আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭১৭ টি
হাদীস নং: ৮৫৯৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر آدمی اپنے پر ایک دن یا مہینے کا اعتکاف واجب کرے تو اپنے معتکف میں داخل ہو
(١٤٤) باب الْمُعْتَکِفِ یَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ لِبَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ ثُمَّ لاَ یَسْأَلُ عَنِ الْمَرِیضِ إِلاَّ مَارًّا وَلاَ یَخْرُجُ لِعِیَادَۃِ مَرِیضِ وَلاَ لِشِہُودِ جَنَازَۃٍ وَلاَ یُبَاشِرُ امْرَأَۃً وَلاَ یَمَسُّہَا
معتکف مسجد سے نکلے بول وبراز کے لیے اور مریض سے چلتے چلتے تیمارداری کرلے، ویسے مریض کی عیادت کے لیے نہ نکلے اور نہ جنازے میں شرکت کے لیے اور نہ ہی عورت سے مباشرت کرے اور نہ اسے چھوئے
معتکف مسجد سے نکلے بول وبراز کے لیے اور مریض سے چلتے چلتے تیمارداری کرلے، ویسے مریض کی عیادت کے لیے نہ نکلے اور نہ جنازے میں شرکت کے لیے اور نہ ہی عورت سے مباشرت کرے اور نہ اسے چھوئے
(۸۵۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدِّثْنِی أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : تَذَاکَرْنَا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی نَفَرٍ مِنْ قُرَیْشٍ فَقُمْتُ حَتَّی أَتَیْتُ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ فَقُلْتُ : یَا أَبَا سَعِیدٍ أَلاَ تَخْرُجُ بِنَا إِلَی النَّخْلِ۔ قَالَ : نَعَمْ۔ فَدَعَا بِخَمِیصَۃَ فَأَدْخَلَہَا عَلَیْہِ فَخَرَجْنَا۔ فَقُلْتُ : ہَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَذْکُرُ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ؟ قَالَ : نَعَمِ اعْتَکَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْعَشْرَ الأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمَّا کَانَ صَبِیحَۃُ عِشْرِینَ مِنْ رَمَضَانَ قَامَ فِینَا فَقَالَ : ((مَنْ کَانَ خَرَجَ فَلْیَرْجِعْ فَإِنِّی أُرِیتُ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فَنُسِّیتُہَا فَالْتَمِسُوہَا فِی الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِی وِتْرٍ ، وَإِنِّی أُرِیتُ أَنِّی أَسْجُدُ فِی مَائٍ وَطِینٍ))۔ وَمَا نَرَی فِی السَّمَائِ قَزْعَۃً فَأُقِیمَتِ الصَّلاَۃِ وَثَارَتْ سَحَابَۃٌ فَمُطِرْنَا حَتَّی سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ ، وَسَقْفُہُمْ یَوْمَئِذٍ مِنْ جَرِیدِ النَّخْلِ فَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَسْجُدُ فِی الطِّینِ وَالْمَائِ حَتَّی نَظَرْتُ إِلَی أَثَرِ الطِّینِ فِی أَرْنَبَتِہِ وَجَبْہَتِہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الْمُغِیرَۃِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : تَذَاکَرْنَا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی نَفَرٍ مِنْ قُرَیْشٍ فَقُمْتُ حَتَّی أَتَیْتُ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ فَقُلْتُ : یَا أَبَا سَعِیدٍ أَلاَ تَخْرُجُ بِنَا إِلَی النَّخْلِ۔ قَالَ : نَعَمْ۔ فَدَعَا بِخَمِیصَۃَ فَأَدْخَلَہَا عَلَیْہِ فَخَرَجْنَا۔ فَقُلْتُ : ہَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَذْکُرُ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ؟ قَالَ : نَعَمِ اعْتَکَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْعَشْرَ الأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمَّا کَانَ صَبِیحَۃُ عِشْرِینَ مِنْ رَمَضَانَ قَامَ فِینَا فَقَالَ : ((مَنْ کَانَ خَرَجَ فَلْیَرْجِعْ فَإِنِّی أُرِیتُ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فَنُسِّیتُہَا فَالْتَمِسُوہَا فِی الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِی وِتْرٍ ، وَإِنِّی أُرِیتُ أَنِّی أَسْجُدُ فِی مَائٍ وَطِینٍ))۔ وَمَا نَرَی فِی السَّمَائِ قَزْعَۃً فَأُقِیمَتِ الصَّلاَۃِ وَثَارَتْ سَحَابَۃٌ فَمُطِرْنَا حَتَّی سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ ، وَسَقْفُہُمْ یَوْمَئِذٍ مِنْ جَرِیدِ النَّخْلِ فَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَسْجُدُ فِی الطِّینِ وَالْمَائِ حَتَّی نَظَرْتُ إِلَی أَثَرِ الطِّینِ فِی أَرْنَبَتِہِ وَجَبْہَتِہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الْمُغِیرَۃِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৯৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر آدمی اپنے پر ایک دن یا مہینے کا اعتکاف واجب کرے تو اپنے معتکف میں داخل ہو
(٨٥٩٢) زوج النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نہیں داخل ہوتی تھی مگر حاجت کے لیے اور اگر چلتے مریض مل جاتا تو اسے پوچھ لیتی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری طرف اپنا سر داخل کرتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں ہوتے تو میں اس کی کنگھی وغیرہ کرتی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں داخل نہیں ہوتے سوائے حاجت کے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معتکف ہوتے۔
(۸۵۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ وَابْنُ مِلْحَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی ہُوَ ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ وَعَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِالرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ : إِنْ کُنْتُ لأَدْخُلُ الْبَیْتَ لِلْحَاجَۃِ وَالْمَرِیضُ فِیہِ فَمَا أَسْأَلُ عَنْہُ إِلاَّ وَأَنَا مَارَّۃٌ ، وَإِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لَیُدْخِلُ عَلَیَّ رَأْسَہُ وَہُوَ فِی الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُہُ ، وَکَانَ لاَ یَدْخُلُ الْبَیْتَ إِلاَّ لِحَاجَۃٍ إِذَا کَانَ مُعْتَکِفًا۔
وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ بُکَیْرٍ : إِذَا کَانُوا مُعْتَکِفِینَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ إِلاَّ أَنَّ الْبُخَارِیَّ لَمْ یُذْکَرْ قَوْلَہَا فِی الْمَرِیضِ۔ [صحیح۔ البخاری]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ وَعَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِالرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ : إِنْ کُنْتُ لأَدْخُلُ الْبَیْتَ لِلْحَاجَۃِ وَالْمَرِیضُ فِیہِ فَمَا أَسْأَلُ عَنْہُ إِلاَّ وَأَنَا مَارَّۃٌ ، وَإِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لَیُدْخِلُ عَلَیَّ رَأْسَہُ وَہُوَ فِی الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُہُ ، وَکَانَ لاَ یَدْخُلُ الْبَیْتَ إِلاَّ لِحَاجَۃٍ إِذَا کَانَ مُعْتَکِفًا۔
وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ بُکَیْرٍ : إِذَا کَانُوا مُعْتَکِفِینَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ إِلاَّ أَنَّ الْبُخَارِیَّ لَمْ یُذْکَرْ قَوْلَہَا فِی الْمَرِیضِ۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৯৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر آدمی اپنے پر ایک دن یا مہینے کا اعتکاف واجب کرے تو اپنے معتکف میں داخل ہو
(٨٥٩٣) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے یہاں تک کہ اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فوت کرلیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ازواج النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعتکاف کیا۔
سنت اعتکاف یہ ہے کہ معتکف نہ نکلے مگر حاجت ضروریہ کے لیے نہ ہی مریض کی تیمارداری کرے اور نہ ہی عورت کو چھوئے اور نہ ہی مباشرت کرے اور نہ ہی جامع مسجد کے بغیر اعتکاف کرے اور معتکف کے لیے یہ بھی ہے کہ وہ روزہ رکھے۔
سنت اعتکاف یہ ہے کہ معتکف نہ نکلے مگر حاجت ضروریہ کے لیے نہ ہی مریض کی تیمارداری کرے اور نہ ہی عورت کو چھوئے اور نہ ہی مباشرت کرے اور نہ ہی جامع مسجد کے بغیر اعتکاف کرے اور معتکف کے لیے یہ بھی ہے کہ وہ روزہ رکھے۔
(۸۵۹۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّی تَوَفَّاہُ اللَّہُ۔ ثُمَّ اعْتَکَفَ أَزْوَاجُہُ مِنْ بَعْدِہِ
وَالسُّنَّۃُ فِی الْمُعْتَکِفِ : أَنْ لاَ یَخْرُجَ إِلاَّ لِحَاجَتِہِ الَّتِی لاَ بُدَّ مِنْہَا وَلاَ یَعُودَ مَرِیضًا ، وَلاَ یَمَسَّ امْرَأَتَہُ ، وَلاَ یُبَاشِرَہَا ، وَلاَ اعْتِکافَ إِلاَّ فِی مَسْجِدِ جَمَاعَۃٍ ، وَالسُّنَّۃُ فِیمَنِ اعْتَکَفَ أَنْ یَصُومَ۔ [صحیح۔ معنی سابقاً]
وَالسُّنَّۃُ فِی الْمُعْتَکِفِ : أَنْ لاَ یَخْرُجَ إِلاَّ لِحَاجَتِہِ الَّتِی لاَ بُدَّ مِنْہَا وَلاَ یَعُودَ مَرِیضًا ، وَلاَ یَمَسَّ امْرَأَتَہُ ، وَلاَ یُبَاشِرَہَا ، وَلاَ اعْتِکافَ إِلاَّ فِی مَسْجِدِ جَمَاعَۃٍ ، وَالسُّنَّۃُ فِیمَنِ اعْتَکَفَ أَنْ یَصُومَ۔ [صحیح۔ معنی سابقاً]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৯৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر آدمی اپنے پر ایک دن یا مہینے کا اعتکاف واجب کرے تو اپنے معتکف میں داخل ہو
(٨٥٩٤) عروہ (رض) سیدہ عائشہ (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ معتکف جنازے میں حاضر نہ ہو اور نہ مریض کی عیادت کرے اور نہ دعوت قبول کرے روزوں کے بغیر اعتکاف نہیں اور نہ جامع مسجد کے بغیر اعتکاف ہے۔
(ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں کہ معتکف جنازے میں شریک نہ ہو اور نہ بیمار کی تیمارداری کرے نہ دعوت قبول کرے اور نہ ہی روزوں کے بغیر اعتکاف کرے اور نہ ہی جامع مسجد کے بغیر اعتکاف ہے۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں : معتکف تیمارداری نہ کرے اور جنازے میں شریک بھی نہ ہو۔ )
(ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں کہ معتکف جنازے میں شریک نہ ہو اور نہ بیمار کی تیمارداری کرے نہ دعوت قبول کرے اور نہ ہی روزوں کے بغیر اعتکاف کرے اور نہ ہی جامع مسجد کے بغیر اعتکاف ہے۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں : معتکف تیمارداری نہ کرے اور جنازے میں شریک بھی نہ ہو۔ )
(۸۵۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَعْنِی ابْنَ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتِ : السُّنَّۃُ عَلَی الْمُعْتَکِفِ أَنْ لاَ یَعُودَ مَرِیضًا ، وَلاَ یَشْہَدَ جَنَازَۃً ، وَلاَ یَمَسَّ امْرَأَۃً ، وَلاَ یُبَاشِرَہَا ، وَلاَ یَخْرُجَ لِحَاجَۃٍ إِلاَّ لِمَا لاَ بُدَّ لَہُ مِنْہُ ، وَلاَ اعْتِکَافَ إِلاَّ بِصَوْمٍ ، وَلاَ اعْتِکَافَ إِلاَّ فِی مَسْجِدٍ جَامِعٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ ذَہَبَ کَثِیرٌ مِنَ الْحُفَّاظِ إِلَی أَنَّ ہَذَا الْکَلاَمَ مِنْ قَوْلِ مَنْ دُونَ عَائِشَۃَ ، وَأَنَّ مَنْ أَدْرَجَہُ فِی الْحَدِیثِ وَہِمَ فِیہِ۔ فَقَدْ رَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ : الْمُعْتَکِفُ لاَ یَشْہَدُ جَنَازَۃً، وَلاَ یَعُودُ مَرِیضًا ، وَلاَ یُجِیبُ دَعْوَۃً ، وَلاَ اعْتِکَافَ إِلاَّ بِصِیَامٍ وَلاَ اعْتِکَافَ إِلاَّ فِی مَسْجِدِ جَمَاعَۃٍ۔ وَعَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ : الْمُعْتَکِفُ لاَ یَعُودُ مَرِیضًا وَلاَ یَشْہَدُ جَنَازَۃً۔
[صحیح لغیرہ۔ ابو داؤد]
قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ ذَہَبَ کَثِیرٌ مِنَ الْحُفَّاظِ إِلَی أَنَّ ہَذَا الْکَلاَمَ مِنْ قَوْلِ مَنْ دُونَ عَائِشَۃَ ، وَأَنَّ مَنْ أَدْرَجَہُ فِی الْحَدِیثِ وَہِمَ فِیہِ۔ فَقَدْ رَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ : الْمُعْتَکِفُ لاَ یَشْہَدُ جَنَازَۃً، وَلاَ یَعُودُ مَرِیضًا ، وَلاَ یُجِیبُ دَعْوَۃً ، وَلاَ اعْتِکَافَ إِلاَّ بِصِیَامٍ وَلاَ اعْتِکَافَ إِلاَّ فِی مَسْجِدِ جَمَاعَۃٍ۔ وَعَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ : الْمُعْتَکِفُ لاَ یَعُودُ مَرِیضًا وَلاَ یَشْہَدُ جَنَازَۃً۔
[صحیح لغیرہ۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৯৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر آدمی اپنے پر ایک دن یا مہینے کا اعتکاف واجب کرے تو اپنے معتکف میں داخل ہو
(٨٥٩٥) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مریض کے پاس گزرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معتکف ہوتے اور ویسے ہی گزر جاتے اس کے سامنے آکر اسے نہ پوچھتے۔
ابن عیسیٰ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مریض کی تیمارداری کرتے اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معتکف ہوتے۔
ابن عیسیٰ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مریض کی تیمارداری کرتے اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معتکف ہوتے۔
(۸۵۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَیْلِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ بْنُ أَبِی سُلَیْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَ النُّفَیْلِیُّ قَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَمُرُّ بِالْمَرِیضِ وَہُوَ مُعْتَکِفٌ فَیَمُرُّ کَمَا ہُوَ وَلاَ یُعَرِّجُ یَسْأَلُ عَنْہُ۔
وَقَالَ ابْنُ عِیسَی قَالَتْ : إِنْ کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَعُودُ الْمَرِیضَ وَہُوَ مُعْتَکِفٌ۔ [ضعیف۔ ابوداؤد]
وَقَالَ ابْنُ عِیسَی قَالَتْ : إِنْ کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَعُودُ الْمَرِیضَ وَہُوَ مُعْتَکِفٌ۔ [ضعیف۔ ابوداؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৯৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر آدمی اپنے پر ایک دن یا مہینے کا اعتکاف واجب کرے تو اپنے معتکف میں داخل ہو
(٨٥٩٦) مجاہد ابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : جب آدمی اعتکاف کرے تو عورت سے مباشرت نہ کرے۔
(۸۵۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِذَا اعْتَکَفَ فَلاَ یُجَامِعُ النِّسَائَ۔[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬০০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر آدمی اپنے پر ایک دن یا مہینے کا اعتکاف واجب کرے تو اپنے معتکف میں داخل ہو
(٨٥٩٧) سعید بن جبیر ابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں اسی آیت کے حوالے سے { وَلاَ تُبَاشِرُوہُنَّ وَأَنْتُمْ عَاکِفُونَ فِی الْمَسَاجِدِ } مباشرت و ملاسمت سے مراد مباشرت مجامعت ہے لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہے کرسکتے ہیں۔
(۸۵۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُضَیْلِ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ حَصِینٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِیَاسٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ {وَلاَ تُبَاشِرُوہُنَّ وَأَنْتُمْ عَاکِفُونَ فِی الْمَسَاجِدِ} قَالَ : الْمُبَاشَرَۃُ وَالْمُلاَمَسَۃُ وَالْمَسُّ جِمَاعٌ کُلُّہُ۔ وَلَکِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یُکْنِی مَا شَائَ بِمَا شَائَ ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬০১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معتکف مسجد کے دروازے کی طرف نکلے مگر وہاں سے قدم نہ نکالے کہ اس کی بیوی دیکھے اور جو پسند کرے بات کرے جب تک وہ گناہ نہ ہو
(٨٥٩٨) سیدہ صفیہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اعتکاف میں تھے رمضان کے آخری عشرے کا۔ مسجد میں تھے پھر کھڑی ہوئی جانے کے لیے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ساتھ کھڑے ہوئے حتیٰ کہ مسجد کے دروازے قریب پہنچے جو باب ام سلمہ تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے دو انصاری گزرے ۔ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کہا۔ پھر آگے بڑھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بھئی ٹھہرو ۔ یہ صفیہ بنت حیی ہے۔ ان دونوں نے کہا : سبحان اللہ ! اے اللہ کے رسول ! یہ کیا ! یہ بات ان پر گراں گزری تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک شیطان انسان کے ساتھ خون کی گردش تک پہنچ جاتا ہے ، اس لیے میں ڈر گیا کہ تمہارے دلوں میں کوئی بات نہ آجائے۔
(۸۵۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرُوَیْہِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِیُّ بِنَیْسَابُورَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِیکٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُفَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ مُسَافِرٍ یَعْنِی عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ أَنَّ صَفِیَّۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- أَخْبَرَتْہُ : أَنَّہَا جَائَ تْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ مُعْتَکِفٌ فِی الْمَسْجِدِ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ ، ثُمَّ قَامَتْ لِتَنْقَلِبَ فَقَامَ مَعَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقْلِبُہَا حَتَّی إِذَا بَلَغَ قَرِیبًا مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ عِنْدَ بَابَ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَرَّ بِہِ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَسَلَّمَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ نَفَذَا فَقَالَ لَہُمَا رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : ((عَلَی رِسْلِکُمَا إِنَّمَا ہِیَ صَفِیَّۃُ بِنْتُ حُیَیٍّ))۔ قَالاَ : سُبْحَانَ اللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَکَبُرَ عَلَیْہِمَا ذَلِکَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ الشَّیْطَانَ یَبْلُغُ مِنَ الإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ ، وَإِنِّی خَشِیتُ أَنْ یَقْذِفَ فِی قَلُوبِکُمَا شَیْئًا))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عُفَیْرٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ مَعْمَرٍ وَشُعَیْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُفَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ مُسَافِرٍ یَعْنِی عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ أَنَّ صَفِیَّۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- أَخْبَرَتْہُ : أَنَّہَا جَائَ تْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ مُعْتَکِفٌ فِی الْمَسْجِدِ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ ، ثُمَّ قَامَتْ لِتَنْقَلِبَ فَقَامَ مَعَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقْلِبُہَا حَتَّی إِذَا بَلَغَ قَرِیبًا مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ عِنْدَ بَابَ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَرَّ بِہِ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَسَلَّمَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ نَفَذَا فَقَالَ لَہُمَا رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : ((عَلَی رِسْلِکُمَا إِنَّمَا ہِیَ صَفِیَّۃُ بِنْتُ حُیَیٍّ))۔ قَالاَ : سُبْحَانَ اللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَکَبُرَ عَلَیْہِمَا ذَلِکَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ الشَّیْطَانَ یَبْلُغُ مِنَ الإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ ، وَإِنِّی خَشِیتُ أَنْ یَقْذِفَ فِی قَلُوبِکُمَا شَیْئًا))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عُفَیْرٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ مَعْمَرٍ وَشُعَیْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬০২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے مسجد میں وضو کیا یا ہاتھوں کو صفائی کے لیے دھویا
(٨٥٩٩) ابو العالیہ بیان کرتے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خادموں میں سے تھے وہ کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد میں وضو کیا ہلکا ساوضو۔
(۸۵۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِینَارٍ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَمَّنْ یَخْدِمُ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : تَوَضَّأَ النَّبِیُّ -ﷺ- فِی الْمَسْجِدِ وَضُوئً ا خَفِیفًا ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬০৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اعتکاف اپنے خاوند کی اجازت سے کرے اور اس کے متعلق جو اسے مکمل کرنے سے پہلے نکل آئے جبکہ اعتکاف واجب بھی نہ ہو
(٨٦٠٠) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عائشہ (رض) نے اجازت طلب کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دے دی تو حفصہ (رض) نے عائشہ (رض) سے پوچھا کہ وہ بھی اجازت لے لے تو انھوں نے بھی اجازت لی۔ جب زینب بنت جحش نے یہ دیکھا تو انھوں نے اپنے لیے خیمہ لگانے کا حکم دے دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے بعد خیمے کی طرف پلٹے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت سے خیمے دیکھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کیسے خیمے ہیں ؟ انھوں نے کہا : عائشہ (رض) ، حفصہ (رض) ، زینب (رض) کے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اس سے نیکی چاہتی ہیں۔ میں معتکف نہیں ہوں۔ سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پلٹ آئے ۔ جب روزے ختم کیے تو تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شوال کے عشرے میں اعتکاف کیا۔
(۸۶۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزِیدٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِیَّ قَالَ
(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَتْنِی عَمْرَۃُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَ أَنْ یَعْتَکِفَ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَأَذِنَ لَہَا وَسَأَلَتْ حَفْصَۃُ عَائِشَۃَ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَہَا فَفَعَلَتْ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِکَ زَیْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ أَمَرَتْ بِبِنَائٍ لَہَا فَبُنِیَ قَالَ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا صَلَّی انْصَرَفَ إِلَی بُنْیَانِہِ فَبَصُرَ بِالأَبْنِیَۃِ وَقَالَ : ((مَا ہَذِہِ الأَبْنِیَۃُ))۔ قَالُوا : بِنَائُ عَائِشَۃَ وَحَفْصَۃَ وَزَیْنَبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((آلْبِرَّ أَرَدْنَ بِہَذَا مَا أَنَا بِمُعْتَکِفٍ))۔ فَرَجَعَ فَلَمَّا أَفْطَرَ اعْتَکَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ شَبِیبٍ عَنْ أَبِی الْمُغِیرَۃِ وأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یَحْیَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزِیدٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِیَّ قَالَ
(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَتْنِی عَمْرَۃُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَ أَنْ یَعْتَکِفَ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَأَذِنَ لَہَا وَسَأَلَتْ حَفْصَۃُ عَائِشَۃَ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَہَا فَفَعَلَتْ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِکَ زَیْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ أَمَرَتْ بِبِنَائٍ لَہَا فَبُنِیَ قَالَ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا صَلَّی انْصَرَفَ إِلَی بُنْیَانِہِ فَبَصُرَ بِالأَبْنِیَۃِ وَقَالَ : ((مَا ہَذِہِ الأَبْنِیَۃُ))۔ قَالُوا : بِنَائُ عَائِشَۃَ وَحَفْصَۃَ وَزَیْنَبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((آلْبِرَّ أَرَدْنَ بِہَذَا مَا أَنَا بِمُعْتَکِفٍ))۔ فَرَجَعَ فَلَمَّا أَفْطَرَ اعْتَکَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ شَبِیبٍ عَنْ أَبِی الْمُغِیرَۃِ وأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یَحْیَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬০৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے عورت کے اعتکاف کو ناپسند کیا
(٨٦٠١) عمرہ بن عبدالرحمن بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارادہ کیا اعتکاف کرنے کا ۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس جگہ پلٹے جہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعتکاف کا ارادہ کیا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیمے دیکھے ۔ عائشہ (رض) ، حفصہ (رض) ، زینب (رض) کے خیمے۔ جب ان کو دیکھا تو پوچھا ان کے متعلق تو بتایا گیا کہ یہ عائشہ (رض) ، حفصہ (رض) ، زینب (رض) کے خیمے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے تم نیکی کہتے ہو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر گئے اور شوال کے عشرے کا اعتکاف کیا۔
(۸۶۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَرَادَ أَنْ یَعْتَکِفَ فَلَمَّا انْصَرَفَ إِلَی الْمَکَانِ الَّذِی أَرَادَ أَنْ یَعْتَکِفَ مِنْہُ رَأَی أَخْبِیَۃً خِبَائَ عَائِشَۃَ ، وَخِبَائَ حَفْصَۃَ ، وَخِبَائَ زَیْنَبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُنَّ فَلَمَّا رَآہُنَّ سَأَلَ عَنْہُنَّ فَقِیلَ لَہُ : ہَذَا خِبَائُ عَائِشَۃَ وَخِبَائُ حَفْصَۃَ وَخِبَائُ زَیْنَبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((آلْبِرَّ تَقُولُونَ بِہِنَّ))۔ ثُمَّ انْصَرَفَ فَاعْتَکَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ۔۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَہَذَا مِنْ طَرِیقِ مَالِکٍ مُرْسَلٌ۔ وَقَدْ وَصَلَہُ الأَوْزَاعِیُّ وَحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ وَعَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ وَسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ الضَّرِیرُ وَیَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَرَادَ أَنْ یَعْتَکِفَ فَلَمَّا انْصَرَفَ إِلَی الْمَکَانِ الَّذِی أَرَادَ أَنْ یَعْتَکِفَ مِنْہُ رَأَی أَخْبِیَۃً خِبَائَ عَائِشَۃَ ، وَخِبَائَ حَفْصَۃَ ، وَخِبَائَ زَیْنَبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُنَّ فَلَمَّا رَآہُنَّ سَأَلَ عَنْہُنَّ فَقِیلَ لَہُ : ہَذَا خِبَائُ عَائِشَۃَ وَخِبَائُ حَفْصَۃَ وَخِبَائُ زَیْنَبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((آلْبِرَّ تَقُولُونَ بِہِنَّ))۔ ثُمَّ انْصَرَفَ فَاعْتَکَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ۔۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَہَذَا مِنْ طَرِیقِ مَالِکٍ مُرْسَلٌ۔ وَقَدْ وَصَلَہُ الأَوْزَاعِیُّ وَحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ وَعَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ وَسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ الضَّرِیرُ وَیَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬০৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے خاوند کی اجازت سے مستحاضہ کا اعتکاف کرنے کا بیان
(٨٦٠٢) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں میں سے ایک عورت نے استحاضہ کی حالت میں اعتکاف کیا۔ وہ زردی اور سرخی کو دیکھتی تھی۔ سیدہ عائشہ کہتی ہیں : بسا اوقات ہم اس کے نیچے تھال رکھتی اور وہ نماز پڑھ رہی ہوتیں۔
(۸۶۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتِ : اعْتَکَفَتْ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- امْرَأَۃٌ مِنْ نِسَائِہِ مُسْتَحَاضَۃٌ فَکَانَتْ تَرَی الْحُمْرَۃَ وَالصُّفْرَۃَ قَالَتْ وَرُبَّمَا وَضَعَنَا الطَّسْتَ تَحْتَہَا وَہِیَ تُصَلِّی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬০৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے خاوند کی اجازت سے مستحاضہ کا اعتکاف کرنے کا بیان
(٨٦٠٣) یزید خالد (رض) سے بیان کرتے ہیں اور ایسی ہی حدیث بیان کی سوائے کس کے کہ امْرَأَۃٌ مِنْ أَزْوَاجِہِ کہ ایک عورت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج میں سے۔
(۸۶۰۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی وَقُتَیْبَۃُ قَالاَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ عَنْ خَالِدٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : امْرَأَۃٌ مِنْ أَزْوَاجِہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃِ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃِ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬০৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عدت والی اعتکاف نہ کرنے جب تک عدت گزار نہ لے
(٨٦٠٤) ابو زبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے جابر (رض) سے پوچھا مطلقہ کے بارے میں کہ وہ اعتکاف کرے ؟ انھوں نے کہا : نہیں اور نہ ہی وہ جس کا خاوند فوت ہوجائے حتیٰ کہ عدت گزار نہ لیں۔
(۸۶۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ الصِّبْغِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْمُطَلَّقَۃِ تَعْتَکِفُ قَالَ : لاَ ، وَلاَ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا حَتَّی تَحِلاَّ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬০৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اعتکاف میں اپنے خاوند کی زیارت کرسکتی ہے اور جو اس واقعے میں ہے وہم کی جگہ کھڑے ہونے کو ترک کرنا سنت ہے
(٨٦٠٥) سیدہ صفیہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس معتکف میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیار ت کے لیے آئیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان کے آخری عشرے کا مسجد میں کر رہے تھے۔ کچھ دیر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گفتگو کی۔ پھر جانے کے لیے کھڑی ہوگئیں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی کھڑے ہوگئے اس چھوڑنے کے لیے حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کے دروازے کے پاس آئے جو ام سلمہ (رض) کے دروازے کے پاس تھا۔ وہاں سے دو انصاری صحابی گزرے ۔ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام پیش کیا اور چل دیے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ٹھہرو وہی جگہ۔ یہ صفیہ بنت حیی تھیں اور دونوں نے کہا : سبحان اللہ ! اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ کیا بات ہوئی اور یہ بات انھیں گراں گزری تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک شیطان ابن آدم کے جسم میں وہاں تک جاتا ہے جہاں تک خون پہنچتا ہے اور میں ڈر گیا کہ تمہارے دلوں میں کوئی بات نہ بیٹھ جائے۔
(۸۶۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ : أَنَّ صَفِیَّۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- أَخْبَرَتْہُ : أَنَّہَا جَائَ تِ النَّبِیَّ -ﷺ- تَزُورُہُ فِی اعْتِکَافِہِ فِی الْمَسْجِدِ فِی الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَہُ سَاعَۃً ، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ وَقَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- مَعَہَا یَقْلِبُہَا حَتَّی إِذَا بَلَغَتْ بَابَ الْمَسْجِدِ الَّذِی عِنْدَ بَابَ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَرَّ بِہِمَا رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَسَلَّمَا عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- ثُمَّ نَفَذَا فَقَالَ لَہُمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((عَلَی رِسْلِکُمَا إِنَّمَا ہِیَ صَفِیَّۃُ بِنْتُ حُیَیٍّ))۔ فَقَالاَ : سُبْحَانَ اللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَکَبُرَ عَلَیْہِمَا ذَلِکَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((إِنَّ الشَّیْطَانَ یَبْلُغُ مِنِ ابْنِ آدَمَ مَبْلَغَ الدَّمِ ، وَإِنِّی خَشِیتُ أَنْ یَقْذِفَ فِی قَلُوبِکُمَا شَیْئًا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ : أَنَّ صَفِیَّۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- أَخْبَرَتْہُ : أَنَّہَا جَائَ تِ النَّبِیَّ -ﷺ- تَزُورُہُ فِی اعْتِکَافِہِ فِی الْمَسْجِدِ فِی الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَہُ سَاعَۃً ، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ وَقَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- مَعَہَا یَقْلِبُہَا حَتَّی إِذَا بَلَغَتْ بَابَ الْمَسْجِدِ الَّذِی عِنْدَ بَابَ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَرَّ بِہِمَا رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَسَلَّمَا عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- ثُمَّ نَفَذَا فَقَالَ لَہُمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((عَلَی رِسْلِکُمَا إِنَّمَا ہِیَ صَفِیَّۃُ بِنْتُ حُیَیٍّ))۔ فَقَالاَ : سُبْحَانَ اللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَکَبُرَ عَلَیْہِمَا ذَلِکَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((إِنَّ الشَّیْطَانَ یَبْلُغُ مِنِ ابْنِ آدَمَ مَبْلَغَ الدَّمِ ، وَإِنِّی خَشِیتُ أَنْ یَقْذِفَ فِی قَلُوبِکُمَا شَیْئًا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬০৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صاحبِ استطاعت عاقل، بالغ، آزاد مسلمان پر حج کی فرضیت کا بیان
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” اور جو لوگ راستے کی طاقت رکھتے ہوں ان لوگوں پر اللہ کی خاطر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ جہانوں سے بےنیاز ہے۔ “
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” اور جو لوگ راستے کی طاقت رکھتے ہوں ان لوگوں پر اللہ کی خاطر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ جہانوں سے بےنیاز ہے۔ “
(٨٦٠٦) عبداللہ بن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کے فرمان : ” اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ جہانوں سے بےنیاز ہے “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس نے حج کا انکار کیا اور اسے نیکی اور اس کے ترک کو گناہ نہ سمجھا۔
(۸۶۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ {وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِینَ} یَقُولُ : مَنْ کَفَرَ بِالْحَجِّ فَلَمْ یَرَ حَجَّہُ بِرًّا وَلاَ تَرْکَہُ إِثْمًا۔ [ضعیف۔ تفسیر طبری: ۳/ ۳۵۷، تفسیر ابن ابی حاتم: ۳/ ۳۹۲۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬১০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صاحبِ استطاعت عاقل، بالغ، آزاد مسلمان پر حج کی فرضیت کا بیان
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” اور جو لوگ راستے کی طاقت رکھتے ہوں ان لوگوں پر اللہ کی خاطر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ جہانوں سے بےنیاز ہے۔ “
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” اور جو لوگ راستے کی طاقت رکھتے ہوں ان لوگوں پر اللہ کی خاطر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ جہانوں سے بےنیاز ہے۔ “
(٨٦٠٧) عکرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت ” اور جس نے اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کیا تو اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ “ نازل ہوئی تو یہودیوں نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں تو ان کو ان کے دعویٰ میں غلط ثابت کیا گیا، یعنی ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر حج بیت اللہ فرض کیا ہے جو اس کے راستے کی استطاعت رکھتا ہو۔ “ تو وہ کہنے لگے : ” ہم پر فرض نہیں ہے “ اور انھوں نے حج کرنے سے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِینَ } عکرمہ کہتے ہیں کہ اہل ادیان میں سے جو بھی اس کا انکار کرے تو اللہ تعالیٰ جہان والوں سے بےنیاز ہے۔
(۸۶۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُونَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُومَنْصُورٍ: الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرِ الإِسْلاَمِ دِینًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ} قَالَتِ الْیَہُودُ : فَنَحْنُ مُسْلِمُونَ۔ قَالَ اللَّہُ عَزَّوَجَلَّ: فَأَخْصَمَہُمْ بِحُجَّتِہِمْ یَعْنِی فَقَالَ لَہُمُ النَّبِیُّ -ﷺ-: ((إِنَّ اللَّہَ فَرَضَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ حِجَّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلاً)) فَقَالُوا: لَمْ یُکْتَبْ عَلَیْنَا وَأَبَوْا أَنْ یَحُجُّوا۔ قَالَ اللَّہُ {وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِینَ} قَالَ عِکْرِمَۃُ: وَمَنْ کَفَرَ مِنْ أَہْلِ الْمِلَلِ فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالِمِینَ۔[صحیح۔ الدر المنثور: ۲/۲۷۶]
তাহকীক: