আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ১৮৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اذان دے اور اقامت کوئی دوسرا کہے
(١٨٧٤) سیدنا ابو عمیر بن انس فرماتے ہیں کہ مجھ کو میرے پھوپھا جان جو انصار ی تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی تھے نے بیان فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہتمام کیا۔۔۔ اس میں ہے کہ عبداللہ بن زید ان دنوں میں بیمار تھے اور انصار گمان کرتے تھے کہ وہ مریض نہیں تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں مؤذن بنادیا۔
(۱۸۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ أَبِی عُمَیْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ حَدَّثَنِی عُمُومَۃٌ لِی مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالُوا: اہْتَمَّ النَّبِیُّ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَقَالَ فِیہِ: وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیْدٍ مَرِیضًا یَوْمَئِذٍ ، وَالأَنْصَارُ تَزْعُمُ أَنَّہُ لَوْ لَمْ یَکُنْ مَرِیضًا لَجَعَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُؤَذِّنًا۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَلَوْ صَحَّ حَدِیثُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ وَصَحَّ حَدِیثُ الصُّدَائِیِّ کَانَ الْحُکْمُ لِحَدِیثِ الصُّدَائِیِّ لِکَوْنِہِ بَعْدَ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٨٧٥) جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ (رض) کے پاس آئے اور عرض کیا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کے متعلق خبردی۔۔۔ اس میں ہے پھر بلال (رض) نے اذان دی اور اقامت کہی، ظہر کی نماز ادا کی، پھر اقامت کہی اور عصر کی نماز پڑھی اور ان کے درمیان کچھ نہیں پڑھا، پھر سوار ہوئے اور جب مزدلفہ آئے تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مراد لے رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو اق امتوں اور ایک اذان سے مغرب اور عشا کی نماز ادا کی۔

(ب) صحیح مسلم میں ہے کہ اس حدیث میں ادراج ہے۔
(۱۸۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: أَتَیْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِی عَنْ حَجَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔

فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَقَالَ فِیہِ: ثُمَّ أَذَّنَ بِلاَلٌ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الظُّہْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ وَلَمْ یُصَلِّ بَیْنَہُمَا ، ثُمَّ رَکِبَ قَالَ فَلَمَّا أَتَی الْمُزْدَلِفَۃَ یُرِیدُ النَّبِیَّ -ﷺ- صَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَیْنِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ مُدْرَجًا فِی الْحَدِیثَ الطَّوِیلِ فِی حَجَّۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَیُقَالُ ہَذَا الْقَدْرُ مِنَ الْحَدِیثِ مُرْسَلٌ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٨٧٦) (الف) جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ جگہ پر ظہر اور عصر کی نماز ایک اذان اور دو اق امتوں سے پڑھی اور ان کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی اور مغرب اور عشا کی نماز مزدلفہ میں ایک اذان اور دو اق امتوں سے پڑھی اور ان کے درمیان کوئی (کوئی) نماز نہیں پڑھی۔ (ب) ابوداؤد فرماتے ہیں : یہ حدیث حاتم بن اسماعیل نے بیان کی ہے اور امام حاتم نے اس کی موافقت کی ہے۔ سیدنا جابر (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب اور عشا کی نماز ایک اذان اور ایک اقامت سے پڑھی۔ (ج) امام ابوداؤد (رح) فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل (رح) کا قول ہے کہ حاتم نے اس لمبی حدیث میں غلطی کی ہے۔ (د) شیخ فرماتے ہیں کہ حاتم کی روایت کی طرح حفص بن غیاث عن جعفر والی روایت بھی ہے۔
(۱۸۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ الْمَعْنَی وَاحِدٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- صَلَّی الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ بِعَرَفَۃَ ، وَلَمْ یُسَبِّحْ بَیْنَہُمَا وَإِقَامَتَیْنِ ، وَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِجَمْعٍ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَیْنِ وَلَمْ یُسَبِّحْ بَیْنَہُمَا۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ ہَذَا الْحَدِیثُ أَسْنَدَہُ حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ فِی الْحَدِیثِ الطَّوِیلِ وَوَافَقَ حَاتِمًا عَلَی إِسْنَادِہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْجُعْفِیِّ عَنْ جَعْفَرِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعَتَمَۃَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَۃٍ۔

(ج) قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ لِی أَحْمَدُ یَعْنِی ابْنَ حَنْبَلٍ أَخْطَأَ حَاتِمٌ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ الطَّوِیلِ۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رَوَاہُ حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ جَعْفَرٍ کَمَا رَوَاہُ حَاتِمٌ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ أبو داؤد ۱۹۰۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٨٧٧) سیدنا جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغرب اور عشا کی نماز ایک اذان اور دو اق امتوں سے پڑھی۔
(۱۸۷۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- صَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَیْنِ۔

وَرُوِیَ فِی الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِجَمْعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَاخْتُلِفَ عَلَیْہِ فِی ذَلِکَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٨٧٨) سالم بن عبداللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاکو جمع کیا اور ہر ایک میں اذان نہیں دی صرف اقامت کہی اور ان کے درمیان نفلی نماز نہیں پڑھی اور نہ ہی ان کے بعد کچھ پڑھا۔
(۱۸۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِیُّ بِمِصْرَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِالْمُزْدَلِفَۃِ، وَلَمْ یُنَادِ فِی کُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا إِلاَّ بِإِقَامَۃٍ ، وَلَمْ یُسَبِّحْ بَیْنَہُمَا وَلاَ عَلَی إِثْرِ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۵۸۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٨٧٩) زہری اسی معنی میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ نے ایک ایک اقامت کے ساتھ دونوں جمع کیا۔ وکیع کہتے ہیں : ہر نماز ایک اقامت سے پڑھی۔
(۱۸۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ بِمَعْنَاہُ وَقَالَ: بِإِقَامَۃٍ إِقَامَۃٍ جَمَعَ بَیْنَہُمَا۔ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَ وَکِیعٌ: صَلَّی کُلَّ صَلاَۃٍ بِإِقَامَۃٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۹۲۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٨٨٠) حماد نے اسی معنی میں بیان کیا ہے۔ اس میں ہے کہ ہر نماز کے لیے ایک اقامت کہی اور شروع میں اذان نہیں دی اور نہ ہی ان کے بعد نفلی نماز پڑھی۔ (ب) مخلد کہتے ہیں کہ دونوں کے لیے اذان نہیں کہی۔ اسی طرح سالم بن عبداللہ اپنے والد نقل فرماتے ہیں اور یہ ابن عمر (رض) کی صحیح ترین روایت ہے۔
(۱۸۸۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الْمَعْنَی عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ بِإِسْنَادِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ عَنْ حَمَّادٍ وَمَعْنَاہُ وَقَالَ: بِإِقَامَۃٍ وَاحِدَۃٍ لِکُلِّ صَلاَۃٍ وَلَمْ یُنَادِ فِی الأُولَی وَلَمْ یُسَبِّحْ عَلَی إِثْرِ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا۔

قَالَ مَخْلَدٌ قَالَ: لَمْ یُنَادِ فِی وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا ہَکَذَا رِوَایَۃُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ وَہِیَ أَصَحُّ الرِّوَایَاتِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ وَرَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ کَمَا۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۹۲۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٨٨١) سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ہم ابن عمر (رض) کے ساتھ لوٹے، انھوں نے ایک اقامت کے ساتھ مغرب کی تین اور عشا کی دو رکعتیں ادا کیں، پھر فرمایا : اس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جگہ پر ہمیں نماز پڑھائی تھی۔

(ب) صحیح مسلم میں سیدنا سعید بن جبیر سے اسی کے ہم معنی روایت منقول ہے۔
(۱۸۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: أَفَضْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَصَلَّی بِنَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِإِقَامَۃٍ وَاحِدَۃٍ ثَلاَثًا وَرَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ قَالَ: ہَکَذَا صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی ہَذَا الْمَکَانِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ وَسَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ بِمَعْنَاہُ۔

وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ کَمَا۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۲۸۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٨٨٢) عبداللہ بن مالک ازدی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر (رض) کے ساتھ مزدلفہ جگہ پر مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں ایک اقامت کے ساتھ ادا کیں۔ انھیں مالک بن خالد نے کہا : اے ابو عبد الرحمن ! یہ کیسی نماز ہے ؟ انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس جگہ پر ایک اقامت کے ساتھ نماز پڑھی ہے۔
(۱۸۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو صَادِقٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ الصَّیْدَلاَنِیُّ مِنْ أَصْلِہِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَالِکٍ الأَزْدِیِّ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ الْمَغْرِبَ بِجَمْعٍ ثَلاَثًا وَالْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ بِإِقَامَۃٍ وَاحِدَۃٍ۔ فَقَالَ لَہُ مَالِکُ بْنُ خَالِدٍ: مَا ہَذِہِ الصَّلاَۃُ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: صَلَّیْتُہُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی ہَذَا الْمَکَانِ بِإِقَامَۃٍ وَاحِدَۃٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۹۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٨٨٣) سعید بن جبیر اور عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عمر (رض) کے ساتھ مزدلفہ میں ایک اقامت کے ساتھ مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کیں۔
(۱۸۸۳) وَرَوَاہُ شَرِیکٌ الْقَاضِی عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَالِکٍ قَالاَ: صَلَّیْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِإِقَامَۃٍ وَاحِدَۃٍ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَنْبَارِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ یَعْنِی ابْنَ یُوسُفَ عَنْ شَرِیکٍ فَذَکَرَہُ۔

وَرَوَاہُ إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ فَخَالَفَ غَیْرَہُ فِی مَتْنِہِ۔ [صحیح لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٨٨٤) عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کے ساتھ مزدلفہ میں ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ اکٹھی نماز ادا کیں۔ خالد بن مالک نے ان سے کہا : اے ابو عبد الرحمن ! یہ کیسی نماز ہے ؟ انھوں نے کہا : اس جگہ پر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ (اسی طرح) نمازیں ادا کیں۔
(۱۸۸۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ ابْنِ عُمَرَ صَلاَتَیْنِ بِجَمْعٍ بِأَذَانٍ وَإِقَامَۃٍ جَمِیعًا ، فَقَالَ لَہُ خَالِدُ بْنُ مَالِکٍ: مَا ہَذِہِ الصَّلاَۃُ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: صَلَّیْتُہُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی ہَذَا الْمَکَانِ۔

رِوَایَۃُ الثَّوْرِیِّ وَشَرِیکٍ أَصَحُّ لِمُوَافَقَتِہِمَا رِوَایَۃَ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، وَرِوَایَۃُ سَعِیدٍ یُحْتَمَلُ أَنْ تَکُونَ مُوَافِقَۃً لِرِوَایَۃِ سَالِمٍ مِنْ حَیْثُ أَنَّہُ أَرَادَ إِقَامَۃً وَاحِدَۃً لِکُلِّ صَلاَۃٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ نَحْوُ رِوَایَۃِ إِسْرَائِیلَ۔ [صحیح لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٨٨٥) (الف) اشعث بن سلیم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر (رض) کے ساتھ عرفات سے مزدلفہ آیا، ہم مسلسل اللہ اکبر اور لا الٰہ الا اللہ کا ذکر کرتے ہوئے مزدلفہ تک آئے انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی یا کسی شخص کو حکم دیا، اس نے اذان دی اور اقامت کہی، پھر انھوں نے ہمیں مغرب کی تین رکعتیں پڑھائیں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے، پھر عشا کی نماز ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر رات کا کھانا منگوایا۔ (ب) علاج بن عمرو کی حدیث میں ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھی۔ (ج) سیدنا عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے عشا کے وقت میں دو نمازیں الگ الگ ایک اذان اور ایک اقامت سے پڑھیں۔
(۱۸۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَیْمٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَی الْمُزْدَلِفَۃِ ، فَلَمْ یَکُنْ یَفْتُرُ مِنَ التَّکْبِیرِ وَالتَّہْلِیلِ حَتَّی أَتَیْنَا الْمُزْدَلِفَۃَ ، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ أَوْ أَمَرَ إِنْسَانًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ، فَصَلَّی بِنَا الْمَغْرِبَ ثَلاَثَ رَکَعَاتٍ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیْنَا فَقَالَ: الصَّلاَۃَ فَصَلَّی بِنَا الْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِہِ۔

قَالَ وَأَخْبَرَنِی عِلاَجُ بْنُ عَمْرٍو بِمِثْلِ حَدِیثِ أَبِی عَنِ ابْنِ عُمَرَ فَقِیلَ لاِبْنِ عُمَرَ فِی ذَلِکَ فَقَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- ہَکَذَا۔

وَرُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّہُمَا صَلَّیَا کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِنَ الصَّلاَتَیْنِ فِی وَقْتِ الْعِشَائِ مَفْصُولَتَیْنِ بِأَذَانٍ وَإِقَامَۃٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۹۳۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٨٨٦) اسود اور عبد الرحمن بن یزید سے روایت ہے کہ ان میں سے ایک سیدنا عمر (رض) کے ساتھ تھا اور دوسرا عبداللہ (رض) کے ساتھ تھا۔ دونوں نے ذکر کیا کہ ان دونوں حضرات نے عشا کی نماز نہیں پڑھی یہاں تک مزدلفہ میں پڑاؤ ڈالا، پھر انھوں نے ایک اذان اور ایک اقامت سے مغرب کی نماز پڑھی، پھر رات کا کھانا کھایا، پھر دونوں نے ایک اذان اور ایک اقامت سے (عشا کی) نماز پڑھی۔
(۱۸۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعُمَیْسِ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ: أَنَّ أَحَدَہُمَا صَحِبَ عُمَرَ وَالآخِرَ صَحِبَ عَبْدَ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَذَکَرَا عَنْہُمَا أَنَّہُمَا لَمْ یُصَلِّیَا الْمَغْرِبَ حَتَّی نَزَلاَ جَمْعًا ، فَصَلَّیَا الْمَغْرِبَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَۃٍ ثُمَّ تَعَشَّیَا ثُمَّ صَلَّیَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَۃٍ۔ ہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٨٨٧) عبد الرحمن بن یزید سے روایت ہے کہ میں ابن مسعود (رض) کے ساتھ مکہ کی طرف نکلا۔۔۔ فرماتے ہیں : پھر ہم مزدلفہ آئے تو انھوں نے ہمیں دو نمازیں پڑھائیں، ہر نماز ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ پڑھائی اور کھانا ان دو نمازوں کے درمیان کھایا۔
(۱۸۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ یَعْنِی ابْنَ خَالِدٍ الْوَہْبِیَّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ إِلَی مَکَّۃَ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ: ثُمَّ قَدِمْنَا جَمْعًا فَصَلَّی بِنَا الصَّلاَتَیْنِ کُلَّ صَلاَۃٍ وَحْدَہَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَۃٍ وَالْعَشَائَ بَیْنَہُمَا۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ رَجَائٍ عَنْ إِسْرَائِیلَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۵۹۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٨٨٨) ابو اسحاق سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے ایک شخص کو حکم دیا اس نے اذان دی اور اقامت کہی، پھر مغرب کی نماز پڑھائی اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، پھر رات کا کھانا منگوایا، پھر حکم دیا میرا گمان ہے کہ زہیر کو شک ہواپھر انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی، پھر عشا کی دو رکعتیں ادا کیں۔
(۱۸۸۸) وَرَوَاہُ زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: فَأَمَرَ رَجُلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ، ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ وَصَلَّی بَعْدَہَا رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِہِ ثُمَّ أَمَرَ - أَرَی شَکَّ زُہَیْرٌ - فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ الآخِرَۃَ رَکْعَتَیْنِ۔

أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَۃَ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِیُّ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ یَزِیدَ یَقُولُ: حَجَّ عَبْدُ اللَّہِ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَذَکَرَ فِیہِ مَا قَدَّمْنَا ذِکْرَہُ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۵۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٨٨٩) سیدنا ابی ایوب انصاری (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب کی تین رکعتیں اور عشا کی دو رکعتیں ادا کیں، دونوں نمازیں ایک اذان اور ایک اقامت سے اکٹھی ادا کی گئیں۔
(۱۸۸۹) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَیْبٍ الزَّمْہَرَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ: أَنَّہُ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِجَمْعٍ صَلاَۃَ الْمَغْرِبِ ثَلاَثَ رَکَعَاتٍ ، وَصَلاَۃَ الْعَشَائِ رَکْعَتَیْنِ ، فَصَلاَّہُمَا جَمِیعًا بِأَذَانٍ وَإِقَامَۃٍ وَاحِدَۃٍ۔ کَذَا رَوَاہُ جَابِرٌ الْجُعْفِیُّ۔

(ج) وَجَابِرٌ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٨٩٠) سیدنا ابو ایوب (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب اور عشا کی نماز ایک اقامت سے پڑھی اور اذان کا ذکر نہیں کیا۔
(۱۸۹۰) وَرَوَاہُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ أَنَّہُ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِمُزْدَلِفَۃَ صَلاَۃَ الْمَغْرِبِ وَصَلاَۃَ الْعِشَائِ بِإِقَامَۃٍ وَاحِدَۃٍ ، لَمْ یَذْکُرِ الأَذَانَ۔

حَدَّثَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَۃَ فَذَکَرَہُ۔

وَالْحَسَنُ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔ [ضعیف جدًا]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فوت شدہ نمازوں کے درمیان اذان اور اقامت کو جمع کرنا
(١٨٩١) (الف) سیدنا عبد الرحمن بن ابی سعید خدری (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم کو خندق کے دن نماز سے روک دیا گیا یہاں تک کہ مغرب کے بعد جب رات چھا گئی تو ہمیں وقت ملا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے { وَکَفَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللَّہُ قَوِیًّا عَزِیزًا } [الاحزاب : ٢٥] تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے نماز کی اقامت کہی تو آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی اچھے انداز کے ساتھ نماز پڑھائی جس طرح پڑھا کرتے تھے۔ پھر حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح عصر کی نماز پڑھائی، پھر ان کو حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح مغرب کی نماز پڑھائی، پھر ان کو حکم دیا اور اسی طرح عشا کی نماز پڑھائی اور یہ حکم خوف کی نماز نازل ہونے سے پہلے ہے۔ { فَرِجَالاً أَوْ رُکْبَانًا }[البقرۃ : ٢٣٩]

(ب) امام شافعی نے قول جدید میں ابن ابی ذئب سے اسی کے ہم معنی نقل کیا ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا تو انھوں نے ہر نماز کے لیے اقامت کہی۔

(ج) ابن أبی ذئب سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا تو انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر انھیں حکم دیا، انھوں نے اقامت کہی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھائی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی نماز پڑھائی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز پڑھائی۔

(د) اسی طرح ابو عبیدہ بن عبداللہ بن مسعود اپنے والد سے منقول دو روایات میں سے ایک میں فرماتے ہیں، لیکن انھوں اپنے سے نقل نہیں کیا۔ یہ روایت مرسل ہے۔
(۱۸۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: حُبِسْنَا یَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلاَۃِ حَتَّی کَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ بِہَوِیٍّ مِنَ اللَّیْلِ حَتَّی کُفِینَا ، وَذَلِکَ قَوْلُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {وَکَفَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللَّہُ قَوِیًّا عَزِیزًا} فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِلاَلاً فَأَقَامَ الصَّلاَۃَ فَصَلَّی الظُّہْرَ ، فَأَحْسَنَ صَلاَتَہَا کَمَا کَانَ یُصَلِّیہَا ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ کَذَلِکَ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ کَذَلِکَ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ کَذَلِکَ ، وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یُنْزِلَ اللَّہُ تَعَالَی فِی صَلاَۃِ الْخَوْفِ {فَرِجَالاً أَوْ رُکْبَانًا}[البقرۃ: ۲۳۹]

وَہَکَذَا رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ فِی الْجَدِیدِ عَنِ ابْنِ أَبِی فُدَیْکٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ وَرَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ بِمَعْنَاہُ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِلاَلاً فَأَقَامَ لِکُلِّ صَلاَۃٍ إِقَامَۃً۔

وَرَوَاہُ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ لَمْ یُسَمِّ أَحَدًا مِنْہُمْ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّی الظُّہْرَ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ۔

وَہَکَذَا رَوَاہُ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِیہِ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ إِلاَّ أَنَّ أَبَا عُبَیْدَۃَ لَمْ یُدْرَکْ أَبَاہُ وَہُوَ مُرْسَلٌ جَیِّدٌ۔ [صحیح۔ أخرجہ النسائی ۶۶۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فوت شدہ نمازوں کے درمیان اذان اور اقامت کو جمع کرنا
(١٨٩٢) (الف) ابی عبیدہ سے روایت ہے کہ عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ مشرکین نے خندق کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چار نمازوں سے مشغول کردیا، یہاں تک کہ رات کا کافی حصہ گزر گیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا تو انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی۔ آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب کی نماز پڑھائی ‘ پھر انھوں نے اقامت کہی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز پڑھائی۔

(ب) ہشام دستوائی نے ابو زبیر سے روایت کی ہے انمیں اذان سے متعلق اختلاف کیا گیا۔ بعض نے ان سے یاد کیا اور بعض نے نہیں۔ امام اوزاعی ابو زبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ بعض نے بعض کی ایک ایک اقامت میں متابعت کی ہے۔
(۱۸۹۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ: جُنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جُنَاحٍ الْقَاضِی بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: إِنَّ الْمُشْرِکِینَ شَغَلُوا النَّبِیَّ -ﷺ- عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ یَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّی ذَہَبَ مِنَ اللَّیْلِ مَا شَائَ اللَّہُ ، فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ، فَصَلَّی الظُّہْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ۔

ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ ہُشَیْمِ بْنِ بَشِیرٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ۔

وَرَوَاہُ ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ وَاخْتُلِفَ عَلَیْہِ فِی الأَذَانِ مِنْہُمْ مَنْ حَفِظَہُ عَنْہُ وَمِنْہُمْ مَنْ لَمْ یَحْفَظْہُ، وَرَوَاہُ الأَوْزَاعِیُّ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ فَقَالَ: یُتَابِعُ بَعْضُہَا بَعْضًا بِإِقَامَۃٍ إِقَامَۃٍ۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ الترمذی ۱۷۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فوت شدہ نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنا
(١٨٩٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس وقت غزوہ خیبر سے لوٹے ۔۔۔ اس میں ہے : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور بلال (رض) نے حکم دیا تو انھوں نے نماز کی اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو صبح کی نماز پڑھائی۔
(۱۸۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَۃِ خَیْبَرَ ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ قَالَ: ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الصَّلاَۃَ فَصَلَّی بِہِمُ الصُّبْحَ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ ، وَلَیْسَ فِیہِ ذِکْرُ الأَذَانِ وَلَمْ یَذْکُرْ فِیہِ الأَذَانَ أَحَدٌ مَعَ الْوَصْلِ غَیْرُ أَبَانَ الْعَطَّارِ عَنْ مَعْمَرٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۶۸۰]
tahqiq

তাহকীক: