আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
مکاتب کرنے کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৯ টি
হাদীস নং: ২১৭৪৬
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کو دو صورتوں میں فروخت کرنا جائز ہے : 1 قسط ادا کرنے سے عاجز آجائے 2 مکاتب فروخت کرنے پر راضی ہوجائے
(٢١٧٤٠) عطاء حضرت ابن مسعود (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ مکاتبہ کی بیع کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۲۱۷۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : کَانَ یَکْرَہُ بَیْعَ الْمُکَاتَبِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৪৭
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ یہودی اور عیسائی کی کتابت کا بیان
(٢١٧٤١) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ سلمان فارسی نے اپنا قصہ بیان کیا، اس میں ہے کہ وادی القری میں بنو قریظہ کا ایک یہودی آیا۔ اس نے مجھے خریدا، جس کے پاس میں موجود تھا، وہ مجھے مدینہ لے کر آیا، اس نے اپنی بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیان کی۔ جب فارغ ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے مسلمان ! کتابت کرلو تو میں نے کتابت کرلی۔
(۲۱۷۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنِی سَلْمَانُ الْفَارِسِیُّ فَذَکَرَ قِصَّتَہُ وَقَالَ فِیہَا قَدِمَ وَادِی الْقُرَی رَجُلٌ مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ مِنْ یَہُودٍ فَابْتَاعَنِی مِنْ صَاحِبِی الَّذِی کُنْتُ عِنْدَہُ فَخَرَجَ بِی حَتَّی قَدِمَ بِیَ الْمَدِینَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَأَنَّہُ حَدَّثَ النَّبِیَّ -ﷺ- بِحَدِیثِہِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : کَاتِبْ یَا سَلْمَانُ ۔ فَکَاتَبْتُ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৪৮
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا جرم اور اس پر سزا دینے کا بیان
(٢١٧٤٢) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ مکاتب کا جرم اس کے ذمہ ہے، اسی سے ابتدا کی جائے گی۔
(۲۱۷۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : جِنَایَۃُ الْمُکَاتَبِ فِی رَقَبَتِہِ یُبْدَأُ بِہَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৪৯
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا جرم اور اس پر سزا دینے کا بیان
(٢١٧٤٣) ابراہیم قاضی شریح سے نقل فرماتے ہیں کہ مکاتب کا زخمی کرنا اس کے غلام کے زخمی کرنے کی ماند ہے۔
(۲۱۷۴۳) وَبِإِسْنَادِہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَائٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ شُرَیْحٍ قَالَ جِرَاحَتُہُ جِرَاحَۃُ عَبْدٍ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৫০
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا جرم اور اس پر سزا دینے کا بیان
(٢١٧٤٤) قتادہ حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ مکاتب کا زخمی کرنا، غلام کے زخمی کرنے کی ماند ہے۔
(۲۱۷۴۴) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَائٍ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جِرَاحَۃُ الْمُکَاتَبِ جِرَاحَۃُ عَبْدٍ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৫১
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا جرم اور اس پر سزا دینے کا بیان
(٢١٧٤٥) ابن جریج فرماتے ہیں کہ عطاء نے کہا، جب مکاتب کو زخمی کیا گیا تو اس کا قصاص ہے ابن جریج فرماتے ہیں کہ یہ اس کا مال ہے اس کی بھی حفاظت کرنا اس کے ذمہ تھا جیسے وہ اپنے مال کی حفاظت کرتا ہے، فرمایا : ہاں۔
امام شافعی (رح) نے فرمایا : عطاء اور عمرو بن دینار فرماتے ہیں : نہ اس کے مال سے دی جائے گی اور نہ ہی اس کے مالک کو اس حالت میں پکڑ ا جائے گا۔ اگر وہ مکاتبت ادا کرنے سے پہلے فوت ہوجائے ۔
امام شافعی (رح) نے فرمایا : عطاء اور عمرو بن دینار فرماتے ہیں : نہ اس کے مال سے دی جائے گی اور نہ ہی اس کے مالک کو اس حالت میں پکڑ ا جائے گا۔ اگر وہ مکاتبت ادا کرنے سے پہلے فوت ہوجائے ۔
(۲۱۷۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قَالَ عَطَائٌ : إِذَا أُصِیبَ الْمُکَاتَبُ لَہُ قَوَدُہُ وَقَالَہَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ: مِنْ أَجْلِ أَنَّہُ کَأَنَّہُ مِنْ مَالِہِ یُحْرِزُہُ کَمَا یُحْرِزُ مَالَہُ؟ قَالَ نَعَمْ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ کَمَا قَالَ عَطَائٌ وَعَمْرُو بْنُ دِینَارٍ الْجِنَایَۃُ عَلَیْہِ مَالٌ مِنْ مَالِہِ لاَ یَکُونُ لِسَیِّدِہِ أَخَذَہَا بِحَالٍ إِلاَّ أَنْ یَمُوتَ قَبْلَ أَنْ یُؤَدِّیَ۔ [صحیح]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ کَمَا قَالَ عَطَائٌ وَعَمْرُو بْنُ دِینَارٍ الْجِنَایَۃُ عَلَیْہِ مَالٌ مِنْ مَالِہِ لاَ یَکُونُ لِسَیِّدِہِ أَخَذَہَا بِحَالٍ إِلاَّ أَنْ یَمُوتَ قَبْلَ أَنْ یُؤَدِّیَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৫২
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی وراثت اور اس کی ولاء کا بیان
(٢١٧٤٦) ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے ابن طاؤس سے کہا کہ آپ کے والد کیا فرماتے ہیں کہ جب آدمی غلام سے مکاتبت کرتا ہے، پھر وہ فوت ہوجاتا ہے۔ اس مکاتبت کی بچی وارث ہوگی، وہ اپنی کتابت اس کو ادا کرے گا۔ پھر وہ آزاد کیا جائے گا، پھر وہ فوت ہوجاتا ہے، فرماتے ہیں : ولاء اس بچی کی ہوگی۔ میرا گمان ہے کہ کوئی بھی اس کی مخالفت نہ کرے گا اور ان کے قول سے تعجب ہے کہ اس کی ولاء نہ ہوگی۔
(۲۱۷۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْنَا لاِبْنِ طَاوُسٍ: کَیْفَ کَانَ أَبُوکَ یَقُولُ فِی الرَّجُلِ یُکَاتِبُ الرَّجُلَ ثُمَّ یَمُوتُ فَتَرِثُ ابْنَتُہُ ذَلِکَ الْمُکَاتَبَ فَیُؤَدِّی کِتَابَتَہُ ثُمَّ یُعْتَقُ ثُمَّ یَمُوتُ قَالَ کَانَ یَقُولُ وَلاَؤُہُ لَہَا وَیَقُولُ مَا کُنْتُ أَظُنُّ أَنْ یُخَالِفَ عَنْ ذَلِکَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ وَیَعْجَبُ مِنْ قَوْلِہِمْ لَیْسَ لَہَا وَلاَئٌ۔
[صحیح]
[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৫৩
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی وراثت اور اس کی ولاء کا بیان
(٢١٧٤٧) ابن جریج فرماتی ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا : ایک آدمی فوت ہوگیا، اس نے دو بیٹے اور ایک مکاتب کو چھوڑا۔ پھر مکاتب دونوں میں سے ایک کے حصہ میں آیا۔ اس نے اپنی کتابت ادا کی۔ پھر مکاتب فوت ہوگیا۔ اس کا وارث کون ہوگا ؟ فرماتے ہیں : وہ دونوں اس کے وارث ہیں اس کی ولاء اس کی طرف لوٹے گی جس نے اس سے کتابت کی تھی۔ میں نے اس پر لوٹا دی ہے۔
امام شافعی (رح) نے فرمایا : عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ ایک شخص نے مکاتبت کی۔ پھر مالک فوت ہوگیا۔ پھر مکاتب نے اپنی کتابت ادا کر کے آزادی حاصل کی تو ولاء اس کی ہوگی جس نے کتابت کی بنیاد رکھی۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : مکاتب کی تقسیم ہونا چاہیے کیونکہ تقسیم تو بیع ہے جبکہ مکاتب کی بیع درست نہیں ہے۔
امام شافعی (رح) نے فرمایا : عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ ایک شخص نے مکاتبت کی۔ پھر مالک فوت ہوگیا۔ پھر مکاتب نے اپنی کتابت ادا کر کے آزادی حاصل کی تو ولاء اس کی ہوگی جس نے کتابت کی بنیاد رکھی۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : مکاتب کی تقسیم ہونا چاہیے کیونکہ تقسیم تو بیع ہے جبکہ مکاتب کی بیع درست نہیں ہے۔
(۲۱۷۴۷) وَبِإِسْنَادِہِ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ : رَجُلٌ تُوُفِّیَ وَتَرَکَ ابْنَیْنِ لَہُ وَتَرَکَ مُکَاتَبًا فَصَارَ الْمُکَاتَبُ لأَحَدِہِمَا ثُمَّ قَضَی کِتَابَتَہُ لِلَّذِی صَارَ لَہُ فِی الْمِیرَاثِ ثُمَّ مَاتَ الْمُکَاتَبُ مَنْ یَرِثُہُ؟ قَالَ یَرِثَانِہِ جَمِیعًا وَقَالَہَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ قَالَ عَطَائٌ رَجَعَ وَلاَؤُہُ إِلَی الَّذِی کَاتَبَہُ فَرَدَّدْتُہَا عَلَیْہِ وَقَالَ ذَلِکَ غَیْرَ مَرَّۃٍ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبِقَوْلِ عَطَائٍ وَعَمْرِو بْنِ دِینَارٍ نَقُولُ فِی الْمُکَاتَبِ یُکَاتِبُہُ الرَّجُلُ ثُمَّ یَمُوتُ السَّیِّدُ ثُمَّ یُؤَدِّی الْمُکَاتَبُ فَیَعْتِقُ بِالْکِتَابَۃِ أَنَّ وَلاَئَ ہُ لِلَّذِی عَقَدَ کِتَابَتَہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَلَمْ یَقُلْ بِقَوْلِہِ فِی قِسْمَۃِ الْمُکَاتَبِ قَالَ مِنْ قِبَلِ أَنَّ الْقَسْمَ بَیْعٌ وَبَیْعُ الْمُکَاتَبِ لاَیَجُوزُ۔ [صحیح]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبِقَوْلِ عَطَائٍ وَعَمْرِو بْنِ دِینَارٍ نَقُولُ فِی الْمُکَاتَبِ یُکَاتِبُہُ الرَّجُلُ ثُمَّ یَمُوتُ السَّیِّدُ ثُمَّ یُؤَدِّی الْمُکَاتَبُ فَیَعْتِقُ بِالْکِتَابَۃِ أَنَّ وَلاَئَ ہُ لِلَّذِی عَقَدَ کِتَابَتَہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَلَمْ یَقُلْ بِقَوْلِہِ فِی قِسْمَۃِ الْمُکَاتَبِ قَالَ مِنْ قِبَلِ أَنَّ الْقَسْمَ بَیْعٌ وَبَیْعُ الْمُکَاتَبِ لاَیَجُوزُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৫৪
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی وراثت اور اس کی ولاء کا بیان
(٢١٧٤٨) عبدالملک بن سلیمان حضرت عطاء سے ایک آدمی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ وہ فوت ہوگیا، اس کا مکاتب غلام تھا، فوت ہونے والے کے بیٹے اور بیٹیاں تھیں تو ظاہری طور پر عورتیں اور مرد ورثاء ہوں گے، لیکن عورتیں صرف کتابت یا آزاد کرنے کی صورت میں وارث ہوسکتی ہیں۔
(۲۱۷۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ عَطَائٍ فِی الرَّجُلِ یَمُوتُ وَلَہُ عَبْدٌ مُکَاتَبٌ وَلِلْمُتَوَفَّی بَنُونَ وَبَنَاتٍ قَالَ : یَرِثُونَ مِمَّا عَلَی ظَہْرِہِ النِّسَائُ وَالرِّجَالُ وَلاَ تَرِثُ النِّسَائُ مِنَ الْوَلاَئِ إِلاَّ مَا کَاتَبْنَ أَوْ أَعْتَقْنَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৫৫
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی وراثت اور اس کی ولاء کا بیان
(٢١٧٤٩) سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن دونوں ایک آدمی کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو اپنے غلام سے مکاتبت کرتا ہے، پھر فوت ہوجاتا ہے اور اپنے بعد بیٹے اور عورت چھوڑتا ہے تو مکاتب اپنی کتابت ان کو ادا کرتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ولاء صرف مردوں کو ملے گی عورتوں کو نہیں۔
(۲۱۷۴۹) قَالَ وَأَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَأَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالاَ فِی الرَّجُلِ یُکَاتِبُ مَمْلُوکَہُ ثُمَّ یَمُوتُ وَیَتْرُکُ بَنِینَ رِجَالاً وَنِسَائً فَیُؤَدِّی الْمُکَاتَبُ إِلَیْہِمْ کِتَابَتَہُ قَالاَ : الْوَلائُ لِلرِّجَالِ دُونَ النِّسَائِ ۔
وَکَانَ ابْنُ شِہَابٍ یَقُولُ ذَلِکَ۔ [صحیح]
وَکَانَ ابْنُ شِہَابٍ یَقُولُ ذَلِکَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৫৬
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی وراثت اور اس کی ولاء کا بیان
(٢١٧٥٠) ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام سے کتابت کی۔ مکاتبت کرنے والا شخص مرگیا، اس نے اپنے مرد اور عورتیں چھوڑیں۔ فرماتے ہیں کہ مکاتب کی ولاء سے عورتوں کو کچھ بھی نہ ملے گا۔ لیکن میراث مردوں اور عورتوں میں تقسیم ہوگی۔
(۲۱۷۵۰) قَالَ وَأَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَنْبَأَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ فِی رَجُلٍ کَاتَبَ عَبْدًا لَہُ ثُمَّ مَاتَ الرَّجُلُ الَّذِی کَاتَبَ وَتَرَکَ رِجَالاً وَنِسَائً قَالَ : لَیْسَ لِلنِّسَائِ مِنْ وَلاَئِ الْمُکَاتَبِ شَیْئٌ وَالْمِیرَاثُ بَیْنَہُمْ یَعْنِی الرِّجَالَ وَالنِّسَائَ ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৫৭
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی وراثت اور اس کی ولاء کا بیان
(٢١٧٥١) مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ آدمی فوت ہوجائے، اس کے مکاتب کو چھوڑا تو ورثاء نے مکاتب کو آزاد کردیا تو ولائکس کا حق ہے ؟ فرمایا : میت کا حق ہے۔
(۲۱۷۵۱) قَالَ وَأَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَنْبَأَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَیْقٍ عَنِ الْمُغِیرَۃِ قَالَ سَأَلْتُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ رَجُلٍ تُوُفِّیَ وَتَرَکَ مُکَاتَبًا فَأَعْتَقَ الْوَرَثَۃُ الْمُکَاتَبَ بِمَا یُصِیبَہُ مِنَ الْمِیرَاثِ لِمَنِ الْوَلائُ ؟ قَالَ لِلْمُکَاتَبِ الْمَیِّتِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৫৮
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا عاجز آنا (یعنی رقم ادا نہ کرسکنا)
(٢١٧٥٢) عطاء بن ابی رباح حضرت ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک مکاتب ٩٠٠ تو ادا کر دے لیکن ایک سو دینار دینے سے عاجز آگیا تو وہ دوبارہ غلام ہوگیا۔
(۲۱۷۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْبَجَلِیِّ حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَاتَبَ مُکَاتَبًا لَہُ فَأَدَّی تِسْعَمِائَۃٍ وَبَقِیَتْ مِائَۃُ دِینَارٍ فَعَجَزَ فَرَدَّہُ فِی الرِّقِّ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৫৯
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا عاجز آنا (یعنی رقم ادا نہ کرسکنا)
(٢١٧٥٣) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا ایک غلام تھا۔ وہ اپنی کتابت ادا کرنے سے قاصر ہوگیا، جو لے لیا سو لے لیا اس کو دوبارہ غلام بنا لیا۔
(۲۱۷۵۳) قَالَ وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ مُکَاتَبًا لَہُ عَجَزَ فَرَدَّہُ مَمْلُوکًا وَأَمْسَکَ مَا أَخَذَ مِنْہُ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৬০
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا عاجز آنا (یعنی رقم ادا نہ کرسکنا)
(٢١٧٥٤) نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کا ایک مکاتب غلام تھا۔ اس کی کتابت ٣٠ ہزار تھی۔ پھر اس نے آکر کہا : میں عاجز آگیا ہوں۔ فرمایا : تب اپنی کتابت ختم کردو۔ وہ کہنے لگا : میں عاجز آگیا ہوں، آپ خود ہی اس کو مٹا ڈالیں۔ نافع کہتے ہیں : میں نے اس کو اشارہ کیا کہ مٹا دو ۔ وہ غلام آزادی کا لالچی تھا۔ غلام نے مٹا دیا۔ اس کے ایک یا دو بیٹے تھے۔ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : میری لونڈی کو جدا کرلو تو ابن عمر (رض) نے اس کے بعد اس کے بیٹے کو آزاد کردیا۔
(۲۱۷۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَہُ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَاتَبَ غُلاَمًا لَہُ عَلَی ثَلاَثِینَ أَلْفًا ثُمَّ جَائَ ہُ فَقَالَ قَدْ عَجَزْتُ فَقَالَ إِذًا امْحُ کِتَابَتَکَ فَقَالَ قَدْ عَجَزْتُ فَامْحُہَا أَنْتَ قَالَ نَافِعٌ فَأَشَرْتُ إِلَیْہِ امْحُہَا وَہُوَ یَطْمَعُ أَنْ یُعْتِقَہُ فَمَحَاہَا الْعَبْدُ وَلَہُ ابْنَانِ أَوِ ابْنٌ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : اعْتَزِلْ جَارِیَتِی قَالَ فَأَعْتَقَ ابْنُ عُمَر ابْنَہُ بَعْدُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৬১
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا عاجز آنا (یعنی رقم ادا نہ کرسکنا)
(٢١٧٥٥) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے اپنے غلام سے مکاتبت کی۔ اس کا بچہ اور ام ولد بھی موجود تھی۔ وہ ابن عمر (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں عاجز آچکا ، اپنیکتابت واپس لے لو تو ابن عمر (رض) نے فرمایا : میں تجھ سے قبول نہ کروں گا جب تک تو ان کو لے کر نہ آئے گا۔ جب وہ ان کو لے کر آیا، تو انھوں نے ان کو غلامی میں واپس کردیا۔ اس کے ایک یا تین دن کے بعد ان کو آزاد کردیا۔
(۲۱۷۵۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَاتَبَ غُلاَمًا لَہُ وَوَلَدَہُ وَأُمَّ وَلَدِہِ وَأَنَّہُ أَتَی ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ لَہُ إِنِّی قَدْ عَجَزْتُ فَاقْبَلْ کِتَابَتِی فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنِّی لَمْ أَقْبَلْہُ مِنْکَ حَتَّی تَأْتِیَ بِہِمْ قَالَ فَأَتَاہُ بِہِمْ فَرَدَّہُمْ فِی الرِّقِّ فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ إِمَّا بِیَوْمٍ وَإِمَّا بِثَلاَثَۃٍ أَعْتَقَہُمْ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৬২
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا عاجز آنا (یعنی رقم ادا نہ کرسکنا)
(٢١٧٥٦) عمر بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنے ایک غلام سے ٤٠ ہزار میں مکاتبت کی۔ اس کا نام شرف تھا۔ وہ کوفہ گیا گدھوں پر کام کرتا تھا تو ١٥ ہزار لے کردیے۔ پھر ایک انسان آیا اس نے کہا : آپ پاگل ہیں کہ عبداللہ بن عمر غلام خرید کر آزاد کرتے ہیں۔ تو نے اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے، ان کے پاس جاؤ اور جا کر کہنا، میں عاجز آگیا ہوں، وہ اپنے ساتھ تحریر بھی لے کر آیا، اس نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! میں عاجز آگیا ہوں یہ تحریر ہے ختم کر دو تو یعنی عبداللہ بن عمر کہنے لگے : اگر چاہو تو مٹا دو ، میں نہ مٹاؤں گا، اس نے مٹا دیا تو ابن عمر کی آنکھیں آنسو سے بھر آئیں۔ فرمانے لگے : جاؤ تم آزاد ہو۔ اس نے کہا : اللہ آپ کو بھلائی دے میرے بیٹوں پر بھی احسان فرمائیں، فرمایا : وہ دونوں بھی آزاد ہیں۔ اس نے کہا : میرے بچوں کی والدہ کو بھی۔ فرمایا : وہ بھی آزاد ہے۔ ایک جگہ بیٹھے ہی ان پانچوں کو آزاد کردیا۔
(۲۱۷۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَاتَبَ غُلاَمًا لَہُ یُقَالُ لَہُ شَرْفًا بِأَرْبَعِینَ أَلْفًا فَخَرَجَ إِلَی الْکُوفَۃِ فَکَانَ یَعْمَلُ عَلَی حُمُرٍ لَہُ حَتَّی أَدَّی خَمْسَۃَ عَشَرَ أَلْفًا فَجَائَ ہُ إِنْسَانٌ فَقَالَ مَجْنُونٌ أَنْتَ أَنْتَ ہَا ہُنَا تُعَذِّبُ نَفْسَکَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یَشْتَرِی الرَّقِیقَ یَمِینًا وَشِمَالاً ثُمَّ یُعْتِقُہُمَ ارْجَعْ إِلَیْہِ فَقَلْ لَہُ قَدْ عَجَزْتُ فَجَائَ إِلَیْہِ بِصَحِیفَتِہِ فَقَالَ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ عَجَزْتُ وَہَذِہِ صَحِیفَتِی فَامْحُہَا فَقَالَ لاَ وَلَکِنِ امْحُہَا إِنْ شِئْتَ فَمَحَاہَا فَفَاضَتْ عَیْنَا عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ اذْہَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ قَالَ أَصْلَحَکَ اللَّہُ أَحْسِنْ إِلَی ابْنیَّ قَالَ ہُمَا حُرَّانِ قَالَ : أَصْلَحَکَ اللَّہُ أَحْسِنْ إِلَی أُمَّیْ وَلَدَیَّ قَالَ ہُمَا حُرَّتَانِ فَأَعْتَقَہُمْ خَمْسَتَہُمْ جَمِیعًا فِی مَقْعَدٍ۔
[صحیح]
[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৬৩
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا عاجز آنا (یعنی رقم ادا نہ کرسکنا)
(٢١٧٥٧) اسحق جو عبداللہ بن عمر کے غلام تھے فرماتے ہیں کہ ان کے والدنے عبداللہ بن عمر (رض) سے ٣٠ ہزار میں کاتبت کرلی۔ وہ عاجز آگیا تو اس کو غلامی میں لوٹا دیا۔ اس نے نصف یا تقریباً نصف ادا کردی تھی۔ اس نے مطالبہ کردیا کہ میرے بچوں کو آزاد کردیں جو ان کی مکاتبت کے درمیان پیدا ہوئے، اس کو اور اس کے بچوں کو بھی آزاد کردیا ١٥٠٠ درہم بھی واپس کردیے۔
(۲۱۷۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ إِسْحَاقَ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَر أَنَّ أَبَاہُ کَاتَبَہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَلَی ثَلاَثِینَ أَلْفًا فَعَجَزَ فَرَدَّہُ فِی الرِّقِّ وَقَدْ أَدَّی النِّصْفَ أَوْ قَرِیبًا مِنَ النِّصْفِ فَطَلَبَ إِلَیْہِ أَنْ یُعْتِقَ وَلَدَہُ وَکَانُوا وُلِدُوا مِنْ مُکَاتَبَتِہِ فَأَعْتَقَہُ وَأَعْتَقَ وَلَدَہُ وَرَدَّ إِلَیْہِ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَۃِ دِرْہَمٍ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৬৪
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا عاجز آنا (یعنی رقم ادا نہ کرسکنا)
(٢١٧٥٨) ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ سے سنا، وہ مکاتب کے بارے میں کہتے تھے جب وہ اپنی کتابت کا ابتدائی حصہ ادا کرچکا ہو اور وہ عاجز آجائے کیا وہ غلام ہے ؟ فرمایا : مالک اپنی شرط کا زیادہ حق دار ہے، جو اس نے شرط لگائی۔
(۲۱۷۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ فِی الْمُکَاتَبِ یُؤَدِّی صَدْرًا مِنْ کِتَابَتِہِ وَیَعْجَزُ أَیُرَدُّ رَقِیقًا؟ قَالَ سَیِّدُہُ أَحَقُّ بِشَرْطِہِ الَّذِی شَرَطَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৬৫
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کا عاجز آنا (یعنی رقم ادا نہ کرسکنا)
(٢١٧٥٩) ابوزبیر حضرت جابر سے نقل فرماتے ہیں کہ جب تک وہ اپنی پوری کتابت ادا نہ کریں ، ان کو غلامی میں واپس کردیا جائے گا۔
(۲۱۷۵۹) قَالَ وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنِ الأَشْعَثِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَہُمْ مَا أَخَذُوا مِنْہُ یَعْنِی إِذَا لَمْ یُکْمِلْ فَرُدَّ فِی الرِّقِّ فَمَا أَخَذَ فَلَہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক: