আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭১৭ টি
হাদীস নং: ৭৯৫৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٥١) قیس بن طلق (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سناجو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شک والے دن کے بارے میں سوال کررہا تھا کہ بعض ان میں سے کہتے ہیں کہ شعبان ہے اور بعض کہتے رمضان ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم پھر تیس کی گنتی پوری کرو۔
(۷۹۵۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْفَرَّائُ أَخْبَرَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِیہِ طَلْقٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ -ﷺ- عَنِ الْیَوْمِ الَّذِی یُشَکُّ فِیہِ فَیَقُولُ بَعْضُہُمْ : ہَذَا مِنْ شَعْبَانَ ، وَبَعْضُہُمْ : ہَذَا مِنْ رَمَضَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ تَصُومُوا حَتَّی تَرَوُا الْہِلاَلَ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ثَلاَثِینَ))۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৫৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٥٢) صلہ بن زفیر فرماتے ہیں کہ ہم عمار بن یاسر (رض) کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی تو انھوں نے کہا : کھاؤ تو قوم کے کچھ لوگ علیحدہ ہوگئے انھوں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں تو عمار بن یاسر (رض) نے کہا : جس نے شک کے دن کا روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کی۔
(۷۹۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ الْمُلاَئِیُّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ صِلَۃَ بْنِ زُفَرَ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ فَأُتِیَ بِشَاۃٍ مَصْلِیَّۃٍ فَقَالَ : کُلُوا فَتَنَحَّی بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ : إِنِّی صَائِمٌ فَقَالَ عَمَّارٌ : مَنْ صَامَ یَوْمَ الشَّکِّ فَقَدْ عَصَی أَبَا الْقَاسِمِ -ﷺ-۔
أَخْرَجَ الْبُخَارِیُّ مَتْنَہُ فِی تَرْجَمَۃِ الْبَابِ۔ [صحیح۔ اخیرہ علقہ البخاری]
أَخْرَجَ الْبُخَارِیُّ مَتْنَہُ فِی تَرْجَمَۃِ الْبَابِ۔ [صحیح۔ اخیرہ علقہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৫৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٥٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان سے ایک دن پہلے روزہ رکھنے عیدالاضحی ، عید الفطر اور ایام تشریق (یوم النحر کے تین دن بعد) کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ۔
(۷۹۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الْبَزَّازُ الطُّوسِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی عَبَّادٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- نَہَی عَنْ صِیَامٍ قَبْلَ رَمَضَانَ بِیَوْمٍ ، وَالأَضْحَی وَالْفِطْرِ ، وَأَیْامِ التَّشْرِیقِ۔ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ بَعْدَ یَوْمِ النَّحْرِ۔
أَبُو عَبَّادٍ ہُوَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیُّ غَیْرُ قَوِیٍّ۔ [منکر]
أَبُو عَبَّادٍ ہُوَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیُّ غَیْرُ قَوِیٍّ۔ [منکر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৫৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٥٤) عبداللہ بن حکیم (رض) فرماتے ہیں کہ عمر (رض) جب شک کی رات ہوتی ہے تو مغرب کی نماز کے بعد کھڑے ہوجاتے اور کہتے : یہ وہ مہینہ ہے جس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں اور اس کے قیام کو فرض نہیں کیا ۔ جو تم میں سے قیام کی طاقت رکھتا ہے تو وہ قیام کرے بیشک یہ وہ نفلی نیکی ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے اور جو کوئی طاقت نہیں رکھتا وہ اپنے بستر پر سو جائے اور کوئی یہ نہ کہے کہ فلاں روزہ رکھے گا تو میں روزہ رکھوں گا اور اگر وہ قیام کرے گا تو میں قیام کروں گا ۔ سو جس کسی نے روزہ رکھا یا قیام کیا تو اس کو اللہ کے لیے کرے ۔ اللہ کے گھروں میں لغو بات کم کرو اور چاہیے کہ تم جان لو کہ جب تک کوئی نماز کے انتظار میں ہوتا ہے وہ نماز ہی میں ہوتا ہے۔ خبردار ! کوئی تم میں سے مہینے کی تقدیم نہ کرے۔ اس کے نظر آنے پر روزہ رکھو اور اس کے نظر آنے پر افطار کرو۔ اگر تم پر بادل چھاجائیں تو شعبان کے تیس دن شمار کرو۔ پھر تم افطار نہ کرو حتیٰ کہ رات ٹیلوں کے پیچھے چھپ جائے۔
(۷۹۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُومُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَاسَرْجِسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْبَصْرِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمَسْعُودِیُّ عَنْ ہِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُکَیْمٍ قَالَ : کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا کَانَتِ اللَّیْلَۃُ الَّتِی یُشَکُّ فِیہَا مِنْ رَمَضَانَ قَامَ حِینَ یُصَلِّی الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ ہَذَا شَہْرٌ کَتَبَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ صِیَامَہُ ، وَلَمْ یَکْتُبْ عَلَیْکُمْ قِیَامَہُ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ یَقُومَ فَلْیَقُمْ فَإِنَّہَا مِنْ نَوَافِلِ الْخَیْرِ الَّتِی أَمَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہَا ، وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَلْیَنَمْ عَلَی فِرَاشِہِ وَلاَ یَقُلْ قَائِلٌ إِنْ صَامَ فُلاَنٌ صُمْتُ ، وَإِنْ قَامَ فُلاَنٌ قُمْتُ فَمَنْ صَامَ أَوْ قَامَ فَلْیَجْعَلْ ذَلِکَ لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ أَقِلُّوا اللَّغْوَ فِی بِیُوتِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلْیَعْلَمْ أَحَدُکُمْ أَنَّہُ فِی صَلاَۃٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلاَۃَ ، أَلاَ لاَ یَتَقَدَّمَنَّ الشَّہْرَ مِنْکُمْ أَحَدٌ ، صُومُوا لِرُؤْیَتِہِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَعُدُّوا شَعْبَانَ ثَلاَثِینَ، ثُمَّ لاَ تُفْطِرُوا حَتَّی یَغْسِقَ اللَّیْلُ عَلَی الظِّرَابِ۔[ضعیف]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمَسْعُودِیُّ عَنْ ہِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُکَیْمٍ قَالَ : کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا کَانَتِ اللَّیْلَۃُ الَّتِی یُشَکُّ فِیہَا مِنْ رَمَضَانَ قَامَ حِینَ یُصَلِّی الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ ہَذَا شَہْرٌ کَتَبَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ صِیَامَہُ ، وَلَمْ یَکْتُبْ عَلَیْکُمْ قِیَامَہُ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ یَقُومَ فَلْیَقُمْ فَإِنَّہَا مِنْ نَوَافِلِ الْخَیْرِ الَّتِی أَمَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہَا ، وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَلْیَنَمْ عَلَی فِرَاشِہِ وَلاَ یَقُلْ قَائِلٌ إِنْ صَامَ فُلاَنٌ صُمْتُ ، وَإِنْ قَامَ فُلاَنٌ قُمْتُ فَمَنْ صَامَ أَوْ قَامَ فَلْیَجْعَلْ ذَلِکَ لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ أَقِلُّوا اللَّغْوَ فِی بِیُوتِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلْیَعْلَمْ أَحَدُکُمْ أَنَّہُ فِی صَلاَۃٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلاَۃَ ، أَلاَ لاَ یَتَقَدَّمَنَّ الشَّہْرَ مِنْکُمْ أَحَدٌ ، صُومُوا لِرُؤْیَتِہِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَعُدُّوا شَعْبَانَ ثَلاَثِینَ، ثُمَّ لاَ تُفْطِرُوا حَتَّی یَغْسِقَ اللَّیْلُ عَلَی الظِّرَابِ۔[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৫৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٥٥) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو وہ خطبہ بیان فرماتے : پھر کہتے : یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس کے روزے کو اللہ نے فرض قرار دیا اور اس کے قیام کو فرض نہیں کیا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس بات سے بچے کہ اگر فلاں روزہ رکھے گا تو میں روزہ رکھوں گا ج، ب فلاں افطار کرے گا تو میں افطار کروں گا خبردار ! روزہ کھانے پینے سے نہیں بلکہ جھوٹ، باطل اور لغو باتوں سے رکنے کا نام ہے۔ خبردار ! اس مہینے سے تقدیم نہ کرو ، جب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھو تو افطار کرو ۔ اگر تم پر بادل چھاجائیں تو پھر گنتی پوری کرو۔ راوی کہتے ہیں : وہ یہ بات نمازِ عصر یا نمازِ فجر کے بعد کہتے۔
(۷۹۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ: ہِلاَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُجَشِّرٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ کَانَ یَخْطُبُ إِذَا حَضَرَ رَمَضَانُ ، ثُمَّ یَقُولُ : ہَذَا الشَّہْرُ الْمُبَارَکُ الَّذِی فَرَضَ اللَّہُ صِیَامَہُ وَلَمْ یَفْرِضْ قِیَامَہُ ، لِیَحْذَرْ رَجُلٌ أَنْ یَقُولَ أَصُومُ إِذَا صَامَ فُلاَنٌ وَأُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ فُلاَنٌ۔ أَلاَ إِنَّ الصِّیَامَ لَیْسَ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ، وَلَکِنْ مِنَ الْکَذِبِ وَالْبَاطِلِ وَاللَّغْوِ أَلاَ لاَ تَقَدَّمُوا الشَّہْرَ إِذَا رَأَیْتُمُ الْہِلاَلَ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَیْتُمُوہُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَتِمُّوا الْعِدَّۃَ قَالَ کَانَ یَقُولُ ذَلِکَ بَعْدَ صَلاَۃِ الْفَجْرِ وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ۔
[ضعیف جدات۔ اخرجہ ابن ابی شبیہ]
[ضعیف جدات۔ اخرجہ ابن ابی شبیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৫৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٥٦) شعبی مسروق سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر (رض) نے ایسے ہی کہا کرتے تھے۔
(۷۹۵۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ مَسْرُوقٍ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَقُولُ مِثْلَ ذَلِکَ۔ [ضعیف جدا]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৬০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٥٧) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ بیشک عمر (رض) و علی (رض) شک کے دن میں روزہ رکھنے سے منع کیا کرتے تھے۔
(۷۹۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصُّوفُیُّ حَدَّثَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَاتِبُ حَدَّثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ : أَنَّ عُمَرَ وَعَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا کَانَا یَنْہَیَانِ عَنْ صَوْمِ الْیَوْمِ الَّذِی یُشَکُّ فِیہِ مِنْ رَمَضَانَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৬১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٥٨) عبدالعزیز بن حکیم حضرمی فرماتے ہیں کہ میں نے عمر (رض) سے سنا کہ اگر میں سال بھر روزہ رکھوں تو شک والے دن رمضان المبارک میں ضرور روزہ افطار کروں ۔
امام ثوری (رض) نے عبدالعزیز سے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ ابن عمر (رض) ایک آدمی کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ اسی دن میں روزہ افطار کرے جس میں شک ہو۔
امام ثوری (رض) نے عبدالعزیز سے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ ابن عمر (رض) ایک آدمی کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ اسی دن میں روزہ افطار کرے جس میں شک ہو۔
(۷۹۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ: الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَنْجُوَیْہِ الدِّینَوَرِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَاجَہْ الْقَزْوِینِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْدَہْ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ عَبْدِالْعَزِیزِ بْنِ حَکِیمٍ الْحَضْرَمِیِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ : لَوْ صُمْتُ السَّنَۃَ کُلَّہَا لأَفْطَرْتُ ذَلِکَ الْیَوْمَ الَّذِی یُشَکَّ فِیہِ مِنْ رَمَضَانَ۔
وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ یَأْمُرُ رَجُلاً یُفْطِرُ فِی الْیَوْمِ الَّذِی یُشَکُّ فِیہِ۔
وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ یَأْمُرُ رَجُلاً یُفْطِرُ فِی الْیَوْمِ الَّذِی یُشَکُّ فِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৬২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٥٩) عبدا لرحمان بن عباس (رض) نخعی فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : اگر میں رمضان کے ایک دن کا روزہ نہ رکھوں پھر اس کی قضادوں یہ میرے لیے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ اس میں ایک دن کا اضافہ کروں جو اس میں سے نہیں۔
(۷۹۵۹) أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَنْجُوَیْہِ الدِّینَوَرِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَاہَانَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِیُّ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا أَبُو الضُّرَیْسِ : عُقْبَۃُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ النَّخَعِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ : لأَنْ أُفْطِرَ یَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ ، ثُمَّ أَقْضِیَہُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَزِیدَ فِیہِ یَوْمًا لَیْسَ مِنْہُ۔ [حسن۔ اخرجہ ابن ابی شبیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৬৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماہِ رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا یا شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
(٧٩٦٠) ابو سلمہ (رض) ہمام سے نقل فرماتے ہیں کہ قتادہ (رض) کہتے ہیں : انھوں نے اس دن میں اختلاف کیا جس کے بارے میں علم نہیں کہ وہ رمضان ہے یا شعبان ؟ تو ہم انس (رض) کے پاس آئے ، ہم نے انھیں اس حالت میں پایا کہ وہ بیٹھے صبح کا کھانا کھا رہے تھے۔ حذیفہ بن یمان (رض) شک کے روزے سے منع کیا کرتے تھے اور ابن عباس (رض) فرماتے تھے کہ شعبان اور رمضان میں افطار کے ساتھ فاصلہ کرو۔
(۷۹۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ فَنْجُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَاجَہْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ قَالَ : اخْتَلَفُوا فِی یَوْمٍ لاَ یُدْرَی أَمِنْ رَمَضَانَ ہُوَ أَمْ مِنْ شَعْبَانَ۔ فَأَتَیْنَا أَنَسًا فَوَجَدْنَاہُ جَالِسًا یَتَغَدَّی۔
وَرُوِّینَا عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ أَنَّہُ کَانَ یَنْہَی عَنْ صَوْمِ الْیَوْمِ الَّذِی یُشَکَّ فِیہِ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : افْصِلُوا یَعْنِی بَیْنَ صَوْمِ رَمَضَانَ وَشَعْبَانَ بِفِطْرٍ۔ [صحیح۔ ابن ماجہ]
وَرُوِّینَا عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ أَنَّہُ کَانَ یَنْہَی عَنْ صَوْمِ الْیَوْمِ الَّذِی یُشَکَّ فِیہِ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : افْصِلُوا یَعْنِی بَیْنَ صَوْمِ رَمَضَانَ وَشَعْبَانَ بِفِطْرٍ۔ [صحیح۔ ابن ماجہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৬৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نصف شعبان گزرنے پر روزے سے ممانعت والی حدیث کا بیان
(٧٩٦١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب آدھا شعبان گزر جائے تو روزے رکھنے سے رُک جاؤحتیٰ کہ رمضان آجائے۔
(۷۹۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا مَضَی النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ فَأَمْسِکُوا عَنِ الصِّیَامِ حَتَّی یَدْخُلَ رَمَضَانُ))
[منکر۔ اخرجہ ابوداؤد]
[منکر۔ اخرجہ ابوداؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৬৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نصف شعبان گزرنے پر روزے سے ممانعت والی حدیث کا بیان
(٧٩٦٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب آدھا شعبان گزر جائے تو روز نہ رکھو۔
(۷۹۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ الْفَقِیہَ یَقُولُ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاہِیمَ بْنِ قُتَیْبَۃَ الطُّوسِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ قُتَیْبَۃَ بْنَ سَعِیدٍ یَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِیزِ بْنَ مُحَمَّدٍ یَقُولُ : قَدِمَ عَلَیْنَا عَبَّادُ بْنُ کَثِیرٍ الْمَدِینَۃَ فَمَالَ إِلَی مَجْلِسِ الْعَلاَئِ یَعْنِی فَأَخَذَ بِیَدِہِ فَأَقَامَہُ ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ إِنَّ ہَذَا یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلاَ تَصُومُوا))۔ فَقَالَ الْعَلاَئُ : اللَّہُمَّ إِنَّ أَبِی حَدَّثَنِی عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِذَلِکَ۔
رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ قُتَیْبَۃَ ، ثُمَّ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : ہَذَا حَدِیثٌ مُنْکَرٌ قَالَ وَکَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لاَ یُحَدِّثُ بِہِ۔ [منکر۔ انظر قبلہ]
رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ قُتَیْبَۃَ ، ثُمَّ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : ہَذَا حَدِیثٌ مُنْکَرٌ قَالَ وَکَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لاَ یُحَدِّثُ بِہِ۔ [منکر۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৬৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کی رخصت کا بیان اس حدیث کے مطابق جو علماء کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے
(٧٩٦٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف اس سے منع کیا کہ رمضان کے مہینے کی جلدی کی جائے ایک یا دو دن کے روزے کے ساتھ ۔ مگر جو شخص روزے رکھ رہا تھا اور یہ دن اس کے روزوں کے موافق آگیا۔
(۷۹۶۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ أَنْ یُعْجَلَ شَہْرُ رَمَضَانَ بِصَوْمِ یَوْمٍ أَوْ یَوْمَیْنِ إِلاَّ رَجُلاً کَانَ یَصُومُ صِیَامًا فَیَأْتِی ذَلِکَ عَلَی صِیَامِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৬৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کی رخصت کا بیان اس حدیث کے مطابق جو علماء کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے
٧٩٦٤۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سال میں سے کسی مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے سوائے شعبان کے۔ سو آپ تمام شعبان کے روزے رکھتے تھے۔
سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی مہینے میں زیادہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھاسوائے شعبان کے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ پورا شعبان روزے رکھتے تھے، یہ بھی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعبان کے کم روزے چھوڑتے بلکہ تمام شعبان کے روزے رکھتے۔
سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی مہینے میں زیادہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھاسوائے شعبان کے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ پورا شعبان روزے رکھتے تھے، یہ بھی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعبان کے کم روزے چھوڑتے بلکہ تمام شعبان کے روزے رکھتے۔
(۷۹۶۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ لاَ یَصُومُ مِنَ السَّنَۃِ شَہْرًا إِلاَّ شَعْبَانَ۔ فَإِنَّہُ کَانَ یَصُومُ شَعْبَانَ کُلَّہُ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ۔
وَرَوَاہُ أَبُو النَّصْرِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: مَا رَأَیْتُہُ فِی شَہْرٍ أَکْثَرَ صِیَامًا مِنْہُ فِی شَعْبَانَ۔
وَرَوَاہُ ابْنُ أَبِی لَبِیدٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ یَصُومُ شَعْبَانَ کُلَّہُ ، کَانَ یَصُومُ شَعْبَانَ إِلاَّ قَلِیلاً۔
وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ یَصُومُ شَعْبَانَ إِلاَّ قَلِیلاً بَلْ کَانَ یَصُومُہُ کُلَّہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ۔
وَرَوَاہُ أَبُو النَّصْرِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: مَا رَأَیْتُہُ فِی شَہْرٍ أَکْثَرَ صِیَامًا مِنْہُ فِی شَعْبَانَ۔
وَرَوَاہُ ابْنُ أَبِی لَبِیدٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ یَصُومُ شَعْبَانَ کُلَّہُ ، کَانَ یَصُومُ شَعْبَانَ إِلاَّ قَلِیلاً۔
وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ یَصُومُ شَعْبَانَ إِلاَّ قَلِیلاً بَلْ کَانَ یَصُومُہُ کُلَّہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৬৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کی رخصت کا بیان اس حدیث کے مطابق جو علماء کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے
(٧٩٦٥) سیدہ اُم سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو مہینوں کے روزے اکٹھے نہیں رکھا کرتے تھے سوائے شعبان اور رمضان کے۔ سفیان کی حدیث میں ہے کہ اُم سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دومہینے متواتر روزے رکھتے، سوائے اس کے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعبان کو رمضان سے ملاتے۔
(۷۹۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِید بْنُ أَبِی عَمْرٍو قالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مَنْصُورٍ
(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- لَمْ یَکُنْ یَصُومُ شَہْرَیْنِ یَجْمَعُ بَیْنَہُمَا إِلاَّ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ۔
لَفْظُ حَدِیثِ شُعْبَۃَ ، وَفِی رِوَایَۃِ سُفْیَانَ قَالَتْ : مَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَائِمًا شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ إِلاَّ أَنَّہُ کَانَ یَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ الترمذی]
(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- لَمْ یَکُنْ یَصُومُ شَہْرَیْنِ یَجْمَعُ بَیْنَہُمَا إِلاَّ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ۔
لَفْظُ حَدِیثِ شُعْبَۃَ ، وَفِی رِوَایَۃِ سُفْیَانَ قَالَتْ : مَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَائِمًا شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ إِلاَّ أَنَّہُ کَانَ یَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ الترمذی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৬৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کی رخصت کا بیان اس حدیث کے مطابق جو علماء کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے
(٧٩٦٦) سیدہ اُم سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سال میں پورا مہینہ روزہ نہیں رکھتے تھے سوائے شعبان کے کہ اس کو و رمضان سے ملاتے تھے۔
(۷۹۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ تَوْبَۃَ الْعَنْبَرِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ یَصُومُ مِنَ السَّنَۃِ شَہْرًا تَامًا إِلاَّ شَعْبَانَ یَصِلُہُ بِرَمَضَانَ۔
[صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
[صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৭০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس خبرکا بیان جس میں شعبان کے آخر میں روزہ رکھنے کا بیان ہے
(٧٩٦٧) عمران بن حصین (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا یا کسی آدمی سے کہا اور وہ سن رہے تھے کہ تو نے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ؟ تو اس آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو روزہ افطار کرے گا تو اس کے عوض دو روزے رکھ لینا۔
(۷۹۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنَا مَہْدِیُّ بْنُ مَیْمُونٍ حَدَّثَنَا غَیْلاَنُ بْنُ جَرِیرٍ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لَہُ أَوْ لِرَجُلٍ وَہُوَ یَسْمَعُ: ((صُمْتَ مِنْ سَرَرِ ہَذَا الشَّہْرِ شَیْئًا))۔ فَقَالَ الرَّجُلُ: لاَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ: ((فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ یَوْمَیْنِ مَکَانَہُ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الصَّلْتِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مَہْدِیٍّ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الصَّلْتِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مَہْدِیٍّ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৭১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس خبرکا بیان جس میں شعبان کے آخر میں روزہ رکھنے کا بیان ہے
(٧٩٦٨) مھدی بن میمون نے اس سند کے ساتھ اس حدیث کو بیان کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی سے کہا : اس مہینے کے آخر میں تو نے روزے رکھے ہیں ؟ اس نے کہا : نہیں یعنی ، شعبان میں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو روزہ ختم کرلے ایک دن یا دو دن کے روزے رکھنا۔
(۷۹۶۸) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا مَہْدِیُّ بْنُ مَیْمُونٍ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ۔ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لِرَجُلٍ : ((صُمْتَ مِنْ سَرَرِ ہَذَا الشَّہْرِ شَیْئًا))۔ قَالَ : لاَ یَعْنِی شَعْبَانَ قَالَ : فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ یَوْمًا أَوْ یَوْمَیْنِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ۔ قَالَ وَقَالَ ثَابِتٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ۔ [صحیح۔ انظرقبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ۔ قَالَ وَقَالَ ثَابِتٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ۔ [صحیح۔ انظرقبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৭২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس خبرکا بیان جس میں شعبان کے آخر میں روزہ رکھنے کا بیان ہے
٧٩٦٩۔ عمران بن حصین (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے یا کسی دوسرے شخص سے کہا : کیا تو نے شعبان کے آخر میں روزے رکھے ہیں ؟ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو افطار کرے تو دو دن کا روزہ رکھنا۔
(۷۹۶۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لَہُ أَوْ لِرَجُلٍ : ((صُمْتَ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ شَیْئًا))۔ قَالَ : لاَ قَالَ : ((فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ یَوْمَیْنِ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ۔ [صحیح۔ الفظ المسلم ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৭৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس خبرکا بیان جس میں شعبان کے آخر میں روزہ رکھنے کا بیان ہے
(٧٩٧٠) حضرت معاویہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ اس مہینے کے روزے رکھو اور آخری دن میں بھی۔
سر سے مراد مہینے کے پہلے روزے ہیں اور یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اس سے مرادآخری ہیں۔ انھوں نے ان دنوں میں ارادہ کیا جب چاند غائب ہوتا ہے اور اس کا شک کے دن سے پہلے یا آخر مہینے کا روزہ مراد ہے ، شک کے دن میں ۔ جب اس کی عادت کے موافق ہو۔
سر سے مراد مہینے کے پہلے روزے ہیں اور یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اس سے مرادآخری ہیں۔ انھوں نے ان دنوں میں ارادہ کیا جب چاند غائب ہوتا ہے اور اس کا شک کے دن سے پہلے یا آخر مہینے کا روزہ مراد ہے ، شک کے دن میں ۔ جب اس کی عادت کے موافق ہو۔
(۷۹۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْعَلاَئِ الزُّبَیْدِیُّ مِنْ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِی الأَزْہَرِ : الْمُغِیرَۃِ بْنِ فَرْوَۃَ قَالَ : قَامَ مُعَاوِیَۃُ فِی النَّاسِ بِدَیْرِ مِسْحَلٍ الَّذِی عَلَی بَابِ حِمْصَ فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا قَدْ رَأَیْنَا الْہِلاَلَ یَوْمَ کَذَا وَکَذَا وَأَنَا مُتَقَدِّمٌ بِالصِّیَامِ۔ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَفْعَلَہُ فَلْیَفْعَلْہُ فَقَامَ إِلَیْہِ مَالِکُ بْنُ ہُبَیْرَۃَ السَّبَئِیُّ فَقَالَ : یَا مُعَاوِیَۃُ أَشَیْئٌ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَمْ شَیْء ٌ مِنْ رَأْیِکَ۔ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((صُومُوا الشَّہْرَ وَسِرَّہُ))۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِیُّ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ قَالَ الْوَلِیدُ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو یَعْنِی الأَوْزَاعِیَّ یَقُولُ : سِرُّہُ أَوَّلُہُ۔
قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْہِرٍ قَالَ : کَانَ سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ یَقُولُ: سِرُّہُ أَوَّلُہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَرَوَاہُ غَیْرُہُ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ أَنَّہُ قَالَ : سِرُّہُ آخِرُہُ۔ وَہُوَ الصَّحِیحُ وَأَرَادَ بِہِ الْیَوْمَ أَوِ الْیَوْمَیْنِ اللَّذَیْنِ یَسْتَتِرُ فِیہِمَا الْقَمَرُ قَبْلَ یَوْمِ الشَّکِّ أَوْ أَرَادَ بِہِ صِیَامَ آخِرِ الشَّہْرِ مَعَ یَوْمِ الشَّکِّ إِذَا وَافَقَ ذَلِکَ عَادَتَہُ فِی صَوْمِ آخِرِ کُلِّ شَہْرٍ۔ وَقِیلَ أَرَادَ بِسِرِّہِ وَسَطَہُ۔ وَسِرُّ کُلِّ شَیْئٍ جَوْفُہُ۔ فَعَلَی ہَذَا أَرَادَ أَیَّامَ الْبِیضِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن۔ اخرجہ ابوداؤد]
قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْہِرٍ قَالَ : کَانَ سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ یَقُولُ: سِرُّہُ أَوَّلُہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَرَوَاہُ غَیْرُہُ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ أَنَّہُ قَالَ : سِرُّہُ آخِرُہُ۔ وَہُوَ الصَّحِیحُ وَأَرَادَ بِہِ الْیَوْمَ أَوِ الْیَوْمَیْنِ اللَّذَیْنِ یَسْتَتِرُ فِیہِمَا الْقَمَرُ قَبْلَ یَوْمِ الشَّکِّ أَوْ أَرَادَ بِہِ صِیَامَ آخِرِ الشَّہْرِ مَعَ یَوْمِ الشَّکِّ إِذَا وَافَقَ ذَلِکَ عَادَتَہُ فِی صَوْمِ آخِرِ کُلِّ شَہْرٍ۔ وَقِیلَ أَرَادَ بِسِرِّہِ وَسَطَہُ۔ وَسِرُّ کُلِّ شَیْئٍ جَوْفُہُ۔ فَعَلَی ہَذَا أَرَادَ أَیَّامَ الْبِیضِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن۔ اخرجہ ابوداؤد]
তাহকীক: