আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭১৭ টি
হাদীস নং: ৭৯৩৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٣١) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ نے چاند کو وقت کے لیے بنایا ہے۔ سو جب تم اسے دیکھو تو روزہ رکھ لو اور جب دیکھو تو افطار کرو اور اگر تم پر بادل چھاجائیں تو تیس دن پورے کرو۔
(۷۹۳۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی رَوَّادٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی جَعَلَ الأَہِلَّۃُ مَوَاقِیتَ ، فَإِذَا رَأَیْتُمُوہُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَیْتُمُوہُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوا لَہُ أَتِمُّوا ثَلاَثِینَ))۔
وَمِنْہَا عَنْ غَیْرِ ابْنِ عُمَرَ الرِّوَایَاتُ الثَّابِتَاتُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی ہَذَا الْبَابِ ۔
[حسن۔ اخرجہ ابن خزیمہ]
وَمِنْہَا عَنْ غَیْرِ ابْنِ عُمَرَ الرِّوَایَاتُ الثَّابِتَاتُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی ہَذَا الْبَابِ ۔
[حسن۔ اخرجہ ابن خزیمہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৩৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٣٢) ابو ہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ابوقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم روزہ رکھو اس (چاند) کے دیکھنے پر اور افطارکرو اس کے نظر آنے پر۔ اگر اس مہینے تم پر بادل چھاجائیں تو پھر تیس دن گن لو، یعنی شعبان کے تیس دن۔ امام بخاری (رح) نے فرمایا : اگر بادل ہوں تو شعبان کے تیس دن پورے کرو۔
(۷۹۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِیَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ -ﷺ- : ((صُومُوا لِرُؤْیَتِہِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ الشَّہْرُ فَعُدُّوا ثَلاَثِینَ یَوْمًا ۔ - یَعْنِی عُدُّوا شَعْبَانَ ثَلاَثِینَ))
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ۔ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فِی الْحَدِیثِ : ((فَإِنْ غُبِیَ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا عِدَّۃَ شَعْبَانَ ثَلاَثِینَ))۔[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ۔ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فِی الْحَدِیثِ : ((فَإِنْ غُبِیَ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا عِدَّۃَ شَعْبَانَ ثَلاَثِینَ))۔[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৩৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٣٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم روزہ رکھو اس کے نظر آنے پر اور افطار کرو اس کے نظر آنے پر۔ اگر اس مہینے تم پر بادل چھاجائیں تو تیس دن گن لو۔
(۷۹۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((صُومُوا لِرُؤْیَتِہِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمُ الشَّہْرُ فَعُدُّوا ثَلاَثِینَ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৩৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٣٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب تم اسے دیکھو تو افطار کرو۔ اگر تم پر بادل چھاجائیں تو پھر تیس دن روزے رکھو۔
(۷۹۳۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا رَأَیْتُمُ الْہِلاَلَ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَیْتُمُوہُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَصُومُوا ثَلاَثِینَ یَوْمًا))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৩৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٣٥) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاند کا تذکرہ کیا اور فرمایا : اس کے نظر آنے پر روزہ رکھو اور اس کے نظر آنے پر افطار کرو ، اگر تم پر بادل چھاجائیں تو پھر تیس دن پورے کرو۔
(۷۹۳۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہُ ذَکَرَ الْہِلاَلَ فَقَالَ : ((صُومُوا لِرُؤْیَتِہِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَعُدُّوا ثَلاَثِینَ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৩৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٣٦) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے اسے لمبا کیا تمہیں دکھانے کے لیے۔ اگر تم پر بادل چھاجائیں تو پھر گنتی پوری کرو۔
عکرمہ نے ابن عباس (رض) سے تیس دن کی تعداد مکمل کرنے کے بارے میں بیان کیا ہے اور ان کے علاوہ سے بھی۔
عکرمہ نے ابن عباس (رض) سے تیس دن کی تعداد مکمل کرنے کے بارے میں بیان کیا ہے اور ان کے علاوہ سے بھی۔
(۷۹۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِیِّ قَالَ : أَہْلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا رَجُلاً إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ اللَّہَ قَدْ مَدَّہُ لِرُؤْیَتِہِ ، فَإِنْ أُغْمِیَ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ وَرَوَاہُ عِکْرِمَۃُ وَمُحَمَّدُ بْنُ حُنَیْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی إِکْمَالِ الْعِدَّۃِ ثَلاَثِینَ بِمَعْنَاہُ وَرَوَاہُ غَیْرُ ہَؤُلاَئِ أَیْضًا۔ [صحیح۔ مسلم]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ وَرَوَاہُ عِکْرِمَۃُ وَمُحَمَّدُ بْنُ حُنَیْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی إِکْمَالِ الْعِدَّۃِ ثَلاَثِینَ بِمَعْنَاہُ وَرَوَاہُ غَیْرُ ہَؤُلاَئِ أَیْضًا۔ [صحیح۔ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৪০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٣٧) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب دیکھو تو افطار کرو۔ اگر تم پر بادل چھاجائیں تو پھر تیس دن شمار کرلو۔
(۷۹۳۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الطَّابَرَانِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا رَأَیْتُمُ الْہِلاَلَ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَیْتُمُوہُ فَأَفْطِرُوا، وَإِنْ أُغْمِیَ عَلَیْکُمْ فَعُدُّوا ثَلاَثِینَ یَوْمًا))۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৪১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٣٨) ابی بکرۃ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے نظر آنے پر روزہ رکھو اور اس کے نظر آنے پر افطار کرلو ، اگر تم پر بادل ہوجائیں تو پھر تیس دن کی گنتی کرو۔
(۷۹۳۸) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((صُومُوا لِرُؤْیَتِہِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ثَلاَثِینَ یَوْمًا))۔ [صحیح۔ اخرجہ الطبرانی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৪২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٣٩) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعبان کے مہینے کو شمار کیا کرتے تھے، جس قدر کسی دوسرے مہینے کا خیال نہیں رکھتے تھے، پھر رمضان کا چاند نظر آنے پر روزہ رکھتے ۔ اگر بادل چھاجاتے تو تیس دن پورے کرتے ۔ پھر روزہ رکھتے۔
(۷۹۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِیلَ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ أَخْبَرَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَیْسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَۃَ تَقُولُ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَتَحَفَّظُ مِنْ ہِلاَلِ شَعْبَانَ مَا لاَ یَتَحَفَّظُ مِنْ غَیْرِہِ ، ثُمَّ یَصُومُ لِرُؤْیَتِہِ رَمَضَانَ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْہِ عَدَّ ثَلاَثِینَ یَوْمًا ، ثُمَّ صَامَ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ۔ [حسن۔ اخرجہ ابوداؤد]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ۔ [حسن۔ اخرجہ ابوداؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৪৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٤٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمضان کے لیے شعبان کے ایام شمار کرو۔
(۷۹۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((أَحْصُوا ہِلاَلَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ))۔ [حسن۔ اخرجہ الترمذی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৪৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٤١) یحییٰ بن یحییٰ نے ایسی ہی حدیث بیان کی ہے اور یہ بھی کہا کہ تم رمضان کے متعلق شک وشبہ میں نہ پڑو، یعنی خلط ملط نہ کرومگر اس صورت میں کہ تم کو وہ روزے میسر آئیں جو بہار سے ان دنوں میں رکھتے تھے ، لہٰذا تم اسے دیکھ کر روزہ رکھو اور دیکھو کر افطار کرو، اگر بادل چھاجائیں تو گنتی پرتو بادل نہیں چھاتے۔
(۷۹۴۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَبُو الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی فَذَکَرَہُ۔
وَزَادَ فِیہِ : ((وَلاَ تَخْلِطُوا بِرَمَضَانَ إِلاَّ أَنْ یُوَافِقَ ذَلِکَ صِیَامًا کَانَ یَصُومُہُ أَحَدُکُمْ ، وَصُومُوا لِرُؤْیَتِہِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَإِنَّہَا لَیْسَتْ تُغْمَی عَلَیْکُمُ الْعِدَّۃُ))۔ [حسن۔ انظر قبلہ]
وَزَادَ فِیہِ : ((وَلاَ تَخْلِطُوا بِرَمَضَانَ إِلاَّ أَنْ یُوَافِقَ ذَلِکَ صِیَامًا کَانَ یَصُومُہُ أَحَدُکُمْ ، وَصُومُوا لِرُؤْیَتِہِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَإِنَّہَا لَیْسَتْ تُغْمَی عَلَیْکُمُ الْعِدَّۃُ))۔ [حسن۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৪৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٤٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی رمضان المبارک سے تقدیم نہ کرے ایک یا دو روزوں کے ساتھ مگر یہ کہ وہ روزہ ہو جسے آدمی پہلے سے رکھ رہا ہو تو وہ اس دن کا روزہ رکھ سکتا ہے۔
(۷۹۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی طَاہِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ أَیُّوبَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُسْلِمٍ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((لاَ یَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُکُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ یَوْمٍ وَلاَ یَوْمَیْنِ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ صَوْمًا یَصُومُہُ رَجُلٌ فَلْیَصُمْ ذَلِکَ الصَّوْمَ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((لاَ یَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُکُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ یَوْمٍ وَلاَ یَوْمَیْنِ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ صَوْمًا یَصُومُہُ رَجُلٌ فَلْیَصُمْ ذَلِکَ الصَّوْمَ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৪৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٤٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمضان سے پہلے ایک یا دو دن کے ساتھ تقدیم نہ کرو مگر کہ وہ شخص ہو جو پہلے سے روزے رکھ رہا ہو تو وہ روزہ رکھ سکتا ہے۔
(۷۹۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ الْفَقِیہُ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بِشْرٍ الْحَرِیرِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلاَّمٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((لاَ تَقَدَّمُوا قَبْلَ رَمَضَانَ بِیَوْمٍ أَوْ یَوْمَیْنِ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ رَجُلاً کَانَ یَصُومُ صِیَامًا فَیَصُومُہُ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بِشْرٍ۔
وَرَوَاہُ أَیُّوبُ وَالأَوْزَاعِیُّ وَعَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ وَمَعْمَرٌ وَشَیْبَانُ وَحُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ وَہَمَّامٌ وَأَبَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ بِنَحْوٍ مِنْ رِوَایَۃِ ہِشَامٍ وَمُعَاوِیَۃَ۔
وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
وَرَوَاہُ أَیُّوبُ وَالأَوْزَاعِیُّ وَعَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ وَمَعْمَرٌ وَشَیْبَانُ وَحُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ وَہَمَّامٌ وَأَبَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ بِنَحْوٍ مِنْ رِوَایَۃِ ہِشَامٍ وَمُعَاوِیَۃَ۔
وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৪৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٤٤) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس مہینے (رمضان) کی ایک یا دو دن کے ساتھتقدیم نہ کرو مگر یہ کہ وہ ایسے روزے دارکو موافق آجائے جو تم میں سے اسے پہلے رکھتا تھا دیکھ کر روزہ رکھو اور اس کو دیکھ کر افطار کرو۔ اگر تم پر بادل چھاجائیں تو تیس دن مکمل کرنے کے بعد افطار کرو۔
(۷۹۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((لاَ تَقَدَّمُوا الشَّہْرَ بِالْیَوْمِ وَالْیَوْمَیْنِ إِلاَّ أَنْ یُوَافِقَ ذَلِکَ صَوْمًا کَانَ یَصُومُہُ أَحَدُکُمْ۔ صُومُوا لِرُؤْیَتِہِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَعُدُّوا ثَلاَثِینَ ثُمَّ أَفْطِرُوا))۔
وَرُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدِاللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ وَحُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ وَطَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ وَغَیْرِہِمْ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔
[صحیح۔ اخرجہ الترمذی]
وَرُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدِاللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ وَحُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ وَطَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ وَغَیْرِہِمْ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔
[صحیح۔ اخرجہ الترمذی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৪৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٤٥) حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس مہینے سے تقدیم نہ کرو بلکہ اس کے نظر آنے پر روزہ رکھو اور نظر آنے پر افطار کرو، اگر تم پر بادل وغیرہ چھاجائیں تو پھر تیس کی تعداد پوری کرو۔
(۷۹۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ عَاصِمٍ الرَّازِیُّ بِمَکَّۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو زُہَیْرٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَائَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَبِی عَامِرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((لاَ تَقَدَّمُوا ہَذَا الشَّہْرَ ، صُومُوا لِرُؤْیَتِہِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَعُدُّوا ثَلاَثِینَ))۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৪৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٤٦) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں پر تعجب کرتا ہوں پر جو رمضان سے پہلے روزے رکھتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم چاند دیکھو تو روزے اور جب دیکھو تو افطار کرلو۔ اگر تم پر بادل چھاجائیں پھر تیس کہ تعداد پوری کرو۔
(۷۹۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ حُنَیْنٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : إِنِّی لأَعْجَبُ مِنْ ہَؤُلاَئِ الَّذِینَ یَصُومُونَ قَبْلَ رَمَضَانَ۔ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا رَأَیْتُمُ الْہِلاَلَ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَیْتُمُوہُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَعُدُّوا ثَلاَثِینَ))۔ [صحیح بقیع۔ النسائی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৫০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٤٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس کے نظر آنے پر روزہ رکھو اور اس کے نظر آنے پر افطار کرو۔ اگر تمہارے اور اس کے درمیان بادل وغیرہ حائل ہوجائیں تو گنتی پوری کرو اور تم نہ اس مہینے کا ستقبال کرو یعنی شعبان کے ایک دن کا روزہ رکھ کر رمضان کا استقبال نہ کرو ۔
(۷۹۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ السَّہْمِیُّ عَنْ حَاتِمٍ ہُوَ ابْنُ أَبِی صَغِیرَۃَ عَنْ سِمَاکٍ یَعْنِی ابْنَ حَرْبٍ - قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عِکْرِمَۃَ فِی یَوْمٍ وَقَدْ أَشْکَلَ عَلِیَّ أَمِنْ رَمَضَانَ ہُوَ أَمْ مِنْ شَعْبَانَ۔ فَأَصْبَحْتُ صَائِمًا فَقُلْتُ : إِنْ کَانَ مِنْ رَمَضَانَ لَمْ یَسْبِقْنِی ، وَإِنْ کَانَ مِنْ شَعْبَانَ کَانَ تَطَوُّعًا۔ فَدَخَلْتُ عَلَی عِکْرِمَۃَ وَہُوَ یَأْکُلُ خُبْزًا وَبَقْلاً وَلَبَنًا فَقَالَ : ہَلُمَّ إِلَی الْغَدَائِ قُلْتُ : إِنِّی صَائِمٌ فَقَالَ : أَحْلِفُ بِاللَّہِ لَتُفْطِرَنَّہُ قُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّہِ قَالَ : أَحْلِفُ بِاللَّہِ لَتُفْطِرَنَّہْ۔ فَلَمَّا رَأَیْتُہُ لاَ یَسْتَثْنِی أَفْطَرْتُ فَغَدَوْتُ بِبَعْضِ الشَّیْئِ وَأَنَا شَبْعَانُ، ثُمَّ قُلْتُ: ہَاتِ فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((صُومُوا لِرُؤْیَتِہِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ فَإِنْ حَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُ سَحَابَۃٌ أَوْ غَیَایَۃٌ فَأَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ، وَلاَ تَسْتَقْبِلُوا الشَّہْرَ اسْتِقْبَالاً لاَ تَسْتَقْبِلُوا رَمَضَانَ بِیَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ))۔ [صحیح۔ اخرجہ النسائی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৫১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٤٨) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس مہینے کا ایک یا دو دن کے روزے رکھ کر استقبال نہ کرو سوائے اس کے کہ کسی اور وجہ سے کوئی روزہ رکھ رہا ہو اور تم روزہ نہ رکھو جب تک تم اسے دیکھ نہ لو، پھر روزہ رکھتے رہو جب تک اسے دیکھ نہ لو اور اگر کوئی بادل وغیرہ حائل ہوجائے تو پھر تیس دن پورے کرو ، پھر افطار کرو ۔ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
ابو داؤد نے حسن بن صالح سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ سماک نے انھیں معانی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے نہیں کہا کہ پھر تم افطار کرو۔ مگر شیخ نے سماک سے بیان کیا کہ وہ شعبان کی تعداد مکمل کرنا چاہتے ہیں۔
ابو داؤد نے حسن بن صالح سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ سماک نے انھیں معانی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے نہیں کہا کہ پھر تم افطار کرو۔ مگر شیخ نے سماک سے بیان کیا کہ وہ شعبان کی تعداد مکمل کرنا چاہتے ہیں۔
(۷۹۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ عَنْ زَائِدَۃَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ تَقَدَّمُوا الشَّہْرَ بِصِیَامِ یَوْمٍ وَلاَ یَوْمَیْنِ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ شَیْئًا یَصُومُہُ أَحَدُکُمْ ، وَلاَ تَصُومُوا حَتَّی تَرَوْہُ ، ثُمَّ صُومُوا حَتَّی تَرَوْہُ فَإِنْ حَالَ دُونَہُ غَمَامَۃٌ فَأَتِمُّوا الْعِدَّۃَ ثَلاَثِینَ ، ثُمَّ أَفْطِرُوا ، الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ))۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاہُ حَاتِمُ بْنُ أَبِی صَغِیرَۃَ وَشُعْبَۃُ وَالْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سِمَاکٍ بِمَعْنَاہُ لَمْ یَقُولُوا ثُمَّ أَفْطِرُوا۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَرَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ سِمَاکٍ فَجَعَلَ إِکْمَالَ الْعِدَّۃِ لِشَعْبَانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاہُ حَاتِمُ بْنُ أَبِی صَغِیرَۃَ وَشُعْبَۃُ وَالْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سِمَاکٍ بِمَعْنَاہُ لَمْ یَقُولُوا ثُمَّ أَفْطِرُوا۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَرَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ سِمَاکٍ فَجَعَلَ إِکْمَالَ الْعِدَّۃِ لِشَعْبَانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৫২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٤٩) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمضان کے روزے رکھو اس (چاند) کے نظر آنے پر اور افطار کرو اس کے نظر آنے پر۔ اگر تمہارے اور اس کے درمیان بادل حائل ہوجائیں تو پھر شعبان کے تیس دن پورے کرو اور شعبان میں ایک دن کا روزہ رکھ کر رمضان کا استقبال نہ کرو۔
(۷۹۴۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((صُومُوا رَمَضَانَ لِرُؤْیَتِہِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ ، فَإِنْ حَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُ غَمَامَۃٌ أَوْ ضَبَابَۃٌ فَأَکْمِلُوا شَہْرَ شَعْبَانَ ثَلاَثِینَ ، وَلاَ تَسْتَقْبِلُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ یَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ))۔
وَکَأَنَّہُ ذَکَرَ الْحُکْمَ فِی الطَّرَفَیْنِ جَمِیعًا فَرَوَی کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا أَحَدَ طَرَفَیْہِ۔ [حسن۔ اخرجہ الطیالسی]
وَکَأَنَّہُ ذَکَرَ الْحُکْمَ فِی الطَّرَفَیْنِ جَمِیعًا فَرَوَی کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا أَحَدَ طَرَفَیْہِ۔ [حسن۔ اخرجہ الطیالسی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৫৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٥٠) حضرت حذیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ تقدیم کرو تم مہینے کی حتیٰ کہ چاند نہ دیکھ لو یا گنتی مکمل کرو۔ پھر تم روزہ رکھو یہاں تک کہ چاند نہ دیکھ لو یا گنتی مکمل کرو۔
(۷۹۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الضَّبِّیُّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ تَقَدَّمُوا الشَّہْرَ حَتَّی تَرَوُا الْہِلاَلَ أَوْ تُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ، ثُمَّ صُومُوا حَتَّی تَرَوُا الْہِلاَلَ أَوْ تُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ۔ وَصَلَہُ جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ بِذِکْرِ حُذَیْفَۃَ فِیہِ وَہُوَ ثِقَۃٌ حُجَّۃٌ))
وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِیٍّ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔
[صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِیٍّ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔
[صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
তাহকীক: