আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ১৮৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فوت شدہ نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنا
(١٨٩٤) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے ساتھ پڑاؤ ڈالا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر سے لوٹے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون ہماری نماز کی حفاظت کرے گا ؟ بلال (رض) نے کہا : میں، (رات کو) وہ سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بلال ! آپ سو گئے تھے ؟ انھوں نے کہا : میری جان کو اس نے پکڑ لیا جس کو آپ کی جانوں نے پکڑا تھا (یعنی نیند نے) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا تو انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی جگہ سے کوچ کرو یہاں تم کو غفلت پہنچی ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے اگر کوئی نماز بھول جائے تو جب اس کو یاد آئے وہ پڑھ لے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا : { أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِذِکْرِی }

(ب) مؤطا میں زہری نے ابن مسیب سے مرسلاًنقل کیا ہے اور اس میں اذان کا ذکر کیا ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ اس قصے میں اذان کا کہنا صحیح اور ثابت ہے۔
(۱۸۹۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعِیدٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: عَرَّسَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِنَا مَرْجِعَہُ مِنْ خَیْبَرَ فَقَالَ: مَنْ یَحْفَظُ عَلَیْنَا الصَّلاَۃَ؟ ۔ فَقَالَ بِلاَلٌ: أَنَا۔ فَنَامُوا حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا بِلاَلُ نِمْتَ؟))۔ قَالَ: أَخَذَ بِنَفْسِی الَّذِی أَخَذَ بِأَنْفَاسِکُمْ ، فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((تَحَوَّلُوا عَنْ مَکَانِکُمُ الَّذِی أَصَابَتْکُمْ فِیہِ الْغَفْلَۃُ))۔ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ نَسِیَ صَلاَۃً فَلْیُصَلِّہَا إِذَا ذَکَرَہَا ، فَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ {أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِذِکْرِی})) ۔

وَرَوَاہُ مَالِکٌ فِی الْمَوْطَإِ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ مُرْسَلاً وَذَکَرَ فِیہِ الأَذَانَ۔ وَالأَذَانُ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ صَحِیحٌ ثَابِتٌ قَدْ رَوَاہُ غَیْرُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فوت شدہ نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنا
(١٨٩٥) سیدنا ابی قتادہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چلے، بعض لوگ کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کاش ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ساتھ پڑاؤ کریں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے خوف ہے کہیں کہ تم نماز سے سو نہ جاؤ، بلال (رض) نے کہا : میں آپ کو بیدار کردوں گا ، لوگوں نے پڑاؤ کیا اور آرام کے لیے لیٹ گئے اور بلال (رض) نے بھی سواری کے ساتھ ٹیک لگا لی آپ (رض) پر غالب آگئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بیدار ہوئے تو سورج کا کنارہ طلوع ہوچکا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بلال ! کہاں ہے جو تو نے کہا تھا ؟ بلال (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھ پر اس طرح کی نیند کبھی بھی نہیں ڈالی گئی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بلال ! کھڑے ہو اور لوگوں کو نماز کی اطلاع دو ، انھوں نے وضو کیا جب سورج بلند اور سفید ہوگیا تو آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔
(۱۸۹۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ و أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: سَرَیْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لَیْلَۃً فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَقَالَ: ((إِنِّی أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلاَۃِ))۔ فَقَالَ بِلاَلٌ: أَنَا أُوقِظُکُمْ۔ فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَاضْطَجَعُوا ، وَأَسْنَدَ بِلاَلٌ ظَہْرَہُ إِلَی رَاحِلَتِہِ فَغَلَبَتْہُ عَیْنَاہُ ، فَاسْتَیْقَظَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا بِلاَلُ أَیْنَ مَا قُلْتَ))۔ قَالَ بِلاَلٌ: یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا أُلْقِیَتْ عَلَیَّ نَوْمَۃٌ مِثْلُہَا قَطُّ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ اللَّہَ قَبَضَ أَرْوَاحَکُمْ حِینَ شَائَ ، وَرَدَّہَا إِلَیْکُمْ حِینَ شَائَ))۔ ثُمَّ قَالَ: ((یَا بِلاَلُ قُمْ فَآذِنِ النَّاسَ بِالصَّلاَۃِ))۔ فَتَوَضَّأَ ، فَلَمَّا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ وَابْیَضَّتْ قَامَ فَصَلَّی۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَیْلٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۷۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فوت شدہ نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنا
(١٨٩٦) (الف) عبداللہ بن رباح ابو قتادہ اس نیند کے متعلق جب کہ سورج طلوع ہوچکا تھا طویل حدیث بیان فرماتے ہیں۔ اس میں ہے کہ پھر بلال (رض) نے نماز کے لیے اذان کہی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں صبح کی نماز پڑھائی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح کیا جس طرح ہر روز کیا کرتے تھے۔

(ب) سلیمان سے روایت ہے کہ پھر بلال (رض) نے نماز کے لیے اذان دی۔
(۱۸۹۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنِی ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ فِی نَوْمِہِمْ عَنِ الصَّلاَۃِ حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَفِیہِ: ثُمَّ نَادَی بِلاَلٌ بِالصَّلاَۃِ ، فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ صَلَّی صَلاَۃَ الْغَدَاۃِ ، فَصَنَعَ کَمَا کَانَ یَصْنَعُ کُلَّ یَوْمٍ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ عَنْ سُلَیْمَانَ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: ثُمَّ أَذَّنَ بِلاَلٌ بِالصَّلاَۃِ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فوت شدہ نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنا
(١٨٩٧) سیدنا عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے اور انھوں نے نماز سے سو جانے کے متعلق حدیث بیان کی اور فرمایا : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے تو ہم نے اس کی شکایت کی جو ہم کو پہنچی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی نقصان نہیں ہے عوف کو شک ہوا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیر کے الفاظ بولے ہیں یا ضرر کے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہاں سے کوچ کرو اور آپ خودبھی سوار ہوئے اور چل پڑے لیکن تھوڑی دور چلنے کے بعد آپ اترے اور پانی منگوایا، لوگوں کو نماز کے لیے پکارا گیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
(۱۸۹۷) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ: الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِی جَمِیلَۃَ عَنْ أَبِی رَجَائٍ الْعُطَارِدِیِّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: کُنَّا فِی سَفَرٍ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی نَوْمِہِمْ عَنِ الصَّلاَۃِ قَالَ فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ شَکَوْنَا إِلَیْہِ الَّذِی أَصَابَنَا فَقَالَ: لاَ ضَیْرَ أَوْ لاَ ضَرَرَ ۔ شَکَّ عَوْفٌ فَقَالَ: ارْتَحِلُوا ۔ فَارْتَحَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَسَارَ غَیْرَ بَعِیدٍ ، فَنَزَلَ فَدَعَا بِوَضُوئٍ وَنَادَی بِالصَّلاَۃِ فَصَلَّی بِالنَّاسِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَیْلٍ عَنْ عَوْفٍ۔

[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۳۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فوت شدہ نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنا
(١٨٩٨) سیدنا عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ نماز سے سو گئے، حتی کہ سورج طلوع ہوگیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے اذان دی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انتظار کیا یہاں تک کہ سورج بلند ہوگیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو نماز پڑھائی۔
(۱۸۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ فِی سَفَرٍ فَنَامَ عَنِ الصَّلاَۃِ حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَالَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّی اسْتَعَلَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ فَصَلَّی بِہِمْ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ہِشَامٌ عَنِ الْحَسَنِ۔ [صحیح لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فوت شدہ نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنا
(١٨٩٩) سیدنا ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چلے پھر انھوں نے نماز سے سو جانے کے متعلق حدیث بیان کی، یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ اس میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی۔
(۱۸۹۹) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ عَنْ زَائِدَۃَ عَنْ سِمَاکٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سِرْنَا لَیْلَۃً مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی نَوْمِہِمْ عَنِ الصَّلاَۃِ حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَقَالَ فِیہِ: فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ احمد ۱/۴۵۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فوت شدہ نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنا
(١٩٠٠) عمرو بن امیہ ضمری سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کسی سفر میں تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے اور صبح کی نماز نہیں پڑھی، یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ میں سے کوئی بھی بیدار نہیں ہوا، جب سورج کی گرمی نے ان کو تکلیف دی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ اس جگہ سے کوچ کر جائیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے اذان دی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی دو رکعتیں پڑھی اور اپنے صحابہ کو حکم دیا، انھوں نے بھی فجر کی دو رکعتیں پڑھی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا تو انھوں نے نماز کی اقامت کہی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی۔
(۱۹۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ أَخْبَرَنَا عَیَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ کُلَیْبَ بْنَ صُبَیْحٍ حَدَّثَہُ أَنَّ الزِّبْرِقَانَ حَدَّثَہُ عَنْ عَمِّہِ عَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ ، فَنَامَ وَلَمْ یُصَلِّ الصُّبْحَ حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَلَمْ یَسْتَیْقِظْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِہِ حَتَّی آذَاہُمْ حَرُّ الشَّمْسِ، فَأَمَرَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَتَنَحَّوْا عَنْ ذَلِکَ الْمَکَانِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ ، ثُمَّ صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ ، وَأَمَرَ أَصْحَابَہُ فَصَلَّوْا رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الصَّلاَۃَ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ (ت) وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَذِی مِخْبَرٍ الْحَبَشِیِّ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مَرْفُوعًا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۴۴۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فوت شدہ نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنا
(١٩٠١) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ زبید بن صلت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ جرف کی طرف نکلے۔ انھوں نے دیکھا کہ ان کو احتلام ہوگیا ہے۔ کہنے لگے : اللہ کی قسم ! میں گمان نہیں کرتا تھا مجھے احتلام ہوگیا ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں تھا اور میں نے بغیر غسل کیے نماز پڑھی۔ پھر انھوں نے غسل کیا اور جو اپنے کپڑوں میں دیکھا اس کو دھویا اور جو نہیں دیکھا اس پر چھینٹے مارے، پھر اذان دی اور اقامت کہی، پھر انھوں نے سورج کے بلند کے ہونے کے بعد اطمینان سے نماز ادا کی۔
(۱۹۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ زُیَیْدَ بْنَ الصَّلْتِ خَرَجَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی الْجُرْفِ ، فَنَظَرَ فَإِذَا ہُوَ قَدِ احْتَلَمَ فَقَالَ: وَاللَّہِ مَا أَظُنُّ إِلاَّ وَأَنَّی قَدِ احْتَلَمْتُ وَمَا شَعَرْتُ ، وَصَلَّیْتُ وَمَا اغْتَسَلْتُ۔ قَالَ: فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَی فِی ثَوْبِہِ وَنَضَحَ مَا لَمْ یَرَ ، وَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّی بَعْدَ ارْتِفَاعِ الضُّحَی مُتَمَکِّنًا۔ [ضعیف۔ أخرجہ عبد الرزاق ۳۶۴۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکیلے اور جماعت کی حالت میں فرضی نمازوں کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٩٠٢) سیدنا انس (رض) سے روایت کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت حملہ کرتے تھے جب فجر طلوع ہوجاتی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اذان سنتے تھے، اگر اذان سنتے تو رک جاتے اور اگر نہ سنتے تو حملہ کردیتے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص سے سنا کہہ رہا تھا : اللہ اکبر اللہ اکبر۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ فطرت پر ہے پھر اس نے کہا : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آگ سے نکل گیا۔ صحابہ نے دیکھا وہ چراوہا تھا اور الگ بیٹھا ہوا تھا۔
(۱۹۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِینِیُّ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُغِیرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ ، وَکَانَ یَسْتَمِعُ الأَذَانَ ، فَإِنْ سَمِعَ الأَذَانَ أَمْسَکَ وَإِلاَّ أَغَارَ قَالَ فَسَمِعَ رَجُلاً یَقُولُ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((عَلَی الْفِطْرَۃِ))۔ ثُمَّ قَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ ۔ قَالَ: فَنَظَرُوا فَإِذَا ہُوَ رَاعِی مِعْزَی۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی خَیْثَمَۃَ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۸۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکیلے اور جماعت کی حالت میں فرضی نمازوں کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٩٠٣) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز فجر کے وقت حملہ کرتے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سنتے تھے، اگر اذان کی آواز سن لیتے تو رک جاتے اور اگر نہ سنتے تو حملہ کردیتے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن آواز سنی کہ کوئی کہہ رہا تھا اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ فطرت پر ہے اس نے کہا : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔ آپ نے فرمایا : تو آگ سے نکل گیا۔
(۱۹۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ وَمُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُغِیرُ عِنْدَ صَلاَۃِ الْفَجْرِ ، فَکَانَ یَسْتَمِعُ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَکَ وَإِلاَّ أَغَارَ ، فَاسْتَمَعَ ذَاتَ یَوْمٍ فَسَمِعَ رَجُلاً یَقُولُ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الْفِطْرَۃَ الْفِطْرَۃَ))۔ فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔ فَقَالَ : خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی خَیْثَمَۃَ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکیلے اور جماعت کی حالت میں فرضی نمازوں کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٩٠٤) سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، اچانک ہم نے اعلان کرنے والے کو سنا جو کہہ رہاتھا : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَر، ُ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فطرت پر ہے۔ اس نے کہا : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آگ سے نکل گیا۔ فرماتے ہیں : ہم نے اس کی طرف جلدی کی تو وہ مویشی ولاا تھا۔ نماز کا وقت ہوگیا تو اس نے آواز دی۔
(۱۹۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ إِذْ سَمِعْنَا مُنَادِیًا یَقُولُ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: عَلَی الْفِطْرَۃِ۔ فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((خَرَجَ مِنَ النَّارِ))۔ قَالَ: فَابْتَدَرْنَاہُ فَإِذَا ہُوَ صَاحِبُ مَاشِیَۃٍ أَدْرَکَتْہُ الصَّلاَۃُ فَنَادَی بِہَا۔

[صحیح۔ أخرجہ احمد ۱/۴۰۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکیلے اور جماعت کی حالت میں فرضی نمازوں کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٩٠٥) عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ تیرا رب بکریوں کے چروا ہے سے پہاڑ کی بلندی چوٹی میں تعجب کرتا ہے جو نماز کی اذان دیتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے اس بندے کی طرف دیکھو اذان دیتا ہے اور نماز کی اقامت کہتا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا اور اس کو جنت میں داخل کردیا۔
(۱۹۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا عُشَّانَۃَ الْمَعَافِرِیَّ حَدَّثَہُ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((یَعْجَبُ رَبُّکَ مِنْ رَاعِی غَنَمٍ فِی رَأْسِ شَظِیَّۃٍ لِلْجَبَلِ ، یُؤَذِّنُ بِالصَّلاَۃِ وَیُصَلِّی ، فَیَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَی عَبْدِی ہَذَا یُؤَذِّنُ وَیُقِیمُ لِلصَّلاَۃِ یَخَافُ مِنِّی قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِی وَأَدْخَلْتُہُ جَنَّتِی))۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۲۰۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکیلے اور جماعت کی حالت میں فرضی نمازوں کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٩٠٦) سلیمان سے روایت ہے کہ کوئی شخص کسی سائے والی زمین (جنگل وغیرہ) میں وضو کرتا ہے یا پاک مٹی سے تیمم کرتا ہے، پھر وہ نماز کے لیے اذان دیتا ہے، پھر اقامت کہتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ سیدنا ابن عباس (رض) کی حدیث میں ہے : وہ اقامت کہتا ہے تو اللہ کے لشکروں کی امامت کر اتا ہے، جن کے کناروں کو دیکھا نہیں جاسکتا۔
(۱۹۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ أَبِی طَالِبٍ بِبَغْدَادَ فِی سَنَۃِ ثَمَانِ وَسِتِّینَ وَمِائَتَیْنِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: لاَ یَکُونُ رَجُلٌ بِأَرْضِ فِیٍّ فَیَتَوَضَّأُ أَوْ یَتَیَمَّمُ صَعِیدًا طَیِّبًا ، فَیُنَادِی بِالصَّلاَۃِ ثُمَّ یُقِیمُہَا فَیُصَلِّی - وَفِی حَدِیثِ أَبِی الْعَبَّاسِ فَیُقِیمُہَا - إِلاَّ أَمَّ مِنْ جُنُودِ اللَّہِ مَنْ لاَ یُرَی قُطْرَاہُ ، أَوْ قَالَ طَرَفَاہُ شَکَّ التَّیْمِیُّ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۷۶۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکیلے اور جماعت کی حالت میں فرضی نمازوں کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٩٠٧) سلیمان سے روایت ہے کہ کوئی شخص کسی سائے والی زمین میں وضو کرتا ہے، اگر اس نے پانی پا لیا تو درست ورنہ وہ تیمم کرتا ہے اور نماز کا اعلان کرتا ہے، پھر اقامت کہتا ہے تو گویا اس نے اللہ کے لشکروں کی امامت کرائی ہے جس کناروں کو دیکھا نہیں جاسکتا۔
(۱۹۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مَحُمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: لاَ یَکُونُ رَجُلٌ بِأَرْضِ فِیٍّ فَیَتَوَضََّأُ إِنْ وَجَدَ مَائً وَإِلاَّ تَیَمَّمَ ، فَیُنَادِی بِالصَّلاَۃِ ثُمَّ یُقِیمُہَا إِلاَّ أَمَّ مِنْ جُنُودِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ مَا لاَ یُرَی طَرَفَاہُ ، أَوْ قَالَ طَرَفُہُ۔ ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ مَوْقُوفٌ۔ وَقَدْ رُوِیَ مَرْفُوعًا وَلاَ یَصِحُّ رَفْعُہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکیلے اور جماعت کی حالت میں فرضی نمازوں کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ
(١٩٠٨) سیدنا سلمان فارسی (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب کوئی شخص سائے والی زمین میں نماز کے وقت اذان دیتا ہے اور نماز کی اقامت کہتا ہے، وہ نماز پڑھتا ہے مگر اس کے پیچھے فرشتے صف بنا لیتے ہیں جن کے کناروں کو دیکھا نہیں جاسکتا، وہ اس کے رکوع کے ساتھ رکوع کرتے ہیں اور اس کے سجدے کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں اور اس کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔
(۱۹۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَیْرُوتِیُّ بِبَیْرُوتَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ یَعْنِی ابْنَ سُوَیْدٍ الرَّمْلِیَّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ یَعْنِی ابْنَ النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ یَعْنِی ابْنَ غُصْنٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَکُونُ بِأَرْضِ قِیٍّ فَیُؤَذِّنُ بِحَضْرَۃِ الصَّلاَۃِ ، وَیُقِیمُ الصَّلاَۃَ فَیُصَلِّی إِلاَّ صَفَّ خَلْفَہُ مِنَ الْمَلاَئِکَۃِ مَا لاَ یُرَی قُطْرَاہُ ، یَرْکَعُونَ بِرُکُوعِہِ وَیَسْجُدُونَ بِسُجُودِہِ ، وَیُؤَمِّنُونَ عَلَی دُعَائِہِ))۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھروں وغیرہ میں اذان اور اقامت کہنا سنت ہے
(١٩٠٩) ام ورقہ انصاریہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے : ہمارے ساتھ شہیدہ کی طرف چلو، ہم اس کی زیارت کریں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ اس کے لیے اذان و اقامت کہی جائے اور گھر والوں کی فرائض کی امامت کراؤ۔
(۱۹۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَیْبِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ جُمَیْعٍ عَنْ لَیْلَی بِنْتِ مَالِکٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أُمِّ وَرَقَۃَ الأَنْصَارِیَّۃِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَقُولُ : ((انْطَلِقُوا بِنَا إِلَی الشَّہِیدَۃِ فَنَزُورَہَا))۔ وَأَمَرَ أَنْ یُؤَذَّنَ لَہَا وَیُقَامَ وَتَؤُمَّ أَہْلَ دَارِہَا فِی الْفَرَائِضِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ أبو داؤد ۵۹۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جماعت کی اذان اور اقامت کے کافی ہونے کا بیان
(١٩١٠) اسود اور علقمہ کہتے ہیں : ہم عبداللہ ابن مسعود (رض) کے پاس ان کے گھر میں آئے، انھوں نے کہا : کیا ان لوگوں نے تمہارے پیچھے نماز پڑھی ہے ؟ ہم نے کہا : نہیں، انھوں نے کہا : کھڑے ہو جاؤ، نماز پڑھو ہم کو اذان اور اقامت کا حکم نہیں دیا، پھر اپنی نماز کو پورا کیا۔
(۱۹۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ وَعَلْقَمَۃَ قَالاَ: أَتَیْنَا عَبْدَ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ فِی دَارِہِ فَقَالَ: أَصَلَّی ہَؤُلاَئِ خَلْفَکُمْ؟ قُلْنَا: لاَ۔ فَقَالَ: قُومُوا فَصَلُّوا۔ فَلَمْ یَأْمُرْنَا بِأَذَانٍ وَلاَ إِقَامَۃٍ ، ثُمَّ اقْتَضَی صَلاَتَہُ بِہِمَا۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۵۳۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جماعت کی اذان اور اقامت کے کافی ہونے کا بیان
(١٩١١) علقمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے مجھے اور اسود کو بغیر اذان اور بغیر اقامت کے نماز پڑھائی ۔ بعض اوقات فرماتے : محلے کی ہمیں اذان اور اقامت ہی کفایت کر جائے گی۔
(۱۹۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَاتِبُ حَدَّثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ: صَلَّی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ بِی وَبِالأَسْوَدِ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَۃٍ ، وَرُبَّمَا قَالَ: یُجْزِئُنَا أَذَانُ الْحَیِّ وَإِقَامَتُہُمْ۔

[حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ عبد الرزاق ۱۹۶۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جماعت کی اذان اور اقامت کے کافی ہونے کا بیان
(١٩١٢) سیدنا ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب تو کسی بستی میں ہو ، اس میں اذان دی جاتی ہو اور اقامت کہی جاتی ہو تو یہی تجھ کو کفایت کر جائے گی۔
(۱۹۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ یَعْنِی ابْنَ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ یَزِیدَ الْفَقِیرِ قَالَ

قَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِذَا کُنْتَ فِی قَرْیَۃٍ یُؤَذَّنُ فِیہَا وَیُقَامُ أَجْزَأَکَ ذَلِکَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جماعت کی اذان اور اقامت کے کافی ہونے کا بیان
(١٩١٣) عبداللہ بن واقد سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) ، ایسی زمین پر جماعت نہیں کرواتے جس پر نماز ہو چکی ہو اور وہ سفر میں فجر کی دو رکعتیں بھی نہیں پڑھتے تھے اور ان کو حضر میں نہیں چھوڑتے تھے۔
(۱۹۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرًا یُحَدِّثُ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ أَنَّہُ سَمِعَہُ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ وَاقِدٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ لاَ یُقِیمُ الصَّلاَۃَ بِأَرْضٍ تُقَامُ بِہَا الصَّلاَۃُ ، وَکَانَ لاَ یُصَلِّی رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ فِی السَّفَرِ ، وَکَانَ لاَ یَدَعُہُمَا فِی الْحَضَرِ۔ قِیلَ لِسُفْیَانَ: فَإِنَّ حَمَّادَ بْنَ زَیْدٍ یَقُولُ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ أَوْ فِی بَعْضِہِ عَنْ یَزِیدَ الْفَقِیرِ۔ فَقَالَ سُفْیَانُ: مَا سَمِعْتُ عَمْرًا ذَاکِرًا یَزِیدَ الْفَقِیرَ قَطُّ ، مَا قَالَ لَنَا إِلاَّ أَنَّہُ سَمِعَ عِکْرِمَۃَ یَعْنِی ابْنَ خَالِدٍ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ وَاقِدٍ۔ [حسن۔ أخرجہ عبد الرزاق ۱۹۶۵]
tahqiq

তাহকীক: