আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
قسموں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৮০ টি
হাদীস নং: ২০০১৩
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو تین دن کے روزے نہ رکھ سکے تو اس کو اختیار ہے کہ وہ کھانا کھلائے یا کپڑے پہنائے یا گردن آزاد کرے
(٢٠٠٠٧) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ تین دنوں میں ناغے کے ساتھ روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(ب) ابو ولید اور ہیثم کے علاوہ فرماتے ہیں : لوگ اس طرح روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(ب) ابو ولید اور ہیثم کے علاوہ فرماتے ہیں : لوگ اس طرح روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۰۰۰۷) أَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ إِجَازَۃً عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یُفَرِّقَ بَیْنَ الثَّلاَثَۃِ الأَیَّامِ فِی کَفَّارَۃِ الْیَمِینِ۔
قَالَ أَبُو الْوَلِیدِ وَغَیْرُ ہُشَیْمٍ یَقُولُ کَانُوا لاَ یَرَوْنَ بِذَلِکَ بَأْسًا۔ [صحیح]
قَالَ أَبُو الْوَلِیدِ وَغَیْرُ ہُشَیْمٍ یَقُولُ کَانُوا لاَ یَرَوْنَ بِذَلِکَ بَأْسًا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০১৪
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفارے کے روزے مسلسل رکھنے کا بیان
(٢٠٠٠٨) ابوعالیہ حضرت ابی بن کعب سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ پڑھا کرتے تھے : تین دن کے روزے مسلسل رکھنا۔
(۲۰۰۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِیُّ عَنِ الرَّبِیعِ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ کَانَ یَقْرَأُ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০১৫
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفارے کے روزے مسلسل رکھنے کا بیان
(٢٠٠٠٩) حمید بن قیس مکی فرماتے ہیں کہ میں مجاہد کے ساتھ طواف کررہا تھا ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا کہ کیا کفارات کے روزے مسلسل رکھنا ضروری ہے ؟ حمید کہتے ہیں میں نے کہا : نہیں۔ مجاہد نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : ابی کی قراءت میں متابعات کے الفاظ ہیں، یعنی مسلسل رکھے۔
(۲۰۰۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ الْمَکِّیِّ أَنَّہُ قَالَ : کُنْتُ أَطُوفُ مَعَ مُجَاہِدٍ فَجَائَ إِنْسَانٌ یَسْأَلُہُ عَنْ صِیَامِ الْکَفَّارَۃِ أَتَتَابُعٌ قَالَ حُمَیْدٌ فَقُلْتُ لاَ فَضَرَبَ مُجَاہِدٌ فِی صَدْرِی وَقَالَ إِنَّہَا فِی قِرَائَ ۃِ أُبَیٍّ مُتَتَابِعَاتٍ۔ [حسن]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ الْمَکِّیِّ أَنَّہُ قَالَ : کُنْتُ أَطُوفُ مَعَ مُجَاہِدٍ فَجَائَ إِنْسَانٌ یَسْأَلُہُ عَنْ صِیَامِ الْکَفَّارَۃِ أَتَتَابُعٌ قَالَ حُمَیْدٌ فَقُلْتُ لاَ فَضَرَبَ مُجَاہِدٌ فِی صَدْرِی وَقَالَ إِنَّہَا فِی قِرَائَ ۃِ أُبَیٍّ مُتَتَابِعَاتٍ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০১৬
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفارے کے روزے مسلسل رکھنے کا بیان
(٢٠٠١٠) ابن ابی بخیح عطاء یا طاؤس سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر وہ چاہے تو تین دن کے مسلسل روزے نہ رکھے۔ مجاہد فرماتے ہیں کہ عبداللہ کی قرات میں متتابعۃ کے الفاظ ہیں یعنی مسلسل۔
(۲۰۰۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ عَطَائٍ أَوْ طَاوُسٍ قَالَ : إِنْ شَائَ فَرَّقَ فَقَالَ لَہُ مُجَاہِدٌ فِی قِرَائَ ۃِ عَبْدِ اللَّہِ مُتَتَابِعَۃٍ قَالَ فَہِیَ مُتَتَابِعَۃٌ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০১৭
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفارے کے روزے مسلسل رکھنے کا بیان
(٢٠٠١١) حجاج فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کفارہ قسم کے روزوں کے بارے میں سوال کیا فرمایا : اگر وہ چاہے تو وقفہ کرلے۔ میں نے کہا : عبداللہ کی قراءت میں متتابعات کے الفاظ ہیں۔ یہ تب ہے جب ہم کتاب اللہ کی پیروی کریں۔
(۲۰۰۱۱) قَالَ وَحَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنِی حَجَّاجٌ قَالَ سَأَلْتُ عَطَائً عَنِ الصِّیَامِ فِی کَفَّارَۃِ الْیَمِینِ قَالَ إِنْ شَائَ فَرَّقَ قُلْتُ فَإِنَّہَا فِی قِرَائَ ۃِ عَبْدِ اللَّہِ مُتَتَابِعَۃٍ۔ قَالَ : إِذًا نَنْقَادَ لِکِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০১৮
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفارے کے روزے مسلسل رکھنے کا بیان
(٢٠٠١٢) ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہماری قراءت میں کفارہ قسم کے بارے میں آیا ہے کہ تین دن مسلسل روزے رکھنا۔
(ب) ابن مسعود (رض) وہ پڑھا کرتے تھے کہ تین دن کے مسلسل روزے رکھنا۔ یہ تمام عبداللہ بن مسعود کی مراسیل ہیں۔
(ب) ابن مسعود (رض) وہ پڑھا کرتے تھے کہ تین دن کے مسلسل روزے رکھنا۔ یہ تمام عبداللہ بن مسعود کی مراسیل ہیں۔
(۲۰۰۱۲) قَالَ وَحَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ فِی قِرَائَ تِنَا فِی کَفَّارَۃِ الْیَمِینِ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ
قَالَ الشَّیْخُ رِوَایَۃُ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ فِی کِتَابِی عَنْ عَطَائٍ وَہُوَ فِی سَائِرِ الرِّوَایَاتِ عَنْ طَاوُسٍ۔
(ت) وَیُذْکَرُ عَنِ الأَعْمَشِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَقْرَأُ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ وَکُلُّ ذَلِکَ مَرَاسِیلُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
قَالَ الشَّیْخُ رِوَایَۃُ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ فِی کِتَابِی عَنْ عَطَائٍ وَہُوَ فِی سَائِرِ الرِّوَایَاتِ عَنْ طَاوُسٍ۔
(ت) وَیُذْکَرُ عَنِ الأَعْمَشِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَقْرَأُ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ وَکُلُّ ذَلِکَ مَرَاسِیلُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০১৯
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھول کر یا زبردستی جس کی قسم توڑی گئی
” جو مجبور کیا گیا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔ “
” جو مجبور کیا گیا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔ “
(٢٠٠١٣) ابن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے میری امت سے غلطی، نسیان اور جس پر ان کو مجبور کیا گیا معاف کردیا ہے۔
(ب) ابن ربیع کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے مجھے معاف فرما دیا ہے۔
(ب) ابن ربیع کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے مجھے معاف فرما دیا ہے۔
(۲۰۰۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُرَادِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تَجَاوَزَ اللَّہُ عَنْ أُمَّتِی الْخَطَأَ وَالنِّسْیَانَ وَمَا اسْتُکْرِہُوا عَلَیْہِ ۔
وَفِی رِوَایَۃِ الرَّبِیعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : إِنَّ اللَّہَ تَجَاوَزَ لِی۔
کَذَا قَالَ فِی أَحَدِ الْمَوْضِعَیْنِ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنْ بَحْرٍ۔ وَقَدْ مَضَی ذَلِکَ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ السُّوسِیِّ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِیعِ وَہُوَ أَشْہَرُ وَرَوَاہُ جَمَاعَۃٌ مِنَ الْمِصْرِیِّینَ وَغَیْرِہِمْ عَنِ الرَّبِیعِ وَبِہِ یُعْرَفُ وَتَابَعَہُ عَلَی ذَلِکَ الْبُوَیْطِیُّ وَالْحُسَیْنُ بْنُ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَرَوَاہُ الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ فَلَمْ یَذْکُرْ فِی إِسْنَادِہِ عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ۔ [حسن لغیرہ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تَجَاوَزَ اللَّہُ عَنْ أُمَّتِی الْخَطَأَ وَالنِّسْیَانَ وَمَا اسْتُکْرِہُوا عَلَیْہِ ۔
وَفِی رِوَایَۃِ الرَّبِیعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : إِنَّ اللَّہَ تَجَاوَزَ لِی۔
کَذَا قَالَ فِی أَحَدِ الْمَوْضِعَیْنِ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنْ بَحْرٍ۔ وَقَدْ مَضَی ذَلِکَ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ السُّوسِیِّ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِیعِ وَہُوَ أَشْہَرُ وَرَوَاہُ جَمَاعَۃٌ مِنَ الْمِصْرِیِّینَ وَغَیْرِہِمْ عَنِ الرَّبِیعِ وَبِہِ یُعْرَفُ وَتَابَعَہُ عَلَی ذَلِکَ الْبُوَیْطِیُّ وَالْحُسَیْنُ بْنُ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَرَوَاہُ الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ فَلَمْ یَذْکُرْ فِی إِسْنَادِہِ عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ۔ [حسن لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০২০
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھول کر یا زبردستی جس کی قسم توڑی گئی
” جو مجبور کیا گیا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔ “
” جو مجبور کیا گیا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔ “
(٢٠٠١٤) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے میری امت کو جو ان کے دل میں خیال پیدا ہو یا جن پر ان کو مجبور کیا گیا ہو معاف کردیا ہے۔ دل کی بات زبان پر لانے یا عمل کرنے کی وجہ سے پکڑ ہوگی۔
(ب) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : حدیث النفس اور وسوسہ ایک ہی بات ہے اور کلام کرنا یا عمل کرنا اس کا تعلق حدیث النفس سے ہے، مجبور کیے گئے سے نہیں ہے۔
(ب) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : حدیث النفس اور وسوسہ ایک ہی بات ہے اور کلام کرنا یا عمل کرنا اس کا تعلق حدیث النفس سے ہے، مجبور کیے گئے سے نہیں ہے۔
(۲۰۰۱۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ مُسَلَّمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ اللَّہَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِی مَا حَدَّثَتْ بِہِ أَنْفُسَہَا وَمَا أُکْرِہُوا عَلَیْہِ إِلاَّ أَنْ یَتَکَلَّمُوا بِہِ أَوْ یَعْمَلُوا بِہِ ۔ کَذَا قَالَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَالظَّاہِرُ أَنَّ عَطَائً سَمِعَہُ مِنَ الْوَجْہَیْنِ جَمِیعًا وَہُمَا حَدِیثَانِ یُؤَدِّی کُلُّ وَاحِدٌ مِنْہُمَا مَا قُصِدَ بِہِ مِنَ الْمَعْنَی وَفِیہِمَا جَمِیعًا طَرْحُ الإِکْرَاہِ۔
وَقَدْ رَوَاہُ ابْنُ أَبِی أَوْفَی عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَرْفَعُہُ فِی حَدِیثِ النَّفْسِ وَالْوَسْوَسَۃِ بِمَعْنَاہُ
وَقَوْلُہُ إِلاَّ أَنْ یَتَکَلَّمُوا بِہِ أَوْ یَعْمَلُوا بِہِ ۔ یَرْجِعُ إِلَی حَدِیثِ النَّفْسِ دُونَ الإِکْرَاہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
وَقَدْ رَوَاہُ ابْنُ أَبِی أَوْفَی عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَرْفَعُہُ فِی حَدِیثِ النَّفْسِ وَالْوَسْوَسَۃِ بِمَعْنَاہُ
وَقَوْلُہُ إِلاَّ أَنْ یَتَکَلَّمُوا بِہِ أَوْ یَعْمَلُوا بِہِ ۔ یَرْجِعُ إِلَی حَدِیثِ النَّفْسِ دُونَ الإِکْرَاہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০২১
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھول کر یا زبردستی جس کی قسم توڑی گئی
” جو مجبور کیا گیا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔ “
” جو مجبور کیا گیا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔ “
(٢٠٠١٥) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : طلاق اور آزادی مجبوری میں نہیں ہوتی۔
(۲۰۰۱۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْکَرِیمِ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا عَمِّی حَدَّثَنِی أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیدَ الْحِمْصِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : لاَ طَلاَقَ وَلاَ عَتَاقَ فِی إِغْلاَقٍ ۔
رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ سَعْدٍ۔ [ضعیف۔ تقدم برقم ۷/ ۱۵۰۹۷]
رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ سَعْدٍ۔ [ضعیف۔ تقدم برقم ۷/ ۱۵۰۹۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০২২
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے قسم اٹھائی کہ وہ اپنا ایک وقت یا ایک زمانہ تک پورا کرے گا اس سے استدلال کیا ہے کہ یہ وقت مقرر نہیں ہے
(٢٠٠١٦) محمد بن عبداللہ بن حنین اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے حضرت علی سے سنا، فرماتے ہیں کہ وقت چھ ماہ کی مدت ہے۔
(۲۰۰۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَنْبَأَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ سَمِعَ مُحَمَّدَ بنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حُنَیْنٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ سَمِعَ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : الْحِینُ سِتَّۃُ أَشْہُرٍ۔
[ضعیف۔ اخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر ۴۱۱]
[ضعیف۔ اخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر ۴۱۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০২৩
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے قسم اٹھائی کہ وہ اپنا ایک وقت یا ایک زمانہ تک پورا کرے گا اس سے استدلال کیا ہے کہ یہ وقت مقرر نہیں ہے
(٢٠٠١٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ وقت کبھی صبح یا شام کا ہوتا ہے۔
(۲۰۰۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : الْحِینُ قَدْ یَکُونُ غَدْوَۃً وَعَشِیَّۃً۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০২৪
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے قسم اٹھائی کہ وہ اپنا ایک وقت یا ایک زمانہ تک پورا کرے گا اس سے استدلال کیا ہے کہ یہ وقت مقرر نہیں ہے
(٢٠٠١٨) ابراہیم بن میسرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن مسیب سے سوال کیا کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ ” ایک یا حین “ تک میں آدمی سے کلام نہ کروں گا ؟ فرمایا : اللہ کا فرمان ہے : { تُؤْتِیْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّھَا } [إبراہیم ٢٥] ” ہر سال وہ اپنے رب کے حکم سے پھل لاتا ہے۔ “ فرماتے ہیں : یہ کھجور ہے کہ اس کا پھل لاتا ہے۔ فرماتے ہیں : یہ کھجور ہے کہ اس کا پھل ایک یا دو مہینے تک اٹھاتے تھے۔ ہمارے خیال میں حین سے مراد دو مہینے ہیں۔
(۲۰۰۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ ابْنَ الْمُسَیَّبِ قَالَ إِنِّی حَلَفْتُ أَنْ لاَ أُکَلِّمَ رَجُلاً حِینًا قَالَ {تُؤْتِی أُکُلَہَا کُلَّ حِینٍ بِإِذْنِ رَبِّہَا} [إبراہیم ۲۵] قَالَ ہِیَ النَّخْلَۃُ یَکُونُ فِیہَا حَمْلُہَا شَہْرًا وَشَہْرَیْنِ فَنَرَی الْحِینَ شَہْرَیْنِ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০২৫
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے قسم اٹھائی کہ وہ اپنا ایک وقت یا ایک زمانہ تک پورا کرے گا اس سے استدلال کیا ہے کہ یہ وقت مقرر نہیں ہے
(٢٠٠١٩) عکرمہ فرماتے ہیں کہ حین سے مراد چھ ماہ ہیں۔
(۲۰۰۱۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْمِنْہَالِ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : الْحِینُ سِتَّۃُ أَشْہُرٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০২৬
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے قسم اٹھائی کہ وہ اپنا ایک وقت یا ایک زمانہ تک پورا کرے گا اس سے استدلال کیا ہے کہ یہ وقت مقرر نہیں ہے
(٢٠٠٢٠) عکرمہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے مجھے روانہ کیا کہ ایک وقت تک میں یہ نہ کروں گا تو ” حین “ سے مراد کیا ہے جس کو وہ پا نہ سکیں ؟ تو انھوں نے پڑھا :{ ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ } [الإنسان ١] ” کوئی نہیں جانتا کتنی مدت گزر گئی، جب سے اللہ نے اس کو پیدا کیا ہے۔ لیکن وہ لفظ حین جو اللہ کے اس فرمان میں موجود ہے “ { تُؤْتِیْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ } [إبراہیم ٢٥] اس سے مراد پھل آنے سے لے کر پھل توڑنے کی مدت درمیانی حصہ ہے۔
(۲۰۰۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْغَسِیلِ أَخْبَرَنِی عِکْرِمَۃُ قَالَ : أَرْسَلَ إِلَیَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَقَالَ إِنِّی حَلَفْتُ أَنْ لاَ أَصْنَعَ حِینًا کَذَا وَکَذَا فَمَا الْحِینُ الَّذِی لاَ یُدْرَکُ قَالَ فَقَرَأَ {ہَلْ أَتَی عَلَی الإِنْسَانِ حِینٌ مِنَ الدَّہْرِ} [الإنسان ۱] مَا یَدْرِی کَمْ أَتَی مُنْذُ خَلَقَہُ اللَّہُ وَأَمَّا الْحِینُ الَّذِی یُدْرَکُ قَوْلُ اللَّہِ تَعَالَی {تُؤْتِی أُکُلَہَا کُلَّ حِینٍ} [إبراہیم ۲۵] مَا بَیْنَ صِرَامِ النَّخْلِ إِلَی ثَمَرِہَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০২৭
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے قسم اٹھائی کہ وہ اپنا ایک وقت یا ایک زمانہ تک پورا کرے گا اس سے استدلال کیا ہے کہ یہ وقت مقرر نہیں ہے
(٢٠٠٢١) حضرت قتادہ (رض) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : { وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَاَہٗ بَعْدَ حِیْنٍ } [صٓ ٨٨] ” تم ضرور ایک وقت کے بعد اس کی خبر جان لو گی کے متعلق “ فرماتے ہیں : یعنی موت کے بعد { وَفِی ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَہُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰی حِیْنٍ } [الذاریات ٤٣] ” اور قوم ثمود کے بارے میں جب ان سے کہا گیا کہ تم ایک وقت تک فائدہ اٹھاؤ۔ “ یعنی تین دن تک { تُؤْتِیْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ } [إبراہیم ٢٥] فرماتے ہیں : ہر ساتوے مہینے۔ ربیعہ بن عبدالرحمن سے منقول ہے، فرماتے ہیں : حین سے مراد ایک سال ہے۔
(۲۰۰۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَنْبَأَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَہُ بَعْدَ حِینٍ} [صٓ ۸۸] قَالَ بَعْدَ الْمَوْتِ {وَفِی ثَمُودَ إِذْ قِیلَ لَہُمْ تَمَتَّعُوا حَتَّی حِینٍ} [الذاریات ۴۳] قَالَ ثَلاَثَۃُ أَیَّامٍ وَفِی قَوْلِہِ {تُؤْتِی أُکُلَہَا کُلَّ حِینٍ} [إبراہیم ۲۵] قَالَ کُلَّ سَبْعَۃِ أَشْہُرٍ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُ قَالَ : الْحِینُ سَنَۃٌ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০২৮
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے قسم اٹھائی کہ وہ اپنا ایک وقت یا ایک زمانہ تک پورا کرے گا اس سے استدلال کیا ہے کہ یہ وقت مقرر نہیں ہے
(٢٠٠٢٢) ابوحفص یزید بن کیسان فرماتے ہیں کہ طاؤس سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے قسم اٹھائی کہ وہ ایک آدمی سے ایک وقت تک کلام نہ کرے گا، اس وقت میں بھی موجود تھا۔ فرماتے ہیں : زمان سے مراد دو یا تین ماہ ہیں، جب وقت کی تعین نہ ہو۔ ان کا حین کے بارے میں اختلاف ہے اور حین کے معنی میں بھی مختلف جگہوں میں اختلاف ہے، لیکن لفظ حین کے مطلق استعمال پر تعین نہیں ہے۔ ایسے ہی لفظ زمانہ بھی ہے۔
(۲۰۰۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ یَزِیدُ بْنُ کَیْسَانَ : سُئِلَ طَاوُسٌ وَأَنَا عِنْدَہُ عَنْ رَجُلٍ حَلَفَ أَنْ لاَ یُکَلِّمَ رَجُلاً زَمَانًا قَالَ الزَّمَانُ شَہْرَیْنِ أَوْ ثَلاَثَۃٌ مَا لَمْ یُوَقِّتْ أَجَلاً۔ اخْتِلاَفُہُمْ فِی حِینٍ وَاخْتِلاَفُ مَعْنَی الْحِینِ فِی مَوَاضِعِہِ دَلِیلٌ عَلَی أَنْ لَیْسَ لِلْحِینِ غَایَۃٌ عِنْدَ الإِطْلاَقِ وَکَذَلِکَ الزَّمَانُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০২৯
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو قسم توڑنے کے قریب پہنچ جائے اس کو حانث شمار نہیں کرتے
(٢٠٠٢٣) ابن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسجد سے نکلنے سے پہلے میں تجھے ایسی سورة یا آیت بتاؤں گا جو نبی سلیمان کے بعد میرے علاوہ کسی پر نہیں اتری۔ کہتے ہیں : آپ چلے، میں بھی آپ کے پیچھے تھا۔ آپ مسجد کے دروازے پر پہنچ گئے۔ کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ایک پاؤں دہلیز سے باہر نکالا اور دوسرا مسجد میں تھا۔ میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور میرے درمیان یہ بات ہوتی تھی، آپ بھول گئے۔ آپ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : جب نماز شروع کرتے ہو تو قرآن کے کس حصہ کی تلاوت کرتے ہو ؟ میں نے کہا : { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } [الفاتحہ ١] سے۔ آپ نے فرمایا : ہاں یہی ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے۔
(۲۰۰۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ ہِلاَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُجَشِّرٍ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ صَالِحٍ الأَحْمَرُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ أَبِی أُمَیَّۃَ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ أَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّی أُخْبِرَکَ بِآیَۃٍ أَوْ سُورَۃٍ لَمْ تَنْزِلْ عَلَی نَبِیٍّ بَعْدَ سُلَیْمَانَ غَیْرِی ۔ قَالَ : فَمَشَی فَتَبِعْتُہُ حَتَّی انْتَہَی إِلَی بَابِ الْمَسْجِدِ قَالَ فَأَخْرَجَ إِحْدَی رِجْلَیْہِ مِنْ أُسْکُفَّۃِ الْمَسْجِدِ وَبَقِیَتِ الأُخْرَی فِی الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ بَیْنِی وَبَیْنَ نَفْسِی نَسِیَ قَالَ فَأَقْبَلَ عَلَیَّ بِوَجْہِہِ قَالَ : بِأَیِّ شَیْئٍ تَفْتَتِحُ الْقُرْآنَ إِذَا افْتَتَحْتَ الصَّلاَۃَ؟ ۔ قَالَ قُلْتُ بِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} [الفاتحہ ۱] قَالَ: ہِیَ ہِیَ ۔ ثُمَّ خَرَجَ۔ إِسْنَادُہُ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৩০
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے سالن نہ کھانے کی قسم کھائی، لیکن بعد میں ایسی چیز کھالی جس کو عادتاً سالن شمار کیا جاتا ہے
(٢٠٠٢٤) سیدہ عائشہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بہترین سالن سرکہ ہے۔
(۲۰۰۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْحِیَرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ شِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : نِعْمَ الإِدَامُ الْخَلُّ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الدَّارِمِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۰۵۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৩১
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے سالن نہ کھانے کی قسم کھائی، لیکن بعد میں ایسی چیز کھالی جس کو عادتاً سالن شمار کیا جاتا ہے
(٢٠٠٢٥) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے گھر سے سالن کے بارے میں پوچھاتو انھوں نے کہا : صرف سرکہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منگوایا اور کھانے لگے اور فرما رہے تھے : بہترین سالن سرکہ ہے، بہترین سالن سرکہ ہے۔
(۲۰۰۲۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- سَأَلَ أَہْلَہُ الأُدُمَ فَقَالُوا مَا عِنْدَنَا إِلاَّ خَلٌّ فَدَعَا بِہِ فَجَعَلَ یَأْکُلُ مِنْہُ وَیَقُولُ : نِعْمَ الأُدُمُ الْخَلُّ نِعْمَ الأُدُمُ الْخَلُّ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔
[صحیح۔ مسلم ۲۰۵۲]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔
[صحیح۔ مسلم ۲۰۵۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৩২
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے سالن نہ کھانے کی قسم کھائی، لیکن بعد میں ایسی چیز کھالی جس کو عادتاً سالن شمار کیا جاتا ہے
(٢٠٠٢٦) یوسف بن عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، آپ نے جو کی روٹی کا ٹکڑا پکڑا ہوا تھا اور اوپر کھجور تھی۔ آپ نے فرمایا : یہ اس کا سالن ہے اور اس کو کھالیا۔
(۲۰۰۲۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی یَحْیَی الأَسْلَمِیُّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی أُمَیَّۃَ الأَعْوَرِ عَنْ یُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلاَمٍ قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- أَخَذَ کِسْرَۃً مِنْ خُبْزِ شَعِیرٍ فَوَضَعَ عَلَیْہَا تَمْرَۃً وَقَالَ : ہَذِہِ إِدَامُ ہَذِہِ ۔ فَأَکَلَہَا۔ [ضعیف]
তাহকীক: