কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
صحبت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৬৫ টি
হাদীস নং: ২৫৬৯৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25698 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا : جو شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتا ہے وہ رحمت میں گھس جاتا ہے جب وہ مریض کے پاس بیٹھ جاتا ہے اسے رحمت ڈھانپ لیتی ہے عرض کیا گیا : یہ انعام تو مریض کے لیے ہے تندرست کے لیے کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان، والضیاء)
25698- عن أنس سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "أيما رجل عاد مريضا فإنما يخوض في الرحمة فإذا قعد عند المريض غمرته الرحمة هذا للصحيح فما للمريض؟ قال: تحط عنه ذنوبه". "هب ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৯৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25699 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زید بن ارقم (رض) کی عیادت کی انھیں آشوب چشم کی شکایت تھی ۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25699- عن أنس قال: "عاد رسول الله صلى الله عليه وسلم زيد بن أرقم من رمد كان به". "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭০০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25700 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین دن کے بعد مریض کی عیادت کرتے تھے ۔ (رواہ ابن ماجہ ، والبیہقی فی شعب الایمان، وقال اسنادہ غیر قوی) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے اسنی المطالب 1023 وتحذر المسلمین 147 ۔
25700- عن أنس قال: "إن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يعود مريضا إلا بعد ثلاث". "هـ، هب؛ وقال: إسناده غير قوي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭০১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25701 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی غیر مسلم کی عیادت کرتے تو آپ مریض کے پاس بیٹھتے نہیں تھے اور فرماتے تھے : اے یہودی تمہارا کیا حال ہے ؟ اے نـصرانی تمہارا کیا حال ہے۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25701- عن أنس قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا عاد رجلا على غير الإسلام لم يجلس عنده وقال: "كيف أنت يا يهودي؟ كيف أنت يا نصراني بعينه الذي عليه". "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭০২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25702 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے ایک شخص کے پاس تشریف لے گئے وہ صحابی بیمار تھے آپ نے یہ دعا پڑھی :
25702- عن أنس قال: "دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على رجل من أصحابه وهو مريض فقال: "أذهب البأس رب الناس واشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت وفي لفظ: لا شفاء إلا شفاؤك لا يغادر سقما". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭০৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25703 ۔۔۔ ” ایضا “ جب مسلمان آدمی اپنے مسلمان بھائی کی ملاقات کے لیے گھر سے نکلتا ہے وہ اپنی کوکھ تک رحمت میں ڈوب جاتا ہے جب مریض کے پاس بیٹھ جاتا ہے اسے رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور مریض کو بھی رحمت ڈھانپ لیتی ہے جبکہ مریض رب تعالیٰ کے عرش کے سائے تلے ہوتا ہے اور رب تعالیٰ کی تقدیس کے سائے کی پناہ میں ہوتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے : دیکھ مریض کے پاس اس کی عیادت کے لیے کتنے وقت تک رکے رہے ہیں فرشتے کہتے ہیں : اونٹنی کی دو بار دوددھ دوہنے کے درمیانی وقفہ کے برابر اسے ہمارے رب ! ٹھہرے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے کے لیے ایک ہزار سال کی عبادت لکھ دو جس میں راتوں کا قیام اور دنوں کے روزوں کا ثواب شامل ہو اور اسے خبر کر دو کہ میں تمہارے اوپر ایک خطا بھی نہیں لکھوں گا اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے : دیکھو عبادت کرنے والے کتنی دیر ٹھہرے رہتے ہیں ؟ فرشتے کہتے ہیں : گھڑی بھر کے لیے ٹھہرے ہیں ، اگر عیادت کرنے والے گھڑی بھر کے لیے ٹھہرے ہوں ۔ رب تعالیٰ فرماتے ہے : اس کے نامہ اعمال میں دہر بھر کی عبادت لکھ دو اور دہر دس ہزار کے برابر ہے اگر اس سے قبل مرگیا جنت میں داخل ہوجائے گا اگر زندہ رہا اس کے نامہ اعمال میں ایک خطا نہیں لکھی جائے گی ، اگر اس نے صبح کے وقت عیادت کی ہو تو شام تک فرشتے اس کے لیے دعائے استغفار کرتے رہتے ہیں اور اگر شام کے وقت عیادت کی ہو تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے استغفار کرتے رہتے ہیں اور وہ جنت میں میوہ خوری کررہا ہوتا ہے۔ (رواہ ابو یعلی عن انس (رض))
25703- "أيضا" "إن المرء المسلم إذا خرج من بيته يعود أخاه المسلم خاض من الرحمة إلى حقويه فإذا جلس عند المريض غمرته الرحمة وغمرت المريض الرحمة، وكان المريض في ظل عرشه، وكان العائذ في ظل قدسه، ويقول الله لملائكته: انظروا كم احتبسوا عند المريض للعود فيقولون: أي رب فواقا إن كان احتبسوا فواقا، فيقول الله لملائكته: اكتبوا لعبدي عبادة ألف سنة قيام ليله وصيام نهاره وأخبروه أني لم أكتب عليه خطيئة واحدة، ويقول الله لملائكته: انظروا كم احتبسوا؟ فيقولون: ساعة إن كان احتبسوا ساعة، فيقول: اكتبوا دهرا، والدهر عشرة آلاف سنة إن مات قبل ذلك دخل الجنة، وإن عاش لم يكتب عليه خطيئة واحدة، وإن كان صباحا صلى عليه سبعون ألف ملك حتى يمسي وكان في خراف الجنة، وإن كان مساء صلى عليه سبعون ألف ملك حتى يصبح وكان في خراف الجنة". "ع عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭০৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات عیادت :
25704 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک اعرابی کی عیادت کرنے اس کے ہاں تشریف لے گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” طھور انشاء اللہ “ ان شاء اللہ تمہاری بیماری پاکیزگی کا باعث ہے اعرابی بولا ہرگز نہیں بلکہ بخار ہے جو بہت بوڑھے پر بھڑک اٹھا ہے تاکہ اسے قبروں کو دیکھنا پڑے اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تب پھر ٹھیک ہے۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25704- عن ابن عباس "أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل على أعرابي يعوده، فقال: "طهور إن شاء الله" فقال الأعرابي: كلا بل حمى تفور على شيخ كبير كيما تزيره القبور فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "فنعم إذن". "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭০৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت طلب کرنے کا بیان :
25705 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک گھاٹ پر تشریف لائے اور فرمایا : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! السلام علیکم “۔ کیا عمر داخل ہوجائے ۔ (رواہ ابو داؤد والنسائی ورواہ الخطیب فی الجامع بلفظ) عمر (رض) نے کہا : ” السلام علیکم ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ “ کیا عمر داخل ہوجائے ؟ (رواہ الترمذی)
25705- عن عمر أنه "أتى النبي صلى الله عليه وسلم في مشربة له فقال: السلام عليكم يا رسول الله سلام عليكم أيدخل عمر". "د، ن؛ ورواه خط في الجامع بلفظ: فقال: السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام عليكم أيدخل عمر؟ ت".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭০৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت طلب کرنے کا بیان :
25706 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تین مرتبہ اجازت طلب کی آپ نے مجھے اجازت دے دی ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان، وقال : حسن غریب) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الترمذی 507 ۔
25706- عن عمر قال: "استأذنت على رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثا فاذن لي". "هب وقال: حسن غريب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭০৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت طلب کرنے کا بیان :
25707 ۔۔۔ عامر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ ان کی آزادہ کردہ ایک باندی زبیر (رض) کے بیٹے کو لے کر عمر (رض) کے پاس گئی اور بولی : کیا میں داخل ہوجاؤں ؟ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : نہیں : چنانچہ وہ واپس چلی گئی ، آپ (رض) نے فرمایا : اسے بلا لاؤ جب آگئی تو فرمایا : یوں کہو ” السلام علیکم “۔ کیا میں داخل ہوجاؤں ۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
عمر بن الخطاب فقالت : أدخل ؟ فقال عمر : لا فرجعت ، فقال : أدعوها فقولي : السلام عليكم أدخل.
(هب).
(هب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭০৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات :
25708 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : جس شخص نے اجازت سے قبل کسی گھر کے صحن میں نظر ڈال کر اپنی آنکھیں بھر لیں اس نے فسق مجھے کا ارتکاب کیا ۔ (رواہ البیھقی فی شعب الایمان )
25708 عن عمر قال : من ملا عينيه من قاعة بيت قبل أن يؤذن له فقد فسق.
(هب).
(هب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭০৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات :
25709 ۔۔۔ معاویہ بن خدیج کی روایت ہے کہ میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے اجازت طلب کی لوگوں نے مجھے کہا : اپنی جگہ پر رک جاؤ حتی کہ عمر (رض) باہر تشریف لائیں چنانچہ میں ان کے قریب ہی بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد آپ باہر تشریف لائے ۔
25709 عن معاوية بن خديج قال : قدمت على عمر بن الخطاب فأستأذنت فقالوا لي : مكانك حتى يخرج إليك فقعدت قريبا منه فخرج إلي (خط في الجامع).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭১০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات :
25710 ۔۔۔ زید بن اسلم اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے اسلم ! دروازہ بند کر دو اور کسی کو بھی اندر نہ آنے دو پھر ایک روز انھوں نے میرے جسم پر نئی چادر دیکھی تو پوچھا کہ یہ تمہارے پاس کہاں سے آئے ؟ عرض کیا : یہ مجھے عبیداللہ بن عمر نے اوڑھائی ہے فرمایا : عبیداللہ سے لے لو مگر اور کسی سے ہرگز کچھ نہ لو ۔ پھر زبیر (رض) آئے میں دروازے ہی پر تھا انھوں نے مجھ سے اندر جانے کو کہا : میں نے کہا : امیر المؤمنین تھوڑی دیر کے لیے مشغول ہیں انھوں نے اپنا ہاتھ اٹھا کر میرے کانوں کے نیچے گدی پر ایک زوردار چپت ماری کہ میری چیخ نکل گئی میں عمر (رض) کے پاس گیا تو انھوں نے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا میں نے عرض کیا کہ مجھے زبیر نے مارا اور کل کا واقعہ بیان کیا عمر (رض) کہنے لگے زبیر نے ؟ واللہ میں دیکھتا ہوں ۔ حکم دیا کہ انھیں اندر لاؤ میں نے انھیں عمر (رض) کے پاس پہنچا دیا عمر (رض) نے پوچھا کہ تم نے اس لڑکے کو کیوں مارا ہے ؟ زبیر (رض) نے کہا : مجھے یہ گمان ہوا کہ یہ مجھے آپ کے پاس آنے سے روکتا ہے پوچھا کیا اس نے ک بھی تمہیں میرے دروازے سے واپس کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا نہیں فرمایا کہ اس نے اگر تم سے کہا کہ تھوڑی دیر آپ صبر کیجئے کیونکہ امیرالمومنین مشغول ہیں تم نے اس کا عذر قبول کیوں نہ کیا ؟ واللہ ! درندہ ہی درندوں کے لیے خون نکالتا ہے اور اسے کھالیتا ہے (۔ رواہ ابن سعد )
25710 عن زيد بن أسلم عن أبيه قال : قال لي عمر يا أسلم أمسك على الباب فلا تأخذن من أحد شيئا فرأى علي يوما ثوبا جديدا فقال :
من أين لك هذا ؟ قلت كسانيه عبيد الله بن عمر فقال : أما عبيد الله فخذه منه ، وأما غيره فلا تأخذن منه شيئا قال أسلم : فجاء الزبير وأنا على الباب فسألني أن يدخل فقلت : أمير المؤمنين مشغول ساعة فرفع يده فضرب خلف أذني ضربة صيحتني فدخلت على عمر فقال : ما لك ؟ فقلت ضربني الزبير ، وأخبرته خبره ، فجعل عمر يقول : الزبير والله أرى ثم قال : أدخله فأدخلته على عمر فقال عمر : لم ضربت هذا الغلام ؟ فقال الزبير : أنه سيمنعنا من الدخول عليك ، فقال : هل ردك عن بابي قط ؟ قال : لا قال عمر : فإن قال لك إصبر ساعة فإن أمير المؤمنين مشغول لم تعذرني ، إنه والله إنما يدمي السبع للسباع فتأكله.
(إبن سعد)
من أين لك هذا ؟ قلت كسانيه عبيد الله بن عمر فقال : أما عبيد الله فخذه منه ، وأما غيره فلا تأخذن منه شيئا قال أسلم : فجاء الزبير وأنا على الباب فسألني أن يدخل فقلت : أمير المؤمنين مشغول ساعة فرفع يده فضرب خلف أذني ضربة صيحتني فدخلت على عمر فقال : ما لك ؟ فقلت ضربني الزبير ، وأخبرته خبره ، فجعل عمر يقول : الزبير والله أرى ثم قال : أدخله فأدخلته على عمر فقال عمر : لم ضربت هذا الغلام ؟ فقال الزبير : أنه سيمنعنا من الدخول عليك ، فقال : هل ردك عن بابي قط ؟ قال : لا قال عمر : فإن قال لك إصبر ساعة فإن أمير المؤمنين مشغول لم تعذرني ، إنه والله إنما يدمي السبع للسباع فتأكله.
(إبن سعد)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭১১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات :
25711 ۔۔۔ عبداللہ بن بشر کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی قوم کے پاس آنے کی اجازت طلب کرتے تو دیوار کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے تھے اور دروازے کے سامنے نہیں کھڑے ہوتے تھے ۔ (رواہ ابن النجار)
25711 عن عبد الله بن بشر قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أراد أن يستأذن على قوم مشى مع الجدار مشيا ولا يستقبل الباب إستقبالا.
(إبن النجار).
(إبن النجار).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭১২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات :
25712 ۔۔۔ ” مسند حصین بن عوف خثعمی “ ایک دیہاتی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر آیا اور دروازہ کے سوراخ سے اندر دیکھنے لگا آپ نے ایک لکڑ یا سلاخ نما لوہا اٹھاتا کہ اس سے دیہاتی کہ آنکھ پھوڑ دیں وہ دیہاتی بھاگ گیا آپ نے فرمایا : اگر تم اپنی جگہ کھڑے رہتے تو میں ضرور تیری آنکھ پھوڑ دیتا ۔ (رواہ الطبرانی والبخاری فی الادب المفرد رقم 1091) حدیث 25236 نمبر پر گزر چکی ہے۔
25712- "مسند حصين بن عوف الخثعمي" أن أعرابيا أتي النبي صلى الله عليه وسلم فألقم عينه خصاصة الباب فبصر به النبي صلى الله عليه وسلم فتوخاه بعود أو حديدة ليفقأ بها عينه فلما أبصر النبي صلى الله عليه وسلم انقمع فقال: "لو ثبت لفقأت عين ك". "طب" 3. مر برقم [25236] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭১৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات :
25713 ۔۔۔ انس (رض) حضرت سہل بن حنیف (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجرے میں ایک سوارخ سے تیری آنکھوں میں کچوکا لگاتا اجازت لینے کا حکم نظر ڈالنے کی وجہ سے دیا گیا ہے (رواہ ابن ابی شیبۃ )
25713- عن أنس عن سهل بن حنيف قال: أطلع رجل من جحر في حجرة النبي صلى الله عليه وسلم ومعه مدرى مدري: يحكه بها رأسه، فقال: "لو أعلم أنك تنظر لطعنت به في عينك، إنما الاستئذان من البصر". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭১৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محظورات :
25714 ۔۔۔ ” مسند انس (رض) “ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر میں تشریف فرما تھے ایک شخص نے دروازے کی درز سے اندر جھانکنے کی کوشش کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی آنکھوں میں کچوکا دینے کے لیے تیرکا پھل آگے کیا وہ شخص پیچھے ہٹ گیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ )
25714-"مسند أنس" أن النبي صلى الله عليه وسلم "كان في بيته فاطلع رجل من خلل الباب فشدد النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمشقص فتأخر". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭১৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25715 ۔۔۔ ” مسند صدیق “ حضرت عمر (رض) کہتے ہیں : میں ابوبکر (رض) کے پیچھے سوار تھا ابوبکر (رض) لوگوں کے پاس سے گزرتے اور کہتے : السلام علیکم جب کہ لوگ کہتے : السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ابوبکر (رض) نے فرمایا : کثرت اضافہ کی وجہ سے لوگ ہمارے اوپر فضیلت لے گئے ہیں۔ (رواہ البخاری فی الادب)
25715-"مسند الصديق" عن عمر قال: "كنت رديف أبي بكر فيمر على القوم فيقول: السلام عليكم، فيقولون: السلام عليكم ورحمة الله وبركاته، فقال أبو بكر: فضلنا الناس اليوم بزيادة كثيرة". "خ في الأدب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭১৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25716 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ اغر مزنی (رض) کی چند وسق کھجوریں بنی عمرو بن عوف کے ایک شخص پر تھیں بارہا اس شخص کے پاس جاتے رہے وہ کہتے ہیں پھر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے میرے ساتھ ابوبکر صدیق (رض) کو بھیجا چنانچہ راستے میں جو شخص ہم سے ملتا وہ ہمیں سلام کرتا تھا ابوبکر (رض) نے فرمایا : کیا تم نہیں دیکھتے کہ لوگ تجھ کو پہلے سلام کرتے ہیں اور انھیں اجر زیادہ ملتا ہے۔ اگر تم ان کو پہلے سلام کیا کرو تو تمہارے لیے پہل کرنے کا زیادہ ثواب ہوگا (رواہ البخاری فی الادب المفرد وابن جریر وابو نعیم فی المعرفۃ والخرائطی فی مکارم الاخلاق ) ۔ کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 3329 ۔ وکشف الخفاء 1376 ۔
25716- عن ابن عمر "أن الأغر وهو رجل من مزينة قال: كانت له أوسق من التمر على رجل من بني عمرو بن عوف فاختلف إليه مرارا، قال: فجئت النبي صلى الله عليه وسلم فأرسل معي أبا بكر الصديق قال: فكل من لقينا سلموا علينا، فقال أبو بكر: ألا ترى الناس يبدؤنك بالسلام فيكون لهم الأجر، ابدأهم بالسلام يكن لك الأجر". "خ في الأدب وابن جرير وأبو نعيم في المعرفة والخرائطي في مكارم الأخلاق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭১৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام اور متعلقات سلام :
25717 ۔۔۔ حضرت حسن سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سلام کرنا مستحب ہے لیکن سلام کا جواب دینا واجب ہے۔ (الدیلمی )
25717- عن الحسن قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "السلام تطوع والرد فريضة". "الديلمي".
তাহকীক: