কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

صحبت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৬৫ টি

হাদীস নং: ২৫৭৩৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوعات سلام :
25738 ۔۔۔ حضرت عبادہ بن صامت (رض) روایت کی ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عید کے موقع پر لوگوں کے اس قول ۔ ”’ اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے اور تمہاری طرف سے قبول فرمائے “ کے متعلق دریافت کیا آپ نے فرمایا : یہ اہل کتابین (یہودی و نصاری) کا فعل ہے ، گویا آپ نے اسے ناپسند کیا ۔ (رواہ الدیلمی وابن عساکر) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے : المتناھیۃ 900 ۔
25738- عن عبادة بن الصامت قال: "سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قول الناس في العيدين تقبل الله منا ومنكم قال: "ذاك فعل أهل الكتابين وكرهه". "الديلمي كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৩৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام کے جواب کے متعلق :
25739 ۔۔۔ ” مسند صدیق “ زہرہ بن خمیصہ روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ میں سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پیچھے سوار تھا ہم لوگوں کے پاس سے گزرتے ہم انھیں سلام کرتے لوگ جواب میں ہماری نسبت اکثر الفاظ میں سلام کا جواب دیتے ابوبکر (رض) نے فرمایا : لوگ آج برابر ہمارے اوپر غلبہ پاتے رہے ہیں ایک روایت ہے کہ لوگ خیر کثیر میں ہم پر فضیلت لے گئے ہیں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
25739-"مسند الصديق" عن زهرة بن خميصة قال: "ردفت أبا بكر فكنا نمر بالقوم فنسلم عليهم فيردون علينا أكثر مما نسلم فقال: أبو بكر ما زال الناس غالبين لنا منذ اليوم. وفي لفظ: فضلنا الناس اليوم بخير كثير". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৪০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام کے جواب کے متعلق :
25740 ۔۔۔ دحیہ بن عمرو روایت کی ہے کہ میں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کہا : ” السلام علیک یا امیر المومنین و رحمۃ اللہ وبرکاتہ “۔ آپ (رض) نے جواب میں کہا : ” السلام علیک و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ “۔ رواہ ابن سعد۔
25740- عن دحية بن عمرو قال: "أتيت عمر بن الخطاب فقلت: السلام عليك يا أمير المؤمنين ورحمة الله وبركاته، فقال: السلام عليك ورحمة الله وبركاته ومغفرته". "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৪১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام کے جواب کے متعلق :
25741 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا آپ نے جواب میں فرمایا : ” وعلیک السلام “۔ (رواہ ابن جریر فی تھذیب)
25741- عن أبي هريرة "أن رجلا سلم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "وعليك السلام". "ابن جرير في تهذيبه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৪২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات سلام :
25742 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ میں نے حضرت صہیب (رض) سے پوچھا : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا جاتا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کرتے تھے ؟ انھوں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہاتھ سے اشارے کرتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
25742- عن ابن عمر قال: "سألت صهيبا كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع حيث كان يسلم عليه؟ قال: كان يشير بيده". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৪৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات سلام :
25743 ۔۔۔ حضرت صہیب (رض) روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا آپ نماز پڑھ رہے تھے میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے اشارہ سے سلام کا جواب دیا ، لیث کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ راوی نے کہا کہ آپ نے انگلی سے اشارہ کیا ۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25743 عن صهيب قال : مررت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يصلي فسلمت عليه فرد علي إشارة.

قال ليث : حسبته قال بأصبعه.

(هب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৪৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات سلام :
25744 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیماء کے راہب کو خط لکھا اور اس میں سلام کیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
25744 عن إبن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم كتب إلى حبر تيماء (1) يسلم عليه.

(كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৪৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات سلام :
25745 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا آپ قضائے حاجت یا پیشاب سے فارغ ہو کر باہر تشریف لائے تھے ، اس شخص نے آپ کو سلام کیا آپ نے سلام کا جواب نہ دیا حتی کہ قریب تھا کہ آدمی گلی میں چھپ جاتا آپ نے دیوار پر ہاتھ مارا اور اپنے چہرے کا مسح کیا پھر دوسری ضرب لگائی اور اپنے بازوؤں کا مسح کیا پھر اس شخص کو سلام کا جواب دیا اور فرمایا : میں تمہیں اس وجہ سے سلام کا جواب نہیں دے سکا چونکہ میں طہارت میں نہیں تھا ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
25745 عن إبن عباس قال : مر على رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل وقد خرج من غائط أو بول فسلم عليه السلام فلم يرد عليه حتى إذا كان الرجل يتوارى في السكة ضرب بيده على الحائط ومسح وجهه ثم ضرب ضربة أخرى فمسح ذراعيه ثم رد على الرجل السلام فقال : أما إنه لم يمنعني أن أرد عليك السلام إلا أني لم أكن على طهر.صلى الله عليه وآله
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৪৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مصافحہ اور ہاتھوں کا بوسہ لینے کے بیان میں :
25746 ۔۔۔ تمیم بن سلمہ (رض) روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) جب شام تشریف لائے تو ابو عبیدہ بن جراح (رض) نے عمر (رض) کا استقبال کیا ، ابو عبیدہ (رض) نے آپ (رض) سے مصافحہ کیا اور ان کے ہاتھوں کا بوسہ لیا پھر دونوں حضرات الگ الگ ہو کر رونے لگے تمیم کہا کرتے تھے کہ ہاتھوں کا بوسہ لینا سنت ہے۔ (رواہ عبدالرزاق والخرائطی فی مکارم الاخلاق والبیہقی وابن عساکر)
25746- عن تميم بن سلمة قال: "قدم عمر الشام استقبله أبو عبيدة ابن الجراح فصافحه وقبل يده، ثم خلوا يبكيان، فكان تميم يقول تقبيل اليد سنة". "عب والخرائطي في مكارم الأخلاق، ق، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৪৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مصافحہ اور ہاتھوں کا بوسہ لینے کے بیان میں :
25747 ۔۔۔ ” مسند علی “ حافظ ابوبکر بن مسدی اپنی مسلسلات میں کہتے ہیں : میں نے ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ عبشوی نغزاوی سے مصافحہ کیا وہ کہتے ہیں ، میں نے ابو الحسن علی بن سیف حضری سے سکندریہ میں مصافحہ کیا (ح) حافظ ابوبکر کہتے ہیں میں نے ابو قاسم عبدالرحمن بن ابی الفضل مالکی سے بھی سکندریہ میں مصافحہ کیا وہ کہتے ہیں میں نے شبل بن احمد بن شبل سے مصافحہ کیا وہ ہمارے پاس تشریف لائے تھے ان دونوں نے کہا کہ ہم نے ابو محمد عبداللہ بن مقبل بن محمد شجبی سے مصافحہ کیا ، وہ کہتے ہیں : میں نے محمد بن فرج بن حجاج سکسکی سے مصافحہ کیا وہ کہتے ہیں میں ن ے ابو مروان عبدالملک بن ابی میسرہ سے مصافحہ کیا وہ کہتے ہیں میں نے احمد بن محمد نغری سے وہ کہتے ہیں میں نے احمد اسود سے مصافحہ کیا وہ کہتے ہیں میں نے ممشاد دینوری سے مصافحہ کیا وہ کہتے ہیں میں نے علی بن رزینی خراسانی سے مصافحہ کیا وہ کہتے ہیں میں نے عیسیٰ قصار سے مصافحہ کیا ، وہ کہتے ہیں میں نے حسن بصری سے مصافحہ کیا ، وہ کہتے ہیں میں نے علی بن ابی طالب سے مصافحہ کیا ، وہ کہتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مصافحہ کیا : آپ نے فرمایا میری کف دست نے رب تعالیٰ کے عرش کے پردوں کا مصافحہ کیا ۔ ابن مسدی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے یہ حدیث ہمیں صرف اسی طریق سے پہنچی ہے اور یہ صوفی اسناد ہے۔ ” انتھی قالت قال الشیخ جلال الدین السیوطی (رح) : اخبرنی بھذا الحدیث نشوان بنت الجمال عبداللہ الکتانی اجازۃ عن احمد بن ابی بکر بن عبدالحمید بن قدامۃ المقدسی عن عثمان بن محمد التوزری عن ابی مسدی ، انتھی ۔
25747-"مسند علي" قال: الحافظ أبو بكر بن مسدى في مسلسلاته: "صافحت أبا عبد الله محمد بن عبد الله بن عبشوي النغزاوي بها قال: صافحت أبا الحسن علي بن سيف الحضري بالإسكندرية ح وصافحت أيضا أبا القاسم عبد الرحمن بن أبي الفضل المالكي بالإسكندرية، قال: صافحت شبل بن أحمد بن شبل قدم علينا قال: كل واحد منهما صافحت أبا محمد عبد الله بن مقبل بن محمد العجيبي قال: صافحت محمد بن الفرج بن الحجاج السكسكي قال: صافحت أبا مروان عبد الملك بن أبي ميسرة قال: صافحت أحمد بن محمد النغزي بها، قال: صافحت أحمد الأسود قال: صافحت ممشاد الدينوري قال: صافحت علي بن الرزيني الخراساني قال: صافحت عيسى القصار قال صافحت: الحسن البصري قال: صافحت علي بن أبي طالب قال: صافحت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: صافحت كفي هذه سرادقات عرش ربي عز وجل قال ابن مسدى: غريب لا نعلمه إلا من هذا الوجه وهذا إسناد صوفي. انتهى. قلت قال الشيخ جلال الدين السيوطي رحمه الله: أخبرني بهذا الحديث نشوان بنت الجمال عبد الله الكتاني إجازة عن أحمد بن أبي بكر ابن عبد الحميد بن قدامة المقدسي عن عثمان بن محمد التوزري عن ابن مسدي. انتهى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৪৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مصافحہ اور ہاتھوں کا بوسہ لینے کے بیان میں :
25748 ۔۔۔ ” مسند براء بن عازب “ ابو ھذیل ربعی کہتے ہیں ابو داؤد ربعی سے میری ملاقات ہوئی میں نے انھیں اسلام کیا انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا : کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہارا ہاتھ کیوں پکڑا ہے میں نے کہا مجھے امید ہے کہ آپ نے میرا ہاتھ محض اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کی وجہ سے پکڑا ہے۔ کہا جی ہاں ۔ یہ ایسا ہی ہے لیکن میں نے تمہارا ہاتھ اسی طرح پکڑا ہے جس طرح براء بن عازب (رض) نے میرا ہاتھ پکڑا تھا ۔ انھوں نے مجھ سے بھی یہی بات کہی تھی جو میں نے تم سے کہی ہے اور میں نے بھی ان سے یہی بات کہی تھی جو تم نے مجھ سے کہی ہے ، انھوں نے کہا : جی ہاں لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : جب بھی دو مومن آپس میں ملاقات کرتے ہیں ان میں سے ہر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑتا ہے اور وہ صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کے لیے محبت کی وجہ سے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑتے ہیں (یعنی مصافحہ کرتے ہیں) ان کے ہاتھ الگ الگ نہیں ہونے پاتے کہ ان کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
25748-"من مسند البراء بن عازب" عن أبي الهذيل الربعي قال: لقيت أبا داود الربعي فسلمت عليه فأخذ بيدي وقال: تدري لم أخذت بيدك؟ فقلت أرجو أن لا تكون أخذت بها إلا لمودة في الله عز وجل، قال: أجل إن ذاك كذلك ولكن أخذت بيدك كما أخذ بيدي البراء بن عازب وقال لي كما قلت لك فقلت له كما قلت لي؟ فقال: أجل ولكن أخذ بيدي رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "ما من مؤمنين يلتقيان فيأخذ كل واحد منهما بيد أخيه لا يأخذ إلا لمودة في الله تعالى فتفترق أيديهما حتى يغفر لهما". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৪৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مصافحہ اور ہاتھوں کا بوسہ لینے کے بیان میں :
25749 ۔۔۔ حضرت ابو ذر (رض) روایت کی ہے کہ ان سے کسی شخص نے کہا : میں آپ سے ایک حدیث کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں ، ابو ذر (رض) نے کہا : تب میں تمہیں حدیث سناؤں گا البتہ راز داری میں تمہیں حدیث سناؤں گا اس شخص نے سوال کیا : جب تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کرتے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مصافحہ کرتے تھے ؟ ابو ذر (رض) نے کہا : میں نے جب بھی آپ سے ملاقات کی آپ نے مجھ سے ضرور مصافحہ کیا ۔ (رواہ احمد بن حنبل والرویانی)
25749- عن أبي ذر أنه قيل له: أريد أن أسألك عن حديث من حديث النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إذا أحدثك به إلا أن يكون سرا قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصافحكم إذا لقيتموه؟ قال: ما لقيته قط إلا صافحني". "حم والروياني".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৫০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مصافحہ اور ہاتھوں کا بوسہ لینے کے بیان میں :
25750 ۔۔۔ ” مسند انس “ انس (رض) روایت کی ہے کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم ایک دوسرے کے لیے جھک سکتے ہیں :؟ فرمایا : نہیں ہم نے عرض کیا : ہم ایک دوسرے سے مصافحہ کرسکتے ہیں ؟ فرمایا : نہیں ، ہم نے عرض کیا : ہم ایک دوسرے سے مصافحہ کرسکتے ہیں ؟ فرمایا : جی ہاں ۔ (رواہ الدارقطنی و ابن ابی شیبۃ)
25750-"مسند أنس" "قلنا يا رسول الله أينحنى بعضنا لبعض؟ قال: " لا قلنا فيعانق بعضنا بعضا؟ قال لا، قلنا فيصافح بعضنا بعضا قال: نعم". "قط ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৫১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25751 ۔۔۔ سعید بن ابی حسین روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) گواہی کے لیے بلائے گئے اس شخص اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور بولا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں منع فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھے اور ہم اس کی جگہ بیٹھ جائیں ۔ اور یہ کہ آدمی کسی ایسے کپڑے سے (منہ وغیرہ) پونچھے جو اس کی ملکیت میں نہ ہو ۔ (رواہ ابو عبداللہ البزری فی حدیثہ واخشی ان یکون تصحف بابی بکر فان الحدیث معروف من روایۃ)
25751-"مسند الصديق" عن سعيد بن أبي الحسين "أن أبا بكر دعي إلى شهادة فقام له رجل عن مجلسه فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهانا إذا قام الرجل من مجلسه أن نقعد فيه، وأن يمسح الرجل بثوب من لا يملك". "أبو عبد الله البزري في حديثه وأخشى أن يكون تصحف بأبي بكر فإن الحديث معروف من روايته".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৫২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25252 ۔۔۔ سعید بن عبدالرحمن بن یربوع نے سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کو یوں بیٹھے ہوئے دیکھا کہ ان کی ایک ٹانگ دوسری پر تھی ۔ (رواہ الطحاوی)
25752- عن سعيد بن عبد الرحمن بن يربوع "أنه رأى عثمان بن عفان يجلس وإحدى رجليه على الأخرى". "الطحاوي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৫৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25753 ۔۔۔ نافع کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرمایا کرتے تھے کہ دھو میں دیر تک نہیں بیٹھو چونکہ دھوپ جلا کر (کھال) کا رنگ تبدیل کردیتی ہے کپڑے کو بوسیدہ کردیتی ہے اور پوشیدہ بیماری کو برانگیختہ کرتی ہے۔ (رواہ ابن اسنی وابو نعیم)
25753- عن نافع قال: "كان عمر بن الخطاب يقول: لا تطيلوا الجلوس في الشمس فإنه يغير اللون يقبض الجلد ويبلي الثوب ويحث الداء الدفين". "ابن السني وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৫৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25754 ۔۔۔ حسن کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ابو موسیٰ اشعری (رض) کو خط لکھا کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم لوگوں کے جم غفیر کو اجازت دیتے ہو جب میرا خط تمہارے پاس پہنچے تو شرفاء اور بڑے لوگوں سے ابتدا کرو جب وہ اپنی مجلس میں بیٹھ جائیں پھر لوگوں کو اجازت دو ۔ (رواہ الدینوری)
25754- عن الحسن قال: "كتب عمر بن الخطاب إلى أبي موسى الأشعري: إنه بلغني أنك تأذن للناس جما غفيرا فإذا جاءك كتابي هذا فابدأ بأهل الفضل والشرف والوجوه، فإذا أخذوا مجالسهم فأذن للناس". "الدينوري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৫৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25755 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو دھوپ میں بیٹھا دیکھا آپ (رض) نے اسے دھوپ میں بیٹھنے سے منع کیا ۔ اور کہا : یہ گندہ دہنی کا باعث بنتی ہے اور بدبو پھیلاتی ہے کپڑے بوسیدہ کرتی ہے اور پوشیدہ بیماری کو ظاہر کردیتی ہے۔ (رواہ الدینوری)
25755- عن علي "أنه رأى رجلا في الشمس قاعدا فنهاه عن القعود وقال: قم عنها فإنها مبخرة مجعرة تنقل الريح وتبلي الثوب وتظهر الداء الدفين". "الدينوري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৫৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25756 ۔۔۔ ابو جعفر روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے پاس دو شخص داخل ہوئے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ان کے لیے تکیہ پھینکا ان میں سے ایک تکیے پر بیٹھ گیا اور دوسرا زمین پر بیٹھ گیا سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے زمین پر بیٹھنے والے سے کہا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوجاؤ اور تکیہ پر بیٹھو ، چونکہ عزت وشرف سے انکار صرف گدھا ہی کرتا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ورواہ عبدالرزاق وقال ھذا منقطع)
25756- عن أبي جعفر قال: "دخل على علي رجلان فطرح لهما وسادة فجلس أحدهما على الوسادة وجلس الآخر على الأرض فقال علي للذي جلس على الأرض: قم فاجلس على الوسادة فإنه لا يأبى الكرامة إلا حمار". "ش عب وقال هذا منقطع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৫৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس وجلوس کے حقوق :
25757 ۔۔۔ ” مسند براء بن عازب “ حضرت براء بن عازب (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انصار کی ایک مجلس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : اگر تم مجلس لگائے بیٹھے ہو تو سلام کا جواب دو ، راستہ بتاؤ اور مظلوم کی مدد کرو ۔ (رواہ الخطیب فی المتفق)
25757-"مسند البراء بن عازب" "مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على مجلس من مجالس الأنصار فقال: "إن جلستم فردوا السلام واهدوا السبيل وأعينوا المظلوم". "خط في المتفق".
tahqiq

তাহকীক: