আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

شکار اور ذبیحوں سے متعلق - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৯ টি

হাদীস নং: ১৮৯৭২
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مچھلیوں اور سمندر کے مردار کا حکم
(١٨٩٦٦) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ آپ سے سمندر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : اس کا پانی پاک اور مردار حلال ہے۔
(١٨٩٦٦) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ حَدَّثَنِی إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ ابْنِ مِقْسَمٍ یَعْنِی عُبَیْدَ اللَّہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سُئِلَ عَنِ الْبَحْرِ فَقَالَ : ہُوَ الطَّہُورُ مَاؤُہُ الْحِلُّ مَیْتَتُہُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৭৩
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مچھلیوں اور سمندر کے مردار کا حکم
(١٨٩٦٧) حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے تمہارے لیے سمندر کا شکار ذبح کے حکم میں رکھا ہے۔
(١٨٩٦٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُنْقِذٍ حَدَّثَنِی إِدْرِیسُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنِی الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مَوْہَبٍ عَنْ عِصْمَۃَ بْنِ مَالِکٍ الْخَطْمِیِّ عَنْ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ اللَّہَ ذَکَّی لَکُمْ صَیْدَ الْبَحْرِ ۔

ہَذَا إِسْنَادٌ غَیْرُ قَوِیٍّ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৭৪
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مچھلیوں اور سمندر کے مردار کا حکم
(١٨٩٦٨) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے ابوبکر (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ سمندر میں موجود شکار اللہ نے تمہارے لیے ذبح کردیا ہے تم کھاؤ، کیونکہ یہ ذبح شدہ ہے۔

(ب) ابو عبد الرحمن نے ابوبکر صدیق (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سمندر میں موجود چیزیں اللہ نے تمہارے لیے ذبح کردی ہیں۔
(١٨٩٦٨) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِیُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنِ ابْنِ أَبِی بَشِیرٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : إِنَّ اللَّہَ ذَبَحَ لَکُمْ مَا فِی الْبَحْرِ فَکُلُوہُ کُلَّہُ فَإِنَّہُ ذَکِیٌّ۔

وَرَوَی حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ قَالَ سَمِعْتُ شَیْخًا یُکْنَی أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : مَا فِی الْبَحْرِ مِنْ شَیْئٍ إِلاَّ قَدْ ذَکَّاہُ اللَّہُ لَکُمْ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৭৫
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مچھلیوں اور سمندر کے مردار کا حکم
(١٨٩٦٩) حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں کہ سمندری مردار کے بارے میں ابوبکر صدیق (رض) سے پوچھا گیا تو فرمایا کہ اس کا پانی پاک اور مردار حلال ہے۔ (ب) عمرو بن دینار اور ابو زبیر نے ایک صحابی سے سنا، جو کہتے تھے کہ سمندر میں ہر چیز ذبح شدہ ہے۔
(١٨٩٦٩) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سُئِلَ عَنْ مَیْتَۃِ الْبَحْرِ فَقَالَ : ہُوَ الطَّہُورُ مَاؤُہُ الْحَلاَلُ مَیْتَتُہُ ۔

وَرُوِیَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ وَأَبِی الزُّبَیْرِ سَمِعَا شُرَیْحًا رَجُلاً أَدْرَکَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : کُلُّ شَیْئٍ فِی الْبَحْرِ مَذْبُوحٌ۔

وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ شُرَیْحٍ مَرْفُوعًا وَرُوِیَ عَنْ جَابِرٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَرْجِسَ مَرْفُوعًا وَفِی بَعْضِ مَا ذَکَرْنَا إِسْنَادَہُ کِفَایَۃٌ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৭৬
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ ایسی مچھلی جسے یہودی، عیسائی ، مجوسی یا بتوں کا پجاری شکار کرے
(١٨٩٧٠) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : جس چیز کو سمندر باہر پھینک دے اور سمندر سے کیا ہوا شکار چاہے یہودی یا عیسائی یا مجوسی کرے اس کا کھانا حلال ہے۔
(١٨٩٧٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کُلُّ مَا أَلْقَی الْبَحْرُ وَمَا صِیدَ مِنْہُ صَادَہُ یَہُودِیٌّ أَوْ نَصْرَانِیٌّ أَوْ مَجُوسِیٌّ قَالَ وَطَعَامُہُ مَا أَلْقَی۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৭৭
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ ایسی مچھلی جسے یہودی، عیسائی ، مجوسی یا بتوں کا پجاری شکار کرے
(١٨٩٧١) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں : وہ مچھلی آپ کو نقصان نہ دے گی، جس کو لوگوں میں سے کسی نے بھی شکار کیا ہو۔
(١٨٩٧١) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَیْبَانَ ابْنِ الْبَغْدَادِیُّ الْہَرَوِیُّ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کُلِ السَّمَکَ وَلاَ یَضُرُّکَ مَنْ صَادَہُ مِنَ النَّاسِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৭৮
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جسے سمندر باہر پھینک دے اور ایسی مچھلی جو پانی کے اوپر تیر آئے
(١٨٩٧٢) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں : ہم جہاد کے لیے نکلے تو سخت بھوک محسوس ہوئی یہاں تک کہ لشکر میں ایک یا دو دو کھجوریں تقسیم کی جاتیں۔ اس دوارن ہم سمندر کے کنارے پر تھے۔ جب سمندر نے مردہ مچھلی باہر پھینک دی تو لوگوں نے اس کا گوشت یا چربی جتنا چاہا کاٹ لیا۔ وہ مچھلی ایک ٹیلے کی مانند تھی۔ مجھے پتہ چلا کہ لوگوں نے جب آ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ موجود ہے۔
(١٨٩٧٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَہُ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : غَزَوْنَا فَجُعْنَا حَتَّی إِنَّ الْجَیْشَ یَقْتَسِمُ التَّمْرَۃَ وَالتَّمْرَتَیْنِ فَبَیْنَا نَحْنُ عَلَی شَطِّ الْبَحْرِ إِذْ رَمَی الْبَحْرُ بِحُوتٍ مَیِّتٍ فَاقْتَطَعَ النَّاسُ مِنْہُ مَا شَائُوا مِنْ لَحْمٍ أَوْ شَحْمٍ وَہُوَ مِثْلُ الظَّرِبِ فَبَلَغَنِی أَنَّ النَّاسَ لَمَّا قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَخْبَرُوہُ فَقَالَ لَہُمْ : أَمَعَکُمْ مِنْہُ شَیْئٌ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৭৯
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جسے سمندر باہر پھینک دے اور ایسی مچھلی جو پانی کے اوپر تیر آئے
(١٨٩٧٣) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریشی قافلے کی تلاش میں ہمارے تین سو آدمیوں کے قافلے کا ابو عبیدہ بن جراح کو امیر بنا کر بھیجا ۔ ہم نے ساحل سمندر پر قیام کیا یہاں تک کہ ہمارا زاد راہ ختم ہوگیا جس کی بنا پر ہم نے درختوں کے پتے کھائے۔ پھر سمندر نے عنبر نامی مچھلی باہر پھینکی تو ہم نے پندرہ روز تک مچھلی کا گوشت کھایا۔ ہمارے جسم تندرست ہوگئے۔ ابو عبیدہ نے اس کی ایک پسلی کو کھڑا کیا اور لشکر میں سے بڑا اونٹ اور لمبے آدمی کو اس پر سوار کر کے اس کے نیچے سے گزار دیا۔ ایک شخص نے تین اونٹ ذبح کیے ، پھر دوسرے دن بھی ۔ اس کے بعد ابو عبیدہ نے منع کر دای۔ صحابہ کا خیال ہے کہ وہ قیس بن سعد تھے۔
(١٨٩٧٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَیْبَانَ الرَّمْلِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : بَعَثَنَا النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی ثَلاَثِمِائَۃِ رَاکِبٍ وَأَمِیرُنَا أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَطْلُبُ عِیرَ قُرَیْشٍ فَأَقَمْنَا عَلَی السَّاحِلِ حَتَّی فَنِیَ زَادُنَا فَأَکَلْنَا الْخَبَطَ ثُمَّ إِنَّ الْبَحْرَ أَلْقَی لَنَا دَابَّۃً یُقَالُ لَہَا الْعَنْبَرُ فَأَکَلْنَا مِنْہُ نِصْفَ شَہْرٍ حَتَّی صَلَحَتْ أَجْسَامُنَا وَأَخَذَ أَبُو عُبَیْدَۃَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِہِ فَنَصَبَہُ وَنَظَرَ إِلَی أَطْوَلِ بَعِیرٍ فِی الْجَیْشِ وَأَطْوَلِ رَجُلٍ فَحَمَلَہُ عَلَیْہِ فَجَازَ تَحْتَہُ وَقَدْ کَانَ رَجُلٌ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ ثُمَّ ثَلاَثًا ثُمَّ نَہَاہُ أَبُو عُبَیْدَۃَ وَکَانَ یَرَوْنَہُ قَیْسَ بْنَ سَعْدٍ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ کَمَا مَضَی۔

[صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৮০
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جسے سمندر باہر پھینک دے اور ایسی مچھلی جو پانی کے اوپر تیر آئے
(١٨٩٧٤) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : ایسی مچھلی جو مرنے کے بعد پانی پر تیر آتی ہے اس کے لیے حلال ہے جو کھانا چاہے۔
(١٨٩٧٤) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ

(ح) قَالَ وَحَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنِی یُوسُفُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی بَشِیرٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : أَشْہَدُ عَلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : السَّمَکَۃُ الطَّافِیَۃُ حَلاَلٌ لِمَنْ أَرَادَ أَکْلَہَا۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৮১
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جسے سمندر باہر پھینک دے اور ایسی مچھلی جو پانی کے اوپر تیر آئے
(١٨٩٧٥) وکیع سفیان سے نقل فرماتے ہیں کہ مرنے کے بعد پانی کے اوپر تیر آنے والی مچھلی حلال ہے۔
(١٨٩٧٥) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ بِہَذَا قَالَ : السَّمَکَۃُ الطَّافِیَۃُ عَلَی الْمَائِ حَلاَلٌ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৮২
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جسے سمندر باہر پھینک دے اور ایسی مچھلی جو پانی کے اوپر تیر آئے
(١٨٩٧٦) جابر بن زید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : ٹڈی اور مچھلی تمام ذبح کی ہوئی ہیں۔
(١٨٩٧٦) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ الرَّازِیُّ بِنَیْسَابُورَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : الْجَرَادُ وَالنُّونُ ذَکِیٌّ کُلُّہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৮৩
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جسے سمندر باہر پھینک دے اور ایسی مچھلی جو پانی کے اوپر تیر آئے
(١٨٩٧٧) حضرت علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں : مچھلیاں اور ٹڈی ذبح کی ہوئی ہیں۔
(١٨٩٧٧) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : الْحِیتَانُ وَالْجَرَادُ ذَکِیٌّ کُلُّہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৮৪
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جسے سمندر باہر پھینک دے اور ایسی مچھلی جو پانی کے اوپر تیر آئے
(١٨٩٧٨) حضرت انس ابو ایوب سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے صحابہ کے ساتھ سمندری سفر کیا تو ایک مچھلی کو مردہ حالت میں پانی پر تیرتے پایا تو انھوں نے ابو ایوب سے اس کے بارے میں پوچھا ۔ اس نے کہا : کیا وہ پاکیزہ ہے اس کی بو تبدیل نہیں ہوئی ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں ! تو فرمایا : کھاؤ اور میرا حصہ بھی رکھنا کیونکہ وہ روزہ دار تھے۔
(١٨٩٧٨) أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : زَاہِرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ زِیَادٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ ثُمَامَۃَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ رَکِبَ فِی الْبَحْرِ فِی رَہْطٍ مِنْ أَصْحَابِہِ فَوَجَدُوا سَمَکَۃً طَافِیَۃً عَلَی الْمَائِ فَسَأَلُوہُ عَنْہَا فَقَالَ : أَطَیِّبَۃٌ ہِیَ لَمْ تَغَیَّرْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ قَالَ : فَکُلُوہَا وَارْفَعُوا نَصِیبِی مِنْہَا وَکَانَ صَائِمًا۔

ہَکَذَا رَوَاہُ زَاہِرٌ وَرَوَاہُ الدَّارَقُطْنِیُّ عَنْ أَبِی بَکْرٍ فَقَالَ عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ وَإِنَّمَا ہُوَ ثُمَامَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَنَسٍ فَیُشْبِہُ أَنْ تَکُونَ رِوَایَۃُ زَاہِرٍ أَصَحُّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔

وَرَوَاہُ أَیْضًا جَبَلَۃُ بْنُ عَطِیَّۃَ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ وَیُذْکَرُ عَنْ مُرِیحٍ وَبِشْرٍ ابْنَیِ الْخَوْلاَنِیِّ أَحَدُہُمَا أَوْ کِلاَہُمَا أَنَّ أَبَا أَیُّوبَ وَأَبَا صِرْمَۃَ الأَنْصَارِیَّ أَکَلاَ الطَّافِیَ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৮৫
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جسے سمندر باہر پھینک دے اور ایسی مچھلی جو پانی کے اوپر تیر آئے
(١٨٩٧٩) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مرنے کے بعد مچھلی کا پانی پر تیر آنا اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
(١٨٩٧٩) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا زَکَرِیَّا السَّاجِیُّ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَجْلَحَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی الْہُذَیْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لاَ بَأْسَ بِالطَّافِی مِنَ السَّمَکِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৮৬
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جسے سمندر باہر پھینک دے اور ایسی مچھلی جو پانی کے اوپر تیر آئے
(١٨٩٨٠) حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت زید بن ثابت (رض) کا خیال ہے کہ جس کو سمندر باہر پھینکے اس مچھلی کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
(١٨٩٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَزِیدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُمَا کَانَا لاَ یَرَیَانِ بِأَکْلِ مَا لَفَظَ الْبَحْرُ بَأْسًا۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৮৭
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جسے سمندر باہر پھینک دے اور ایسی مچھلی جو پانی کے اوپر تیر آئے
(١٨٩٨١) ابو سلمہ ثویب سے نقل فرماتے ہیں کہ سمندر نے بہت ساری مچھلیاں باہر پھینک دیں تو ہم نے ابوہریرہ (رض) سے ان کے بارے میں فتویٰ پوچھا۔ انھوں نے کھانے کی اجازت دے دی۔ ہم نے ابوہریرہ (رض) کے فتویٰ سے بےرغبتی کرتے ہوئے مروان کے پاس آئے تو انھوں نے زید بن ثابت (رض) سے سوال کیا تو فرمایا : حلال ہیں تم کھا سکتے ہو۔
(١٨٩٨١) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ ثُوَیْبٍ قَالَ : رَمَیَ الْبَحْرُ بِسَمَکٍ کَثِیرٍ مَیِّتًا فَأَتَیْنَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَاسْتَفْتَیْنَاہُ فَأَمَرَنَا بِأَکْلِہِ فَرَغِبْنَا عَنْ فُتْیَا أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَأَتَیْنَا مَرْوَانَ فَأَرْسَلَ إِلَی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَہُ فَقَالَ : حَلاَلٌ فَکُلُوہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৮৮
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جسے سمندر باہر پھینک دے اور ایسی مچھلی جو پانی کے اوپر تیر آئے
(١٨٩٨٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : میں بحرین آیا تو وہاں کے لوگوں نے سمندر کی باہر پھینکی ہوئی مچھلی کے بارے میں مجھ سے پوچھا تو میں نے انھیں کھانے کا حکم دیا۔ پھر میں نے حضرت عمر (رض) سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : تو نے ان کو کیا حکم دیا ؟ ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : میں نے ان کو کھانے کا کہا۔ حضرت عمر (رض) کہتے ہیں : اگر تو اس کے علاوہ کچھ اور کہتا تو میں تجھے درے مارتا۔ پھر حضرت عمر نے یہ آیت تلاوت کی :{ اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمْ } [المائدۃ ٩٦] جو اس سے شکار کیا جائے اور جس کو یہ باہر پھینک دے۔
(١٨٩٨٢) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرُوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : قَدِمْتُ الْبَحْرَیْنِ فَسَأَلَنِی أَہْلُ الْبَحْرَیْنِ عَمَّا یَقْذِفُ الْبَحْرُ مِنَ السَّمَکِ فَأَمَرْتُہُمْ بِأَکْلِہِ فَلَمَّا قَدِمْتُ سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : مَا أَمَرْتَہُمْ ؟ قُلْتُ : أَمَرْتُہُمْ بِأَکْلِہِ فَقَالَ : لَوْ قُلْتَ غَیْرَ ذَلِکَ لَعَلَوْتُکَ بِالدِّرَّۃِ ثُمَّ قَرَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ { أُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہُ مَتَاعًا لَکُمْ } [المائدۃ ٩٦] قَالَ : صَیْدُہُ مَا اصْطِیدَ وَطَعَامُہُ مَا رَمَی بِہِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৮৯
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جسے سمندر باہر پھینک دے اور ایسی مچھلی جو پانی کے اوپر تیر آئے
(١٨٩٨٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ بحرین آیا تو ربذہ نامی جگہ پر عراق کے محرم لوگوں نے پانی پر تیر آنے والے شکار کے بارے میں مجھ سے پوچھا، وہ اس کے خریدنے اور کھانے کے بارے میں سوال کر رہے تھے تو میں نے حالت احرام میں ان کو یہ شکار خرید کر کھانے کی اجازت دے دی۔ پھر میں مدینہ آیا تو اس مسئلہ کے بارے میں میرے دل میں شک تھا جو میں نے ان کو حکم دیا تو میں نے حضرت عمر (رض) کے سامنے تذکرہ کیا۔ انھوں نے پوچھا : آپ نے اس کے بارے میں ان کو کیا حکم دیا ہے ؟ ابوہریرہ کہتے ہیں : میں نے انھیں خرید کر کھانے کی اجازت دی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر تو اس کے علاوہ کوئی اور بات کہتا تو میں یہ کرتا گویا کہ اس کو دھمکی دے رہے تھے۔
(١٨٩٨٣) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَقْبَلْتُ مِنَ الْبَحْرَیْنِ حَتَّی إِذَا کُنْتُ بِالرَّبَذَۃِ سَأَلَنِی نَاسٌ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ وَہُمْ مُحْرِمُونَ عَنْ صَیْدٍ وَجَدُوہُ عَلَی الْمَائِ طَافٍ فَسَأَلُونِی عَنِ اشْتِرَائِہِ وَأَکْلِہِ فَأَمَرْتُہُمْ أَنْ یَشْتَرُوہُ وَیَأْکُلُوہُ وَہُمْ مُحْرِمُونَ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَکَأَنَّہُ وَقَعَ فِی قَلْبِی شَکٌّ مِمَّا أَمَرْتُہُمْ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : وَمَا أَمَرْتَہُمْ بِہِ ؟ قَالَ قُلْتُ : أَمَرْتُہُمْ أَنْ یَشْتَرُوہُ وَیَأْکُلُوہُ قَالَ : لَوْ أَمَرْتَہُمْ بِغَیْرِ ذَلِکَ لَفَعَلْتُ أَیْ کَأَنَّہُ یَتَوَعَّدُہُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৯০
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جسے سمندر باہر پھینک دے اور ایسی مچھلی جو پانی کے اوپر تیر آئے
(١٨٩٨٤) ابو مجلز حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے اللہ کے اس قول : { اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمْ } [المائدۃ ٩٦] ” سمندر کا شکار تمہارے لیے حلال کردیا گیا اور اس کا کھانا تمہارے لیے فائدہ کی چیز ہے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا شکار تو وہ ہیجس شکار کیا گیا اور کھانے سے مراد جو وہ باہر پھینک دے۔
(١٨٩٨٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ { أُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہُ مَتَاعًا لَکُمْ } [المائدۃ ٩٦] قَالَ : صَیْدُہُ مَا صِیدَ وَطَعَامُہُ مَا قَذَفَ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৯১
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جسے سمندر باہر پھینک دے اور ایسی مچھلی جو پانی کے اوپر تیر آئے
(١٨٩٨٥) سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ اس کا شکار جو اس سے حاصل کیا جائے اور اس کا کھانا جو باہر پھینک دے۔
(١٨٩٨٥) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرُوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا حُصَیْنٌ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : صَیْدُہُ مَا اصْطِیدَ وَطَعَامُہُ مَا لَفَظَ بِہِ الْبَحْرُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক: