আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

شکار اور ذبیحوں سے متعلق - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৯ টি

হাদীস নং: ১৮৯৫২
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ شکار پتھر یا بندوق سے کیا جائے
(١٨٩٤٦) زید بن اسلم حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایسا شکار جو بندوق سے کیا جائے گویا کہ وہ لکڑی کی چوٹ سے مرا تصور ہوگا۔
(١٨٩٤٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَنْ زُہَیْرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی الْمَقْتُولَۃِ بِالْبُنْدُقَۃِ : تِلْکَ الْمَوْقُوذَۃُ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৫৩
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ شکار پتھر یا بندوق سے کیا جائے
(١٨٩٤٧) مالک نافع سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے دو پرندے پتھر سے شکار کیے اور دونوں کو پکڑ بھی لیا۔ ایک تو مرگیا جس کو عبداللہ بن عمر (رض) نے پھینک دیا اور دوسرا بھی ذبح سے پہلے ہلاک ہوگیا اس کو بھی پھینک دیا۔
(١٨٩٤٧) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّہُ قَالَ : رَمَیْتُ طَائِرَیْنِ بِحَجَرٍ قَالَ فَأَصَبْتُہُمَا فَأَمَّا أَحَدُہُمَا فَمَاتَ فَطَرَحَہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَمَّا الآخَرُ فَذَہَبَ عَبْدُ اللَّہِ یُذَکِّیہُ بِقَدُومٍ فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ یُذَکِّیَہِ فَطَرَحَہُ أَیْضًا۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৫৪
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ نیزہ کی چوڑائی والے حصہ سے شکار کیے جانے کا حکم
(١٨٩٤٨) حضرت عدی بن حاتم (رض) نے نیزہ کی چوڑائی کی جانب سے کیے جانے والے شکار کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا : جب تو شکار کو نیزہ مارے اور وہ اس کا خون بہا دے تو کھالو اگر چوڑائی کی جانب سے لگ کر قتل کر دے تو نہ کھاؤ۔
(١٨٩٤٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَم أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ وَرَجُلٌ آخَرُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ النَّخَعِیِّ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِذَا رَمَیْتَ فَسَمَّیْتَ فَخَرَقَ فَکُلْ وَإِنْ قَتَلَ وَإِذَا أَصَبْتَ بِعَرْضِہِ فَقَتَلَ فَلاَ تَأْکُلْ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قَبِیصَۃَ عَنْ سُفْیَانَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ کَمَا مَضَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৫৫
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ نیزہ کی چوڑائی والے حصہ سے شکار کیے جانے کا حکم
(١٨٩٤٩) حضرت عدی بن حاتم (رض) نے نیزہ کی چوڑائی کی جانب سے کیے ہوئے شکار کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا : جس کو نیزہ کی دھار لگے کھالو اور جس شکار کو نیزہ کی چوڑائی کی جانب لگے وہ لکڑی کی چوٹ سے مرا تصور ہوگا، نہ کھاؤ۔
(١٨٩٤٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ وَزَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْ صَیْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ : مَا أَصَبْتَ بِحَدِّہِ فَکُلْ وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِہِ فَہُوَ وَقِیذٌ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ وَزَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ وَغَیْرِہِمَا۔[صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৫৬
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ تم پر مردار، خون، خنزیر کا گوشتجوعبداللہ کے نام لے کر ذبح کیا گیا اونچی جگہ سے گر کر ہلاک ہوجانے والا جانور سینگ لگ کر مرجانے والا جانور، حرام کیا گیا اور جس کو درندے کھا جائیں مگر تم ذبح کرلو اور جو تھانوں پر ذبح کیے جائیں اور یہ کہ تم تیروں کے ذریعے
(١٨٩٥٠) حضرت علی بن ابو طلحہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے اللہ کے اس ارشاد : { مَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ } کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد جوتیوں کے نام پر چھوڑ جائے۔ اور المنخنقۃ ایسا جانور جس کا گلا گھونٹ کر مارا گیا ہو، الموقوذہ، ایسا جانور جو لکڑی کی چوٹ سے مارا جائے، المتردیۃ، ایسا جانور جو پہاڑ سے گر کر مرجائے، النطیحۃ، وہ بکری جو دوسری بکری کے سینگ لگنے کی وجہ سے ہلاک ہوجائے، وما اکل السبع، جس کو درندے نے پھاڑ کھایا، آپ نے پکڑا تو اس کی دم حرکت کر رہی تھی اور آنکھ بھی متحرک تھی تو اللہ کا نام لے کر ذبح کرو۔ یہ حلال ہے، ایک دوسری جگہ اس کی تفسیر الا ما ذکیتم، ایسے جانور جن میں روح ہو تم ذبح کرلو وہ حلال ہے، وما ذبح علی النصب، جن کو تھانوں پر ذبح کیا گیا ہو، ان کے نام پر مشھور کیا گیا ہو، دوسری تفسیر میں ہے کہ یہ بت ہیں، ان تستقسموا با لازلٰم، ایسے تیر جن کے ذریعے قسمت کا حال معلوم کرتے ہیں، ذٰلکم فسق، جس نے ان جانوروں سے کچھ کھایا یہ گناہ ہے۔
(١٨٩٥٠) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی ہَذِہِ الآیَۃِ قَالَ { وَمَا أُہِلَّ لِغَیْرِ اللَّہِ بِہِ } [المائدۃ ٣] یَعْنِی مَا أُہِلَّ لِلطَّوَاغِیتِ کُلِّہَا { وَالْمُنْخَنِقَۃُ } [المائدۃ ٣] الَّتِی تَنْخَنِقُ فَتَمُوتُ { وَالْمَوْقُوذَۃُ } [المائدۃ ٣] الَّتِی تُضْرَبُ بِالْخَشَبِ حَتَّی تَقِذَہَا فَتَمُوتُ { وَالْمُتَرَدِّیَۃُ } [المائدۃ ٣] الَّتِی تَتَرَدَّی مِنَ الْجَبَلِ فَتَمُوتُ { وَالنَّطِیحَۃُ } [المائدۃ ٣] الشَّاۃُ تَنْطَحُ الشَّاۃَ { وَمَا أَکَلَ السَّبُعُ } [المائدۃ ٣] یَقُولُ مَا أَخَذَ السَّبُعُ فَما أَدْرَکْتَ مِنْ ہَذَا کُلِّہِ فَتَحَرَّکَ لَہُ ذَنَبٌ أَوْ تَطْرِفُ لَہُ عَیْنٌ فَاذْبَحْ وَاذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ عَلَیْہِ فَہُوَ حَلاَلٌ۔

وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ ہَذَا التَّفْسِیرِ إِلاَّ مَا ذَکَّیْتُمْ قَالَ یَقُولُ مَا ذَکَّیْتُمْ مِنْ ہَؤُلاَئِ وَبِہِ رُوحٌ فَکُلُوہُ فَہُوَ ذَبِیحٌ وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَالنُّصُبُ أَنْصَابٌ کَانُوا یَذْبَحُونَ وَیُہِلُّونَ عَلَیْہَا وَفِی مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ ہَذَا التَّفْسِیرِ قَالَ : ہِیَ الأَصْنَامُ وَفِی قَوْلِہِ { وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالأَزْلاَمِ } [المائدۃ ٣] یَعْنِی الْقِدَاحَ کَانُوا یَسْتَقْسِمُونَ بِہَا فِی الأُمُورِ { ذَلِکُمْ فِسْقٌ} [المائدۃ ٣] یَعْنِی مَنْ أَکَلَ مِنْ ذَلِکَ کُلِّہِ فَہُوَ فِسْقٌ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৫৭
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جو غیر اللہ کے لیے ذبح کیا گیا
(١٨٩٥١) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سینقل فرماتے ہیں کہ ان کی ملاقات زید بن عمرو بننفیل سے بلدح کی نچلی جانب ہوئی۔ یہ وحی نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ زید نے آپ کے سامنے گوشت پیش کیا تو آپ نے کھانے سے انکار کردیا، اور فرمایا : جو تھانوں پر ذبح کیا جائے وہ میں نہیں کھاتا۔ میں تو صرف وہ کھاتا ہوں جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
(١٨٩٥١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَنَّ مُعَلَّی بْنَ أَسَدٍ الْعَمِّیَّ حَدَّثَہُمْ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ أَخْبَرَنِی سَالِمٌ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَنَّہُ لَقِیَ زَیْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحَ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْوَحْیُ فَقَدَّمَ إِلَیْہِ سُفْرَۃً فِیہَا لَحْمٌ فَأَبَی أَنْ یَأْکُلَ مِنْہَا ثُمَّ قَالَ : إِنِّی لاَ آکُلُ مِمَّا تَذْبَحُونَ عَلَی أَنْصَابِکُمْ وَلاَ آکُلُ إِلاَّ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللَّہِ عَلَیْہِ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُعَلَّی بْنِ أَسَدٍ ۔ [صحیح۔ بخاری ٣٠٢٦]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৫৮
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جو غیر اللہ کے لیے ذبح کیا گیا
(١٨٩٥٢) حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے لیے کوئی چیز مخصوص کی ہے ؟ فرماتے ہیں : عام لوگوں سے ہمارے لیے کچھ خاص تو نہیں کیا لیکن جو میری تلوار کے میان میں ہے۔ پھر انھوں نے ایک صحیفہ نکالا جس میں تھا کہ اللہ اس پر لعنت فرمائے جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرتا ہے اور جو زمین کی علامات کو چوری کرتا ہے اور اپنے والدین پر لعنت کرنے والے شخص پر اور جو بدعتی انسان کو جگہ دے۔
(١٨٩٥٢) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَمْرٌو ہُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِی بَزَّۃَ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ : سُئِلَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ہَلْ خَصَّکُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِشَیْئٍ ؟ قَالَ : مَا خَصَّنَا بِشَیْئٍ لَمْ یَعُمَّ بِہِ النَّاسَ کَافَّۃً إِلاَّ مَا کَانَ فِی قِرَابِ سَیْفِی ہَذَا قَالَ فَأَخْرَجَ صَحِیفَۃً فَإِذَا فِیہَا : لَعَنَ اللَّہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللَّہِ وَلَعَنَ اللَّہُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الأَرْضِ وَلَعَنَ اللَّہُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَیْہِ وَلَعَنَ اللَّہُ مَنْ آوَی مُحْدِثًا ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٩٧٨]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৫৯
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ ایسا جانور جس کو مارنے کا ارادہ ہو پھر ذبح کردیا جائے
(١٨٩٥٣) محمد بن زید فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بکری ذبح کی۔ اس کے خیال میں وہ مرگئی، لیکن اس نے حرکت کی، اس نے ابوہریرہ (رض) سے اس کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا : کھالو، جب زید بن ثابت سے سوال ہوا تو انھوں نے کہا : نہ کھاؤ کیونکہ مردہ کبھی حرکت بھی کرتا ہے۔
(١٨٩٥٣) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ : أَنَّ رَجُلاً ذَبَحَ شَاۃً وَہُوَ یَرَی أَنَّہَا قَدْ مَاتَتْ فَتَحَرَّکَتْ فَسَأَلَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ : کُلْہَا۔ فَسَأَلَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ لَہُ : لاَ تَأْکُلْہَا فَإِنَّ الْمَیْتَۃَ قَدْ تَتَحَرَّکُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৬০
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ ایسا جانور جس کو مارنے کا ارادہ ہو پھر ذبح کردیا جائے
(١٨٩٥٤) ابو مرہ کے غلام عقیل نے ابوہریرہ (رض) سے سوال کیا کہ ایک ذبح شدہ بکری کا بعض حصہ حرکت کرتا ہے تو ابوہریرہ (رض) نے کھانے کی اجازت دی تو زید بن ثابت سے اس کے بارے میں سوال ہوا تو انھوں نے کہا : مردار میرے خیال میں حرکت کرتا ہے نہ کھاؤ۔
(١٨٩٥٤) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی مُرَّۃَ مَوْلَی عَقِیلٍ : أَنَّہُ سَأَلَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ شَاۃٍ ذُبِحَتْ فَتَحَرَّکَ بَعْضُہَا فَأَمَرَہُ أَنْ یَأْکُلَہَا ثُمَّ سَأَلَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ زَیْدٌ : إِنَّ الْمَیْتَۃَ أَظُنُّہُ قَالَ لَتَتَحَرَّکُ وَنَہَاہُ عَنْ ذَلِکَ ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৬১
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ ایسا جانور جس کو مارنے کا ارادہ ہو پھر ذبح کردیا جائے
(١٨٩٥٥) حضرت زید بن ثابت نے فرمایا کہ کسی بکری میں بھیڑیا کچلیاں گاڑھ دیتا ہے، پھر وہ اس کو پتھر سے ذبح کرلیتے ہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے کھانے کی اجازت دی۔
(١٨٩٥٥) وَقَدْ رُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ مَرْفُوعٌ عَنْ زَیْدٍ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ بَالُوَیْہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ سَمِعْتُ حَاضِرَ بْنَ مُہَاجِرٍ أَبَا عِیسَی الْبَاہِلِیَّ قَالَ سَمِعْتُ سُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ یُحَدِّثُ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ ذِئْبًا نَیَّبَ فِی شَاۃٍ فَذَکَّوْہَا بِمَرْوَۃٍ فَرَخَّصَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِأَکْلِہَا۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৬২
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ ایسا جانور جس کو مارنے کا ارادہ ہو پھر ذبح کردیا جائے
(١٨٩٥٦) زید بن ثابت نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی بکری جس میں بھیڑیے نے دانت گاڑھ دیے ہوں ، اسے زندہ پکڑ کر ذبح کردیا گیا۔ آپ نے ایسی بکری کو کھانے کا حکم دیا۔
(١٨٩٥٦) وَکَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِیُّ حَدَّثَنَا رَبِیعَۃُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی عَتَّابٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْ شَاۃٍ نَیَّبَ فِیہَا الذِّئْبُ فَأُدْرِکَتْ وَبِہَا حَیَاۃٌ فَذُکِّیَتْ فَأَمَرَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِأَکْلِہَا۔ [ضعیف جدًا ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৬৩
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ ایسا جانور جس کو مارنے کا ارادہ ہو پھر ذبح کردیا جائے
(١٨٩٥٧) عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ بنو حارثہ کا ایک شخص احد کی کسی گھاٹی میں اونٹنیاں چرا رہا تھا۔ ایک اونٹنی مرنے لگی لیکن اس شخص کے پاس نحر کے لیے کوئی چیز موجود نہ تھی۔ اس نے کھونٹی پکڑ کر اس کے لبہ میں دے ماری جس سے خون بہہ گیا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا تو آپ نے کھانے کی اجازت دے دی۔
(١٨٩٥٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی حَارِثَۃَ : أَنَّہُ کَانَ یَرْعَی لِقْحَۃً بِشِعْبٍ مِنْ شِعَابِ أُحُدٍ فَأَخَذَہَا الْمَوْتُ فَلَمْ یَجِدْ شَیْئًا یَنْحَرُہَا بِہِ فَأَخَذَ وَتَدًا فَوَجَأَ بِہِ فِی لَبَّتِہَا حَتَّی أُہْرِیقَ دَمُہَا ثُمَّ جَائَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَخْبَرَہُ بِذَلِکَ فَأَمَرَہُ بِأَکْلِہَا۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৬৪
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ ایسا جانور جس کو مارنے کا ارادہ ہو پھر ذبح کردیا جائے
(١٨٩٥٨) عمرو بن شرحبیل حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہماری ایک بکری مرنے لگی تو ہم نے ذبح کر کے تقسیم کردی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تمہاری بکری کا کیا بنا ؟ کہتی ہیں : وہ مرنے لگی تھی، ہم نے ذبح کر کے گوشت تقسیم کردیا۔ صرف ایک کندھے، شانے کا گوشت باقی ہے۔ آپ نے فرمایا : مکمل بکری تمہارے لیے ہے سوائے شانے کے۔

(ب) زہری ابن مسیب سے نقل فرماتے ہیں کہ ذبح اس وقت بھی ہوسکتا ہے جب آنکھ اور دم حرکت کر رہے ہوں اور پاؤں بھی حرکت کرے۔
(١٨٩٥٨) حَدَّثَنَا الإِمَامُ أَبُو الطَّیِّبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَطَرٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی سُوَیْدٍ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَتْ لَنَا شَاۃٌ أَرَادَتْ أَنْ تَمُوتَ فَذَبَحْنَاہَا فَقَسَمْنَاہَا فَجَائَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : یَا عَائِشَۃُ مَا فَعَلَتْ شَاتُکُمْ ؟ ۔ قَالَتْ : أَرَادَتْ أَنْ تَمُوتَ فَذَبَحْنَاہَا فَقَسَمْنَاہَا وَلَمْ یَبْقَ عِنْدَنَا مِنْہَا إِلاَّ کَتِفٌ قَالَ : الشَّاۃُ کُلُّہَا لَکُمْ إِلاَّ الْکَتِفَ ۔

وَیُذْکَرُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : الذَّکَاۃُ الْعَیْنُ تَطْرِفُ وَالذَّنَبُ یَتَحَرَّکُ وَالرِّجْلُ تَرْتَکِضُ وَبِمَعْنَاہُ قَالَ عُبَیْدُ بْنُ عُمَیْرٍ وَطَاوُسٌ وَقَتَادَۃُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৬৫
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مچھلیوں اور سمندر کے مردار کا حکم
(١٨٩٥٩) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ تین سو کا قافلہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کی مارت میں روانہ کیا تاکہ ہم قریشی قافلوں پر نگاہ رکھیں، ہم نے ساحل سمندر پر قیام کیا، دوسری مرتبہ سفیان کہتے ہیں کہ ہم ساحل سمندر پر آدھا ماہ ٹھہرے رہے، ہمیں سخت بھوک لگی، جس کی بنا پر پتے کھانے پر مجبور ہوئے تو اس لشکر کا نام ہی جیش خبط رکھ دیا گیا تو سمندر نے ساحل پر مچھلی پھینکی جس کو عنبر کہا جاتا ہے۔ ہم نے نصف ماہ مچھلی کھائی اور اس کی چربی کا تیل لگایا، یہاں تک کہ ہمارے جسم مضبوط ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو عبیدہ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک لے کر کھڑی کی اور اپنے ساتھ ایک لمبا آدمی لے کر گزر گئے، دوسری مرتبہ سفیان فرماتے ہیں کہ ابو عبیدہ نے مچھلی کی ایک پسلی کھڑی کر کے اپنے ساتھ ایک آدمی اور اونٹ سمیت اس کے نیچے سے گزر گئے جابر (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے تین اونٹ ایک مرتبہ دوسری اور تیسری مرتبہ بھی تین تین اونٹ ذبح کیے۔ پھر ابو عبیدہ نے اس کو منع کردیا۔
(١٨٩٥٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ الَّذِی حَفِظْنَاہُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی ثَلاَثِمِائَۃِ رَاکِبٍ أَمِیرُنَا أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِیرَ قُرَیْشٍ فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً أُخْرَی فَأَتَیْنَا السَّاحِلَ فَأَقَمْنَا بِہِ نِصْفَ شَہْرٍ فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِیدٌ حَتَّی أَکَلْنَا الْخَبَطَ قَالَ فَسُمِّیَ ذَلِکَ الْجَیْشُ جَیْشَ الْخَبَطِ قَالَ فَأَلْقَی لَنَا الْبَحْرُ دَابَّۃً یُقَالُ لَہَا الْعَنْبَرُ فَأَکَلْنَا مِنْہُ نِصْفَ شَہْرٍ وَادَّہَنَّا مِنْ وَدَکِہِ حَتَّی ثَابَتْ إِلَیْنَا أَجْسَامُنَا قَالَ فَأَخَذَ أَبُو عُبَیْدَۃَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِہِ فَنَصَبَہُ وَعَمَدَ إِلَی أَطْوَلِ رَجُلٍ مَعَہُ قَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً أُخْرَی وَأَخَذَ أَبُو عُبَیْدَۃَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِہِ فَنَصَبَہُ وَأَخَذَ رَجُلاً وَبَعِیرًا فَمَرَّ مِنْ تَحْتِہِ قَالَ جَابِرٌ : وَکَانَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ ثُمَّ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ ثُمَّ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ ثُمَّ إِنَّ أَبَا عُبَیْدَۃَ نَہَاہُ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ الْعَلاَئِ عَنْ سُفْیَانَ ۔

[صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৬৬
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مچھلیوں اور سمندر کے مردار کا حکم
(١٨٩٦٠) حمیدی سفیان سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے ساحل کا ذکر نہیں کیا فرماتے ہیں کہ ابو عبیدہ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لے کر کھڑی کی۔ پھر ایک لمبے آدمی اور لشکر میں بڑے اونٹ کا انتخاب کیا اور اس کو حکم دیا کہ وہ سوار ہو کے اس کے نیچے سے گزر جائے تو وہ گزر گیا۔ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا تو آپ نے پوچھا : کیا تمہارے پاس کچھ موجود ہے ؟ ہم نے کہا : اب تو کچھ موجود نہیں۔
(١٨٩٦٠) وَرَوَاہُ الْحُمَیْدِیُّ عَنْ سُفْیَانَ فَلَمْ یَذْکُرِ السَّاحِلَ وَقَالَ : فَأَخَذَ أَبُو عُبَیْدَۃَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِہِ فَنَصَبَہُ ثُمَّ نَظَرَ أَطْوَلَ رَجُلٍ وَأَعْظَمَ جَمَلٍ فِی الْجَیْشِ فَأَمَرَہُ أَنْ یَرْکَبَ الْجَمَلَ ثُمَّ یَمُرُّ تَحْتَہُ فَفَعَلَ فَمَرَّ تَحْتَہُ فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَخْبَرْنَاہُ فَقَالَ : ہَلْ مَعَکُمْ مِنْہُ شَیْئٌ؟ ۔ قُلْنَا : لاَ ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৬৭
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مچھلیوں اور سمندر کے مردار کا حکم
(١٨٩٦١) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے جیش الخبط کی جنگ لڑی۔ ہمارے امیر ابوعبیدہ تھے۔ ہم نے شدید بھوک محسوس کی تو سمندر نے ساحل پر مردہ مچھلی پھینکی، ہم نے اتنی بڑی مچھلی نہ دیکھی تھی۔ اس کا نام عنبر تھا۔ ہم اسے پندرہ روز تک کھاتے رہے، ابو عبیدہ نے اس کی ہڈیوں میں سے ایک ہڈی کھڑی کی تو سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔

(ب) ابو زبیر نے جابر (رض) سے سنا کہ ابو عبیدہ نے کہا : کھالو، جب ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو ہم نے آپ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا : اللہ نے تمہارے لیے ر ازق نکالا اسے کھاؤ، بلکہ اگر تمہارے پاس ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ، آپ کی خدمت میں اس کا بعض حصہ پیش کیا گیا تو آپ نے کھایا۔
(١٨٩٦١) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : غَزَوْنَا جَیْشَ الخَبَطِ وَأَمِیرُنَا أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَجُعْنَا جُوعًا شَدِیدًا فَأَلْقَی الْبَحْرُ حُوتًا مَیِّتًا لَمْ یُرَ مِثْلُہُ یُقَالُ لَہُ الْعَنْبَرُ فَأَکَلْنَا مِنْہُ نِصْفَ شَہْرٍ فَأَخَذَ أَبُو عُبَیْدَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَظْمًا مِنْ عِظَامِہِ فَمَرَّ الرَّاکِبُ تَحْتَہُ ۔ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ وَأَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ فَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ : کُلُوا فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَکَرْنَا ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : کُلُوا رِزْقًا أَخْرَجَہُ اللَّہُ أَطْعِمُونَا إِنْ کَانَ مَعَکُمْ فَأَتَاہُ بَعْضُہُمْ فَأَکَلَہُ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ مَعَ زِیَادَۃِ أَبِی الزُّبَیْرِ ہَکَذَا۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৬৮
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مچھلیوں اور سمندر کے مردار کا حکم
(١٨٩٦٢) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو عبیدہ کو ہمارا امیر مقرر کر کے بھیجا۔ تاکہ ہم قریش کے قافلوں کی نگرانی کرسکیں اور ہمارے پاس کھجوروں کی ایک تھیلی کے علاوہ کوئی زاد راہ نہ تھا تو ابو عبیدہ ہمیں صرف ایک ایک کھجور دیتے۔ ہم نے پوچھا : تم اس کا کیا کرتے تھے ؟ راوی کہتے ہیں : ہم اس کو چوستے جیسے بچہ چوستا ہے۔ پھر اس کے بعد پانی پی لیتے جو ہمیں ایک دن کے لیے کافی ہوتا اور ہم اپنی لاٹھیوں سے پتے جھاڑ کر پانی میں تر کر کے کھالیتے تو ہمیں ساحل سمندر پر ایک بڑے ٹیلے کی مانند ایک مچھلی نظر آئی ۔ اس کا نام عنبر تھا۔ ابو عبیدہ نے کہا : یہ مدد ہے۔ پھر کہنے لگے : ہم اللہ کے راستے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصد ہیں ، مجبور کیے گئے ہیں کھاؤ، ہم تین سو افراد نے ایک مہینہ تک مچھلی کھائی۔ یہاں تک کہ ہم موٹے ہوگئے اور ہم اس مچھلی کی آنکھ کے گھڑے سے ایک گھڑا تیل کا نکال لیتے تھے اور اس سے بیل کی مانند ایک ٹکڑا کاٹ لیتے۔ ابو عبیدہ نے تیرہ آدمی لے کر آنکھ کے سوراخ میں کھڑے کردیے اور اس کی ایک پسلی کھڑی کر کے اس کے نیچے سے ایک بڑے اونٹ پر کجاوا رکھ کر گزار دیا اور ہم نے اس کا گوشت زادراہ کے لیے اختیار کرلیا۔ ہم نے مدینہ میں آ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا تو آپ نے فرمایا : یہ اللہ نے تمہارے لیے رزق نکالا تھا۔ کیا تمہارے پاس اس کا گوشت ہے، ہمیں بھی کھلاؤ تو کچھ حصہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھیجا تو آپ نے تناول فرمایا۔

(ب) احمد بن یونس کی روایت میں ہے کہ ہم ساحل سمندر پر چلے تو ہم نے ایک بڑے ٹیلے کی مانند کوئی چیز دیکھی۔ جب ہم اس کے قریب آئے تو وہ عنبر مچھلی تھی۔ ہم اس کی آنکھ کے سوارخ سے چربی کا ایک برتن نکال لیتے تھے اور ہم بیل کے مانند اس سے ٹکڑا کاٹ لیتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ انھیں اس مچھلی کے آنکھ کے سوراخ میں بٹھایا گیا۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ اس کا گوشت ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا تو آپ نے تناول فرمایا۔
(١٨٩٦٢) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَمَّرَ عَلَیْنَا أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَتَلَقَّی عِیرًا لِقُرَیْشٍ وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ یَجِدْ لَنَا غَیْرَہُ فَکَانَ أَبُو عُبَیْدَۃَ یُعْطِینَا تَمْرَۃً تَمْرَۃً فَقُلْنَا : کَیْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِہَا ؟ قَالَ : نَمَصُّہَا کَمَا یَمَصُّ الصَّبِیُّ ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَیْہَا مِنَ الْمَائِ فَیَکْفِینَا یَوْمَنَا إِلَی اللَّیْلِ وَکُنَّا نَضْرِبُ الْخَبَطَ بِعِصِیِّنَا ثُمَّ نَبُلُّہُ بِالْمَائِ فَنَأْکُلُہُ فَأَصَبْنَا عَلَی سَاحِلِ الْبَحْرِ مِثْلَ الْکَثِیبِ الضَّخْمِ دَابَّۃً تُدْعَی الْعَنْبَرُ فَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ : مَیْتَۃٌ ثُمَّ قَالَ : لاَ بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ فَکُلُوا فَأَکَلْنَا مِنْہُ شَہْرًا وَنَحْنُ ثَلاَثُمِائَۃٍ حَتَّی سَمِنَّا وَلَقَدْ کُنَّا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَیْنِہِ بِالْقِلاَلِ الدُّہْنَ وَنَقْطَعُ مِنْہُ الْفِدَرَ کَالثَّوْرِ وَلَقَدْ أَخَذَ أَبُو عُبَیْدَۃَ مِنَّا ثَلاَثَۃَ عَشَرَ رَجُلاً فَأَقَامَہُمْ فِی وَقْبِ عَیْنِہِ وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِہَا فَأَقَامَہَا ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِیرٍ فَمَرَّ تَحْتَہَا وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِہِ وَشَائِقَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ أَتَیْنَا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : ہُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَہُ اللَّہُ لَکُمْ فَہَلْ مَعَکُمْ مِنْ لَحْمِہِ شَیْئٌ فَتُطْعِمُونَا ۔ فَأَرْسَلْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْہُ فَأَکَلَ مِنْہُ

لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَفِی رِوَایَۃِ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ قَالَ : وَانْطَلَقْنَا عَلَی سَاحِلِ الْبَحْرِ فَرُفِعَ لَنَا عَلَی سَاحِلِ الْبَحْرِ کَہَیْئَۃِ الْکَثِیبِ الضَّخْمِ فَأَتَیْنَاہُ فَإِذَا دَابَّۃُ الْعَنْبَرِ وَقَالَ : لَقَدْ رَأَیْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ عَیْنِہِ بِالْقِلاَلِ الدُّہْنَ وَنَقْتَطِعُ مِنْہُ الْفِدَرَ کَالثَّوْرِ أَوْ کَقَدْرِ الثَّوْرِ وَقَالَ : فَأَقْعَدَہُمْ فِی عَیْنَیْہِ وَقَالَ فِی آخِرِہِ فَأَرْسَلْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَکَلَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ ۔

أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ فِی کِتَابِ تَحْرِیمِ الْجَمْعِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا الثَّقَفِیُّ وَہُوَ عَبْدُ الْوَہَّابِ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ سَأَلْتُ عَبِیدَۃَ عَنْ ذَبَائِحِ نَصَارَی بَنِی تَغْلِبَ فَقَالَ لاَ آکُلُ ذَبَائِحَہُمْ فَإِنَّہُمْ لَمْ یَتَمَسَّکُوا مِنْ نَصْرَانِیَّتِہِمْ إِلاَّ بُشُرْبِ الْخَمْرِ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ ہَکَذَا أَحْفَظُہُ وَلاَ أَحْسَبُہُ أَوْ غَیْرَہُ إِلاَّ وَقَدْ بَلَغَ بِہَذَا الإِسْنَادِ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ قَالَ الشَّیْخُ ُ وَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ لاَ شَکَّ فِیہِ فَقَدْ رَوَاہَ الشَّافِعِیُّ فِی کِتَابِ الضَّحَایَا عَنِ الثَّقَفِیِّ بِلاَ شَکٍّ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৬৯
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مچھلیوں اور سمندر کے مردار کا حکم
(١٨٩٦٣) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے حضرت ابو عبیدہ کو تین سو آدمیوں کا امیر مقرر کر کے ساحل سمندر کی جانب راونہ کیا۔ جابر (رض) کہتے ہیں : میں بھی ان میں شامل تھا، جب ہم نے کچھ سفر طے کیا تو ہمارا زاد راہ ختم ہوگیا۔ حضرت ابو عبیدہ نے پورے لشکر کا زاد راہ جمع کرلیا جو کھجور کی دو تھیلیاں تھیں تو ہر دن ہماری تھوڑی تھوڑی خوراک ہوا کرتی تھی۔ یہاں تک کہ وہ بھی ختم ہوگئی، پھر ہمیں روزانہ ایک کھجور ملتی تھی۔ میں نے پوچھا : کیا ایک کھجور کفایت کر جاتی تھی۔ راوی کہتے ہیں : جب زاد راہ ختم ہوگیا تو ہم ساحل سمندر پر آگئے، جہاں ٹیلے کی مانند ایک مچھلی پڑی تھی تو پورے لشکر نے اٹھارہ دن اس کو کھایا، پھر ابو عبیدہ کے حکم سے اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو سواری پر کجاوا رکھ کے اس کے نیچے سے گزاری گئی جو اس کی اونچائی تک نہ پہنچ سکی۔
(١٨٩٦٣) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِیُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ ہُوَ ابْنُ زِیَادٍ السُّرِّیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ عَنْ وَہْبِ بْنِ کَیْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ وَأَمَّرَ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَہُمْ ثَلاَثُمِائَۃٍ قَالَ جَابِرٌ وَأَنَا فِیہِمْ فَخَرَجْنَا حَتَّی إِذَا کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِیقِ فَنِیَ الزَّادُ فَأَمَرَ أَبُو عُبَیْدَۃَ بِأَزْوَادِ ذَلِکَ الْجَیْشِ فَجُمِعَ فَکَانَ مِزْوَدَیْ تَمْرٍ قَالَ : فَکَانَ یَقُوتُنَا کُلَّ یَوْمٍ یَعْنِی قَلِیلاً قَلِیلاً حَتَّی فَنِیَ فَلَمْ یَکُنْ یُصِیبُنَا کُلَّ یَوْمٍ إِلاَّ تَمْرَۃٌ فَقُلْتُ : مَا تُغْنِی تَمْرَۃٌ فَقَالَ : لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَہَا حِینَ فَنِیَتْ ثُمَّ انْتَہَیْنَا إِلَی الْبَحْرِ فَإِذَا بِحُوتٍ مِثْلِ الظَّرِبِ فَأَکَلَ مِنْہُ ذَلِکَ الْجَیْشُ ثَمَانَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَیْدَۃَ بِضِلَعَیْنِ مِنْ أَضْلاَعِہِ فَنُصِبَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَۃٍ فَرُحِلَتْ ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَہَا وَلَمْ یُصِبْہَا .

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَالِکٍ.

[صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৭০
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مچھلیوں اور سمندر کے مردار کا حکم
(١٨٩٦٤) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ساحل سمندر کی جانب ایک چھوٹا لشکر بھیجا، ہمارا زاد راہ ختم ہوگیا یہاں تک کہ ہم نے تمام لشکر سے زاد راہ کو جمع کیا اور ہر دن ایک شخص کے حصہ میں صرف ایک کھجور آتی تھی۔ ایک شخص نے جابر (رض) سے کہا : اے ابو عبداللہ ! کیا ایک کھجور انسان کو کفایت کر جاتی تھی ؟ اس نے کہا : اے بھتیجے ! ہم نے زاد راہ کے ختم ہونے کو پا لیا جس وقت وہ ختم ہوگیا، جابر (رض) کہتے ہیں : اسی دوران ہم نے بہت بڑی چیز دیکھی ۔ جب ہم اس کے قریب گئے تو وہ سمندر سے باہر ڈالی گئی مچھلی تھی تو لشکر نے وہاں اٹھارہ دن قیام کیا وہ جتنا چاہتے کھاتے یہاں تک کہ وہ موٹے تازے ہوگئے۔
(١٨٩٦٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ یَعْنِی ابْنَ کَثِیرٍ قَالَ سَمِعْتُ وَہْبَ بْنَ کَیْسَانَ یَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَرِیَّۃً أَنَا فِیہِمْ إِلَی سِیفِ الْبَحْرِ فَأَرْمَلْنَا الزَّادَ حَتَّی جَمَعْنَا مَا مَعَ کُلِّ إِنْسَانٍ فَجَعَلْنَاہُ وَاحِدًا حَتَّی کَانَ یُعْطِی کُلَّ إِنْسَانٍ قَدْرَ مَا یُصِیبُہُ حَتَّی مَا کَانَ یُصِیبُ إِنْسَانًا إِلاَّ تَمْرَۃٌ کُلَّ یَوْمٍ فَقَالَ رَجُلٌ لِجَابِرٍ : یَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ وَمَا یُغْنِی عَنْ رَجُلٍ تَمْرَۃٌ قَالَ : یَا ابْنَ أَخِی قَدْ وَجَدْنَا فَقْدَہَا حِینَ فَنِیَتْ قَالَ جَابِرٌ : فَبَیْنَا نَحْنُ عَلَی ذَلِکَ إِذْ رَأَیْنَا سَوَادًا فَلَمَّا غَشِیَنَا إِذَا دَابَّۃٌ مِنَ الْبَحْرِ قَدْ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَأَنَاخَ عَلَیْہَا الْعَسْکَرُ ثَمَانَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً یَأْکُلُونَ مِنْہَا مَا شَاء ُ وا حَتَّی أَرْبَعُوا .

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ. [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৭১
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مچھلیوں اور سمندر کے مردار کا حکم
(١٨٩٦٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم سمندری سفر میں اپنے ساتھ تھوڑا پانی رکھتے ہیں۔ اگر اس کے ساتھ وضو کریں تو پیاسے رہ جاتے ہیں، کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیں آپ نے فرمایا : اس کا پانی پاک اور مردار حلال ہے۔
(١٨٩٦٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ سَلَمَۃَ مَوْلَی الأَزْرَقِ أَنَّ الْمُغِیرَۃَ بْنَ أَبِی بُرْدَۃَ وَہُوَ مِنْ بَنِی عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا نَرْکَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِیلَ مِنَ الْمَائِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِہِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَائِ الْبَحْرِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ہُوَ الطَّہُورُ مَاؤُہُ الْحِلُّ مَیْتَتُہُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক: