কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
صحبت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৬৫ টি
হাদীস নং: ২৫৭৫৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25758 ۔۔۔ حکیم بن حزام (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک برتن لایا گیا جس میں دودھ تھا آپ کی دائیں طرف ایک دیہاتی بیٹھا ہوا تھا جبکہ آپ کی بائیں طرف آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے ایک شخص بیٹھا ہوا تھا جو دیہاتی سے معمر بھی تھا جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دودھ پی کر فارغ ہوئے فرمایا : اے نوجوان ! اگر تو اجازت دے تو میں دودھ اسے پلا دوں ؟ نوجوان بولا کیا یہ میرا حق ہے فرمایا : جی ہاں ۔ عرض کیا : میں آپ کے جھوٹے سے اپنا حصہ ہرگز کسی کو نہیں دوں گا چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جام اسے تھما دیا اور نوجوان نے دودھ پی لیا ۔ (رواہ الطبرانی)
25758- عن حكيم بن حزام قال: "أتي النبي صلى الله عليه وسلم بإناء فيه لبن وعن يمينه رجل من أهل البادية ومن يساره رجل من أصحابه وهو أسن منه فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم حاجته من الشراب قال: "يا فتى هذا لك فتأذن لي فيه فأسقيه؟ " قال: هو لي؟ قال: "نعم"، قال: لن أعطي نصيبي من سؤرك أحدا فناوله النبي صلى الله عليه وسلم فشرب". "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৫৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25759 ۔۔۔ ابو امامہ (رض) روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصا کے سہارے ہمارے پاس تشریف لائے ہم آپ کے لیے کھڑے ہوگئے آپ نے فرمایا : عجمیوں کی طرح مت کھڑے ہو چنانچہ عجمی تعظیما ایک دوسرے کے آگے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ (رواہ ابن جریر)
25759- عن أبي أمامة قال: "خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم متوكئا على عصاه فقمنا له، فقال: "لا تقوموا كما يقوم الأعاجم يعظم بعضها بعضا". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৬০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25760 ۔۔۔ ” مسند ابی برزہ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے : ” سبحانک اللہم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک “۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
25760-"مسند أبي برزة" "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إذا أراد أن يقوم من المجلس: "سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৬১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25761 ۔۔۔ ” مسند ابی سعید “ ابو سعید (رض) روایت کی ہے کہ میں نے کئی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ کلمات کہتے سنا ہے : ” سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین “۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
25761-"مسند أبي سعيد" "سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول غير مرة يقول في آخر صلاته عند انصرافه "سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৬২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25762 ۔۔۔ ابو طلحہ روایت کی ہے کہ ہم کونوں کھدروں میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہوگئے اور فرمایا : ٹیلوں پر یہ تمہاری کیسی مجلسیں ہیں ٹیلوں پر مجلس قائم کرنے سے اجتناب کرو ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم کسی پریشانی کے لیے نہیں بیٹھے ہم مذاکرہ کرتے ہیں اور گفتگو کرتے ہیں فرمایا : جب یہ بات ہے تو مجلسوں کا حق ادا کرو ، ہم نے عرض کیا : مجلسوں کا حق کیا ہے ؟ فرمایا : نظریں نیچی رکھنا ، سلام کا جواب دینا اور اچھا کلام کرنا ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان، وابن النجار)
25762- عن أبي طلحة قال: "كنا جلوسا بالأفنية نتحدث فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام علينا فقال: "ما لكم وللمجالس بالصعدات اجتنبوا مجالس الصعدات" قلنا: يا رسول الله إن جلسنا لغير ما بأس جلسنا نتذاكر ونتحدث، قال: "أما لا فأدوا". وفي لفظ: "أعطوا المجالس حقها"، قلنا: وما حقها؟ قال: "غض البصر، ورد السلام، وحسن الكلام". "هب وابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৬৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25763 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسواک کے بارے میں فرمایا : قوم میں جو بڑا ہو اسے دو پھر فرمایا کہ جبرائیل امین (علیہ السلام) نے مجھے حکم دیا ہے کہ بڑے کو مسواک دو ۔ (رواہ ابن النجار)
25763- "عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم في السواك قال: "ناوله أكبر القوم، ثم قال: إن جبريل أمرني أن أكبر". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৬৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25764 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناپسند سمجھتے تھے کہ آدمی کو کھڑا کیا جائے اور اس کی جگہ کوئی دوسرا بیٹھے لیکن یوں کہہ دے : کھسک جاؤ اور مجلس میں وسعت پیدا کرو۔ (رواہ ابن النجار)
25764- عن ابن عمر قال: "كره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقام الرجل من مجلسه فيجلس فيه آخر، ولكن يقول: "تفسحوا توسعوا". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৬৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25765 ۔۔۔ عدی بن حاتم (رض) روایت کی ہے کہ جب وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے عدی (رض) کی طرف تکیہ پھینکا ۔ لیکن عدی (رض) زمین پر بیٹھ گئے اور کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ زمین میں بلندی کے طالب نہیں ہیں اور نہ فساد پھیلانا چاہتے ہیں عدی (رض) نے اسلام قبول کیا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! ہم نے آپ کو عدی کے ساتھ عجیب سماں میں دیکھا ہے جبکہ ہم نے اس طرح کسی کو نہیں دیکھا ۔ فرمایا : جی ہاں ۔ یہ اپنی قوم کا سردار ہے جب تمہارے پاس کسی قوم کا سردار آجائے اس کا اکرام کرو ۔ (رواہ العسکری فی الامثال وابن عساکر)
25765- "عن عدي بن حاتم أنه لما دخل على النبي صلى الله عليه وسلم ألقى إليه وسادة فجلس على الأرض وقال: أشهد أنك لا تبغي علوا في الأرض ولا فسادا وأسلم فقالوا: يا نبي الله لقد رأينا منك منظرا لم نره لأحد؟ فقال: "نعم هذا كريم قوم فإذا أتاكم كريم قوم فأكرموه". "العسكري في الأمثال، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৬৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25766 ۔۔۔ ” مسند ابی “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے تھے اور ٹیک نہیں لگاتے تھے ۔ (رواہ ابو یعلی وابن حبان ، وابن عساکر والضیاء)
25766-"مسند أبي" "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم: يجثو على ركبتيه ولا يتكى". "ع حب كر ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৬৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25767 ۔۔۔ مجاہد بن فرقد طرابلسی واثلہ بن خطاب قرشی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تھے جب آپ نے اس شخص کو دیکھا اپنی جگہ سے تھوڑے کھسک گئے وہ شخص بولا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جگہ کھلی ہے آپ نے فرمایا : مومن کا حق ہے کہ جب وہ اپنے بھائی کو دیکھے تو اس کے لیے کھسک جائے ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان، وابن عساکر)
25767- عن مجاهد بن فرقد الطرابلسي عن واثلة بن الخطاب القرشي قال: "دخل رجل المسجد والنبي صلى الله عليه وسلم وحده فتحرك له النبي صلى الله عليه وسلم فقيل له: يا رسول الله؟ المكان واسع؟ فقال له "إن للمؤمن حقا إذا رآه أخوه أن يتزحزح له". "هب كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৬৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25768 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے میں دس سال کا تھا اور جب آپ کی وفات ہوئی تو میں بیس سال کا تھا ۔ میری مائیں مجھے آپ کی خدمت پر برانگیختہ کرتی تھیں ایک مرتبہ آپ ہمارے ہاں تشریف لائے ہم نے اپنی ایک بکری کا دودھ دوہا اور اپنے گھر میں واقع کنویں کا پانی نکال کر کچی بنائی سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) آپ کی بائیں طرف بیٹھے تھے اور ایک دیہاتی دائیں طرف بیٹھا تھا ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دودھ پیا عمر (رض) ایک کونے میں بیٹھے تھے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) بولے : دودھ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو دے دیں ۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعرابی کو دودھ دیا اور فرمایا : دایاں تو دایاں ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
25768- عن أنس قال: "قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة وأنا ابن عشر سنين، ومات وأنا ابن عشرين وكن أمهاتي يحثثني من خدمته فدخل علينا النبي صلى الله عليه وسلم، فحلبنا له من شاة لنا داجن فشيب له من ماء بئر في الدار وأبو بكر عن شماله وأعرابي عن يمينه، فشرب النبي صلى الله عليه وسلم وعمر ناحية فقال عمر: أعطه أبا بكر فناول الأعرابي وقال: "الأيمن فالأيمن". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৬৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25769 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص چھینکتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں اگر چھینکنے والا ” الحمد للہ “ کہے تو فرشتے ” رب العالمین “ کہتے ہیں اور جب ” رب العالمین “ کہہ دے تو فرشتے ” یرحمک اللہ “ کہتے ہیں۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25769- عن ابن عباس قال: "إن الملائكة يحضرون أحدكم إذا عطس فإذا قال: الحمد لله قالت الملائكة: رب العالمين، فإذا قال: رب العالمين قالت الملائكة: يرحمك الله". "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৭০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25770 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) روایت کی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چھینک ماری اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں کیا کہوں ؟ فرمایا : کہو : ” الحمد للہ رب العالمین “۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : ہم اسے کیا کہیں فرمایا : تم اس کے جواب میں ” یرحمک اللہ “۔ کہو ، چھینکنے والے کہا میں انھیں کیا دوں : فرمایا : تم کہو : ” یھدیکم اللہ ویصلح بالکم “۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25770- عن عائشة قالت: "عطس رجل عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما أقول يا رسول الله؟ قال: "قل الحمد لله رب العالمين" فقالوا: ما نقول له؟ قال: "قولوا له يرحمك الله" قال: فما أرد عليهم؟ قال: "قل يهديكم الله ويصلح بالكم". "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৭১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25771 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) روایت کی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چھینک ماری عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں کیا کہوں ؟ فرمایا : الحمد للہ کہو ، لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم اس کے لیے کیا کہیں فرمایا : تم ” یرحمک اللہ “ کہو ۔ عرض کیا ! میں ان کے جواب میں کیا کہوں ؟ فرمایا : تم کہو : ” یھدیکم اللہ ویصلح بالکم “۔ (رواہ ابن جریر)
25771- عن عائشة قالت: "عطس رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ما أقول يا رسول الله؟ قال: "قل الحمد لله"، فقال القوم: ما نقول له يا رسول الله؟ قال: "قولوا يرحمك الله"، قال: ماذا أقول لهم يا رسول الله؟ قال: "قل يهديكم الله ويصلح بالكم". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৭২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25772 ۔۔۔ ام سلمہ (رض) روایت کی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کی ایک جانب میں چھینک ماری کہا : ’ الحمد اللہ ‘۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یرحمک اللہ “۔ پھر ایک اور نے گھر کی ایک جانب میں چھینک ماری اس نے کہا : ” الحمد للہ رب العالمین حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ “۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ شخص اس شخص پر نو درجے آگے بڑھ گیا ۔ (رواہ بن جریر ولا باس بسندہ)
25772- عن أم سلمة قالت: "عطس رجل في جانب بيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال: الحمد لله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "يرحمك الله"، ثم عطس آخر في جانب البيت فقال: الحمد لله رب العالمين حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ارتفع هذا على هذا تس ع عشرة درجة". "ابن جرير، ولا بأس بسنده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৭৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25773 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے وہ کہے : ” الحمد اللہ “ اس کے جواب میں ” یرحمک اللہ کہا جائے اور چھینکے والا کہے : ” یھدیکم اللہ ویصلح بالکم “۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25773- عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا عطس أحدكم فليقل: الحمد لله، وليقل له: يرحمك الله، وليقل: يهديكم الله ويصلح بالكم". "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৭৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25774 ۔۔۔ ابن علاء عبداللہ بن شخر (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس چھینک ماری وہ بولا : ” السلام علیک “ عمر (رض) نے کہا : ” وعلیک وعلی ابیک ‘ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جب کسی کو چھینک آئے وہ کیا کہے ؟ اسے ” الحمد للہ “ کہنا چاہیے اور لوگوں کو ” یرحمک اللہ “ کہا چاہیے اور چھینکنے والا کہے : ” یغفر اللہ لکم “۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25774- عن ابن العلاء عن عبد الله بن الشخير قال: "عطس رجل عند عمر بن الخطاب فقال: السلام عليك، فقال عمر: وعليك وعلى أبيك أما يعلم أحدكم ما يقول إذا عطس؟ فليقل: الحمد لله، وليقل القوم: يرحمك الله وليقل هو: يغفر الله لكم". "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৭৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25775 ۔۔۔ قتادہ (رض) روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : کسی بات کے وقت ایک بار چھینک آجانا میرے نزدیک شاہد عدل سے زیادہ محبوب ہے۔ (رواہ حکیم)
25775- عن قتادة قال: "قال عمر بن الخطاب: لعطسة واحدة عند حديث أحب إلي من شاهد عدل". "الحكيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৭৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25776 ۔۔۔ معاویہ بن حکم (رض) روایت کی ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور بہت سارے امور اسلام آپ سے سیکھے من جملہ ان میں سے ایک یہ بھی مجھے سکھائی گئی کہ جب مجھے چھینک آئے تو میں ” الحمد للہ “ کہوں اور جب کوئی چھینک مارے اور ” الحمد للہ “ کہے تو اس کے جواب میں ” یرحمک اللہ “ کہوں ۔ (رواہ ابن جریر)
25776- عن معاوية بن الحكم قال: "قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم فعلمت أمورا من الإسلام فكان فيما علمت أن قيل: "إذا عطست فاحمد الله، وإذا عطس العاطس فحمد الله فقل: يرحمك الله". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৭৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک اور چھینک کے جواب کا بیان :
25777 ۔۔۔ ” مسند سالم بن عبید اشجعی (رض) “ ہلال (رض) بن یساف روایت کی ہے کہ میں سالم بن عبید کے ساتھ ایک سفر میں تھا لوگوں میں سے ایک شخص نے چھینک ماری اور کہا : ” السلام علیکم “ ، سالم بن عبید نے کہا : ” علیک وعلی امک “ پھر کہا : شاید تم نے میری کہی بات کو کچھ واہی سمجھا ہے اس شخص نے کہا : ” جی ہاں میں چاہتا ہوں کہ تم نے میری ماں کا خیر وشر میں ذکر نہ کیا ہوتا سالم بن عبید نے کہا : میں نے تم سے وہی بات کہی ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمائی تھی ، چنانچہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اچانک ایک شخص نے چھینک ماری اور کہا : ” السلام علیکم “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” علیک وعلی امک “ پھر فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص چھینک مارے وہ کہے : ” الحمد للہ رب العالمین “۔ یا کہے : ” الحمد للہ علی کل حال “ ۔ اور اس کے پاس جو لوگ کہوں وہ کہیں ” یرحمک اللہ “ اور چھینکنے والا جواب میں کہے ” یغفر اللہ لنا ولکم “۔ (رواہ ابو داؤد الطیالسی واحمد بن حنبل والترمذی وابن جریر وابن اسنی والطبرانی والحاکم والبیہقی فی شعب الایمان والضیاء)
25777-"مسند سالم بن عبيد الأشجعي" عن هلال بن يساف قال: كنت مع سالم بن عبيد في سفر فعطس رجل من القوم فقال: السلام عليكم، فقال سالم بن عبيد: عليك وعلى أمك، ثم قال بعد: لعلك وجدت مما قلت لك؟ قال: أجل لوددت أنك لم تذكر أمي بخير ولا شر قال: إنما قلت لك كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنا بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ عطس رجل فقال: السلام عليكم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "عليك وعلى أمك، ثم قال: إذا عطس أحدكم فليقل: الحمد لله رب العالمين أو الحمد لله على كل حال وليقل من عنده: يرحمك الله، وليرد عليهم يغفر الله لنا ولكم". "ط، حم د، ت ن وابن جرير وابن السني، طب ك هب ض".
তাহকীক: