আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭১৭ টি
হাদীস নং: ৭৯১৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزے میں نیت کرنے کا بیان
(٧٩١١) ابن شھاب سیدہ عائشہ (رض) اور سیدہ حفصہ (رض) اسی جیسی حدیث نقل فرماتی ہیں۔
(۷۹۱۱) قَالَ وَحَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَائِشَۃَ وَحَفْصَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا بِمِثْلِ ذَلِکَ۔[صحیح۔ اخرجہ مالک]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯১৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزے میں نیت کرنے کا بیان
(٧٩١٢) سیدہ عائشہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے طلوع فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ۔
(۷۹۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِیُّ بِنَیْسَابُورَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَۃَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ لَمْ یُبَیِّتِ الصِّیَامَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَلاَ صِیَامَ لَہُ))۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالَ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیُّ : تَفَرَّدَ بِہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّادٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ بِہَذَا الإِسْنَادِ وَکُلُّہُمْ ثِقَاتٌ۔ [منکر۔ اخرجہ قطنی]
أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالَ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیُّ : تَفَرَّدَ بِہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّادٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ بِہَذَا الإِسْنَادِ وَکُلُّہُمْ ثِقَاتٌ۔ [منکر۔ اخرجہ قطنی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯১৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزہ رکھنے والا دن میں زوال سے پہلے نیت کر کے روزے میں شامل ہوسکتا ہے
(٧٩١٣) اُم المومنین سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہا یک دن مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اے عائشہ ! ا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ فرماتی ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمارے پاس کچھ نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر میں روزے سے ہوں۔
(۷۹۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الإِمَامُ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ : الْفُضَیْلُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْجَحْدَرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا طَلْحَۃُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ بِنْتُ طَلْحَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ یَوْمٍ : ((یَا عَائِشَۃُ ہَلْ عِنْدَکُمْ شَیْئٌ؟))۔ قَالَتْ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا عِنْدَنَا شَیْء ٌ۔ قَالَ : ((فَإِنِّی صَائِمٌ))۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کَامِلٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کَامِلٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯১৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزہ رکھنے والا دن میں زوال سے پہلے نیت کر کے روزے میں شامل ہوسکتا ہے
(٧٩١٤) اُم المومنین سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ کھانا پسند کیا کرتے تھے، ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو فرمایا : کیا تمہارے پاس کھانا ہے ؟ تو میں نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر میں روزے سے ہوں۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس آتے اور کہتے : کیا تمہارے پاس صبح کا کھانا ہے ؟ اگر میں کہتی نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : پھر میں روزے سے ہوں۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس آتے اور کہتے : کیا تمہارے پاس صبح کا کھانا ہے ؟ اگر میں کہتی نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : پھر میں روزے سے ہوں۔
(۷۹۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْفَقِیہُ بِالطَّابِرَانِ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- یُحِبُ طَعَامًا فَجَائَ یَوْمًا فَقَالَ : ((ہَلْ عِنْدَکُمْ مِنْ ذَلِکَ الطَّعَامِ؟))۔ فَقُلْتُ : ((لاَ فَقَالَ : إِنِّی صَائِمٌ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ وَفِی رِوَایَۃِ رَوْحٍ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَأْتِینَا فَیَقُولُ : ہَلْ عِنْدَکُمْ مِنْ غَدَائٍ ؟ ۔ فَأَقُولُ : لاَ قَالَ : ((إِنِّی صَائِمٌ))۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
لَفْظُ حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ وَفِی رِوَایَۃِ رَوْحٍ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَأْتِینَا فَیَقُولُ : ہَلْ عِنْدَکُمْ مِنْ غَدَائٍ ؟ ۔ فَأَقُولُ : لاَ قَالَ : ((إِنِّی صَائِمٌ))۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯১৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزہ رکھنے والا دن میں زوال سے پہلے نیت کر کے روزے میں شامل ہوسکتا ہے
(٧٩١٥) طلحہ بن یحییٰ نے ایک حدیث بیان کی کہ ایک دن میرے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ ہم نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر میں روزے سے ہوں۔
یعلی بن عبید طلحہ سے یوں ہی نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تب میں روزے سے ہوں۔
یعلی بن عبید طلحہ سے یوں ہی نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تب میں روزے سے ہوں۔
(۷۹۱۵) وَرَوَاہُ وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ -ﷺ- ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ : ((ہَلْ عِنْدَکُمْ شَیْئٌ؟))۔ قُلْنَا : لاَ قَالَ : ((فَإِنِّی إِذًا صَائِمٌ))۔
وَبِذَلِکَ اللَّفْظِ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عِیسَی وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ فَذَکَرَہُ۔
وَکَذَلِکَ قَالَہُ یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی : فَإِنِّی إِذًا صَائِمٌ ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
وَبِذَلِکَ اللَّفْظِ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عِیسَی وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ فَذَکَرَہُ۔
وَکَذَلِکَ قَالَہُ یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی : فَإِنِّی إِذًا صَائِمٌ ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯১৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزہ رکھنے والا دن میں زوال سے پہلے نیت کر کے روزے میں شامل ہوسکتا ہے
(٧٩١٦) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک دن میرے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ ، میں نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تب میں روزے سے ہوں۔
(۷۹۱۶) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ : ((أَعِنْدَکِ شَیْئٌ؟))۔ قُلْتُ : لاَ قَالَ : ((إِذًا أَصُومَ))۔
وَہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ۔ [صحیح۔ نسائی]
وَہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ۔ [صحیح۔ نسائی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯২০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزہ رکھنے والا دن میں زوال سے پہلے نیت کر کے روزے میں شامل ہوسکتا ہے
(٧٩١٧) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ چاشت کے وقت اپنے اہل کے پاس آتے اور پوچھتے کہ کیا تمہارے پاس صبح کا کھانا ہے ؟ اگر وہ کہتے : نہیں تو وہ کہتے : پھر میں روزے سے ہوں۔
(۷۹۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ کَانَ یَأْتِی أَہْلَہُ مِنَ الضُّحَی فَیَقُولُ : ہَلْ عِنْدَکُمْ مِنْ غَدَائٍ ؟ فَإِنْ قَالُوا : لاَ صَامَ ذَلِکَ الْیَوْمَ وَقَالَ : ((إِنِّی صَائِمٌ))۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن شبیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯২১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزہ رکھنے والا دن میں زوال سے پہلے نیت کر کے روزے میں شامل ہوسکتا ہے
(٧٩١٨) ابن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) کو دیکھا، وہ بازار میں گھوم رہے تھے۔ پھر وہ اپنے اہل کے پاس آئے اور کہا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ اگر وہ کہتے : نہیں تو وہ کہتے : پھر میں روزے سے ہوں۔
(۷۹۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ وَأَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ نَجِیحٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَطُوفُ بِالسُّوقِ ، ثُمَّ یَأْتِی أَہْلَہُ فَیَقُولُ : ((عِنْدَکُمْ شَیْئٌ؟)) فَإِنْ قَالُوا : لاَ قَالَ : ((فَأَنَا صَائِمٌ))۔
[ضعیف۔ اخرجہ ابو نعیم]
[ضعیف۔ اخرجہ ابو نعیم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯২২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزہ رکھنے والا دن میں زوال سے پہلے نیت کر کے روزے میں شامل ہوسکتا ہے
(٧٩١٩) اُم درداء (رض) فرماتی ہیں کہ ابو درداء صبح کے بعد آتے اور کہتے : کیا تمہارے پاس کھانا ہے ؟ اگر نہ پاتے تو کہتے کہ میں روزے سے ہوں۔
(۷۹۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ یَعْنِی ابْنَ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ قَالَ حَدَّثَتْنِی أُمُّ الدَّرْدَائِ : أَنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ کَانَ یَجِیئُ بَعْدَ مَا یُصْبِحُ فَیَقُولُ ((أَعِنْدَکُمْ غَدَائٌ)) فَإِنْ لَمْ یَجِدْ قَالَ ((فَأَنَا إِذًا صَائِمٌ))۔
[صحیح۔ رجالا ثقات]
[صحیح۔ رجالا ثقات]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯২৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زوال کے بعد نفلی روزے میں داخل ہونے کا بیان
(٧٩٢٠) ابو عبدالرحمن (رض) فرماتے ہیں کہ حذیفہ (رض) ان کے لیے سورج کے زوال کے بعد روزہ ظاہر ہوا تو انھوں نے روزہ رکھ لیا۔
(۷۹۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ حِکَایَۃً عَنْ بِشْرِ بْنِ السِّرِیِّ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ : أَنَّ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَدَا لَہُ الصَّوْمُ بَعْدَ مَا زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَامَ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطواء]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ حِکَایَۃً عَنْ بِشْرِ بْنِ السِّرِیِّ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ : أَنَّ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَدَا لَہُ الصَّوْمُ بَعْدَ مَا زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَامَ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطواء]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯২৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زوال کے بعد نفلی روزے میں داخل ہونے کا بیان
(٧٩٢١) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جب تک آدمی کچھ کھاتا یا پیتا نہیں تو اسے اختیار ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ یعنی عراقی ایسے خیال نہیں کرتے بلکہ وہ فرماتے ہیں : جب تک وہ زوال شمس سے پہلے روزے کی نیت نہیں کرتا تو اس کا روزہ نہیں ہوگا ۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ نفلی روزے میں جب چاہے نیت کرے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ یعنی عراقی ایسے خیال نہیں کرتے بلکہ وہ فرماتے ہیں : جب تک وہ زوال شمس سے پہلے روزے کی نیت نہیں کرتا تو اس کا روزہ نہیں ہوگا ۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ نفلی روزے میں جب چاہے نیت کرے۔
(۷۹۲۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ حِکَایَۃً عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ قَالَ : أَحَدُکُمْ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَأْکُلْ أَوْ یَشْرَبْ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : ہُمْ یَعْنِی الْعِرَاقِیِّینَ لاَ یَرَوْنَ ہَذَا یَزْعُمُونَ أَنَّہُ لاَ یَکُونُ صَائِمًا حَتَّی یَنْوِیَ الصَّوْمَ قَبْلَ زَوَالِ الشَّمْسِ وَأَمَّا نَحْنُ فَنَقُولُ الْمُتَطَوِّعُ بِالصَّوْمِ مَتَی شَائَ نَوَیَ الصِّیَامَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الشافعی]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : ہُمْ یَعْنِی الْعِرَاقِیِّینَ لاَ یَرَوْنَ ہَذَا یَزْعُمُونَ أَنَّہُ لاَ یَکُونُ صَائِمًا حَتَّی یَنْوِیَ الصَّوْمَ قَبْلَ زَوَالِ الشَّمْسِ وَأَمَّا نَحْنُ فَنَقُولُ الْمُتَطَوِّعُ بِالصَّوْمِ مَتَی شَائَ نَوَیَ الصِّیَامَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الشافعی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯২৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٢٢) یحییٰ بن یحییٰ فرماتے ہیں کہ میں نے مالک کے سامنے نافع عن ابن عمرعن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سند سے حدیث پڑھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کا تذکرہ کیا تو فرمایا : تم روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند دیکھ لو اور جب تک اسے نہ دیکھ لو افطار بھی نہ کرو۔ اگر تم پر بادل کردیے جائیں تو پھر دنوں کا اندازہ لگاؤ۔
قعنبی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کا تذکرہ کیا اور فرمایا : اگر تم پر بادل چھاجائیں۔
قعنبی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کا تذکرہ کیا اور فرمایا : اگر تم پر بادل چھاجائیں۔
(۷۹۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ رَجَائٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ ذَکَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ : ((لاَ تَصُومُوا حَتَّی تَرَوُا الْہِلاَلَ ، وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّی تَرَوْہُ فَإِنْ أُغْمِیَ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوا لَہُ))۔
وَفِی رِوَایَۃِ الْقَعْنَبِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَ رَمَضَانَ وَقَالَ : ((فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ ذَکَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ : ((لاَ تَصُومُوا حَتَّی تَرَوُا الْہِلاَلَ ، وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّی تَرَوْہُ فَإِنْ أُغْمِیَ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوا لَہُ))۔
وَفِی رِوَایَۃِ الْقَعْنَبِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَ رَمَضَانَ وَقَالَ : ((فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯২৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٢٣) حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک مہینہ انتیس دنوں کا ہوتا ہے۔ سو تم روزہ نہ رکھو جب تک چاند کو نہ دیکھ لو اور نہ ہی افطار کرو حتیٰ کہ چاندنہ دیکھ لو۔ اگر تم پر بادل چھاجائیں تو پھر اندازہ لگالو۔
نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) کے لیے چاند دیکھا جاتا، جب شعبان کے انتیس دن گزر جاتے۔ اگر نظر آجاتا تو روزہ رکھ لیتے ۔ اگر نہ نظر آتا تو اور اس کے دیکھنے میں حائل نہ ہوتے۔ پھر وہ افطاری کی حالت میں ہوتے ۔ اگر چاند دیکھتے وقت بادل وغیرہ حائل ہوتے تو صبح روزے کی حالت میں کرتے اور لوگوں کے ساتھ ہی افطار کرتے اور کوئی حساب نہ لگاتے۔
ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن عمیر کے سامنے ابن عمر (رض) کے فعل کا تذکرہ کیا تو انھوں نے کچھ تعجب نہ کیا ، مگر ابن علیہ نے ابن عمر کے فعل کے خلاف بیان کیا ہے۔
نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) کے لیے چاند دیکھا جاتا، جب شعبان کے انتیس دن گزر جاتے۔ اگر نظر آجاتا تو روزہ رکھ لیتے ۔ اگر نہ نظر آتا تو اور اس کے دیکھنے میں حائل نہ ہوتے۔ پھر وہ افطاری کی حالت میں ہوتے ۔ اگر چاند دیکھتے وقت بادل وغیرہ حائل ہوتے تو صبح روزے کی حالت میں کرتے اور لوگوں کے ساتھ ہی افطار کرتے اور کوئی حساب نہ لگاتے۔
ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن عمیر کے سامنے ابن عمر (رض) کے فعل کا تذکرہ کیا تو انھوں نے کچھ تعجب نہ کیا ، مگر ابن علیہ نے ابن عمر کے فعل کے خلاف بیان کیا ہے۔
(۷۹۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ ہُوَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنْ أَیُّوبَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّمَا الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، فَلاَ تَصُومُوا حَتَّی تَرَوْہُ ، وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّی تَرَوْہُ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوا لَہُ ۔ زَادَ حَمَّادٌ فِی رِوَایَتِہِ عَنْ أَیُّوبَ قَالَ نَافِعٌ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا مَضَی مِنْ شَعْبَانَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ نُظِرَ لَہُ فَإِنْ رُئِیَ فَذَاکَ ، وَإِنْ لَمْ یُرَ وَلَمْ یَحُلْ دُونَ مَنْظَرِہِ سَحَابٌ وَلاَ قَتَرَۃٌ أَصْبَحَ مُفْطِرًا ، وَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِہِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرَۃٌ أَصْبَحَ صَائِمًا ، وَکَانَ یُفْطِرُ مَعَ النَّاسِ وَلاَ یَأْخُذُ بِہَذَا الْحِسَابِ))
قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ : ذَکَرْتُ فِعْلَ ابْنِ عُمَرَ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ فَلَمْ یُعْجِبْہُ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ دُونَ فِعْلِ ابْنِ عُمَرَ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّمَا الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، فَلاَ تَصُومُوا حَتَّی تَرَوْہُ ، وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّی تَرَوْہُ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوا لَہُ ۔ زَادَ حَمَّادٌ فِی رِوَایَتِہِ عَنْ أَیُّوبَ قَالَ نَافِعٌ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا مَضَی مِنْ شَعْبَانَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ نُظِرَ لَہُ فَإِنْ رُئِیَ فَذَاکَ ، وَإِنْ لَمْ یُرَ وَلَمْ یَحُلْ دُونَ مَنْظَرِہِ سَحَابٌ وَلاَ قَتَرَۃٌ أَصْبَحَ مُفْطِرًا ، وَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِہِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرَۃٌ أَصْبَحَ صَائِمًا ، وَکَانَ یُفْطِرُ مَعَ النَّاسِ وَلاَ یَأْخُذُ بِہَذَا الْحِسَابِ))
قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ : ذَکَرْتُ فِعْلَ ابْنِ عُمَرَ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ فَلَمْ یُعْجِبْہُ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ دُونَ فِعْلِ ابْنِ عُمَرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯২৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٢٤) حضرت سالم (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو افطار کرو اور اگر تم پر بادل چھاجائیں تو دنوں کا اندازہ کرلو۔
(۷۹۲۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا رَأَیْتُمُ الْہِلاَلَ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَیْتُمُوہُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوا لَہُ))۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ عُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ عُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯২৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٢٥) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مہینہ انتیس دنوں کا ہوتا ہے، سو نہ تم روزہ نہ رکھو حتیٰ کہ چاند دیکھ لو اور نہ ہی تم افطار کرو جب تک چاندنہ دیکھ لو۔ اگر تم پر بادل چھا جائیں تو پھر اندازہ کرلو۔
امام بخاری (رح) نے مالک (رح) سے یہی نقل کیا ہے، کہ مگر انھوں نے کہا کہ تیس دنوں کی گنتی پوری کرو۔
امام بخاری (رح) نے مالک (رح) سے یہی نقل کیا ہے، کہ مگر انھوں نے کہا کہ تیس دنوں کی گنتی پوری کرو۔
(۷۹۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ النَّرْسِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لاَ تَصُومُوا حَتَّی تَرَوْہُ، وَلاَ تُفْطُرُوا حَتَّی تَرَوْہُ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوا لَہُ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ عَنْ مَالِکٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : فَأَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ثَلاَثِینَ ۔ کَذَا وَجَدْتُہُ فِی نُسْخَتِی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ عَنْ مَالِکٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : فَأَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ثَلاَثِینَ ۔ کَذَا وَجَدْتُہُ فِی نُسْخَتِی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯২৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٢٦) امام شافعی (رح) نے بیان کیا کہ مالک نے ایسے ہی تذکرہ کیا اور کہا کہ اگر تم پر بادل چھا جائیں تو پھر تیس کی گنتی پوری کرو۔ ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کا تذکرہ کیا اور فرمایا : اگر تم پر بادل وغیرہ چھاجائیں تو پھر تیس کی تعداد پوری کرو۔
(۷۹۲۶) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔
وَقَالَ : ((فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ثَلاَثِینَ))۔
وَرِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ عَنْ مَالِکٍ عَلَی اللَّفْظِ الأَوَّلِ ۔
وَقَدْ رَوَی مَالِکٌ ہَذَا الْحَدِیثَ فِی الْمُوَطَّإِ عَلَی اللَّفْظِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ رَوَی عُقَیْبَہُ حَدِیثَہُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ الدِّیلِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَ رَمَضَانَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَقَالَ فِیہِ : ((فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ثَلاَثِینَ))۔
وَقَالَ : ((فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ثَلاَثِینَ))۔
وَرِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ عَنْ مَالِکٍ عَلَی اللَّفْظِ الأَوَّلِ ۔
وَقَدْ رَوَی مَالِکٌ ہَذَا الْحَدِیثَ فِی الْمُوَطَّإِ عَلَی اللَّفْظِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ رَوَی عُقَیْبَہُ حَدِیثَہُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ الدِّیلِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَ رَمَضَانَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَقَالَ فِیہِ : ((فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ثَلاَثِینَ))۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৩০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٢٧) محمد بن ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ ابن بکیر نے ہمیں یوں ہی حدیث بیان کی۔
(۷۹۲۷) أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ فَذَکَرَہُ۔
فَکَأَنَّہُ ذَکَرَ الْحَدِیثَیْنِ جَمِیعًا فَغَلِطَ الْکَاتِبُ فَدَخَلَ لَہُ بَعْضُ مَتْنِ الْحَدِیثِ الثَّانِی فِی الإِسْنَادِ الأَوَّلِ وَإِنْ کَانَتْ رِوَایَۃُ الشَّافِعِیِّ وَالْقَعْنَبِیِّ مِنْ جِہَۃِ الْبُخَارِیِّ عَنْہُ مَحْفُوظَۃً فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ مَالِکٌ رَوَاہُ عَلَی اللَّفْظتَیْنِ جَمِیعًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَقَدْ رَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ نَحْوَ الرِّوَایَۃِ الأُولَی عَنْ مَالِکٍ۔[صحیح۔ اخرجہ مالک]
فَکَأَنَّہُ ذَکَرَ الْحَدِیثَیْنِ جَمِیعًا فَغَلِطَ الْکَاتِبُ فَدَخَلَ لَہُ بَعْضُ مَتْنِ الْحَدِیثِ الثَّانِی فِی الإِسْنَادِ الأَوَّلِ وَإِنْ کَانَتْ رِوَایَۃُ الشَّافِعِیِّ وَالْقَعْنَبِیِّ مِنْ جِہَۃِ الْبُخَارِیِّ عَنْہُ مَحْفُوظَۃً فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ مَالِکٌ رَوَاہُ عَلَی اللَّفْظتَیْنِ جَمِیعًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَقَدْ رَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ نَحْوَ الرِّوَایَۃِ الأُولَی عَنْ مَالِکٍ۔[صحیح۔ اخرجہ مالک]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৩১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٢٨) عبداللہ بن دینار (رض) فرماتے ہیں کہ انھوں نے ابن عمر (رض) سے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مہینہ انتیس راتوں کا ہوتا ہے۔ روزہ نہ رکھو حتیٰ کہ اسے چاند دیکھ نہ لو اور نہ ہی افطار کرو حتیٰ کہ (چاند) دیکھ لو، مگر اس صورت میں کہ تم پر بادل چھا جائیں۔ اگر بادل چھاجائیں تو دنوں کا اندازہ لگاؤ۔
(۷۹۲۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَیْلَۃً لاَ تَصُومُوا حَتَّی تَرَوْہُ ، وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّی تَرَوْہُ إِلاَّ أَنْ یُغَمَّ عَلَیْکُمْ۔ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوا لَہُ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ ھذا لفظ مسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ ھذا لفظ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৩২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٢٩) ایوب (رض) فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز (رض) نے اہل بصرہ کی طرف لکھ بھیجا کہ ہمیں یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہنچی ہے۔ پھر انھوں نے ابن عمر (رض) کی سی حدیث بیان کی اور کہا : اچھی بات ہے کہ دنوں کا اندازہ لگا لیا جائے کہ ہم شعبان کا چاند اتنے کا دیکھا تھا اور رمضان کا اتنے کا ہوگیا۔ ہاں اگر اس سے پہلے چاند نظر آجائے تو اسی کے مطابق کرو۔
(۷۹۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ مَسْعَدَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ حَدَّثَنِی أَیُّوبُ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ إِلَی أَہْلِ الْبَصْرَۃِ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ زَادَ وَإِنَّ أَحْسَنَ مَا یُقْدَرُ لَہُ إِنَّا رَأَیْنَا ہِلاَلَ شَعْبَانَ لِکَذَا أَوْ کَذَا وَالصَّوْمُ إِنْ شَائَ اللَّہُ لِکَذَا وَکَذَا إِلاَّ أَنْ تَرَوُا الْہِلاَلَ قَبْلَ ذَلِکَ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَی صِحَّۃِ مَا ذَکَرَہُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ سَائِرُ الرِّوَایَاتِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی ہَذَا الْبَابِ مِنْہَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
قَالَ الشَّیْخُ : وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَی صِحَّۃِ مَا ذَکَرَہُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ سَائِرُ الرِّوَایَاتِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی ہَذَا الْبَابِ مِنْہَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৩৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ چاند دیکھنے کے بعد رکھے یا مہینے کے کے بعدتیس دن پورے ہونے کے بعد
(٧٩٣٠) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ مہینہ ایسے ہوتا ہے ایسے ہوتا ہے ایسے ہوتا ہے۔ پھر تیسری مرتبہ اپنے انگوٹھے کو بند کرلیا اور فرمایا : اگر بادل چھاجائیں تو تیس دن پورے کرو۔
(۷۹۳۰) مَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الشَّہْرُ ہَکَذَا وَہَکَذَا وَہَکَذَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ بِیَدَیْہِ ، ثُمَّ قَبَضَ فِی الثَّالِثَۃِ إِبْہَامَہُ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَتِمُّوا ثَلاَثِینَ))۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক: