاَّ أَنَّہُ ذَکَرَ التَّکْبِیرَ فِی صَدْرِ الأَذَانِ مَرَّتَیْنِ۔

وَکَذَلِکَ ذَکَرَہُ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی ابتدا
(١٨٣٧) (الف) عبداللہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ وہ اذان میں دو مرتبہ اور اقامت میں ایک مرتبہ خواب کا قصہ مراد لیتے تھے۔

(ب) زہری سے روایت ہے : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ۔

(ج) زہری سے روایت ہے : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ تثنیہ نہیں ہے۔
(۱۸۳۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَہَکَذَا رَوَاہُ الزُّہْرِیُّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ یَعْنِی قِصَّۃَ الرُّؤْیَا فِی تَثْنِیَۃِ الأَذَانِ وَإِفْرَادِ الإِقَامَۃِ ، وَقَالَ فِیہِ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّہْرِیِّ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ۔

وَقَالَ فِیہِ مَعْمَرٌ وَیُونُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لَمْ یُثَنِّیَا۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ الإِمَامَ أَبَا بَکْرٍ: أَحْمَدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرٍ: مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی الْمُطَرِّزَ یَقُولُ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی یَقُولُ: لَیْسَ فِی أَخْبَارِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ فِی قِصَّۃِ الأَذَانِ خَبَرٌ أَصَحُّ مِنْ ہَذَا۔ یَعْنِی حَدِیثَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ ، لأَنَّ مُحَمَّدًا سَمِعَ مِنْ أَبِیہِ وَابْنُ أَبِی لَیْلَی لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ۔ وَفِی کِتَابِ الْعِلَلِ لأَبِی عِیسَی التِّرْمِذِیِّ قَالَ سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ یَعْنِی حَدِیثَ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ فَقَالَ: ہُوَ عِنْدِی حَدِیثٌ صَحِیحٌ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان اور تکبیر کہتے ہوئے قبلے کی طرف منہ کرنا
(١٨٣٨) سیدنا معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے کہ نماز کی تین حالتیں ہیں : پہلی قبلے کی حالت ، دوسری مسبوق کی نماز اور تیسری اذان کی حالت کے درمیان۔ پھر فرمایا : لوگ نماز کے لیے جمع ہوتے تھے اور ایک دوسرے کو اطلاع دے دیتے تھے، پھر انھوں نے ناقوس بنایا یا فرمایا : قریب تھا کہ وہ ناقوس بناتے، پھر ایک شخص جس کا نام عبداللہ بن زید تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میں ہلکی نیند میں تھا، میں نے ایک شخص کو دیکھا جس پر دو سبز کپڑے تھے وہ کھڑا ہوا اور قبلے کی طرف منہ کیا اور کہا : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ۔۔۔ یہاں تک کہ دو دو مرتبہ اذان سے فارغ ہوگیا، پھر اذان کے آخر میں کہا : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ پھر کچھ دیر رکا رہا، پھر کھڑا ہوا اور اس کی مثل کہا لیکن۔ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ ۔ اضافہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ بلال (رض) کو سکھا دے، جس نے سب سے پہلے اذان دی وہ سیدنا بلال (رض) تھے، پھر سیدنا عمربن خطاب (رض) آئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میرے پاس بھی ایک شخص نے چکر لگایا جس طرح عبداللہ بن زید (رض) کے پاس چکر لگایا تھا مگر وہ مجھ سے سبقت لے گئے۔
(۱۸۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ ابْنُ بِنْتِ یَحْیَی بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِیُّ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: أُحِیلَتِ الصَّلاَۃُ ثَلاَثَۃَ أَحْوَالٍ ، فَذَکَرَ أَوَلاً حَالَ الْقِبْلَۃِ وَذَکَرَ آخِرًا حَالَ الْمَسْبُوقِ بِبَعْضِ الصَّلاَۃِ ، وَذَکَرَ بَیْنَ ذَلِکَ حَالَ الأَذَانِ فَقَالَ: وَکَانُوا یَجْتَمِعُونَ لِلصَّلاَۃِ یُؤْذِنُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا حَتَّی نَقَسُوا أَوْ کَادُوا أَنْ یَنْقُسُوا ، ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً یُقَالُ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیْدٍ أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ بَیْنَا أَنَا بَیْنَ النَّائِمِ وَالْیَقْظَانِ رَأَیْتُ شَخْصًا عَلَیْہِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ قَامَ ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فَقَالَ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، حَتَّی فَرَغَ مِنَ الأَذَانِ مَرَّتَیْنِ مَرَّتَیْنِ ، ثُمَّ قَالَ فِی آخِرِ أَذَانِہِ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، ثُمَّ أَمْہَلَ شَیْئًا ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَ الَّذِی قَالَ غَیْرَ أَنَّہُ زَادَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((عَلِّمْہَا بِلاَلاً))۔ فَکَانَ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ بِہَا بِلاَلٌ ، وَجَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ طَافَ بِی مِثْلَ الَّذِی أَطَافَ بِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ غَیْرَ أَنَّہُ سَبَقَنِی إِلَیْکَ۔

وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمَسْعُودِیِّ۔ (ج) غَیْرَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِی لَیْلَی لَمْ یُدْرِکْ مُعَاذًا فَہُوَ مُرْسَلٌ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۵۰۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان و اقامت میں کھڑا ہونا
(١٨٣٩) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ مسلمان جس وقت مدینہ میں آئے۔۔۔ ، پھر انھوں نے اذان کی ابتدا والی حدیث بیان کی، اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بلال ! کھڑے ہو کر نماز کے لیے اذان کہو !
(۱۸۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ: کَانَ الْمُسْلِمُونَ حِینَ قَدِمُوا الْمَدِینَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی بَدْئِ الأَذَانِ وَفِی آخِرِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَۃِ))۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ کَمَا مَضَی۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان و اقامت میں کھڑا ہونا
(١٨٤٠) عبد الجبار بن وائل اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حق اور سنت یہ ہے کہ آدمی پاک ہونے کی حالت میں کھڑے ہو کر اذان دے۔
(۱۸۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: جَعْفَرُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ سُلَیْمَانَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا صَدَقَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمَازِنِیُّ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُتْبَۃَ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: حَقٌّ وَسُنَّۃٌ مَسْنُونَۃٌ أَنْ لاَ یُؤَذِّنَ الرَّجُلُ إِلاَّ وَہُوَ طَاہِرٌ ، وَلاَ یُؤَذِّنَ إِلاَّ وَہُوَ قَائِمٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار یابیٹھ کر اذان دینا
(١٨٤١) نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر (رض) بعض اوقات اپنی سواری پر بیٹھ کر صبح کی اذان دیتے تھے، پھر زمین پر کھڑے ہو کر اقامت کہتے۔
(۱۸۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ الْعُمَرِیُّ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ رُبَّمَا أَذَّنَ عَلَی رَاحِلَتِہِ الصُّبْحَ ثُمَّ یُقِیمُ بِالأَرْضِ۔ [حسن لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار یابیٹھ کر اذان دینا
(١٨٤٢) أبی طعمۃ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر (رض) سواری پر اذان دیتے تھے۔
(۱۸۴۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ أَبِی طُعْمَۃَ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یُؤَذِّنُ عَلَی رَاحِلَتِہِ۔

وَرُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ مُرْسَلٌ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار یابیٹھ کر اذان دینا
(١٨٤٣) حسن سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو سفر میں حکم دیا، انھوں نے اپنی سواری پر اذان دی، پھر نیچے اترے، دو رکعتیں پڑھیں، پھر ان کو حکم دیا گیا تو انھوں نے اقامت کہی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں صبح کی نماز پڑھائی۔
(۱۸۴۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنِ الْحَسَنِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمْرَ بِلاَلاً فِی سَفَرٍ فَأَذَّنَ عَلَی رَاحِلَتِہِ ، ثُمَّ نَزَلُوا فَصَلَّوْا رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ فَصَلَّی بِہِمُ الصُّبْحَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار یابیٹھ کر اذان دینا
(١٨٤٤) (الف) حسن بن محمد سے روایت ہے کہ میں ابو زید انصاری کے پاس گیا، انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی اور وہ بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص آگے بڑھا اور ہمیں نماز پڑھائی اور وہ لنگڑا تھا، اس کا پاؤں اللہ کے راستے میں زخمی ہوگیا تھا۔

(ب) عطاء بن أبی رباح سے منقول ہے کہ وہ ناپسند سمجھتے تھے کہ اذان بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر دے۔
(۱۸۴۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی أَبِی زَیْدٍ الأَنْصَارِیِّ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَہُوَ جَالِسٌ قَالَ وَتَقَدَّمَ رَجُلٌ فَصَلَّی بِنَا وَکَانَ أَعْرَجَ أُصِیبَ رِجْلُہُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ تَعَالَی۔

وَرُوِّینَا عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّہُ قَالَ یُکْرَہُ أَنْ یُؤَذِّنَ قَاعِدًا إِلاَّ مِنْ عُذْرٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان میں ترجیع کا بیان
(١٨٤٥) سیدنا ابی محذورہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یہ اذان سکھائی : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ پھر دوبارہ کہتے أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ دو مرتبہ اور حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ دو مرتبہ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہ۔
(۱۸۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الإِمَامُ أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَیْرِیزٍ عَنْ أَبِی مَحْذُورَۃَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- عَلَّمَہُ ہَذَا الأَذَانَ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ثُمَّ یَعُودُ فَیَقُولُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ مَرَّتَیْنِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ مَرَّتَیْنِ ، اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ ہِشَامٍ۔

[حسن۔ أخرجہ مسلم ۳۷۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان میں ترجیع کا بیان
(١٨٤٦) عبداللہ بن محیریز فرماتے ہیں، وہ أبی محذورہ (رض) کی پرورش میں تھے : جب میں نے شام کی طرف تیاری کی تو میں نے سیدنا ابو محذورہ (رض) سے کہا : اے چچا ! میں شام کی طرف جا رہا ہوں اور مجھے ڈر ہے کہ مجھ سے آپ کی اذان کے متعلق پوچھا جائے، اے ابو محذورہ ! مجھے بتلائیے، انھوں نے فرمایا : ٹھیک ہے؛ میں ایک جماعت میں نکلا، ہم حنین کے راستے میں تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین سے واپس لوٹے تو ہمیں راستے میں ملے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مؤذن نے اذان دی، ہم نے مؤذن کی آواز سنی اور ہم ایک دوسرے کی جانب متوجہ تھے، ہم شور و غل مچا رہتے تھے، اس کی حکایت بیان کرتے تھے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنا تو ہماری طرف کسی کو بھیجا یہاں تک کہ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کون ہے جس کی میں نے آواز سنی اس کی آواز اس قدربلند تھی ؟ ساری قوم نے میری طرف اشارہ کیا اور انھوں نے سچ کہا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھڑے ہو جاؤ اور نماز کے لیے اذان میں کھڑے ہو اور (اس وقت) ا میرے نزدیک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور وہ چیز جس کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا سب ناپسندیدہ تھیں۔

میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بذات خود مجھے اذان سکھائی اور فرمایا : کہہ : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : دوبارہ لوٹا اور اپنی آواز کو بلندکر، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہہ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا جس وقت میں نے اذان پوری کرلی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ کو ایک تھیلی دی جس میں چاندی کی کوئی چیز تھی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ میری پیشانی پر رکھا، اور اس کو اس کے چہرے سے گذارا پھر میرے پستانوں کے درمیان سے، پھر میرے جگر سے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ میرے پیٹ تک پہنچ گیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت ڈالے اور تجھ پر برکت ڈالے، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھ کو مکہ میں اذان دینے کی اجازت دیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے آپ کو اجازت دے دی۔ تو ہر وہ چیز چلی گئی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجھے ناپسندیدہ تھی اور تمام کی تمام محبت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے لوٹ آئی، میں عتاب بن اسید کے سامنے کھڑا ہوا جو رسول اللہ کے عامل تھے، میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے نماز کی اذان کہی۔
(۱۸۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی مَحْذُورَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مُحَیْرِیزٍ أَخْبَرَہُ وَکَانَ یَتِیمًا فِی حَجْرِ أَبِی مَحْذُورَۃَ حِینَ تَجَہَّزَ إِلَی الشَّامِ فَقُلْتُ لأَبِی مَحْذُورَۃَ: أَیْ عَمِّ إِنِّی خَارِجٌ إِلَی الشَّامِ ، وَإِنِّی أَخْشَی أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِینِکَ فَأَخْبِرْنِی أَبَا مَحْذُورَۃَ قَالَ: نَعَمْ خَرَجْتُ فِی نَفَرٍ فَکُنَّا بِبَعْضِ طَرِیقِ حُنَیْنٍ ، فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ حُنَیْنٍ فَلَقِیَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی بَعْضِ الطَّرِیقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِالصَّلاَۃِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ مُتَنَکِّبُونَ ، فَصَرَخْنَا نَحْکِیہِ وَنَسْتَہْزِئُ بِہِ ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَرْسَلَ إِلَیْنَا إِلَی أَنْ وَقَفْنَا بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَیُّکُمُ الَّذِی سَمِعْتُ صَوْتَہُ قَدِ ارْتَفَعَ))۔ فَأَشَارَ الْقَوْمُ کُلُّہُمْ إِلَیَّ وَصَدَقُوا ، فَأَرْسَلَ کُلَّہُمْ وَحَبَسَنِی فَقَالَ: ((قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلاَۃِ))۔ فَقُمْتُ وَلاَ شَیْئَ أَکْرَہُ إِلَیَّ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَلاَ مِمَّا یَأْمُرُنِی بِہِ ، فَقُمْتُ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَلْقَی عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- التَّأْذِینَ ہُوَ بِنَفْسِہِ فَقَالَ: ((قُلِ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ))۔ ثُمَّ قَالَ لِی: ((ارْجِعْ فَامْدُدْ مِنْ صَوْتِکَ))۔ ثُمَّ قَالَ: ((قُلْ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ))۔ ثُمَّ دَعَانِی حِینَ قَضَیْتُ التَّأْذِینَ فَأَعْطَانِی صُرَّۃً فِیہَا شَیْئٌ مِنْ فِضَّۃٍ ، ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ عَلَی نَاصِیَۃِ أَبِی مَحْذُورَۃَ ، ثُمَّ أَمَرَّہَا عَلَی وَجْہِہِ ثُمَّ مِنْ بَیْنِ ثَدْیَیْہِ ، ثُمَّ عَلَی کَبِدِہِ ، ثُمَّ بَلَغَتْ یَدُہُ سُرَۃَ أَبِی مَحْذُورَۃَ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((بَارَکَ اللَّہُ فِیکَ ، وَبَارَکَ عَلَیْکَ))۔ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ مُرْنِی بِالتَّأْذِینِ بِمَکَّۃَ۔ فَقَالَ: ((قَدْ أَمَرْتُکَ بِہِ))۔ وَذَہَبَ کُلُّ شَیْئٍ کَانَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ کَرَاہِیَۃٍ ، وَعَادَ ذَلِکَ کُلُّہُ مَحَبَّۃً لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَقَدِمْتُ عَلَی عَتَّابِ بْنِ أَسِیدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَذَّنْتُ بِالصَّلاَۃِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔

قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ وَأَخْبَرَنِی ذَلِکَ مَنْ أَدْرَکْتُ مِنْ آلِ أَبِی مَحْذُورَۃَ عَلَی نَحْوِ مَا أَخْبَرَنِی ابْنُ مُحَیْرِیزٍ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَأَدْرَکْتُ إِبْرَاہِیمَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی مَحْذُورَۃَ یُؤَذِّنُ کَمَا حَکَی ابْنُ مُحَیْرِیزٍ وَسَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ عَنْ أَبِی مَحْذُورَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَعْنَی مَا حَکَی ابْنُ جُرَیْجٍ۔

وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُوعَاصِمٍ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [حسن۔ أخرجہ النسائی ۶۳۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان میں ترجیع کا بیان
(١٨٤٧) سیدنا ابومحذورہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں دس بچوں میں حنین کی طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلا، انھوں نے اذان دی اور ہم بھی کھڑے ہو کر مذاقاً اذان کہنے لگے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ان بچوں کو میرے پاس لاؤ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اذان دو ، انھوں نے اذان دی اور میری آواز ان میں سب سے زیادہ بلند تھی آپ نے فرمایا : ہاں یہی وہ ہے جس کی میں نے آواز سنی تھی تو جا اور مکہ والوں کے لیے اذان کہہ اور عتاب بن اسید کو کہنا کہ مجھ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے کہ میں اہل مکہ کے لیے اذان دوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو کہہ : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہدو مرتبہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ دو مرتبہ، پھر دوبارہ کہہ : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ دو مرتبہ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ دو مرتبہ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ دو مرتبہ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ دو مرتبہ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ اور جب تو اقامت کہے تو دو مرتبہ یہ کہہ : قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ ۔
(۱۸۴۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو یَحْیَی السَّمَرْقَنْدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ حَدَّثَنِی عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ مَوْلاَہُمْ عَنْ أَبِیہِ الشَّیْخِ مَوْلَی أَبِی مَحْذُورَۃَ وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی مَحْذُورَۃَ أَنَّہُمَا سَمِعَا مِنْ أَبِی مَحْذُورَۃَ قَالَ: خَرَجْتُ فِی عَشْرَۃِ فِتْیَانٍ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- إِلَی حُنَیْنٍ فَأَذَّنُوا وَقُمْنَا نُؤَذِّنُ مُسْتَہْزِئِینَ بِہِمْ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ-: ((ائْتُونِی بِہَؤُلاَئِ الْفِتْیَانِ))۔ فَقَالَ: أَذِّنُوا۔ فَأَذَّنُوا وَکُنْتُ أَحَدَّہُمْ صَوْتًا ، فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((نَعَمْ ہَذَا الَّذِی سَمِعْتُ صَوْتَہُ ، اذْہَبْ فَأَذِّنْ لأَہْلِ مَکَّۃَ ، وَقُلْ لِعَتَّابِ بْنِ أَسِیدٍ أَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ أَنْ أُؤَذِّنَ لأَہْلِ مَکَّۃَ)) وَقَالَ ((قُلِ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ مَرَّتَیْنِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ مَرَّتَیْنِ ، ثُمَّ ارْجِعْ فَقُلْ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ مَرَّتَیْنِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ مَرَّتَیْنِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ مَرَّتَیْنِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ مَرَّتَیْنِ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَإِذَا أَقَمْتَ فَقُلْہَا مَرَّتَیْنِ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ النسائی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان میں ترجیع کا بیان
(١٨٤٨) سیدنا ابو محذورہ (رض) اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے اذان کا طریقہ سکھائیں، فرماتے ہیں : آپ نے میرے سرکے اگلے حصے پر مسح کیا اور فرمایا : تو کہہ : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اپنی آواز کو بلند کر پھر کہہ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ اپنی آواز کو پست رکھ پھر شہادۃ کے ساتھ اپنی آواز کو بلند کر۔ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ اگر صبح کی نماز ہو تو کہہ الصَّلاَۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ ، الصَّلاَۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ ، اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔
(۱۸۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی مَحْذُورَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ عَلِّمْنِی سُنَّۃَ الأَذَانَ قَالَ فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِی وَقَالَ: تَقُولُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، تَرْفَعُ بِہَا صَوْتَکَ ، ثُمَّ ((تَقُولُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، تَخْفِضُ بِہَا صَوْتَکَ ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَکَ بِالشَّہَادَۃِ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ، فَإِنْ کَانَ صَلاَۃُ الصُّبْحِ قُلْتَ: الصَّلاَۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ ، الصَّلاَۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ))۔

وَقَدْ رُوِیَ فِی بَعْضِ الرِّوَایَاتِ عَنْ أَبِی مَحْذُورَۃَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ الرُّجُوعُ إِلَی کَلِمَۃِ التَّکْبِیرِ بَعْدَ الشَّہَادَتَیْنِ وَلَیْسَ ذَلِکَ بِقَوِیٍّ مَعَ مُخَالَفَتِہِ الرِّوَایَاتِ الْمَشْہُورَۃَ وَعَمَلَ أَہْلِ الْحِجَازِ۔

[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۵۰۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان میں ترجیع کا بیان
(١٨٤٩) عمار بن سعد اپنے باپ سعد قرظ سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے بلال کی اذان اور اقامت سنی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم فرمائی تھی : وہ یہ ہے :

اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ پھر دوبارہ کہے : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنْ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ اور اقامت ایک ایک مرتبہ کہتے تھے اور قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ بھی ایک مرتبہ۔
(۱۸۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عَائِذٍ الْقَرَظِ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ وَعَمَّارُ وَعُمَرُ ابْنَا حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ سَعْدٍ الْقَرَظِ أَنَّہُ سَمِعَہُ یَقُولُ: إِنَّ ہَذَا الأَذَانَ یَعْنِی أَذَانَ بِلاَلٍ الَّذِی أَمَرَہُ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَإِقَامَتَہُ وَہُوَ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، ثُمَّ یَرْجِعُ فَیَقُولُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنْ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَالإِقَامَۃُ وَاحِدَۃٌ وَاحِدَۃٌ وَیَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ مَرَّۃً وَاحِدَۃً۔

کَذَا فِی الْکِتَابِ وَغَیْرُہُ یَرْوِیہِ عَنِ الْحُمَیْدِیِّ فَیَذْکُرُ التَّکْبِیرَ فِی صَدْرِ الأَذَانِ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ یَرْوِیہِ الْحُمَیْدِیُّ فِی حَدِیثِ أَبِی مَحْذُورَۃَ أَرْبَعًا۔ (ق) وَنَأْخُذُ بِہِ لأَنَّہُ زَائِدٌ۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ الحاکم ۳/۷۰۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح میں مڑنا
(١٨٥٠) سیدنا ابو جحیفہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابطح جگہ پر سرخ قبیّ میں تھے، ہماری طرف بلال (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر آئے تو ہم پانی کے چھینٹے ما رہے تھے کہ انھوں نے اذان دی، میں شروع ہوا میں ان کے منہ کے ساتھ ساتھ ادھر، ادھرپھرتا تھا۔
(۱۸۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- وَہُوَ فِی قُبَّۃٍ حَمْرَائَ بِالأَبْطَحِ ، فَخَرَجَ إِلَیْنَا بِلاَلٌ بِفَضْلِ وَضُوئِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَبَیْنَ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ مِنْہُ قَالَ فَأَذَّنَ بِلاَلٌ فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاہُ ہَا ہُنَا وَہَا ہُنَا۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۵۰۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح میں مڑنا
(١٨٥١) سیدنا ابو جحیفہ (رض) اپنے والد سے حدیث نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے وضو کیا اور بلال (رض) نے اذان دی، میں ان کے منہ کے ساتھ ادھر ادھر پڑہتا رہا اور وہ دائیں اور بائیں منہ موڑ کر کہتے تھے : حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ۔
(۱۸۵۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِی جُحَیْفَۃَ عَنْ أَبِیہِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ قَالَ: فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلاَلٌ فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاہُ ہَا ہُنَا وَہَا ہُنَا یَقُولُ یَمِینًا وَشِمَالاً یَقُولُ: حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ وَکِیعٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح میں مڑنا
(١٨٥٢) عون بن أبی جحیفۃ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا بلال (رض) کو دیکھا جو ابطح مقام کی طرف نکلے، انھوں نے اذان دی جب حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ پر پہنچے تو اپنی گردن دائیں اور بائیں جانب موڑی لیکن گھومے نہیں، پھر داخل ہوئے اور نیزہ نکالا۔۔۔ یہ روایت قیس نے بیان کی ہے : حجاج بن ارطاۃ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی اذان میں گھومے تھے۔
(۱۸۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی حَدَّثَنَا قَیْسٌ یَعْنِی ابْنَ الرَّبِیعِ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: رَأَیْتُ بِلاَلاً خَرَجَ إِلَی الأَبْطَحِ فَأَذَّنَ ، فَلَمَّا بَلَغَ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ لَوَی عُنُقَہُ یَمِینًا وَشِمَالاً ، وَلَمْ یَسْتَدِرْ ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ الْعَنَزَۃَ وَسَاقَ حَدِیثَہُ۔

ہَکَذَا رَوَاہُ قَیْسٌ۔ وَخَالَفَہُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ فَقَالَ: وَاسْتَدَارَ فِی أَذَانِہِ۔ [منکر۔ أخرجہ أبو داؤد ۵۲۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح میں مڑنا
(١٨٥٣) (الف) عون بن ابو جحیفۃ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابطح جگہ پر سرخ جبہ پہنے ہوئے تھے، پھر بلال (رض) نکلے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے وضو کے لیے پانی رکھا، پھر اذان دی اور اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں اور اپنے کانوں میں گھمائیں۔ (ب) اس بات کا احتمال ہے کہ حجاج راوی نے گھومنے سے مراد التفات لیا ہو اور یہ احتمال باقی تمام راویوں کے موافق ہے۔ (ج) حجاج بن ارطاۃ قابل حجت نہیں، اللہ تعالیٰ ہماری اور اس کی بخشش فرمائے۔ (د) عبدالرزاق نے سفیان ثوری سے انھوں نے عون بن ابو جحیفہ سے حدیث میں مدرج کلام نقل کیا ہے۔ سفیان نے جامع میں ان الفاظ کو عن رجل سے بیان کیا ہے۔ انھوں نے عون کا ذکر نہیں کیا۔

(س) حماد بن سلمہ نے عون بن ابو جحیفہ سے مرسل روایت بیان کی ہے اور اس میں عَنْ أَبِیْہِ کے الفاظ نہیں تھے۔ واللہ اعلم۔
(۱۸۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ بِالأَبْطَحِ فِی قُبَّۃٍ حَمْرَائَ ، ثُمَّ خَرَجَ بِلاَلٌ فَوَضَعَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- طَہُورًا ، ثُمَّ أَذَّنَ وَوَضَعَ إِصْبَعَیْہِ فِی أُذُنَیْہِ ، وَاسْتَدَارَ فِی أَذَانِہِ۔

وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الْحَجَّاجُ أَرَادَ بِالاِسْتَدَارَۃِ الْتِفَاتِہِ فِی حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ فَیَکُونُ مُوافِقًا لِسَائِرِ الرُّوَاۃِ۔ (ج) وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ لَیْسَ بِحَجَّاجٍ وَاللَّہُ یَغْفِرُ لَنَا وَلَہُ۔

وَقَدْ رَوَاہُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ مُدْرَجًا فِی الْحَدِیثِ وَسُفْیَانُ إِنَّمَا رَوَی ہَذِہِ اللَّفْظَۃَ فِی الْجَامِعِ رِوَایَۃِ الْعَدَنِیِّ عَنْہُ عَنْ رَجُلٍ لَمْ یُسَمِّہِ عَنْ عَوْنٍ۔

وَرُوِیَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ مُرْسَلاً لَمْ یَقُلْ عَنْ أَبِیہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن ماجہ ۷۱۱]
tahqiq

তাহকীক: