আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

شکار اور ذبیحوں سے متعلق - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৯ টি

হাদীস নং: ১৮৯৩২
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مجوس کے شکار کا بیان
(١٨٩٢٦) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ مجوس کے کتے اور پرندے کے شکار سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔ (ب) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ مجوس کے ذبیحہ اور ان کے کتے اور پرندے کے شکار سے منع فرمایا گیا۔
(١٨٩٢٦) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنِی الصُّوفِیُّ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ حَجَّاجٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِی بَزَّۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ الْیَشْکُرِیِّ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : نُہِینَا عَنْ صَیْدِ کَلْبِ الْمَجُوسِیِّ وَطَائِرِہِ ۔

وَرَوَاہُ أَیْضًا وَکِیعٌ عَنْ شَرِیکٍ ۔ غَیْرَ أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَاۃَ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔

وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ عَنْ شَرِیکٍ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاۃَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِی بَزَّۃَ وَأَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ سُلَیْمَانَ الْیَشْکُرِیِّ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : نَہَی عَنْ ذَبِیحَۃِ الْمَجُوسِیِّ وَصَیْدِ کَلْبِہِ وَطَائِرِہِ ۔

فِی ہَذَا الإِسْنَادِ مَنْ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৩৩
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جو تیر اور اسلحہ سے ذبح کرنے پر ہی قادر ہو
(١٨٩٢٧) عبایہ بن رفاعہ اپنے دادا رافع بن خدیج سے نقل فرماتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کل ہم دشمن سے ملنے والے ہیں۔ ہمارے پاس چھری نہیں ہے۔ فرمایا : جو خون بہائے اور جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو کھا لیں لیکن دانت اور ناخن سے ذبح نہ کریں، کیونکہ دانت ہڈی ہے جبکہ ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مال غنیمت ملا جس میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا۔ صحابہ نے پکڑنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے تو ایک شخص نے تیر مار کر روک لیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بعض اونٹ بھاگ جاتے ہیں جس طرح جنگلی جانور ہوتے ہیں، اگر ان میں کوئی قابو نہ آئے تو اسے اس طرح تیر مارا جائے، وہ اونٹ کنویں میں گرگیا۔ صحابہ اس کو گردن کی جانب سے نحر نہ کرسکے تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے دو درھم کے بدلے خرید لیا۔
(١٨٩٢٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبَایَۃَ بْنِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ عَنْ جَدِّہِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا لاَقُو الْعَدُوِّ غَدًا لَیْسَ مَعَنَا مُدًی قَالَ : مَا أَنْہَرَ الدَّمَ وَذُکِرَ اسْمُ اللَّہِ فَکُلْ لَیْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَی الْحَبَشَۃِ ۔ قَالَ : وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَہْبًا فَنَدَّ مِنْہَا بَعِیرٌ فَسَعَوْا لَہُ فَلَمْ یَسْتَطِیعُوہُ فَرَمَاہُ رَجُلٌ بِسَہْمٍ فَحَبَسَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ لِہَذِہِ الإِبِلِ أَوْ قَالَ النَّعَمِ أَوَابِدَ کَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَکُمْ بِہَا فَاصْنَعُوا بِہَا ہَکَذَا ۔

وَتَرَدَّی بَعِیرٌ فِی بِئْرٍ فَلَمْ یَسْتَطِیعُوا أَنْ یَنْحَرُوہُ إِلاَّ مِنْ قِبَلِ شَاکِلَتِہِ فَاشْتَرَی مِنْہُ ابْنُ عُمَرَ عَشِیرًا بِدِرْہَمَیْنِ وَقَالَ لَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو سَعِیدٍ فِی الْفَوَائِدِ تَعْشِیرًا۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ وَغَیْرِہِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৩৪
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جو تیر اور اسلحہ سے ذبح کرنے پر ہی قادر ہو
(١٨٩٢٨) عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج اپنے دادا رافع سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم تہامہ کے علاقہ ذوالحلیفہ میں تھے، لوگ بھوکے تھے انھیں اونٹ اور بکریاں ملیں۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو ہنڈیاں چولہوں پر تھیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہنڈیوں کو انڈیلنے کا حکم دیا۔ پھر دن کے درمیان تقسیم فرمائی، ایک اونٹ دس بکریوں کے برابر رکھا۔ راوی فرماتے ہیں کہ ایک اونٹ بھاگ گیا لیکن لوگوں کے پاس کمزور سا گھوڑا تھا، ایک شخص نے تیر مار کر روک لیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بعض اونٹ بھاگ جاتے ہیں جس طرح جنگلی جانور ہوتے ہیں اگر ان میں کوئی قابو نہ آئے تو اس طرح تیر مارا جائے۔

(ب) رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم کل کے دن دشمن سے ملنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم سر کنڈوں کے ساتھ ذبح کرسکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جو چیز خون بہائے اور اس پر بسم اللہ پڑھی جائے تو اسے کھانا جائز ہے۔ البتہ دانت اور ناخن نہ ہو اور میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشہ کی چھری ہے۔
(١٨٩٢٨) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَبَایَۃَ بْنِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ عَنْ جَدِّہِ رَافِعٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِذِی الْحُلَیْفَۃِ مِنْ تِہَامَۃَ وَقَدْ جَاعَ الْقَوْمُ فَأَصَابُوا إِبِلاً وَغَنَمًا فَانْتَہَی إِلَیْہِمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَقَدْ نُصِبَتِ الْقُدُورُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِالْقُدُورِ فَأُکْفِئَتْ ثُمَّ قَسَمَ بَیْنَہُمْ فَعَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِیرٍ قَالَ فَنَدَّ بَعِیرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ وَلَیْسَ فِی الْقَوْمِ إِلاَّ خَیْلٌ یَسِیرَۃٌ فَرَمَاہُ رَجُلٌ بِسَہْمٍ فَحَبَسَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ لِہَذِہِ الإِبِلِ أَوَابِدَ کَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَکُمْ مِنْہَا فَاصْنَعُوا بِہِ ہَکَذَا ۔

وَعَنْ عَبَایَۃَ عَنْ رَافِعٍ قَالَ قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا لاَقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَیْسَ مَعَنَا مُدًی أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَا أَنْہَرَ الدَّمَ وَذَکَرْتَ اسْمَ اللَّہِ عَلَیْہِ فَکُلْ مَا خَلاَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُخْبِرُکَ عَنْ ذَلِکَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَی الْحَبَشَۃِ ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ زَائِدَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৩৫
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جو تیر اور اسلحہ سے ذبح کرنے پر ہی قادر ہو
(١٨٩٢٩) رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ ذوالحلیفہ مقام پر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ لوگوں کو اونٹ اور بکریاں ملیں۔ عبایہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں اونٹ کنویں میں گرگیا۔ وہ کوکھ کی جانب سے ذبح کردیا گیا تو ابن عمر (رض) نے دسواں حصہ دو درھم کے بدلے میں خرید لیا۔
(١٨٩٢٩) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْبَاغَنْدِیُّ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبَایَۃَ بْنِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِذِی الْحُلَیْفَۃِ فَأَصَابَ النَّاسُ إِبِلاً وَغَنَمًا وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ قَالَ عَبَایَۃُ : ثُمَّ إِنَّ نَاضِحًا تَرَدَّی بِالْمَدِینَۃِ فَذُبِحَ مِنْ قِبَلِ شَاکِلَتِہِ فَأَخَذَ مِنْہُ ابْنُ عُمَرَ عَشِیرًا بِدِرْہَمَیْنِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قَبِیصَۃَ حَدِیثَ السِّنِّ وَأَخْرَجَاہُ بِطُولِہِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৩৬
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جو تیر اور اسلحہ سے ذبح کرنے پر ہی قادر ہو
(١٨٩٣٠) عبد الرحمن اور محمد حضرت جابر (رض) کے دونوں بیٹے اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک بھاگی ہوئی گائے ہمارے پاس سے گزری، وہ جس کے پاس سے بھی گزرتی تو ٹکر مارتی۔
(١٨٩٣٠) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ حَرَامٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدِ ابْنَیْ جَابِرٍ عَنْ أَبِیہِمَا أَنَّہُ قَالَ : مَرَّتْ عَلَیْنَا بَقَرَۃٌ مُمْتَنِعَۃٌ نَافِرَۃٌ لاَ تَمُرُّ عَلَی أَحَدٍ إِلاَّ نَطَحَتْہُ وَشَدَّتْ عَلَیْہِ فَخَرَجْنَا نَکُدُّہَا حَتَّی بَلَغْنَا الصَّمَّائَ وَمَعَنَا غُلاَمٌ قِبْطِیٌّ لِبَنِی حَرَامٍ وَمَعَہُ مُشْتَمِلٌ فَشَدَّتْ عَلَیْہِ لِتَنْطَحَہُ فَضَرَبَہَا أَسْفَلَ مِنَ الْمَنْحَرِ وَفَوْقَ مَرْجِعِ الْکَتِفِ فَرَکِبَتْ رَدْعَہَا فَلَمْ یُدْرَکْ لَہَا ذَکَاۃٌ قَالَ جَابِرٌ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - شَأْنَہَا فَقَالَ : إِذَا اسْتَوْحَشَتِ الإِنْسِیَّۃُ وَتَمَنَّعَتْ فَإِنَّہُ یُحِلُّہَا مَا یُحِلُّ الْوَحْشِیَّۃَ ارْجِعُوا إِلَی بَقَرَتِکُمْ فَکُلُوہَا ۔ فَرَجَعْنَا إِلَیْہَا فَاجْتَزَرْنَاہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৩৭
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جو تیر اور اسلحہ سے ذبح کرنے پر ہی قادر ہو
(١٨٩٣١) ابو عشراء دارمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ذبح صرف حلق سے کیا جاتا ہے ؟ فرمایا : اگر تو اس کے ران میں نیزہ مار دیتا تو وہ بھی تجھے کافی ہوتا۔

شیخ فرماتے ہیں کہ یہ کنویں میں گرنے والے جانور اور اس کے مشابہہ اشیاء میں ہے۔
(١٨٩٣١) أَخْبَرَنَا الإِمَامُ أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الإِسْفَرَائِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الشَّافِعِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ : عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی الْعُشَرَائِ الدَّارِمِیِّ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمَا تَکُونُ الذَّکَاۃُ إِلاَّ فِی الْحَلْقِ وَاللَّبَّۃِ ؟ قَالَ : وَأَبِیکَ لَوْ طَعَنْتَ فِی فَخِذِہَا لأَجْزَأَ عَنْکَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا فِی الْمُتَرَدِّی وَأَشْبَاہِہِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৩৮
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جو تیر اور اسلحہ سے ذبح کرنے پر ہی قادر ہو
(١٨٩٣٢) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جو چوپائے قابو میں نہ آئیں وہ شکار کے قائم مقام ہے کہ آپ اس کو نیزہ ماریں۔
(١٨٩٣٢) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : مَا أَعْجَزَکَ مِنَ الْبَہَائِمِ فَہُوَ بِمَنْزِلَۃِ الصَّیْدِ أَنْ تَرْمِیَہُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৩৯
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جو تیر اور اسلحہ سے ذبح کرنے پر ہی قادر ہو
(١٨٩٣٣) حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے پاس آیا اور کہا : میرا اونٹ بھاگ گیا تھا ۔ میں نے اس کو نیزہ مارا تھا، فرمایا : مجھے اس کی سرین ہدیہ میں دینا۔
(١٨٩٣٣) قَالَ وَحَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا حَبِیبُ بْنُ أَبِی ثَابِتٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : إِنَّ بَعِیرًا لِی نَدَّ فَطَعَنْتُہُ بِرُمْحٍ فَقَالَ : أَہْدِ لِی عَجُزَہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৪০
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جو تیر اور اسلحہ سے ذبح کرنے پر ہی قادر ہو
(١٨٩٣٤) غضبان یعنی ابن یزیدبجلی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ لوگ کوفہ آئے، وہاں محلی کے ایک شخص نے پڑاؤ کیا اور اونٹنی خریدی۔ وہ بھاگ گئی ۔ پھر اس نے دوسری خریدی تو اس کے بھاگ جانے کے ڈرے۔ اللہ کا نام لیا وہ مرگئی تو انھوں نے آ کر حضرت عبداللہ سے سوال کیا تو انھوں نے کھانے کا حکم دیا، لیکن قبیلے کے لوگ کھانے پر تیار نہ ہوئے، جب تک ایک ٹکڑا عبداللہ کے پاس نہ لائے جب انھوں نے کھالیا تو قبیلہ کے لوگ کھانے پر تیار ہوگئے۔
(١٨٩٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَیْسٍ عَنْ غَضْبَانَ ہُوَ ابْنُ یَزِیدَ الْبَجَلِیُّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : قَدِمَ النَّاسُ الْکُوفَۃَ فَأَعْرَسَ رَجُلٌ مِنَ الْحَیِّ فَاشْتَرَی جَزُورًا فَنَدَّتْ فَذَہَبَتْ ثُمَّ اشْتَرَی أُخْرَی فَخَشِیَ أَنْ تَنِدَّ فَعَرْقَبَہَا وَذَکَرَ اسْمَ اللَّہِ فَمَاتَتْ فَأَتَوْا عَبْدَ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلُوہُ فَأَمَرَہُمْ أَنْ یَأْکُلُوا فَوَاللَّہِ مَا طَابَتْ أَنْفُسُ الْحَیِّ أَنْ یَأْکُلُوا مِنْہَا شَیْئًا حَتَّی جَعَلُوا لَہُ مِنْہَا بِضْعَۃً ثُمَّ أَتَوْہُ بِہَا فَأَکَلَ وَرَجَعَ الْحَیُّ إِلَی طَعَامِہِمْ فَأَکَلُوا۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৪১
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کس چیز سے ذبح کیا جائے
(١٨٩٣٥) عبایہ بن رافع حضرت رافع بن خدیج سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم کل دشمن سے ملنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں۔ کیا ہم بانس کے چھلکے وغیرہ سے ذبح کرلیں ؟ آپ نے فرمایا : جو چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو کھاؤ لیکن جو ناخن اور دانت سے ذبح کیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ، کیونکہ دانت انسان کی ہڈی ہے جبکہ ناخن حبشہ کی چھری ہے۔
(١٨٩٣٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبَایَۃَ بْنِ رِفَاعَۃَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا لاَقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَیْسَتْ مَعَنَا مُدًی أَنُذَکِّی بِاللِّیطِ ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَا أَنْہَرَ الدَّمَ وَذُکِرَ عَلَیْہِ اسْمُ اللَّہِ فَکُلُوا إِلاَّ مَا کَانَ مِنْ سِنٍّ أَوْ ظُفُرٍ فَإِنَّ السِّنَّ عَظْمٌ مِنَ الإِنْسَانِ وَالظُّفُرُ مُدَی الْحَبَشِ ۔ [صحیح۔ تقدم ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৪২
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کس چیز سے ذبح کیا جائے
(١٨٩٣٦) عبایہ بن رفاعہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم کل دشمن سے ملاقات کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم کسی لکڑی سے ذبح کرلیں ؟ فرمایا : جو چیز خون بہا دے اور اس پر بسم اللہ واللہ اکبر پڑھا گیا ہو تو کھالو، لیکن جو ناخن، دانت سے ذبح کیا گیا ہو نہ کھاؤ، کیونکہ دانت انسانی ہڈی ہے جبکہ ناخن حبشہ کی چھری ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ہمیں اونٹ اور بکریاں ملیں اور ایک اونٹ دس بکریوں کے برابر تھا۔ ایک اونٹ بھاگ گیا جسے تیر مار کر روکا گیا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بعض اونٹ جنگلی جانوروں کی طرح ہوتے ہیں۔ جب کوئی اونٹ بھاگ جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرو اور کھالو۔
(١٨٩٣٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلِ بْنِ بَحْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبَایَۃَ بْنِ رِفَاعَۃَ عَنْ جَدِّہِ رَافِعٍ قَالَ سُفْیَانُ ثُمَّ حَدَّثَنِیہِ بَعْدُ عُمَرُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ َنْ أَبِیہِ عَنْ عُبَایَۃَ بْنِ رِفَاعَۃَ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا لاَقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَیْسَ مَعَنَا مُدًی أَفَنُذَکِّی بِاللِّیطِ ؟ فَقَالَ : مَا أَنْہَرَ الدَّمَ وَذُکِرَ اسْمُ اللَّہِ فَکُلُوا إِلاَّ مَا کَانَ مِنْ ظُفُرٍ أَوْ سِنٍّ فَإِنَّ السِّنَّ عَظْمٌ مِنَ الإِنْسَان وَالظُّفُرَ مُدَی الْحَبَشِ ۔

قَالَ : وَأَصَبْنَا إِبِلاً وَغَنَمًا فَکُنَّا نَعْدِلُ الْبَعِیرَ بِعَشْرٍ مِنَ الْغَنَمِ فَنَدَّ عَلَیْنَا بَعِیرٌ مِنْہَا فَرَمَیْنَاہُ بِالنَّبْلِ حَتَّی وَہَصْنَاہُ قَالَ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : إِنَّ لِہَذِہِ الإِبِلِ أَوَابِدَ کَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَإِذَا نَدَّ مِنْہَا شَیْئٌ فَاصْنَعُوا بِہِ ذَلِکَ وَکُلُوا ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৪৩
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کس چیز سے ذبح کیا جائے
(١٨٩٣٧) رافع بن خدیج نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : کل ہم دشمن سے ملنے والے ہیں، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جلدی کر، جو چیز خون بہا دے اور اللہ کا نام لیا گیا ہو کھاؤ، لیکن دانت اور ناخن سے ذبح نہ کیا گیا ہو، میں تمہیں بتاتا ہوں دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشہ کی چھری ہے۔ جلد باز لوگوں نے بکریاں ذبح کردیں اور ہنڈیاں پکانے کے لیے رکھ دیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے آخر میں تھے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ہنڈیوں کے پاس سے ہوا تو انھیں انڈیلنے کا حکم دے دیا اور ان کے درمیان تقسیم کردیا۔ آپ نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا۔ لوگوں کا اونٹ بھاگ گیا۔ ان کے پاس گھوڑا بھی نہیں تھا۔ ایک شخص نے تیر مارا تو اللہ نے اس کو روک دیا تو آپ نے فرمایا : یہ اونٹ بھاگ جاتے ہیں جس طرح جنگلی جانور ہوتے ہیں۔ جب کوئی اونٹ بھاگ جائے تو اس کے ساتھ یہی سلوک کر کے کھالو۔
(١٨٩٣٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبَایَۃَ بْنِ رِفَاعَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا نَلْقَی الْعَدُوَّ غَدًا وَلَیْسَ مَعَنَا مُدًی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَرِنْ أَوْ أَعْجِلْ مَا أَنْہَرَ الدَّمَ وَذُکِرَ اسْمُ اللَّہِ عَلَیْہِ فَکُلُوا مَا لَمْ یَکُنْ سِنٌّ أَوْ ظُفُرٌ وَسَأُحَدِّثُکُمْ عَنْ ذَلِکَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَی الْحَبَشَۃِ ۔ وَتَقَدَّمَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَتَعَجَّلُوا فَأَصَابُوا مِنَ الْمَغَانِمِ وَرَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی آخِرِ النَّاسِ فَنَصَبُوا قُدُورًا فَمَرَّ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِالْقُدُورِ فَأَمَرَ بِہَا فَأُکْفِئَتْ وَقَسَمَ بَیْنَہُمْ فَعَدَلَ بَعِیرًا بِعَشْرِ شِیَاہٍ وَنَدَّ بَعِیرٌ مِنْ إِبِلٍ الْقَوْمِ وَلَمْ یَکُنْ مَعَہُمْ خَیْلٌ فَرَمَاہُ رَجُلٌ بِسَہْمٍ فَحَبَسَہُ اللَّہُ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ لِہَذِہِ الإِبِلِ أَوَابِدَ کَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا فَعَلَ مِنْہَا ہَذَا فَافْعَلُوا بِہِ مِثْلَ ہَذَا ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ کَذَا قَالَ أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ وَسَائِرُ الرُّوَاۃِ عَنْ سَعِیدٍ قَالُوا عَنْ عَبَایَۃَ عَنْ جَدِّہِ وَقَدْ وَافَقَ حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْکِرْمَانِیُّ أَبَا الأَحْوَصِ عَلَی رِوَایَتِہِ ۔

[صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৪৪
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کس چیز سے ذبح کیا جائے
سابقہ حدیث کی طرح ہے
(١٨٩٣٨) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ الْخُزَاعِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ قَالاَ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْکِرْمَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبَایَۃَ بْنِ رِفَاعَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَحْوَہُ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৪৫
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ شکار کیے جانے کے بعد وہ زمین پر گرجائے
(١٨٩٣٩) ابو ثعلبہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا : جب تو نے بتایا کہ آپ شکار کے علاقہ میں رہتے ہیں جس کو آپ کی قوس لگے اس پر بسم اللہ اور اللہ اکبر پڑھو، پھر کھاؤ۔
(١٨٩٣٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ قَالَ سَمِعْتُ رَبِیعَۃَ بْنَ یَزِیدَ الدِّمَشْقِیَّ یَقُولُ أَخْبَرَنِی أَبُو إِدْرِیسَ : عَائِذُ اللَّہِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ : وَأَمَّا مَا ذَکَرْتَ أَنَّکَ بِأَرْضِ صَیْدٍ فَمَا أَصَبْتَ بِقَوْسِکَ فَاذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ ثُمَّ کُلْ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَنَّادِ بْنِ السَّرِیِّ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ ۔

أَخْبَرَنَا أَبُوْ بَکْرِ الأَْردستانی، أَنْبَأَ أَبُوْ نَصْرِ الْعِرَاقِیُّ ، ثَنَا سُفْیَانُ ، ثَنَا الأَْعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ مَسْرُوْقٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُاللّٰہِ : إِذَا رَمٰی أَحَدُکُمْ صَیْدًا فَتَرَدّٰی مِنْ جَبَلٍ فَمَاتَ فَلَا تَأْکُلُوْا، فِإِنِّیْ اَخَافُ أَنْ یَّکُوْنَ التَّرَدِّيْ قَتَلَہُ ، أَوْ وَقَعَ فِيْ مَائٍ فَمَاتَ فَلَا تَأْکُلْہُ ، فَإِنِّيْ أَخَافُ أَنْ یَّکُوْنَ الْمَائُ قَتَلَہٗ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৪৬
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ شکار کیے جانے کے بعد وہ زمین پر گرجائے
(١٨٩٤٠) مسروق عبداللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب تم شکار کرو اور وہ پہاڑ سے گر کر مرجائے تو مت کھاؤ، ممکن ہے وہ گرنے کی وجہ سے مرا ہو یا پانی میں گر کر مرے تب بھی نہ کھاؤ کیونکہ ممکن ہے پانی کی وجہ سے ہلاک ہوا ہو۔
(١٨٩٤٠) أَخْبَرَنَا أَبُوْبَکْرِ الأَْرْدَسْتَانِیُّ ، أَنْبَأَ أَبُوْ نَصْرِ الْعِرَاقِیُّ ، ثَنَا سُفْیَانُ ، ثَنَا الأَْعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ مَسْرُوْقٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : إِذَا رَمَی أَحَدُکُمْ صَیْدًا فَتَرَدَّی مِنْ جَبَلٍ فَمَاتَ فَلَا تَأْکُلُوْا، فَإِنِّیْ أَخَافُ أَنْ یَّکُوْنَ التَّرَدِیْ قَتَلَہٗ ، أَوْ وَقَعَ فِیْ مَائٍ فَمَاتَ فَلَا تَأْکُلْہُ ، فَإِنِّیْ أَخَافُ أَنْ یَّکُوْنَ الْمَائُ قَتَلَہٗ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৪৭
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ شکار کیے جانے کے بعد اگر پہاڑ سے گر کر یا پانی میں گرنے کے بعد ہلاک ہوجائے تو اس کا بیان
(١٨٩٤١) عدی بن حاتم (رض) نے شکار کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا : اگر تو اللہ کا نام لے کر شکار کو تیر مار کر ہلاک کر دے تو کھالے، اگر شکار پانی میں گر کر ہلاک ہوجائے تو نہ کھاؤ ؛کیونکہ معلوم نہیں کہ تیر یا پانی میں گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوا ہے۔
(١٨٩٤١) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا شُرَیْحٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ الصَّیْدِ قَالَ : إِذَا رَمَیْتَ سَہْمَکَ فَاذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ فَإِنْ وَجَدْتَہُ قَدْ قَتَلَ فَکُلْ وَإِنْ وَجَدْتَہُ قَدْ وَقَعَ فِی الْمَائِ فَمَاتَ فَإِنَّکَ لاَ تَدْرِی الْمَائُ قَتَلَہُ أَوْ سَہْمُکَ فَلاَ تَأْکُلْ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৪৮
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ شکار کیے جانے کے بعد اگر پہاڑ سے گر کر یا پانی میں گرنے کے بعد ہلاک ہوجائے تو اس کا بیان
(١٨٩٤٢) مسروق حضرت عبداللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب تم شکار کرو اور وہ پہاڑ سے گر کر ہلاک ہوجائے تو نہ کھاؤ، ممکن ہے وہ پہاڑ سے گرنے کی وجہ سے ہلاک ہواہو، اگر پانی میں گر کر ہلاک ہوجائے تب بھی نہ کھاؤ، کیونکہ اس میں احتمال ہے کہ پانی کی وجہ سے قتل ہوا۔
(١٨٩٤٢) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ : إِذَا رَمَی أَحَدُکُمْ صَیْدًا فَتَرَدَّی مِنْ جَبَلٍ فَمَاتَ فَلاَ تَأْکُلُوا فَإِنِّی أَخَافُ أَنْ یَکُونَ التَّرَدِّی قَتَلَہُ أَوْ وَقَعَ فِی مَائٍ فَمَاتَ فَلاَ تَأْکُلْہُ فَإِنِّی أَخَافُ أَنْ یَکُونَ الْمَائُ قَتَلَہُ ۔ [صحیح۔ تقدم قبل واحد ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৪৯
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ شکار پتھر یا بندوق سے کیا جائے
(١٨٩٤٣) حضرت عبداللہ بن مغفل نے ایک ساتھی کو کنکری پھینکتے ہوئے دیکھا، فرمایا : کنکری نہ پھینکو، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ناپسند فرمایا تھا یا منع کیا تھا، کیونکہ نہ تو اس سے شکار کیا جاسکتا ہے اور نہ دشمن کو ہلاک کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ دانت کو توڑ اور آنکھ کو پھوڑ سکتی ہے۔ اس کے بعد بھی وہ کنکری پھینکتا رہا تو اس سے کہنے لگے : میں تجھے بتارہا ہوں کہ آپ نے ناپسند کیا یا منع کیا تو تب بھی کنکری پھینک رہا ہے۔ میں تجھ سے اتنی مدت تک کلام نہ کروں گا۔
(١٨٩٤٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا کَہْمَسٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا کَہْمَسٌ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ قَالَ : رَأَی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُغَفَّلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِہِ یَخْذِفُ فَقَالَ لاَ تَخْذِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ یَکْرَہُ أَوْ قَالَ یَنْہَی عَنِ الْخَذْفِ فَإِنَّہُ لاَ یُصْطَادُ بِہِ الصَّیْدُ وَلاَ یُنْکَأُ بِہِ الْعَدُوُّ وَلَکِنَّہُ یَکْسِرُ السِّنَّ وَیَفْقَأُ الْعَیْنَ ثُمَّ رَآہُ بَعْدَ ذَلِکَ یَخْذِفُ فَقَالَ لَہُ أُخْبِرُکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ یَکْرَہُ أَوْ یَنْہَی عَنِ الْخَذْفِ ثُمَّ أَرَاکَ تَخْذِفُ لاَ أُکَلِّمُکَ کَلِمَۃً کَذَا وَکَذَا۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ وَعَنْ أَبِی دَاوُدَ سُلَیْمَانَ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ کَہْمَسٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৫০
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ شکار پتھر یا بندوق سے کیا جائے
(١٨٩٤٤) حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا اور کہا کہ اس سے نہ تو شکار کیا جاسکتا ہے نہ ہی دشمن کا نقصان کیا جاسکتا ہے ، لیکن کنکری پھینکنا آنکھ کو پھوڑے گا یادانت توڑے گا۔
(١٨٩٤٤) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ سَمِعَ عُقْبَۃَ بْنَ صُہْبَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَہَی عَنِ الْخَذْفَۃِ وَقَالَ : لاَ یُصَادُ بِہَا صَیْدٌ وَلاَ یُنْکَأُ بِہَا عَدُوٌّ وَإِنَّ الْخَذْفَۃَ تَکْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَیْنَ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ بِمَعْنَاہُ وَہَذَا اللَّفْظُ أَبْیَنُ فِیمَا قَصَدْنَاہُ ۔[صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৫১
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ شکار پتھر یا بندوق سے کیا جائے
(١٨٩٤٥) زربن حبیش فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا اور عید کے دن نکلا ۔ اچانک ایک شخص جو خود کام کرتا تھا لوگوں کے ساتھ یوں چل رہا تھا جیسے سوار ہو اور کہہ رہا تھا خلوص نیت سے ہجرت کرو۔ صرف مہاجرین کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے بغیر نیت کے ہجرت نہ کرو، اور خرگوش کو لاٹھی سے مارنے سے بچو، لیکن تم اسے نیزہ اور کانٹے سے ذبح کرسکتے ہو۔
(١٨٩٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَخَرَجْتُ فِی یَوْمِ عِیدٍ فَإِذَا رَجُلٌ مُتَلَبِّبٌ أَعْسَرَ أَیْسَرَ یَمْشِی مَعَ النَّاسِ کَأَنَّہُ رَاکِبٌ وَہُوَ یَقُولُ : ہَاجِرُوا وَلاَ تُہَجِّرُوا وَاتَّقُوا الأَرْنَبَ أَنْ یَحْذِفَہَا أَحَدُکُمْ بِالْعَصَا وَلَکِنْ لِیُذَکِّ لَکُمُ الأَسَلُ الرِّمَاحُ وَالنَّبْلُ ۔

قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : قَوْلُہُ ہَاجِرُوا وَلاَ تُہَجِّرُوا یَقُولُ : أَخْلِصُوا النِّیَّۃَ فِی الْہِجْرَۃِ وَلاَ تَشَبَّہُوا بِالْمُہَاجِرِینَ عَلَی غَیْرِ نِیَّۃٍ مِنْکُمْ فَہَذَا ہُوَ التَّہَجُّرُ قَالَ : وَکَلاَمُ الْعَرَبِ أَعْسَرُ یَسَرُ وَہُوَ الَّذِی یَعْمَلُ بِیَدَیْہِ جَمِیعًا سَوَائً ۔

[حسن ]
tahqiq

তাহকীক: