আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

شکار اور ذبیحوں سے متعلق - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৯ টি

হাদীস নং: ১৮৮৯২
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ سکھائے ہوئے باز کے شکار کا حکم جب وہ اس سے کھالے
(١٨٨٨٦) ابن ابی الزناد اپنے والد سے جو معتبر فقہارء سے نقل فرماتے ہیں کہ جو سکھایا ہوا کتا یا باز شکار کو قتل کر دے وہ شکار حلال ہے اگرچہ کتا اور باز اس شکار سے کھا بھی لیں۔
(١٨٨٨٦) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الرَّفَّائُ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ الَّذِینَ یُنْتَہَی إِلَی قَوْلِہِمْ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ : مَا قَتَلَ الْکَلْبُ أَوِ الصَّقْرُ أَوِ الْبَازِی الْمُعَلَّمُ فَہُوَ حَلاَلٌ وَإِنْ أَکَلَ مِنْہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৯৩
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جانور کو شکار پر چھوڑتے ہوئے بسم اللہ پڑھنا
(١٨٨٨٧) حضرت عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکار کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتایا : جب تو اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑے تو بسم اللہ اور اللہ اکبر پڑھ، اگر شکار کو تو زندہ پالے تو اللہ کا نام لے کر ذبح کرو۔ اگر کتے نے شکار کے بعد کھایا نہیں بلکہ روکے رکھا، اگر کتے نے شکار کرنے کے بعد اس سے کھالیا تو آپ شکار کا گوشت نہ کھائیں، کیونکہ یہ شکار اس نے اپنے لیے کیا ہے۔ اگر تیرے کتے کے ساتھ دوسرے کتے بھی شامل ہو کر شکار کو قتل کردیں اور کھائیں بھی نہیں تو آپ شکار کو نہ کھائیں؛ کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ کس نے قتل کیا ہے اور جب آپ تیر چھوڑیں تو اللہ کا نام لے کر چھوڑو۔
(١٨٨٨٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ ہُوَ ابْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ سَأَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ الصَّیْدِ قَالَ : إِذَا أَرْسَلْتَ کَلْبَکَ فَاذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ فَإِنْ أَدْرَکْتَہُ لَمْ یَقْتُلْ فَاذْبَحْ وَاذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ وَإِنْ أَدْرَکْتَہُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ یَأْکُلْ فَقَدْ أَمْسَکَہُ عَلَیْکَ فَإِنْ وَجَدْتَہُ قَدْ أَکَلَ مِنْہُ فَلاَ تَطْعَمْ مِنْہُ شَیْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَکَ عَلَی نَفْسِہِ فَإِنْ خَالَطَ کَلْبَکَ کِلاَبٌ فَقَتَلْنَ وَلَمْ یَأْکُلْنَ فَلاَ تَأْکُلْ مِنْہُ فَإِنَّکَ لاَ تَدْرِی أَیُّہَا قَتَلَ وَإِذَا رَمَیْتَ سَہْمَکَ فَاذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ ۔

وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَاصِمٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৯৪
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کا ذبیحہ حلال ہے اگر وہ بسم اللہ کو ترک کر دے
(١٨٨٨٨) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم ایسی سر زمین میں رہتے ہیں جہاں کے لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں۔ وہ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں کہ وہ اللہ کا نام بھی لیتے ہیں یا نہیں۔ فرمایا : تم اللہ کا نام لے کر گوشت کھالیا کرو۔
(١٨٨٨٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرِ بْنِ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَیَّانَ وَمُحَاضِرٌ الْمَعْنَی عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی إِبْرَاہِیمُ الْجَوْزِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ وَمُحَاضِرٌ قَالَ أَبُو خَالِدٍ سَمِعْتُ ہِشَامَ بْنَ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنْ ہَا ہُنَا أَقْوَامًا حَدِیثَ عَہْدٍ بِشِرْکٍ یَأْتُونَنَا بِلُحْمَانٍ لاَ نَدْرِی یَذْکُرُونَ اسْمَ اللَّہِ عَلَیْہَا أَمْ لاَ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ وَکُلُوا ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مُوسَی عَنْ أَبِی خَالِدٍ سُلَیْمَانَ بْنِ حَیَّانَ الأَحْمَرِ وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِیِّ وَأُسَامَۃَ بْنِ حَفْصٍ عَنْ ہِشَامٍ مَوْصُولاً ۔

قَالَ وَتَابَعَہُمُ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ ہِشَامٍ

قَالَ الشَّیْخُ وَتَابَعَہُمْ أَیْضًا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ وَعَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ وَمَسْلَمَۃُ بْنُ قَعْنَبٍ وَیُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ الْجُمَحِیُّ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَاصِمٍ کُلُّہُمْ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح۔ بخاری ٢٠٥٢]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৯৫
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کا ذبیحہ حلال ہے اگر وہ بسم اللہ کو ترک کر دے
(١٨٨٨٩) ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ دیہاتی لوگ گوشت ذبح کر کے ہمارے پاس لاتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : وہ کیا کرتے ہیں ؟ پھر فرمایا : تم بسم اللہ پڑھ کر کھالیا کرو۔
(١٨٨٨٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ نَاسٌ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ یَأْتُونَ بِلُحْمَانٍ قَدْ ذَبَحُوہَا فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَیْفَ یَصْنَعُونَ فَقَالَ : سَمُّوا عَلَیْہَا اسْمَ اللَّہِ وَکُلُوہَا ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ہِشَامٍ مُرْسَلاً دُونَ ذِکْرِ عَائِشَۃَ بِمَعْنَی رِوَایَۃِ مَنْ رَوَاہُ مَوْصُولاً ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৯৬
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کا ذبیحہ حلال ہے اگر وہ بسم اللہ کو ترک کر دے
(١٨٨٩٠) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سینقل فرماتے ہیں کہ مسلمان کے لیے اللہ کا نام ہی کافی ہے۔ اگر وہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا بھول جائے تو کھاتے وقت اللہ کا نام لے کر کھالے (یعنی بسم اللہ پڑھ کر کھالے) ۔
(١٨٨٩٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : الْمُسْلِمُ یَکْفِیہِ اسْمُہُ فَإِنْ نَسِیَ أَنْ یُسَمِّیَ حِینَ یَذْبَحُ فَلْیَذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ وَلْیَأْکُلْہُ ۔

کَذَا رَوَاہُ مَرْفُوعًا۔ [منکر ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৯৭
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کا ذبیحہ حلال ہے اگر وہ بسم اللہ کو ترک کر دے
(١٨٨٩١) عین حضرت عبداللہ بن عباس سے نقل فرماتے ہیں کہ جس شخص کو ذبح کے وقت بسم اللہ پڑھنا یاد نہ رہا، فرماتے ہیں کہ مسلمان کے اندر اللہ کا نام ہے اگرچہ اس نے بسم اللہ نہیں بھی پڑھی۔
(١٨٨٩١) وَرَوَاہُ غَیْرُہُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عَیْنٍ وَہُوَ عِکْرِمَۃُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا أَخْبَرَنَاہُ أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ زَکَرِیَّا النَّضْرُوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عَیْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِیمَنْ ذَبَحَ وَنَسِیَ التَّسْمِیَۃَ قَالَ : الْمُسْلِمُ فِیہِ اسْمُ اللَّہِ وَإِنْ لَمْ یَذْکُرِ التَّسْمِیَۃَ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৯৮
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کا ذبیحہ حلال ہے اگر وہ بسم اللہ کو ترک کر دے
(١٨٨٩٢) عین حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب مسلمان شخص ذبح کرے اور بسم اللہ اور اللہ اکبر کہنا بھول جائے تو ذبح شدہ جانور کھالے، کیونکہ مسلم میں بھی اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہوتا ہے۔
(١٨٨٩٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ أَبِی الشَّعْثَائِ وَہُوَ جَابِرُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عَیْنٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا ذَبَحَ الْمُسْلِمُ وَنَسِیَ أَنْ یَذْکُرَ اسْمَ اللَّہِ فَلْیَأْکُلْ فَإِنَّ الْمُسْلِمَ فِیہِ اسْمٌ مِنْ أَسْمَائِ اللَّہِ

یَعْنِی بِعَیْنٍ عِکْرِمَۃَ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৯৯
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کا ذبیحہ حلال ہے اگر وہ بسم اللہ کو ترک کر دے
(١٨٨٩٣) عطاء حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سینقل فرماتے ہیں کہ جو شخص ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا بھول گیا تو وہ کھاتے وقت بسم اللہ پڑھ کر کھالے اور شیطان کے لیے اس کو نہ چھوڑے، جبکہ اس نے فطرتِ اسلام پر اس کو ذبح کیا ہے۔
(١٨٨٩٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرُوِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : مَنْ ذَبَحَ فَنَسِیَ أَنْ یُسَمِّیَ فَلْیَذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ عَلَیْہِ وَلْیَأْکُلْ وَلاَ یَدَعْہُ لِلشَّیْطَانِ إِذَا ذَبَحَ عَلَی الْفِطْرَۃِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯০০
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کا ذبیحہ حلال ہے اگر وہ بسم اللہ کو ترک کر دے
(١٨٨٩٤) حضرت ابوہرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آ کر کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو ذبح کرتے وقت بسم اللہ کہنا بھول جاتا ہے ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کا نام لینا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
(١٨٨٩٤) أَخْبَرَنَا أَبُوسَعْدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَزِیدَ وَالْحَسَنُ بْنُ الْحَارِثِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو ہَمَّامٍ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ سَالِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ الرَّجُلَ مِنَّا یَذْبَحُ وَیَنْسَی أَنْ یُسَمِّیَ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اسْمُ اللَّہِ عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ ۔

قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : عَامَّۃُ حَدِیثِ مَرْوَانَ بْنِ سَالِمٍ مِمَّا لاَ یُتَابِعُہُ الثِّقَاتُ عَلَیْہِ

قَالَ الشَّیْخُ : مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ الْجَزَرِیُّ ضَعِیفٌ ضَعَّفَہُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَالْبُخَارِیُّ وَغَیْرُہُمَا وَہَذَا الْحَدِیثُ مُنْکَرٌ بِہَذَا الإِسْنَادِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯০১
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کا ذبیحہ حلال ہے اگر وہ بسم اللہ کو ترک کر دے
(١٨٨٩٥) ثور بن یزید سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان کا ذبیحہ حلال ہے اگرچہ اس نے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا ہو یا نہ، کیونکہ وہ اللہ کا نام ذکر کرے یا نہ کرے وہ اللہ کا نام ہی لیتا ہے۔
(١٨٨٩٥) وَفِیمَا رَوَی أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دَاوُدَ عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیدَ عَنِ الصَّلْتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ذَبِیحَۃُ الْمُسْلِمِ حَلاَلٌ ذَکَرَ اسْمَ اللَّہِ أَوْ لَمْ یَذْکُرْہُ إِنَّہُ إِنْ ذَکَرَ لَمْ یَذْکُرْ إِلاَّ اسْمَ اللَّہِ ۔

أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯০২
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ آیت { وَ لَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِاسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ } کا سبب نزول
(١٨٨٩٦) سعید بن جبیر (رض) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے یہ جھگڑا پیش کیا کہ ہم خود ذبح کر کے کھاتے ہیں اور اللہ کی ماری ہوئی چیز ہم نہیں کھاتے، اللہ نے یہ آیت نازل کردی : { وَ لَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِاسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ } [الأنعام ١٢١] کہ جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے نہ کھاؤ۔
(١٨٨٩٦) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : خَاصَمَتِ الْیَہُودُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَتْ : نَأْکُلُ مِمَّا قَتَلْنَا وَلاَ نَأْکُلُ مِمَّا قَتَلَ اللَّہُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تَأْکُلُوا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللَّہِ عَلَیْہِ } [الأنعام ١٢١] ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯০৩
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ آیت { وَ لَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِاسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ } کا سبب نزول
(١٨٨٩٧) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے اللہ کے اس قول { وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰٓی اَوْلِیٰٓئِھِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْ } [الأنعام ١٢١]” کہ شیطان اپنے دوستوں کو وحی کرتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں “ کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں : جو اللہ ذبح کرے تم نہ کھاؤ اور جو تم خود ذبح کرو کھالو تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : { وَ لَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِاسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ } جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ۔
(١٨٨٩٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ حَدَّثَنَا سِمَاکٌ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ { وَإِنَّ الشَّیَاطِینَ لَیُوحُونَ إِلَی أَوْلِیَائِہِمْ لِیُجَادِلُوکُمْ } [الأنعام : ١٢١] قَالُوا یَقُولُونَ : مَا ذَبَحَ اللَّہُ فَلاَ تَأْکُلُوہُ وَمَا ذَبَحْتُمْ أَنْتُمْ فَکُلُوہُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تَأْکُلُوا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللَّہِ عَلَیْہِ } [الأنعام ١٢١] ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯০৪
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٨٩٨) عطاء بن سائب حضرت عامر سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے ہرن کا تحفہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیش کیا۔ آپ نے پوچھا : تو نے کہاں سے حاصل کیا ؟ دیہاتی نے کہا : کل شام میں نے اس کو تیر مارا، تلاش کرتے کرتے، شام کا وقت ہوگیا میں واپس پلٹ آیا پھر صبح کے وقت میں نے اس کا پیچھا کیا تو یہ غار یا پتھروں کے اندر پڑا ہوا تھا اور میں نے اپنا موجود نیزہ اس میں پہچان لیا۔ آپ نے فرمایا : ایک رات گزر گئی، ممکن ہے کسی بیماری کی وجہ سے یہ ہلاک ہوا ہو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
(١٨٨٩٨) فِیمَا رَوَی أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنِ النُّفَیْلِیِّ عَنْ زُہَیْرٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عَامِرٍ : أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَہْدَی لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ظَبْیًا فَقَالَ : مِنْ أَیْنَ أَصَبْتَ ہَذَا ؟ ۔ قَالَ : رَمَیْتُہُ أَمْسِ فَطَلَبْتُہُ فَأَعْجَزَنِی حَتَّی أَدْرَکَنِی الْمَسَائُ فَرَجَعْتُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ اتَّبَعْتُ أَثَرَہُ فَوَجَدْتُہُ فِی غَارٍ أَوْ أَحْجَارٍ وَہَذَا مِشْقَصِی فِیہِ أَعْرِفُہُ قَالَ : بَاتَ عَنْکَ لَیْلَۃً وَلاَ آمَنُ أَنْ تَکُونَ ہَامَۃٌ أَعَانَتْکَ عَلَیْہِ لاَ حَاجَۃَ لِی فِیہِ ۔[ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯০৫
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(٩٩ ١٨٨) ابو رزین فرماتے ہیں کہ ایک شخص شکار لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ اس نے کہا : میں نے اس کو تیر مارا اور تلاش کرتے کرتے اس نے مجھے تھکا دیا تو صبح کے وقت میں نے اسے پا لیا اور اپنا تیر پہچان لیا۔ آپ نے فرمایا : کہ رات اللہ رب العزت کی عظیم مخلوق ہے شاید کسی دوسری چیز نے آپ کی مدد کی ہو اس کو پھینک دو ۔
(١٨٨٩٩) وَعَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ جَرِیرٍ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عَائِشَۃَ عَنْ أَبِی رَزِینٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِصَیْدٍ فَقَالَ : إِنِّی رَمَیْتُہُ مِنَ اللَّیْلِ فَأَعْیَانِی وَوَجَدْتُ سَہْمِی فِیہِ مِنَ الْغَدِ وَقَدْ عَرَفْتُ سَہْمِی فَقَالَ : اللَّیْلُ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ عَظِیمٌ لَعَلَّہُ أَعَانَکَ عَلَیْہِ شَیْئٌ انْبِذْہَا عَنْکَ ۔

أَخْبَرَنَا بِہِمَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُمَا۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯০৬
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٩٠٠) ابو رزین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب شکار تجھ سے غائب ہوجائے اور پھر تو اس کو اچانک پالے اور اس نے حشرات الارض کا ذکر کیا۔
(١٨٩٠٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْبَاغَنْدِیُّ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عَائِشَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَزِینٍ عَنْ أَبِی رَزِینٍ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِذَا غَابَ عَنْکَ الصَّیْدُ فَصَادَفْتَہُ ۔ وَذَکَرَ ہَوَامَّ الأَرْضِ ۔

وَأَبُو رَزِینٍ ہَذَا اسْمُہُ مَسْعُودٌ مَوْلَی شَقِیقِ بْنِ سَلَمَۃَ وَلَیْسَ بِأَبِی رَزِینٍ مَوْلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَالْحَدِیثُ مُرْسَلٌ قَالَہُ الْبُخَارِیُّ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯০৭
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٩٠١) عمرو بن میمون اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس آیا اور حضرت میمون ان کے پاس موجود تھے۔ اس دیہاتی نے کہا : اللہ آپ کی اصلاح کرے، میں شکار کو تیر مار کر اپنے سامنے گراتا ہوں اور زخمی کر کے چھوڑ دیتا ہوں آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا : جو شکار کا جانور تمہارے سامنے گر کر دم توڑ دے اسے کھاؤ اور جو زخمی ہو کر دور جا کرے اسے نہ کھاؤ۔
(١٨٩٠١) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الرُّحَیْلِ حَدَّثَہُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَیْمُونٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَتَی إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَمَیْمُونٌ عِنْدَہُ فَقَالَ : أَصْلَحَکَ اللَّہُ إِنِّی أَرْمِی الصَّیْدَ فَأُصْمِی وَأُنْمِی فَکَیْفَ تَرَی ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : کُلْ مَا أَصْمَیْتَ وَدَعْ مَا أَنْمَیْتَ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯০৮
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٩٠٢) عبداللہ بن ابی ہذیل فرماتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے مجھے چند چیزوں کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے پوچھنے کا کہا۔ میں ایک کاغذ لکھ کر حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس اس وقت آیا، جب لوگ ان سے سوال کر رہے تھے۔ جب لوگوں نے میرے لکھے ہوئے تمام سوال کرلیے اور میں نے ان سے کچھ بھی نہ پوچھا تو ایک دیہاتی نے سوال کیا کہ میں ایک غلام ہوں جو اپنے گھر والوں کے اونٹوں کی دیکھ بھال کرتا ہوں، ایک شخص مجھ سے پانی طلب کرتا ہے کیا میں اس کو پانی پلا دوں ؟ تر حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا : نہ پلاؤ، دیہاتی نے کہا : اگر مجھے اس کے ہلاک ہوجانے کا ڈر محسوس ہو۔ فرمایا : اسے اتنا پانی پلاؤ کہ اس کی جان بچ جائے، پھر اس کے گھر والوں کو خبر دو ۔ دیہاتی نے کہا : میں شکار کو موقع پر قتل کرتا ہوں اور زخمی بھی کرتا ہوں تو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جس کو تو موقع پر گرائے کھالے اور جو زخمی ہو کر کہیں دور جا کر مرے اس کو نہ کھا، میں نے حکم سے پوچھا اصماء کیا ہے ؟ کہتے ہیں : سینے کی بیماری، میں نے پوچھا انماء کیا ہے ؟ فرماتے ہیں : ایسا شکار جو آپ سے چھپ جائے۔
(١٨٩٠٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ شُعْبَۃَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی الْہُذَیْلِ قَالَ : أَمَرَنِی نَاسٌ مِنْ أَہْلِی أَنَّ أَسْأَلَ لَہُمْ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنْ أَشْیَائَ فَکَتَبْتُہَا فِی صَحِیفَۃٍ فَأَتَیْتُہُ لأَسْأَلَہُ فَإِذَا عِنْدَہُ نَاسٌ یَسْأَلُونَہُ فَسَأَلُوہُ حَتَّی سَأَلُوہُ عَنْ جَمِیعِ مَا فِی صَحِیفَتِی وَمَا سَأَلْتُہُ عَنْ شَیْئٍ فَسَأَلَہُ رَجُلٌ أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ : إِنِّی مَمْلُوکٌ أَکُونُ فِی إِبِلِ أَہْلِی فَیَأْتِینِی الرَّجُلُ یَسْتَسْقِینِی أَفَأَسْقِیہِ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : فَإِنْ خَشِیتُ أَنْ یَہْلَکَ ۔ قَالَ : فَاسْقِہِ مَا یُبَلِّغُہُ ثُمَّ أَخْبِرْ بِہِ أَہْلَکَ قَالَ : فَإِنِّی رَجُلٌ أَرْمِی فَأُصْمِی وَأُنْمِی قَالَ : مَا أَصْمَیْتَ فَکُلْ وَمَا أَنْمَیْتَ فَلاَ تَأْکُلْ ۔ قُلْتُ لِلْحَکَمِ : مَا الإِصْمَائُ قَالَ : الإِقْعَاصُ قُلْتُ : فَمَا الإِنْمَائُ قَالَ : مَا تَوَارَی عَنْکَ

وَقَدْ رُوِیَ ہَذَا مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مَرْفُوعًا وَہُو ضَعِیفٌ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯০৯
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٩٠٣) امام شافعی (رض) : فرماتے ہیں کہ اصماء ایسا شکار ہے جس کو آپ کے دیکھتے ہوئے کتے ہلاک کردیں اور انماء ایسا شکار جو آپ سے غائب ہو کر مرے۔ امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک صرف وہی بات درست ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہو اور ہر وہ چیز جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے مخالف ہو وہ ساقط ہوجاتی ہے۔ رائے اور قیاس اس کے برابر نہیں ہوتا کیونکہ اللہ نے عذر ختم کردیا ہے۔
(١٨٩٠٣) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : مَا أَصْمَیْتَ مَا قَتَلَتْہُ الْکِلاَبُ وَأَنْتَ تَرَاہُ وَمَا أَنْمَیْتَ مَا غَابَ عَنْکَ مَقْتَلُہُ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَلاَ یَجُوزُ عِنْدِی فِیہِ إِلاَّ ہَذَا إِلاَّ أَنْ یَکُونَ جَائَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - شَیْئٌ فَإِنِّی أَتَوَہَّمُہُ فَیَسْقُطَ کُلُّ شَیْئٍ خَالَفَ أَمْرَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلاَ یَقُومُ مَعَہُ رَأْیٌ وَلاَ قِیَاسٌ فَإِنَّ اللَّہَ قَطَعَ الْعُذْرَ لِقَوْلِہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا الَّذِی تَوَہَّمَہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِیمَا۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯১০
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٩٠٤) عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو اپنا کتا شکار پر اللہ کا نام لے کر چھوڑے اور کتے نے شکار کو قتل کرنے کے بعد کھایا نہیں تو آپ شکار کو کھا لیں۔ اگر کتے نے شکار سے کچھ کھالیا تب آپ شکار نہ کھائیں۔ کیونکہ کتے نے شکار اپنے لیے کیا ہے اور جس وقت آپ کے کتے کے ساتھ دوسرے کتے شامل ہوجائیں جن کو چھوڑتے ہوئے اللہ کا نام نہیں لیا گیا اگر وہ شکار کو قتل کر کے روک لیں، یعنی باقی رکھیں تو آپ نہ کھائیں کیونکہ آپ کو معلوم نہیں کہ کس نے قتل کیا ہے۔ اگر شکار کو آپ تیر ماریں ایک یا دو دن کے بعد وہی تیر والا شکار آپ پالیں۔ اگر چاہو تو کھالو اگر وہ پانی میں گر کر ہلاک ہوجائے تو نہ کھاؤ۔
(١٨٩٠٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی حَمْدَانُ بْنُ عَمْرٍو الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا غَسَّانُ ہُوَ ابْنُ الرَّبِیعِ الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ہُوَ ابْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِذَا أَرْسَلْتَ کَلْبَکَ فَسَمَّیْتَ فَأَمْسَکَ عَلَیْکَ فَقَتَلَ فَکُلْ فَإِنْ أَکَلَ مِنْہُ فَلاَ تَأْکُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَکَ عَلَی نَفْسِہِ وَإِذَا خَالَطَ کِلاَبًا لَمْ تَذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ عَلَیْہَا فَأَمْسَکْنَ وَقَتَلْنَ فَلاَ تَأْکُلْ فَإِنَّکَ لاَ تَدْرِی أَیُّہَا قَتَلَ وَإِنْ رَمَیْتَ الصَّیْدَ فَوَجَدْتَہُ بَعْدَ یَوْمٍ أَوْ یَوْمَیْنِ لَیْسَ بِہِ إِلاَّ أَثَرُ سَہْمِکَ فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْکُلْ فَکُلْ وَإِنْ وَقَعَ فِی الْمَائِ فَلاَ تَأْکُلْ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ یَزِیدَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯১১
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جب شکار آپ سے گم ہوجائے پھر تم مرا ہوا پالو
(١٨٩٠٥) عدی بن حاتم (رض) نے شکار کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب آپ اپنا تیر اللہ کا نام لے کر چھوڑیں اگر آپ شکار کو پالیں تو کھاؤ، وگرنہ اگر شکار پانی میں گرجائے تو آپ کو معلوم نہیں کہ وہ پانی کی وجہ سے یا آپ کے تیر کی وجہ سے ہلاک ہوا ہے۔ اگر آپ ایک یا دو راتوں کے بعد شکار کو پالیں اور شکار میں آپ کے تیر کے نشان کے علاوہ کوئی دوسرا نشان نہ ہو، اگر شکار کو آپ کھانا چاہیں تو کھالو۔
(١٨٩٠٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ الصَّیْدِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : وَإِذَا رَمَیْتَ بِسَہْمِکَ فَاذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ فَإِنْ أَدْرَکْتَہُ فَکُلْ إِلاَّ أَنْ تَجِدَہُ قَدْ وَقَعَ فِی مَائٍ فَإِنَّکَ لاَ تَدْرِی الْمَائُ قَتَلَہُ أَوْ سَہْمُکَ فَإِنْ وَجَدْتَہُ بَعْدَ لَیْلَۃٍ أَوْ لَیْلَتَیْنِ فَلَمْ تَجِدْ فِیہِ أَثَرًا غَیْرَ أَثَرِ سَہْمِکَ فَشِئْتَ أَنْ تَأْکُلَ مِنْہُ فَکُلْ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ ۔ وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنِ الشَّعْبِیِّ ۔

قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ عَبْدُ الأَعْلَی عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَدِیٍّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক: