আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

شکار اور ذبیحوں سے متعلق - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৯ টি

হাদীস নং: ১৮৯১২
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٩٠٦) عدی بن حاتم (رض) نے پوچھا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم میں سے کوئی شکار کو تیر مارنے کے بعد ایک یا دو دن اس کا پیچھا کرتا ہے تو مردہ حالت میں شکار کو پا لیتا ہے، جس میں اس کا تیر بھی موجود ہے ؟ کیا وہ اس کو کھالے ؟ فرمایا : اگر چاہے تو کھالے۔
(١٨٩٠٦) فَذَکَرَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ الْقَوَارِیرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی حَدَّثَنَا دَاوُدُ ہُوَ ابْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عَامِرٍ ہُوَ الشَّعْبِیُّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَحَدَنَا یَرْمِی فَیَقْتَفِرُ أَثَرَہُ الْیَوْمَ وَالْیَوْمَیْنِ فَیَجِدُہُ مَیِّتًا وَفِیہِ سَہْمُہُ أَیَأْکُلُ قَالَ : نَعَمْ إِنْ شَائَ ۔ أَوْ قَالَ : یَأْکُلُ إِنْ شَائَ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯১৩
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٩٠٧) عدی بن حاتم (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں شکار کو تیر مار کر ایک رات کے بعد اس کو تلاش کرتا ہوں۔ فرمایا : جب آپ اپنے تیر کا نشان شکار میں پائیں اور درندوں نے اس سے کچھ بھی نہ کھایا ہو تو آپ کھا لیں۔

(ب) عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب آپ اپنے تیر کے نشان کے علاوہ کوئی دوسرا نشان میں نہ دیکھیں اور آپ کو یقین ہو کہ آپ نے اس کو قتل کیا ہے تو کھالو۔
(١٨٩٠٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَیْسَرَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ یُحَدِّثُ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَرْمِی الصَّیْدَ فَأَطْلُبُ الأَثَرَ بَعْدَ لَیْلَۃٍ قَالَ : إِذَا رَأَیْتَ أَثَرَ سَہْمِکَ فِیہِ لَمْ یَأْکُلْ مِنْہُ سَبُعٌ فَکُلْ ۔

قَالَ شُعْبَۃُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لأَبِی بِشْرٍ فَقَالَ قَالَ ابْنُ جُبَیْرٍ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِذَا رَأَیْتَ سَہْمَکَ فِیہِ لَمْ تَرَ فِیہِ أَثَرًا غَیْرَہُ وَتَعْلَمُ أَنَّہُ قَتَلَہُ فَکُلْہُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯১৪
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٩٠٨) سعید بن جبیر (رض) حضرت عدی بن حاتم (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب آپ شکار میں اپنے تیر کے علاوہ کسی کا نشان نہ دیکھیں اور آپ کو یقین ہو کہ تو نے اس کو قتل کیا ہے تو کھالو۔
(١٨٩٠٨) وَأَخْبَرَنَا ابْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ قَالَ شُعْبَۃُ فَحَدَّثْتُ بِہِ أَبَا بِشْرٍ فَقَالَ إِنَّمَا قَالَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِذَا عَرَفْتَ سَہْمَکَ فِیہِ وَلَمْ تَرَ فِیہِ أَثَرَ غَیْرِہِ وَتَعْلَمُ أَنَّہُ قَتَلَہُ فَکُلْ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯১৫
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٩٠٩) سعید بن جبیر (رض) عدی بن حاتم (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں شکار کرتا ہوں اور صبح کے وقت میں اپنا تیر شکار میں پاتا ہوں۔ فرمایا : جب تو اپنا تیر شکار میں پائے اور تجھے اس کے قتل کا یقین ہو اور کسی درندے کا نشان بھی اس میں نہ دیکھے تو کھالو۔
(١٨٩٠٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ وَہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرْمِی الصَّیْدَ فَأَجِدُہُ مِنَ الْغَدِ فِیہِ سَہْمِی قَالَ : إِذَا وَجَدْتَ فِیہِ سَہْمَکَ وَعَلِمْتَ أَنَّہُ قَتَلَہُ وَلَمْ تَرَ فِیہِ أَثَرَ سَبُعٍ فَکُلْ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯১৬
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٩١٠) ابو ثعلبہ خثنی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو شکار کو تیر مارے اور شکار تین دن تک غائب رہنے کے بعد مل جائے تو بدبو پیدا ہونے سیپہلے آپ کھا سکتے ہیں۔
(١٨٩١٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِذَا رَمَیْتَ سَہْمَکَ فَغَابَ ثَلاَثَ لَیَالٍ فَأَدْرَکْتَہُ فَکُلْ مَا لَمْ یُنْتِنْ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِہْرَانَ الرَّازِیِّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ خَالِدٍ الْخَیَّاطِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯১৭
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٩١١) ابو ثعلبہ خثنی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ اس شکار کے متعلق جو تین دن کے بعد پا لیا جائے فرمایا بدبودار ہونے سے قبل کھا جاسکتا ہے۔
(١٨٩١١) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلِ بْنِ بَحْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعِیدٍ الْجَوْہَرِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَصْرٍ الأَنْطَاکِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ثَعْلَبَۃَ الْخُشْنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی الَّذِی یُدْرِکُ صَیْدَہُ بَعْدَ ثَلاَثٍ قَالَ : یَأْکُلُہُ إِلاَّ أَنْ یُنْتِنَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی خَلَفٍ عَنْ مَعْنٍ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯১৮
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٩١٢) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنیدادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی جس کو ابو ثعلبہ کہا جاتا تھا۔ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : میرے قوس کے بارے میں فتویٰ دیں، فرمایا : جو تیرا تیر واپس کر دے کھالے، اس نے کہا : ذبح کر کے یا بغیر ذبح کیے ؟ پھر اس نے کہا : اگر وہ مجھ سے غائب ہی رہے ؟ فرمایا : اگر وہ تجھ سے غائب رہے جب تک خراب نہ ہو یا کسی دوسرے تیر کا نشان نہ دیکھیں، اس نے کہا : مجوس کے برتنوں کے بارے میں فتویٰ دیں۔ کیا وہ مجبوری کے وقت استعمال کیے جاسکتے ہیں ؟ فرمایا : دھو کر استعمال کرلو۔
(١٨٩١٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ الضَّرِیرُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا حَبِیبٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ أَعْرَابِیًّا یُقَالُ لَہُ أَبُو ثَعْلَبَۃَ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَفْتِنِی فِی قَوْسِی قَالَ : کُلْ مَا رَدَّتْ عَلَیْکَ قَوْسُکَ ۔ قَالَ : ذَکِیٌّ وَغَیْرُ ذَکِیٍّ ؟ قَالَ : وَإِنْ تَغَیَّبَ عَنِّی ؟ قَالَ : وَإِنْ تَغَیَّبَ عَنْکَ مَا لَمْ یَصِلَّ أَوْ تَجِدْ فِیہِ أَثَرَ غَیْرِ سَہْمِکَ ۔ قَالَ : أَفْتِنِی فِی آنِیَۃِ الْمَجُوسِ إِذَا اضْطُرِرْتُ إِلَیْہَا قَالَ : اغْسِلْہَا وَکُلْ فِیہَا ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯১৯
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٩١٣) ابو ثعلبہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ میرے تیر کے بارے میں فتویٰ دیں ؟ فرمایا : کھاؤ جو تمہارا تیر تجھے لوٹا دے۔ میں نے کہا : اگر وہ مجھ سے چھپ جائیتو فرمایا : اگر شکار تجھ سے غائب بھی رہے اور اپنے تیر کے علاوہ اس میں کوئی نشان نہ دیکھے یا خراب نہ ہو۔

شیخ فرماتے ہیں : ایسا گوشت جس کی بو تبدیل ہوجائے، یہ کھانا حرام نہیں ہے، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ نے ایسی چربی کھائی جس کی بو تبدیل ہوچکی تھی۔
(١٨٩١٣) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی عَاصِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ الأَخْنَسِ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ أَبِی ثَعْلَبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَفْتِنِی فِی قَوْسِی ؟ قَالَ : کُلْ مَا رَدَّتْ عَلَیْکْ قَوْسُکَ ۔

قُلْتُ : فَإِنْ تَوَارَی عَنِّی ؟ قَالَ : وَإِنْ تَوَارَی عَنْکَ بَعْدَ أَنْ لاَ تَرَی فِیہِ إِلاَّ أَثَرَ سَہْمِکَ أَوْ یَصِلَّ ۔

قَالَ أَبُو مُوسَی یَعْنِی یَتَغَیَّرَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَبَلَغَنِی عَنْ أَبِی سُلَیْمَانَ الْخَطَّابِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَنَّہُ قَالَ قَوْلُہُ : مَا لَمْ یَصِلَّ فَإِنَّہُ یُرِیدُ مَا لَمْ یُنْتِنْ وَتَتَغَیَّرْ رِیحُہُ یُقَالُ صَلَّ اللَّحْمُ وَأَصَلَّ لُغَتَانِ وَہَذَا عَلَی مَعْنَی الاِسْتِحْبَابِ دُونَ التَّحْرِیمِ لأَنَّ تَغَیُّرَ رِیحِہِ لاَ یُحَرِّمُ أَکْلَہُ قَالَ : وَقَدْ رُوِیَ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَکَلَ إِہَالَۃً سَنِخَۃً وَہِیَ الْمُتَغَیَّرَۃُ الرِّیحِ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯২০
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٩١٤) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو کی روٹی اور ایسی چربی جس کی بو تبدیل ہوچکی تھی پر دعوت دی گئی۔
(١٨٩١٤) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الأَشْیَبِ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَقَدْ دُعِیَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی خُبْزِ شَعِیرٍ وَإِہَالَۃٍ سَنِخَۃٍ ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ عَنْ قَتَادَۃَ کَمَا أَخْرَجَاہُ فِی کِتَابِ الرَّہْنِ وَحَدِیثِ الْبَہْزِیِّ فِی حِمَارِ الْوَحْشِ الْعَقِیرِ وَفِی الظَّبْیِ الْحَاقِفِ فِیہِ سَہْمٌ قَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الْحَجِّ وَغَیْرِہِ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٠٦٩]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯২১
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٩١٥) عمیر بن سلمہضمری فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روحاء نامی جگہ پر ایک زخمی گدھے کو دیکھا۔ محمد بن ابی بکر نے اپنی حدیث میں زیادہ کیا ہے کہ جنگل میں۔ کہا گیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ زخمی گدھا ہے۔ آپ نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو اس کا مالک آجائے گا، تو بہز قبیلے کا ایک شخص آیا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے اس کو شکار کیا تھا ۔ آپ اپنے استعمال میں لاسکتے ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو حکم دیا کہ وہ اپنے ساتھیوں میں تقسیم کردیں، پھر آپ چلتے ہوئے اثابہ نامی جگہ جو عرج اور رویثیہ کے درمیان ہے پہنچے تو ایک ہرن جو سائے میں جسم کو ٹیڑھا کیے ہوئے بیٹھا تھا اور اس میں تیر بھی موجود تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو اس کے پاس کھڑا کردیا تاکہ کوئی شخص اسے نہ پکڑے یہاں تک کہ سارے لوگ گزر جائیں۔
(١٨٩١٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عِیسَی بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَلَمَۃَ الضَّمْرِیِّ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَرَجَ حَتَّی أَتَی الرَّوْحَائَ رَأَی حِمَارًا عَقِیرًا زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ فِی حَدِیثِہِ فِی بَعْضِ أَفْنَائِہَا وَقَالاَ جَمِیعًا فَقِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا حِمَارٌ عَقِیرٌ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : دَعُوہُ فَإِنَّ الَّذِی أَصَابَہُ سَیَجِیئُ ۔ فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ بَہْزٍ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَصَبْتُ ہَذَا فَشَأْنَکُمْ بِہِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَسَمَہُ بَیْنَ الرِّفَاقِ ثُمَّ سَارَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِالأُثَایَۃِ بَیْنَ الْعَرْجِ وَالرُّوَیْثَۃِ إِذَا ظَبْیٌ حَاقِفٌ فِی ظِلِّ فِیہِ سَہْمٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَجُلاً أَنْ یُقِیمَ عِنْدَہُ حَتَّی یُجِیزَ آخَرُ النَّاسِ لاَ یُعْرِضُ لَہُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯২২
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٩١٦) عمیر بن سلمہ ضمری ایک بہزی شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالتِ احرام میں روحاء کے جنگل کے بعض حصے سے گزرے تو وہاں ایک زخمی وحشی گدھا موجود تھا تو لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا۔
(١٨٩١٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ سَعِیدٍ یَقُولُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عِیسَی بْنِ طَلْحَۃَ أَنَّ عُمَیْرَ بْنَ سَلَمَۃَ الضَّمْرِیَّ أَخْبَرَہُ عَنِ الْبَہْزِیِّ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَرَجَ وَہُوَ مُحْرِمٌ حَتَّی إِذَا کَانَ بِبَعْضِ أَفْنَائِ الرَّوْحَائِ إِذَا حِمَارُ وَحْشٍ عَقِیرٌ فَذَکَرَہُ الْقَوْمُ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔

[صحیح۔ تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯২৩
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ ایسا شخص جو اپنے شکار کو زندہ پالے
(١٨٩١٧) حضرت عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو شکار پر اپنے کتے کو چھوڑے تو بسم اللہ اور اللہ اکبر کہہ، اگر کتا شکار کو تیرے لیے باقی رکھے اور شکار کو تو زندہ پالے تو ذبح کر اور اگر کتے نے شکار کو قتل کر کے کھایا نہیں تو وہ شکار کھالو۔ اگر تو اپنے کتے کے ساتھ کسی دوسرے کتے کو پائے کہ اس نے شکار کو قتل کردیا ہے تو آپ نہ کھائیں کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ کس نے قتل کیا ہے اور اگر تو شکار کو تیر مارے تو بسم اللہ اور اللہ اکبر پڑھ۔ اگر شکار تجھ سے ایک دن غائب رہے اور اس میں تو اپنے تیر کا نشان پائے چاہے تو کھالے، اگر آپ اس کو پانی میں ڈوبا ہوا پاتے ہیں تو پھر نہ کھائیں۔
(١٨٩١٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ یَعْنِی الْجَارُودِیَّ حَدَّثَنَا أَبُو ہَمَّامٍ : الوَلِیدُ بْنُ شُجَاعٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِذَا أَرْسَلْتَ کَلْبَکَ فَاذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ فَإِنْ أَمْسَکَ عَلَیْکَ فَأَدْرَکْتَہُ حَیًّا فَاذْبَحْہُ وَإِنْ أَدْرَکْتَہُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ یَأْکُلْ مِنْہُ فَکُلْہُ وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ کَلْبِکَ کَلْبًا غَیْرَہُ وَقَدْ قَتَلَ فَلاَ تَأْکُلْ فَإِنَّکَ لاَ تَدْرِی أَیُّہُمَا قَتَلَہُ وَإِنْ رَمَیْتَ سَہْمَکَ فَاذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ وَإِنْ غَابَ عَنْکَ یَوْمًا فَلَمْ تَجِدْ فِیہِ إِلاَّ أَثَرَ سَہْمِکَ فَکُلْ إِنْ شِئْتَ وَإِنْ وَجَدْتَہُ غَرِیقًا فِی الْمَائِ فَلاَ تَأْکُلْ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الوَلِیدِ بْنِ شُجَاعٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯২৪
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار کو نہ سکھایا ہوا کتا قتل کرے
(١٨٩١٨) ابو ثعلبہ خشنی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمارا علاقہ شکار والا ہے۔ میں وہاں سدھائے ہوئے اور بغیر سدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں۔ آپ ہمیں بتائیں ہمارے لیے اس میں سے کیا حلال ہے اور کیا حرام ؟ ، آپ نے فرمایا : جو سدھایا ہوا کتا شکار کرے اور تیرے لیے شکار کو روک بھی لے تو اللہ کا نام لے کر کھالو اور جو غیر سدھایا ہوا کتا شکار کرے، اگر آپ شکار کو ذبح کرلیں تو کھالو، اگر ذبح کا موقعہ نہ مل سکے تو نہ کھاؤ۔

(ب) حیوہ کی حدیث میں ہے کہ میں سدھائے اور غیر سدھائے کتوں سے شکار کرتا ہوں۔
(١٨٩١٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ أَنَّہُ سَمِعَ رَبِیعَۃَ بْنَ یَزِیدَ الدِّمَشْقِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیَّ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضَ صَیْدٍ أَصِیدُ بِالْکَلْبِ الْمُکَلَّبِ وَبِالْکَلْبِ الَّذِی لَیْسَ بِمُکَلَّبٍ فَأَخْبِرْنِی مَاذَا یَحِلُّ لَنَا مِمَّا یَحْرُمُ عَلَیْنَا مِنْ ذَلِکَ فَقَالَ : أَمَّا مَا صَادَ کَلْبُکَ الْمُکَلَّبُ فَکُلْ مِمَّا أَمْسَکَ عَلَیْکَ وَاذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ وَأَمَّا مَا صَادَ کَلْبُکَ الَّذِی لَیْسَ بِمُکَلَّبٍ فَأَدْرَکْتَ ذَکَاتَہُ فَکُلْ مِنْہُ وَمَا لَمْ تُدْرِکْ ذَکَاتَہُ فَلاَ تَأْکُلْ مِنْہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ الْمُقْرِئِ عَنْ حَیْوَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ ۔

وَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ حَیْوَۃَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : أَصِیدُ بِکَلْبِی الْمُعَلَّمِ وَبِکَلْبِی الَّذِی لَیْسَ بِمُعَلَّمٍ ۔

[صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯২৫
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مسلمان جب سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑے تو اس کے ساتھ کسی مسلمان کے کتے مل جائیں جس نے چھوڑا نہیں ہے
(١٨٩١٩) عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکار کے بارے میں پوچھا کہ میں اپنا کتا شکار پر چھوڑتا ہوں تو اس کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاتا ہوں۔ مجھے معلوم نہیں کہ دونوں میں سے کس نے شکار کو پکڑا۔ آپ نے فرمایا : تو شکار کو نہ کھا کیونکہ تو نے اپنے کتے کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا تھا، دوسرے کتے پر نہیں۔
(١٨٩١٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی السَّفَرِ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ الصَّیْدِ فَقُلْتُ أُرْسِلُ کَلْبِی فَأَجِدُ مَعَ کَلْبِی کَلْبًا آخَرَ لاَ أَدْرِی أَیُّہُمَا أَخَذَ فَقَالَ : لاَ تَأْکُلْہُ فَإِنَّکَ إِنَّمَا سَمَّیْتَ عَلَی کَلْبِکَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَی غَیْرِہِ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯২৬
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مسلمان جب سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑے تو اس کے ساتھ کسی مسلمان کے کتے مل جائیں جس نے چھوڑا نہیں ہے
(١٨٩٢٠) حضرت عدی فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں۔
(١٨٩٢٠) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُرْسِلُ کَلْبِی عَلَی الصَّیْدِ فَذَکَرَہُ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯২৭
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مسلمان جب سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑے تو اس کے ساتھ کسی مسلمان کے کتے مل جائیں جس نے چھوڑا نہیں ہے
(١٨٩٢١) عدی بن حاتم (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکار کے بارے میں سوال کیا اس نے حدیث کو ذکر کیا جس میں یہ تھا کہ آپ نے فرمایا : اگر تیرا کتا دوسرے کتوں کے ساتھ مل کر شکار کو قتل کر دے اور اس شکار کو کھائے نہیں تو آپ اس سے کچھ نہ کھائیں کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ کس نے اس کو قتل کیا ہے۔
(١٨٩٢١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ الصَّیْدِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : فَإِنْ خَالَطَ کَلْبُکَ کِلاَبًا فَقَتَلْنَ وَلَمْ یَأْکُلْنَ فَلاَ تَأْکُلْ مِنْہُ شَیْئًا فَإِنَّکَ لاَ تَدْرِی أَیُّہَا قَتَلَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯২৮
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جس شخص نے شکار کو تیر یا کوڑا مارا یا کتا چھوڑا تو شکار کی پشت، سر، پیٹ یا اسے دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا
(١٨٩٢٢) ابو ثعلبہ خشنی (رض) فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : ہم شکار کے علاقہ میں رہتے ہیں۔ میں اپنی کمان سے شکار کرتا ہوں۔ بعض اوقات ذبح کا موقع مل جاتا ہے اور کبھی ذبح کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو تیری کمان، کتا، ہاتھ تجھ پر لوٹ دے اسے کھالو ذبح ہو یا نہ ہو۔
(١٨٩٢٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَۃَ : أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنِی الزُّبَیْدِیُّ حَدَّثَنِی یُونُسُ بْنُ سَیْفٍ حَدَّثَنِی أَبُو إِدْرِیسَ : عَائِذُ اللَّہِ عَنْ أَبِی ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا فِی أَرْضِ صَیْدٍ فَأَرْمِی بِقَوْسِی فَمِنْہُ مَا أُدْرِکُ ذَکَاتَہُ وَمِنْہُ مَا لاَ أُدْرِکُ ذَکَاتَہُ وَأُرْسِلُ کَلْبِی الْمُکَلَّبَ فَمِنْہُ مَا أُدْرِکُ ذَکَاتَہُ وَمِنْہُ مَا لَمْ أُدْرِکْ ذَکَاتَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَا رَدَّتْ عَلَیْکَ قَوْسُکَ وَکَلْبُکَ وَیَدُکَ فَکُلْ ذَکِیٌّ وَغَیْرُ ذَکِیٍّ ۔ [حسن۔ تقدم برقم ١٨٨٨٣]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯২৯
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جس شخص نے شکار کو تیر یا کوڑا مارا یا کتا چھوڑا تو شکار کی پشت، سر، پیٹ یا اسے دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا
(١٨٩٢٣) عقبہ بن عامر جہنی، حذیفہ بن یما ن (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ شکار حلال ہے جو تیری قوس واپس کرے۔
(١٨٩٢٣) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَیْبٍ حَدَّثَہُ أَنَّ مَوْلًی لِشُرَحْبِیلَ ابْنِ حَسَنَۃَ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ الْجُہَنِیَّ وَحُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ صَاحِبَیْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولاَنِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : حِلٌّ مَا رَدَّتْ عَلَیْکَ قَوْسُکَ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৩০
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جو گوشت زندہ سے کاٹا جائے مردار ہے
(١٨٩٢٤) ابو واقد لیثی فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے۔ لوگ اونٹوں کی کوہان اور بکریوں کی رانیں کاٹ لیتے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو گوشت زندہ جانور سے کاٹا گیا وہ مردار کے حکم میں ہے۔
(١٨٩٢٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی وَاقِدٍ اللَّیْثِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْمَدِینَۃَ وَالنَّاسُ یَجُبُّونَ أَسْنِمَۃَ الإِبِلِ وَیَقْطَعُونَ أَلْیَاتِ الْغَنَمِ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَا قُطِعَ مِنَ الْبَہِیمَۃِ وَہِیَ حَیَّۃٌ فَہُوَ مَیْتَۃٌ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৩১
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مجوس کے شکار کا بیان
(١٨٩٢٥) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اھل کتاب کا شکار کھالو لیکن مجوس کا شکار نہ کھاؤ۔
(١٨٩٢٥) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کُلْ مِنْ صَیْدِ أَہْلِ الْکِتَابِ وَلاَ تَأْکُلْ مِنْ صَیْدِ الْمَجُوسِ ۔
tahqiq

তাহকীক: