আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

مکاتب کرنے کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৯ টি

হাদীস নং: ২১৭০৬
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی اولاد اپنی لونڈی سے، مکاتبہ کی اولاد اپنے خاوند سے
(٢١٧٠٠) ابن سیرین کہتے ہیں کہ قاضی شریح سے مکاتبہ کی اولاد کی بیع کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا : اولاد اسیجیسی ہے اگر مکاتبہ آزاد ہے تو اولاد بھی آزاد ہے، اگر وہ غلام ہے تو اولاد بھی غلام ہے۔
(۲۱۷۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَنْبَأَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ شُرَیْحٍ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ بَیْعِ وَلَدِ الْمُکَاتَبَۃِ فَقَالَ وَلَدُہَا مِنْہَا إِنْ عَتَقَتْ عَتَقَ وَإِنْ رَقَّتْ رَقَّ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭০৭
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی اولاد اپنی لونڈی سے، مکاتبہ کی اولاد اپنے خاوند سے
(٢١٧٠١) ابراہیم فرماتے ہیں کہ مکاتبہ اپنی کتابت کی مدد کے لیے اپنی اولاد کو فروخت کرے، لیکن قاضی شریح کا قول سفیان کو زیادہ پسند ہے۔
(۲۱۷۰۱) قَالَ وَحَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ یُبَاعُ وَلَدُہَا لِلْعِتْقِ تَسْتَعِینُ بِہِ الأُمُّ فِی مُکَاتَبَتِہَا وَقَوْلُ شُرَیْحٍ أَحَبُّ إِلَی سُفْیَانَ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭০৮
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی اولاد اپنی لونڈی سے، مکاتبہ کی اولاد اپنے خاوند سے
(٢١٧٠٢) ابن جریج نے عطاء سے کہا کہ مکاتب شرط نہ رکھے کہ اس کی اولاد بھی میری کتابت میں ہوگی، لیکن پیدائش کے بعد یہ کہہ دے۔
(۲۱۷۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ الْمُکَاتَبُ لاَ یَشْتَرِطُ أَنَّ مَا وَلَدَتْ مِنْ وَلَدٍ فَإِنَّہُ فِی کِتَابَتِی ثُمَّ تُولَدُ قَالَ ہُمْ فِی کِتَابَتِہِ۔ وَقَالَ ذَلِکَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭০৯
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی اولاد اپنی لونڈی سے، مکاتبہ کی اولاد اپنے خاوند سے
(٢١٧٠٣) ابن ابی ملیکہ فرماتی ہیں کہ اس کی والدہ نے کتابت کی ۔ پھر اس نے دو بچے جنم دیے، پھر فوت ہوگئی۔ میں نے اس کے بارے میں عبداللہ بن زبیر سے سوال کیا تو فرمایا : اگر وہ دونوں اپنی ماں کی کتابت کے وقت موجود تھے تو اس کے حکم میں ہیں، ان دونوں کی آزاد کا فیصلہ ہوگا۔
(۲۱۷۰۳) قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ وَأَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ : أَنَّ أُمَّہُ کُوتِبَتْ ثُمَّ وَلَدَتْ وَلَدَیْنِ ثُمَّ مَاتَتْ فَسَأَلْتُ عَنْہَا عَبْدَاللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ فَقَالَ إِنْ أَقَامَا بِکِتَابَۃِ أُمِّہِمَا فَذَلِکَ لَہُمَا فَإِنْ قَضَیَاہَا عَتَقَا وَقَالَ ذَلِکَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ۔

[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭১০
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی اولاد اپنی لونڈی سے، مکاتبہ کی اولاد اپنے خاوند سے
(٢١٧٠٤) عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ اگر اس نے مکاتبت کی اور اولاد نہ تھی۔ پھر لونڈی سے اولاد ہوگئی۔ باپ فوت ہوگیا تو قیمت کم نہ کی جائے گی۔ وہ اپنے باپ کی مکاتبت پر ہی رہے گی۔ اگر چاہے تو کتابت ختم کردی جائے اور وہ غلام رہیں۔

اس لیے ہم کہتے ہیں کہ جب مکاتب یا مکاتبہ اپنی رقم ادا کیے بغیر فوت ہوجائیں تو غلام ہی رہیں گے۔ ان کی اولاد بھی غلام ہوگی۔ استدلال اس حدیث سے ہے کہ اگر اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہوگا وہ غلام ہی ہے۔
(۲۱۷۰۴) قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ وَقَالَ عَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ إِنْ کَاتَبَ وَلاَ وَلَدَ لَہُ ثُمَّ وَلَدَ لَہُ مِنْ سَرِیَّۃٍ لَہُ فَمَاتَ أَبُوہُمْ لَمْ یُوضَعْ عَنْہُمْ شَیْئٌ وَکَانُوا عَلَی کِتَابَۃِ أَبِیہِمْ إِنْ شَائُ وا وَإِنْ أَحَبُّوا مُحِیَتْ کِتَابَۃُ أَبِیہِمْ وَکَانُوا عَبِیدًا لَہُ کَذَا قَالُوا وَنَحْنُ نَقُولُ إِذَا مَاتَ الْمُکَاتَبُ أَوِ الْمُکَاتَبَۃُ قَبْلَ أَدَائِ مَالِ الْکِتَابَۃِ مَاتَا رَقِیقَیْنِ وَأَوْلاَدُہُمَا رَقِیقٌ اسْتِدْلاَلاً بِمَا مَضَی فِی الْمُکَاتَبِ أَنَّہُ عَبْدٌ مَا بَقِیَ عَلَیْہِ دِرْہَمٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭১১
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی اولاد اپنی لونڈی سے، مکاتبہ کی اولاد اپنے خاوند سے
(٢١٧٠٥) ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا : ایک آدمی نے اپنے غلام سے مکاتبت کی، پھر ختم کر کے اس کا مال چھپالیا، حالانکہ اس کے غلام کا اور مال بھی تھا۔ فرماتے ہیں : یہ اس کے مالک کا ہوگا۔
(۲۱۷۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ رَجُلٌ کَاتَبَ عَبْدًا لَہُ وَقَاطَعَہُ فَکَتَمَہُ مَالاً لَہُ وَعَبِیدًا وَمَالاً غَیْرَ ذَلِکَ قَالَ ہُوَ لِلسَّیِّدِ وَقَالَہَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ وَسُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭১২
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی اولاد اپنی لونڈی سے، مکاتبہ کی اولاد اپنے خاوند سے
(٢١٧٠٦) ابن جریج کہتے ہیں : میں نے عطاء سے کہا : اگر مالک نے غلام سے مال کا سوال کیا اور اس نے چھپالیا تو فرمایا : وہ مالک کا ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے سوال کیا : اگر اس نے لونڈی کا بچہ چھپالیا یا اس کے بارے سوال نہ ہوا تو فرمایا : وہ بھی مالک کا ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں : اگر مالک کو غلام کے بچے کا علم ہو لیکن کتابت کے وقت اس کا تذکرہ نہیں ہوا۔ فرماتے ہیں : یہ بھی مالک کا مال ہے۔
(۲۱۷۰۶) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ فَإِنْ کَانَ السَّیِّدُ قَدْ سَأَلَہُ مَالَہُ فَکَتَمَہُ قَالَ ہُوَ لِسَیِّدِہِ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ قُلْتُ لِعَطَائٍ فَکَتَمَہُ وَلَدًا لَہُ مِنْ أَمَۃٍ لَہُ أَوْ لَمْ یَسْأَلْہُ قَالَ ہُوَ لِسَیِّدِہِ وَقَالَہَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ وَسُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ قُلْتُ لَہُ أَرَأَیْتَ إِنْ کَانَ سَیِّدُہُ قَدْ عَلِمَ بِوَلَدِ الْعَبْدِ فَلَمْ یَذْکُرْہُ السَّیِّدُ وَلاَ الْعَبْدُ عِنْدَ الْکِتَابَۃِ قَالَ فَلَیْسَ فِی کِتَابَتِہِ ہُوَ مَالُ سَیِّدِہِمَا وَقَالَہَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭১৩
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کتابت کو جلدی ادا کرنا
(٢١٧٠٧) انس بن سیرین اپنے والد سینقل فرماتے ہیں کہ مجھ سے انس بن مالک نے ٢٠ ہزار درہم پر مکاتبت کی۔ میں بھی فاتح لوگوں میں سے تھا، میں نے سامان خریدا اور منافع کمایا۔ میں انس بن مالک کے پاس کتابت کی رقم لے کر آیا۔ انھوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا، صرف مقرر حصہ۔ میں حضرت عمر (رض) سے اس کا تذکرہ کیا تو فرمانے لگے کہ حضرت انس میراث چاہتے ہیں اور اس کو لکھا کہ اس سے قبول کرو تو انھوں نے قبول کرلیا۔
(۲۱۷۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ یَحْیَی الْقَرَاطِیسِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ سُوَیْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِیرِینَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَاتَبَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَلَی عِشْرِینَ أَلْفَ دِرْہَمٍ فَکُنْتُ فِیمَنْ فَتَحَ تُسْتَرَ فَاشْتَرَیْتُ رِثَّۃً فَرَبِحْتُ فِیہَا فَأَتَیْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ بِکِتَابَتِہِ فَأَبَی أَنْ یَقْبَلَہَا مِنِّی إِلاَّ نُجُومًا فَأَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ أَرَادَ أَنَسٌ الْمِیرَاثَ وَکَتَبَ إِلَی أَنَسٍ أَنِ اقْبَلْہَا مِنَ الرَّجُلِ فَقَبِلَہَا۔

[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭১৪
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کتابت کو جلدی ادا کرنا
(٢١٧٠٨) سعید بن ابی سعید مقبری اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو لیث کی ایک عورت نے ذی المحاز بازار میں مجھے سات سو درہم کا خرید لیا۔ پھر میں مدینہ آیا، اس نے ٤٠ ہزار درہم میں مجھ سے مکاتبت کرلی۔ میں نے اسی سال ادا کردی۔ پھر باقی ماندہ اٹھا کر اس کے پاس لے گیا کہ اپنا مال قبضہ میں لے لو۔ وہ کہنے لگی : اللہ کی قسم ! میں مہینہ اور سال کے حساب سے لوں گی۔ میں نے جا کر حضرت عمر بن خطاب (رض) کے سامنے تذکرہ کیا تو فرمانے لگے : مال بیت المال میں جمع کرا دو اور اس کو پیغام دیا کہ تیرا مال بیت المال ہے اور ابو سعید آزاد ہے۔ اگر تو چاہے تو مہینہ اور سال کے اعتبار سے حاصل کرتی رہنا، فرماتے ہیں کہ اس نے پھر مال حاصل کرلیا۔
(۲۱۷۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا زَاہِرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ زِیَادٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ اللَّیْثِیُّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ أَنَّہُ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : اشْتَرَتْنِی امْرَأَۃٌ مِنْ بَنِی لَیْثٍ بِسُوقِ ذِی الْمَجَازِ بِسَبْعِمِائَۃِ دِرْہَمٍ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَکَاتَبَتْنِی عَلَی أَرْبَعِینَ أَلْفَ دِرْہَمٍ فَأَدَّیْتُ إِلَیْہَا عَامَّۃَ ذَلِکَ قَالَ ثُمَّ حَمَلْتُ مَا بَقِیَ إِلَیْہَا فَقُلْتُ ہَذَا مَالُکِ فَاقْبِضِیہِ قَالَتْ لاَ وَاللَّہِ حَتَّی آخُذَہُ مِنْکَ شَہْرًا بِشَہْرٍ وَسَنَۃً بِسَنَۃٍ فَخَرَجَتُ بِہِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ادْفَعْہُ إِلَی بَیْتِ الْمَالِ ثُمَّ بَعَثَ إِلَیْہَا فَقَالَ ہَذَا مَالُکِ فِی بَیْتِ الْمَالِ وَقَدْ عَتَقَ أَبُو سَعِیدٍ فَإِنْ شِئْتِ فَخُذِی شَہْرًا بِشَہْرٍ وَسَنَۃً بِسَنَۃٍ قَالَ فَأَرْسَلَتْ فَأَخَذَتْہُ

قَالَ أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ : ہَذَا حَدِیثٌ حُسْنٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭১৫
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کتابت کو جلدی ادا کرنا
(٢١٧٠٩) ابوبکر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے غلام سے مقررہ حصہ پر مکاتبت کرلی، وہ اپنی مکمل مکاتبت لے کر آگیا، اس نے لینے سے انکار کردیا، وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آیا تو حضرت عمر (رض) نے اس کے آقا کو بلایا اور قیمت پیش کی تو اس نے لینے سے انکار کردیا۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : میں بیت المال میں جمع کروا دیتا ہوں۔ اور مالک سے کہا : اپنا مقرر کردہ حصہ لو اور مکاتب سے کہا : جاؤ جہاں تمہارا دل چاہے۔
(۲۱۷۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُہَیْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ إِسْرَائِیلَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ عَنْ أَبِی بَکْرٍ : أَنَّ رَجُلاً کَاتَبَ غُلاَمًا لَہُ فَنَجَّمَہَا نُجُومًا فَأَتَی بِمُکَاتَبَتِہِ کُلِّہَا فَأَبَی أَنْ یَأْخُذَہَا إِلاَّ نُجُومًا فَأَتَی الْمُکَاتَبُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَرْسَلَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی مَوْلاَہُ فَجَائَ فَعَرَضَ عَلَیْہِ فَأَبَی أَنْ یَأْخُذُہَا فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَإِنِّی أَطْرَحُہَا فِی بَیْتِ الْمَالِ وَقَالَ لِلْمَوْلَی خُذْہَا نُجُومًا وَقَالَ لِلْمُکَاتَبِ اذْہَبْ حَیْثُ شِئْتَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭১৬
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کتابت کو جلدی ادا کرنا
(٢١٧١٠) ابن عون محمد سے نقل فرماتے ہیں کہ مکاتب نے اپنے آقا سے کہا : اپنی مکاتبت کی رقم وصول کرلو۔ اس نے کہا : صرف مقرر شدہ حصہ۔ وہ حضرت عثمان (رض) کے پاس آیا اور اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے مالک کو بلوایا۔ اور فرمایا : اپنی مکاتبت حاصل کرلو۔ اس نے انکار کردیا کہ صرف مقرر شدہ حصہ لوں گا۔ حضرت عثمان (رض) نے مال منگوایا اور بیت المال میں ڈال دیا، اس کو آزاد کردیا اور کہا میں تیرا حصہ ادا کروں گا، جب اس نے یہ دیکھا تو پھر مال لے لیا۔
(۲۱۷۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ : أَنَّ مُکَاتَبًا قَالَ لِمَوْلاَہُ خُذْ مِنِّی مُکَاتَبَتَکَ قَالَ لاَ إِلاَّ نُجُومًا فَأَتَی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّان رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَدَعَاہُ فَقَالَ خُذْ مُکَاتَبَتَکَ فَقَال لاَ إِلاَّ نُجُومًا فَقَالَ لَہُ ہَاتِ الْمَالَ فَجَائَ بِہِ فَکَتَبَ لَہُ عِتْقَہُ وَقَالَ أَلْقِہِ فِی بَیْتِ الْمَالِ فَأَدْفَعُہُ إِلَیْکَ نُجُومًا فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ أَخَذَہُ۔

وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَحْوَہُ کَذَا قَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔

[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭১৭
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جلدی کی شرط پر قیمت میں کمی کرنا اور جو کتابت میں کمی کے متعلق آیا ہے
(٢١٧١١) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ جو انسان اپنے غلام سے سونے اور چاندی کے عوض قسطوں کے حساب سے مکاتبت کرتا ہے، وہ ناپسند کرتے کہ وہ کہے، جلدی مجھے اتنا دے دو جو باقی بچے وہ تیرا ہے۔
(۲۱۷۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی الرَّجُلِ یُکَاتِبُ عَبْدَہُ بِالذَّہَبِ أَوِ الْوَرِقِ یُنَجِّمُہَا عَلَیْہِ نُجُومًا : أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَقُولَ عَجِّلْ لِی مِنْہَا کَذَا وَکَذَا فَمَا بَقِیَ فَلَکَ۔

[حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭১৮
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جلدی کی شرط پر قیمت میں کمی کرنا اور جو کتابت میں کمی کے متعلق آیا ہے
(٢١٢١٧) حضرت حسن اور محمد بن سیرین سے منقول ہے کہ وہ دونوں مکاتب کے بارے ناپسند فرماتے کہ کہا جائے : جلدی رقم ادا کر دو ، میں قیمت میں کمی کر دوں گا۔
(۲۱۷۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُہَیْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنِ الرَّبِیعِ عَنِ الْحَسَنِ وَابْنِ سِیرِینَ : أَنَّہُمَا کَرِہَا فِی الْمُکَاتَبِ أَنْ یَقُولَ عَجِّلْ لِی وَأَضَعُ عَنْکَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭১৯
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جلدی کی شرط پر قیمت میں کمی کرنا اور جو کتابت میں کمی کے متعلق آیا ہے
(٢١٧١٣) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مکاتب سے کہا : جائے جلدی ادا کرو میں کمی کروں گا اس میں کوئی حرج نہیں۔

شیخ ابو ولید فرماتے ہیں : جلدی ادا کرو جو چاہو، میں اس پر تجھے آزاد کروں گا اور کتابت کو ختم کر دوں گا کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۱۷۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی رَجُلٍ یَقُولُ لِمُکَاتَبِہِ عَجِّلْ وَأَضَعُ عَنْکَ لاَ بَأْسَ بِہِ۔

(ق) قَالَ الشَّیْخُ أَبُو الْوَلِیدِ قَالَ أَصْحَابُنَا مَعْنَاہُ عَجِّلْ لِی مَا شِئْتَ وَأُعْتِقُکَ عَلَیْہِ وَأَضَعُ عَنْکَ کِتَابَتَکَ فَلاَ بَأْسَ۔

[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২০
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جلدی کی شرط پر قیمت میں کمی کرنا اور جو کتابت میں کمی کے متعلق آیا ہے
(٢١٧١٤) قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ناپسند کرتے کہ مکاتبت کی قیمت میں سے جو سونا اور چاندی ہے اس میں کمائی جائے، پھر اس میں ثلث، ربعیاجو ہو سکے سامان میں جو چاہو مقرر کرلو۔ قاسم کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے یہ خط ابوبکر بن محمد کی طرف لکھا۔
(۲۱۷۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ أَخْبَرَنِی الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَکْرَہُ قِطَاعَۃَ الْمُکَاتَبِ الَّذِی یَکُونُ عَلَیْہِ الذَّہَبُ وَالْوَرِقُ ثُمَّ یُقَاطِعُہُ عَلَی ثُلُثِہِ أَوْ رُبُعِہِ أَوْ مَا کَانَ وَیَقُولُ اجْعَلُوا ذَلِکَ فِی الْعَرْضِ عَلَی مَا شِئْتُمْ قَالَ الْقَاسِمُ وَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ رَحِمَہُ اللَّہُ بِذَلِکَ إِلَی أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ۔

قَالَ الشَّیْخُ أَبُو الْوَلِیدِ قَالَ أَصْحَابُنَا لَمْ نُجَوِّزْ لِلسَّیِّدِ أَنْ یَأْخُذَ بَدَلَ الدَّرَاہِمِ أَقَلَّ مِنْہُ لأَنَّہُ رِبَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২১
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جلدی کی شرط پر قیمت میں کمی کرنا اور جو کتابت میں کمی کے متعلق آیا ہے
(٢١٧١٥) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں کہ مالک اپنے مکاتب کے سامان سے کچھ لے۔
(۲۱۷۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَیْمَانَ عَنْ بَکْرٍ الْمُزَنِیِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَأْخُذَ الرَّجُلُ مِنْ مُکَاتَبِہِ الْعُرُوضَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২২
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جلدی کی شرط پر قیمت میں کمی کرنا اور جو کتابت میں کمی کے متعلق آیا ہے
(٢١٧١٦) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ آقا اپنے مکاتب کے سامان سے کچھ لے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۱۷۱۶) قَالَ وَحَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَأْخُذَ الرَّجُلُ مِنْ مُکَاتَبِہِ عُرُوضًا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২৩
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کو ہبہ کرنا جائز نہیں لیکن آقا کی اجازت سے درست ہے
(٢١٧١٧) عبداللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مجھے لکھا کہ مکاتب کو وصیت، ہبہ صرف اس کے مالک کی اجازت سے جائز ہے۔
(۲۱۷۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ

(ح) قَالَ وَأَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَتَبَ إِلَیَّ أَنَّ الْمُکَاتَبَ لاَ یَجُوزُ لَہُ وَصِیَّۃٌ وَلاَ ہِبَۃٌ إِلاَّ بِإِذْنِ مَوْلاَہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২৪
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کو ہبہ کرنا جائز نہیں لیکن آقا کی اجازت سے درست ہے
(٢١٧١٨) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ مکاتب آزاد، ہبہ صرف اپنے مالک کی اجازت سے کرے گا۔ محمد بن عدی کی حدیث میں ہے کہ مکاتب آزاد اور ہبہ صرف اپنے مالک کی اجازت سے کرے گا۔
(۲۱۷۱۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : الْمُکَاتَبُ لاَ یَعْتِقُ وَلاَ یَہَبُ إِلاَّ بِإِذْنِ مَوْلاَہُ۔ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ کَانُوا یَقُولُونَ الْمُکَاتَبُ لاَ یَعْتِقُ وَلاَ یَہَبُ إِلاَّ بِإِذْنِ مَوْلاَہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭২৫
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی کتابت اور اس کی آزادی
(٢١٧١٩) ابن جریج کہتے ہیں : میں نے عطاء سے کہا کہ ایک مکاتب کا غلام تھا، اس نے اس سے مکاتبت کی۔ پھر وہ فوت ہوگیا تو وراثت کس کو ملے گی ؟ فرمایا : پہلے لوگ کہا کرتے تھے کہ اس کی مکاتبت کے اندر مدد کی جائے گی۔
(۲۱۷۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ : کَانَ لِلْمُکَاتَبِ عَبْدٌ فَکَاتَبَہُ ثُمَّ مَاتَ لِمَنْ مِیرَاثُہُ؟ قَالَ : کَانَ مَنْ قِبَلَکُمْ یَقُولُونَ ہُوَ لِلَّذِی کَاتَبَہُ یَسْتَعِینُ بِہِ فِی کِتَابَتِہِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক: