আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
قسموں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৮০ টি
হাদীস নং: ১৯৮৫৩
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم اٹھانے کے بعد بہتر کام کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیں
(١٩٨٤٧) ابو حازم حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دیر کردی۔ پھر اپنے گھر واپس آیا تو اس کے بچے سو چکے تھے، اس کی بیوی نے کھانا پیش کیا تو اس نے بچوں کی وجہ سے قسم کھائی کہ وہ کھانا نہیں کھائے گا۔ لیکن بعد میں اس نے کھالیا۔ پھر انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس کا تذکرہ کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو قسم اٹھائے دوسرا کام اس سے بہتر ہو تو اس کو کرلے اور اپنی قسم کا کفارہ دے۔
(۱۹۸۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ کَیْسَانَ الْیَشْکُرِیُّ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَعْتَمَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- ثُمَّ رَجَعَ إِلَی أَہْلِہِ فَوَجَدَ الصِّبْیَۃَ قَدْ نَامُوا فَأَتَاہُ أَہْلُہُ بِطَعَامٍ فَحَلَفَ أَنْ لاَ یَأْکُلَ مِنْ أَجْلِ صِبْیَتِہِ ثُمَّ بَدَا لَہُ فَأَکَلَ فَأَتَیَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَا ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ فَرَأَی غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا فَلْیَأْتِہَا وَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مَرْوَانَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۶۵۰]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مَرْوَانَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۶۵۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৫৪
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم اٹھانے کے بعد بہتر کام کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیں
(١٩٨٤٨) تمیم بن طرفہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی عدی بن حاتم کے پاس آیا۔ اس نے خرچ یا ایک خادم کی قیمت کا سوال کیا، تو عدی بن حاتم فرماتے ہیں کہ میرے پاس تو زرع یا خود ہے، لیکن میں اپنے گھر والوں کو لکھ دیتا ہوں وہ تجھے دے دیں گے۔ راوی کہتے ہیں : وہ بندہ راضی نہ ہوا تو عدی (رض) کو غصہ آگیا۔ قسم اٹھائی کہ کچھ نہ دیں گے۔ بعد میں آدمی راضی ہوگیا تو عدی فرماتے ہیں : اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا نہ ہوتا کہ آپ نے فرمایا : جو قسم اٹھائے پھر اس سے بہتر تقویٰ والی بات دیکھی ہے تو تقویٰ کی خاطر اس کو چھوڑ دے۔ ورنہ میں قسم نہ توڑتا۔
(۱۹۸۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ أَنْبَأَنَا أَبُو شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ عَنْ تَمِیمِ بْنِ طَرَفَۃَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ فَسَأَلَہُ نَفَقَۃً أَوْ فِی ثَمَنِ خَادِمٍ فَقَالَ لَہُ عَدِیٌّ مَا عِنْدِی إِلاَّ دِرْعِی وَمِغْفَرِی فَأَنَا أَکْتُبُ لَکَ إِلَی أَہْلِی تُعْطَہَا قَالَ فَلَمْ یَرْضَ قَالَ فَغَضِبَ عَدِیٌّ فَحَلَفَ لاَ یُعْطِیہِ شَیْئًا قَالَ فَرَضِیَ الرَّجُلُ قَالَ فَقَالَ لَوْلاَ أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ فَرَأَی تِقَائَ ہَا فَلْیَأْتِ التَّقْوَی ۔ مَا حَنِثْتُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ جَرِیرٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۶۵۱]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ جَرِیرٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۶۵۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৫৫
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم اٹھانے کے بعد بہتر کام کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیں
(١٩٨٤٩) عدی بن حاتم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جو قسم اٹھائے اور دوسرا کام اس سے بہتر ہو تو بہتر کام کرلے یا اس کو چھوڑ دے۔
(ب) حضرت معاذ عنبری شعبہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنی قسم ترک کر دے۔
(ج) عدی (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی قسم اٹھائے پھر اس سے بہتر کام دیکھے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور بہتر کام کرلے۔
(ب) حضرت معاذ عنبری شعبہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنی قسم ترک کر دے۔
(ج) عدی (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی قسم اٹھائے پھر اس سے بہتر کام دیکھے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور بہتر کام کرلے۔
(۱۹۸۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ عَنْ تَمِیمٍ الطَّائِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ فَرَأَی غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا فَلْیَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ وَلْیَتْرُکْ ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیِّ عَنْ شُعْبَۃَ وَقَالَ : وَلْیَتْرُکْ یَمِینَہُ وَرَوَاہُ الأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ عَنْ تَمِیمٍ الطَّائِیِّ عَنْ عَدِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا حَلَفَ أَحَدُکُمْ عَلَی یَمِینٍ فَرَأَی خَیْرًا مِنْہَا فَلْیُکَفِّرْہَا وَلْیَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیِّ عَنْ شُعْبَۃَ وَقَالَ : وَلْیَتْرُکْ یَمِینَہُ وَرَوَاہُ الأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ عَنْ تَمِیمٍ الطَّائِیِّ عَنْ عَدِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا حَلَفَ أَحَدُکُمْ عَلَی یَمِینٍ فَرَأَی خَیْرًا مِنْہَا فَلْیُکَفِّرْہَا وَلْیَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৫৬
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم اٹھانے کے بعد بہتر کام کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیں
(١٩٨٥٠) تمیم بن طرفہ نے ایک روایت میں کفارے کا تذکرہ کیا ہے اور ایک روایت میں کفارے کا ذکر نہیں کیا۔
(۱۹۸۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْبُخَارِیُّ أَنْبَأَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلِ بْنِ غَزْوَانَ عَنِ الأَعْمَشِ فَذَکَرَہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَیْلٍ وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ مَعَ ذِکْرِ الْکَفَّارَۃِ فِیہِ۔ وَرَوَاہُ سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ تَمِیمِ بْنِ طَرَفَۃَ فَذَکَرَ فِیہِ الْکَفَّارَۃَ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ وَلَمْ یَذْکُرْہَا فِی الرِّوَایَۃِ الأُخْرَی۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৫৭
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم اٹھانے کے بعد بہتر کام کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیں
(١٩٨٥١) عمرو بن مرہ نے عبداللہ بن عمرو سے سنا، جو حسن بن علی کے آزاد کردہ غلام ہیں کہ حضرت عدی (رض) سے سوال کیا گیا تو انھوں نے قسم کھائی کہ وہ نہیں دیں گے لیکن بعد میں دے دیا۔ پھر فرمایا : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ نے فرمایا : جس نے قسم کھائی پھر اس سے بہتر کام دیکھا تو اپنی قسم کا کفارہ دے کر بہتر کام کرلے۔
(۱۹۸۵۱) وَرَوَاہُ غَیْرُ تَمِیمٍ عَنْ عَدِیٍّ فَذَکَرَ فِیہِ الْکَفَّارَۃَ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو مَوْلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ یُحَدِّثُ : أَنَّ عَدِیَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سُئِلَ فَحَلَفَ أَنْ لاَ یُعْطِیَ ثُمَّ أَعْطَی فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ فَرَأَی غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا فَلْیَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ وَلْیُکَفِّرْ یَمِینَہُ۔ [صحیح۔ دون ذکر الکفارۃ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৫৮
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم اٹھانے کے بعد بہتر کام کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیں
(١٩٨٥٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تم میں سے کوئی اپنے گھر والوں کے بارے میں قسم اٹھائے اور وہ اس میں گناہ گار ہے اللہ کے ہاں اس سے کہ وہ اللہ کا فرض کردہ کفارہ دے دے۔
(۱۹۸۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَاللَّہِ لأَنْ یَلِجَّ أَحَدُکُمْ بِیَمِینِہِ فِی أَہْلِہِ آثَمُ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ أَنْ یُعْطِیَ کَفَّارَتَہُ الَّتِی فَرَضَ اللَّہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ کِلاَہُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ کِلاَہُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৫৯
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم اٹھانے کے بعد بہتر کام کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیں
(١٩٨٥٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اپنے گھر والوں کے بارے میں قسم کے اندر ضد کرتا ہے وہ بہت بڑا گناہ گار ہے۔ اس میں کفارہ بھی کفایت نہیں کرتا۔
(۱۹۸۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلاَّمٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا اسْتَلَجَّ الرَّجُلُ فِی أَہْلِہِ فَہُوَ أَعْظَمُ إِثْما لَیْسَ تُغْنِی الْکَفَّارَۃُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ یَحْیَی بْنِ صَالِحٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ یَحْیَی بْنِ صَالِحٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৬০
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم اٹھانے کے بعد بہتر کام کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیں
(١٩٨٥٤) یحییٰ بن صالح وحاظی اپنی سند سے ذکر کرتے ہیں کہ جب آدمی اپنے گھر والوں کے بارے میں قسم کے لیے ضد کرتا ہے تو وہ گناہ کے اعتبار سے بڑا ہے۔
(۱۹۸۵۴) وَأَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِجَازَۃً أَخْبَرَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْقَارِئُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدُّارِمِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِیُّ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ غَیْرَ أَنَّہُ قَالَ : مَنِ اسْتَلَجَّ فِی أَہْلِہِ بِیَمِینِہِ فَہُوَ أَعْظَمُ إِثْمًا ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৬১
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم اٹھانے کے بعد بہتر کام کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیں
(١٩٨٥٥) علی بن ابو طلحہ حضرت ابن عباس (رض) سے اللہ کے اس قول { وَلاَ تَجْعَلُوا اللَّہَ عُرْضَۃً لأَیْمَانِکُمْ } [البقرۃ ٢٢٤] ” تم اپنی قسموں کا شانہ اللہ کو نہ بناؤ۔ “ فرماتے ہیں کہ تم اپنی قسموں کا شانہ اللہ کو نہ بناؤ کہ پھر تم بھلائی نہ کرو، بلکہ قسم کا کفارہ دے کر اچھا کام کرلو۔
(۱۹۸۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلاَ تَجْعَلُوا اللَّہَ عُرْضَۃً لأَیْمَانِکُمْ} [البقرۃ ۲۲۴] یَقُولُ لاَ تَجْعَلْنِی عُرْضَۃً لِیَمِینِکَ أَنْ لاَ تَصْنَعَ الْخَیْرَ وَلَکِنْ کَفِّرْ عَنْ یَمِینِکَ وَاصْنَعِ الْخَیْرَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৬২
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم اٹھانے کے بعد بہتر کام کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیں
(١٩٨٥٦) قتادہ حضرت حسن سے اللہ کے اس قول : { وَلاَ تَجْعَلُوا اللَّہَ عُرْضَۃً لأَیْمَانِکُمْ } [البقرۃ ٢٢٤] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ تم اللہ کی قسم نہ اٹھاؤ۔ تم جس سے کوئی یہ نہ کہے کہ اللہ کی قسم ! میں صلہ رحمی نہ کروں گا، اصلاح نہ کروں گا، اپنے مال سے صدقہ نہ کروں گا۔ اپنی قسم کو ختم کرے اور کفارہ دے۔
(۱۹۸۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ فِی قَوْلِہِ {وَلاَ تَجْعَلُوا اللَّہَ عُرْضَۃً لأَیْمَانِکُمْ} [البقرۃ ۲۲۴] قَالَ لاَ تَعْتَلُّوا بِاللَّہِ لاَ یَقُولُ أَحَدُکُمْ إِنِّی آلَیْتُ أَنْ لاَ أَصِلَ رَحِمًا وَلاَ أَسْعَی فِی صَلاَحٍ وَلاَ أَتَصَدَّقَ مِنْ مَالِی کَفِّرْ عَنْ یَمِینِکَ وَائْتِ الَّذِی حَلَفْتَ عَلَیْہِ وَہُوَ قَوْلُ قَتَادَۃَ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৬৩
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اطاعت کے لیے توڑی گئی قسم کا کفارہ نہیں
(١٩٨٥٧) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ دو انصاری بھائیوں کے درمیان میراث تھی، ایک نے دوسرے سے وراثت کی تقسیم کا سوال کردیا تو دوسرا کہنے لگا : اگر تو نے آئندہ تقسیم کا سوال کیا میں تیرے ساتھ کبھی کلام نہ کروں گا، بلکہ سارا مال کعبہ کی تعمیر میں لگا دوں گا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کعبہ تیرے مال سے غنی ہے۔ اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے کلام کر کیونکہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ نے فرمایا : قسم یا نذر اللہ کی ناراضگی میں نہیں ہے، قطع رحمی اور جس کا مالک نہیں اس میں بھی قسم نہیں۔
فتویٰ : حضرت عمر (رض) کا فتویٰ یہ ہے ایسی قسم جو اللہ کی اطاعت کی خاطر توڑی جائے اس میں کفارہ نہیں ہے۔
فتویٰ : حضرت عمر (رض) کا فتویٰ یہ ہے ایسی قسم جو اللہ کی اطاعت کی خاطر توڑی جائے اس میں کفارہ نہیں ہے۔
(۱۹۸۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا أَنْبَأَنَا أَبُو سَہْلٍ : بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الإِسْفَرَائِینِیُّ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّائُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا حَبِیبٌ ہُوَ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ أَخَوَیْنِ مِنَ الأَنْصَارِ کَانَ بَیْنَہُمَا مِیرَاثٌ فَسَأَلَ أَحَدُہُمَا صَاحِبَہُ الْقِسْمَۃَ فَقَالَ لاَ لَئِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِی الْقِسْمَۃَ لَمْ أُکَلِّمْکَ أَبَدًا وَکُلُّ مَالٍ لِی فِی رِتَاجِ الْکَعْبَۃِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّ الْکَعْبَۃَ لَغَنِیَّۃٌ عَنْ مَالِکَ فَکَفِّرْ عَنْ یَمِینِکَ وَکَلِّمْ أَخَاکَ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ یَمِینَ وَلاَ نَذْرَ فِیمَا یُسْخِطُ الرَّبَّ وَلاَ فِی قَطِیعَۃِ الرَّحِمِ وَلاَ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ ۔ فَتْوَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْکَفَّارَۃِ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ الْمُرَادَ بِالْخَبَرِ لاَ یَمِینَ یُؤْمَرُ بِالْمُقَامِ عَلَیْہَا وَالْمُحَافَظَۃِ عَلَی الْبِرِّ فِیہَا إِذَا کَانَتْ فِی مَعْصِیَۃٍ لاَ أَنَّ الْکَفَّارَۃَ لاَ تَجِبُ بِالْحِنْثِ فِیہَا۔
[صحیح]
[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৬৪
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اطاعت کے لیے توڑی گئی قسم کا کفارہ نہیں
(١٩٨٥٨) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے طلاق لی جس کا وہ مالک نہیں اس کی طلاق نہیں۔ جس نے غلام آزاد کیا جس کا وہ مالک نہیں تو اس کی آزادی نہیں۔ جس نے نذر مانی جس کا وہ مالک نہیں تو اس کے ذمہ نذر پوری کرنا نہیں ہے۔ جس نے اللہ کی نافرمانی کی قسم اٹھائی اس کی قسم نہیں اور جس نے قطع رحمی پر قسم اٹھائی اس کی قسم نہیں ہے۔
(۱۹۸۵۸) وَہَذَا ہُوَ الْمُرَادُ أَیْضًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: مَنْ طَلَّقَ مَا لاَ یَمْلِکُ فَلاَ طَلاَقَ لَہُ وَمَنْ أَعْتَقَ مَا لاَ یَمْلِکُ فَلاَ عَتَاقَۃَ لَہُ وَمَنْ نَذَرَ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ فَلاَ نَذْرَ لَہُ وَمَنْ حَلَفَ عَلَی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ فَلاَ یَمِینَ لَہُ وَمَنْ حَلَفَ عَلَی قَطِیعَۃِ رَحِمٍ فَلاَ یَمِینَ لَہُ۔ وَقَدْ رُوِیَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ زِیَادَۃٌ تُخَالِفُ الرِّوَایَاتِ الصَّحِیحَۃِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔
[ضعیف۔ تقدم برقم ۱۴۸۷۰/ ۱۴۸۷۱]
[ضعیف۔ تقدم برقم ۱۴۸۷۰/ ۱۴۸۷۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৬৫
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اطاعت کے لیے توڑی گئی قسم کا کفارہ نہیں
(١٩٨٥٩) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس میں نذر اور قسم نہیں جس کا ابن آدم مالک نہیں ہے اور اللہ کی نافرمانی، قطع رحمی میں بھی قسم نہیں اور جو کوئی قسم اٹھائے اور دوسرا کام اس سے بہتر ہو تو قسم کو چھوڑ دے۔ قسم کا چھوڑنا ہی اس کا کفارہ ہے۔
(۱۹۸۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِیدِ الْجَارُودِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ الأَخْنَسِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ نَذْرَ وَلاَ یَمِینَ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ وَلاَ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ وَلاَ فِی قَطِیعَۃِ رَحِمِہِ وَمَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ فَرَأَی غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا فَلْیَدَعْہَا وَلْیَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ فَإِنَّ تَرْکَہَا کَفَّارَتُہَا ۔ [منکر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৬৬
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اطاعت کے لیے توڑی گئی قسم کا کفارہ نہیں
(١٩٨٦٠) حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے قسم اٹھائی اور وہ اس سے بہتر کام دیکھتا ہے تو اس کا بہتر کام کرلینا ہی اس کی قسم کا کفارہ ہے۔
(۱۹۸۶۰) وَرُوِیَ ذَلِکَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ أَضْعَفَ مِنْ ہَذَا أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا سُرَیْجٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ فَرَأَی غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا فَأَتَی الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ فَہُوَ کَفَّارَتُہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৬৭
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اطاعت کے لیے توڑی گئی قسم کا کفارہ نہیں
(١٩٨٦١) ابوداؤد فرماتے ہیں کہ تمام احادیث جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہیں کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے مگر وہ جو اس کی پر وہ نہیں کرتا۔
(۱۹۸۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ قَالَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الأَحَادِیثُ کُلُّہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : وَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہِ ۔ إِلاَّ مَا لاَ یَعْبَأُ بِہِ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ قُلْتُ لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رَوَی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ فَقَالَ تَرَکَہُ بَعْدَ ذَلِکَ وَکَانَ لِذَلِکَ أَہْلاً قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ أَحَادِیثُہُ مَنَاکِیرُ وَأَبُوہُ لاَ یُعْرَفُ۔ [صحیح۔ لاحمد]
قَالَ أَبُو دَاوُدَ قُلْتُ لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رَوَی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ فَقَالَ تَرَکَہُ بَعْدَ ذَلِکَ وَکَانَ لِذَلِکَ أَہْلاً قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ أَحَادِیثُہُ مَنَاکِیرُ وَأَبُوہُ لاَ یُعْرَفُ۔ [صحیح۔ لاحمد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৬৮
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اطاعت کے لیے توڑی گئی قسم کا کفارہ نہیں
(١٩٨٦٢) عبدالرحمن بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ ہمارے ہاں مہمان آئے اور میرے والدرات کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات چیت کرتے تھے، جاتے ہوئے مجھے کہنے لگے : مہمانوں سے فارغ ہوجانا (یعنی کھانا کھلانا) ۔ جب شام کے وقت میں نے کھانا پیش کیا تو انھوں نے کھانے سے انکار کردیا اور کہنے لگے : آپ کے والد ہمارے ساتھ کھائیں گے تو ہم کھانا کھائیں گے۔ کہتے ہیں : میں نے کہا : وہ تیز مزاج والے ہیں، اگر تم نے کھانا نہ کھایا تو مجھے تکلیف کا اندیشہ ہے، لیکن انھوں نے انکار کردیا۔ جب والد صاحب واپس آئے تو سب سے پہلے پوچھا : مہمانوں سے فارغ ہوگئے (یعنی کھانا کھلایا) ۔ انھوں نے کہا : ہم فارغ نہیں ہوئے، فرمایا : کیا میں نے عبدالرحمن کو حکم نہیں دیا تھا۔ فرماتے ہیں : میں چھپ گیا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے قسم دے کر آواز دی اگر سنتے ہو تو مجھے جواب دو ۔ کہتے ہیں : میں آیا اور کہا : میرا قصور نہیں۔ آپ اپنے مہمانوں سے پوچھ لیں۔ میں نے کھانا پیش کیا، لیکن انھوں نے یہ کہہ کر کھانا واپس کردیا کہ آپ ان کے ساتھ مل کر کھائیں گے، تب وہ کھائیں گے۔ ابوبکر (رض) فرماتے ہیں، تم نے ہماری مہمانی کو قبول کیوں نہ کیا۔ اللہ کی قسم ! میں آج رات کھانا نہ کھاؤں گا۔ وہ کہنے لگے : اللہ کی قسم ! ہم بھی نہیں کھائیں گے، جب تک آپ نہ کھائیں گے۔ پھر فرماتے ہیں : یہ بدترین چیز ہے کہ تم ہماری جانب سے اپنی مہمانی کو قبول نہ کرو۔ پھر فرمایا : پہلی بات شیطان کی جانب سے تھی۔ کھانا لاؤ بھئی۔ جب صبح کے وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ انھوں نے نیکی کی اور میں نے قسم توڑ دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو ان سے زیادہ نیک اور پسندیدہ ہے فرماتے ہیں : اس میں مجھے کفارہ نہیں پہنچا۔
قول ابوبکر : 1 کھانے کو چھوڑنے پر قسم کھانا مکروہ ہے، لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے کفارے کا حکم نہیں دیا۔ 2 ممکن ہے یہ کفارے کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہو، لیکن پہلی بات زیادہ قرینِ قیاس ہے۔
قول ابوبکر : 1 کھانے کو چھوڑنے پر قسم کھانا مکروہ ہے، لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے کفارے کا حکم نہیں دیا۔ 2 ممکن ہے یہ کفارے کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہو، لیکن پہلی بات زیادہ قرینِ قیاس ہے۔
(۱۹۸۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ عَنِ الْجُرَیْرِیِّ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ قَالَ : نَزَلَ عَلَیْنَا أَضْیَافٌ لَنَا قَالَ وَکَانَ أَبِی یَتَحَدَّثُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ اللَّیْلِ قَالَ فَانْطَلَقَ وَقَالَ افْرُغْ مِنْ أَضْیَافِکَ قَالَ فَلَمَّا أَمْسَیْتُ جِئْتُ بِقِرَاہُمْ قَالَ فَأَبَوْا فَقَالُوا حَتَّی یَجِیئَ أَبُو مَنْزِلِنَا فَیَطْعَمَ مَعَنَا قَالَ فَقُلْتُ إِنَّہُ رَجُلٌ حَدِیدٌ وَإِنَّکُمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا خِفْتُ أَنْ یَمَسَّنِی مِنْہُ أَذًی قَالَ فَأَبَوْا فَلَمَّا جَائَ لَمْ یَبْدَأْ بِشَیْئٍ فَقَالَ أَفَرَغْتُمْ مِنْ أَضْیَافِکُمْ قَالُوا لاَ وَاللَّہِ مَا فَرَغْنَا قَالَ أَلَمْ آمُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ فَتَنَحَّیْتُ فَقَالَ یَا غُنْثَرُ أَقْسَمْتُ عَلَیْکَ إِنْ کُنْتَ تَسْمَعُ صَوْتِی إِلاَّ أَجَبْتَ قَالَ فَجِئْتُ قُلْتُ وَاللَّہِ مَا لِی ذَنْبٌ ہَؤُلاَئِ أَضْیَافُکَ فَسَلْہُمْ قَدْ أَتَیْتُہُمْ بِقِرَاہُمْ فَأَبَوْا أَنْ یَطْعَمُوا حَتَّی تَجِیئَ قَالَ فَقَالَ مَا لَکُمْ لاَ تَقْبَلُونَ عَنَّا قِرَاکُمْ فَوَاللَّہِ لاَ أَطْعَمُہُ اللَّیْلَۃَ قَالَ فَقَالُوا وَاللَّہِ لاَ نَطْعَمُہُ حَتَّی تَطْعَمَہُ قَالَ فَقَالَ کَالشَّرِّ مُنْذُ اللَّیْلَۃَ لاَ تَقْبَلُونَ عَنَّا قِرَاکُمْ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا الأُولَی فَمِنَ الشَّیْطَانِ ہَلُمُّوا قِرَاکُمْ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ بَرُّوا وَحَنِثْتُ قَالَ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ بَلْ أَنْتَ أَبَرُّہُمْ وَأَخْیَرُہُمْ قَالَ وَلَمْ یَبْلُغْنِی کَفَّارَۃٌ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔
وَقَوْلُ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَّا الأُولَی فَمِنَ الشَّیْطَانِ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ الْیَمِینَ عَلَی تَرْکِ الطَّعَامِ مَکْرُوہَۃٌ وَإِنَّمَا لَمْ یَأْمُرْہُ النَّبِیُّ -ﷺ- بِالْکَفَّارَۃِ إِنْ کَانَ لَمْ یَأْمُرْہُ بِہَا لِعِلْمِہِ بِمَعْرِفَتِہِ بِوُجُوبِہَا وَیُحْتَمَلُ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ قَبْلَ نُزُولِ الْکَفَّارَۃِ وَالأَوَّلُ أَشْبَہُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔
وَقَوْلُ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَّا الأُولَی فَمِنَ الشَّیْطَانِ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ الْیَمِینَ عَلَی تَرْکِ الطَّعَامِ مَکْرُوہَۃٌ وَإِنَّمَا لَمْ یَأْمُرْہُ النَّبِیُّ -ﷺ- بِالْکَفَّارَۃِ إِنْ کَانَ لَمْ یَأْمُرْہُ بِہَا لِعِلْمِہِ بِمَعْرِفَتِہِ بِوُجُوبِہَا وَیُحْتَمَلُ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ قَبْلَ نُزُولِ الْکَفَّارَۃِ وَالأَوَّلُ أَشْبَہُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৬৯
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اطاعت کے لیے توڑی گئی قسم کا کفارہ نہیں
(١٩٨٦٣) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق (رض) نے جب بھی قسم اٹھائی تو اللہ نے قسم کے کفارے کے بارے میں حکم نازل کردیا، فرماتے ہیں : میں قسم اٹھاتا ہوں، پھر اگر کوئی دوسرا کام اس سے بہتر ہوتا ہے تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے کر وہ بہتر کام کرلیتا ہوں۔
(۱۹۸۶۳) فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِیمٍ الْمَرْوَزِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَنْبَأَنَا عَبْدَانُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمْ یَحْنَثْ فِی یَمِینٍ قَطُّ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّہُ کَفَّارَۃَ الْیَمِینِ فَقَالَ لاَ أَحْلِفُ عَلَی یَمِینٍ فَرَأَیْتُ غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا إِلاَّ أَتَیْتُ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ وَکَفَّرْتُ عَنْ یَمِینِی۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۶۲۱]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۶۲۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৭০
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اطاعت کے لیے توڑی گئی قسم کا کفارہ نہیں
(١٩٨٦٤) ابومعبد حصرت ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے جائیداد پر قسم اٹھائی کہ وہ اس کو تقسیم نہیں کرے گا تو اس کا کفارہ ترک کردینا ہے اور کفارے کے ساتھ نیکی کرنا بھی ہے۔
(۱۹۸۶۴) وَأَخْبَرَنَا الشَّیْخُ أَبُو الْفَتْحِ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ صَبِیحٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سُلَیْمَانَ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَنْ حَلَفَ عَلَی مِلْکِ یَمِینِہِ أَنْ یَضْرِبَہُ فَکَفَّارَتُہُ تَرْکُہُ وَمَعَ الْکَفَّارَۃِ حَسَنَۃٌ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৭১
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیکی کے لیے قسم پوری کرنا یا نیکی کے کام کے لیے قسم توڑنا نہیں ہوتا
(١٩٨٦٥) براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں سات کام کرنے کا حکم دیا اور سات سے منع کیا : 1 سونے کی انگوٹھی یاچھلہ پہننے 2 چاندی کے برتن استعمال کرنے اور 3 ریشم 4 موٹا ریشم 5 ۔ باریق ریشم 6 سرخ گری 7 قس علاقے کا بنا ہوا ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا اور سات کام کرنے کا حکم فرمایا : 1 بیمار پرسی کرنا 2 جنازہ پڑھنا 3 سلام کا جواب دینا 4 چھینک کا جواب دینا 5 ۔ دعوت کو قبول کرنا 6 مظلوم کی مدد کرنا 7 نیکی کی قسم یعنی سچی قسم۔
(۱۹۸۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی بْنِ السَّکَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ : ہِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ شُعْبَۃَ
(ح) وَأَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِیُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَنْبَأَنَا أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَیْمٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ سُوَیْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِسَبْعٍ وَنَہَانَا عَنْ سَبْعٍ نَہَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّہَبِ أَوْ حَلْقَۃِ الذَّہَبِ وَعَنِ آنِیَۃِ الْفِضَّۃِ وَعَنِ لُبْسِ الْحَرِیرِ وَالدِّیبَاجِ وَالإِسْتَبْرَقِ وَالْمِیثَرَۃِ وَالْقَسِّیِّ وَأَمَرَنَا بِسَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِیَادَۃِ الْمَرِیضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَرَدِّ السَّلاَمِ وَتَشْمِیتِ الْعَاطِسِ وَإِجَابَۃِ الدَّاعِی وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْخُوَارِزْمِیُّ وَحَدِیثُ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ بِمَعْنَاہُ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَبِی عُمَرَ الْحَوْضِیِّ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(ح) وَأَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِیُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَنْبَأَنَا أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَیْمٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ سُوَیْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِسَبْعٍ وَنَہَانَا عَنْ سَبْعٍ نَہَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّہَبِ أَوْ حَلْقَۃِ الذَّہَبِ وَعَنِ آنِیَۃِ الْفِضَّۃِ وَعَنِ لُبْسِ الْحَرِیرِ وَالدِّیبَاجِ وَالإِسْتَبْرَقِ وَالْمِیثَرَۃِ وَالْقَسِّیِّ وَأَمَرَنَا بِسَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِیَادَۃِ الْمَرِیضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَرَدِّ السَّلاَمِ وَتَشْمِیتِ الْعَاطِسِ وَإِجَابَۃِ الدَّاعِی وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْخُوَارِزْمِیُّ وَحَدِیثُ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ بِمَعْنَاہُ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَبِی عُمَرَ الْحَوْضِیِّ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৭২
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیکی کے لیے قسم پوری کرنا یا نیکی کے کام کے لیے قسم توڑنا نہیں ہوتا
(١٩٨٦٦) ناسبح حضرمی فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو آدمیوں کے پاس سے گزرے جو بیع کی خاطر آپس میں قسمیں اٹھا رہے تھے، ایک کہہ رہا تھا : اللہ کی قسم ! کم نہ کروں گا اور دوسرا کہہ رہا تھا : میں زیادہ نہ کروں گا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک بکری کو دیکھا جو اس نے خریدی تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے دو چیزوں میں سے ایک واجب کرلیا یعنی گناہ اور کفارہ۔
(۱۹۸۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ : مُوسَی بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَخْبَرَنِی حَرِیزٌ عَنْ شُرَحْبِیلَ بْنِ شُفْعَۃَ عَنْ نَاسِجٍ الْحَضْرَمِیِّ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِرَجُلَیْنِ یَتَحَالَفَانِ عَلَی بَیْعٍ یَقُولُ أَحَدُہُمَا وَاللَّہِ لاَ أَخْفِضُکَ وَالآخَرُ یَقُولُ وَاللَّہِ لاَ أَزِیدُکَ ثُمَّ رَأَی الشَّاۃَ قَدِ اشْتَرَاہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَجَبَ أَحَدُہُمَا یَعْنِی الإِثْمَ وَالْکَفَّارَۃَ۔ تَفَرَّدَ بِہِ حَرِیزُ بْنُ عُثْمَانَ بِإِسْنَادِہِ ہَذَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
তাহকীক: