আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

مکاتب کرنے کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৯ টি

হাদীস নং: ২১৬২৬
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اگر غلام قوی اور امانت دار نہ ہو تو مکاتبت کرنا ناپسندیدہ نہیں ہے
(٢١٦٢٠) ابننباح حضرت علی (رض) کے پاس آئے اور کہا : میں مکاتبت کا ارادہ رکھتا ہوں، انھوں نے پوچھا : کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے ؟ کہنے لگے : نہیں تو حضرت علی (رض) نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا : اپنے بھائی کی مدد کرو اور اس کے لیے مال جمع کرو۔ کہتے ہیں : جو باقی بچے اس سے مکاتبت کرلینا ، پھر وہ حضرت علی (رض) کے پاس آئے اور باقی ماندہ کے بارے میں سوال کیا تو حضرت علی (رض) کہنے لگے : آپ ان کو مکاتبین میں شمار کریں۔ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ مکاتب آدمی صدقات سے پیسے وصول کر کے آزادی حاصل کرسکتا ہے۔
(۲۱۶۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ الْفَرَّائُ حَدَّثَنِی جَعْفَرُ بْنُ أَبِی ثَرْوَانَ الْحَارِثِیُّ عَنِ ابْنِ النَّبَّاحِ : أَنَّہُ أَتَی عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ أُرِیدُ أَنْ أُکَاتِبَ فَقَالَ أَعِنْدَکَ شَیْئٌ ؟ قَالَ لاَ قَالَ فَجَمَعَہُمْ عَلَیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ فَقَالَ : أَعِینُوا أَخَاکُمْ فَجَمَعُوا لَہُ۔ قَالَ فَبَقِیَ بَقِیَّۃٌ عَنْ مُکَاتَبَتِہِ قَالَ فَأَتَی عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَہُ عَنِ الْفَضْلَۃِ فَقَالَ : اجْعَلْہَا فِی الْمُکَاتَبِینَ ہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّ الْمُکَاتَبَ إِنَّمَا یُعْطَی مِنَ الصَّدَقَاتِ مِنْ سَہْمِ الرِّقَابِ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَنْ یُعْتِقَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬২৭
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی مدد کرنے والے کی فضیلت
(٢١٦٢١) سہل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے مجاہد کی مدد کی یا چٹی پڑنے والے کی تنگی میں مدد کی یا مکاتب کو آزاد کروانے میں مدد کی تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سایہ میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ عمرو بن ثابت نے یہ لفظ زائد بیان کیے ہیں کہ نمازی کی مدد کرنے والا۔
(۲۱۶۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ قِرَائَ ۃً وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً قَالاَ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَیْلٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ ہِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَیْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ أَنَّ سَہْلاً حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَنْ أَعَانَ مُجَاہِدًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَوْ غَارِمًا فِی عُسْرَتِہِ أَوْ مُکَاتَبًا فِی رَقَبَتِہِ أَظَلَّہُ اللَّہُ فِی ظِلِّہِ یَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلِّہِ ۔ لَفْظُ حَدِیثِہِمَا سَوَائٌ زَادَ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ : أَوْ غَازِیًا ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬২৮
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا غلام یا لونڈی سے دو حصوں یا زیادہ صحیح مال کے ذریعے مکاتبت کرنا
(٢١٦٢٢) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ان کے پاس بریرہ آئیں اور کہنیلگیں کہ میرے آقا نے مجھ سے نو اوقیہ نو سال کی مدت میں ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنے پر مکاتبت کی ہے تو آپ میری مدد کریں۔

(ب) حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دھوکے کی بیع سے منع کیا۔
(۲۱۶۲۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ أَخْبَرَنِی أَبِی عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَتْ بَرِیرَۃُ فَقَالَتْ : إِنَّ أَہْلِی کَاتَبُونِی عَلَی تِسْعِ أَوَاقٍ فِی تِسْعِ سِنِینَ کُلُّ سَنَۃٍ وَقِیَّۃٌ فَأَعِیْنِینِی۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ

أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ۔ وَرُوِّینَا فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- نَہَی عَنْ بَیْعِ الْغَرَرِ۔ وَفِی الْکِتَابَۃِ الْحَالَّۃِ غَرَرٌ کَثِیرٌ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬২৯
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا غلام یا لونڈی سے دو حصوں یا زیادہ صحیح مال کے ذریعے مکاتبت کرنا
(٢١٦٢٣) مسلم بن ابی مریم ایک آدمی سینقل فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان (رض) کا غلام تھا۔ حضرت عثمان نے مجھے تجارت کی غرض سے بھیجا۔ میں واپس آیا تو انھوں نے میری تعریف کی۔ کہتے ہیں : میں ایک دن حضرت عثمان (رض) کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا : اے امیرالمومنین ! میں مکاتبت کا سوال کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا ٹھیک ہے۔ اگر اللہ کی کتاب میں یہ آیت نہ ہوتی تو میں ایک لاکھ کے عوض بھی مکاتبت نہ کرتا کہ آپ مجھے وہ دو مدتوں میں ادا کرتے۔ اللہ کی قسم ! میں ایک درہم بھی کم نہیں کروں گا۔ کہتا ہے کہ میں حضرت عثمان (رض) کے پاس سے نکلا تو زبیر بن عوام سے ملاقات ہوگئی تو انھوں نے کہا کہ میں تجھے کیسے دیکھ رہا ہوں، میں نے کہا کہ امیرالمومنین نے مجھے تجارت کی غرض سے بھیجا ہے۔ میں واپس لوٹا تو انھوں نے میری بہت زیادہ تعریف کی میں ان کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا : اے امیرالمومنین ! میں مکاتبت کا سوال کرتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ انھوں نے مکاتبت کرلی اور فرمایا : اگر اللہ کی کتاب میں یہ آیت نہ ہوتی تو میں ایک لاکھ کے عوض بھی مکاتبت نہ کرتا کہ آپ مجھے دو مدتوں میں ادا کرتے۔ اللہ کی قسم ! میں اس سے ایک درہم بھی کم نہیں کروں گا تو زبیر بن عوام کہنے لگے : چلو۔ انھوں نے مجھے لا کر امیرالمومنین کے سامنے کھڑا کردیا اور کہا : اے امیرالمومنین ! آپ نے فلاں سے مکاتبت کی ہے۔ کہتے ہیں : ہاں ! اگر اللہ کی کتاب میں آیت نہ ہوتی تو میں ایک لاکھ کے عوض بھی مکاتبت نہ کرتا کہ آپ وہ دو مدتوں میں ادا کرتے۔ اللہ کی قسم ! میں اس سے ایک درہم بھی کم نہیں کروں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ زبیر بن عوام غصے میں آگئے اور کہا : اللہ کی قسم ! میں آپ کے سامنے مثالیں بیان کروں گا اور آپ مجھے اپنی ضرورت بیان کریں جس کی وجہ سے آپ نے قسم اٹھائی۔ فرماتے ہیں کہ انھوں نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا اور کہا کہ میں نہیں جانتا۔ پھر کہا کہ چلو آپ اس سے مکاتبت کرلیں۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ان سے مکاتبت کرلی تو زبیر بن عوام نے گھر جا کر مجھے ایک لاکھ روپے ادا کردیے پھر کہا : جاؤ ان سے اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اگر معاملہ غالب آجائے تو حضرت عثمان (رض) کو یہ رقم ادا کردینا۔ کہتے ہیں کہ میں چلا اللہ کا فضل تلاش کرتا رہا تو میں نے حضرت عثمان (رض) کو اور زبیر بن عوام (رض) کو ان کی رقم ادا کردی اور میرے پاس اسی ہزار موجود تھے۔
(۲۱۶۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی أَبُو بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا جُوَیْرِیَۃُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ رَجُلٍ قَالَ : کُنْتُ مَمْلُوکًا لِعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ بَعَثَنِی عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی تِجَارَۃٍ فَقَدِمْتُ عَلَیْہِ فَأَحْمَدَ وِلاَیَتِی قَالَ فَقُمْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ ذَاتَ یَوْمٍ فَقُلْتُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَسْأَلُکَ الْکِتَابَۃَ فَقَطَّبَ فَقَالَ نَعَمْ وَلَوْلاَ آیَۃٌ فِی کِتَابِ اللَّہِ مَا فَعَلْتُ أُکَاتِبُکَ عَلَی مِائَۃِ أَلْفٍ عَلَی أَنْ تَعُدَّہَا لِی فِی عَدَّتَیْنِ وَاللَّہِ لاَ أَغُضُّکَ مِنْہَا دِرْہَمًا قَالَ فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِہِ فَلَقِیَنِی الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : مَا الَّذِی أَرَی بِکَ قُلْتُ کَانَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ بَعَثَنِی فِی تِجَارَۃٍ فَقَدِمْتُ عَلَیْہِ فَأَحْمَدَ وِلاَیَتِی فَقُمْتُ إِلَیْہِ فَقُلْتُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَسْأَلُکَ الْکِتَابَۃَ قَالَ فَقَطَّبَ قَالَ فَقَالَ نَعَمْ وَلَوْلاَ آیَۃٌ فِی کِتَابِ اللَّہِ مَا فَعَلْتُ أُکَاتِبُکَ عَلَی مِائَۃِ أَلْفٍ عَلَی أَنْ تَعُدَّہَا لِی فِی عَدَّتَیْنِ وَاللَّہِ لاَ أَغُضُّکَ مِنْہَا دِرْہَمًا قَالَ فَقَالَ انْطَلِقْ قَالَ فَرَدَّنِی إِلَیْہِ فَقَامَ بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فُلاَنٌ کَاتَبْتَہُ قَالَ فَقَطَّبَ وَقَالَ نَعَمْ وَلَوْلاَ آیَۃٌ فِی کِتَابِ اللَّہِ مَا فَعَلْتُ أُکَاتِبُہُ عَلَی مِائَۃِ أَلْفٍ عَلَی أَنْ یَعُدَّہَا لِی فِی عَدَّتَیْنِ وَاللَّہِ لاَ أَغُضُّہُ مِنْہَا دِرْہَمًا قَالَ فَغَضِبَ الزُّبَیْرُ فَقَالَ لِلَّہِ لأَمْثُلَنَّ بَیْنَ یَدَیْکَ فَإِنَّمَا أَطْلُبُ إِلَیْکَ حَاجَۃً تَحُولُ دُونَہَا بِیَمِینٍ قَالَ فَضَرَبَ لاَ أَدْرِی قَالَ کَتِفِی أَوْ قَالَ عَضُدِی ثُمَّ قَالَ کَاتِبْہُ قَالَ فَکَاتَبْتُہُ فَانْطَلَقَ بِیَ الزُّبَیْرُ إِلَی أَہْلِہِ فَأَعْطَانِی مِائَۃَ أَلْفٍ ثُمَّ قَالَ انْطَلِقْ فَاطْلُبْ فِیہَا مِنْ فَضْلِ اللَّہِ فَإِنْ غَلَبَکَ أَمْرٌ فَأَدِّ إِلَی عُثْمَانَ مَا لَہُ مِنْہَا فَانْطَلَقْتُ فَطَلَبْتُ فِیہَا مِنْ فَضْلِ اللَّہِ وَأَدَّیْتُ إِلَی عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَالَہُ وَإِلَی الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَالَہُ وَفَضَلَ فِی یَدِی ثَمَانُونَ أَلْفًا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩০
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو کہتا ہے کہ مکاتب آزادنہ ہوگا جب تک وہ قیمت ادا نہ کر دے
(٢١٦٢٤) ابو عثمان سلمان سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے آقاؤں سے مکاتبت کی کہ میں پانچ سو درخت لگا کر دوں گا۔ جب وہ پھل دینے لگیں گے تو میں آزاد ہوجاؤں گا۔ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں نے اس بات کا تذکرہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : درخت لگاؤ اور شرط رکھ لو لیکن جب درخت لگانے کا ارادہ ہو مجھے اطلاع دے دینا۔ میں نے آپ کو اطلاع دی تو آپ ایک درخت کے علاوہ تمام درخت اپنے ہاتھ سے لگائے۔ تمام درختوں نے پھل دینا شروع کردیا سوائے ایک کے۔
(۲۱۶۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَیْمَانَ وَعَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ : کَاتَبْتُ أَہْلِی عَلَی أَنْ أَغْرِسَ لَہُمْ خَمْسَمِائَۃِ فَسِیلَۃٍ فَإِذَا عَلِقَتْ فَأَنَا حُرٌّ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : اغْرِسْ وَاشْتَرِطْ لَہُمْ فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَغْرِسَ فَآذِنِّی فَآذَنْتُہُ فَجَائَ فَجَعَلَ یَغْرِسُ إِلاَّ وَاحِدَۃً غَرَسْتُہَا بِیَدِی فَعَلِقْنَ جَمِیعًا إِلاَّ الْوَاحِدَۃَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩১
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو کہتا ہے کہ مکاتب آزادنہ ہوگا جب تک وہ قیمت ادا نہ کر دے
(٢١٦٢٥) عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سلمان جب مدینہ آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک پلیٹ کے اندر تحفہ رکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : سلمان ! یہ کیا ہے ؟ کہنے لگے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کے لیے صدقہ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں صدقہ نہیں کھاتا تو انھوں نے اٹھا لیا۔ دوسرے دن پھر اسی طرح پلیٹ میں کچھ رکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ تو کہنے لگے : یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تحفہ ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ سے فرمایا : کھاؤ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو کون ہے ؟ کہنے لگے کہ قوم کا غلام۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان سے مکاتبت طلب کرلو۔ کہتے ہیں : انھوں نے مجھ سے مکاتبت کرلی کہ اتنی اتنی کھجوریں لگا کر دوں اور پھل آنے تک سلمان ان کی حفاظت کرے۔ انھوں نے یہ کام کرلیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کھجور کے علاوہ تمام کھجوریں لگا دیں ۔ ایک کھجور حضرت عمر (رض) نے لگائی۔ سال کے اندر تمام کھجوروں نے پھل دیا۔ سوائے اس کھجور کے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کس نے لگائی تھی تو انھوں نے کیا کہ عمر (رض) نے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بھی اپنے ہاتھ سے لگایا تو اسی سال اس نے بھی پھل دیا۔
(۲۱۶۲۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا مُوسَی بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ سَلْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِہَدِیَّۃٍ عَلَی طَبَقٍ فَوَضَعَہَا بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ مَا ہَذَا یَا سَلْمَانُ قَالَ صَدَقَۃٌ عَلَیْکَ وَعَلَی أَصْحَابِکَ قَالَ إِنِّی لاَ آکُلُ الصَّدَقَۃَ فَرَفَعَہَا ثُمَّ جَائَ ہُ مِنَ الْغَدِ بِمِثْلِہَا فَوَضَعَہَا بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ مَا ہَذَا قَالَ ہَدِیَّۃٌ لَکَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَصْحَابِہِ : کُلُوا ۔ قَالَ : لِمَنْ أَنْتَ؟ ۔ قَالَ لِقَوْمٍ قَالَ فَاطْلُبْ إِلَیْہِمْ أَنْ یُکَاتِبُوکَ قَالَ فَکَاتَبُونِی عَلَی کَذَا وَکَذَا نَخْلَۃً أَغْرِسُہَا لَہُمْ وَیَقُومُ عَلَیْہَا سَلْمَانُ حَتَّی تُطْعِمَ قَالَ فَفَعَلُوا قَالَ فَجَائَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَغَرَسَ النَّخْلَ کُلَّہُ إِلاَّ نَخْلَۃً وَاحِدَۃً غَرَسَہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَطْعَمَ نَخْلُہُ مِنْ سَنَتِہِ إِلاَّ تِلْکَ النَّخْلَۃَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ غَرَسَہَا؟ ۔ قَالُوا : عُمَرُ فَغَرَسَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ یَدِہِ فَحَمَلَتْ مِنْ عَامِہَا۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩২
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو کہتا ہے کہ مکاتب آزادنہ ہوگا جب تک وہ قیمت ادا نہ کر دے
(٢١٦٢٦) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ سلمان فارسی (رض) نے اپنے اسلام قبول کرنے کا قصہ ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے سلمان ! مکاتبت کرلو۔ میں نے اپنے مالکوں سے تین سو کھجوروں کے درختوں کو آباد کرنے اور چالیس اوقیہ ادا کرنے پر مکاتبت کرلی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے کسی نے ٣٠ کسی نے ٢٠، کسی نے ١٠ اپنی طاقت کے مطابق مجھے عطا کیں۔ دوسری حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ساتھ نکلے اور ہم کھجور کے چھوٹے پودوں کو اٹھائے ہوئے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پودے کو ہاتھ میں لیتے اور زمین میں برابر گاڑھ دیتے۔ اللہ کی قسم ! ایک پودا بھی ضائع نہیں ہوا۔ باقی میرے اوپر درہم رہ گئے تو ایک آدمی انڈے کے برابر سونا لے کر آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ فارسی مسلمان مکاتب کہاں ہے ؟ مجھے بلایا گیا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سلمان لے لو اور اپنا قرض ادا کرو۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ میرا قرض کہاں سے ادا کرے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ممکن ہے کہ یہ تیرا قرض ادا کر دے۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں سلمان کی جان ہے، میں نے ان کو ٤٠ اوقیوں کا وزن کر کے دے دیا اور سلمان آزاد ہوگیا۔

شیخ فرماتے ہیں : پہلی روایت میں درختوں کی تعداد زیادہ اور آزادی کی شرط دی اور ان میں سے ایک درخت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں لگایا تھا اور تیری روایت میں درختوں کی تعداد کم اور ٤٠ اوقیوں کی زیادتی اور دوسری روایت میں درختوں کے پھل دینے کی شرط۔ یہ کفار سے معاہدہ آزادی کا معاہدہ تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح کی شرط لگانے کی اجازت دی۔
(۲۱۶۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْحِیرِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنِی سَلْمَانُ الْفَارِسِیُّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ فِی قِصَّۃِ سَبَبِ إِسْلاَمِہِ وَفِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : کَاتِبْ یَا سَلْمَانُ ۔ فَکَاتَبْتُ صَاحِبِی عَلَی ثَلاَثِمِائَۃِ نَخْلَۃٍ أُحْیِیہَا وَأَرْبَعِینَ أُوقِیَّۃٍ وَأَعَانَنِی أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِالنَّخْلِ ثَلاَثِینَ وَدِیَّۃً وَعِشْرِینَ وَدِیَّۃً وَعَشْرًا کُلُّ رَجُلٍ مِنْہُمْ عَلَی قَدْرِ مَا عِنْدَہُ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی الْحَفْرِ قَالَ وَخَرَجَ مَعِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی جَائَ ہَا فَکُنَّا نَحْمِلُ إِلَیْہِ الْوَدِیَّ وَیَضَعُہُ بِیَدِہِ وَیُسَوِّی عَلَیْہَا فَوَالَّذِی بَعَثَہُ بِالْحَقِّ مَا مَاتَتْ مِنْہَا وَدِیَّۃٌ وَاحِدَۃٌ وَبَقِیَتْ عَلَیَّ الدَّرَاہِمُ فَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنْ بَعْضِ الْمَعَادِنِ بِمِثْلِ الْبَیْضَۃِ مِنَ الذَّہَبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَیْنَ الْفَارِسِیُّ الْمُسْلِمُ الْمُکَاتَبُ ۔ فَدُعِیتُ لَہُ فَقَالَ : خُذْ ہَذِہِ یَا سَلْمَانُ فَأَدِّ مَا عَلَیْکَ ۔ فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ : وَأَیْنَ تَقَعُ ہَذِہِ مِمَّا عَلَیَّ قَالَ : فَإِنَّ اللَّہَ سَیُؤَدِّی بِہَا عَنْکَ فَوَالَّذِی نَفْسُ سَلْمَانَ بِیَدِہِ لَوَزَنْتُ لَہُم مِنْہَا أَرْبَعِینَ أُوقِیَّۃً فَأَدَّیْتُہَا إِلَیْہِمْ ۔ وَعَتَقَ سَلْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الرِّوَایَۃِ الأُولَی زِیَادَۃٌ فِی عَدَدِ الْفَسِیلاَتِ وَفِیہَا اشْتِرَاطُ الْحُرِّیَّۃِ وَأَنَّ وَاحِدَۃً مِنْہَا لَمْ تُعَلَّقْ وَہِیَ مَا لَمْ یَغْرِسْہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَفِی الرِّوَایَۃِ الثَّالِثَۃِ نُقْصَانٌ عَنْ عَدَدِ الْفَسِیلاَتِ وَزِیَادَۃُ الأَرْبَعِینَ أُوقِیَّۃً وَفِی کِلْتَیْہِمَا مَعَ الرِّوَایَۃِ الثَّانِیَۃِ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ بِشَرْطِ الْعُلُوقِ أَوِ الإِطْعَامِ وَکَأَنَّ الْعَقْدَ کَانَ مَعَ الْکُفَّارِ وَکَأَنَّ الْقَصْدَ مِنْہُ حُصُولُ الْعِتَاقِ فَأَذِنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی اشْتِرَاطِہِ بِقَوْلِہِ اشْتَرِطْ لَہُمْ لِکَوْنِہِ شَرْطًا صَحِیحًا فِی حُصُولِ الْعِتَاقِ بِہِ وَإِنْ کَانَ عَقْدُ الْکِتَابَۃِ یَفْسُدُ بِہِ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩৩
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو کہتا ہے کہ مکاتب آزادنہ ہوگا جب تک وہ قیمت ادا نہ کر دے
(٢١٦٢٧) زید بن صوحان حضرت سلمان کے اسلام کے قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو کس کا غلام ہے ؟ میں نے کہا : انصاری عورت کا جس نے اپنے باغ میں میری ڈیوٹی لگائی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر (رض) ! عرض کیا : اللہ کے رسول حاضر۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو خریدو۔ حضرت ابوبکر (رض) نے مجھے خرید کر آزاد کردیا۔

نوٹ : یہ روایت پہلی روایات کے مخالف ہے، ممکن ہے ایک درخت کے پھل نہ دینے کی وجہ سے ان کو آزادی نہ ملی ہو تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اپنے ہاتھ سے دوبارہ لگا دیا تو اس عرصہ کے درمیان ابوبکر (رض) نے ان کو خریدا ہو۔
(۲۱۶۲۷) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ أَنْبَأَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِی صَغِیرَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ صُوحَانَ عَنْ سَلْمَانَ فِی قِصَّۃِ إِسْلاَمِہِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : لِمَنْ أَنْتَ؟ ۔ قُلْتُ : لامْرَأَۃٍ مِنَ الأَنْصَارِ جَعَلَتْنِی فِی حَائِطٍ لَہَا قَالَ یَا أَبَا بَکْرٍ قَالَ لَبَّیْکَ قَالَ : اشْتَرِہِ ۔ قَالَ : فَاشْتَرَانِی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَعْتَقَنِی

وَہَذَا یُخَالِفُ الرِّوَایَاتِ قَبْلَہُ۔ وَقَدْ یَجُوزُ أَنْ یَکُونَ عِتَاقُہُ لَمْ یَحْصُلْ بِأَنْ لَمْ یُعَلِّقْ مِنَ الْفَسِیلاَت ِوَاحِدَۃً حَتَّی أَعَادَ النَّبِیُّ -ﷺ- غَرْسَہَا فَحَمَلَتْ مِنْ عَامِہَا فَاشْتَرَاہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِیمَا بَیْنَ ذَلِکَ وَأَعْتَقَہُ وَیُحْتَمَلُ غَیْرُہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَفِی ثُبُوتِ بَعْضِ ہَذِہِ الرِّوَایَاتِ نَظَرٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩৪
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنے غلام یا لونڈی سے نقدی اور سامان کے عوض مکاتبت کی
(٢١٦٢٨) نافع فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی حضرت حفصہ نے اپنے غلام سے باریک کپڑے کے عوض مکاتبت کی۔ نافع کہتے ہیں : میں نے اس طرح کے لوگوں کو پایا کہ جنہوں نے اپنی مکاتبت کے اندر اس طرح کا سامان ادا کیا۔
(۲۱۶۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ الْحِیرِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ حَفْصَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- کَاتَبَتْ عَبْدًا لَہَا عَلَی رَقِیقٍ قَالَ نَافِعٌ فَأَدْرَکْتُ أَنَا ثَلاَثَۃً مِنَ الَّذِینَ أَدُّوا فِی مُکَاتَبَتِہِمْ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩৫
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنے غلام یا لونڈی سے نقدی اور سامان کے عوض مکاتبت کی
(٢١٦٢٩) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ اچھی خوبی بیان کرنے والوں کے ساتھ مکاتبت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۱۶۲۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ ہُوَ ابْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا بِالْکِتَابَۃِ عَلَی الْوُصَفَائِ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩৬
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنے غلام یا لونڈی سے نقدی اور سامان کے عوض مکاتبت کی
(٢١٦٣٠) عبداللہ بن ابی بکر بن انس فرماتے ہیں : سیرین کی مکاتبت ہمارے پاس ہے یہ مکاتبت انس بن مالک نے اپنے غلام سیرین سے کی۔ اتنے ہزار کی اور دو غلام ۔ وہ اسی طرح کا کام کیا کرتے تھے۔
(۲۱۶۳۰) وَقَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ ہَذِہِ مُکَاتَبَۃُ سِیرِینَ عِنْدَنَا ہَذَا مَا کَاتَبَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ غُلاَمَہُ سِیرِینَ کَاتَبَہُ عَلَی کَذَا وَکَذَا أَلْفٍ وَعَلَی غُلاَمَیْنِ یَعْمَلاَنِ مِثْلَ عَمَلِہِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩৭
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنے غلام یا لونڈی سے نقدی اور سامان کے عوض مکاتبت کی
(٢١٦٣١) عطا بن ابی رباح کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) ایک آدمی کے بارے میں فرماتے ہیں : جس نے اپنے غلام سے مکاتبت کی تھی، تین قسم کی خوبیوں کو بیان کرنے پر کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۱۶۳۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَسْلَمَۃُ بْنُ عَلِیٍّ وَغَیْرُ وَاحِدٍ أَنَّ الأَوْزَاعِیَّ حَدَّثَہُمْ أَنَّ عَطَائَ بْنَ أَبِی رَبَاحٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِی رَجُلٍ کَاتَبَ عَبْدًا لَہُ عَلَی ثَلاَثَۃِ وُصَفَائَ أَنَّہُ لاَ بَأْسَ بِذَلِکَ قَالَ الأَوْزَاعِیُّ وَقَالَ ابْنُ شِہَابٍ مِثْلَہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩৮
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کئی غلاموں سے ایک مکاتبت کرنا
(٢١٦٣٢) ابن جریج فرماتے ہیں کہ عطا نے کہا : اگر تو اپنے غلام سے مکاتبت کرے اور اس کیا ولاد ہو تو آپ نے ان سب پر مکاتبت کرلی۔ اب ان کا باپ یا ان سب سے کوئی فوت ہوجاتا ہے تو اس کی قیمت کو نکال دیا جائے۔ اگر آپ نے اس کو یا اس کے بعض بیٹوں کو آزاد کردیا تو پھر بھی اسی طرح ہے۔ (یعنی قیمت کم کرلو)
(۲۱۶۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قَالَ عَطَائٌ : إِنْ کَاتَبْتَ عَبْدًا لَکَ وَلَہُ بَنُونَ یَوْمَئِذٍ فَکَاتَبَکَ عَلَی نَفْسِہِ وَعَلَیْہِمْ فَمَاتَ أَبُوہُمْ أَوْ مَاتَ مِنْہُمْ مَیِّتٌ فَقِیمَتُہُ یَوْمَ یَمُوتُ تُوضَعُ مِنَ الْکِتَابَۃِ وَإِنْ أَعْتَقَہُ أَوْ بَعْضَ بَنِیہِ فَکَذَلِکَ وَقَالَہَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ ہَذَا إِنْ شَائَ اللَّہُ کَمَا قَالَ عَطَائٌ وَعَمْرُو بْنُ دِینَارٍ إِذَا کَانَ الْبَنُونَ کِبَارًا فَکَاتَبَ عَلَیْہِمْ أَبُوہُمْ بِأَمْرِہِمْ فَعَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمْ حِصَّتَہُ مِنَ الْکِتَابَۃِ بِقَدْرِ قِیمَتِہِ فَأَیُّہُمْ مَاتَ أَوْ أُعْتِقَ رُفِعَ عَنِ الْبَاقِینَ بِقَدْرِ حِصَّتِہِ مِنَ الْکِتَابَۃِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৩৯
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ غلام کے حمالے کا بیان
(٢١٦٣٣) ابن جریج فرماتے ہیں : میں نے عطا سے کہا : میں نے دوشمنوں سے اس بیع میں مکاتب کی کہ تم دونوں کا زندیہ تمہارے مردے پر ہے اور تمہارا ملیہ معدم پر ہے۔ فرمایا : جائز ہے اور یہی عمرو بن دینا سلیمان بن موسیٰ کا قول ہے اور زعامت نے کہا : یہ حمالہ ہے۔
(۲۱۶۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ : کَتَبْتُ عَلَی رَجُلَیْنِ فِی بَیْعٍ إِنَّ حَیَّکُمَا عَلَی مَیِّتِکُمَا وَمَلِیئَکُمَا عَلَی مُعْدِمِکُمَا قَالَ یَجُوزُ وَقَالَہَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ وَسُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی وَقَالَ زَعَامَۃٌ یَعْنِی حَمَالَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৪০
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ غلام کے حمالے کا بیان
(٢١٦٣٤) ابن جریج فرماتے ہیں : میں نے عطا سے کہا : یہ کیوں جائز نہیں ؟ فرمایا : اس وجہ سے کہ ان میں سے ایک اگر غریب ہوجائے تو وسرا غلام سے رجوع کرے گا جو تیری چیز کا مالک نہیں۔
(۲۱۶۳۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ أَنْبَأَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ کَاتَبْتُ عَبْدَیْنِ لِی وَکَتَبْتُ ذَلِکَ عَلَیْہِمَا قَالَ لاَ یَجُوزُ فِی عَبْدَیْکَ وَقَالَہَا سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ فَقُلْتُ لِعَطَائٍ لِمَ لاَ یَجُوزُ قَالَ مِنْ أَجْلِ أَنَّ أَحَدَہُمَا إِنْ أَفْلَسَ رَجَعَ عَبْدًا لَمْ یَمْلِکْ مِنْکَ شَیْئًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৪১
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ غلام کے حمالے کا بیان
(٢١٦٣٥) حضرت عطاء اور ابن جریج اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنے دو غلاموں سے اس شرط پر مکاتبت کرتا ہے کہ تمہارا زندہ تمہارے مردے پر ہے اور تمہارے معدم تمہارے ملیہ پر ہے۔ فرمایا : یہ جائز نہیں ہے۔
(۲۱۶۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَۃَ وَعَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ فِی رَجُلٍ یُکَاتِبُ عَبْدَیْنِ جَمِیعًا حَیُّکُمَا عَلَی مَیِّتِکُمَا وَمُعْدِمُکُمَا عَلَی مَلِیِّکُمَا قَالاَ لاَ یَجُوزُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৪২
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب غلام ہی رہے گا جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہو

امام شافعی فرماتے ہیں آپ نے غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کرلی صرف ١٠ اوقیے باقی تھے وہ غلام ہی رہے گا۔
(٢١٦٣٦) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ دادا سینقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس سے ایک ہزار اوقیہ پر مکاتبت کی گئی، اس نے ١٠ اوقیوں کے علاوہ سب ادا کردیے تو وہ غلام ہی ہے اور جس سے ایک سو دینار پر مکاتبت کی گئی اس نے تمام ادا کردیے لیکن ١٠ دینار باقی تھے۔ وہ غلام ہی ہے۔

(ب) عمرو بن عاصم اور ابو ولید کی روایت میں ہے کہ جو جس غلام سے سو دینار کے عوض مکاتبت کی گئی، اس نے تمام ادا کردیے۔ صرف دس دینار اس کے ذمہ تھے تو وہ غلام ہی رہے گا اور جس غلام سے سو اوقیہ کے عوض مکاتبت کی گئی صرف ١٠ اوقیے باقی رہ گئے تو وہ غلام ہی رہے گا۔
(۲۱۶۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنِ الْعَلاَئِ الْجَزَرِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا مَیْمُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْہَاشِمِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلاَبِیُّ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَیْرِیِّ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَیُّمَا مُکَاتَبٍ کُوتِبَ عَلَی أَلْفِ أُوقِیَّۃٍ فَأَدَّاہَا إِلاَّ عَشْرَ أَوَاقٍ فَہُوَ عَبْدٌ وَأَیُّمَا مُکَاتَبٍ کُوتِبَ عَلَی مِائَۃِ دِینَارٍ فَأَدَّاہَا إِلاَّ عَشْرَۃَ دَنَانِیرَ فَہُوَ عَبْدٌ ۔

لَفْظُ حَدِیثِ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی الْوَلِیدِ : أَیُّمَا عَبْدٍ کَاتَبَ عَلَی مِائَۃِ دِینَارٍ فَأَدَّاہَا إِلاَّ عَشْرَۃَ دَنَانِیرَ فَہُوَ عَبْدٌ وَأَیُّمَا عَبْدٍ کَاتَبَ عَلَی مِائَۃِ أُوقِیَّۃٍ فَأَدَّاہَا إِلاَّ عَشْرَ أَوَاقٍ فَہُوَ عَبْدٌ ۔وَرَوَاہُ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ عَنْ ہَمَّامٍ عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَیْرِیِّ۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৪৩
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب غلام ہی رہے گا جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہو

امام شافعی فرماتے ہیں آپ نے غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کرلی صرف ١٠ اوقیے باقی تھے وہ غلام ہی رہے گا۔
(٢١٦٣٧) عباس جریری نے ذکر کیا ۔ فرماتے ہیں کہ ١٠٠ اوقیہ۔
(۲۱۶۳۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِی عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْجُرَیْرِیُّ فَذَکَرَہُ وَقَالَ : مِائَۃِ أُوقِیَّۃٍ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৪৪
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب غلام ہی رہے گا جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہو

امام شافعی فرماتے ہیں آپ نے غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کرلی صرف ١٠ اوقیے باقی تھے وہ غلام ہی رہے گا۔
(٢١٦٣٨) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنیدادا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مکاتبت غلام ہی رہے گا، جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہو۔
(۲۱۶۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ حَدَّثَنِی أَبُو عُتْبَۃَ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ سُلَیْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : الْمُکَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِیَ عَلَیْہِ مِنْ مُکَاتَبَتِہِ دِرْہَمٌ ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬৪৫
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب غلام ہی رہے گا جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہو

امام شافعی فرماتے ہیں آپ نے غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کرلی صرف ١٠ اوقیے باقی تھے وہ غلام ہی رہے گا۔
(٢١٦٣٩) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنیدادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ جو آدمی سو اوقیہ کے عوض اپنے غلام سے مکاتبت کرتا ہے، اگر غلام دس اوقیے ادا کرنے سے عاجز آجائے تو وہ غلام ہی رہے گا۔
(۲۱۶۳۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَطَبَ فَقَالَ : أَیُّمَا رَجُلٍ کَاتَبَ غُلاَمَہُ عَلَی مِائَۃِ أُوقِیَّۃٍ فَعَجَزَ عَنْ عَشْرِ أَوَاقٍ فَہُوَ رَقِیقٌ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الْقَدِیمِ وَلَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا رَوَی ہَذَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- إِلاَّ عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ وَعَلَی ہَذَا فُتْیَا الْمُفْتِینَ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক: