কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
صحبت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৬৫ টি
হাদীস নং: ২৫৬৭৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مالک کے حقوق :
25678 ۔۔۔ عبداللہ بن نافع اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ وہ بنی ہام کے مملوک تھے انھوں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے سوال کیا کہ میرے پاس مال ہے کیا میں اس کی زکوۃ دوں ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : نہیں عرض کیا : کیا میں صدقہ کروں ؟ فرمایا درہم اور روٹی صدقہ کرو (رواہ ابو عبید)
25678- عن عبد الله بن نافع عن أبيه أنه كان مملوكا لبني هاشم فسأل عمر بن الخطاب فقال: "إن لي مالا فأزكيه قال: لا قال: فأصدق؟ قال: بالدرهم والرغيف". "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৭৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مالک کے حقوق :
25679 ۔۔۔ عمیر مولائے ابی الحم کہتے ہیں : میں اپنے آقا کے لیے گوشت کی بوٹیاں کاٹا کرتا تھا چنانچہ ایک مرتبہ ایک مسکین آیا میں نے اسے گوشت کھلا دیا آقا نے مجھے مارا میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر شکایت کی آپ نے فرمایا : تم نے اسے کیوں مارا ہے ؟ میرے مالک نے جواب دیا : میری اجازت کے بغیر میرا مال دوسروں کو کھلاتا ہے آپ نے فرمایا : اجر تم دونوں کے درمیان ہوگا ۔ (رواہ الحاکم وابو نعیم )
25679- عن عمير مولى أبي اللحم قال: "كنت أقدد لمولاي لحما فجاء مسكين فأطعمته فضربني فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "لم ضربته؟ " فقال: يطعم من مالي من غير أن آمره، فقال: "الأجر بينكما". "ك، أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৮০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی کی صحبت :
25680 ۔۔۔ استق کہتے ہیں : میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کا غلام تھا اور میں نصرانی تھا عمر (رض) مجھ پر اسلام پیش کرتے تھے اور ر فرماتے اگر تو اسلام قبول کرلے گا تو میں سرکاری امور میں تجھ سے مدد لوں گا چونکہ میرے لیے حلال نہیں کہ مسلمانوں کے امور میں تجھ سے مدد لوں دراں حالیکہ تو مسلمانوں کے دین پر نہ ہو ۔ میں نے قبول اسلام سے انکار کردیا ۔ آپ (رض) نے فرمایا : دین میں کوئی زبردستی نہیں ۔ جب آپ (رض) کی وفات کا وقت قریب ہوا آپ نے مجھے آزاد کردیا جب کہ میں نصرانی ہی تھا آپ نے فرمایا جہاں چاہو چلے جاؤ (رواہ ابن سعد )
25680-عن استق قال: "كنت مملوكا لعمر بن الخطاب وأنا نصراني فكان يعرض علي الإسلام ويقول: إنك إن أسلمت استعنت بك على أمانتي فإنه لا يحل لي أن أستعين بك على أمانة المسلمين ولست على دينهم فأبيت عليه فقال: لا إكراه في الدين، فلما حضرته الوفاة أعتقني وأنا نصراني وقال: اذهب حيث شئت". "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৮১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی کی صحبت :
25681 ۔۔۔ استق رومی کی روایت ہے کہ میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کا غلام تھا آپ (رض) مجھے فرمایا کرتے : اسلام قبول کرلو میں سرکاری امور میں تم سے مدد لینا چاہتا ہوں جب تم مسلمانوں کے دین پر نہیں ہو اس حالت میں تم سے مدد لینا میرے لیے روا نہیں ہے میں نے قبول اسلام سے انکار کردیا آپ نے فرمایا : دین میں زبردستی نہیں ۔ (رواہ سعید بن المنصور فی سنتہ وابن ابی شیبۃ وابن المنذر وابن ابی حاتم)
25681-عن استق الرومي قال: "كنت مملوكا لعمر بن الخطاب فكان يقول لي: أسلم فإنك لو أسلمت استعنت بك على أمانة المسلمين فإني لا أستعين على أمانتهم من ليس منهم فأبيت عليه، فقال لي: لا إكراه في الدين". "ص ش وابن المنذر وابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৮২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25682 ۔۔۔ عیاض اشعری کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے ابو موسیٰ (رض) کے ساتھ ایک نصرانی کاتب (منشی) بھی تھا چنانچہ عمر (رض) نے ابو موسیٰ (رض) کو ڈانٹا اور اچھی طرح سے ان کی خبر لی فرمایا : جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان (نصرانیوں) کی اہانت کی ہے تم انھیں عزت مت دو جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے انھیں دور کردیا ہے انھیں اپنے قریب مت کرو ۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے انھیں خائن قرار دیا ہے تم ان پر اعتماد و بھروسہ مت کے کرو ۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت کی : (یا ایھا الذین امنوا لا تتخذو الیھود والنصاری اولیاء ) اے ایمان والو : یہودیوں اور نصرانیوں کو اپنے دوست مت بناؤ (رواہ ابن ابی حاتم والبھیقی )
25682-عن عياض الأشعري أن أبا موسى وفد إلى عمر بن الخطاب ومعه كاتب نصراني فانتهره عمر وهم به قال: لا تكرموهم إذ أهانهم الله ولا تدنوهم إذ أقصاهم الله تعالى، ولا تأتمنوهم إذ خونهم الله عز وجل وقرأ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ} الآية. "ابن أبي حاتم، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৮৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25683 ۔۔۔ سلیمان بن عطاء جزری مسلمہ بن عبدللہ جہنی اپنے چچا ابو مشجعہ سے روایت نقل کرتے ہیں ک ہم حضرت عثمان بن عفان (رض) کے ساتھ ایک مریض کی عیادت کے لیے گئے عثمان (رض) نے مریض سے کہا :” لا الہ الا اللہ “ کہو ۔ مریض نے کلمہ طیبہ پڑھا عثمان (رض) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس کلمہ کی وجہ سے اس کی خطائیں بالکل ختم ہوچکی ہیں۔ میں نے عثمان (رض) سے عرض کیا : آپ نے یہ بات اپنی طرف سے کردی ہے یا اس کے متعلق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ سن رکھا ہے ؟ عثمان (رض) نے فرمایا : بلکہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن رکھا ہے۔ ہم نے عرض کیا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ انعام تو مریضوں کے لیے ہے تندرست کے لیے کیا انعام ہے ؟ فامایا کہ تندرست کے لیے بہت عظیم اجر وثواب ہے۔ (رواہ ابن ابی الدنیا فی ذکر الموت وابو نعیم فی الحلیۃ سلیمان بن عطاء الجزاری قال فی المغنی متھم بالوضع واہ )
25683- عن سليمان بن عطاء الجزري عن مسلمة بن عبد الله الجهني عن عمه أبي مشجعة قال: "عدنا مع عثمان بن عفان مريضا فقال له عثمان: قل لا إله إلا الله، فقالها، فقال: والذي نفسي بيده لقد رمى بها خطاياه فحطمها حطما فقلت له: أو شيء تقوله أو شيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: بل سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلنا: يا رسول الله هذا هي للمريض فكيف هي للصحيح؟ قال: "هي للصحيح أعظم وأعظم". "ابن أبي الدنيا في ذكر الموت، حل؛ سليمان بن عطاء الجزري قال في المغني: متهم بالوضع واه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৮৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25684 ۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مریض کے پاس جاتے یہ دعا پڑھتے تھے ۔ (اذھب الباس رب الباش واشف انت الشافی لاشافہ الا انت ) اے لوگو کے پروردگار تکلیف دور فرما دے شفا عطا فرما تو ہی شفا دینے والا ہے اور تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے (رواہ ابن ابی شیبۃ ورواہ احمد بن حنبل والترمذی وقال حسن غیر والدورقی وابن جریر وصححہ بلفظ : لاشفاء الا شفائک شفاء لا یغادر سقما)
25684- "مسند علي" قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دخل على المريض قال: "أذهب البأس رب الناس واشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت". "ش ورواه حم، ت وقال: حسن غريب، والدورقي وابن جرير وصححه بلفظ: لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৮৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25685 ۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہے کہ ایک مرتبہ میں بیمار ہوگیا میرے پاس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے میں کہہ رہا تھا : یا اللہ ! اگر میری موت کا وقت ک آچکا ہے تو میرے لیے آسانی فرما اگر موت کا وقت ابھی تاخیر میں ہے تو مجھے شفاء عطا فرما اگر یہ آزمائش ہے تو مجھے صبر کی توفیقف عطا فرما نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پاؤں سے مارا اور فرمایا : تم کیسے کہہ رہے ہو ؟ میں نے اپنے کہے ہوئے کلمات دہرائے آپ نے مجھ پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا : یا اللہ اسے شفاء عطا فرمایا فرمایا : یا اللہ اسے عافیت دے مجھے پھر اس بیماری سے نجات مل گی ۔ (رواہ ابو داؤد الطیالسی وابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل والترمذی والنسائی وابو یعلی و سعید بن المنصور وابن جریر و صحیحہ )
25685- عن علي قال: "اشتكيت فدخل علي النبي صلى الله عليه وسلم وأنا أقول: اللهم إن كان أجلي قد حضر فأرحني وإن كان متأخرا فاشفني وإن كان بلاء فصبرني، فضربني برجله وقال: "كيف قلت؟ " فقلت له، فمسحني بيده ثم قال: "اللهم اشفه أو قال عافه" فما اشتكيت ذلك الوجع بعد". "ط ش حم ت ن ع ص وابن جرير وصححه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৮৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25686 ۔۔۔ یوسف بن محمد بن ثابت بن قیس عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان (ثابت بن قیس (رض)) کی عیاددت کی دراں حالیکہ وہ بیمار تھے آپ نے یہ دعا پڑھی ۔ (اذھب الباس رب الناس ) اے لوگو کے پروردگار ! تکلیف دور فرما دے ۔ (رواہ الترمذی وقال حسن صحیح )
25686- عن يوسف بن محمد بن ثابت بن قيس عن أبيه عن جده "أن النبي صلى الله عليه وسلم عاده وهو مريض فقال: "أذهب البأس رب الناس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৮৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25687 ۔۔۔ ثابت بن قیس بن شماس سے مروی ہے کہ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مٹھی بھر کنکریاں اٹھائیں انھیں پانی سے بھرے پیالے میں ڈالا پھر حکم دیا جو مریض پر انڈیل دیا گیا ۔ (رواہ ابن جریر وابو نعیم وابن عساکر)
25687-"عن ثابت بن قيس بن شماس ثم أخذ كفا من بطحاء فجعله في قدح من ماء ثم أمره فصب عليه". "ابن جرير وأبو نعيم كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৮৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25688 ۔۔۔ ” مسند جابر بن عبداللہ “۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم بصیر کے پاس جائیں جو بنی واقف میں ہے ہم اس کی عیادت کریں گے چونکہ بصیر (رض) نابینا تھے ۔ (رواہ ابن عدی ، وٍالبیہقی فی شعب الایمان، وابن النجار)
25688-"من مسند جابر بن عبد الله" عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "انطلقوا بنا إلى البصير الذي في بني واقف نعوده وكان رجلا أعمى". "عد، هب وابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৮৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25689 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) روایت کی ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے کس حال میں صبح کی ہے ؟ آپ نے فرمایا اس شخص کی طرح جو روزہ میں نہ ہو اور نہ ہی کوئی مریض کی عیادت کی ہو ۔ (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25689- عن جابر قال: "لقيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت كيف أصبحت يا رسول الله؟ قال: "بخير من رجل لم يصبح صائما ولم يعد سقيما". "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৯০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25690 ۔۔۔ حضرت ابوامامہ (رض) روایت کی ہے کہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے کیا ہوا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین عرض کیا : یہ بیمار تھا ، فرمایا ! میں نے کہا تھا کہ تمہیں پاکی مبارک ہو ۔ (رواہ ابن عساکر)
25690-عن أبي أمامة قال: "مر رجل برسول الله صلى الله عليه وسلم: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما له؟ " قالوا: كان مريضا، قال: "أفلا قلت ليهنئك الطهور". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৯১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25691 ۔۔۔ ابو زبید روایت کی ہے کہ میں اور نوف بکالی حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس وقت بیمار تھے ، نوف (رض) نے کہا : یا اللہ انھیں عافیت دے اور شفا عطا فرما ۔ ابو ایوب (رض) نے فرمایا : یوں نہ کہو بلکہ یہ کہو : یا اللہ ! اگر اس کی موت کا وقت قریب ہے تو اس کی مغفرت فرما اور اس پر رحم فرما اور اگر موت کا وقت قریب نہیں تو اسے عافیت عطا فرما اور اجر وثواب عطا فرما ۔ (رواہ ابن عساکر)
25691-عن أبي زبيد قال: "دخلت أنا ونوف البكالي على أبي أيوب الأنصاري وقد اشتكى فقال: نوف: اللهم عافه واشفه قال: لا تقولوا هذا وقولوا: اللهم إن كان أجله عاجلا فاغفر له وارحمه، وإن كان آجلا فعافه واشفه وآجره". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৯২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25692 ۔۔۔ شریح بن عبید ، ابو مالک سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مریض کی عیادت کرتے یہ دعا پڑھتے تھے ۔ ” اذھب الباس رب الناس واشف انت الشافی الا شافی الا انت اللھم انا نسالک شفاء لا یغادر سقما “۔ اے لوگو کے پروردگار ! دکھ تکلیف دور فرما دے شفاء عطا فرما تو ہی شفا دینے والا ہے اور تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں یا اللہ ہم تجھ سے ایسی شفا طلب کرتے ہیں جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے ۔ (رواہ ابن جریر)
25692-عن شريح بن عبيد عن أبي مالك قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا عاد المريض قال: "أذهب البأس رب الناس واشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت اللهم إنا نسألك شفاء لا يغادر سقما". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৯৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25693 ۔۔۔ حکم عن عبداللہ بن نافع روایت کی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے حسن بن علی (رض) کی عیادت کی سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : جو مسلمان بھی کسی مریض کی عیادت کرتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے بھی عیادت کرتے ہیں ، اگر صبح کے وقت عیادت کے لیے گیا ہو تو یہ فرشتے تاشام اس کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں عیادت کرنے والے کے لیے جنت میں ایک باغ مقرر کردیا جاتا ہے۔ اور اگر شام کے وقت عیاددت کے لیے گیا ہو تو ستر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کر جتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ مقرر کردیا جاتا ہے۔ (رواہ ابن جریر والبیہقی فی شعب الایمان، وقال ھکذا رواہ اکثر اصحاب شعبۃ موقوفا وقد روی من غیر وجہ عن علی مرفوعا)
25693-عن الحكم عن عبد الله بن نافع قال: "عاد أبو موسى الحسن بن علي فقال علي: أما إنه، ما من مسلم يعود مريضا إلا عاد معه سبعون ألف ملك يستغفرون له إن كان مصبحا حتى يمسي وكان له خريف في الجنة، وإن كان ممسيا خرج له سبعون ألف ملك كلهم يستغفرون له وكان له خريف في الجنة". "ابن جرير، هب؛ وقال هكذا رواه أكثر أصحاب شعبة موقوفا وقد روى من غير وجه عن علي مرفوعا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৯৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25694 ۔۔۔ حضرت علی (رض) روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے اپنا دایاں ہاتھ مریض کے دائیں رخسار رکھتے اور یہ دعا پڑھتے ۔ ” لا باس اذھب الباس رب الناس اشف انت الشافی لا یکشف الضر الا انت “۔ کوئی ڈر نہیں اے لوگو کے پروردگار ! دکھ و تکلیف دور فرما دے شفا عطا فرما تو ہی شفا دینے والا ہے تکلیف کو دور کرنے والا کوئی نہیں تیرے سوا۔ (رواہ ابن مردویہ وابو علی الھداد فی معجمہ)
25694- عن علي قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا عاد مريضا وضع يده اليمنى على خده اليمني وقال: "لا بأس أذهب البأس رب الناس اشف أنت الشافي لا يكشف الضر إلا أنت"."ابن مردويه وأبو علي الحداد في معجمه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৯৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25695 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا : جس مریض کی موت کا وقت قریب نہ ہو وہ اگر سات مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے اس کی بیماری میں تخفیف ہوجائے گی ۔ ” بسم اللہ العظیم اسال اللہ العظیم رب العرش العظیم ان یشفیہ “۔ (رواہ ابن النجار)
25695- عن علي قال: "دعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " ما من مريض لم يحضر أجله تعوذ بهذه الكلمات إلا خف عنه: بسم الله العظيم أسأل الله العظيم رب العرش العظيم أن يشفيه سبع مرات". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৯৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25696 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی مریض کی عیادت کرتے ہاتھ مبارک مریض کے سر پر رکھتے اور یہ دعا پڑھتے تھے : ” اذھب الباس رب الناس واشف انت الشافی اللہم انی اسالک لفلان بن فلان شفاء لا یغادر شقما “۔ رواہ الدورقی)
25696- عن علي قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا عاد مريضا وضع يده على رأسه فقال: "أذهب البأس رب الناس، واشف أنت الشافي، اللهم إني أسألك لفلان بن فلان شفاء لا يغادر سقما". "الدورقي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৯৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیادت مریض کے حقوق :
25697 ۔۔۔ ” مسند انس “۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مریض کے پاس تشریف لے جاتے یہ دعا پڑھتے تھے :
25697- "مسند أنس" "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا دخل على مريض قال: "أذهب البأس رب الناس واشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت شفاء لا يغادر سقما". "ش".
তাহকীক: