আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
قسموں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৮০ টি
হাদীস নং: ২০০৩৩
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے قسم اٹھائی کہ وہ آدمی سے کلام نہ کرے گا لیکن بعد میں خط یا قاصد کو روانہ کرتا ہے اس کا حکم
اللہ کا فرمان ہے : { وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَائِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوحِیَ بِاِذْنِہِ مَ
اللہ کا فرمان ہے : { وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَائِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوحِیَ بِاِذْنِہِ مَ
(٢٠٠٢٧) ابو ایوب انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کے لیے اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زائد قطع تعلق جائز نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے ملتے ہیں لیکن اپنی جگہ رکے رہتے ہیں۔ دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں ابتدا کرتا ہے۔
(۲۰۰۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَرْوِیہِ لاَ یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ یَہْجُرَ أَخَاہُ فَوْقَ ثَلاَثَۃٍ یَلْتَقِیَانِ فَیَصُدُّ ہَذَا وَیَصُدُّ ہَذَا وَخَیْرُہُمَا الَّذِی یَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৩৪
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے قسم اٹھائی کہ وہ آدمی سے کلام نہ کرے گا لیکن بعد میں خط یا قاصد کو روانہ کرتا ہے اس کا حکم
اللہ کا فرمان ہے : { وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَائِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوحِیَ بِاِذْنِہِ مَ
اللہ کا فرمان ہے : { وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَائِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوحِیَ بِاِذْنِہِ مَ
(٢٠٠٢٨) محمد بن ہلال اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مومن بھائی کو تین دن سے زائد چھوڑے۔ لیکن تین دن گزرنے کے بعد ایک دوسرے پر سلام کہتا ہے وہ جواب دیتا ہے تو دونوں اجر میں شریک ہوں گے۔ اگر وہ جواب نہیں دیتا تو یہ مجرم دوسرا قطع تعلق سے بری ہوگا۔
(۲۰۰۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہِلاَلٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ یَہْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ فَإِذَا مَرَّ ثَلاَثٌ لَقِیَہُ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ فَإِنْ رَدَّہُ فَقَدِ اشْتَرَکَا فِی الأَجْرِ وَإِنْ لَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ فَقَدْ بَرِئَ الْمُسْلِمُ مِنَ الْہِجْرَۃِ وَصَارَتَ عَلَی صَاحِبِہِ ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৩৫
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے قسم کھائی کہ اس کے پاس مال نہیں، اس کے پاس سامان یا جائیداد یا جانور ہے
(٢٠٠٢٩) سوید بن مغیرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدمی کا بہترین مال ایسے جانور ہیں جو زیادہ بچے دیں یا زیادہ پھل دینے والی کھجوریں۔
(۲۰۰۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمُنَادِی قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَۃَ الْعَدَوِیُّ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ بُدَیْلٍ عَنْ إِیَاسِ بْنِ زُہَیْرٍ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ ہُبَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : خَیْرُ مَالِ الْمَرْئِ مُہْرَۃٌ مَأْمُورَۃٌ أَوْ سِکَّۃٌ مَأْبُورَۃٌ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ الدُّورِیِّ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقُولُ۔
(غ) قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : سِکَّۃٌ یَقُولُ ہِیَ الْمُصْطَفَّۃُ مِنَ النَّخْلِ وَأَمَّا الْمَأْبُورَۃُ فَإِنَّہَا الَّتِی قَدْ لُقِّحَتْ وَأَمَّا الْمُہْرَۃُ الْمَأْمُورَۃُ فَإِنَّہَا الْکَثِیرَۃُ النِّتَاجِ۔ [ضعیف]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمُنَادِی قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَۃَ الْعَدَوِیُّ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ بُدَیْلٍ عَنْ إِیَاسِ بْنِ زُہَیْرٍ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ ہُبَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : خَیْرُ مَالِ الْمَرْئِ مُہْرَۃٌ مَأْمُورَۃٌ أَوْ سِکَّۃٌ مَأْبُورَۃٌ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ الدُّورِیِّ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقُولُ۔
(غ) قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : سِکَّۃٌ یَقُولُ ہِیَ الْمُصْطَفَّۃُ مِنَ النَّخْلِ وَأَمَّا الْمَأْبُورَۃُ فَإِنَّہَا الَّتِی قَدْ لُقِّحَتْ وَأَمَّا الْمُہْرَۃُ الْمَأْمُورَۃُ فَإِنَّہَا الْکَثِیرَۃُ النِّتَاجِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৩৬
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو قسم اٹھاتا ہے کہ اپنی لونڈی کو سو کوڑے مارے گا، پھر ان تمام کو جمع کر کے ایک مرتبہ ہی مار دے تو وہ حانث نہ ہوگا
اللہ کا فرمان ہے : { وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِہٖ وَلاَ تَحْنَثْ } [ص ٤٤]” اور اپنے ہاتھ میں ایک چھڑیوں کا گٹھا لے کر ماریں اور قسم
اللہ کا فرمان ہے : { وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِہٖ وَلاَ تَحْنَثْ } [ص ٤٤]” اور اپنے ہاتھ میں ایک چھڑیوں کا گٹھا لے کر ماریں اور قسم
(٢٠٠٣٠) ابو امامہ بن سہل بن حنیف نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انصاری صحابہ سے نقل کیا کہ ایک آدمی بیماری کی وجہ سے تڑپ رہا تھا۔ اس کی جلد اس کی ہڈی پر چڑ چکی تھی۔ اس کے پاس ایک لونڈی آئی جس نے ہنس مکھ ہو کر اس سے باتیں کیں تو وہ اس پر واقع ہوگیا۔ پھر اس نے اپنا واقعہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو شاخیں جمع کر کے ایک ہی مرتبہ مارو۔
(۲۰۰۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِیدٍ الْہَمْدَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی أَبُو أُمَامَۃَ بْنُ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّہُ اشْتَکَی رَجُلٌ مِنْہُمْ حَتَّی أَضْنَی فَعَادَ جِلْدُہُ عَلَی عَظْمٍ فَدَخَلَتْ عَلَیْہِ جَارِیَۃٌ لِبَعْضِہِمْ فَہَشَّ لَہَا فَوَقَعَ عَلَیْہَا۔ ثُمَّ ذَکَرَ قِصَّتَہُ قَالَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَأْخُذُوا لَہُ مِائَۃَ شِمْرَاخٍ فَیَضْرِبُوہُ بِہَا ضَرْبَۃً وَاحِدَۃً۔ [صحیح۔ اخرجہ السجستانی ۴۴۷۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৩৭
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو قسم اٹھاتا ہے کہ اپنی لونڈی کو سو کوڑے مارے گا، پھر ان تمام کو جمع کر کے ایک مرتبہ ہی مار دے تو وہ حانث نہ ہوگا
اللہ کا فرمان ہے : { وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِہٖ وَلاَ تَحْنَثْ } [ص ٤٤]” اور اپنے ہاتھ میں ایک چھڑیوں کا گٹھا لے کر ماریں اور قسم
اللہ کا فرمان ہے : { وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِہٖ وَلاَ تَحْنَثْ } [ص ٤٤]” اور اپنے ہاتھ میں ایک چھڑیوں کا گٹھا لے کر ماریں اور قسم
(٢٠٠٣١) اسماعیل بن عبدالملک حضرت عطاء سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا۔ میں بھی موجود تھا۔ اس نے کہا : میں نے اپنے گھر والوں کو وقوف عرفہ تک کپڑے نہ پہنانے کی قسم اٹھائی ہے لیکن یہ حج کے دن نہ تھے تو عطاء فرماتے ہیں : جاؤ اپنے گھر والوں کو کپڑے پہناؤ۔ عطاء (رح) سے کہا گیا : اس نے حج کی نیت کی تھی تو عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ ایوب (علیہ السلام) نے بھی اپنے گھر والوں کو مارنے کی قسم اٹھائی تھی کہ وہ ایک مٹھے سے ماریں گے۔ قرآن میں کئی مثالیں موجود ہیں۔
(۲۰۰۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : جَائَ ہُ رَجُلٌ وَأَنَا عِنْدَہُ فَقَالَ إِنِّی حَلَفْتُ أَنْ لاَ أَکْسُوَ أَہْلِی حَتَّی أَقِفَ بِعَرَفَۃَ وَذَاکَ فِی غَیْرِ أَیَّامِ الْحَجِّ فَقَالَ عَطَاء ٌ : اذْہَبْ فَقِفْ وَاکْسُ أَہْلَکَ فَقِیلَ لِعَطَائٍ إِنَّمَا نَوَی الْحَجَّ فَقَالَ عَطَاء ٌ أَرَأَیْتَ أَیُّوبَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ حِینَ حَلَفَ لَیَضْرِبَنَّ أَہْلَہُ حَلَفَ لَیَضْرِبَنَّہَا بَضِغْثٍ إِنَّمَا الْقُرْآنُ أَمْثَالٌ وَعِبَرٌ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৩৮
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنی قسم کو پورا کرنے کے لیے تھوڑا سا مارنیپر بھی استدلال ہے
(٢٠٠٣٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کے تین بچے فوت ہوگئے صرف قسم کو پورا کرنے کے لیے اس کو آگ چھوئے گی۔
ابو عبید فرماتے ہیں : تحلۃ القسم، یعنی اللہ کا فرمان : { وَ اِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا } [مریم ٧١] ” جہنم سے گزر صرف اس لیے ہے کہ یہ تیرے رب کا حتمی فیصلہ ہے۔ “ فرماتے ہیں : صرف قسم کو پورا کرنے کی خاطر جہنم سے گزارا جائے گا۔ اگر انسان قسم اٹھائے کہ فلاں کام کرے گا لیکن پھر کچھ کرتا ہے کچھ نہیں تو قسم مکمل ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : وہ کام کرلے جس پر وہ نام صادق آتا ہو۔
ابو عبید فرماتے ہیں : تحلۃ القسم، یعنی اللہ کا فرمان : { وَ اِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا } [مریم ٧١] ” جہنم سے گزر صرف اس لیے ہے کہ یہ تیرے رب کا حتمی فیصلہ ہے۔ “ فرماتے ہیں : صرف قسم کو پورا کرنے کی خاطر جہنم سے گزارا جائے گا۔ اگر انسان قسم اٹھائے کہ فلاں کام کرے گا لیکن پھر کچھ کرتا ہے کچھ نہیں تو قسم مکمل ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : وہ کام کرلے جس پر وہ نام صادق آتا ہو۔
(۲۰۰۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یَمُوتُ لأَحَدٍ ثَلاَثَۃٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسُّہُ النَّارُ إِلاَّ تَحِلَّۃَ الْقَسَمِ ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : نُرَی قَوْلَہُ تَحِلَّۃَ الْقَسَمِ یَعْنِی قَوْلَ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی {وَإِنْ مِنْکُمْ إِلاَّ وَارِدُہَا کَانَ عَلَی رَبِّکَ حَتْمًا مَقْضِیًّا} [مریم ۷۱] یَقُولُ فَلاَ یَرِدُہَا إِلاَّ بِقَدْرِ مَا یَبَرُّ اللَّہُ قَسَمَہُ فِیہِ وَفِیہِ أَنَّہُ أَصْلٌ لِلرَّجُلِ یَحْلِفُ لَیَفْعَلَّنَ کَذَا وَکَذَا ثُمَّ یَفْعَلُ مِنْہُ شَیْئًا دُونَ شَیْئٍ یَبَرُّ فِی یَمِینِہِ۔
قَالَ الشَّیْخُ یَعْنِی یَفْعَلُ مَا یَقَعُ عَلَیْہِ الاِسْمُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : نُرَی قَوْلَہُ تَحِلَّۃَ الْقَسَمِ یَعْنِی قَوْلَ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی {وَإِنْ مِنْکُمْ إِلاَّ وَارِدُہَا کَانَ عَلَی رَبِّکَ حَتْمًا مَقْضِیًّا} [مریم ۷۱] یَقُولُ فَلاَ یَرِدُہَا إِلاَّ بِقَدْرِ مَا یَبَرُّ اللَّہُ قَسَمَہُ فِیہِ وَفِیہِ أَنَّہُ أَصْلٌ لِلرَّجُلِ یَحْلِفُ لَیَفْعَلَّنَ کَذَا وَکَذَا ثُمَّ یَفْعَلُ مِنْہُ شَیْئًا دُونَ شَیْئٍ یَبَرُّ فِی یَمِینِہِ۔
قَالَ الشَّیْخُ یَعْنِی یَفْعَلُ مَا یَقَعُ عَلَیْہِ الاِسْمُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৩৯
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ اور بندے کے درمیان تعلق میں قسم اٹھاتے ہوئے تاویل کرنا
(٢٠٠٣٣) حضرت سوید بن حنظلہ فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ ہمارے ساتھ وائل بن حجر بھی تھے۔ ان کا ایسی قوم سے ٹکراؤ ہوا جو ان کی دشمن تھی۔ لوگوں نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا۔ میں نے آگے بڑھ کر قسم کھائی کہ وہ میرا بھائی ہے۔ جب ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیتو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! لوگوں نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا ہے، لیکن میں نے قسم کھائی کہ وہ میرے بھائی ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے سچ کہا : کیونکہ مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہوتا ہے۔
(۲۰۰۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْہَاشِمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ أَظُنُّہُ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ جَدَّتِہِ عَنْ أَبِیہَا سُوَیْدِ بْنِ حَنْظَلَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ فَلَقِیَہُ قَوْمٌ ہُمْ لَہُ عَدُوٌّ فَأَبَی الْقَوْمُ أَنْ یَحْلِفُوا وَتَقَدَّمْتُ فَحَلَفْتُ أَنَّہُ أَخِی فَلَمَّا أَتَیْنَا النَّبِیَّ -ﷺ- قُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ الْقَوْمَ أَبَوْا أَنْ یَحْلِفُوا وَتَقَدَّمْتُ فَحَلَفْتُ أَنَّہُ أَخِی قَالَ : صَدَقْتَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ۔
لَفْظُ حَدِیثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ وَحَدِیثُ الزُّبَیْرِیُّ بِمَعْنَاہُ مُخْتَصَرٌ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ جَدَّتِہِ عَنْ أَبِیہَا سُوَیْدِ بْنِ حَنْظَلَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ فَلَقِیَہُ قَوْمٌ ہُمْ لَہُ عَدُوٌّ فَأَبَی الْقَوْمُ أَنْ یَحْلِفُوا وَتَقَدَّمْتُ فَحَلَفْتُ أَنَّہُ أَخِی فَلَمَّا أَتَیْنَا النَّبِیَّ -ﷺ- قُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ الْقَوْمَ أَبَوْا أَنْ یَحْلِفُوا وَتَقَدَّمْتُ فَحَلَفْتُ أَنَّہُ أَخِی قَالَ : صَدَقْتَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ۔
لَفْظُ حَدِیثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ وَحَدِیثُ الزُّبَیْرِیُّ بِمَعْنَاہُ مُخْتَصَرٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৪০
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلوں میں قسم لینے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا
(٢٠٠٣٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ قسم معتبر ہے جس کی تصدیق قسم لینے والا کرے۔
(۲۰۰۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَنْبَأَنَا ہُشَیْمٌ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی صَالِحٍ أَخُو سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَمِینُکَ عَلَی مَا یُصَدِّقُکَ بِہِ صَاحِبِکَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَعَمْرٍو النَّاقِدِ۔ [ضعیف]
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی صَالِحٍ أَخُو سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَمِینُکَ عَلَی مَا یُصَدِّقُکَ بِہِ صَاحِبِکَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَعَمْرٍو النَّاقِدِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৪১
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلوں میں قسم لینے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا
(٢٠٠٣٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم وہ معتبر ہے جو قسم لینے والے کی نیت کے موافق ہو۔
(۲۰۰۳۵) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُوالنَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ عَنْ ہُشَیْمٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: إِنَّمَا الْیَمِینُ عَلَی نِیَّۃِ الْمُسْتَحْلِفِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৪২
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنا مال صدقہ کرنے یا اللہ کے راستہ میں یا کعبہ کی تعمیر میں لگانے کا کہا، یہ بھی قسم کے معنوں میں ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
(٢٠٠٣٦) منصور بن عبدالرحمن جو بنو عبددار سے ہیں، اپنی والدہ صفیہ سے نقل فرماتے ہیں، جنہوں نے حضرت عائشہ (رض) سے سنا، ایک انسان کے متعلق سوال ہوا جو کہتا ہے کہ میرا مال اللہ کے راستہ میں یا تمام مال کعبہ کی تعمیر میں ہے، اس کا کیا کفارہ ہے ؟ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : اس کا کفارہ قسم والا ہی ہے۔
(۲۰۰۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَنْبَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنْبَأَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَنْبَأَنَا یَحْیَی یَعْنِی ابْنَ سَعِیدٍ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عَبْدِ الدَّارِ عَنْ أُمِّہِ صَفِیَّۃَ أَنَّہَا سَمِعَتْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَإِنْسَانٌ یَسْأَلُہَا عَنِ الَّذِی یَقُولُ کُلُّ مَالٍ لَہُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَوْ کُلُّ مَالٍ لَہُ فِی رِتَاجِ الْکَعْبَۃِ مَا یُکَفِّرُ ذَلِکَ قَالَتْ عَائِشَۃُ : یُکَفِّرُہُ مَا یُکَفِّرُ الْیَمِینَ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৪৩
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنا مال صدقہ کرنے یا اللہ کے راستہ میں یا کعبہ کی تعمیر میں لگانے کا کہا، یہ بھی قسم کے معنوں میں ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
(٢٠٠٣٧) منصور بن عبدالرحمن اپنی والدہ صفیہ بنت شیبہ سے نقل فرماتے ہیں، جو حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتی ہیں کہ ایک آدمی یا عورت نے ان سے سوال کیا جو ان کے قرابت والوں کے درمیان تھی۔ اس نے قسم اٹھائی کہ اگر ان سے بات کی تو اس کا مال کعبہ کی تعمیر میں لگا دیا جائے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ قسم کا کفارہ دینے پڑے گا۔
(۲۰۰۳۷) وَرَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّہِ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّ رَجُلاً أَوِ امْرَأَۃً سَأَلَتْہَا عَنْ شَیْئٍ کَانَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ ذِی قَرَابَۃٍ لَہَا فَحَلِفَتْ إِنْ کَلَّمَتْہُ فَمَالُہَا فِی رِتَاجِ الْکَعْبَۃِ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا یُکَفِّرُہُ مَا یُکَفِّرُ الْیَمِینَ
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ۔ [حسن۔ تقدم قبلہ]
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ۔ [حسن۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৪৪
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنا مال صدقہ کرنے یا اللہ کے راستہ میں یا کعبہ کی تعمیر میں لگانے کا کہا، یہ بھی قسم کے معنوں میں ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
(٢٠٠٣٨) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ دو انصاری بھائیوں کی میراث تھی۔ ایک نے تقسیم کا مطالبہ کردیا تو دوسرا کہنے لگا : اگر آئندہ سوال کیا تو کلام بھی نہ کروں گا اور تمام مال تعمیرِ کعبہ میں لگا دوں گا۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : کعبہ تیرے مال سے غنی ہے۔ اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے کلام کر۔ فرماتے ہیں : تیری قسم نہیں، اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، قطع رحمی اور جس کا تو مالک نہیں اس میں قسم کا اعتبار نہیں ہے۔
(۲۰۰۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا أَبُو شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا حَبِیبٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ أَخْوَیْنِ مِنَ الأَنْصَارِ کَانَ بَیْنَہُمَا مِیرَاثٌ فَسَأَلَ أَحَدُہُمَا صَاحِبَہُ الْقِسْمَۃَ فَقَالَ لَئِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِی الْقِسْمَۃَ لَمْ أُکَلِّمْکَ أَبَدًا وَکُلُّ مَالٍ لِی فِی رِتَاجِ الْکَعْبَۃِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّ الْکَعْبَۃَ لَغَنِیَّۃٌ عَنْ مَالِکَ کَفِّرْ عَنْ یَمِینِکَ وَکَلِّمَ أَخَاکَ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ یَمِینَ عَلَیْکَ وَلاَ نَذْرَ فِی مَعْصِیَۃِ الرَّبِّ وَلاَ فِی قَطِیعَۃِ الرَّحِمِ وَلاَ فِیمَا لاَ تَمْلِکُ ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৪৫
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنا مال صدقہ کرنے یا اللہ کے راستہ میں یا کعبہ کی تعمیر میں لگانے کا کہا، یہ بھی قسم کے معنوں میں ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
(٢٠٠٣٩) عبدالرحمن بن ابو رافع اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کی چچا کی بیٹی کے غلام تھے۔ اس نے قسم کھائی کہ اس کا مال مساکین میں صدقہ ہے تو ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ تو اپنی قسم کا کفارہ دے۔
(۲۰۰۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَنْبَأَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ أَنْبَأَنَا إِیَاسُ بْنُ أَبِی تَمِیمَۃَ أَبُو مَخْلَدٍ صَاحِبُ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ کَانَ مَمْلُوکًا لاِبْنَۃِ عَمِّ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَحَلَفَتْ أَنَّ مَالَہَا فِی الْمَسَاکِینِ صَدَقَۃٌ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : کَفِّرِی یَمِینَکِ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৪৬
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنا مال صدقہ کرنے یا اللہ کے راستہ میں یا کعبہ کی تعمیر میں لگانے کا کہا، یہ بھی قسم کے معنوں میں ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
(٢٠٠٤٠) ابورافع حضرت ابن عمر، حضرت عائشہ اور ام سلمہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
(۲۰۰۴۰) قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنِی مَحْمُودٌ عَنِ النَّضْرِ أَنْبَأَنَا أَشْعَثُ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَۃَ وَأُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالُوا : تُکَفِّرُ یَمِینَہَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৪৭
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنا مال صدقہ کرنے یا اللہ کے راستہ میں یا کعبہ کی تعمیر میں لگانے کا کہا، یہ بھی قسم کے معنوں میں ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
(٢٠٠٤١) بکر بن عبداللہ حضرت ابو رافع سے اس طرح نقل فرماتے ہیں۔
(۲۰۰۴۱) قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنْ زَیْنَبَ امْرَأَۃٍ مِنَ الْمُہَاجِرَاتِ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ وَحَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ نَحْوَہُ۔وَعَنْ حَمَّادٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِی رَافِعٍ نَحْوَہُ وَعَنْ حَمَّادٍ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی رَافِعٍ نَحْوَہُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৪৮
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنا مال صدقہ کرنے یا اللہ کے راستہ میں یا کعبہ کی تعمیر میں لگانے کا کہا، یہ بھی قسم کے معنوں میں ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
(٢٠٠٤٢) بکر بن عبداللہ مزنی حضرت ابو رافع سے نقل فرماتے ہیں کہ اس کے اور ایک عورت کے درمیان اختلاف تھا تو ان کی لونڈی نے قسم اٹھالی۔
(ب) بکر بن عبداللہ حزنی سیدنا ابورافع سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی لونڈی تھی۔ اس نے ارادہ کیا کہ اس کے اور بیوی کے درمیان جدائی ہوجائے۔ کہنے لگی : یہ ایک دن یہودی اور ایک دن عیسائی ہوتی ہے اور اس کے تمام غلام آزاد ہیں اور تمام مال اللہ کے راستہ میں ہے اور اس کے ذمہ پیدل چل کر بیت اللہ کا حج بھی ہے، اگر ان کے درمیان تفریق نہ ہو۔ اس نے حضرت عائشہ، ابن عمر، ابن عباس، حفصہ، ام سلمہ (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : کیا تمہارا ارادہ ہے کہ تم مجھے ہاروت وماروت کی طرح بنادو ۔ انھوں نے اس کو حکم دیا کہ اپنی قسم کا کفارہ دو اور ان کا راستہ صاف کر دو ۔
(ب) بکر بن عبداللہ حزنی سیدنا ابورافع سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی لونڈی تھی۔ اس نے ارادہ کیا کہ اس کے اور بیوی کے درمیان جدائی ہوجائے۔ کہنے لگی : یہ ایک دن یہودی اور ایک دن عیسائی ہوتی ہے اور اس کے تمام غلام آزاد ہیں اور تمام مال اللہ کے راستہ میں ہے اور اس کے ذمہ پیدل چل کر بیت اللہ کا حج بھی ہے، اگر ان کے درمیان تفریق نہ ہو۔ اس نے حضرت عائشہ، ابن عمر، ابن عباس، حفصہ، ام سلمہ (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : کیا تمہارا ارادہ ہے کہ تم مجھے ہاروت وماروت کی طرح بنادو ۔ انھوں نے اس کو حکم دیا کہ اپنی قسم کا کفارہ دو اور ان کا راستہ صاف کر دو ۔
(۲۰۰۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ عَنْ أَبِی رَافِعٍ : أَنَّہُ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ امْرَأَۃٍ لَہُ شَیْء ٌ فَحَلَفَتْ مَوْلاَۃٌ لَہُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالاَ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ عَنْ أَبِی رَافِعٍ أَنَّ مَوْلاَتَہُ أَرَادَتْ أَنْ تُفَرِّقَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ امْرَأَتِہِ فَقَالَتْ ہِیَ یَوْمًا یَہُودِیَّۃٌ وَیَوْمًا نَصْرَانِیَّۃٌ وَکُلُّ مَمْلُوکٍ لَہَا حُرٌّ وَکُلُّ مَالٍ لَہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَعَلَیْہَا الْمَشْیُ إِلَی بَیْتِ اللَّہِ إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَیْنَہُمَا فَسَأَلَتْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ وَحَفْصَۃَ وَأُمَّ سَلَمَۃَ فَکُلُّہُمْ قَالَ لَہَا أَتُرِیدِینَ أَنْ تَکُونِی مِثْلَ ہَارُوتَ وَمَارُوتَ وَأَمَرُوہَا أَنْ تُکَفِّرَ یَمِینَہَا وَتُخَلِّیَ بَیْنَہُمَا۔
لَفْظُ حَدِیثِ الأَنْصَارِیِّ وَحَدِیثُ رَوْحٍ مُخْتَصَرٌ وَلَمْ یَذْکُرْ حَفْصَۃَ۔ [صحیح]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالاَ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ عَنْ أَبِی رَافِعٍ أَنَّ مَوْلاَتَہُ أَرَادَتْ أَنْ تُفَرِّقَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ امْرَأَتِہِ فَقَالَتْ ہِیَ یَوْمًا یَہُودِیَّۃٌ وَیَوْمًا نَصْرَانِیَّۃٌ وَکُلُّ مَمْلُوکٍ لَہَا حُرٌّ وَکُلُّ مَالٍ لَہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَعَلَیْہَا الْمَشْیُ إِلَی بَیْتِ اللَّہِ إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَیْنَہُمَا فَسَأَلَتْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ وَحَفْصَۃَ وَأُمَّ سَلَمَۃَ فَکُلُّہُمْ قَالَ لَہَا أَتُرِیدِینَ أَنْ تَکُونِی مِثْلَ ہَارُوتَ وَمَارُوتَ وَأَمَرُوہَا أَنْ تُکَفِّرَ یَمِینَہَا وَتُخَلِّیَ بَیْنَہُمَا۔
لَفْظُ حَدِیثِ الأَنْصَارِیِّ وَحَدِیثُ رَوْحٍ مُخْتَصَرٌ وَلَمْ یَذْکُرْ حَفْصَۃَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৪৯
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنا مال صدقہ کرنے یا اللہ کے راستہ میں یا کعبہ کی تعمیر میں لگانے کا کہا، یہ بھی قسم کے معنوں میں ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
(٢٠٠٤٣) بکر بن عبداللہ مزنی حضرت ابو رافع سے نقل فرماتے ہیں کہ میری لونڈی نے کہا : میں تیرے اور تیری بیوی کے درمیان ضرور تفریق کرواؤں گی۔ اس کا تمام مال کعبہ کی تعمیر کے لیے اور یہ یہودیہ، عیسائی، مجوسیہ ہو اگر تیرے اور تیری بیوی کے درمیان جدائی نہ ہو۔ کہتے ہیں : میں ام سلمہ (رض) کے پاس گیا۔ میں نے کہا : میری لونڈی ہمارے درمیان جدائی چاہتی ہے تو فرمانے لگی : جاؤ اس سے کہو، تیرے لیے یہ جائز نہیں ہے میں واپس پلٹ کر آیا۔ کہتے ہیں : پھر میں واپس پلٹ کر ابن عمر (رض) کے پاس آیا ان کو خبر دی وہ دروازے تک آئے اور فرمانے لگے : کیا یہاں ہاروت وماروت ہیں۔ کہنے لگی : میں نے اپنا تمام مال کعبہ کی تعمیر میں لگا دیا۔ فرماتے ہیں تم کیا کھاؤ گی۔ ، کہتی ہے : میں یہودیہ یا عیسائیہیامجوسیہ ہوئی۔ فرمانے لگے : اگر تو یہودیہ، عسائیہ، مجوسیہ ہوئی تو قتل کردی جائے گی تو وہ عورت کہنے لگی : پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا : اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے غلاموں اور لونڈیوں کو جمع کر۔
(۲۰۰۴۳) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو ہِلاَلٍ حَدَّثَنَا غَالِبٌ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ عَنْ أَبِی رَافِعٍ قَالَ قَالَتْ مَوْلاَتِی : لأَفُرِّقَنَّ بَیْنَکَ وَبَیْنَ امْرَأَتِکَ وَکُلُّ مَالٍ لَہَا فِی رِتَاجِ الْکَعْبَۃِ وَہِیَ یَوْمًا یَہُودِیَّۃٌ وَیَوْمًا نَصْرَانِیَّۃٌ وَیَوْمًا مَجُوسِیَّۃٌ إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَیْنَکَ وَبَیْنَ امْرَأَتِکَ قَالَ فَانْطَلَقْتُ إِلَی أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقُلْتُ إِنَّ مَوْلاَتِی تُرِیدُ أَنْ تُفَرِّقَ بَیْنِی وَبَیْنَ امْرَأَتِی فَقَالَتِ : انْطَلِقْ إِلَی مَوْلاَتِکَ فَقُلْ لَہَا إِنَّ ہَذَا لاَ یَحِلُّ لَکِ فَرَجَعْتُ إِلَیْہَا قَالَ ثُمَّ أَتَیْتُ ابْنَ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُہُ فَجَائَ حَتَّی انْتَہَی إِلَی الْبَابِ فَقَالَ ہَا ہُنَا ہَارُوتُ وَمَارُوتُ فَقَالَتْ إِنِّی جَعَلْتُ کُلَّ مَالٍ لِی فِی رِتَاجِ الْکَعْبَۃِ قَالَ فَمَا تَأْکُلِینَ قَالَتْ وَقُلْتُ وَأَنَا یَوْمًا یَہُودِیَّۃٌ وَیَوْمًا نَصْرَانِیَّۃٌ وَیَوْمًا مَجُوسِیَّۃٌ فَقَالَ إِنْ تَہَوَّدْتِ قُتِلْتِ وَإِنْ تَنَصَّرْتِ قُتِلْتِ وَإِنْ تَمَجَّسْتِ قُتِلْتِ فَقَالَتْ فَمَا تَأْمُرُنِی قَالَ تُکَفِّرِی یَمِینَکِ وَتَجْمَعِی بَیْنَ فَتَاکِ وَفَتَاتَکِ۔
[صحیح تقدم]
[صحیح تقدم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৫০
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنا مال صدقہ کرنے یا اللہ کے راستہ میں یا کعبہ کی تعمیر میں لگانے کا کہا، یہ بھی قسم کے معنوں میں ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
(٢٠٠٤٤) بکر بن عبداللہ مزنی حضرت ابورافع سے نقل فرماتے ہیں کہ لیلیٰ بنت عجما اس کی لونڈی تھی۔ کہنے لگی : یہ یہودیہ اور عیسائیہ ہے۔ اس کے تمام غلام آزاد ہیں اور اس کا تمام مال صدقہ ہے۔ اگر اس نے اپنی بیوی کو طلاق نہ دی اور ان دونوں کے درمیان تفریق نہ ہوئی۔ زینب آئی تو یہ اس کے ساتھ چلی۔ کہتی ہیں : کیا یہاں ہاروت و ماروت ہیں ؟ کہتی ہیں : اللہ جانتا ہے جو میں نے کہا : میرا تمام مال صدقہ ہے اور تمام غلام آزاد ہیں اور یہ یہودیہ یا عیسائیہ ہے۔ فرماتی ہیں کہ تم مرد اور عورت کا راستہ صاف کر دو ۔ میں ابن عمر (رض) کے پاس آیا۔ وہ میرے ساتھ آئے اور دروازے پر کھڑے ہوگئے۔ جب اس نے سلام کہا تو کہنے لگی : میرے اور تیرے باپ کی قسم ! ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : کیا تو پتھر یا لوہے سے ہے ؟ حفصہ نے تیرے پاس زینب کو روانہ کیا تھا۔ کہتی ہیں : میں نے فلاں فلاں قسم کھائی ہے۔ کہنے لگے : اپنی قسم کا کفارہ دے اور مرد اور عورت کا راستہ چھوڑ دے۔
شیخ فرماتے ہیں : یہ گردن کی آزادی کے علاوہ ہے، ابن عمر (رض) سے دوسری سند سے ہے کہ آزادی بھی واقع ہوجاتی ہے اور اس طرح ابن عباس (رض) سے بھی منقول ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : یہ گردن کی آزادی کے علاوہ ہے، ابن عمر (رض) سے دوسری سند سے ہے کہ آزادی بھی واقع ہوجاتی ہے اور اس طرح ابن عباس (رض) سے بھی منقول ہے۔
(۲۰۰۴۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا أَنْبَأَنَا زَاہِرُ بْنُ أَحْمَدَ السَّرْخَسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ زِیَادٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی رَافِعٍ : أَنَّ لَیْلَی بِنْتَ الْعَجْمَائِ مَوْلاَتَہُ قَالَتْ ہِیَ یَہُودِیَّۃٌ وَہِیَ نَصْرَانِیَّۃٌ وَکُلُّ مَمْلُوکٍ لَہَا مُحَرَّرٌ وَکُلُّ مَالٍ لَہَا ہَدْیٌ إِنْ لَمْ یُطَلِّقِ امْرَأَتَہُ إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَیْنَہُمَا فَأَتَی زَیْنَبَ فَانْطَلَقَتْ مَعَہُ فَقَالَتْ ہَا ہُنَا ہَارُوتُ وَمَارُوتُ قَالَتْ قَدْ عَلِمَ اللَّہُ مَا قُلْتُ کُلُّ مَالٍ لِی ہَدْیٌ وَکُلُّ مَمْلُوکٍ لِی مُحَرَّرٌ وَہِیَ یَہُودِیَّۃٌ وَہِیَ نَصْرَانِیَّۃٌ قَالَتْ خَلِّی بَیْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِہِ قَالَ فَأَتَیْتُ حَفْصَۃَ فَأَرْسَلْتُ إِلَیْہَا کَمَا قَالَتْ زَیْنَبُ قَالَتْ خَلِّی بَیْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِہِ فَأَتَیْتُ ابْنَ عُمَرَ فَجَائَ مَعِی فَقَامَ بِالْبَابِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَتْ بِأَبِی أَنْتَ وَأَبُوکَ قَالَ أَمِنْ حِجَارَۃٍ أَنْتِ أَمْ مِنْ حَدِیدٍ أَتَتْکِ زَیْنَبُ وَأَرْسَلَتْ إِلَیْکِ حَفْصَۃُ قَالَتْ قَدْ حَلَفْتُ بِکَذَا أَوْ کَذَا قَالَ کَفِّرِی عَنْ یَمِینِکِ وَخَلِّی بَیْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِہِ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا فِی غَیْرِ الْعِتْقِ فَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مِنْ وَجْہٍ آخَرَ أَنَّ الْعَتَاقَ یَقَعُ وَکَذَلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَکَأَنَّ الرَّاوِیَ قَصَّرَ بِنَقْلِہِ فِی رِوَایَۃِ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَوْ لَمْ یَکُنْ لَہَا فِی الْوَقْتِ مَمْلُوکٌ فَلَمْ یَتَعَرَّضُوا لَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا فِی غَیْرِ الْعِتْقِ فَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مِنْ وَجْہٍ آخَرَ أَنَّ الْعَتَاقَ یَقَعُ وَکَذَلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَکَأَنَّ الرَّاوِیَ قَصَّرَ بِنَقْلِہِ فِی رِوَایَۃِ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَوْ لَمْ یَکُنْ لَہَا فِی الْوَقْتِ مَمْلُوکٌ فَلَمْ یَتَعَرَّضُوا لَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৫১
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنا مال صدقہ کرنے یا اللہ کے راستہ میں یا کعبہ کی تعمیر میں لگانے کا کہا، یہ بھی قسم کے معنوں میں ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
(٢٠٠٤٥) مجاہد حضرت عمر اور حضرت عائشہرضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : آدمی پیدل چل کر حج کرنے کی قسم اٹھاتا ہے یا یہ کہ اس کا مال مسکینوں میں صدقہ ہے یا کعبہ کی تعمیر میں ہے تو یہ قسم ہے۔ اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔
(۲۰۰۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ خُشْکُنَانَۃُ الْبَلْخِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ مُوسَی الْخَتِّیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ حَدَّثَنَا حَبِیبٌ عَنِ الْعَوَّامِ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی الرَّجُلِ یَحْلِفُ بِالْمَشْیِ أَوْ مَالُہُ فِی الْمَسَاکِینِ أَوْ فِی رِتَاجِ الْکَعْبَۃِ أَنَّہَا یَمِینٌ یُکَفِّرُہَا إِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِینَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৫২
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنا مال صدقہ کرنے یا اللہ کے راستہ میں یا کعبہ کی تعمیر میں لگانے کا کہا، یہ بھی قسم کے معنوں میں ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم کفایت کر جائے گا۔ یہ قول گردن کی آزادی یا طلاق کے علاوہ میں ہے۔ یہ مذہب حضرت عائشہ (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) کا ہے۔
(٢٠٠٤٦) ربیع امام شافعی سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا : پیدل چل کر حج کرنے کے بارے میں۔ لیکن قسم پوری نہ کرسکا تو وہ قسم کا کفارہ دے ؟ تو آدمی کہنے لگا : اے ابوعبداللہ ! آپ یہ کہتے ہیں ؟ فرمانے لگے : یہ اس کی بات جو مجھ سے بہتر تھیپوچھا : وہ کون تھے ؟ کہنے لگے : عطاء بن ابی رباح۔
(۲۰۰۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ قَالَ سَمِعْتُ الشَّافِعِیَّ وَسَأَلَہُ رَجُلٌ عَنِ الْمَشْیِ فَحَنِثَ بِالْمَشْیِ إِلَی الْکَعْبَۃِ فَأَفْتَاہُ بِکَفَّارَۃِ یَمِینٍ فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ بِہَذَا تَقُولُ یَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ فَقَالَ ہَذَا قَوْلُ مَنْ ہُوَ خَیْرٌ مِنِّی قَالَ مَنْ ہُوَ قَالَ عَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ۔
তাহকীক: