আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

مکاتب کرنے کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৯ টি

হাদীস নং: ২১৭৬৬
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا عاجز آنا (یعنی رقم ادا نہ کرسکنا)
(٢١٧٦٠) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ جب غلام مسلسل دو قسطین ادا نہ کرے تو دوبارہ غلام بنا لیا جائے گا۔ دوسری روایت میں ہے کہ وہ دوسرے یا تیسرے سال میں ہو۔
(۲۱۷۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ حُصَینٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا تَتَابَعَ عَلَی الْمُکَاتَبِ نَجْمَانِ فَلَمْ یُؤَدِّ نُجُومَہُ رُدَّ فِی الرِّقِّ وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ فَدَخَلَ فِی السَّنَۃِ الثَّانِیَۃِ أَوْ قَالَ فِی الثَّالِثَۃِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৬৭
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا عاجز آنا (یعنی رقم ادا نہ کرسکنا)
(٢١٧٦١) حضرت علی (رض) سے منقول ہے کہ اگر غلام عاجز آجائے تو دو سال اس سے مزدوری کروائی جائے۔ اگر وہ اپنی کتابت ادا کر دے تو آزاد و، گرنہ دوبارہ غلام بنالیا جائے۔
(۲۱۷۶۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ خِلاَسٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ إِذَا عَجَزَ الْمُکَاتَبُ اسْتُسْعِیَ حَوْلَیْنِ فَإِنْ أَدَّی وَإِلاَّ رُدَّ فِی الرِّقِّ۔

الإِسْنَادُ الأَوَّلُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ضَعِیفٌ وَرِوَایَۃُ خِلاَسٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لاَ تَصِحُّ عِنْدَ أَہْلِ الْحَدِیثِ۔ فَإِنْ صَحَّتْ فَہِیَ مَحْمُولَۃٌ عَلَی وَجْہِ الْمَعْرُوفِ مِنْ جِہَۃِ السَّیِّدِ فَإِنْ لَمْ یَنْتَظِرْ رُدَّ فِی الرِّقِّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৬৮
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا عاجز آنا (یعنی رقم ادا نہ کرسکنا)
(٢١٧٦٢) غرقدہ فرماتے ہیں کہ میں قاضی شریح کے پاس گیا تو انھوں نے ایک مکاتب کو جو عاجز آگیا تھا دوبارہ غلامی میں لوٹا دیا۔
(۲۱۷۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ شَبِیبٍ عَنْ غَرْقَدَۃَ قَالَ : شَہِدْتُ شُرَیْحًا رَدَّ مُکَاتَبًا عَجَزَ فِی الرِّقِّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৬৯
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنی لونڈی سے مجامعت کرنا اور اس سے اولاد بھی ہو

امام شافعی (رح) نے فرمایا : یہ غلام ہی ہے کیونکہ مالک ان کو آزاد کر دے تو ٹھیک ، فروخت و ہبہ جائز نہیں ہے۔ مالک فوت ہوا تو یہ آزاد ہے۔
(٢١٧٦٣) عبداللہ بن عمر (رض) ، حضرت عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جس لونڈی نے اپنے آقا کی اولاد کو جنم دیا اس کو فروخت، ہبہ اور وراثت نہ بنایا جائے۔ مالک اس سے فائدہ اٹھاسکتا ہے اس کی موت کے بعد آزاد ہے۔
(۲۱۷۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَمَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَغَیْرُہُمْ أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَہُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَیُّمَا وَلِیدَۃٌ وَلَدَتْ مِنْ سَیِّدِہَا فَإِنَّہُ لاَ یَبِیعُہَا وَلاَ یَہَبُہَا وَلاَ یُوَرِّثُہَا وَہُوَ یَسْتَمْتِعُ مِنْہَا فَإِذَا مَاتَ فَہِیَ حُرَّۃٌ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭০
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنی لونڈی سے مجامعت کرنا اور اس سے اولاد بھی ہو

امام شافعی (رح) نے فرمایا : یہ غلام ہی ہے کیونکہ مالک ان کو آزاد کر دے تو ٹھیک ، فروخت و ہبہ جائز نہیں ہے۔ مالک فوت ہوا تو یہ آزاد ہے۔
(٢١٧٦٤) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے امہات الاولاد کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔ فرماتے ہیں : فروخت کرنا، ہبہ کرنا اور وراثت نہ بنائی جائے گی۔ اس کا مالک اس سے فائدہ اٹھاسکتا ہے، جب وہ فوت ہوا وہ آزاد ہوگی۔
(۲۱۷۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ابْنُ الْحَمَّامِیِّ الْمُقْرِئُ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النِّجَادُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : نَہَی عُمَرُ عَنْ بَیْعِ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ فَقَالَ لاَ تُبَاعُ وَلاَ تُوہَبُ وَلاَ تُورَثُ یَسْتَمْتِعُ بِہَا سَیِّدُہَا مَا بَدَا لَہُ فَإِذَا مَاتَ فَہِیَ حُرَّۃٌ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭১
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنی لونڈی سے مجامعت کرنا اور اس سے اولاد بھی ہو

امام شافعی (رح) نے فرمایا : یہ غلام ہی ہے کیونکہ مالک ان کو آزاد کر دے تو ٹھیک ، فروخت و ہبہ جائز نہیں ہے۔ مالک فوت ہوا تو یہ آزاد ہے۔
(٢١٧٦٥) عبداللہ بن دینارفرماتے ہیں کہ دو آدمی ابن عمر (رض) کے پاس آئے۔ ابن عمر (رض) نے پوچھا : تم کہاں سے آئے ہو ؟ وہ کہنے لگے : ابن زبیر کے پاس سے اور وہ کچھ اشیاء حلال قرار دیتے ہیں جو تم ہمارے اوپر حرام قرار دیتے ہو۔ ابن عمر (رض) نے پوچھا : اس نے تمہارے لیے کیا حلال قرار دیا جو تم پر حرام قرار دی گئی ؟ وہ کہنے لگے : اس نے امہات الاولاد کی بیع کو جائز قرار دیا ہے ؟ فرمانے لگے : کیا تم ابوحفص حضرت عمر کو جانتے ہو ؟ انھوں نے کہا : ہاں۔ فرمایا : وہ امہات الاولاد کی فروخت، ہبہ یا وراثت بنانے سے منع کرتے تھے، اس کا مالک اس سے اپنی زندگی میں فائدہ اٹھاسکتا ہے، جب وہ فوت ہوجائے تو وہ آزاد ہے۔
(۲۱۷۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ قَالَ : جَائَ رَجُلاَنِ إِلَی ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ مِنْ أَیْنَ أَقْبَلْتُمَا قَالاَ مِنْ قِبَلِ ابْنِ الزُّبَیْرِ فَأَحَلَّ لَنَا أَشْیَائَ کَانَتْ تَحْرُمُ عَلَیْنَا قَالَ مَا أَحَلَّ لَکُمْ مِمَّا کَانَ یُحَرَّمُ عَلَیْکُمْ قَالاَ أَحَلَّ لَنَا بَیْعَ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ قَالَ أَتَعْرِفَانِ أَبَا حَفْصٍ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ؟ قَالاَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَہَی أَنْ تُبَاعَ أَوْ تُوہَبَ أَوْ تُورَثَ یَسْتَمْتِعُ بِہَا مَا کَانَ حَیًّا فَإِذَا مَاتَ فَہِیَ حُرَّۃٌ

ہَکَذَا رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ وَغَلَطَ فِیہِ بَعْضُ الرُّوَاۃِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ فَرَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ وَہْمٌ لاَ یَحِلُّ ذِکْرُہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭২
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنی لونڈی سے مجامعت کرنا اور اس سے اولاد بھی ہو

امام شافعی (رح) نے فرمایا : یہ غلام ہی ہے کیونکہ مالک ان کو آزاد کر دے تو ٹھیک ، فروخت و ہبہ جائز نہیں ہے۔ مالک فوت ہوا تو یہ آزاد ہے۔
(٢١٧٦٦) حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ امہات الاولاد کی بیع کے بارے میں حضرت عمر بن خطاب نے مجھ سے مشورہ کیا، میں اس کو آزاد خیال کرتا تھا تو حضرت عمر (رض) نے اور ان کے بعد حضرت عثمان (رض) نے بھی یہی فیصلہ فرمایا، جب میں خلیفہ بنا تو میں ان کو غلام خیال کرتا تھا، محمد بن سیرین نے حضرت عبیدہ سے اس کے بارے میں سوال کیا کہ کونسی رائے آپ کو زیادہ محبوب ہے ؟ فرمایا : حضرت عمر، علی (رض) کی رائے کو میں زیادہ محبوب جانتا ہوں، جب حضرت علی (رض) نے اختلاف کو پا لیا
(۲۱۷۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبِیدَۃَ السَّلْمَانِیِّ قَالَ قَال عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : اسْتَشَارَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی بَیْعِ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ فَرَأَیْتُ أَنَا وَہُوَ أَنَّہَا عَتِیقَۃٌ فَقَضَی بِہَا عُمَرُ حَیَاتَہُ وَعُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا بَعْدَہُ فَلَمَّا وَلِیتُ أَنَا رَأَیْتُ أَنْ أَرِقَّہُنَّ۔ قَالَ فَأَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ أَنَّہُ سَأَلَ عَبِیدَۃَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ أَیُّہُمَا أَحَبُّ إِلَیْکَ قَالَ رَأْیُ عُمَرَ وَعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا جَمِیعًا أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ رَأَیِّ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ أَدْرَکَ الاِخْتِلاَفَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭৩
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنی لونڈی سے مجامعت کرنا اور اس سے اولاد بھی ہو

امام شافعی (رح) نے فرمایا : یہ غلام ہی ہے کیونکہ مالک ان کو آزاد کر دے تو ٹھیک ، فروخت و ہبہ جائز نہیں ہے۔ مالک فوت ہوا تو یہ آزاد ہے۔
(٢١٧٦٧) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے مجھ سے امہات الاولاد کی بیع کے بارے میں مناظر ہ کیا، میں نے کہا : فروخت کی جائے گی اور وہ فرماتے ہیں : فروخت نہ کی جائے گی، ہمیشہ حضرت عمر (رض) مجھ سے مراجعت فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے ان کی بات مان لی، انھوں نے اپنی زندگی میں ایسا ہی فیصلہ فرمایا۔ جب میں خلیفہ بنا تو میرا خیال تھا کہ ان کو فروخت کیا جائے، محمد بن سیرین حضرت عبیدہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی (رض) سے کہا : تمہاری اجتماعی سوچ مجھے زیادہ محبوب ہے، تمہارے اکیلے کی رائے سے۔
(۲۱۷۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی بْنِ السَّکَنِ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَبِیدَۃَ قَالَ قَال عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : نَاظَرَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی بَیْعِ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ فَقُلْتُ یُبَعْنَ وَقَالَ لاَ یُبَعْنَ قَالَ فَلَمْ یَزَلْ عُمَرُ یُرَاجِعُنِی حَتَّی قُلْتُ بِقَوْلِہِ فَقَضَی بِذَلِکَ حَیَاتَہُ فَلَمَّا أَفْضَی الأَمْرُ إِلَیَّ رَأَیْتُ أَنْ یُبَعْنَ۔

قَالَ الشَّعْبِیُّ وَحَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ عَنْ عَبِیدَۃَ قَالَ قُلْتُ لِعَلِیٍّ فَرَأْیُکَ وَرَأَیُ عُمَرَ فِی الْجَمَاعَۃِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ رَأْیِکَ وَحْدَکَ فِی الْفُرْقَۃِ۔

قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْب حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ عَبِیدَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمِثْلِہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭৪
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنی لونڈی سے مجامعت کرنا اور اس سے اولاد بھی ہو

امام شافعی (رح) نے فرمایا : یہ غلام ہی ہے کیونکہ مالک ان کو آزاد کر دے تو ٹھیک ، فروخت و ہبہ جائز نہیں ہے۔ مالک فوت ہوا تو یہ آزاد ہے۔
(٢١٧٦٨) زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے امہات الاولاد کو فروخت کیا، بعد میں رجوع کرلیا۔
(۲۱۷۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ وَأَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُوہِیَارَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَنْبَأَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ : بَاعَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُمَّہَاتَ الأَوْلاَدِ ثُمَّ رَجَعَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক: