আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

قسموں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৮০ টি

হাদীস নং: ১৯৯৭৩
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کا بیان
(١٩٩٦٧) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ قسم توڑنے سے پہلی اور بعد دونوں طریقوں سے کفارہ ادا کردیتے تھے۔
(۱۹۹۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُ کَانَ رُبَّمَا کَفَّرَ یَمِینَہُ قَبْلَ أَنْ یَحْنَثَ وَرُبَّمَا کَفَّرَ بَعْدَ مَا یَحْنَثُ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৭৪
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانا کھلانے سے قسم کا کفارہ ادا کرنا

اللہ کا فرمان : { فَکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ } [المائدۃ ٨٩] قسم کا کفارہ دس مسکینوں کا کھانا درمیانے درجے کا ہے، جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔

امام شاف
(١٩٩٦٨) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں ہلاک ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے اوپر افسوس ! کیا ہوا ؟ کہنے لگا : رمضان میں میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گردن آزاد کر۔ کہنے لگا : میرے پاس نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ۔ کہنے لگا : میں طاقت نہیں رکھتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ کہنے لگا : میں نہیں پاتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا، جس میں پندرہ صاع تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لے جاؤ اور صدقہ کرو۔ کہنے لگا : اپنے گھر والوں سے زیادہ غریب لوگوں پر ؟ اور کہنے لگا : میرے گھر والوں سے زیادہ محتاج ان دو پہاڑوں کے درمیان کوئی نہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے حتی کہ آپ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمانے لگے : لے جاؤ، اللہ سے استغفار کرو اور اپنے گھر والوں کو کھلا دو ۔
(۱۹۹۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ : عِیسَی بْنُ أَبِی عِمْرَانَ الْبَزَّارُ بِالرَّمْلَۃِ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ قَالَ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکْتُ۔ قَالَ : وَیْحَکَ وَمَا ذَاکَ؟ ۔ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی فِی یَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ۔ قَالَ : فَأَعْتِقْ رَقَبَۃً ۔ قَالَ : مَا أَجِدُ۔ قَالَ : فَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ۔ قَالَ : مَا أَسْتَطِیعُ۔ قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قَالَ : مَا أَجِدُ۔ قَالَ : فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ تَمْرٌ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ : خُذْہُ فَتَصَدَّقْ بِہِ ۔ قَالَ : عَلَی أَفْقَرَ مِنْ أَہْلِی فَوَاللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیِ الْمَدِینَۃِ أَحْوَجُ مِنْ أَہْلِی فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہ -ﷺ- حَتَّی بَدَتْ أَنْیَابُہُ ثُمَّ قَالَ : خُذْہُ وَاسْتَغْفِرِ اللَّہَ وَأَطْعِمْہُ أَہْلَکَ ۔

قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیُّ الْحَافِظُ رَحِمَہُ اللَّہُ ہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ۔

قَالَ الشَّیْخُ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الْہِقْلُ بْنُ زِیَادٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ فِی کِتَابِ الْحَجِّ وَرَوَاہُ ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ فَجَعَلَ تَقْدِیرَ الْعَرَقِ فِی رِوَایَۃِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ۔

وَرُوِیَ مِنْ حَدِیثِ مَنْصُورٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الصِّیَامِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৭৫
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانا کھلانے سے قسم کا کفارہ ادا کرنا

اللہ کا فرمان : { فَکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ } [المائدۃ ٨٩] قسم کا کفارہ دس مسکینوں کا کھانا درمیانے درجے کا ہے، جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔

امام شاف
(١٩٩٦٩) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ انھوں نے رمضان کے مہینہ میں اپنی بیوی کے پاس جانے والے کا تذکرہ کیا۔ عطاء کہتے ہیں کہ میں نے سعید سے پوچھا : ٹوکرے میں کتنی مقدار تھی ؟ فرماتے ہیں : پندرہ سے بیس صاع تک موجود تھے۔
(۱۹۹۶۹) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا مَالِکٌ عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : أَتَی أَعْرَابِیٌّ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ حَدِیثَ الْمُصِیبِ أَہْلَہُ فِی رَمَضَانَ قَالَ عَطَاء ٌ فَسَأَلْتُ سَعِیدًا کَمْ فِی ذَلِکَ الْعَرَقِ قَالَ مَا بَیْنَ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا إِلَی عِشْرِینَ۔

فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِیُّ : أَکْثَرُ مَا قَالَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ مُدٌّ وَرُبُعٌ أَوْ مُدٌّ وَثُلُثٌ وَإِنَّمَا ہَذَا شَکٌّ أَدْخَلَہُ ابْنُ الْمُسَیَّبِ وَالْعَرَقُ کَمَا وَصَفْتُ کَانَ یُقَدَّرُ عَلَی خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا۔

قَالَ الشَّیْخُ حَدِیثُ ابْنُ الْمُسَیَّبِ مُنْقَطِعٌ۔ وَعَطَاء ٌ الْخُرَاسَانِیُّ غَیْرُہُ أَوْثَقُ مِنْہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৭৬
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانا کھلانے سے قسم کا کفارہ ادا کرنا

اللہ کا فرمان : { فَکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ } [المائدۃ ٨٩] قسم کا کفارہ دس مسکینوں کا کھانا درمیانے درجے کا ہے، جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔

امام شاف
(١٩٩٧٠) ابن مسیب (رح) سے دوسری روایت میں بغیر شک کے پندرہ صاع کا تذکرہ ہے۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آدمی کا تذکرہ کیا جو اپنی بیوی پر واقع ہوگیا تھا۔ اس میں ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ اس نے کہا : میں نہیں پاتا۔ آپ کے پاس کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا، جس میں پندرہ صاع تھے۔ آپ نے فرمایا : لے لو اور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو ۔
(۱۹۹۷۰) وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ غَیْرِ شَکٍّ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ یَحْیَی الأَدَمِیُّ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْوَاسِطِیُّ أَنْبَأَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَنْبَأَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَعَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَیْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ فَذَکَرَ حَدِیثَ الْمَوَاقِعِ قَالَ فِیہِ قَالَ فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا قَالَ لاَ أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ قَالَ خُذْ فَأَطْعِمْہُ سِتِّینَ مِسْکِینًا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ بواحد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৭৭
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانا کھلانے سے قسم کا کفارہ ادا کرنا

اللہ کا فرمان : { فَکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ } [المائدۃ ٨٩] قسم کا کفارہ دس مسکینوں کا کھانا درمیانے درجے کا ہے، جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔

امام شاف
(١٩٩٧١) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاسآیا، اس نے اپنی بیوی پر واقع ہونے کا تذکرہ کیا۔ اس میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجور کا ٹوکرا لایا گیا، جس میں پندرہ صاع تھے، ساٹھ مسکینوں کیلیے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لے جاؤ اور صدقہ کر دو ۔
(۱۹۹۷۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَلُّوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِیبٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ حَدِیثَ الْمُوَاقِعِ قَالَ فِیہِ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِمِکْتَلٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ یَکُونُ سِتِّینَ رُبْعًا قَالَ اذْہَبْ فَتَصَدَّقْ بِہَذَا۔

وَقَدْ مَضَی ذَلِکَ مِنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ عَنْ طَلْقٍ فِی کِتَابِ الظِّہَارِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৭৮
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانا کھلانے سے قسم کا کفارہ ادا کرنا

اللہ کا فرمان : { فَکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ } [المائدۃ ٨٩] قسم کا کفارہ دس مسکینوں کا کھانا درمیانے درجے کا ہے، جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔

امام شاف
(١٩٩٧٢) زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ گندم کا ایک مدہر مسکین کے لیے کفارہ قسم میں کفایت کر جائے گا۔
(۱۹۹۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ یَحْیَی عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : یُجْزِئُ طَعَامُ الْمَسَاکِینَ فِی کَفَّارَۃِ الْیَمِینِ مُدُّ حِنْطَۃٍ لِکُلِّ مِسْکِینٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৭৯
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانا کھلانے سے قسم کا کفارہ ادا کرنا

اللہ کا فرمان : { فَکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ } [المائدۃ ٨٩] قسم کا کفارہ دس مسکینوں کا کھانا درمیانے درجے کا ہے، جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔

امام شاف
(١٩٩٧٣) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کفارہ قسم دس مسکینوں کا کھانا دیا کرتے تھے۔ ہر ایک انسان کے لیے ایک مد گندم کا ہوا کرتا تھا اور کبھی گردن بھی آزاد کردیتے جب قسم پختہ ہوتی۔
(۱۹۹۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا کَانَ یُکَفِّرُ عَنْ یَمِینِہِ بِإِطْعَامِ عَشَرَۃِ مَسَاکِینَ لِکُلِّ إِنْسَانٍ مِنْہُمْ مُدٌّ مِنْ حِنْطَۃٍ وَکَانَ یُعْتِقُ الْمَرَّۃَ إِذَا وَکَّدَ الْیَمِینَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৮০
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانا کھلانے سے قسم کا کفارہ ادا کرنا

اللہ کا فرمان : { فَکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ } [المائدۃ ٨٩] قسم کا کفارہ دس مسکینوں کا کھانا درمیانے درجے کا ہے، جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔

امام شاف
(١٩٩٧٤) عکرمہ ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہر مسکین کے لیے گندم کا ایک مد جبکہ چوتھا حصہ سالن کا ہوا کرتا تھا۔

(ب) عطاء ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہر مسکین کے لیے ایک ایک مد ہوتا تھا۔
(۱۹۹۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا أَنْبَأَنَا زَاہِرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ زِیَادٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لِکُلِّ مِسْکِینٍ مُدٌّ مِنْ حِنْطَۃٍ رُبُعُہُ إِدَامُہُ۔

وَیُذْکَرُ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ لِکُلِّ مِسْکِینٍ مُدٌّ مُدٌّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৮১
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانا کھلانے سے قسم کا کفارہ ادا کرنا

اللہ کا فرمان : { فَکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ } [المائدۃ ٨٩] قسم کا کفارہ دس مسکینوں کا کھانا درمیانے درجے کا ہے، جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔

امام شاف
(١٩٩٧٥) عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) سے اس مسجد میں سنا، وہ فرما رہے تھی کہ تین اشیاء میں ایک ایک مد ہے : 1 کفارہ قسم 2 کفارہ ظہار۔ 3 مسکین کے کھانے کا فدیہ۔
(۱۹۹۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ قَالاَ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنِی یُوسُفُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ مُسَلَّمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی عَنْ عَطَائٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ہَذَا الْمَسْجِدِ یَقُولُ : ثَلاَثَۃُ أَشْیَائَ فِیہِنَّ مُدٌّ مُدٌّ : فِی کَفَّارَۃِ الْیَمِینِ وَفِی کَفَّارَۃِ الظِّہَارِ وَفِدْیَۃٍ طَعَامِ مِسْکِینٍ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৮২
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانا کھلانے سے قسم کا کفارہ ادا کرنا

اللہ کا فرمان : { فَکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ } [المائدۃ ٨٩] قسم کا کفارہ دس مسکینوں کا کھانا درمیانے درجے کا ہے، جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔

امام شاف
(١٩٩٧٦) سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو پایا کہ وہ کفارہ قسم میں گندم کا چھوٹا مد دیا کرتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ یہ کفایت کرجاتا ہے۔
(۱۹۹۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ أَنَّہُ قَالَ : مَا أَدْرَکْتُ النَّاسَ إِلاَّ وَہُمْ إِذَا أَعْطَوْا فِی کَفَّارَۃِ الْیَمِینِ أَعْطَوْا مُدًّا مِنَ الْحِنْطَۃِ بِالْمُدِّ الأَصْغَرِ وَرَأَوْا أَنَّ ذَلِکَ مُجْزِئٌ عَنْہُمْ۔

[صحیح۔ اخرجہ مالک]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৮৩
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانا کھلانے سے قسم کا کفارہ ادا کرنا

اللہ کا فرمان : { فَکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ } [المائدۃ ٨٩] قسم کا کفارہ دس مسکینوں کا کھانا درمیانے درجے کا ہے، جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔

امام شاف
(١٩٩٧٧) حضرت حسن اور سعید بن مسیب کا خیال تھا کہ کفارہ قسم میں ایک مُد گندم یا ایک مد جو کفایت کر جائے گا۔
(۱۹۹۷۷) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْخُسْرَوجِرْدِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْغِطْرِیفِ أَنْبَأَنَا أَبُو خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا الْحَوْضِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُمَا قَالاَ فِی الْکَفَّارَۃِ : مُدُّ حِنْطَۃٍ أَوْ مُدُّ شَعِیرٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৮৪
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانا کھلانے سے قسم کا کفارہ ادا کرنا

اللہ کا فرمان : { فَکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ } [المائدۃ ٨٩] قسم کا کفارہ دس مسکینوں کا کھانا درمیانے درجے کا ہے، جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔

امام شاف
(١٩٩٧٨) یسار بن نمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں قسم اٹھاتا ہوں کہ لوگوں کو کچھ نہ دوں گا، لیکن بعد میں دے دیتا ہوں۔ جب آپ یہ صورتِ حال دیکھیں کہ میں نے اب کیا ہے تو میری جانب سے ہر مسکین کو ایک صاع گندم یا ایک صاع کھجور کا دے دیا کرو۔

یہ تو حضرت عمر (رض) کا خیال تھا۔ ممکن ہے کہ زیادہ کو مستحب خیال کرتے ہو یا اس سے کم بھی کفایت کرجاتا ہو۔
(۱۹۹۷۸) وَأَمَّا الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِیقِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ یَسَارِ بْنِ نُمَیْرٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنِّی أَحْلِفُ أَنْ لاَ أَعْطِیَ أَقْوَامًا ثُمَّ یَبْدُو لِی أَنْ أُعْطِیَہُمْ فَإِذَا رَأَیْتَنِی قَدْ فَعَلْتُ ذَلِکَ فَأَطْعِمْ عَنِّی عَشَرَۃَ مَسَاکِینَ بَیْنَ کُلِّ مِسْکِینَیْنِ صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ۔

فَہَذَا شَیْء ٌ کَانَ یَرَاہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَلَعَلَّہُ کَانَ یَسْتَحِبُّ أَنَّ یَزِیدَ وَیُجْزِئُ أَقَلُّ مِنْہُ بِدَلِیلِ مَا ذَکَرْنَا۔

[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৮৫
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کئی مرتبہ قسم اٹھائی کہ وہ یہ کام نہیں کرے گا
(١٩٩٧٩) ہلال وزان کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی یعلیٰ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور کہا : اے امیرالمومنین ! مجھے سواری دیں۔ انھوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تجھے سواری نہ دوں گا۔ اس نے کہا : ضرور آپ مجھے سواری دیں گے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں سواری نہ دوں گا۔ اس نے دوبارہ کہا : آپ ضرور مجھے سواری دیں گے، میں مسافر ہوں، میری سواری تھک چکی ہے۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : میں تجھے سواری نہ دوں گا اللہ کی قسم ! یہاں تک کہ انھوں نے بیس کے قریب قسم کھا لیں۔

اس سے ایک انصاری آدمی نے کہا : تجھے کیا ہے امیرالمومنین سے ؟ وہ کہنے لگا : میں مسافر ہوں، میری سواری عاجز آچکی، ان کو چاہیے کہ وہ مجھے سواری دیں، لیکن وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! میں تجھے سواری نہ دوں گا۔

راوی کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے پھر سواری دے دی۔ پھر فرمایا : جو کسی کام پر قسم کھالے اور دوسر اس سے بہتر ہو تو قسم کا کفارہ دے کر بہترکام کرلے۔ علی بن مدینی فرماتے ہیں کہ کفارہ ایک ہی ہے۔

(ب) شیخ فرماتے ہیں اس میں یہ دلیل موجود نہیں ہے، لیکن ابن عمر (رض) بھی فرماتے ہیں کہ اس طرح کی قسم میں کفارہ ایک دفعہ ہی ہے۔
(۱۹۹۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ الْخُزَاعِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی ہِلاَلٌ الْوَزَّانُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِی لَیْلَی قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ احْمِلْنِی فَقَالَ وَاللَّہِ لاَ أَحْمِلُکَ فَقَالَ وَاللَّہِ لَتَحْمِلَنِّی قَالَ وَاللَّہِ لاَ أَحْمِلُکَ قَالَ وَاللَّہِ لَتَحْمِلَنِّی إِنِّی ابْنُ سَبِیلٍ قَدْ آدَتْ بِی رَاحِلَتِی فَقَالَ وَاللَّہِ لاَ أَحْمِلُکَ حَتَّی حَلَفَ نَحْوًا مِنْ عِشْرِینَ یَمِینًا قَالَ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ مَا لَکَ وَلأَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ وَاللَّہِ لِیَحْمِلَنِّی إِنِّی ابْنُ سَبِیلٍ قَدْ آدَتْ بِی رَاحِلَتِی قَالَ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّہِ لأَحْمِلَنَّکَ ثُمَّ وَاللَّہِ لأَحْمِلَنَّکَ قَالَ فَحَمَلَہُ ثُمَّ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ فَرَأَی غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا فَلْیَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ وَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہِ۔ قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ ہَذَا حَدِیثٌ غَرِیبٌ الْکَفَّارَۃُ وَاحِدَۃٌ۔

قَالَ الشَّیْخُ لَیْسَ ذَلِکَ بِبَیِّنٍ فِی الْحَدِیثِ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ أَقْسَمَ مِرَارًا فَکَفَّرَ کَفَّارَۃً وَاحِدَۃً وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی تَوْکِیدِ الْیَمِینِ وَہُوَ تَکْرِیرُہَا فِی الشَّیْئِ الْوَاحِدِ مَذْہَبٌ آخَرُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৮৬
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کئی مرتبہ قسم اٹھائی کہ وہ یہ کام نہیں کرے گا
(١٩٩٨٠) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جو پختہ قسم اٹھائے پھر توڑ ڈالے تو اس پر ایک گردن کا آزاد کرنا ہے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنانا ہے اور جس نے پختہ قسم نہ اٹھائی اس پر دس مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے۔ ہر مسکین کے لیے گندم کا ایک مد ہے، جو نہ پائے اس پر تین دن کے روزے ہیں۔

(ب) ابن بکیر کی حدیث میں ہے کہ پختہ قسم پر ایک گردن کا آزاد کرنا ہے۔

(ج) پختہ اور عام قسم کے کفارے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

(٢٨) باب مَا یُجْزِئُ مِنَ الْکِسْوَۃِ فِی الْکَفَّارَۃِ وَہُوَ کُلُّ مَا وَقَعَ عَلَیْہِ اسْمُ کِسْوَۃٍ مِنْ عِمَامَۃٍ أَوْ سَرَاوِیلَ أَوْ إِزَارٍ أَوْ مِقْنَعَۃٍ وَغَیْرِ ذَلِکَ

ہر وہ چیز جس پر پہنانے کا اطلاق ہو سکے جیسے پگڑی، شلوار، ازار یا معمولی چیز کا کفارہ میں دینا جائز ہے

قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { أَوْ کِسْوَتُہُمْ }
(۱۹۹۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا مَالِکٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : مَنْ حَلَفَ بِیَمِینٍ فَوَکَّدَہَا ثُمَّ حَنِثَ فَعَلَیْہِ عِتْقُ رَقَبَۃٍ أَوْ کِسْوَۃُ عَشَرَۃِ مَسَاکِینَ وَمَنْ حَلَفَ بِیَمِینٍ فَلَمْ یُؤَکِّدْہَا فَعَلَیْہِ إِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِینَ لِکُلِّ مِسْکِینٍ مُدٌّ مِنْ حِنْطَۃٍ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ۔

ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ بُکَیْرٍ وَرِوَایَۃُ الشَّافِعِیِّ مُخْتَصَرَۃٌ مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ فَوَکَّدَہَا فَعَلَیْہِ عِتْقُ رَقَبَۃً۔

قَالَ الشَّیْخُ : ظَاہِرُ الْکِتَابِ ثُمَّ ظَاہِرُ السُّنَّۃِ ثُمَّ مَا رُوِّینَا فِی ہَذَا الْبَابِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَإِنْ کَانَ مُرْسَلاً لاَ یُفَرِّقُ شَیْء ٌ مِنْ ذَلِکَ بَیْنَ تَوْکِیدِ الْیَمِینِ وَغَیْرِ تَوْکِیدِہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৮৭
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کئی مرتبہ قسم اٹھائی کہ وہ یہ کام نہیں کرے گا
(١٩٩٨١) محمد بن سیرین حضرت ابوموسیٰ اشعری سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کسی بھلائی کے کام پر قسم اٹھائی تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا اور مسکینوں کو بیت المال میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ ایک ثرید کا پیالہ لانے کا حکم فرمایا ، جوان کے سامنے پیش کیا گیا۔ انھوں نے اس سے کھایا۔ پھر ہر انسان کو پہنایا یا تو اوپر پہننے والا یا ازار عطا فرمائے۔

شیخ (رح) فرماتے ہیں : انھوں نے ثرید کو کفارہ میں کافی نہیں سمجھا بلکہ ہر ایک کو کپڑے بھی پہنائے۔

(ب) زہدم اجرمی حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے اپنی قسم کے کفارے میں دس مسکینوں کو کپڑے عطاء کیے ہر مسکین کو معقد ھجر کے بنے ہوئے دس دس کپڑے۔
(۱۹۹۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَنْبَأَنَا سَلَمَۃُ بْنُ عَلْقَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : أَنَّ أَبَا مُوسَی الأَشْعَرِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ فَکَفَّرَ وَأَمَرَ بِالْمَسَاکِینِ فَأُدْخِلُوا بَیْتَ الْمَالِ فَأَمَرَ بِجَفْنَۃٍ مِنْ ثَرِیدٍ فَقُدِّمَتْ إِلَیْہِمْ فَأَکَلُوا ثُمَّ کَسَا کُلَّ إِنْسَانٍ مِنْہُمْ ثَوْبًا إِمَّا مُعَقَّدًا وَإِمَّا ظَہْرَانِیًّا۔

قَالَ الشَّیْخُ وَکَأَنَّہُ لَمْ یَرَ الْکَفَّارَۃَ بِمَا أَعْطَاہُمْ مِنَ الثَّرِیدِ مُجْزِیَۃً فَأَعْطَی کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمْ ثَوْبًا۔

وَرُوِیَ عَنْ زَہْدَمٍ الْجَرْمِیِّ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ حَلَفَ فَأَعْطَی عَشْرَۃَ مَسَاکِینَ عَشْرَۃَ أَثْوَابٍ لِکُلِّ مِسْکِینٍ ثَوْبًا مِنْ مُعَقَّدِ ہَجَرَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৮৮
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کئی مرتبہ قسم اٹھائی کہ وہ یہ کام نہیں کرے گا
(١٩٩٨٢) عطاء مجاہد اور عکرمہ نے فرمایا : ہر مسکین کے لیے ایک قمیص یا تہبند یا چادر ہونی چاہیے۔ میں نے خصیف سے کہا : اگر وہ تنگ دست ہو تو پھر ؟ فرمایا : جو بھی کرلے گا اس نے اچھا کیا۔ اگر کچھ بھی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھ لے۔ ابی کی قراءت ہے کہ وہ مسلسل روزے رکھے۔ ابن جریج کی روایت جو عطاء سے ہے کہ یہ کفارہ قسم میں ہے ایک ایک مد اور ایک ایک کپڑا۔
(۱۹۹۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِیرٍ أَنْبَأَنَا خُصَیْفٌ عَنْ عَطَائٍ وَمُجَاہِدٍ وَعِکْرِمَۃَ قَالُوا : لِکُلِّ مِسْکِینٍ ثَوْبٌ قَمِیصٌ أَوْ إِزَارٌ أَوْ رِدَاء ٌ فَقُلْتُ لِخُصَیْفٍ أَرَأَیْتَ إِنْ کَانَ مُوسِرًا قَالَ أَیَّ ذَا فَعَلَ فَحَسُنَ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ ہَذِہِ الْخِصَالَ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ وَذَکَرَ أَنَّہَا فِی قِرَائَ ۃِ أُبَیٍّ مُتَتَابِعَۃٍ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ فِی کَفَّارَۃِ الْیَمِینِ مُدٌّ مُدٌّ وَالْکِسْوَۃُ ثَوْبٌ ثَوْبٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৮৯
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کئی مرتبہ قسم اٹھائی کہ وہ یہ کام نہیں کرے گا
(١٩٩٨٣) ابن زبیرحنظلی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمران بن حصین سے سوال کیا کہ کسی شخص نے محلے کی مسجد میں نماز نہ پڑھنے کی قسم کھائی تھی۔ حضرت عمران بن حصین نے فرمایا : میں نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔ میں نے کہا کہ وہ ساتھی کوئی تنگ دست نہیں ہے پھر وہ کیا کفارہ ادا کرے ؟ فرمایا : اگر وہ امراء میں سے ہے تو ہر انسان کو ٹوپی بھی پہنائے تو لوگوں نے کہا : انھوں نے ان کو ٹوپی بھی پہنائی اور سلمان سے ذکر کیا گیا کہ بہترین کپڑے لنگوٹ یا جان گیا ہے۔
(۱۹۹۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَیْرِ الْحَنْظَلِیُّ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَجُلاً حَدَّثَہُ : أَنَّہُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَجُلٍ حَلَفَ أَنَّہُ لاَ یُصَلِّی فِی مَسْجِدِ قَوْمِہِ فَقَالَ عِمْرَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ نَذْرَ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ وَکَفَّارَتُہُ کَفَّارَۃُ یَمِینٍ ۔ فَقُلْتُ یَا أَبَا نُجَیْدٍ إِنَّ صَاحِبَنَا لَیْسَ بِالْمُوسِرِ فَبِمَ یُکَفِّرُ قَالَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا قَامُوا إِلَی أَمِیرٍ مِنَ الأُمَرَائِ وَکَسَا کُلَّ إِنْسَانٍ مِنْہُمْ قَلَنْسُوۃً لَقَالَ النَّاسُ قَدْ کَسَاہُمْ۔

وَیُذْکَرُ عَنْ سَلْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ نِعْمَ الثَّوْبُ التُّبَّانُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৯০
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفارات کی آزادی میں کیا جائز ہے
(١٩٩٨٤) حضرت عمر بن حکم فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میری ایک لونڈی بکریاں چراتی تھی۔ ایک دن ایک بکری گم ہوگئی۔ میں نے اس کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا : بھیڑ یا کھا گیا۔ مجھے غصہ آیا تو میں نے اس کے چہرے پر تھپڑ دے مارا۔ میرے اوپر ایک گردن کا آزاد کرنا ہے کیا میں اس کو آزاد کردوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : اللہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا : آسمان میں، آپ نے پوچھا : میں کون ہوں ؟ اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو آزاد کر دو ۔
(۱۹۹۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أُسَامَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ جَارِیَۃً لِی کَانَتْ تَرْعَی غَنَمًا لِی فَفَقَدَتْ شَاۃً مِنَ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُہَا عَنْہَا فَقَالَتْ أَکْلَہَا الذِّئْبُ فَأَسِفْتُ وَکُنْتُ مِنْ بَنِی آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْہَہَا وَعَلَیَّ رَقَبَۃٌ أَأُعْتِقُہَا فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَیْنَ اللَّہُ؟ ۔ فَقَالَتْ : ہُوَ فِی السَّمَائِ فَقَالَ : مَنْ أَنَا؟ ۔

فَقَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّہِ۔ قَالَ : أَعْتِقْہَا ۔

کَذَا قَالَہُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۳۱۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৯১
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفارات کی آزادی میں کیا جائز ہے
(١٩٩٨٥) معاویہ بن حکم سلمی نے فال کے متعلق حدیث بیان فرمائی اور نماز کے اندر جمائی لینے کی متعلق، فرماتے ہیں کہ پھر میں نے اپنی بکریوں کا ریوڑ دیکھا جو لونڈی احد یا جوانیہ پہاڑ کے پاس چراتی تھی۔ بھیڑیا ایک بکری لے گیا ہے، میں بھی ابن آدم سے ہوں جیسے ان کو غصہ آتا مجھے بھی غصہ آیا۔ میں نے ایک تھپڑ رسید کردیا، پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور رسول اللہ کو بتایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو برا جانا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں اس کو آزاد کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو میرے پاس لاؤ۔ کہتے ہیں : میں اس کو آپ کے پاس لایا۔ آپ نے فرمایا : اللہ کہاں ہے ؟ کہنے لگی : آسمان میں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا میں کون ہوں : اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا : آزاد کر دو؛ کیونکہ یہ مومنہ ہے۔
(۱۹۹۸۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ حَدَّثَنِی عَطَائُ بْنُ یَسَارٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ الْحَکَمِ السُّلَمِیُّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی الطِّیَرَۃِ وَفِی الْعُطَاسِ فِی الصَّلاَۃِ قَالَ : ثُمَّ اطَّلَعْتُ غُنَیْمَۃً لِی تَرْعَاہَا جَارِیَۃٌ لِی قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِیَّۃِ فَوَجَدْتُ الذِّئْبَ قَدْ أَصَابَ مِنْہَا شَاۃً وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِی آدَمَ آسَفُ کَمَا یَأْسَفُونَ فَصَکَکْتُہَا صَکَّۃً ثُمَّ انْصَرَفْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرْتُہُ فَعَظَّمَ ذَلِکَ عَلَیَّ قَالَ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَفَلاَ أُعْتِقُہَا قَالَ : بَلِ ائْتِنِی بِہَا ۔ قَالَ : فَجِئْتُ بِہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہَا : أَیْنَ اللَّہُ؟ ۔ قَالَتْ : فِی السَّمَائِ ۔ قَالَ : فَمَنْ أَنَا؟ ۔ قَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّہِ۔ قَالَ : إِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ فَأَعْتِقْہَا ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَوْزَاعِیِّ دُونَ قِصَّۃِ الْجَارِیَۃِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৯২
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفارات کی آزادی میں کیا جائز ہے
(١٩٩٨٦) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی اپنی سیاہ لونڈی کو لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! میرے ذمہ ایک مومنہ لونڈی کا آزاد کرنا ہے کیا میں اس کو آزاد کر دوں ؟ اگر آپ اس کو مومنہ خیال کریں تو میں اس کو آزاد کر دوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تو اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ کہنے لگی : جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تو گواہی دیتی ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ؟ کہنے لگی : ہاں۔ آپ نے پوچھا : کیا تو موت کے بعد زندہ ہونے پر یقین رکھتی ہے ؟ کہنے لگی : ہاں۔ آپ نے فرمایا : اس کو آزاد کر دو ۔
(۱۹۹۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- بِوَلِیدَۃٍ سَوْدَائَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی عَلَیَّ رَقَبَۃٌ مُؤْمِنَۃٌ فَإِنْ کُنْتَ تَرَی ہَذِہِ مُؤْمِنَۃً أَعْتِقْہَا؟ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَتَشْہَدِینَ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ؟ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَ : أَتَشْہَدِینَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ؟ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَ : أَفَتُؤْمِنِینَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَ : أَعْتِقْہَا ۔ ہَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ قِیلَ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَدْ قِیلَ عَنْ عَوْنٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الظِّہَارِ۔

[صحیح۔ ابن کثیر ۲/ ۳۷۴]
tahqiq

তাহকীক: