আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ১৮৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کے وقت اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈالنا
(١٨٥٤) عون بن أبی جحیفۃ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا بلال (رض) کو اذان دیتے ہوئے دیکھا، انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں رکھیں ہوئی تھیں اور وہ اپنی اذان میں دائیں بائیں مڑتے تھے۔
(۱۸۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّوْرَقِیُّ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: رَأَیْتُ بِلاَلاً یُؤَذِّنُ وَقَدْ جَعَلَ أَصْبَعَیْہِ فِی أُذُنَیْہِ وَہُوَ یَلْتَوِی فِی أَذَانِہِ یَمِینًا وَشِمَالاً۔ [صحیح۔ أخرجہ الترمذی ۱۹۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کے وقت اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈالنا
(١٨٥٥) عبد الرحمن بن سعد بن عمار بن سعد اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا کہ اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کرے۔ ان کی اقامت قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ ایک مرتبہ تھا۔
(۱۸۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَ بِلاَلاً أَنْ یُدْخِلَ أَصْبَعَیْہِ فِی أُذُنَیْہِ ، وَکَانَتْ إِقَامَتُہُ مُفْرَدَۃً: قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ مَرَّۃً وَاحِدَۃً۔

[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن ماجہ ۷۱۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کے وقت اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈالنا
(١٨٥٦) سیدنا بلال (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کہ فرمایا : جب تو اذان دے تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لے یہ وہ تیری آواز کو بلند کردیں گی۔
(۱۸۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنِ حَیَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رُسْتَہْ وَأَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی عَاصِمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ کَاسِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعُمَرَ وَعَمَّارٍ ابْنِی حَفْصٍ عَنْ آبَائِہِمْ عَنْ أَجْدَادِہِمْ عَنْ بِلاَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ لَہُ: ((إِذَا أَذَّنْتَ فَاجْعَلْ أَصْبَعَیْکَ فِی أُذُنَیْکَ ، فَإِنَّہُ أَرْفَعُ لِصَوْتِکَ))۔ [ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۱۰۷۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کے وقت اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈالنا
(١٨٥٧) (الف) ابن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا کہ وہ اذان دے، انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیکھ رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا انکار نہیں کیا، اس دن سے یہ سنت جاری ہوگئی۔

(ب) ابن سیرین سے روایت ہے کہ بلال (رض) نے اپنی اذان یا اقامت میں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں۔
(۱۸۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ عِیسَی بْنِ حَارِثَۃَ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِلاَلاً أَنْ یُؤَذِّنَ فَجَعَلَ أَصْبَعَیْہِ فِی أُذُنَیْہِ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَنْظُرُ إِلَیْہِ فَلَمْ یُنْکِرْ ذَلِکَ ، فَمَضَتِ السُّنَّۃُ مِنْ یَوْمِئِذٍ۔

وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ سِیرِینَ: أَنَّ بِلاَلاً جَعَلَ أَصْبَعَیْہِ فِی أُذُنَیْہِ فِی بَعْضِ أَذَانِہِ أَوْ فِی إِقَامَتِہِ۔ [ضعیف جدًا]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف باوضو شخص اذان دے
(١٨٥٨) (الف) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” صرف باوضو شخص اذان دے۔ “

(ب) زہری سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : نماز کی اذان صرف باوضو شخص دے۔
(۱۸۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَارِثِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ یَحْیَی عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ: ((لاَ یُؤَذِّنُ إِلاَّ مُتَوَضِّئٌ))۔ ہَکَذَا رَوَاہُ مُعَاوِیَۃُ بْنُ یَحْیَی الصَّدَفِیُّ۔ (ج) وَہُوَ ضَعِیفٌ۔

وَالصَّحِیحُ رِوَایَۃُ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ الأَیْلِیِّ وَغَیْرِہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: لاَ یُنَادِی بِالصَّلاَۃِ إِلاَّ مُتَوَضِّئٌ۔ [منکر۔ أخرجہ الترمذی ۲۰۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف باوضو شخص اذان دے
(١٨٥٩) (الف) عبد الجبار بن وائل اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حق اور سنت یہ ہے کہ صرف باوضوشخص کھڑے ہو کر اذان دے۔ (ب) عبدالجبار بن وائل اپنے والد سے مرسل روایت نقل کرتے ہیں۔ یہ عطاء بن ابی رباح کا قول ہے۔ ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ وہ بغیر وضو اذان دینے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے، یہی قول حسن بصری اور قتادہ کا ہے ، لیکن وضو کے ساتھ اذان مستحب ہے یہ بات کتاب الطہارۃ میں گزر چکی ہے۔
(۱۸۵۹) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنِ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُمَیْرُ بْنُ عِمْرَانَ الْعَلاَّفُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُتْبَۃَ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: حَقٌّ وَسُنَّۃٌ مَسْنُونَۃٌ أَنْ لاَ یُؤَذِّنُ إِلاَّ وَہُوَ طَاہِرٌ وَلاَ یُؤَذِّنُ إِلاَّ وَہُوَ قَائِمٌ۔

عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ عَنْ أَبِیہِ مُرْسَلٌ۔ (ق) وَہُوَ قَوْلُ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ وَقَالَ إِبْرَاہِیمُ النَّخَعِیُّ کَانُوا لاَ یَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ یُؤَذِّنَ الرَّجُلُ عَلَی غَیْرِ وُضُوئٍ۔ وَبِہِ قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِیُّ وَقَتَادَۃُ وَالْکَلاَمُ فِیہِ یَرْجِعُ إِلَی اسْتِحْبَابِ الطَّہَارَۃِ فِی الأَذْکَارِ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الطَّہَارَۃِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان میں آواز کو بلند کرنا
(١٨٦٠) (الف) سیدنا ابوسعید خدری (رض) فرماتے تھے کہ میں تجھ کو دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور دیہات کو پسند کرتے ہو، لہٰذا جب تم اپنی بکریوں یا دیہات میں ہو تو نماز کے لیے اذان کہو اور اذان میں اپنی آواز کو بلند کرو، یقیناً موذن کی آواز کو جن، انسان اور جو چیز بھی سنتی ہے، وہ قیامت کے دن اس کی گواہی دیں گے۔

ابو سعید کہتے ہیں : میں نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے۔

(ب) عبد الرحمن بن عبداللہ بن أبی صعصعہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابو سعید خدری (رض) نے ان سے کہا : تو نماز کے لیے اذان دے اور اپنی آواز کو بلند کر اس لیے کہ وہ آپ کی بلند آواز نہیں سن پاتے۔
(۱۸۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی صَعْصَعَۃَ الأَنْصَارِیِّ ثُمَّ الْمَازِنِیِّ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ قَالَ: إِنِّی أَرَاکَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِیَۃَ ، فَإِذَا کُنْتَ فِی غَنَمِکَ أَوْ بَادِیَتِکَ فَأَذَّنْتَ لِلصَّلاَۃِ فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالنِّدَائِ ، فَإِنَّہُ لاَ یَسْمَعُ مَدَی صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلاَ إِنْسٌ وَلاَ شَیْئٌ إِلاَّ شَہِدَ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ قَالَ أَبُو سَعِیدٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔

لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ۔

وَفِی حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی صَعْصَعَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ قَالَ لَہُ وَقَالَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلاَۃِ فَارْفَعْ صَوْتَکَ فَإِنَّہُ لاَ یَسْمَعُ مَدَی صَوْتِکَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۱۲۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان میں آواز کو بلند کرنا
(١٨٦١) شعبہ فرماتے ہیں اور وہ کوفہ کے لمبے مینار پر اذان دیتے تھے : مجھ کو ابو یحییٰ نے بیان کیا اور میں ان کے ساتھ چکر لگا رہا تھا (یعنی بیت اللہ کا طواف کررہا تھا) انھوں نے کہا میں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے سنا ہے کہ موذن کو اس کی آواز کی لمبائی کی مقدار معاف کردیا جاتا ہے اور ہر تر اور خشک چیز اس کے لیے گواہی دیتی ہے اور نماز میں حاضر ہونے والے کے لیے پچیس نیکیاں لکھ دیں جاتی ہیں اور ان (نمازوں) کے درمیان (کے گناہوں کے لیے) کفارہ ہوجاتا ہے۔
(۱۸۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عُثْمَانَ قَالَ شُعْبَۃُ: وَکَانَ یُؤَذِّنُ عَلَی أَطْوَلِ مَنَارَۃٍ بِالْکُوفَۃِ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو یَحْیَی وَأَنَا أَطُوفُ مَعَہُ یَعْنِی حَوْلَ الْبَیْتِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَسَمِعْتُہُ مِنْ فِیہِ یَقُولُ: ((الْمُؤَذِّنُ یُغْفَرُ لَہُ مَدَّ صَوْتِہِ ، وَیَشْہَدُ لَہُ کُلُّ رَطْبٍ وَیَابِسٍ ، وَشَاہِدُ الصَّلاَۃِ یُکْتَبُ لَہُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَۃً وَیُکَفَّرُ عَنْہُ مَا بَیْنَہُمَا))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ أبو داؤد ۵۱۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان میں آواز کو بلند کرنا
(١٨٦٢) سیدنا ابو محذورہ (رض) سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر (رض) مکہ آئے تو میں نے اذان دی، مجھ کو عمر (رض) نے فرمایا : اے ابو محذورہ ! کیا تو ڈر گیا کہ زور لگانے سے تیری آواز پھٹ جائے گی۔
(۱۸۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدِ بْنُ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ أَبِی مَحْذُورَۃَ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عُمَرُ مَکَّۃَ أَذَّنْتُ فَقَالَ لِی عُمَرُ: یَا أَبَا مَحْذُورَۃَ أَمَا خِفْتَ أَنْ یَنْشَقَّ مُرَیْطَاؤُکَ۔ [حسن۔ أخرجہ عبد الرزاق ۲۰۶۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان میں کلام کرنا جس میں لوگوں کو فائدہ ہو
(١٨٦٣) عبداللہ بن حارث سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس (رض) نے ہمیں ردغ والے دن خطبہ دیا، جب موذن حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ پر پہنچے تو اس کو حکم دیا کہ اذان میں یوں کہے : الصَّلاَۃُ فِی الرِّحَالِ ” نماز گھروں میں ادا کرلو “ لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے کی طرف دیکھا تو انھوں نے فرمایا : تم اس کا انکار کر رہے ہو، یہ اس (ذات) نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر ہے اور وہ عزیمت (کے کاموں ) میں سے ہے۔
(۱۸۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ وَعَاصِمٍ الأَحْوَلِ وَعَبْدِ الْحَمِیدِ صَاحِبِ الزِّیَادِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ فِی یَوْمٍ ذِی رَدْغٍ ، فَلَمَّا بَلَغَ الْمُؤَذِّنُ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ أَمَرَہُ أَنْ یُنَادِیَ الصَّلاَۃُ فِی الرِّحَالِ ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ فَقَالَ: کَأَنَّکُمْ أَنْکَرْتُمْ ہَذَا ، قَدْ فَعَلَ ہَذَا مَنْ ہُوَ خَیْرٌ مِنِّی وَإِنَّہَا عَزْمَۃٌ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٌ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ وَعَاصِمٍ وَمِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۹۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان میں کلام کرنا جس میں لوگوں کو فائدہ ہو
(١٨٦٤) نعیم بن نحام کہتے ہیں کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ ایک ٹھنڈی صبح میں اس کی چادر میں تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعلان کرنے والے نے صبح کی نماز کی طرف بلایا، جب میں نے سنا تو میں نے کہا : کاش ! اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہتے : اور جو بیٹھ جائے تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے ؟ جب اس نے کہا : الصَّلاَۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ تو اس نے کہا : اور جو بیٹھ جائے (اس پر) کوئی حرج نہیں۔
(۱۸۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ الْبَزَّارُ بِدِمَشْقَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ حَبِیبِ بْنِ أَبِی الْعِشْرِینَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ قَالَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیُّ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیَّ حَدَّثَہُ عَنْ نُعَیْمِ بْنِ النَّحَّامِ قَالَ: کُنْتُ مَعَ امْرَأَتِی فِی مِرْطِہَا فِی غَدَاۃٍ بَارِدَۃٍ فَنَادَی مُنَادِی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی صَلاَۃِ الصُّبْحِ ، فَلَمَّا سَمِعْتُ قُلْتُ لَوْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَمَنْ قَعَدَ فَلاَ حَرَجَ ، فَلَمَّا قَالَ: الصَّلاَۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ قَالَ: وَمَنْ قَعَدَ فَلاَ حَرَجَ۔ [صحیح لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان میں کلام کرنا جس میں لوگوں کو فائدہ ہو
(١٨٦٥) سلیمان بن صرد سے روایت ہے یہ صحابی ہیں، یہ لشکر میں اذان دیتے تھے اور اس دوران اپنے غلام کو کسی کام کا حکم بھی دے دیتے تھے۔
(۱۸۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ السِّیرَافِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ الأَنْصَارِیِّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ صُرَدٍ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ: أَنَّہُ کَانَ یُؤَذِّنُ بِالْعَسْکَرِ فَیَأْمُرُ غُلاَمَہُ بِالْحَاجَۃِ وَہُوَ فِی أَذَانِہِ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کے آخر تک گفتگوکو مؤخر کرنا مستحب ہے
(١٨٦٦) نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر (رض) نے ایک ٹھنڈی رات کو ضجنان جگہ پر اذان دی، پھر کہا : صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ اپنے گھروں میں نماز پڑھو اور فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منادی کرنے والے کو حکم دیتے تھے تو وہ نماز کی منادی کرتا (یعنی اذان کہتا) پھر اس کے بعد منادی کرتا کہ ٹھنڈی رات یا بارش والی رات کو اپنے گھروں میں نماز پڑھو۔
(۱۸۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الأَحْمَسِیُّ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَذَّنَ لَیْلَۃً بِضَجْنَانَ فِی لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ ثُمَّ قَالَ: صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ ثُمَّ أَخْبَرَہُمْ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَأْمُرُ الْمُنَادِیَ فَیُنَادِی بِالصَّلاَۃِ ، ثُمَّ یُنَادِی فِی إِثْرِہَا: أَنْ صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ فِی اللَّیْلَۃِ الْبَارِدَۃِ أَوِ اللَّیْلَۃِ الْمَطِیرَۃِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۶۳۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کے آخر تک گفتگوکو مؤخر کرنا مستحب ہے
(١٨٦٧) نافع نے بیان کیا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) نے ٹھنڈی رات میں ضجنان جگہ پر عشا کی اذان دی اور اس کے بعد کہا آگاہ رہو نماز اپنے گھروں میں پڑھو اور ہمیں بتلایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موذن کو حکم دیا کرتے تھے کہ اذان کے بعد یہ کلمات کہے کہ ٹھنڈی یا بارش والی رات کو اپنے گھروں میں نماز پڑھو۔
(۱۸۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا حَدَّثَنَا أَبُوالْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ وَالْحَدِیثُ لِمُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ قَالَ حَدَّثَنِی نَافِعٌ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ أَذَّنَ لَیْلَۃً بِالْعِشَائِ بِضَجْنَانَ فِی لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ وَقَالَ عَلَی إِثْرِ ذَلِکَ: أَلاَ صَلُّوا فِی الرِّحَالِ۔ وَأَخْبَرَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ- کَانَ یَأْمُرُ مُؤَذِّنًا أَنْ یُؤَذِّنَ عَلَی إِثْرِ ذَلِکَ: أَلاَ صَلُّوا فِی الرِّحَالِ فِی اللَّیْلَۃِ الْبَارِدَۃِ أَوْ الْمَطِیرَۃِ فِی السَّفَرِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کے آخر تک گفتگوکو مؤخر کرنا مستحب ہے
(١٨٦٨) نعیم بن نحام جو بنی عدی بن کعب سے تھے فرماتے ہیں کہ ٹھنڈے دن میں صبح کی اذان دی گئی اور وہ اپنی بیوی کی چادر میں تھے، انھوں نے کہا : کاش کہ منادی کرنے والایہ بھی کہہ دے اور جو کوئی گھر بیٹھ جائے تو کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مؤذن نے اذان کے آخر میں منادی کی جو (گھر) بیٹھ جائے تو کوئی حرج نہیں اور یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ تھا۔
(۱۸۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ نُعَیْمِ بْنِ النَّحَّامِ مِنْ بَنِی عَدِیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: نُودِیَ بِالصُّبْحِ فِی یَوْمٍ بَارِدٍ وَہُوَ فِی مِرْطِ امْرَأَتِہِ فَقَالَ: لَیْتَ الْمُنَادِیَ یُنَادِی: وَمَنْ قَعَدَ فَلاَ حَرَجَ۔ فَنَادَی مُنَادِی النَّبِیِّ -ﷺ- فِی آخِرِ أَذَانِہِ وَمَنْ قَعَدَ فَلاَ حَرَجَ ، وَذَلِکَ فِی زَمَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔

تَابَعَہُ الأَوْزَاعِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: فَلَمَّا قَالَ: الصَّلاَۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ قَالَ وَمَنْ قَعَدْ فَلاَ حَرَجَ۔

[صحیح لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اذان دے اور اقامت کوئی دوسرا کہے
(١٨٦٩) زیاد بن حارث صدائی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے فجر کی اذان دی تو سیدنا بلال (رض) آئے وہ اقامت کہنے لگے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بلال ! صداء کے بھائی نے اذان دی ہے اور جو اذان دے وہی اقامت کہے۔
(۱۸۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ قَالَ عَلِیٌّ وَحَدَّثَنِی جَامِعُ بْنُ سَوَادَۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ نُعَیْمٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِیَّ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَذَّنْتُ بِالْفَجْرِ ، فَجَائَ بِلاَلٌ یُقِیمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا بِلاَلُ إِنَّ أَخَا صُدَائَ أَذَّنَ وَمَنْ أَذَّنَ فَہُوَ یُقِیمُ))۔

وَلَہُ شَاہِدٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ وَفِی إِسْنَادِہِ ضَعْفٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اذان دے اور اقامت کوئی دوسرا کہے
(١٨٧٠) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ایک سفر میں تھے کہ نماز کا وقت ہوگیا، لوگوں نے پڑاؤ ڈالا اور بلال (رض) کو تلاش کیا تو وہ نہ ملے پھر ایک شخص کھڑا ہوا اور اذان دی، پھر بلال (رض) آئے تو لوگوں نے کہا : اذان ایک دوسرے شخص نے دی ہے اور لوگ ٹھہرے رہے، پھر بلال (رض) نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں فرمایا : اے بلال ! رک جا اقامت وہی کہے جو اذان دے۔
(۱۸۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَمِیلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ الْمُقْرِئُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ رَاشِدٍ الْمَازِنِیُّ حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ فِی مَسِیرٍ لَہُ فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ ، فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَطَلَبُوا بِلاَلاً فَلَمْ یَجِدُوہُ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَأَذَّنَ ، ثُمَّ جَائَ بِلاَلٌ فَقَالَ الْقَوْمُ إِنَّ رَجُلاً قَدْ أَذَّنَ فَمَکَثَ الْقَوْمُ ہَوْنًا ، ثُمَّ إِنَّ بِلاَلاً أَرَادَ أَنْ یُقِیمَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((مَہْلاً یَا بِلاَلُ فَإِنَّمَا یُقِیمُ مَنْ أَذَّنَ))۔

تَفَرَّدَ بِہِ سَعِیدُ بْنُ رَاشِدٍ وَہُوَ ضَعِیفٌ۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اذان دے اور اقامت کوئی دوسرا کہے
(١٨٧١) عبد العزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے ابو محذورہ (رض) کو دیکھا وہ آئے اور ان سے پہلے کسی شخص نے اذان دے دی پھر انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی۔
(۱۸۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنِی الشَّیْبَانِیُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ قَالَ: رَأَیْتُ أَبَا مَحْذُورَۃَ جَائَ وَقَدْ أَذَّنَ إِنْسَانٌ قَبْلَہُ فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ۔

وَہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ شَاہِدٌ لَمَّا تَقَدَّمَ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۲۲۴۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اذان دے اور اقامت کوئی دوسرا کہے
(١٨٧٢) سیدنا عبداللہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے خواب میں اذان کا طریقہ دیکھا، پھر وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات بتلائی، فرماتے ہیں کہ بلال (رض) نے اذان دی اور میرے چچا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے بھی خواب دیکھا اور بلال (رض) اذان دے رہے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو کھڑا ہو، پھر میرے چچا نے اقامت کہی۔
(۱۸۷۲) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْوَاقِفِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ عَمِّہِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ: أَنَّہُ رَأَی الأَذَانَ فِی الْمَنَامِ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ قَالَ فَأَذَّنَ بِلاَلٌ قَالَ وَجَائَ عَمِّی إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَرَی الرُّؤْیَا وَیُؤَذِّنُ بِلاَلٌ۔ قَالَ: ((فَأَقِمْ أَنْتَ))۔ فَأَقَامَ عَمِّی۔

ہَکَذَا رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو۔

وَرَوَاہُ مَعْنٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْوَاقِفِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ۔

قَالَ الْبُخَارِیُّ: فِیہِ نَظَرٌ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الطیالسی ۳/۱۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اذان دے اور اقامت کوئی دوسرا کہے
(١٨٧٣) سیدنا عبداللہ بن زید اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی کہ میں نے کس طرح اذان دیکھی ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بلال (رض) کو سکھا دے، اس کی آواز تجھ سے زیادہ ہے۔ “ جب بلال (رض) نے اذان دی تو سیدنا عبداللہ (رض) پریشان ہوئے، انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی۔
(۱۸۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النِّجَّادُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ أَبِی الْعُمَیْسِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَخْبَرْتُہُ کَیْفَ رَأَیْتُ الأَذَانَ فَقَالَ: ((أَلْقِہِ عَلَی بِلاَلٍ ، فَإِنَّہُ أَنْدَی مِنْکَ صَوْتًا))۔ فَلَمَّا أَذَّنَ بِلاَلٌ نَدِمَ عَبْدُ اللَّہِ ، فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَقَامَ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ أَبُو الْعُمَیْسِ۔

وَرُوِیَ عَنْ زَیْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ کَذَلِکَ۔ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ الْفَقِیہُ یُضَعِّفُ ہَذَا الْحَدِیثِ بِمَا سَبَقَ ذِکْرُہُ۔ وَبِمَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক: