আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
قسموں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৮০ টি
হাদীস নং: ১৯৯৯৩
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کا حکم
(١٩٩٨٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حرامی بچہ تیسرا شر ہے۔
(۱۹۹۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ مُنِیبٍ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ أَنْبَأَنَا سُہَیْلُ بْنُ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلاَثَۃِ ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯৯৪
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کا حکم
(١٩٩٨٨) سہیل بن ابی صالح نے اس طرح ذکر کیا ہے، لیکن کچھ الفاظ زائد ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستہ میں ایک کو ڑی کے ذریعے نفع اٹھاؤں یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں حرامی بچے کو آزاد کروں۔
(۱۹۹۸۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْفَقِیہُ بِبُخَارَی حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ الزَّہْرَانِیُّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ وَزُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ زَادَ قَالَ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ زِنْیَۃٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯৯৫
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کا حکم
(١٩٩٨٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حرامی بچہ تیسرا شر ہے۔
(۱۹۹۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلاَثَۃِ ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯৯৬
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کا حکم
(١٩٩٩٠) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حرامی بچہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔
(۱۹۹۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا الثَّوْرِیُّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ جَابَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ وَلَدُ زِنْیَۃٍ ۔
وَرُوِیَ ذَلِکَ أَیْضًا عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَرْفُوعًا۔ [ضعیف۔ ابن خزیمہ: ۵۷]
وَرُوِیَ ذَلِکَ أَیْضًا عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَرْفُوعًا۔ [ضعیف۔ ابن خزیمہ: ۵۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯৯৭
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کا حکم
(١٩٩٩١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے راستہ میں ایک کوڑے کے ذریعے مدد کرنا مجھے حرامی بچے کو آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حرامی بچہ تیسرا شر ہے اور مردہ کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اللہ ابوہریرہ (رض) پر رحم فرمائے۔ وہ صحیح سن نہیں سکے۔ آپ کا یہ فرمان کہ میں اللہ کے راستہ میں ایک کوڑے کے ذریعہ مدد کروں یہ حرامیبچے کو آزادہ کرنے سے بہتر ہے۔ یہ اس آیات کے نزول کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : { فَلاَ اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ ۔ وَمَا اَدْرٰکَ مَا الْعَقَبَۃُ ۔ فَکُّ رَقَبَۃٍ ۔ } [البلد ١١-١٣] ” پھر بھی وہ گھاٹی عبور نہ سکا۔ (اے پیغمبر ! ) آپ کیا جانیں گھاٹی کیا ہے۔ ایک گردن آزاد کرا دینا یا بھوک کے دن یتیم کو کھانا کھلا دینا۔ “
کہا گیا : اسے اللہ کے رسول ! ہمارے پاس آزاد کرنے کو کچھ نہیں، لیکن ہم میں سے کسی کے پاس سیاہ لونڈی ہو جس سے وہ خدمت وغیرہ لیتا ہے۔ اگر ہم ان کو حکم دیں کہ وہ زنا کرلیں، جو وہ اولاد جنم دیں ہم ان کو آزاد کردیں تو آپ نے فرمایا کہ میں ایک کوڑے کو ذریعہ اللہ کے راستہ میں میں مدد کروں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں زنا کا حکم دوں، پھر حرامی بچے کو آزاد کرنے کا حکم دوں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان حرامی بچہ تیسرا شر ہے۔ یہ حدیث اس طرح نہیں ہے بلکہ ایک منافق آدمی جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف دیتا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون مجھے فلاں سے آرام دے گا ؟ کہا گیا : اے اللہ کے رسول ! باوجود اس کے کہ اس کے ساتھ حرامی بچہ ہے۔ تب آپ نے فرمایا : یہ تو تیسرا شر ہے اور اللہ فرماتے ہیں : { وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی } [الانعام ١٦٤] ” کوئی جان کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گی “ اور آپ کا قول کہ میت کو زندہ کے روزے کی وجہ سے عذاب ملتا ہے یہ حدیث اس طرح نہیں ہے بلکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک یہودی کے گھر کے پاس سے گزرے ۔ وہ فوت ہوگیا تھا اس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : اس کو عذاب دیا جا رہا ہے اور یہ رو رہے ہیں اور اللہ فرماتے ہیں : { لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا } [البقرۃ ٢٨٦] ” جان کو اس کی طاقت کے مطابق تکلیف دی جاتی ہے۔ “
(ب) حضرت عائشہ (رض) سے مرسل روایت حرامی بچے کی آزادی کے بارے میں منقول ہے۔
کہا گیا : اسے اللہ کے رسول ! ہمارے پاس آزاد کرنے کو کچھ نہیں، لیکن ہم میں سے کسی کے پاس سیاہ لونڈی ہو جس سے وہ خدمت وغیرہ لیتا ہے۔ اگر ہم ان کو حکم دیں کہ وہ زنا کرلیں، جو وہ اولاد جنم دیں ہم ان کو آزاد کردیں تو آپ نے فرمایا کہ میں ایک کوڑے کو ذریعہ اللہ کے راستہ میں میں مدد کروں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں زنا کا حکم دوں، پھر حرامی بچے کو آزاد کرنے کا حکم دوں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان حرامی بچہ تیسرا شر ہے۔ یہ حدیث اس طرح نہیں ہے بلکہ ایک منافق آدمی جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف دیتا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون مجھے فلاں سے آرام دے گا ؟ کہا گیا : اے اللہ کے رسول ! باوجود اس کے کہ اس کے ساتھ حرامی بچہ ہے۔ تب آپ نے فرمایا : یہ تو تیسرا شر ہے اور اللہ فرماتے ہیں : { وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی } [الانعام ١٦٤] ” کوئی جان کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گی “ اور آپ کا قول کہ میت کو زندہ کے روزے کی وجہ سے عذاب ملتا ہے یہ حدیث اس طرح نہیں ہے بلکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک یہودی کے گھر کے پاس سے گزرے ۔ وہ فوت ہوگیا تھا اس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : اس کو عذاب دیا جا رہا ہے اور یہ رو رہے ہیں اور اللہ فرماتے ہیں : { لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا } [البقرۃ ٢٨٦] ” جان کو اس کی طاقت کے مطابق تکلیف دی جاتی ہے۔ “
(ب) حضرت عائشہ (رض) سے مرسل روایت حرامی بچے کی آزادی کے بارے میں منقول ہے۔
(۱۹۹۹۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِیقٍ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : بَلَغَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أُعْتِقَ وَلَدَ الزِّنَا ۔ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلاَثَۃِ وَإِنَّ الْمَیِّتِ یُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَیِّ ۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا رَحِمَ اللَّہُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ أَسَائَ سَمَعًا فَأَسَائَ إِجَابَۃً لأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ الزِّنَا إِنَّہَا لَمَّا نَزَلَتْ {فَلاَ اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ وَمَا أَدْرَاکَ مَا الْعَقَبَۃُ فَکُّ رَقَبَۃٍ} [البلد ۱۱-۱۳] قِیلَ یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا عِنْدَنَا مَا نُعْتِقُ إِلاَّ أَنَّ أَحَدَنَا لَہُ الْجَارِیَۃُ السَّوْدَائُ تَخْدِمُہُ وَتَسْعَی عَلَیْہِ فَلَوْ أَمَرْنَاہُنَّ فَزَنَیْنَ فَجِئْنَ بِأَوْلاَدٍ فَأَعْتَقْنَاہُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ آمُرَ بِالزِّنَا ثُمَّ أُعْتِقَ الْوَلَدَ وَأَمَّا قَوْلُہُ : وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلاَثَۃِ ۔ فَلَمْ یَکُنِ الْحَدِیثُ عَلَی ہَذَا إِنَّمَا کَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِینَ یُؤْذِی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ مَنْ یَعْذِرُنِی مِنْ فُلاَنٍ قِیلَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہُ مَعَ مَا بِہِ وَلَدُ الزِّنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہُوَ شَرُّ الثَّلاَثَۃِ ۔ وَاللَّہُ تَعَالَی یَقُولُ {وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی)} وَأَمَّا قَوْلُہُ إِنَّ الْمَیِّتَ لَیُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَیِّ فَلَمْ یَکُنِ الْحَدِیثُ عَلَی ہَذَا وَلَکِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مَرَّ بِدَارِ رَجُلٍ مِنَ الْیَہُودِ قَدْ مَاتَ وَأَہْلُہُ یَبْکُونَ عَلَیْہِ فَقَالَ إِنَّہُمْ لَیَبْکُونَ عَلَیْہِ وَإِنَّہُ لَیُعَذَّبُ وَاللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ {لاَ یُکَلِّفُ اللَّہُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَہَا} [البقرۃ ۲۸۶]
سَلَمَۃُ بْنُ الْفَضْلِ الأَبْرَشُ یَرْوِی مَنَاکِیرَ۔ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِی سُلَیْمَانَ الشَّامِیِّ وَہُوَ بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مُرْسَلاً فِی إِعْتَاقِ وَلَدِ الزِّنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
سَلَمَۃُ بْنُ الْفَضْلِ الأَبْرَشُ یَرْوِی مَنَاکِیرَ۔ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِی سُلَیْمَانَ الشَّامِیِّ وَہُوَ بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مُرْسَلاً فِی إِعْتَاقِ وَلَدِ الزِّنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯৯৮
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کا حکم
(١٩٩٩٢) ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) حرامی بچے کے بارے میں فرماتی ہیں : اس پر اس کے والدین کا کچھ بھی بوجھ نہیں ہے۔ { وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی } [فاطر ١٨] ” کوئی جان کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ “
(۱۹۹۹۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ فِی وَلَدِ الزِّنَا لَیْسَ عَلَیْہِ مِنْ وِزْرِ أَبَوَیْہِ شَیْء ٌ {لاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی} [فاطر ۱۸] رَفَعَہُ بَعْضُ الضُّعَفَائِ وَالصَّحِیحُ مَوْقُوفٌ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯৯৯
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کا حکم
(١٩٩٩٣) محمد بن قیس حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حرامی بچہ تیسراشر ہے جب وہ اپنے والدین والے اعمال کرے۔
(۱۹۹۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِیُّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلاَثَۃِ إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ أَبَوَیْہِ ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০০০
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کا حکم
(١٩٩٩٤) داؤد بن علی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حرامی بچہ تیسراشر ہے، جب وہ اپنے والدین والے اعمال کرے۔
(۱۹۹۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی لَیْلَی عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلاَثَۃِ إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ أَبَوَیْہِ ۔
ہَذَا إِسْنَادٌ ضَعِیفٌ وَمَا قَبْلَہُ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔ [ضعیف]
ہَذَا إِسْنَادٌ ضَعِیفٌ وَمَا قَبْلَہُ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০০১
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کا حکم
(١٩٩٩٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حرامی بچے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تیسرا شر ہے۔ سفیان فرماتے ہیں : جب وہ اپنے والدین والے عمل کرے۔
(۱۹۹۹۵) وَإِنَّمَا یُرْوَی ہَذَا الْکَلاَمُ عَلَی الْخَبَرِ مِنْ قَوْلِ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ وَلَدِ الزِّنَا فَقَالَ : ہُوَ شَرُّ الثَّلاَثَۃِ ۔ قَالَ سُفْیَانُ : یَعْنِی إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ وَالِدَیْہِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০০২
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کا حکم
(١٩٩٩٦) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حرامی بچہ تیسرا شر ہے، اس وجہ سے کہ اس کے والدین نے توبہ کرلی ہے۔
(۱۹۹۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْفَرَّائُ أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَنْبَأَنَا مُسْلِمٌ الْمُلاَئِیُّ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلاَثَۃِ لأَنَّ أَبَوَیْہِ یَتُوبَانِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০০৩
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کا حکم
(١٩٩٩٧) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حرامی بچے کے نام رکھنے کی وجہ کہ یہ تیسرا شر ہے کہ اس کی والدہ نے کہا : تو اپنے باپ کا نہیں جس کی طرف تیری نسبت ہے تو اس نے اپنی والدہ کو قتل کردیا تو اس کا نام تیسرا شر رکھ دیا گیا۔
(۱۹۹۹۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ قَالَ ذَکَرَ سُفْیَانُ عَنْ رَجُلٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : إِنَّمَا سُمِّیَ وَلَدُ الزَّانِیَۃِ شَرَّ الثَّلاَثَۃِ أَنَّ أُمَّہُ قَالَتْ لَہُ لَسْتَ لأَبِیکَ الَّذِی تُدْعَی بِہِ فَقَتَلَہَا فَسُمِّیَ شَرَّ الثَّلاَثَۃِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০০৪
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کی آزادی کا بیان
(١٩٩٩٨) مقبری فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس کے ذمہ گردن کا آزاد کرنا ہے، کیا وہ حرامی بچہ آزاد کر دے ؟ ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : ہاں۔
(۱۹۹۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ أَنَّہُ سُئِلَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ الرَّجُلِ یَکُونُ عَلَیْہِ الرَّقَبَۃُ ہَلْ یُعْتِقُ ابْنَ زِنًا؟ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : نَعَمْ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০০৫
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کی آزادی کا بیان
(١٩٩٩٩) نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) نے حرامی بچے اور اس کی والدہ کو آزاد کیا۔
(۱۹۹۹۹) قَالَ وَحَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ أَعْتَقَ ابْنَ زِنًا وَأُمَّہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০০৬
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کی آزادی کا بیان
(٢٠٠٠٠) ام حکیم بنت طارق حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتی ہیں کہ حرامی اولاد کے بارے میں حکم یہ ہے کہ تم ان کو آزاد کرلو اور ان سے اچھا سلوک کرو۔
(۲۰۰۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو أَخْبَرَنِی الزُّبَیْرُ بْنُ مُوسَی عَنْ أُمِّ حَکِیمٍ بِنْتِ طَارِقٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ فِی أَوْلاَدِ الزِّنَا : أَعْتِقُوہُمْ وَأَحْسِنُوا إِلَیْہِمْ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০০৭
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کی آزادی کا بیان
(٢٠٠٠١) عمر بن عبدالرحمن قرشی سیدنا ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حرامی بچے کے بارے میں پوچھا گیا اور صحیح النسب لڑکے کی آزادی کے بارے میں بھی تو فرمایا دیکھو ! ان دونوں میں سے کس کی قیمت زیادہ ہے تو انھوں نے دیکھا، حرامی بچے کی قیمت ایک دینار زیادہ تھی چنانچہ آپ نے اس کا حکم دیا۔
(۲۰۰۰۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِیِّ : أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا سُئِلَ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا وَوَلَدِ رِشْدَۃٍ فِی الْعَتَاقَۃِ فَقَالَ انْظُرْ أَکْثَرَہُمَا ثَمَنًا فَوَجَدُوا وَلَدَ الزِّنَا أَکْثَرَہُمَا ثَمَنًا بِدِینَارٍ فَأَمَرَہُمْ بِہِ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০০৮
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کی آزادی کا بیان
(٢٠٠٠٢) حضرت حسن سے منقول ہے کہ وہ حرامی بچے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کی آزادی برابر ہے۔
(ب) فراس شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ قیمت میں جو زیادہ ہو۔
(ب) فراس شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ قیمت میں جو زیادہ ہو۔
(۲۰۰۰۲) قَالَ وَحَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّہُ کَانَ یَرَی وَلَدَ الزِّنَا وَغَیْرَہُ فِی الْعِتْقِ سَوَائً ۔
وَعَنْ فِرَاسٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : انْظُرْ أَکْثَرَہُمَا ثَمَنًا۔ [حسن]
وَعَنْ فِرَاسٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : انْظُرْ أَکْثَرَہُمَا ثَمَنًا۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০০৯
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کی آزادی کا بیان
(٢٠٠٠٣) نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنا حرامی غلام آزاد کیا۔
(۲۰۰۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : أَعْتَقَ ابْنُ عُمَرَ غُلاَمًا لَہُ وَلَدَ زِنًا۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۱۹۹۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০১০
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کی آزادی کا بیان
(٢٠٠٠٤) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے حرامی بچے آزاد کیا اور کہا کہ اللہ اور رسول نے ہمیں حکم دیا کہ ہم برے لوگوں پر احسان کریں، اللہ کا فرمان : { فَاِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَائً } [محمد ٤] ” احسان کرنا یا فدیہ لینا۔ “ حضرت عمر (رض) سی منقول ہے کہ وہ اس کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۲۰۰۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْہَیْثَمِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ أَعْتَقَ وَلَدَ زِنْیَۃٍ وَقَالَ قَدْ أَمَرَنَا اللَّہُ وَرَسُولُہُ -ﷺ- أَنْ نَمُنَّ عَلَی مَنْ ہُوَ شَرٌّ مِنْہُ قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی {إِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَائً} [محمد ۴] وَرُوِیَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ کَرِہَہُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০১১
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرامی بچے کی آزادی کا بیان
(٢٠٠٠٥) ابوحسن جو عبداللہ بن حارث کے آزاد کردہ غلام ہیں اور وہ قدیم قریشی غلاموں اور اہل علم اور صلاح پسند لوگوں میں سے تھے۔ اس نے ایک عورت سے سنا جو عبداللہ بن نوفل سے کہہ رہی تھی کہ میرے ذمہ گردن کا آزاد کرنا ہے اس کے بارے میں بتائیں۔ تو عبداللہ بن نوفل نے فرمایا : حرامی بچے کی گردن آزاد کرنے سے تو بری الذمہ نہ ہوگی۔ ابن نوفل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر (رض) سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں جوتے اللہ کے راستے میں دوں یہ مجھے زیادہ پسند ہے کہ میں حرامی بچے کو آزاد کر دوں۔
(۲۰۰۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ وَابْنُ بُکَیْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ حَدَّثَنِی عُقَیْلٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو حَسَنٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ وَکَانَ مِنْ قُدَمَائِ مَوَالِی قُرَیْشٍ وَأَہْلِ الْعِلْمِ مِنْہُمُ وَالصَّلاَحِ أَنَّہُ سَمِعَ امْرَأَۃً تَقُولُ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ نَوْفَلٍ تَسْتَفْتِیہِ فِی غُلاَمٍ لَہَا ابْنِ زِنْیَۃٍ فِی رَقَبَۃٍ کَانَتْ عَلَیْہَا قَالَ لَہَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَوْفَلٍ : لاَ أُرَاہُ یَقْضِی الرَّقَبَۃَ الَّتِی عَلَیْکِ عِتْقُ ابْنِ زِنْیَۃٍ ۔ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَوْفَلٍ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : لأَنْ أَحْمِلَ عَلَی نَعْلَیْنِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ ابْنَ زِنْیَۃٍ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০১২
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو تین دن کے روزے نہ رکھ سکے تو اس کو اختیار ہے کہ وہ کھانا کھلائے یا کپڑے پہنائے یا گردن آزاد کرے
(٢٠٠٠٦) ابن عباس (رض) کفارہ قسم کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ پہلی تین چیزوں میں اختیار دیا گیا ہے۔ اگر وہ نہ پائے تو پھر تین دن کے مسلسل روزے رکھنا ہیں۔
(ب) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ تمام اشیاء قرآن میں ہیں یا وہ اختیار دیا گیا ہے اگر وہ نہ پائے تو جو چیز پہلے ہو۔
(ب) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ تمام اشیاء قرآن میں ہیں یا وہ اختیار دیا گیا ہے اگر وہ نہ پائے تو جو چیز پہلے ہو۔
(۲۰۰۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَنْبَأَنَا أَبُوالْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی آیَۃِ کَفَّارَۃِ الْیَمِینِ قَالَ: ہُوَ بِالْخِیَارِ فِی ہَؤُلاَئِ الثَلاَثِ الأُوَلِ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ شَیْئًا مِنْ ذَلِکَ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ۔
وَفِی رِوَایَۃِ لَیْثِ بْنِ أَبِی سُلَیْمٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ : کُلُّ شَیْئٍ فِی الْقُرْآنِ أَوْ أَوْ فَہُوَ مُخَیَّرٌ فَإِذَا کَانَ لَمْ یَجِدْ فَہُوَ الأَوَّلُ الأَوَّلُ۔ [ضعیف]
وَفِی رِوَایَۃِ لَیْثِ بْنِ أَبِی سُلَیْمٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ : کُلُّ شَیْئٍ فِی الْقُرْآنِ أَوْ أَوْ فَہُوَ مُخَیَّرٌ فَإِذَا کَانَ لَمْ یَجِدْ فَہُوَ الأَوَّلُ الأَوَّلُ۔ [ضعیف]
তাহকীক: