কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
صحبت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৬৫ টি
হাদীস নং: ২৫৭১৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25718 ۔۔۔ براء بن عازب (رض) کی روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا آپ وضو فرما رہے تھے سلام کو جواب نہ دیا حتی کہ جب آپ وضو سے فارغ ہوئے سلام کا جواب دیا اور ہاتھ بڑھا کر مصافحہ بھی کیا ۔ (رواہ ابن جریر )
25718- "عن البراء بن عازب أنه سلم على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يتوضأ فلم يرد عليه، حتى فرغ من الوضوء رد عليه السلام ومد يده إليه فصافحه". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭১৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25719 ۔۔۔ ” مسند جابر بن عبداللہ “ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ نے مجھے کسی کام سے بھیجا میں واپس آیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے میں نے سلام کیا آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا ایک روایت میں ہے کہ ہاتھ سے اشارہ کردیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وابن جریر فی تھذیب )
25719-"من مسند جابر بن عبد الله" "كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فبعثني في حاجة فجئت وهو يصلي فسلمت عليه فلم يرد علي السلام وفي لفظ: فأشار بيده". "ش وابن جرير في تهذيبه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭২০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25720 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں اگر میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزروں جو نماز پڑھ رہے ہوں میں انھیں سلام نہیں کروں گا ۔ (رواہ عبدالرزاق )
25720- عن جابر قال: لو مررت بقوم يصلون ما سلمت عليهم". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭২১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25721 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا آپ پیشاب کر رہے تھے اس شخص نے آپ کو سلام کیا آپ نے سلام کا جواب نہ دیا ۔ آپ نے فرمایا : جب مجھے ایسی حالت میں دیکھو تو مجھے سلام نہ کرو اگر تم نے سلام کیا بھی تو میں تمہیں جواب نہیں دوں گا ۔ (رواہ ابن جریر) ۔ کلام :۔۔۔ حدیث کی سند میں کلام ہے دیکھئے ذخیرۃ الخفاء 1183 ۔
25721- عن جابر "أن رجلا سلم على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يبول فقال: "إذا رأيتني على هذا فلا تسلم علي فإنك إن سلمت علي وأنا على هذا لم أرد عليك". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭২২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25722 ۔۔۔ ” مسند رافع بن خدیج “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت عمار بن یاسر (رض) نے سلام کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب دیا ۔ (رواہ عبدالرزاق عن ابن جریح عن محمد بن علی بن حسین مرسلا)
25722- "من مسند رافع بن خديج" "أن النبي صلى الله عليه وسلم سلم عليه عمار بن ياسر والنبي صلى الله عليه وسلم يصلي فرد عليه النبي صلى الله عليه وسلم السلام". "عبد الرزاق عن ابن جريج عن محمد بن علي بن حسين مرسلا"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭২৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25723 ۔۔۔ ابو امامہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا ہے کہ سلام کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے ۔ (رواہ ابن عساکر )
25723- عن أبي أمامة قال: "أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نفشي السلام". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭২৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25724 ۔۔۔ ابو جہم بن حارث بن صمہ اسدی کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمل کے کنویں کی طرف سے تشریف لائے آپ کو ایک شخص ملا اس نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے سلام کا جواب نہ دیا حتی کہ آپ دیوار کی طرف گئے چہرے اور ہاتھو (رض) عنہں کا مسح کیا (یعنی تیمم کیا) پھر آپ نے اس شخص کو سلام کا جواب دیا (رواہ ابن جریر)
25724- عن أبي الجهم بن الحارث بن الصمة الأسدي قال: "أقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم من نحو بئر جمل فلقيه رجل فسلم عليه، فلم يرده رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أقبل على الجدار، فمسح بوجهه ويديه، ثم رد عليه السلام". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭২৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25725 ۔۔۔ ابو جہم کی روایت ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیشاب کرتے دیکھا میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے سلام کا جواب نہ دیا حتی کہ جب پیشاب سے فارغ ہوئے اور اٹھ کر دیوار کے پاس گئے اور دونوں ہاتھ دیوار پر مارے پھر چہرے کا مسح کیا پھر دوبارہ دیوار پر ہاتھ مارے کہنیوں تک ہاتھوں کا مسح کیا پھر مجھے سلام کا جواب دیا (رواہ ابن جریر )
25725- عن أبي جهم قال: "رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يبول فسلمت عليه فلم يرد علي حتى فرغ، ثم قام إلى حائط فضرب بيديه عليه فمسح بها وجهه ثم ضرب بيديه على الحائط فمسح بهما يديه إلى المرفقين ثم رد علي السلام". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭২৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25726 ۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی عمرو بن عوف کی مسجد میں تشریف لے گئے آپ کے ساتھ صہیب (رض) بھی داخل ہوئے آپ نے مسجد میں نماز پڑھی اتنے میں انصار کے کچھ لوگ مسجد میں داخل ہوئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کرنے لگے میں نے صہیب (رض) سے پوچھا کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کے دوران سلام کیا جاتا آپ کیا کرتے تھے ؟ صہیب (رض) نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہاتھ سے اشارہ کردیتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق و ابن ابی شیبۃ ، وابن جریر وٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25726- عن ابن عمر قال:" دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم مسجد بني عمرو بن عوف يصلي فيه ودخل معه صهيب، فدخل عليه رجال من الأنصار يسلمون عليه فسألت صهيبا كيف كان النبي صلى الله عليه وسلم يصنع إذا سلم عليه في الصلاة؟ قال: كان يشير بيده". "عب ش وابن جرير هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭২৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25727 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت سے واپس لوٹے بیر جمل کے پاس آپ کو ایک شخص ملا اس نے آپ کو سلام کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب نہ دیا حتی کہ آپ ایک دیوار کے پاس آئے دیوار پر ہاتھ مارا اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا پھر اس شخص کو سلام کا جواب دیا ۔ (رواہ ابن جریر)
25727- عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم "أنه أقبل من الغائط فلقيه رجل عند بئر جمل، فسلم عليه، فلم يرد عليه النبي صلى الله عليه وسلم حتى أتى الحائط فضرب بيده على الحائط، فمسح وجهه ويديه، ثم رد على الرجل السلام". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭২৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25728 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کی گلیوں میں سے ایک گلی میں چل رہے تھے ، اتنے میں ایک آدمی نمودار ہوا جبکہ آپ قضائے حاجت یا پیشاب سے فارغ ہو کر باہر آئے تھے اس شخص نے آپ کو سلام کیا آپ نے سلام کا جواب نہ دیا ، پھر آپ نے دیوار پر اپنی ہتھیلیاں ماریں پھر ہتھیلیوں سے اپنے چہرے کا مسح کیا پھر دوسری بار دیوار پر ہاتھ مارے اور کہنیوں تک اپنے ہاتھوں کا مسح کیا پھر اس شخص کو سلام کا جواب دیا پھر آپ نے فرمایا : میں نے تمہیں اسلام کا جواب صرف اس لیے نہیں دیا کہ میں حالت وضو میں نہیں تھا یا فرمایا طہارت میں نہیں تھا ۔ (رواہ ابن جریر)
25728-عن ابن عمر قال: "بينما النبي صلى الله عليه وسلم في سكة من سكك المدينة إذ خرج عليه رجل، وقد خرج النبي صلى الله عليه وسلم من غائط أو بول فسلم الرجل عليه، فلم يرد النبي صلى الله عليه وسلم، ثم إن النبي صلى الله عليه وسلم ضرب بكفيه على الحائط، ثم مسح كفيه على وجهه ثم ضرب ضربة أخرى ومسح ذراعيه إلى المرفقين، ثم رد على الرجل السلام، ثم قال: "لم يمنعني أن أرد عليك السلام إلا أني لم أكن على وضوء أو على طهارة". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭২৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25729 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا آپ پیشاب کر رہے تھے اس شخص نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا۔ (رواہ ابن جریر)
25729-عن ابن عمر "أن رجلا مر على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يبول فسلم عليه فلم يرد عليه السلام". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৩০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25730 ۔۔۔ زہرہ بن معبد ، عروہ بن زبیر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عروہ (رح) کو یوں سلام کیا : ” السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ “۔ عروہ بولے : ہمارے لیے فضیلت کی کوئی بات نہیں چھوڑی چونکہ وبرکاتہ پر سلام کی انتہی ہوتی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
25730-عن ابن عمر قال: "إذا سلمت فأسمع، وإذا رددت فأسمع". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৩১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25731 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کی روایت ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : جب تم سلام کرو تو دوسرے کو سناؤ اور جب جواب دو تب بھی سناؤ (یعنی بآواز بلند سلام کرو یا جوب دو تاکہ دوسرا سن لے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
25731-عن زهرة بن معبد عن عروة بن الزبير "أن رجلا سلم عليه فقال: السلام عليكم ورحمة الله وبركاته، فقال عروة: ما ترك لنا فضلا إن السلام انتهى إلى وبركاته". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৩২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25732 ۔۔۔ ابن سیر بن روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں میں موجود ہوتے اور آپ کو سلام کیا جاتا تو لوگ یوں سلام کرتے تھے : ” السلام علیکم “۔ اور جب آپ تنہا ہوتے تو یوں سلام کیا جاتا : ” السلام علیک یا رسول اللہ “۔ (رواہ ابن عساکر)
25732-عن ابن سيرين قال: "إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا سلم عليه وهو في القوم قالوا: السلام عليكم وإذا كان وحده قالوا: السلام عليكم يا رسول الله". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৩৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25733 ۔۔۔ ” مسند اسامہ “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے کہ سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے ۔ (رواہ الدارقطنی فی الافراد)
25733-"مسند أسامة" "أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يسلم الراكب على الماشي". "قط في الأفراد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৩৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25734 ۔۔۔ ” مسند اغر “ اغر (رض) کہتے ہیں میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا میرا ایک شخص کے ذمہ قرض تھا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو میرے ساتھ بھیجا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کہا : اس شخص کا حق ادا کر دو (ہم چل رہے تھے ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) بولے : کیا نہیں دیکھتے لوگ فضیلت میں ہم سے پہل کرتے ہیں ؟ چنانچہ اس کے بعد ہم سلام میں ابتدا کرتے تھے ۔ (رواہ ابو نعیم)
25734-"مسند الأغر" "أتيت النبي صلى الله عليه وسلم في حق لي على رجل فبعث معي رسول الله صلى الله عليه وسلم أبا بكر فقال: " أد حق الرجل"، فكنا نمشي فقال أبو بكر: ألا ترى الناس هؤلاء يبدؤونا بالفضل؟ ثم كنا بعد ذلك نبتديء بالسلام". "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৩৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوعات سلام :
25735 ۔۔۔ ” مسند صدیق (رض) “ میمون بن مہران کی روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس آیا اور یوں سلام کیا : ” السلام علیک یا خلیفۃ رسول اللہ “۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : ان سب لوگوں کے درمیان صرف مجھی کو سلام کیوں کیا ہے ؟ ۔ (رواہ احمد بن حنبل فی الزھد والخطیب فی الجامع ورواہ خیثمۃ الطرابلسی فی فضائل الصحابۃ)
25735-"مسند الصديق" عن ميمون بن مهران قال: "جاء رجل إلى أبي بكر فقال: السلام عليك يا خليفة رسول الله، قال من بين هؤلاء أجمعين"؟ "حم في الزهد، خط في الجامع؛ ورواه خيثمة الأطرابلسي في فضائل الصحابة بلفظ: من بين هؤلاء أجمعين سلمت علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৩৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوعات سلام :
25736 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ چھ آدمیوں کو سلام نہ کیا جائے یہود ، نصاری ، مجوس ، وہ لوگ جن کے سامنے شراب رکھی ہو وہ لوگ جو باندیوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں اور شطرنج کھیلنے والوں کو ۔ (رواہ الخرائطی فی مساوی الاخلاق)
25736- عن علي قال: "ستة لا يسلم عليهم: اليهود والنصارى والمجوس والذين من بين أيديهم الخمر والريحان والمتفكهون بالأمهات وأصحاب الشطرنج". "الخرائطي في مساوي الأخلاق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৩৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوعات سلام :
25737 ۔۔۔ مہاجر بن قنفذ (رض) روایت کی ہے کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا آپ پیشاب کر رہے تھے آپ نے سلام کا جواب نہ دیا حتی کہ وضو کیا اور پھر سلام کا جواب دیا ۔ (رواہ ابن جریر)
25737- عن المهاجر بن قنفذ "أنه سلم على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يبول فلم يرد عليه حتى توضأ رد عليه". "ابن جرير"
তাহকীক: