আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

قسموں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৮০ টি

হাদীস নং: ১৯৮৯৩
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میں قسم کھاتا ہوں یا میں نے قسم کھائی کے الفاظ کا بیان
(١٩٨٨٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ خالی ’ اقسم ‘ کے الفاظ سے قسم مراد نہیں ہوتی، جب تک (اقسم باللہ) کے الفاظ ادا نہ کیے جائیں۔ ایک قول میں ہے کہ ” اشہد “ کے الفاظ سے بھی قسم مراد نہیں، جب تک ” اشہد باللّٰہ “ کے الفاظ نہ بھولے۔
(۱۹۸۸۷) وَرَوَی إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِیُّ عَنْ عِیسَی بْنِ یُونُسَ عَنْ رِشْدِینَ بْنِ کُرَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ أُقْسِمُ قَالَ لاَ یَکُونُ یَمِینًا حَتَّی یَقُولَ أُقْسِمُ بِاللَّہِ وَفِی قَوْلِہِ أَشْہَدُ قَالَ لاَ یَکُونُ یَمِینًا حَتَّی یَقُولَ أَشْہَدُ بِاللَّہِ وَہَذَا فِیمَا أَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ إِجَازَۃً عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شِیرُوَیْہِ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ فَذَکَرَہُ۔ وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ مِنْ قَوْلِہِ۔

[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৯৪
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سچی قسم کا بیان
(١٩٨٨٨) براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات کاموں سے منع فرمایا اور سات کے کرنے کا حکم دیا : 1 تیماری داری کرنا 2 جنازہ پڑھنا 3 چھینک کا جواب دینا 4 سلام کو عام کرنا 5 ۔ مظلوم کی مدد کرنا 6 سچی قسم کھانا 7 دعوت کو قبول کرنا اور سات سے منع کیا : 1 سونے کی انگوٹھی پہننا 2 چاندی کے برتن میں پینا 3 ریشم زیب تن کرنا 4 موٹا ریشم پہننا 5 ۔ باریک ریشم زیب تن کرنا 6 سرخ ریشمی زین 7 ریشمی گدے۔
(۱۹۸۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَیْمٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ سُوَیْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِسَبْعٍ وَنَہَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِیَادَۃِ الْمَرِیضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَۃِ وَتَشْمِیتِ الْعَاطِسِ وَإِفْشَائِ السَّلاَمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَإِجَابَۃِ الدَّاعِی وَنَہَانَا عَنْ خَوَاتِیمِ الذَّہَبِ وَعَنِ الشُّرْبِ فِی آنِیَۃِ الْفِضَّۃِ وَعَنِ الْحَرِیرِ وَالدِّیبَاجِ وَالإِسْتَبْرَقِ وَالْمَیَاثِرِ وَالْقَسِّیِّ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ کِلاَہُمَا عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ۔

[صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৯৫
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سچی قسم کا بیان
(١٩٨٨٩) عبدالرحمن بن صفوان فرماتے ہیں کہ میں اپنے والدکو لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہجرت کی بیعت کے لیے آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ جہاد پر بیعت لوں گا۔ میں ابن عباس (رض) کے پاس گیا جو پانی پلا رہے تھے، میں نے کہا : اے ابوالفضل ! میں اپنے باپ کو لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت پر بیعت لیں، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں کیا تو عباس (رض) ان کے ساتھ انھیں کپڑوں میں چل پڑے ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جو میرے اور عبدالرحمن کے درمیان بات چیت ہوئی آپ نے اس کو پہچان لیا، آپ نے اس کے باپ سے ہجرت پر بیعت لیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہجرت نہیں ہے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عباس نے قسم ڈال دی کہ آپ ہجرت پر بیعت لیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور فرمایا : میں اپنے چچا کی قسم پوری کرتا ہوں، لیکن ہجرت نہیں ہے۔
(۱۹۸۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِأَبِی لِیُبَایِعَہُ عَلَی الْہِجْرَۃِ قَالَ بَلْ أُبَایِعُہُ عَلَی الْجِہَادِ فَانْطَلَقْتُ إِلَی الْعَبَّاسِ وَہُوَ فِی السِّقَایَۃِ فَقُلْتُ یَا أَبَا الْفَضْلِ إِنِّی انْطَلَقْتُ بِأَبِی إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- لِیُبَایِعَہُ عَلَی الْہِجْرَۃِ فَلَمْ یَفْعَلْ فَقَامَ مَعَہُ الْعَبَّاسُ فِی قَمِیصٍ مَا عَلَیْہِ رِدَاء ٌ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ عَرَفْتَ مَا بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ وَأَتَاکَ بِأَبِیہِ لِتُبَایِعَہُ عَلَی الْہِجْرَۃِ فَلَمْ تَفْعَلْ فَقَالَ إِنَّہَا لاَ ہِجْرَۃَ ۔ قَالَ أَقْسَمْتُ عَلَیْکَ لِتُبَایِعَہُ قَالَ فَمَدَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَدَہُ وَقَالَ ہَا أَبْرَرْتُ عَمِّی وَلاَ ہِجْرَۃَ۔

قَالَ الْبُخَارِیُّ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَفْوَانَ أَوْ صَفْوَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَہُ یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ عَنْ مُجَاہِدٍ لاَ یَصِحُّ۔ [ضعیف ۱۹۸۹۰ صرف خالی سند ہے]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৯৬
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سچی قسم کا بیان
(١٩٨٩٠) ایضاً ۔
(۱۹۸۹۰) أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو بَکْرٍ الْفَارِسِیُّ أَنْبَأَنَا إِبْرَاہِیمُ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ عَنِ الْبُخَارِیِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৯৭
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سچی قسم کا بیان
(١٩٨٩١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے کسی پر قسم ڈالی اس لیے کہ وہ اسی کی قسم پوری کر دے گا لیکن وہ ایسا نہیں کرتا تو گناہ اس پر ہے جس نے اس کو بری ذمہ قرار نہیں دلوایا۔
(۱۹۸۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ ہَارُونَ بْنِ رُسْتُمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الدَّقِیقِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَالِکٍ الْحَضْرَمِیُّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : مَنْ حَلَفَ عَلَی أَحَدٍ بِیَمِینٍ وَہُوَ یَرَی أَنَّہُ سَیَبَرُّہُ فَلَمْ یَفْعَلْ فَإِنَّمَا إِثْمُہُ عَلَی الَّذِی لَمْ یَبَرَّہُ ۔ [صحیح۔ بخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৯৮
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سچی قسم کا بیان
(١٩٨٩٢) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے کھجور سے بھری ایک تھالی تحفہ میں دی تو حضرت عائشہ (رض) نے اس سے کھائیں اور کچھ پلیٹ میں بچ گئی۔ عورت کہنے لگی : میں قسم ڈالتی ہوں کے آپ مکمل کھائیں۔ آپ نے فرمایا : اس کی قسم پوری کرو؛ کیونکہ کفارہ قسم توڑنے والے پر ہوتا ہے۔
(۱۹۸۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِی الطَّیِّبِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِی الزَّاہِرِیَّۃِ وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : أَہْدَتْ لَہَا امْرَأَۃٌ طَبَقًا فِیہِ تَمْرٌ فَأَکَلَتْ مِنْہُ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَأَبْقَتْ مِنْہُ تَمَرَاتٍ فَقَالَتِ الْمَرْأَۃُ أَقْسَمْتُ عَلَیْکِ إِلاَّ أَکَلْتِیہِ کُلَّہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَبِرِّیہَا فَإِنَّ الإِثْمَ عَلَی الْمُحْنِثِ ۔ حَدِیثُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی إِسْنَادِہِ مَنْ یُجْہَلُ مِنْ مَشَایخِ بَقِیَّۃَ وَحَدِیثُ عَائِشَۃَ أَمْثَلُ وَہُوَ مُرْسَلٌ أَوْرَدَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ مِنْ حَدِیثِ لَیْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ وَلَہُ شَاہِدٌ مِنْ حَدِیثِ عَلِیِّ بْنِ یَزِیدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

وَرُوِّینَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَمَکْحُولٍ وَالْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ أَنَّ الْکَفَّارَۃَ عَلَی الْمُقْسِمِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৯৯
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” لَعَمْرُ اللَّہِ “ کہہ کر قسم اٹھانے کا حکم
(١٩٨٩٣) عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ (رض) حضرت عائشہ (رض) سے حدیث نقل فرماتے ہیں کہ جب تہمت لگانے والوں نے باتیں کیں تو اللہ نے ان کو پاک کردیا، لمبی حدیث ہے۔ فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر پر ارشاد فرمایا : اے مسلمانو کی جماعت ! کون ہمیں راحت دے گا۔ جس نے ہمارے گھر والوں کے بارے میں ہمیں تکلیف دی ہے۔ اللہ کی قسم ! میں اپنے گھر والوں کے متعلق بھلائی ہی کو جانتا ہوں اور جس آدمی کا تذکرہ انھوں نے کیا ہے، اس میں بھی بھلائی ہی کو پاتا ہوں، وہ صرف میرے گھر والوں کے پاس میرے ساتھ ہی گیا ہے تو سعد بن معاذ انصاری کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر وہ اوس قبیلہ سے ہے میں اس کی گردن اتار دوں۔ اگر وہ ہمارے بھائیوں خزرج کے قبیلہ سے ہے تو جو آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ سعد بن عبادہ خزرج کے سردار کھڑے ہوگئے، یہ نیک آدمی تھے لیکن حمیت نے ابھارا تو سعد بن معاذ سے کہنے لگے : اللہ کی قسم ! تو نے جھوٹ بولا ہے، نہ تو قتلی کرے گا نہ تو اس کی طاقت رکھتا ہے تو اسید بن حضر جو سعد بن معاذ کے چچا کے بیٹے تھے کھڑے ہو کر سعد بن عبادہ سے کہنے لگے : تو نے جھوٹ بولا، اللہ کی قسم ! ہم اس کو قتل کریں گے۔ تو منافق ہے اور منافقین کی جانب سے جھگڑا کرتا ہے۔
(۱۹۸۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ وَسَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَعَلْقَمَۃُ بْنُ وَقَّاصٍ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ حَدِیثِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- حِینَ قَالَ لَہَا أَہْلُ الإِفْکِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَہَا اللَّہُ مِمَّا قَالُوا وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ : یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِینَ مَنْ یَعْذِرُنَا مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنَا أَذَاہُ فِی أَہْلِ بَیْتِی فَوَاللَّہِ مَا عَلِمْتُ فِی أَہْلِی إِلاَّ خَیْرًا وَلَقَدْ ذَکَرُوا رَجُلاً مَا عَلِمْتُ عَلَیْہِ إِلاَّ خَیْرًا وَمَا کَانَ یَدْخُلُ عَلَی أَہْلِی إِلاَّ مَعِی ۔ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الأَنْصَارِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَا أَعْذِرُکَ مِنْہُ إِنْ کَانَ مِنَ الأَوْسِ ضَرَبْتُ عُنُقَہُ وَإِنْ کَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنَ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَکَ قَالَتْ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ وَہُوَ سَیِّدُ الْخَزْرَجِ وَکَانَ قَبْلَ ذَلِکَ رَجُلاً صَالِحًا وَلَکِنِ احْتَمَلَتْہُ الْحَمِیَّۃُ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ کَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّہِ لاَ تَقْتُلُہُ وَلاَ تَقْدِرُ عَلَی قَتْلِہِ فَقَامَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ وَہُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ کَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّہِ لَنَقْتُلَنَّہُ فَإِنَّکَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِینَ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یُونُسَ۔

[صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯০০
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی صفات جیسے عزۃ، قدرت، جلال، بڑائی، عظمت، کلام کرنا، سننا اس طرح کی صفات کے ساتھ قسم کھانا
(١٩٨٩٤) حضرت ابوہریرہ (رض) نے سعید بن مسیب اور عطا بن یزید لیثی کو خبر دی کہ لوگوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا قیامت کے دن ہم اللہ رب العزت کو دیکھیں گے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بادل نہ ہوں تو چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بادل نہ ہو تو سورج کو دیکھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا : نہیں اللہ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے فرمایا : تم اس طرح اللہ کو دیکھ لو گے۔ انھوں نے حدیث کو ذکر کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں : جنت اور جہنم کے درمیان ایک آدمی رہ جائے گا اور یہ جنت میں آخری داخل ہونے والا ہوگا۔

جہنم کی طرف اس کا چہرہ ہوگا، کہے گا : اللہ میرا چہرہ جہنم سے پھیر دے، اس کی حرارت میرے چہرے کو جھلس رہی ہے، اللہ فرمائیں گے : تو کوئی اور سوال نہیں کرے گا ؟ وہ بندہ کہے گا : اللہ تیری عزت کی قسم ! آئندہ سوال نہ کروں گا۔ وہ اللہ سے وعدہ کرے گا جو اللہ چاہے گا تو اللہ اس کا چہرہ جہنم سے پھیر دے گا۔ جب چہرہ جنت کی طرف کردیا جائے گا تو وہ جنت کی رونقوں کو دیکھ کر جتنی دیر اللہ چاہے گا خاموش رہے گا، پھر کہے گا : اللہ جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔ اللہ فرمائے گا : تو نے آئندہ سوال نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا ؟ وہ کہے گا : اے اللہ ! میں تیری مخلوق میں سے بدبخت نہیں ہوں۔ اللہ فرمائیں گے : تو پھر سوال کریں گا ؟ کہے گا : اللہ ! تیری عزت کی قسم ! اب دوبارہ سوال نہ کروں گا۔ اس نے حدیث ذکر کی۔ آخر میں ہے کہ اس کو جنت میں دخول کی اجازت مل جائے گی تو اللہ فرمائیں گے، خواہش کر۔ اس کی تمام خواہشات ختم ہوجائیں گی تو اللہ فرمائے گا : اس اس طرح سوال کر، اللہ اس کو یاد کروائیں گے، یہاں تک کہ اس کی تمام خواہشات ختم ہوجائیں گی۔ یہ اور اتنا اور تیرے لیے ہے۔ ابو سعید خدری (رض) ابوہریرہ (رض) سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تیرے لیے اور اس کے برابر دس گنا۔

(ب) ایوب فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! تیری عزت کی قسم ! ہم تیری برکت سے لاپرواہ نہیں ہیں۔

(ج) انس بن مالک (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جہنم کے قصہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ کہے گا : تیری عزت کی قسم بس بس۔

(د) انس بن مالک (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آدمی کے بارے میں بیان فرماتے ہیں ، جس کو جنت میں غوطہ دیا جائے گا، یعنی سیر کروائی جائے گی تو اس سے کہا جائے گا : کیا تو نے کبھی دنیا میں غم دیکھا۔ وہ کہے گا : تیری عزت و جلال کی قسم ! انھیں دیکھا۔
(۱۹۸۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَعَطَائُ بْنُ یَزِیدَ اللَّیْثِیُّ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخْبَرَہُمَا : أَنَّ النَّاسَ قَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ نَرَی رَبَّنَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَلْ تُمَارُونَ فِی الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ لَیْسَ دُونَہُ سَحَابٌ؟ ۔ قَالُوا : لاَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : فَہَلْ تُمَارُونَ فِی الشَّمْسِ لَیْسَ دُونَہَا سَحَابٌ ۔ قَالُوا : لاَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ فَإِنَّکُمْ تَرَوْنَہُ کَذَلِکَ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : وَیَبْقَی رَجُلٌ ہُوَ بَیْنَ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ وَآَخِرُ أَہْلِ الْجَنَّۃِ دُخُولاً الْجَنَّۃَ مُقْبِلٌ بِوَجْہِہِ عَلَی النَّارِ یَقُولُ یَا رَبِّ اصْرِفْ وَجْہِی عَنِ النَّارِ فَإِنَّہُ قَدْ قَشَبَنِی رِیحُہَا وَأَحْرَقَنِی ذَکَاؤُہَا فَیَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فَہَلْ عَسَیْتَ إِنْ فَعَلْتُ ذَلِکَ بِکَ أَنْ تَسْأَلَ غَیْرَ ذَلِکَ فَیَقُولُ لاَ وَعِزَّتِکَ فَیُعْطِی رَبَّہُ مَا شَائَ مِنْ عَہْدٍ وَمِیثَاقٍ فَیَصْرِفُ اللَّہُ وَجْہَہُ عَنِ النَّارِ فَإِذَا أَقْبَلَ بِوَجْہِہِ عَلَی الْجَنَّۃِ فَرَأَی بَہْجَتَہَا فَیَسْکُتُ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَسْکُتَ ثُمَّ یَقُولُ یَا رَبِّ قَدِّمْنِی عِنْدَ بَابِ الْجَنَّۃِ فَیَقُولُ اللَّہُ أَلَسْتَ قَدْ أَعْطَیْتَ الْعُہُودَ وَالْمَوَاثِیقَ أَنْ لاَ تَسْأَلَ غَیْرَ الَّذِی کُنْتَ سَأَلْتَ فَیَقُولُ یَا رَبِّ لاَ أَکُونُ أَشْقَی خَلْقِکَ فَیَقُولُ ہَلْ عَسَیْتَ إِنْ أُعْطِیتَ ذَلِکَ أَنْ تَسَأَلَ غَیْرَہُ فَیَقُولُ لاَ وَعِزَّتِکَ لاَ أَسْأَلُکَ غَیْرَ ذَلِکَ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ ثُمَّ یَأْذَنُ لَہُ فِی دُخُولِ الْجَنَّۃِ فَیَقُولُ لَہُ تَمَنَّ فَیَتَمَنَّی حَتَّی إِذَا انْقُطِعَ بِہِ قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی مِنْ کَذَا وَکَذَا فَسَلْ یُذَکِّرُہُ رَبَّہُ حَتَّی إِذَا انْتَہَتْ بِہِ الأَمَانِیُّ قَالَ اللَّہُ لَکَ ذَلِکَ وَمِثْلُہُ مَعَہُ۔ قَالَ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ لأَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ لَکَ ذَلِکَ وَعَشَرَۃُ أَمْثَالِہِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔

قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ أَیُّوبُ النَّبِیُّ -ﷺ- وَعِزَّتِکَ لاَ غِنَی بِی عَنْ بَرَکَتِکَ۔ وَفِی حَدِیثِ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی قِصَّۃِ جَہَنَّمَ فَتَقُولُ قَطٍ قَطٍ وَعِزَّتِکَ

قَالَ الشَّیْخُ وَفِی حَدِیثِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الَّذِی یُغْمَسُ فِی الْجَنَّۃِ فَیُقَالُ لَہُ ہَلْ رَأَیْتَ بَؤْسًا قَطُّ یَقُولُ لاَ وَعِزَّتِکَ وَجَلاَلِکَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯০১
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی صفات جیسے عزۃ، قدرت، جلال، بڑائی، عظمت، کلام کرنا، سننا اس طرح کی صفات کے ساتھ قسم کھانا
(١٩٨٩٥) معبد بن ہلال عنزی فرماتے ہیں کہ میں حضرت انس بن مالک (رض) کے پاس آیا۔ وہ اہل بصرہ کے گروہ میں تھے، انھوں نے ہمارا نام بتایا تو ہم نے ان سے شفاعت والی حدیث کے بارے میں سوال کیا۔ انھوں نے حدیث کا تذکرہ فرمایا سوال واجوب اور ان کے پاس سے نکلنے کا تذکرہ کیا اور حسن بن ابوالحسن کے پاس آنے کا تذکرہ کیا، حضرت فرمانے لگے : مجھے ویسے بیان کرو جیسے انھوں نے بیان کیا ہے، پھر کہنے لگے : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں چوتھی مرتبہ آؤں گا اور اللہ کی تعریفیں بیان کروں گا، پھر سجدہ میں گر پڑوں گا۔ مجھے کہا جائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اپنا سر اٹھائیے، کہیے آپ کی بات سنی جائے گی۔ سوال کرو دیا جائے گا، سفارش کرو قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا : اے میرے رب ! جس نے لا الہ الا اللہ پڑھا ان کے بارے میں مجھے اجازتتو اللہ فرمائیں گے : یہ آپ کا کام نہیں، مجھے میری عزت وکبریائی اور عظمت کی قسم ! میں ضرور ان کو نکالوں گا جس نے لا الہ الا اللہ کہا۔
(۱۹۸۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَنْبَأَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ ہِلاَلٍ الْعَنَزِیُّ وَأَثْنَی عَلَیْہِ خَیْرًا قَالَ : أَتَیْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی رَہْطٍ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ وَسَمَّاہُمْ لَنَا نَسْأَلُہُ عَنْ حَدِیثِ الشَّفَاعَۃِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ فِی سُؤَالِہِ وَجَوَابِہِ وَخُرُوجِہِمْ مِنْ عِنْدِہِ وَدُخُولِہِمْ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ أَبِی الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ قَالَ الْحَسَنُ حَدَّثَنِی کَمَا حَدَّثَکُمْ قَالَ ثُمَّ قَالَ یَعْنِی النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَجِیئُ فِی الرَّابِعَۃِ فَأَحْمَدُ بِتِلْکَ الْمَحَامِدِ ثُمَّ أَخِرُّ لَہُ سَاجِدًا فَیُقَالُ لِی یَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ قُلْ یُسْمَعْ لَکَ وَسَلْ تُعْطَہْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ یَا رَبِّ ائْذَنْ لِی فِیمَنْ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَیَقُولُ لَیْسَ ذَلِکَ إِلَیْکَ وَلَکِنِّی وَعِزَّتِی وَکِبْرِیَائِی وَعَظَمَتِی لأُخْرِجَنَّ مِنْہَا مَنْ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ زَادَ فِیہِ وَجَلاَلِی وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَیْرِہِ عَنْ حَمَّادٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯০২
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی صفات جیسے عزۃ، قدرت، جلال، بڑائی، عظمت، کلام کرنا، سننا اس طرح کی صفات کے ساتھ قسم کھانا
(١٩٨٩٦) حمید بن ہلال فرماتے ہیں کہ ابو مسعود کے غلام نے مجھے بیان کیا، ابومسعود حضرت حذیفہ کے پاس آئے اور کہنے لگے : مجھ سے وعدہ لو۔ وہکہنے لگے : کیا آپ کو یقین نہیں آیا ؟ کہتے ہیں : کیوں نہیں میرے رب کی قسم ! فرمایا : گمراہی کو پہچانوجی سے اس کو پہچاننے کا حق ہے۔ جس کو آپ برا جانتے ہیں ، اس کا انکار کرو جس کی پہچان ہے اور مختلف آراء سے بچو اللہ کا دین ایک ہے۔
(۱۹۸۹۶) أَخْبَرَنَا الشَّرِیفَانِ أَبُو الْفَتْحِ نَاصِرُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعُمَرِیُّ وَأَبُو عَلِیٍّ الْحَسَنُ بْنُ أَشْعَثَ الْقُرَشِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ أَنْبَأَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ قَالَ حَدَّثَنِی مَوْلًی لأَبِی مَسْعُودٍ قَالَ : دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عَلَی حُذَیْفَۃَ فَقَالَ اعْہَدْ إِلَیَّ فَقَالَ لَہُ أَلَمْ یَأْتِکَ الْیَقِینُ قَالَ بَلَی وَعِزَّۃِ رَبِّی قَالَ فَاعْلَمْ أَنَّ الضَّلاَلَۃَ حَقَّ الضَّلاَلَۃِ أَنْ تَعْرِفَ مَا کُنْتَ تُنْکِرُ وَأَنْ تُنْکِرَ مَا کُنْتَ تَعْرِفُ وَإِیَّاکَ وَالتَّلَوُّنِ فَإِنَّ دِینَ اللَّہِ وَاحِدٌ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯০৩
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی صفات جیسے عزۃ، قدرت، جلال، بڑائی، عظمت، کلام کرنا، سننا اس طرح کی صفات کے ساتھ قسم کھانا
(١٩٨٩٧) ابو عیاض فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے سوال کیا یا ابن عمر (رض) سے سوال کیا گیا (اور میں سن رہا تھا) شراب کے بارے میں فرماتے ہیں : اللہ کی سماعت کی قسم ! اس کی خریدو فروخت جائز نہیں ہے۔
(۱۹۸۹۷) وَأَخْبَرَنَا الشَّرِیفَانِ أَبُو الْفَتْحِ وَأَبُو عَلِیٍّ قَالاَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَنْبَأَنَا شَرِیکٌ عَنْ زِیَادِ بْنِ فَیَّاضٍ عَنْ أَبِی عِیَاضٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ أَوْ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الْخَمْرِ فَقَالَ لاَ وَسَمْعِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ لاَ یَحِلُّ بَیْعُہَا وَلاَ ابْتِیَاعُہَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯০৪
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی صفات جیسے عزۃ، قدرت، جلال، بڑائی، عظمت، کلام کرنا، سننا اس طرح کی صفات کے ساتھ قسم کھانا
(١٩٨٩٨) حضرت حسن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے قرآن کی کسی سورة کی قسم اٹھائی تو اس پر ہر آیت کے عوض کفارہ ہے، اگرچہ وہ نیک ہو یا فاجر ۔
(۱۹۸۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ حَلَفَ بِسُورَۃٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَعَلَیْہِ بِکُلِّ آیَۃٍ کَفَّارَۃٌ إِنْ شَائَ بَرَّ وَإِنْ شَائَ فَجَرَ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯০৫
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی صفات جیسے عزۃ، قدرت، جلال، بڑائی، عظمت، کلام کرنا، سننا اس طرح کی صفات کے ساتھ قسم کھانا
(١٩٨٩٩) حضرت حسن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے قران کی کسی سورة کی قسم اٹھائی تو ہر آیت کا عوض قسم کا کفارہ ہے، جو چاہے نیکی کرے اور جو چاہے فاجر بنے۔
(۱۹۸۹۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ حَلَفَ بِسُورَۃٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَعَلَیْہِ بِکُلِّ آیَۃٍ یَمِینُ صَبْرٍ مَنْ شَائَ بَرَّ وَمَنْ شَائَ فَجَرَ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯০৬
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی صفات جیسے عزۃ، قدرت، جلال، بڑائی، عظمت، کلام کرنا، سننا اس طرح کی صفات کے ساتھ قسم کھانا
(١٩٩٠٠) ثابت بن ضحاک سے مرفوع اور موصول بیان ہوئی ہے۔
(۱۹۹۰۰) قَالَ وَحَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ لَیْثٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِثْلَہُ۔ ہَذَا الْحَدِیثُ إِنَّمَا رُوِیَ مِنْ وَجْہَیْنِ جَمِیعًا مُرْسَلاً وَرُوِیَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ مَوْصُولاً مَرْفُوعًا وَإِسْنَادُہُ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯০৭
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی صفات جیسے عزۃ، قدرت، جلال، بڑائی، عظمت، کلام کرنا، سننا اس طرح کی صفات کے ساتھ قسم کھانا
(١٩٩٠١) عبداللہ بن مرہ حضرت ابو کنف سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم آٹے کے بازار میں ابن مسعود کے ساتھ چل رہے تھے۔ اچانک انھوں نے ایک آدمی کو سنا، وہ قرآن کی کسی سورة کی قسم اٹھا رہا تھا تو ابن مسعود فرمانے لگے کہ اس پر ہر آیت کے عوض کفارہ قسم ہے۔ اعمش فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے تذکرہ کیا تو فرمانے لگے کہ عبداللہ بن مسعود نے فرمایا : جس نے قرآن کی قسم اٹھائی، اس پر ہر آیت کے عوض قسم کا کفارہ ہے اور جس نے ایک آیت کا انکار کردیا، اس نے پورے قرآن کا انکار کردیا۔
(۱۹۹۰۱) وَرُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ زَکَرِیَّا عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی کَنَفٍ قَالَ : بَیْنَمَا أَنَا أَمْشِی مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی سُوقِ الدَّقِیقِ إِذْ سَمِعَ رَجُلاً یَحْلِفُ بِسُورَۃِ الْبَقَرَۃِ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِنَّ عَلَیْہِ لِکُلِّ آیَۃٍ مِنْہَا یَمِینًا۔ قَالَ الأَعْمَشُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لإِبْرَاہِیمَ فَقَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ مَنْ حَلَفَ بِالْقُرْآنِ فَعَلَیْہِ بِکُلِّ آیَۃٍ یَمِینٌ وَمَنْ کَفَرَ بِآیَۃٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَقَدْ کَفَرَ بِہِ کُلِّہِ۔ [صحیح۔ الجرح والتعدیل ۱۷۲۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯০৮
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی صفات جیسے عزۃ، قدرت، جلال، بڑائی، عظمت، کلام کرنا، سننا اس طرح کی صفات کے ساتھ قسم کھانا
(١٩٩٠٢) حنظلۃ بن خویلد عنبری فرماتے ہیں کہ میں ابن مسعود کے ساتھ نکلا، یہاں تک کہ وہ سدہ کے پاس آئے۔ بازار کی اونچی جگہ۔ ان کی طرف متوجہ ہوئے، پھر فرمایا : میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کے اہل کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں۔ اس کی برائی اور اس کے اہل کی برائی سے پناہ طلب کرتا ہوں۔ پھر وہ مسجد کی سیڑھیوں پر آئے، اس نے ایک آدمی کو سنا، وہ قرآن کی قسم اٹھا رہا تھا کہنے لگے : اے حنظلہ ! کیا تو جانتا ہے اس پر قسم کا کفارہ ہے، ہر آیت کے عوض کفارہ ہے یا فرمایا ہر قسم کے عوض۔
(۱۹۹۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی سِنَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی الْہُذَیْلِ عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ خُوَیْلِدٍ الْعَنْبَرِیِّ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَتَّی أَتَی السُّدَّۃَ سُدَّۃً بِالسُّوقِ فَاسْتَقْبَلَہَا ثُمَّ قَالَ إِنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِہَا وَخَیْرِ أَہْلِہَا وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّہَا وَشَرِّ أَہْلِہَا ثُمَّ مَشَی حَتَّی أَتَی دَرَجَ الْمَسْجِدِ فَسَمِعَ رَجُلاً یَحْلِفُ بِسُورَۃٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَقَالَ : یَا حَنْظَلَۃُ أَتَرَی ہَذَا یُکَفِّرُ عَنْ یَمِینِہِ إِنَّ لِکُلِّ آیَۃٍ کَفَّارَۃً أَوْ قَالَ یَمِینٍ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مِسْعَرٌ عَنْ أَبِی سِنَانٍ وَقَالَ شُعْبَۃُ سُوَیْدُ بْنُ حَنْظَلَۃَ وَقَالَ سُفْیَانُ ہُوَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حَنْظَلَۃَ۔

[صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯০৯
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی صفات جیسے عزۃ، قدرت، جلال، بڑائی، عظمت، کلام کرنا، سننا اس طرح کی صفات کے ساتھ قسم کھانا
(١٩٩٠٣) عبداللہ بن حنظلہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود (رض) کے ساتھ تھا۔ انھوں نے ایک آدمی سے سنا، وہ قرآن کی قسم اٹھا رہا تھا۔ فرماتے ہیں : کیا تو جانتا ہے اس پر ہر آیت کے عوض قسم کا کفارہ ہے۔ ابن مسعود کی مرسل حدیث میں ہے کہ قرآن کی قسم پر تغلیظاً کفارہ واجب کیا گیا ہے۔
(۱۹۹۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی سِنَانٍ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی الْہُذَیْلِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حَنْظَلَۃَ قَالَ : کُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَمِعَ رَجُلاً یَحْلِفُ بِسُورَۃِ الْبَقَرَۃِ فَقَالَ أَتُرَاہُ مُکَفِّرًا عَلَیْہِ بِکُلِّ آیَۃٍ یَمِینٌ۔ فَقَوْلُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَعَ الْحَدِیثِ الْمُرْسَلِ فِیہِ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ الْحَلِفَ بِالْقُرْآنِ یَکُونُ یَمِینًا فِی الْجُمْلَۃِ ثُمَّ التَّغْلِیظُ فِی الْکَفَّارَۃِ مَتْرُوکٌ بِالإِجْمَاعِ۔

[صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯১০
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی صفات جیسے عزۃ، قدرت، جلال، بڑائی، عظمت، کلام کرنا، سننا اس طرح کی صفات کے ساتھ قسم کھانا
(١٩٩٠٤) عمرو بن دینار فرماتے ہیں : میں نے لوگوں کو ستر سال سے پایا، وہ کہتے ہیں : اللہ خالق ہے اور باقی سب مخلوق ہیں اور قرآن اللہ کا کلام ہے۔
(۱۹۹۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الْعَنَزِیُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِیدٍ : عُثْمَانَ بْنَ سَعِیدٍ الدَّارِمِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیَّ یَقُولُ قَالَ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ قَالَ : أَدْرَکْتُ النَّاسَ مُنْذُ سَبْعِینَ سَنَۃٍ یَقُولُونَ اللَّہُ الْخَالِقُ وَمَا سِوَاہُ مَخْلُوقٌ وَالْقُرْآنُ کَلاَمُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯১১
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی صفات جیسے عزۃ، قدرت، جلال، بڑائی، عظمت، کلام کرنا، سننا اس طرح کی صفات کے ساتھ قسم کھانا
(١٩٩٠٥) حفص فرماتے ہیں کہ قرآن مخلوق ہے۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا : تو نے اللہ عظیم کے ساتھ کفر کیا ہے۔
(۱۹۹۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاہِیمَ بْنَ مَحْمُودٍ یَقُولُ سَمِعْتُ الرَّبِیعَ بْنَ سُلَیْمَانَ یَقُولُ أَخْبَرَنِی أَبُو شُعَیْبٍ : أَنَّ حَفْصَ الْفَرْدَ نَاظِرَ الشَّافِعِیِّ فَقَالَ حَفْصٌ الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ فَقَالَ لَہُ الشَّافِعِیُّ کَفَرْتَ بِاللَّہِ الْعَظِیمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯১২
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں ایسا ضرور کروں گا یا میں ایسا نہیں کروں گا اور وہ قسم کی نیت کرتا ہے
(١٩٩٠٦) عبداللہ بن علی بن رکانہ اپنے والد سے اور وہ اپنیدادا سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق البتہ دے دی نبی کے زمانہ میں۔ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آکر خبر دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیری نیت کیا تھی ؟ اس نے کہا : ایک آپ نے فرمایا : کیا اللہ کی قسم ؟ اس نے کہا : ہاں اللہ کی قسم ! آپ نے فرمایا : یہ تیرے ارادے پر ہے۔
(۱۹۹۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الزُّبَیْرُ بْنُ سَعِیدٍ الْہَاشِمِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ رُکَانَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ الْبَتَّۃَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ : مَا نَوَیْتَ بِذَلِکَ؟ قَالَ وَاحِدَۃً قَالَ آللَّہِ قَالَ : آللَّہِ؟ قَالَ : فَہُوَ عَلَی مَا أَرَدْتَ۔

[حسن لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক: