আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

قسموں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৮০ টি

হাদীস নং: ১৯৮৭৩
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیکی کے لیے قسم پوری کرنا یا نیکی کے کام کے لیے قسم توڑنا نہیں ہوتا
(١٩٨٦٧) عبداللہ جو اہل حمص میں سے ہیں بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابودرداء (رض) کو دیکھا، وہ ایک آدمی سے بکری کا سودا کر رہے تھے، تو اس نے قسم اٹھائی کہ وہ اس کو فروخت نہ کرے گا، بعد میں کہنے لگا : میں فروخت کرتا ہوں تو ابودرداء نے اس سے بکری خریدنے سے انکار کردیا کہ میں تجھے گناہ پر نہیں ابھارنا چاہتا۔
(۱۹۸۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْمَیْمُونِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی الْفَیْضِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ حِمْصَ قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُسَاوِمُ رَجُلاً بِغَنَمٍ فَحَلَفَ أَنْ لاَ یَبِیعَہَا ثُمَّ قَالَ بَعْدُ أَبِیعُہَا فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ : إِنِّی لأَکْرَہُ أَنْ أَحْمِلَکَ عَلَی إِثْمٍ فَأَبَی أَنْ یَشْتَرِیَہَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৭৪
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹی قسم کا حکم
(١٩٨٦٨) عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں : ایک دیہاتی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : کبیرہ گناہ کیا ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے ساتھ شرک کرنا پوچھا : پھر کیا ؟ فرمایا : والدین کی نافرمانی کرنا۔ پوچھا : پھر کونسا ؟ فرمایا : جھوٹی قسم ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عامر سے کہا : جھوٹی قسم کیا ہے ؟ فرمایا : جھوٹی قسم کے ذریعے مسلمان کا مال ہڑپ کرنا۔
(۱۹۸۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ سَابِقٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : جَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : مَا الْکَبَائِرُ؟ قَالَ : الإِشْرَاکُ بِاللَّہِ ۔ قَالَ : ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ : ثُمَّ عُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ ۔ قَالَ : ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ : ثُمَّ الْیَمِینُ الْغَمُوسُ ۔ قَالَ فَقُلْتُ لِعَامِرٍ : مَا الْیَمِینُ الْغَمُوسُ؟ قَالَ : الَّذِی یَقْتَطِعُ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِیَمِینِہِ وَہُوَ فِیہَا کَاذِبٌ۔

[صحیح۔ بخاری ۶۶۷۵۔ ۶۹۲۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৭৫
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹی قسم کا حکم
(١٩٨٦٩) شبیان نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے، لیکن اس میں والدین کی نافرمانی کا تذکرہ نہیں کیا۔
(۱۹۸۶۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَیْبَانُ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکَرِ الْعُقُوقَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৭৬
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹی قسم کا حکم
(١٩٨٧٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی چیز ایسی نہیں جس کی وجہ سے اللہ جلد ثواب عطا کرتے ہیں صلہ رحمی کے سوائے، قطع رحمی جھوٹی قسم اور بغاوت کی وجہ سے بہت جلد سزا ملتی ہے گھروں کو نظر بد سے محفوظ رکھیں۔
(۱۹۸۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الطَّیِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحُسَیْنِ الْحِیرِیُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ عَنْ أَبِی حَنِیفَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ مُجَاہِدٍ وَعِکْرِمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَیْسَ شَیْء ٌ أُطِیعَ اللَّہُ فِیہِ أَعْجَلَ ثَوَابًا مِنْ صِلَۃِ الرَّحِمِ وَلَیْسَ شَیْء ٌ أَعْجَلَ عِقَابًا مِنَ الْبَغْیِ وَقَطِیعَۃِ الرَّحِمِ وَالْیَمِینِ الْفَاجِرَۃِ تَدَعُ الدِّیَارَ بَلاَقِعَ ۔ کَذَا رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ عَنْ أَبِی حَنِیفَۃَ۔

(ت) وَخَالَفَہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ وَعَلِیُّ بْنُ ظَبْیَانَ وَالْقَاسِمُ بْنُ الْحَکَمِ فَرَوَوْہُ عَنْ أَبِی حَنِیفَۃَ عَنْ نَاصِحِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَقِیلَ عَنْ یَحْیَی عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৭৭
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹی قسم کا حکم
(١٩٨٧١) یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ جس میں تین چیزیں ہوں وہ موت سے پہلے ان کا وبال پالے گا۔ اس نے وہ ذکر کیں ان کے آخر میں فرمایا : جھوٹی قسم اور گھروں کو نظر بد سے بچاؤ۔
(۱۹۸۷۱) وَالْحَدِیثُ مَشْہُورٌ بِالإِرْسَالِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ یَرْوِیہِ قَالَ : ثَلاَثٌ مَنْ کُنَّ فِیہِ رَأَی وَبَالَہُنَّ قَبْلَ مَوْتِہِ۔ فَذَکَرَہُنَّ وَفِی آخِرِہِنَّ وَالْیَمِینُ الْفَاجِرَۃُ تَدَعُ الدِّیَارَ بَلاَقِعَ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৭৮
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹی قسم کا حکم
(١٩٨٧٢) مکحول فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے جلد جس بھلائی کا ثواب ملتا ہے وہ صلہ رحمی ہے اور سب سے جلد سزا سرکشی اور بغاوت کی ملتی ہے، اسی طرح جھوٹی قسم۔ گھروں کو نظر بد سے محفوظ رکھو۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : جس نے جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائی اس نے یوں یوں کیا، لیکن کفر نہیں، وہ گناہ گار ہے اور اس نے اللہ جھوٹی قسم کھا کر برا کیا۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اگر وہ کہے کہ اس پر کفارہ واجب ہونے کی کیا دلیل ہے حالانکہ اس نے باطل چیز کا ارادہ کیا تو اسے کہا جائے گا : سب سے قریبی قول نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے کہ وہ بہتر کام بجالائے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کردے۔
(۱۹۸۷۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَنْبَأَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَنْبَأَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ عَنْ مَکْحُولٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: إِنَّ أَعْجَلَ الْخَیْرِ ثَوَابًا صِلَۃُ الرَّحِمِ وَإِنَّ أَعْجَلَ الشَّرِّ عُقُوبَۃً الْبَغْیُ وَالْیَمِینُ الصَّبْرُ الْفَاجِرَۃُ تَدَعُ الدِّیَارَ بَلاَقِعَ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : مَنْ حَلَفَ عَامِدًا لِلْکَذِبِ فَقَالَ وَاللَّہِ لَقَدْ کَانَ کَذَا وَکَذَا وَلَمْ یَکُنْ کَفَّرَ وَقَدْ أَثِمَ وَأَسَائَ حَیْثُ عَمَدَ الْحَلِفَ بِاللَّہِ بَاطِلاً۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ فَإِنْ قَالَ وَمَا الْحُجَّۃُ فِی أَنْ یُکَفِّرَ وَقَدْ عَمَدَ الْبَاطِلَ قِیلَ أَقْرَبُہَا قَوْلُ النَّبِیِّ -ﷺ- فَلْیَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ وَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہِ فَقَدْ أَمَرَہُ أَنْ یَعْمِدَ الْحِنْثَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৭৯
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹی قسم کا حکم
(١٩٨٧٣) عبدالرحمن بن سخرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو کسی بھلائی پر قسم اٹھائے ابن عون کی روایت میں ہے کہ جب تو کسی کام پر قسم اٹھائے اور دوسرا کام اس سے بہتر ہوں تو بہتر کام کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ کے اس قول : { وَلاَ یَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ أَنْ یُؤْتُوا أُولِی الْقُرْبَی } [النور ٢٢] ” فضل اور وسعت والے قسمیں نہ اٹھائیں کہ وہ قریبی رشتہ داروں کو نہ دیں گے۔ یہ اس آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس نے قسم اٹھائی تھی کہ وہ اپنے قریبی عزیز کو نفع نہ دے گا۔ اللہ نے حکم دیا کہ اس کو نفع دو ۔
(۱۹۸۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ کَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِی بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ وَأَشْہَلُ بْنُ حَاتِمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِیلٍ الأَزْدِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْبَلَدِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ وَمَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ وَحُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: إِذَا آلَیْتَ عَلَی یَمِینٍ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ عَوْنٍ : إِذَا حَلَفْتَ عَلَی یَمِینٍ فَرَأَیْتَ غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا فَائْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ وَکَفِّرْ عَنْ یَمِینِکَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ عَنْ ہُشَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ثُمَّ قَالَ وَتَابَعَہُ أَشْہَلُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَوْلُ اللَّہِ {وَلاَ یَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ أَنْ یُؤْتُوا أُولِی الْقُرْبَی} [النور ۲۲] نَزَلَتْ فِی رَجُلٍ حَلَفَ أَلاَّ یَنْفَعَ رَجُلاً فَأَمَرَہُ اللَّہُ أَنْ یَنْفَعَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৮০
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹی قسم کا حکم
(١٩٨٧٤) عبداللہ بن عتبہ سیدہ عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ تہمت لگانے والوں نے جو کہا اللہ نے اس سے بری کردیا۔ محدثین کے ہر طبقہ نے بیان کیا ہے جن کی احادیث ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ اگرچہ وہ حافظے میں ایک دوسرے سے بڑھے ہوئے ہیں۔ لمبی حدیث کو ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ اس نے نازل کیا : { اِنَّ الَّذِیْنَ جَائُوا بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِّنْکُمْ } [النور ١١] ” بیشک ایک گروہ نے تہمت لگائی۔ “ ان دس آیات میں اللہ نے میری برأت نازل کی۔ ابوبکر صدیق (رض) فرمانے لگے، جو مسطع بن اثاثہ پر قرابت کی وجہ سے خرچ کیا کرتے تھے کہ اللہ کی قسم ! آئندہ اس پر خرچ نہ کروں گا جو اس نے عائشہ (رض) کے بارے میں کہا تو اللہ نے فرمایا :

{ وَلاَ یَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ أَنْ یُؤْتُوا أُولِی الْقُرْبَی وَالْمَسَاکِینَ وَالْمُہَاجِرِینَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَلْیَعْفُوا وَلْیَصْفَحُوا أَلاَ تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللَّہُ لَکُمْ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِیمٌ} [النور ٢٢]

” فضل ووسعت والے قریبی رشتہ داروں، مساکین، مہاجرین کو اللہ کے لیے نہ دینے پر قسم نہ اٹھائیں اور معاف و درگزر کریں کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ “ ابوبکر (رض) فرماتے ہیں : کیوں نہیں میں اللہ سے معافی چاہتا ہوں اور مسطح کا خرچہ جاری کردیا اور آئندہ خرچہ بند نہ کرنے کی قسم کھائی۔
(۱۹۸۷۴) قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا فِی قِصَّۃِ الإِفْکِ وَذَلِکَ فِیمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ وَسَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَعَلْقَمَۃُ بْنُ وَقَّاصٍ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ مِنْ حَدِیثِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- حِینَ قَالَ لَہَا أَہْلُ الإِفْکِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَہَا اللَّہُ مِمَّا قَالُوا وَکُلٌّ حَدَّثَنِی طَائِفَۃً مِنَ الْحَدِیثَ وَبَعْضُ حَدِیثِہِمْ یُصَدِّقُ بَعْضًا وَإِنْ کَانَ بَعْضُہُمْ أَوْعَی لَہُ مِنْ بَعْضٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ قَالَ فِیہِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الَّذِینَ جَائُ وا بِالإِفْکِ عُصْبَۃٌ مِنْکُمْ} [النور: ۱۱] الْعَشْرَ الآیَاتِ فِیمَا أَنْزَلَ اللَّہُ ہَذَا فِی بَرَائَ تِی قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَکَانَ یُنْفِقُ عَلَی مِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَۃَ لِقَرَابَتِہِ مِنْہُ وَفَقْرِہِ وَاللَّہِ لاَ أُنْفِقُ عَلَی مِسْطَحٍ شَیْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِی قَالَ لِعَائِشَۃَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ {وَلاَ یَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ أَنْ یُؤْتُوا أُولِی الْقُرْبَی وَالْمَسَاکِینَ وَالْمُہَاجِرِینَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَلْیَعْفُوا وَلْیَصْفَحُوا أَلاَ تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللَّہُ لَکُمْ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِیمٌ} [النور ۲۲] قَالَ أَبُو بَکْرٍ : بَلَی وَاللَّہِ إِنِّی لأُحِبُّ أَنْ یَغْفِرَ اللَّہُ لِی فَرَجَعَ إِلَی مِسْطَحٍ النَّفَقَۃَ الَّتِی کَانَ یُنْفِقُ عَلَیْہِ وَقَالَ وَاللَّہِ لاَ أَنْزِعُہَا مِنْہُ أَبَدًا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یُونُسَ۔

[صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৮১
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹی قسم کا حکم
(١٩٨٧٥) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق (رض) مسطح بن اثاثہ کی کفالت فرماتے تھے، جب انھوں نے حضرت عائشہ (رض) کے بارے میں باتیں کی تو انھوں نے نفع نہ دینے پر قسم اٹھالی۔ جب اللہ نے { وَلاَ یَاْتَلِ اُوْلُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوا اُوْلِی الْقُرْبَی وَالْمَسَاکِیْنَ وَالْمُہَاجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } [النور ٢٢] نازل کی۔ ” فضل ووسعت والے قریبی عزیز، مساکین اور مہاجرین کو اللہ کے لیے نہ دینے کے بارے میں قسم نہ کھائیں “ تو ابوبکر صدیق (رض) فرمانے لگے : میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کریں اور مسطح کا خرچ جاری کردیا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیا۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کا فرمان : { وَإِنَّہُمْ لَیَقُولُونَ مُنْکَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا } [المجادلۃ ٢] ” پھر اللہ نے اس میں کفارہ رکھ دیا۔ “

شیخ (رح) فرماتے ہیں : اس میں کفارہ واجب ہے۔
(۱۹۸۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ حَدَّثَنِی ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ : کَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَعُولُ مِسْطَحَ بْنَ أُثَاثَۃَ فَلَمَّا قَالَ فِی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مَا قَالَ أَقْسَمَ بِاللَّہِ أَبُو بَکْرٍ أَلاَّ یَنْفَعَہُ أَبَدًا فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلاَ یَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ أَنْ یُؤْتُوا أُولِی الْقُرْبَی وَالْمَسَاکِینَ وَالْمُہَاجِرِینَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ} [النور ۲۲] الآیَۃَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَلَی وَاللَّہِ إِنِّی لأُحِبُّ أَنْ یَغْفِرَ اللَّہُ لِی فَرَدَّ عَلَی مِسْطَحٍ وَکَفَّرَ عَنْ یَمِینِہِ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَوْلُ اللَّہِ تَعَالَی {وَإِنَّہُمْ لَیَقُولُونَ مُنْکَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا} [المجادلۃ ۲] ثُمَّ جَعَلَ اللَّہُ فِیہِ الْکَفَّارَۃَ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وُجُوبُ الْکَفَّارَۃِ فِیہِ بِالنَّصِّ فِیہِ وَقَدْ مَضَتِ الأَخْبَارُ فِیہِ فِی کِتَابِ الظِّہَارِ۔

[صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৮২
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹی قسم کا حکم
(١٩٨٧٦) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ دو شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جھگڑا لے کر آئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مطالبہ کرنے والے سے دلیل طلب کی۔ اس کے پاس دلیل نہ تھی تو مخالف نے اللہ کی قسم اٹھالی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو تو نے کیا لا الہٰ الا اللہ کے اخلاص کی وجہ سے تجھے معاف کردیا جائے گا۔
(۱۹۸۷۶) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَنْبَأَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِی یَحْیَی عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَجُلَیْنِ اخْتَصَمَا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الطَّالِبَ الْبَیِّنَۃَ فَلَمْ یَکُنْ لَہُ بَیِّنَۃٌ فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ فَحَلَفَ بِاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : قَدْ فَعَلْتَ وَلَکِنْ غُفِرَ لَکَ بِإِخْلاَصِ قَوْلِ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔ فَہَکَذَا رَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ وَعَبْدُ الْوَارِثِ وَالثَّوْرِیُّ وَجَرِیرٌ وَشَرِیکٌ عَنْ عَطَائٍ ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৮৩
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹی قسم کا حکم
(١٩٨٧٧) ابن زبیر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اللہ کی قسم اٹھائی یا اللہ کی جھوٹی قسم اٹھائی تو اسے اخلاص باللہ کی وجہ سے معاف کردیا گیا۔
(۱۹۸۷۷) وَرَوَاہُ شُعْبَۃُ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ شُعْبَۃَ۔

(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ عَنْ عَبِیدَۃَ عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّ رَجُلاً حَلَفَ بِاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ أَوْ قَالَ حَلَفَ بِاللَّہِ کَاذِبًا فَغُفِرَ لَہُ یَعْنِی لإِخْلاَصِہِ بِاللَّہِ۔ وَہَذَا وَہَمٌ مِنْ شُعْبَۃَ وَالصَّوَابُ رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ وَعَبِیدَۃُ مَاتَ قَبْلَ ابْنِ الزُّبَیْرِ فِیمَا زَعَمَ أَہْلُ التَّوَارِیخِ بِتِسْعِ سِنِینَ فَتَبْعُدُ رِوَایَتُہُ عَنْہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ تَفَرَّدَ بِہِ عَطَاء ٌ السَّائِبُ مَعَ الاِخْتِلاَفِ عَلَیْہِ فِی إِسْنَادِہِ۔ [ضعیف۔ انظر ما قالہ المصنف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৮৪
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹی قسم کا حکم
(١٩٨٧٨) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے فلاں ! تو نے یہ یہ کیا ؟ تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے ایسا نہیں کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم تھا کہ اس نے کیا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بار بار کہہ رہے تھے، لیکن وہ ہر بار قسم اٹھا رہا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لا الہ الا اللہ کے اخلاص کی وجہ سے اللہ نے تجھے معاف کردیا ہے۔
(۱۹۸۷۸) وَرُوِیَ مِنْ حَدِیثِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَۃَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِرَجُلٍ : یَا فُلاَنُ فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ : لاَ وَاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ مَا فَعَلْتُہُ قَالَ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَعْلَمُ أَنَّہُ قَدْ فَعَلَہُ قَالَ وَکَرَّرَ ذَلِکَ عَلَیْہِ مِرَارًا کُلَّ ذَلِکَ یَحْلِفُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : کَفَّرَ اللَّہُ عَنْکَ کَذِبَکَ بِصِدْقِکَ بِلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৮৫
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹی قسم کا حکم
(١٩٨٧٩) ابن عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی سے فرمایا : تو نے ایسا ایسا کیا ؟ اس نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ میں نے ایسا نہیں کیا تو جبرائیل (علیہ السلام) نے آکر بتایا کہ اس نے ایسا کیا ہے، لیکن اللہ نے اس کو لا الٰہ الا اللہ کی وجہ سے معاف کردیا ہے۔
(۱۹۸۷۹) وَقِیلَ عَنْ ثَابِتٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَنِیہِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ إِجَازَۃً أَنَّ أَبَا الْحَسَنِ بْنَ صَبِیحٍ أَخْبَرَہُمْ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ شِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَنْبَأَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ لِرَجُلٍ : فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا؟ ۔ فَقَالَ لاَ وَاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ فَأَتَاہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ بَلَی قَدْ فَعَلَہُ وَلَکِنْ قَدْ غُفِرَ لَہُ بِقَوْلِہِ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৮৬
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹی قسم کا حکم
(١٩٨٨٠) اشعث حضرت حسن سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی اونٹنی تھی تو کسی نے اس کے برخلاف دعویٰ کردیا تو وہ اس کو لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ کہنے لگا : اس نے میری اونٹنی لے لی ہے۔ اس نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ میں نے اس کی اونٹنی نہیں لی۔ دوسرے نے کہا اس نے اونٹنی لی ہے تو اس پر لوٹا دی گئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے تیرے اخلاص کی وجہ سے معاف کردیا ہے۔

وضاحت : عقیدہ درست ہوتے ہوئے کوئی گناہ بھی جہنم واجب نہیں کرتا، لیکن یہ تعین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا۔
(۱۹۸۸۰) وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مُرْسَلاً أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مَنْصُورٍ : عَبْدُ الْقَاہِرِ بْنُ طَاہِرٍ الإِمَامُ وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ حَمْدَانَ الْفَارِسِیُّ قَالُوا أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ أَنْبَأَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّ رَجُلاً فَقَدَ نَاقَۃً لَہُ وَادَّعَاہَا عَلَی رَجُلٍ فَأَتَی بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : ہَذَا أَخَذَ نَاقَتِی۔ فَقَالَ : لاَ وَاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ مَا أَخَذْتُہَا۔ فَقَالَ قَدْ أَخَذْتَہَا رُدَّہَا عَلَیْہِ فَرَدَّہَا عَلَیْہِ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : قَدْ غُفِرَ لَکَ بِإِخْلاَصِکَ ۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔

فَإِنْ کَانَ فِی الأَصْلِ صَحِیحًا فَالْمَقْصُودُ مِنْہُ الْبَیَانُ أَنَّ الذَّنْبَ وَإِنْ عَظُمَ لَمْ یَکُنْ مُوجِبًا لِلنَّارِ مَتَی مَا صَحَّتِ الْعَقِیدَۃُ وَکَانَ مِمَّنْ سَبَقَتْ لَہُ الْمَغْفِرَۃُ وَلَیْسَ ہَذَا التَّعْیِّینُ لأَحَدٍ بَعْدَ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৮৭
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹی قسم کا حکم
(١٩٨٨١) علقمہ حضرت عبداللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قسم کی چار اقسام ہیں :۔ دو کا کفارہ ہوتا ہے اور دو کا کفارہ نہیں ہوتا : 1 ایک آدمی قسم اٹھاتا ہے یوں کرے گا ایسے نہیں کرے گا۔ 2 دوسرا آدمی وہ کہتا ہے اس طرح کروں گا لیکن کرتا نہیں، جن قسموں کا کفارہ نہیں :1 آدمی قسم اٹھاتا ہے میں ایسے نہیں کروں گا لیکن کر گزرتا ہے۔ 2 دوسرا آدمی جو کہتا ہے اللہ کی قسم میں ایسے کروں گا لیکن کرتا نہیں۔
(۱۹۸۸۱) وَأَمَّا الأَثَرُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ الْفَقِیہُ قَالاَ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ عَنْ لَیْثٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : الأَیْمَانُ أَرْبَعَۃٌ یَمِینَانِ تُکَفَّرَانِ وَیَمِینَانِ لاَ تُکَفَّرَانِ فَالرَّجُلُ یَحْلِفُ وَاللَّہِ لاَ یَفْعَلُ کَذَا وَکَذَا فَیَفْعَلُ وَالرَّجُلُ یَقُولُ وَاللَّہِ أَفْعَلُ فَلاَ یَفْعَلُ وَأَمَّا الْیَمِینَانِ اللَّذَانِ لاَ تُکَفَّرَانِ فَإِنَّ الرَّجُلَ یَحْلِفُ مَا فَعَلْتُ کَذَا وَکَذَا وَقَدْ فَعَلَہُ وَالرَّجُلُ یَحْلِفُ لَقَدْ فَعَلْتُ کَذَا وَکَذَا وَلَمْ یَفْعَلْہُ۔ فَہَکَذَا رَوَاہُ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ لَیْثِ بْنِ أَبِی سُلَیْمٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৮৮
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹی قسم کا حکم
(١٩٨٨٢) ابراہیم فرماتے ہیں کہ قسم کی چار اقسام ہیں دو کا کفارہ ہوتا ہے دو کا نہیں : آدمی کا کہنا اللہ کی قسم میں نہیں کروں گا۔ اگر میں نے کرلیا تو کفارہ نہ ہوگا اگر اس نے جان بوجھ کر کرلیا تو وہ جھوٹا ہے۔ اگر ویسے ہی ہے جس طرح اس کا خیال تھا تو وہ قسم لغو ہے اور آدمی کا یہ کہنا کہ میں ایسے نہ کروں گا اللہ کی قسم ! میں ایسیبالکل نہ کروں گا تو اس میں کفارہ ہے۔
(۱۹۸۸۲) وَخَالَفَہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ فَرَوَاہُ عَنْ لَیْثٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ کُلَیْبٍ أَبِی مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ مِنْ قَوْلِہِ وَہُوَ أَشْبَہُ

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ لَیْثٍ حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ کُلَیْبٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ : الأَیْمَانُ أَرْبَعٌ یَمِینَانِ یُکَفَّرَانِ وَیَمِینَانِ لاَ یُکَفَّرَانِ قَوْلُ الرَّجُلِ وَاللَّہِ مَا فَعَلْتُ وَاللَّہِ لَقَدْ فَعَلْتُ لَیْسَ فِی شَیْئٍ مِنْہُ کَفَّارَۃٌ إِنْ کَانَ تَعَمَّدَ شَیْئًا فَہُوَ کَذِبٌ وَإِنْ کَانَ یَرَی أَنَّہُ کَمَا قَالَ فَہُوَ لَغْوٌ وَقَوْلُ الرَّجُلِ وَاللَّہِ لاَ أَفْعَلُ وَوَاللَّہِ لأَفْعَلَنَّ فَہَذَا فِیہِ کَفَّارَۃٌ۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَلَیْثٌ وَحَمَّادُ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ غَیْرُ مُحْتَجٍّ بِہِمَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৮৯
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹی قسم کا حکم
(١٩٨٨٣) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ہم جھوٹی قسم کو گناہ شمار کرتے تھے۔ پوچھا گیا : جھوٹی قسم کیا ہے ؟ فرمایا : اپنے بھائی کا مال جھوٹی قسم کی وجہ سے ہڑپ کرنا۔
(۱۹۸۸۳) وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَنْبَأَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی التَّیَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِیَۃِ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ : کُنَّا نَعُدُّ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِی لاَ کَفَّارَۃَ لَہُ الْیَمِینَ الْغَمُوسَ فَقِیلَ مَا الْیَمِینُ الْغَمُوسُ قَالَ اقْتِطَاعُ الرَّجُلِ مَالَ أَخِیہِ بِالْیَمِینِ الْکَاذِبَۃِ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن الجعد فی مسندہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৯০
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میں قسم کھاتا ہوں یا میں نے قسم کھائی کے الفاظ کا بیان
(١٩٨٨٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں نے رات کو سائبان سے گھی اور شہد ٹپکتے ہوئے دیکھا ہے، میں نے لوگوں کو ہاتھ پھلائے ہوئے دیکھا ۔ کچھ زیادہ وصول کرتے ہیں اور کچھ کم اور میں نے ایک رسی آسمان سے زمین کی طرف لڑھکتی دیکھی، میرا خیال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پکڑا اور آسمان پر چڑھ گئے۔ پھر دوسرے آدمی نے پکڑا وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر تیسرے آدمی نے پکڑی وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر کسی اور نے رسی کو پکڑا لیکن وہ ٹوٹ گئی۔ لیکن رسی پھر درست ہوگئی وہ بھی چڑھ گیا تو ابوبکر (رض) فرماتے ہیں : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس کی تعبیر کروں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تعبیر کرو۔ فرماتے ہیں : ظلۃ سے مراد اسلام کا سائبان ہے اس سے گھی اور شہد کے ٹپکنے سے مراد قرآن اس کی نرمی اور مٹھاس ہے۔ مستکر و مستقل سے مراد قرآن کو زیادہ سیکھنے والے اور کم سیکھنے والے ہیں۔ آسمان سے زمین کی طرف آنے والی رسی سے مراد حق ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر آئے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر کاربند ہیں جس کی وجہ سے اللہ نے آپ کو غلبہ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ایک دوسرے آدمی نے اس حق کو لیا اور غلبہ حاصل کیا۔ پھر دوسرے نے اس کے ذریعہ سے غلبہ حاصل کیا۔ پھر کسی دوسرے نے اس کو لیا تو رسی ٹوٹ جاتی ہے۔ پھر آخر کار وہ مل جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ غلبہ پاتے ہیں : اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کریں میں نے درست کہا یا غلط ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بعض درست اور بعض غلط۔ میں نے کہا : میں نے قسم کھائی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری غلطی کو بیان کریں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو قسم نہ کھا۔

(ب) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا۔ حدیث میں ہے کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قسم ڈالتا ہوں۔

(ج) ابن شہاب زہری فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری غلطی کی مجھے خبر دیں۔
(۱۹۸۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ کَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ إِنِّی رَأَیْتُ اللَّیْلَۃَ ظُلَّۃً یَنْطِفُ مِنْہَا السَّمْنُ وَالْعَسَلُ فَأَرَی النَّاسَ یَتَکَفَّفُونَ فِی أَیْدِیہِمْ فَالْمُسْتَکْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَرَی سَبَبًا وَاصِلاً مِنَ السَّمَائِ إِلَی الأَرْضِ فَأَرَاکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَخَذْتَ بِہِ فَعَلَوْتَ ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ بِہِ ثُمَّ وُصِلَ لَہُ فَعَلاَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَیْ رَسُولَ اللَّہِ بِأَبِی أَنْتَ وَاللَّہِ لَتَدَعَنِّی فَلأَعْبُرَہَا فَقَالَ اعْبُرْہَا فَقَالَ أَمَّا الظُّلَّۃُ فَظُلَّۃُ الإِسْلاَمِ وَأَمَّا التَّنَطُّفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَہُوَ الْقُرْآنُ وَلِینُہُ وَحَلاَوَتُہُ وَأَمَّا الْمُسْتَکْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ فَہُوَ الْمُسْتَکْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ مِنْہُ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَائِ إِلَی الأَرْضِ فَہُوَ الْحَقُّ الَّذِی أَنْتَ عَلَیْہِ تَأْخُذُ بِہِ فَیُعْلِیکَ اللَّہُ ثُمَّ یَأْخُذُ بِہِ بَعْدَکَ رَجُلٌ آخَرُ فَیَعْلُو بِہِ ثُمَّ یَأْخُذُ بِہِ آخَرُ بَعْدَہُ فَیَعْلُو بِہِ ثُمَّ یَأْخُذُ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَیُقْطَعُ بِہِ ثُمَّ یُوصَلُ فَیَعْلُو بِہِ أَیْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَتُحَدِّثَنِّی أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ قَالَ : أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا۔ قَالَ : أَقْسَمْتُ بِأَبِی أَنْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَتُحَدِّثَنِّی بِالَّذِی أَخْطَأْتُ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : لاَ تُقْسِمْ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ أَحْیَانًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَحْیَانًا عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ وَکَمَا رَوَاہُ الرَّمَادِیُّ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ وَفَیَّاضُ بْنُ زُہَیْرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ أَزْہَرَ وَرَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ فَقَالَ کَانَ مَعْمَرٌ یَقُولُ مَرَّۃً عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَمَرَّۃً عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ وَرَوَاہُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَقَالَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلاً جَائَ وَرَوَاہُ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ أَقْسَمْتُ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فِی الْحَدِیثِ قَالَ فَوَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَتُخْبِرَنِّی بِالَّذِی أَخْطَأْتُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৯১
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میں قسم کھاتا ہوں یا میں نے قسم کھائی کے الفاظ کا بیان
(١٩٨٨٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے خواب میں دیکھا ایک سائبان سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، میں نے دیکھا : لوگ اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے کوئی زیادہ یا کم حاصل کررہا تھا اور ایک رسی آسمان سے زمین کی طرف لٹک رہی تھی، میں نے دیکھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رسی کو پکڑا اوپر چڑھ گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد دوسرے آدمی نے رسی کو پکڑا اور اوپر چڑھ گئے۔ اس کے بعد تیسرے آدمی نے رسی کو پکڑا اور اوپر چڑھ گیا۔ پھر چوتھے آدمی نے رسی کو پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی۔ پھر جوڑ دی گئی وہ اوپر چڑھ گیا تو ابوبکر (رض) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس خواب کی تعبیر کرتا ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تعبیر کرو۔ ابوبکر (رض) فرماتے ہیں : سائبان سے مراد اسلام کا سائبان ہے، گھی اور شہد کا اس سے ٹپکنا اس سے مراد قرآن کی مٹھاس اور نرمی ہے اور لوگوں کے ہاتھ پھیلانے سے مراد قرآن کی تعلیم کم یا زیادہ حاصل کرنا ہے۔ رسی کے آسمان سے زمین کی طرف لٹکنے سے مراد حق ہے جس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی وجہ سے اللہ نے غلبہ یا سربلندی عطا کی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد دوسرے آدمی نے اس حق کو لیا اللہ نے اس کو بھی غلبہ دیا۔ پھر تیسرے آدمی نے بھی اس کے ساتھ غلبہ حاصل کیا۔ پھر چوتھے آدمی نے اوپر چڑھنے کی کوشش کی تو یہ رسی ٹوٹ گئی۔ پھر وہ رسی درست کردی گئی تو وہ چڑھ گیا۔ اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان میں نے درست کہا یا غلطی کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے خبر دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بعض درست اور بعض غلط۔ ابوبکر (رض) کہنے لگے : اللہ کی قسم ! آپ مجھے میری غلطی کی خبر دیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم نہ ڈالو۔

(ب) لیث کی حدیث میں ہے کہ اے اللہ کے رسول ! میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ ایک رسی زمین سے آسمان تک تھی۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ پکڑ کر اوپر چڑھ گئے ہیں۔
(۱۹۸۸۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ عَنْ یُونُسَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا کَانَ یُحَدِّثُ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَرَی اللَّیْلَۃَ فِی الْمَنَامِ ظُلَّۃً تَنْطُفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلُ فَأُرَی النَّاسَ یَتَکَفَّفُونَ مِنْہَا بِأَیْدِیہِمْ فَالْمُسْتَکْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَرَی سَبَبًا وَاصِلاً مِنَ السَّمَائِ إِلَی الأَرْضِ فَأَرَاکَ أَخَذْتَ بِہِ فَعَلَوْتَ ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِکَ فَعَلاَ ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ آخْرُ فَانْقَطَعَ بِہِ ثُمَّ وُصِلَ لَہُ فَعَلاَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی لَتَدَعَنِّی فَلأَعْبُرَنَّہُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- اعْبُرْ قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَمَّا الظُّلَّۃُ فَظُلَّۃُ الإِسْلاَمِ وَأَمَّا الَّذِی یَنْطُفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَالْقُرْآنُ حَلاَوَتُہُ وَلِینُہُ وَأَمَّا مَا یَتَکَفَّفُ النَّاسُ مِنْ ذَلِکَ فَالْمُسْتَکْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَائِ إِلَی الأَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِی أَنْتَ عَلَیْہِ تَأْخُذُ بِہِ فَیُعْلِیکَ اللَّہُ ثُمَّ یَأْخُذُ بِہِ رَجُلٌ بَعْدَکَ فَیَعْلُو بِہِ ثُمَّ یَأْخُذُ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَیَعْلُو بِہِ ثُمَّ یَأْخُذُ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَیَعْلُو بِہِ فَیَنْقَطِعُ بِہِ ثُمَّ یُوصَلُ لَہُ فَیَعْلُو بِہِ فَأَخْبِرْنِی یَا رَسُولَ اللَّہِ بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی أَصَبْتُ أَوْ أَخْطَأْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا قَالَ فَوَاللَّہِ لَتُخْبِرَنِّی بِالَّذِی أَخْطَأْتُ قَالَ : لاَ تُقْسِمْ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ۔

وَفِی حَدِیثِ اللَّیْثِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی رَأَیْتُ اللَّیْلَۃَ فِی الْمَنَامِ وَقَالَ وَإِذَا سَبَبٌ وَاصِلٌ مِنَ الأَرْضِ إِلَی السَّمَائِ وَأَرَاکَ أَخَذْتَ بِہِ فَعَلَوْتَ وَالْبَاقِی مِثْلُ حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ حَرْمَلَۃَ بْنِ یَحْیَی عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔

قَالَ الْبُخَارِیُّ تَابَعَہُ سُلَیْمَانُ بْنُ کَثِیرٍ وَابْنُ أَخِی الزُّہْرِیِّ وَسُفْیَانُ بْنُ حُسَیْنٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔

(ت) وَقَالَ الزُّبَیْدِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَالَ الزُّبَیْدِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَوْ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-

قَالَ الشَّیْخُ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৯২
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میں قسم کھاتا ہوں یا میں نے قسم کھائی کے الفاظ کا بیان
(١٩٨٨٦) عطاء فرماتے ہیں کہ جب میں (اقسمت) کے لفظ بولتا ہوں تو کفارہ نہیں دیتا۔ جب تک میں قسمت ” باللہ “ کے الفاظ نہ بولوں۔
(۱۹۸۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ أَنْبَأَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : إِذَا قَالَ أَقْسَمْتُ فَلَیْسَ بِشَیْئٍ حَتَّی یَقُولَ أَقْسَمْتُ بِاللَّہِ وَقَدْ رُوِیَ فِی ہَذَا حَدِیثٌ مُسْنَدٌ إِلاَّ أَنَّہُ ضَعِیفٌ بِمَرَّۃٍ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক: