কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

صحبت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৬৫ টি

হাদীস নং: ২৫৭৭৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25778 ۔۔۔ محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع عن ابیہ عن جدہ ابی رافع (رض) کی سند سے حدیث مروی ہے ابو رافع کہتے ہیں ! میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان کے گھر سے نکلا ، ان دنوں آپ کا گھر مسجد ہی تھی ، ہم بقیع میں آئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چھینک ماری آپ کافی دیر رکے رہے میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، آپ نے کوئی بات کہی ہے جو میں نہیں سمجھ سکا ، فرمایا ! جی ہاں : میرے پاس جبرائیل امین (علیہ السلام) آئے اور مجھے خبر دی ہے کہ جب تمہیں چھینک آئے تو کہو : ”’ الحمد للہ ککرمہ والحمد للہ کعز جلالہ “۔ فرمایا کہ : رب تبارک وتعالیٰ کہتا ہے میرے بندے نے سچ کہا میرے بندے نے سچ کہا اس کی بخشش ہوچکی ، (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25778- عن محمد بن عبيد الله بن أبي رافع عن أبيه عن جده أبي رافع قال: "خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من بيته وبيته يومئذ المسجد حتى أتينا البقيع فعطس رسول الله صلى الله عليه وسلم فمكث طويلا، فقلت له: بأبي وأمي قلت شيئا لم أفهمه؟ فقال: "نعم أتاني من ربي أو أخبرني جبريل قال: إذا عطست فقل: الحمد لله ككرمه والحمد لله كعز جلاله قال: فإن الرب تبارك وتعالى يقول: صدق عبدي صدق عبدي مغفورا له". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৭৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25779 ۔۔۔ عبداللہ بن جعفر (رض) روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھینک آتی اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے اور اگر آپ سے ” یرحمک اللہ “ کہا جاتا تو آپ کہتے ” یھدیکم اللہ ویصلح بالکم “۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25779- عن عبد الله بن جعفر قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا عطس حمد الله فيقال له: يرحمك الله فيقول: "يهديكم الله ويصلح بالكم". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৮০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25780 ۔۔۔ ابو موسیٰ (رض) روایت کی ہے کہ کہ یہودی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پاس اس خیال سے چھینکتے تھے کہ آپ : ” یرحمک اللہ “ کہیں ۔ چنانچہ آپ یوں فرماتے تھے ۔ ” یھدیکم اللہ ویصلح بالکم “۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25780- عن أبي موسى قال: "كانت اليهود يتعاطسون عند النبي صلى الله عليه وسلم رجاء أن يقول: يرحمكم الله، وكان يقول: "يهديكم الله ويصلح بالكم". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৮১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25781 ۔۔۔ مسند ابوہریرہ (رض) ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دو شخص بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے ایک اشرف واعلی تھا جو شریف تھا اسے چھینک آئی اس نے ” الحمد للہ “ نہ کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” یرحمک اللہ “ بھی نہ کہا ۔ پھر دوسرے نے چھینک ماری اس نے ” الحمد للہ “ کہا ، اور جواب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” یرحمک اللہ “ بھی کہا ، شریف شخص بولا : میں نے چھینک ماری آپ نے جواب میں ’‘’ یرحمک اللہ “ نہیں کہا جبکہ اس نے چھینک ماری اور آپ نے ” یرحمک اللہ “ کہا۔ فرمایا : تو نے اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا تھا میں نے تجھے بھلا دیا ، اس نے اللہ کو یاد کیا میں نے بھی اسے یاد کیا ۔ (رواہ ابن شاھین)
25781-"مسند أبي هريرة" "جلس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلان أحدهما أشرف من الآخر، فعطس الشريف ولم يحمد الله فلم يشمته رسول الله صلى الله عليه وسلم وعطس الآخر فحمد الله، فشمته رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال الشريف: عطست فلم تشمتني، وعطس هذا فشمته، فقال: "إنك نسيت الله فنسيتك، وهذا ذكر الله فذكرته". "ابن شاهين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৮২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25782 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کی ہے کہ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے چنانچہ جب کوئی شخص جمائی لیتے ہوئے ھا ھا کرتا ہے ، یہ شیطان ہوتا ہے جو اس کے پیٹ میں ہنس رہا ہوتا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
25782- عن أبي هريرة قال: "إن الله يحب العطاس، ويكره التثاؤب، فإذا قال أحدكم: هاه هاه فإنما ذلك الشيطان يضحك في جوفه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৮৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25783 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا انھیں چھینک آئی اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو الہام کیا کہ کہو : ” الحمد للہ “ ، رب تعالیٰ نے ان سے کہا : تمہارے رب نے تمہارے اوپر رحم کردیا ، پس یہی بات ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر سبقت لے جاتی ہے۔ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے کہا : فرشتوں کے پاس آؤ اور انھیں سلام کرو چنانچہ آدم (علیہ السلام) فرشتوں کے پاس آئے اور کہا : ” السلام علیکم “ فرشتوں نے کہا : ” اسلام علیکم و رحمۃ اللہ “ چنانچہ فرشتوں نے رحمۃ اللہ کا اضافہ کر کے جواب دیا۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25783- عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لما خلق الله آدم عطس فألهمه ربه أن قال: الحمد لله، قال له ربه: رحمك ربك، فذلك سبقت رحمته غضبه، ثم إن الله تعالى قال: ائت الملائكة فسلم عليهم فأتاهم فقال: السلام عليكم، فقالوا: السلام عليك ورحمة الله، فزادوه ورحمة الله". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৮৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25784 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دو شخص بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے ایک زیادہ شریف تھے چنانچہ شریف نے چھینک ماری اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی حمد نہ کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے ” یرحمک اللہ “ بھی نہ کہا پھر دوسرے نے چھینک ماری نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے جواب میں یرحمک اللہ کہا : شریف بولا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے چھینک ماری آپ نے یرحمک اللہ نہیں کہا جبکہ اس نے چھینک ماری آپ نے یرحمک اللہ کہا ہے۔ آپ نے فرمایا : اس نے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا ہے میں نے بھی اس کو یاد کیا تم اللہ تعالیٰ کو بھول گئے میں بھی تمہیں بھول گیا ۔ (رواہ احمد بن حنبل وٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25784- عن أبي هريرة قال: "جلس عند النبي صلى الله عليه وسلم رجلان أحدهما أشرف من الآخر، فعطس الشريف فلم يحمد الله، فلم يشمته النبي صلى الله عليه وسلم، وعطس الآخر فحمد الله فشمته النبي صلى الله عليه وسلم فقال الشريف: يا رسول الله عطست فلم تشمتني، وعطس هذا فشمته فقال: "إن هذا ذكر الله عز وجل فذكرته، وإنك نسيت الله فنسيتك". "حم هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৮৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25785 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھینک آتی آپ اپنی آواز دھیمی کرلیتے اور ہاتھ سے یا کپڑے سے منہ ڈھانپ لیتے تھے ۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25785- عن أبي هريرة "عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان إذا عطس يخفض صوته واستتر بثوب أو يده". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৮৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25786 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں زور سے چھینکنے سے منع فرماتے تھے ۔ (رواہ ابن عدی وٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25786- عن أبي هريرة "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يكره العطسة الشديدة في المسجد". "عد هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৮৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25787 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : اپنے بھائی کو تین مرتبہ چھینکنے پر ” یرحمک اللہ “ کہو اگر اس سے زیادہ چھینکے تو وہ زکام ہے۔ (رواہ ابو داؤد وٍالبیہقی فی شعب الایمان) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفظ 3323 ۔
25787- عن أبي هريرة قال: "شمت أخاك ثلاثا، فما زاد فهو زكام". "د هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৮৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25788 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) حدیث مذکورہ بالا کو معنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوعا بیان کرتے تھے ۔ (رواہ ابو داؤد وٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25788- عن أبي هريرة "رفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه". "د هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৮৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25789 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چھینک مارتے تو اپنا منہ ڈھانپ لیتے تھے اور اپنی ہتھیلیاں آبروؤں پر رکھ دیتے تھے ۔ (رواہ ابن النجار)
25789- عن أبي هريرة قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا عطس غطى وجهه بثوبه ووضع كفيه على حاجبيه". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৯০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25790 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کی ہے کہ جب کسی شخص کو چھینک آئے وہ کہے : ” الحمد للہ علی کل حال “۔ (رواہ ابن جریر)
25790 - عن أبي هريرة قال: "إذا عطس الرجل فليقل: الحمد لله على كل حال". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৯১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25791 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دو شخص بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے ایک زیادہ عزت مند اور شریف سمجھا جاتا تھا شریف نے چھینک ماری اور ” الحمد للہ “ نہ کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ”’ یرحمک اللہ “ بھی نہ کہا۔ دوسرے نے چھینک ماری اور اس نے ” الحمد للہ “ کہا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اسے ” یرحمک اللہ “ کہا ۔ عزت مند بولا : مجھے آپ کے پاس چھینک آئی لیکن آپ نے مجھے جواب نہیں دیا جبکہ اس نے چھینک ماری اور آپ نے اسے جواب دیا آپ نے فرمایا : اس نے اللہ کو یاد کیا میں نے بھی اسے یاد کیا تو اللہ کو بھول گیا میں بھی تجھے بھول گیا ۔ (رواہ ابن النجار)
25791- عن أبي هريرة قال: "عطس عند النبي صلى الله عليه وسلم رجلان أحدهما أشرف من الآخر، فعطس الشريف فلم يحمد الله فلم يشمته النبي صلى الله عليه وسلم، وعطس الآخر فحمد الله فشمته النبي صلى الله عليه وسلم، فقال الشريف: عطست عندك فلم تشمتني، وعطس هذا فشمته، فقال: "هذا ذكر الله فذكرته، وإنك نسيت الله فنسيتك". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৯২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25792 ۔۔۔ نافع (رض) روایت کی ہے کہ ابن عمر (رض) کو جب چھینک آتی اور ان سے کہا جاتا : ” یرحمک اللہ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہتے : ” یرحمنا اللہ وایاکم وغفرلنا ولکم “۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25792- عن نافع أن ابن عمر "كان إذا عطس فقيل له: يرحمك الله قال: يرحمنا الله وإياكم وغفر لنا ولكم". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৯৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25793 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مسلمان اور یہود جمع تھے دونوں جماعتوں نے آپ کو چھینکنے پر ” یرحمک اللہ “ کہا ۔ اور آپ نے مسلمانوں کو جواب میں یہ کلمات کہے : ” یغفر اللہ لکم ویرحمنا وایاکم “۔ اور یہود کے لیے یہ کلمات کہے : ” یھدیکم اللہ ویصلح بالکم “۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان، وقال تفرد بہ عبداللہ بن عبدالعزیز بن ابی داؤد عن ابیہ وھو ضعیف)
25793- عن ابن عمر قال: "اجتمع المسلمون واليهود عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فشمته الفريقان جميعا فقال للمسلمين: " يغفر الله لكم ويرحمنا وإياكم"، وقال لليهود: "يهديكم الله ويصلح بالكم". "هب وقال تفرد به عبد الله بن عبد العزيز بن أبي داود عن أبيه وهو ضعيف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৯৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25794 ۔۔۔ نافع (رض) روایت کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کے پاس ایک شخص نے چھینک ماری اس نے الحمد للہ کہا حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے فرمایا : تم نے بخل کیا ہے جب تم نے اللہ کی حمد کی وہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود کیوں نہیں بھیجا ۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25794- عن نافع قال: "عطس رجل عند ابن عمر فحمد الله فقال له ابن عمر: قد بخلت فهلا حيث حمدت الله صليت على النبي صلى الله عليه وسلم". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৯৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25795 ۔۔۔ ضحاک بن قیس یشکری روایت کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کے پاس ایک شخص نے چھینک ماری اور کہا : ” الحمد للہ رب العالمین “۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بولے : اگر تم مکمل کردیتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیج دیتے تو اچھا ہوتا ۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25795- عن الضحاك بن قيس اليشكري قال: "عطس رجل عند ابن عمر فقال: الحمد لله رب العالمين، فقال عبد الله: لو تممتها والسلام على رسول الله". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৯৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25796 ۔۔۔ نافع (رض) روایت کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) ، کے پہلو میں ایک شخص نے چھینک ماری اس نے کہا ” الحمد للہ وسلام علی رسولہ “۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بولے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس کی تعلیم یوں نہیں دی آپ نے ہمیں یوں تعلیم دی ہے کہ ہم کہیں : (ان الحمد للہ علی کل حال ) (رواہ البیہقی وقال : اسناد ان الاولان اصح من ھذا فان فیہ زیادہ بن الربیع وفیھما دلالۃ علی خطاء روایۃ وقد قال النجار فیہ نظر)
25796- عن نافع قال: "عطس رجل إلى جنب ابن عمر فقال: الحمد لله وسلام على رسوله فقال: ليس هكذا علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم علمنا أن نقول: إن الحمد لله على كل حال". "هب وقال: الإسنادان الأولان أصح من هذا فإن فيه زياد بن الربيع وفيهما دلالة على خطأ روايته وقد قال خ: فيه نظر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৯৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25797 ۔۔۔ ابراہیم نخعی روایت کی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ” یرحمک اللہ “ اور سلام سے چھینک کا جواب دیتے تھے ، ابراہیم کہتے ہیں : چونکہ اس کے ساتھ فرشتے بھی ہوتے ہیں۔ (رواہ ابن جریر)
25797- عن إبراهيم النخعي قال: "كانوا يعممون بالتشميت والسلام قال إبراهيم: لأن معه الملائكة". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক: